پیر, نومبر 08, 2021
شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیڈ اولین مجاہد آزادی اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے
بنگلور (پریس ریلیز) شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہیں، جنہوں نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت فکر، آزادی وطن اور دین اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی۔ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒنے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا اور اسی پرچم کو بلند کرتے کرتے جام شہادت نوش فرمالی۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ ایک نرم دل، عدل پرور، مساوات، مذہبی رواداری کے علمبردار اور مذہبی تعصب سے پاک بادشاہ تھے۔ وہ ایک ایماندار اور روشن خیال حکمراں تھے، جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف بین المذاہب رواداری کو باقی رکھا بلکہ اس کی جڑوں کو مستحکم کرتے ہوئے ہندوؤں کو اپنی فوج اور انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز بھی کیا۔ اسکے علاوہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے دور حکومت میں جہاں مختلف مسجدیں بھی تعمیر کیں وہیں اپنے ہندو رعایا کو مندر قائم کرنے کیلئے اجازت دیں اور سہولیات فراہم کیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ لیکن افسوس کہ ادھر چند سالوں سے کچھ فرقہ پرست عناصر حضرت کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہیں۔ جس سے عموماً اہل وطن بالخصوص نوجوان نسل میں شک و شبہات پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا جارہا ہے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی اصل سیرت کو عام کرنے اور فرقہ پرست طاقتوں کو منھ توڑ جواب دینے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے'سلطان ٹیپوؒ'کے نام سے ٹیوٹر مہم چلائی جارہی ہے۔ ٹرینڈ کیلئے 10 / نومبر 2021ء بروز بدھ شام 6:00 بجے کا وقت طے کیا گیا ہے۔وقت سے پہلے ان شاء اللہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ہیش ٹیگ کا اعلان کیا جائے گا اور مرکز کے آفیشل ٹیوٹر ہینڈل سے ٹیوٹ بھی کیا جائے گا۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام اہل وطن بالخصوص برادران اسلام سے اپیل کی کہ وہ اس 'سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر ٹرینڈ' میں بھرپور حصہ لیں اور حضرت کی سیرت کو عام کریں۔ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل کو فالوو کرسکتے
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
یوپی الیکشن 2022 : بی جے پی کو 400 سیٹوں پرشکست کاسامناکرناپڑےگا ، اکھلیش یادوکادعویٰ
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اتوار, نومبر 07, 2021
ابو ظفر سراج الدین محمد شاہ ظفر کی 159 ویں یوم وفات کے موقع پر بہادر شاہ غازی ... بہادر
ابو ظفر سراج الدین محمد شاہ ظفر کی 159 ویں یوم وفات کے موقع پر بہادر شاہ غازی ... بہادر
بہادر شاہ ظفر ایک نرم دل، غریب پرور، شاعرا نہ اور صوفیانہ مزاج کے پیکر تھے، جنہوں نے مروجہ علوم کے علاوہ فنون حرب گھوڑ سواری، تلوار بازی، تیر اندازی اور آتشیں اسلحہ پر مکمل دسترس حاصل کی، خصوصاً وہ ایک بہترین نشانہ باز اور اعلیٰ گھوڑ سوار تھے، جن کا شمار اس عہد میں ہندوستان کے ڈھائی گھوڑ سواروں میں ہوتا تھا، ان کے بعد دوسرا نمبر مرزا جہانگیر بخت (بھائی) جبکہ آدھا نمبر پر مہاراشٹر کا گھوڑ سوار کا تھا۔
ہرعروجے را زوال است کے مماثل مغلیہ سلطنت بھی وقت کے پہیہ کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے زوال کی طرف گامزن تھی اسی اثنا میں یکایک میرٹھ سے قبل از وقت پہلی ملک گیر جنگ آزادی 10؍مئی1857ء کے شعلے بھڑ ک اٹھے۔ بغاوت کے علم بلند کرنے والے دیسی سپاہیوں نے درگاہ شاہ پیر صاحب پر روزہ افطار کرکے 11؍مئی کی صج جب دہلی کی دہلیز پر قدم رکھا، تب شہنشاہ ہند سراج الدین محمد بہاد رشاہ ظفر اس جھرونکھے میں تشریف فرما تھے جہاں کبھی مغل شہنشاہ شاہجہاں بیٹھ کر عوام سے روبرو ہوتے تھے۔ اچانک ان کی نظریں آسمان میں اٹھتے گرد وغبار کی طرف اٹھی تو انہوں نے رسالہ دار کو سوار بھیج کر ماجرہ جاننے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ میرٹھ کے باغی سپاہیوں کا لاؤ ولشکر ہے جو کمپنی بہادر سے بغاوت کرکے عالم پناہ کے حضور میں پیش ہونے کے لیے متمنی ہے۔
بہرکیف تقربیاً شام چار بجے سپاہیوں نے حضورِمعلی سے مل کر التجا کی کہ وہ ان کے سروں پر ہاتھ رکھیں اور انقلابی تحریک کی عنان سنبھالیں،جو اس پیرانہ سالی میں سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا مگر 82 ؍سالہ ضعیف العمر تاجدار ہند کچھ لیت ولعل کے بعد رضامند ہوگئے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ان کی حکمت عملیوں نے باغی فوجیوں کے حوصلوں میں ایک نئی جان پھونک دی، چنانچہ دلّی میں جوق درجوق انقلابیوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جن میں سب سے اہم نام عظیم انقلابی بخت خاں کا ہے، موقع ومحل کے مدنظر بادشا ہ سلامت نے انگریزوں کے خلاف راجپوتانہ سمیت تمام ریاستوں کو تعاون کے لیے خطوط روانہ کیے، مگر ان کے خون اتنے سفید ہوچکے تھے کہ انہوں نے ان کا جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔
گنگا-جمی تہذیب کے علمبردار عالم پناہ کے حکم سے بخت خاں نے 9؍جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گا وہ توپ کے منھ سے اڑایا جائے گا۔ 19؍جولائی 1857ء کو بخت خان اور اس کے فوجیوں نے انگریزوں کے چھکے چھڑاتے ہوئے مغربی چوکیوں پر قبضہ کر لیا، مگر انگریز ہار کہاں ماننے والے تھے، انہوں نے اپنے نمک خواروں کے ذریعہ 7؍اگست کو انقلابیوں کے اسلحہ خانہ میں آگ لگ لگوادی جس میں کافی جانی نقصان ہوا، آخرکار جیون لعل، رجب علی، مرزا الہٰی بخش کی ٹولیوں اور غدار ہندوستانی ریاستوں کے فرماں رواؤں کی بدولت ایسٹ انڈیا کمپنی نے دلّی کی اینٹ سے اینٹ بجادی، دل برداشتہ بہادر شاہ ظفر نے قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرے میں جانے کا فیصلہ کیا، بخت خاں اپنے مورچہ پے ڈٹا ہوا تھا جیسے ہی اس نے سنا وہ ویسے ہی بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جہاں پناہ کو زمینی حقائق سے روبرو کرا کر اپنے ساتھ چلنے کی گزارش کی تو بادشاہ سلامت نے جواب دیا کہ ہم ہمایوں کے مقبرے جاتے ہیں، تم کل صبح وہاں آؤ۔
قابل ذکر امر ہے کہ قلعہ سے نکل کر بہادر شاہ ظفر سیدھے درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء پہنچے اور وہاں خواجہ شاہ غلام حسن سے ملاقات کی۔ پریشان حال شہنشاہ نے مختصر گفتگو کرنے کے بعد بتایا کہ جب تیمور نے قسطنطنیہ پر یلغار کی تھی تو اس نے وہاں کے سلطان با یزید یلدرم سے پیغمبر اکرم ﷺ کے خط کے بال حاصل کیے تھے، جو اب تک مغل بادشاہوں کے پاس محفوظ تھے لیکن اب میرے لیے آسمان کے نیچے یا زمین کے اوپر کوئی جگہ نہیں بچی، اس لیے میں یہ امانت آپ کے حوالے کر رہا ہوں تاکہ یہ محفوظ رہے۔
خواجہ شاہ غلام حسن نے وہ بال ان سے لے کر درگاہ کی تجوری میں رکھ دیئے، بھوک سے بے حال بادشاہ سلامت نے روکھی سوکھی روٹی کے چند لقمے نوش فرماکر ہمایوں کے مقبرے کی جانب رخ کیا۔ اگلے روز 21؍ستمبر 1857ء کو وعدے کے مطابق جنرل بخت خاں، ڈاکٹر وزیر خاں اور مولانا فیض احمد بدایونی بہادر شاہ ظفر سے ملے، مگر بادشاہ سلامت اپنے فریبی سمدھی مرزا الٰہی بخش کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے تھے، دلّی کو چھوڑنے کو راضی نہ ہوئے، اس طرح انہوں نے خود انگریزوں کو دنیا کی تیسری بڑی طاقت مغلیہ سلطنت کے آخری حکمراں کی باقی ماندہ عظمت واحترام کو پیروں تلے روندنے کا موقع فراہم کر دیا۔ مایوس بخت خاں بادشاہ کو ان کے حال پہ چھوڑ کر اپنی فوج کے ساتھ مشرقی دروازے سے دریا کی طرف اتر گیا، مرزا الٰہی بخش نے فوراً اس کی خبر برٹش خیمہ کو پہنچائی تو ہڈسن آخری تاجدار ہند کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ گیا۔
بہادر شاہ ظفر، ز ینت محل اور شہزادے جواں بخت نے جان بخشی کے وعدے پرخود کو ہڈسن کے حوالے کر دیا، حراست کے دوران بہادر شاہ ظفر کو ہر لمحہ ذلت کے گھونٹ پینے کے علاوہ مختلف روحانی اور جسمانی اذیتیں جھیلنی پڑیں، مگر جب بے رحم ہڈسن نے مرزا مغل، مرزا خضرسلطان اور مرزا ابوبکر کو گولی مار کر ان کا سرتن سے جد ا کرکے بادشاہ کو بطور نذرانہ پیش کیا، تو ایک عمر رسیدہ مقید بادشاہ کی زبان سے برجستہ نکلا کہ ''تیموری نسل کے غیور شہزادے اپنے بڑوں کے سامنے اسی طرح سرخرو ہوتے ہیں۔'' اس طرح ایک لاچار و بے بس بادشاہ جیت گیا اور ہڈسن ہار گیا۔
27؍جنوری 1858ء کو صج 11؍بجے بہا در شاہ ظفر کے نمائشی مقدمہ کی سماعت ایک خود ساختہ ملٹری کمیشن نے شروع کی۔ پنجاب کمشنر لارنس کے حکم پر عدالت نے 2؍اپریل 1858ء کو جلاوطنی کی سزا سنائی۔ مورخہ 7؍کتوبر 1858ء بادشاہ سلامت، اہلیہ زینت محل، دو بیٹے مرزا جواں بخت اور مرزا شاہ عباس سمیت 35 ؍شاہی افراد کو بذریعہ بیل گاڑیوں دلّی سے کلکتہ روانہ کیا، مگر خوفزدہ فرنگیوں نے حفاظتی نقطہ نظر کے مدنظر انہیں اثنائے راہ ملک کی مختلف چھاؤنیوں میرٹھ و الٰہ آباد وغیرہ میں ٹھہرایا، میرٹھ کینٹ میں واقع ایک مسجد ان کے قیام کی گواہ تھی، 83 سالہ ناتواں بادشاہ سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے کلکتہ پہنچے۔ جنہیں 4؍دسمبر کو ہگلی کی ڈائمند بندر گاہ سے رنگون بھیجا گیا، چھ دن کی مسافت طے کرنے بعد ان کا مگویرا (Magoera) جہاز10 ؍دسمبر کو لنگر انداز ہوا، کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا منتظم تھا، اس نے بندرگاہ پر شہنشاہ اور ان کے خاندانی افراد کو اپنی تحویل میں لیا، جنہیں اس نے مختلف خیموں نیز ایک گیراج میں رکھنے کے بعد ساگون کی ایک عمارت میں منتقل کر دیا۔
ہندوستان کے آخری مغل حاکم بہادر شاہ ظفر کی صحت قید وبند کی زندگی سے مزید خراب ہوگئی۔ ان کا گلا فالج کا شکار ہوگیا، جہاں پناہ کو 6 ؍نومبر 1862ء کو فالج کا تیسرا دورہ پڑا اور 7 ؍نومبر کی صبح 5؍بجے 87 ؍سال کی عمر میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، شہزادہ جوان بخت اور حافظ محمد ابراہیم دہلوی نے غسل دیا، سرکاری بنگلے کے پیچھے قبر کھودی گئی، ڈیوس کے مطابق ان کے جنازے میں تقریباً 100 ؍لوگ شامل تھے۔ شام 4 ؍بجے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا گیا، تدفین کے بعد گور ہموار کردی گئی، جس کا علم 132 سال تک کسی کو نہیں ہوا۔ 1991ء میں ایک یادگاری ہال کا سنگ بنیاد رکھنے کی کھدائی کے دوران ایک زیر زمین قبر نکلی، نشانیوں اور باقیات سے تصدیق ہوئی کہ یہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر کی آخری آرام گاہ ہے۔ 1994ء میں ان کے مقبرے کی تزئین وآرائش کی گئی۔ جس کی ہر اینٹ بہادر شاہ ظفر کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ
کتنا بدنصیب ہے ظفر دفن کے لیے
دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ساتویں مرحلے کی پولنگ کے لیے ای وی ایم لگانے کا کام شروع
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ٹی -20 عالمی کپ 2022 : براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 8 ٹیمیں
ٹی -20 عالمی کپ 2022 : براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 8 ٹیمیں
اعلامیہ کے مطابق اس سال ٹی 20 ورلڈکپ کا سپر 12 مرحلہ کھیلنے والی 12 ٹیموں میں سے 8 ٹیمیں آئندہ سال ہونے والے ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرچکی ہیں اور انہیں اس مرحلے میں داخلے کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ نہیں کھیلنا پڑے گا۔
آئی سی سی کے مطابق سپر 12مرحلے میں خود بخود رسائی کے لیے ورلڈکپ کی فاتح ٹیم اور رنر اپ سمیت فائنل کے بعد 15 نومبرکو بننے والی رینکنگ کے لحاظ سے بقیہ 6 ٹاپ ٹیموں کا فارمولہ رکھا گیا تھا۔ آج آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد گذشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فاتح ویسٹ انڈیز رینکنگ میں 10 ویں نمبر پر چلا گیا ہے اور بنگلہ دیش 8 نمبر پر آکر سپر 12 مرحلے میں اپنی جگہ یقینی بناچکا ہے جبکہ سری لنکا نویں نمبر پر موجود ہے۔
اس وقت آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں انگلینڈ پہلے نمبر پر براجمان ہے جس کے بعد بالترتیب پاکستان، ہندوستان، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا موجود ہیں اور ان کی پوزیشن میں تبدیلی مشکل ہے اور ساتویں نمبر پر موجود افغانستان کے بھی آٹھویں نمبر سے نیچے آنےکا امکان نہیں ہے۔
آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کو 2021 کا سپر 12 مرحلہ کھیلنے والی دیگر 2 ٹیموں اسکاٹ لینڈ اور نامیبیا کے ساتھ راؤنڈ ون مرحلہ کھیلنا ہوگا جس میں کامیابی کے بعد ہی وہ سپر 12 مرحلے کے لیے کوالیفائی کرسکیں گی۔ یاد رہے 2020 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ آسٹریلیا میں ہونا تھا تاہم کورونا وائرس کے باعث اسے ملتوی کردیا گیا اب یہ ملتوی ہونے والا ٹی 20 ورلڈکپ 2022 میں آسٹریلیا میں ہوگا۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مولانا ڈاکٹر عبد المتین اشرف عمری مدنی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
بغیر اجازت نامہ عمرہ ادا کرنے پر بھاری جرمانہ عائد
بغیر اجازت نامہ عمرہ ادا کرنے پر بھاری جرمانہ عائد
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
-
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش اگست 26, 2021 ممبئی اگست26(اردو دنیا نیوز۷۲) کرائم برانچ یون...
-
ریلوے نے مسافروں کو دی بڑی راحت ، اب لوگ جنرل ٹکٹ کے ساتھ ٹرینوں میں کر سکیں گے سفر ملک میں کورونا کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونے...
-
سید عادل گڈو بھائی گلستان محلہ پھلواری شریف پٹنہ کی بھانجی ارم وارثی کو گولڈ میڈل ملنے پر جامعہ عربیہ دارالعلوم محمدیہ کی جانب سے مبارکبادی ...
