Powered By Blogger

اتوار, نومبر 07, 2021

مولانا ڈاکٹر عبد المتین اشرف عمری مدنی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

مولانا ڈاکٹر عبد المتین اشرف عمری مدنی 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
مدرسہ اشرف العلوم مراد آباد، جنداہا ویشالی کے بانی دار التکمیل مظفر پور ، جامعہ اصلاحیہ سلفیہ پٹنہ ، ہائی اسکول باڑھ، گورمنٹ مڈل اسکول بہار شریف اور دانا پور مڈل اسکول کے سابق استاذ، رابطہ عالم اسلامی سے بحیثیت داعی ہندوستان میں مبعوث، اچھے استاذ، کامیاب داعی ومبلغ بہتر مقرر اور قابل ذکر محقق مولانا ڈاکٹر عبد المتین اشرف عمری مدنی ۲۳؍ اپریل ۲۰۲۱ء مطابق ۱۰؍ رمضان بروز جمعہ بوقت بارہ بجے دن سفر آخرت پر روانہ ہو گیے، جنازہ کی نماز کے بہنوئی اور پھوپھا زاد بھائی مولانا محمد طاہر حسین شمسی نے بعد نماز عشاء پڑھائی اور عالم گنج پٹھان ٹولی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ، پس ماندگان میں اہلیہ شمیمہ اشرف، دو لڑکا خالد اشرف، شاہد اشرف اور تین لڑکی بشریٰ اشرف، حیا اشرف، اور طوبیٰ اشرف کو چھوڑا۔
 مولانا ڈاکٹر عبد المتین اشرف عمری مدنی بن شمس الضحیٰ بن مولوی عبد القادر کی ولادت ۸؍ اگست ۱۹۶۳ء کو مراد آباد ڈاکخانہ بھُتھاہی وایا جنداہا، موجودہ ضلع ویشالی میں ہوئی ، ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے دادا مولوی عبد القادر سے حاصل کرنے کے بعد گاؤں کے اردو سرکاری اسکول میں داخل ہوئے، اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ دار السلام عمرا ٓباد تشریف لے گئے اور وہاں سے ۱۹۷۲ء میں فراغت کے بعد مدینہ یونیورسٹی گئے وہاں انہوں نے کلیۃ اللغۃ العربیۃ وادابھا (Feculty of Arabic language and literatures)میں داخلہ لیا ، وہاں سے فراغت کے بعد رابطہ عالم اسلامی سے بحیثیت داعی مبعوث ہوئے اور حضرت مولانا عبد السمیع جعفری ؒ کی ایما وتحریک پر جامعہ اصلاحیہ سلفیہ جس کا پرانا نام مدرسہ اصلاح المسلمین پتھر کی مسجد پٹنہ ہے، اپنی خدمات سپرد کردی ،پٹنہ میں قیام کے دوران ہی انہوں نے عربی میں ایم اے پی ایچ ڈی اور پیشہ وارانہ تعلیم کی تربیت (ٹریننگ) حاصل کی، پہلی دفعہ حج کی سعادت ۱۹۸۱ء میں ملی، پھر متعدد دفعہ حج وعمرہ کی سعات پائی، آپ اپنے پانچ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے، تین بہنیں بھی ہیں۔
 مدینہ طیبہ سے فراغت کے بعد مولانا، ماسٹر محمد ظہیر الدین محمد پور گنگھٹی، بکساواں ، ویشالی کی دختر نیک شمیمہ خاتون سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور کامیاب ازدواجی زندگی گذاری ، مولانا چوںکہ ،ز مانہ تک داعی کی حیثیت سے سعودی عرب سے مبعوث تھے، اس لیے پٹنہ اور ویشالی کی مسجدوں میں ان کاجمعہ میںخطاب ہوا کرتا تھا، بعض موقعوں سے جلسوں میں بھی شرکت ہوا، کرتی تھی ، دونوں موقعوں سے تقریر میں ان کی طلاقت لسانی کا اثر سامعین پر ہوتا، ان کی نظر نصوص شرعیہ پر تھی اور آیات واحادیث مستحضر تھے، اس لیے تقریر میں اس کا خوب استعمال کرتے ، جس سے ان کی تقریر مدلل ہوتی ، وہ اپنی تقریر کو چیخ چلا کر با اثر بنانے کی کوشش کبھی نہیں کرتے، آواز نہ تو پست ہوتی اور نہ ہی گھن گرج والی ، سیدھے سادے انداز میں بات رکھتے اور قرآن واحادیث سے مزین ہونے کی وجہ سے سامعین پر اس کا اثر پڑتا ، وہ اپنے مسلک پر سختی سے عامل تھے، لیکن دوسرے مسلک والوں کو بُرا بھلا کہتے میں نے انہیں کبھی نہیں سنا، ان کے مزاج میں اعتدال تھا او روہ طعن وتشنیع سے دور رہا کرتے تھے۔
قرآن واحادیث کے ساتھ مولانا کو ترکہ یعنی سہام شرعی، فقہ کی اصطلاح میں علم فرائض پر اچھی خاصی دسترس تھی ، وہ جامعہ اصلاحیہ سلفیہ میں جب تک رہے ، یہ مدت کوئی سال دو سال نہیں تیس پینتیس سال کو محیط ہے، فرائض کا درس آپ سے ہی متعلق رہا ، اور آپ کے اس فن میں کئی نامور شاگرد ہیں۔ 
پٹنہ میں مستقل قیام کے با وجود آپ اپنے آبائی وطن کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے، اس فکر مندی کے نتیجے میں آپ نے اپنے گاؤں میں ۱۹۸۰ء مدرسہ اشرف العلوم قائم کیا، اپنے شاگرد مولانا اختر اصلاحی اور مولانا شیخ اسلم جوہر اصلاحی کو تعلیم وتربیت کے کام پر لگایا، لیکن مولانا کے پٹنہ قیام کی وجہ سے گاؤں کی سیاست درآئی اور اس نے اس مدرسہ کو روبہ زوال کر دیا، اس حالت میں مولانا کی دلچسپی بھی اس سے کم ہو گئی ، بعد میں ان کے بھتیجہ محترم ابو بکر صدیق نے اس کے نظام کو اپنے ہاتھ میں لیا، بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے فوقانیہ تک منظور کراکر تعلیم وتربیت کے سابقہ انداز کو بحال کرنے کی جہد مسلسل کیا، اس طرح مدرسہ مولانا کی باقیات کے طور پر ان دنوں کام کر رہاہے۔
 رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ سے مبعوث داعی کی حیثیت ختم ہونے کے بعد ۲۰۰۷ء میں سرکاری استاذ کی حیثیت سے باڑھ ہائی اسکول میں اردو کی سیٹ پر بحال ہوئے، ۲۰۱۲ء میں آپ کا تبادلہ بہار شریف گورمنٹ مڈل اسکول میں ہو گیا، وہاں سے دانا پو رمڈل اسکول آئے اور انتقال کے وقت وہیں وہ تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔
 مولانا سے میرے تعلقات کم وبیش اڑتیس سال کو محیط تھے، دار العلوم دیو بند سے فراغت کے بعد میں مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور سے بحیثت استاذ منسلک ہو گیا ، ان دنوں میرا آنا جانا آبائی گاؤں حسن پور گنگھٹی بکساواں ویشالی سے ہی ہوا کرتا تھا، مولانا کی شادی ہو چکی تھی ، محمد پور گنگھٹی میرے گاؤں کا ہی ایک محلہ ہے، ان کے خسر محترم مرحوم ماسٹر محمد ظہیر عالم سے والد مرحوم ماسٹر محمد نور الہدیٰ صاحب ؒ کے گہرے روابط اور تعلقات تھے، اس لیے ماسٹر صاحب نکاح اور گھریلو معاملات کے وقت بھی مجھے خصوصیت سے یاد رکھا کرتے تھے، مولانا کا آنا جب گنگھٹی ہوتا تو مختلف قسم کی مجلسوں میں ان سے ملاقات ہوتی اور ان کے علمی ارشادات سے ہم لوگ فائدہ اٹھاتے، ان کی مجلس ہم عمروں میں زاہدانہ خشکی لیے نہیں ہوتی تھی اور انہیں اپنی عالمانہ بصیرت کا غن بھی نہیں تھا، اس لیے ہم عمر ی کی وجہ سے ہم لوگ ان سے گھل مل جاتے ، ایک دو دفعہ ان کے گھر پٹنہ بھی جانا ہوا تھا، محبت سے پیش آتے ، وہ خلیق اور ملنسار تھے، میں نے ان کو کبھی کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا ، بعض دفعہ میں نے انہیں چھیڑنا چاہا اور ان لوگوں کا ذکر کیا، جن سے ان کو تکلیف پہونچی تھی،مگر انہوں نے خوش اسلوبی سے ٹال دیا، اب جب کہ ہماری کوئی مجلس غیبت سے خالی نہیں ہوتی، مولانا کا یہ عمل لائق تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ان کے سیئات کو در گذر فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین وصلی اللہ علی النبی الکریم

بغیر اجازت نامہ عمرہ ادا کرنے پر بھاری جرمانہ عائد

بغیر اجازت نامہ عمرہ ادا کرنے پر بھاری جرمانہ عائد

مکہ مکرمہ ۔ سعودی حکام نے بغیر اجازت عمرہ کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کردیے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کی دونوں خوراکوں کے بغیر اجازت نامے نہیں ملیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عوامی سیکورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت نامے حرم شریف میں داخل ہونے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ بغیر اجازت نامہ عمرہ کرتے ہوئے پکڑے جانے پر 10 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ یاد رہے کہ عمرہ، نماز اور زیارت کی بحالی کے بعد سے اب تک ایک کروڑ زائرین کو حاضری کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔


احمد نگر کے ہاسپٹل میں آتشزدگی ، 10 مریض فوت آئی سی یو میں رات دیر گئے آگ لگی ، شارٹ سرکٹ سے حادثہ ، وزیراعظم کا اظہار رنج

احمد نگر کے ہاسپٹل میں آتشزدگی ، 10 مریض فوت آئی سی یو میں رات دیر گئے آگ لگی ، شارٹ سرکٹ سے حادثہ ، وزیراعظم کا اظہار رنج

آئی سی یو میں رات دیر گئے آگ لگی ، شارٹ سرکٹ سے حادثہ ، وزیراعظم کا اظہار رنج
احمد نگر/نئی دہلی: مہاراشٹر کے احمد نگر کے سیول ہاسپٹل میں ہفتہ کو شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگنے سے دس مریض فوت اور دس سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔احمد نگر کے ضلع مجسٹریٹ راجیندر بھوسلے نے فون پر یواین آئی کو بتایا کہ حادثہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا۔ ہاسپٹل کے عملے نے آج یہاں بتایا کہ آگ انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں تقریباً 11.30 بجے لگی اور تیزی سے پورے کمرے میں پھیل گئی۔ کمرے میں تقریباً 25 کووڈ مریض داخل تھے ۔مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔سات فائر ٹینڈرز کی مدد سے آگ پر قابو پالیا گیا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے احمد نگر ہاسپٹل میں حادثے میں مریضوں کی موت پر غم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی تمنا کی ہے ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا مہاراشٹر کے احمد نگر کے سیول ہاسپٹل میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے حادثے سے بہت تکلیف ہوئی ہے ۔ غم کی اس گھڑی میں میری تعزیت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہے اور میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کرتا ہوں۔حکام نے بتایا کہ مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے ۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔مہاراشٹر حکومت کے وزیر حسن مشرف نے کہا کہ اس واقعے میں دس افراد کی المناک موت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اگر غفلت پائی گئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔مشرف احمد شہر کے نگران وزیر ہیں۔


ہفتہ, نومبر 06, 2021

بریکنگ نیوزووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کا اندراج ضرورکرالیں ، حق رائے دہی جمہوریت کی بقا وتحفظ کا سرچشمہ ہے : مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی

بریکنگ نیوزووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کا اندراج ضرورکرالیں ، حق رائے دہی جمہوریت کی بقا وتحفظ کا سرچشمہ ہے : مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمیکانپور(پریس ریلیز)ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج وتصحیح کا کام جاری ہے، آج اتوار کا دن ہے اس موقع پر سبھی پولنگ بوتھوں پر بی ایل او موجود رہیں گے جن لوگوں نے اب تک اپنے ناموں کا اندراج نہیں کرایا ہے یا غلط اندراج کو درست نہیں کرایا ہے وہ بوتھوں پر جاکر فارم بھرکر اندراج یا تصحیح کا کام ضرور کرالیں اور جو لوگ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ان کے نام کٹوادیں اور کوشش کریں کہ 18برس کے ہونے والے لڑکے ولڑکیوں میں کوئی بھی چھوٹنے نہ پائے۔ حق رائے دہی جمہوریت کی بقا وتحفظ کا سرچشمہ ہے اس کی اہمیت وافادیت اور اس کے دور رس نتائج کو سمجھیں۔ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے کیا۔ مولانا عبداللہ قاسمی نے کہا کہ ووٹ دینا ہمارا جمہوری حق ہے اور جمہوریت کو مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس جمہوری ملک میں ہمیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ووٹر لسٹ میں ہمارا نام موجود ہو۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرائیں، جس کے لئے رہائش اور شناختی ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن کا وضع کردہ فارم بھرنا ہوتا ہے، جس کے بعد ووٹر لسٹ میں نام شامل ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کی یہ مہم وقتاً فوقتاً ایک مخصوص مدت کے لئے شروع کی جاتی ہے۔ اس بار یہ مہم یکم/نومبر 2021 سے 30/نومبر 2021 تک جاری ہے۔ ان ایام کے دوران ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج اور تصحیح کا کام کیا جارہا ہے۔ جن حضرات کا ووٹنگ لسٹ میں نام نہیں ہے، غلط درج ہوگیا ہے، شناختی کارڈ نہیں ہے، کھو گیا ہے یا خراب ہوگیا ہے، یا جن کی عمر 18/سال مکمل ہوگئی، ایسے تمام حضرات ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کا اندراج یا تصحیح کراسکتے ہیں نیز شناختی کارڈ حاصل کرسکتے ہیں۔آج مورخہ7نومبر بروزاتوار ہے اس موقع پر سبھی ووٹنگ بوتھوں پر حکومت کی طرف سے بی ایل او موجود رہیں گے جو حضرات ابھی تک اپنے ناموں کا اندراج یا تصحیح کا کام نہیں کراسکے ہیں وہ ضرور اس کام کو انجام دے لیں۔حکومت کی مقرر کردہ تاریخ ختم ہو جانے کے بعدیہ کام انتہائی مشکل سے ہوتاہے۔ مولاناعبد اللہ قاسمی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت رہتے ہوئے بیدارہوجائیں سارے ضروری کام چھوڑ کر اندراج کا کام ضرور کروائیں چاہے اس کے لئے ایک،دودن کے لئے دکان بند کرنی پڑے یا چھٹی لینی پڑے، مولانا نے صوبہ اترپردیش کے تمام اضلاع کے جمعیۃ کے عہدیداران واراکین سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ووٹر لسٹ میں اندراج کے کام کے لئے آمادہ کریں اور حتی المقدور اس کام میں ان کی مدد کریں۔

تریپورہ واقعہ میں مجرموں پر کارروائی کرنے کےلئے مسلم کمیونٹی اٹارسی نے وزارت داخلہ کے نام ایس ڈی ایم کو دیا میمورنڈم

تریپورہ واقعہ میں مجرموں پر کارروائی کرنے کےلئے مسلم کمیونٹی اٹارسی نے وزارت داخلہ کے نام ایس ڈی ایم کو دیا میمورنڈم

ہوشنگ آباد 06 نومبر (بی این ایس) کل 5 نومبر بروز جمعہ اٹارسی مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے عارف خان (ضلع کانگریس سکریٹری) کی قیادت میں وزارت داخلہ کے نام ایک میمورنڈم ایس ڈی ایم صاحب اٹارسی کو پیش کیا۔ محمد فیروز خان چشتی نے بتایا کہ تریپورہ میں چند روز قبل مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے گھروں اور مساجد کو نذر آتش کیا گیا اور پیغمبر اسلام کے خلاف نازیبا کلمات بولے گئے جو کہ سراسر غلط ہے۔ اس میں قصورواروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔ عارف خان (کانگریس ضلع سکریٹری) نے کہا کہ ہمارا ملک بھارت ہمیشہ بھائی چارے کی علامت رہا ہے۔ یہاں تمام ہندو مسلم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار سے رہتے ہیں۔تریپورہ میں ہمارے ملک کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ میمورنڈم دینے والوں میں عیدگاہ مسجد صدر حبیب احمد خطری، تنظیم اصلاح المسلمین کے صدر فیروز خان چشتی، کانگریس کے ضلع سکریٹری عارف خان، چھنو بھائی، شیخ شکیل، امیر شالو، مولانا اعظم صاحب، مولانا توفیق رضا، شاکر رضا نوری صاحب، حفیظ مختار صاحب شامل تھے۔


قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے والے اللہ کے محبوب بندے ہیں

قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے والے اللہ کے محبوب بندے ہیں

ارحم نظمی کے تکمیل قرآن کریم کے موقع پر منعقد تقریب میں مفتی وقاص ہاشمی کاخطاب
دیوبند،6؍ نومبر(سمیر چودھری؍اردودنیانیوز۷۲)
محلہ ابوالمعالی میں واقع مدرسہ مدینۃ العلم میں تقریب ختم کلام اللہ کے موقع پر منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی وقاص ہاشمی نے قرآن کریم کی عظمت اور افضیلت پر روشنی ڈالی۔ کفیل الرحمن نظمی کے بیٹے ارحم نظمی کے کلام اللہ مکمل کرنے کی تقریب میں انہوںنے کہا کہ قرآن کی تعلیم دینے والا اور حاصل کرنے والا دونوں کا ہی اللہ کے محبوب بندوں میں شمار ہوتا ہے ۔ انہوںنے حاضرین کی توجہ تعلیم اور دین کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آج ہماری جملہ پریشانیوں کا سبب دین سے دوری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے کتنے ہی بھائی بہن قرآن کریم تک پڑھنا نہیں جانتے ، نمازوںکی طرف ان کی توجہ نہیں ہے ، اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے راستے سے کوسوں دور ہیں۔ اسی واسطے امت مسلمہ پر چاروں جانب سے عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے۔ مفتی وقاص نے کہاکہ ہمیں اپنے عقائد اور اعمال کی درستگی کی فکرکرنی چاہئے ۔ جب تک دین کی محبت اور اس کے تئیں رغبت ہمارے اندر پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک سیدھا راستہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اندر قرآن سیکھنے ، دین سیکھنے اور نماز پڑھنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا تبھی آنے والی نسلیں دینی ماحول میں تربیت پاسکیں گی ۔ اس موقع پر مدرسہ کے استاذ قاری مظاہر نے حاضرین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن سیکھنے کے لئے مدارس اورمکاتب میں بھیجیں ۔ انہوں نے اسکول جانے والے طلبہ سے بھی مخاطب ہوکر کہاکہ اسکول سے فارغ وقت نکال کر قرآن کو سیکھنے کا اہتمام کریں ۔ اس موقع پر ربیع ہاشمی، عاطف ہاشمی، ذاکر ،راشد قیصر، حافظ نصر الٰہی، رفیع، عبداللہ راہی، مظہر نامی، فہمی، طلحہ وغیرہ موجود رہے۔


کھگڑیا میں زمین تنازع میں مارپیٹ ، 4 زخمی : زمین پر رکھی اینٹ ہٹانے گئے لوگوں پر پڑوسیوں نے کیا حملہ

کھگڑیا میں زمین تنازع میں مارپیٹ ، 4 زخمی : زمین پر رکھی اینٹ ہٹانے گئے لوگوں پر پڑوسیوں نے کیا حملہ

کھگڑیا، 6 نومبر۔کھگڑیا کے چترگپت نگر تھانہ علاقہ کے رابڑی نگر میں ہفتہ کی صبح دوفریقوں کے درمیان جم کر لاٹھی۔ ڈنڈے چلے۔ واقعے میں ایک گروپ کے چار افراد شدید طور سے زخمی ہو گئے۔ جن کا علاج صدر اسپتال کھگڑیا میں کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں میںرابڑی نگر رہائشی چندر شیکھر داس کے بیٹے سدھاکر کمار (17)، پورن داس کے بیٹے سنتوش کمار (30) ، ا?نجہانی رگھونندن داس کے بیٹے راہل کمار (25)اور ا?نجہانی اوپندرداس کے بیٹے کشور داس (40) شامل ہیں۔

اینٹ ہٹانے کو لیکر ہوا تنازعہ واقعہ کے سلسلے میں زخمی سدھاکر کمار نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح سات بجے وہ اپنی زمین پر رکھی اینٹ کو ہٹانے گئے تھے۔ اس کے بعد ان کے پڑوسی یوگیندر داس ، وکیل داس اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان سب پر لاٹھی اور ڈنڈے سے حملہ کر دیا۔ جس سے ان لوگوں کے سر پھٹ گئے۔

زخمی سدھاکر کا الزام ہے کہ ان کا پڑوسی یوگیندر داس سدھاکر کے گھر کے سامنے والی زمین پر ا پنا دعویٰ کرتا ہے۔ اس معاملے پر اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ وہیں سدھاکر کا کہنا ہے کہ جب وہ ہفتہ کی صبح اپنی زمین سے اینٹ لانے گیا تو ان لوگوں نے حملہ کر دیا۔

ادھر معاملے میں چترگپت نگر تھانہ انچارج سنجیو کمار نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع ملی ہے۔ متاثرہ کی درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...