Powered By Blogger

جمعہ, نومبر 12, 2021

اسکولی طلباء نے آف لائن امتحان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا

اسکولی طلباء نے آف لائن امتحان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا

نئی دہلی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) اور آئی سی ایس ای کی 10ویں اور 12ویں جماعت کے وقفے وقفے سے امتحان صرف آف لائن موڈ (کلاس روم میں بیٹھ کر) منعقد کرنے کے خلاف کئی طلباء نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

طلباء نے کورونا کی وبا کے بڑھنے کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے متبادل انتظام کے طور پر امتحان آن لائن میڈیم سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سی بی ایس ای 16 نومبر سے اور آئی سی ایس ای 22 نومبر سے امتحانات منعقد کرنے جا رہی ہے۔

ابھیودیہ چکما سمیت چھ طلباء کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آف لائن امتحانات کرانے سے کورونا وبا کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایسی صورتحال میں صرف آف لائن ذرائع سے امتحانات کا انعقاد ان کے صحت کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو امتحان کے حوالے سے جاری کردہ جانکاریاں کو منسوخ کرنے اور اس کی جگہ پر نظر ثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے

لاؤڈ اسپیکروں پر اذان ، جرمنی میں مزید کئی مساجد کی درخواستیں

لاؤڈ اسپیکروں پر اذان ، جرمنی میں مزید کئی مساجد کی درخواستیں

کولون شہر کی خاتون میئرہینریئٹے ریکر نے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کی رکن نہیں ہیں، گزشتہ ماہ کے آغاز سے دو سالہ مدت کے ایک ایسے ماڈل پروجیکٹ کی منظوری دے دی تھی، جس کے تحت مقامی مسلمانوں کی شہر کے ایہرن فَیلڈ نامی علاقے میں واقع مرکزی مسجد میں ہر جمعے کی نماز سے قبل لاؤڈ اسپیکر پر اذان دی جا سکتی ہے۔

یہ اجازت جس مسجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر باقاعدہ اذان کے لیے دی گئی تھی، اس کا انتظام جرمنی میں کئی ملین ترک نژاد مسلمانوں کی مساجد کی نمائندہ مرکزی تنظیم دیتیب (Ditib) چلاتی ہے۔

دس دیگر مسلم برادریوں کی طرف سے بھی درخواستیں

کولون شہر کی انتظامیہ کی ایک ترجمان نے اس بارے میں جمعرات گیارہ نومبر کے روز نیوز ایجنسی کے این اے کو بتایا کہ تقریباﹰ چھ ہفتے قبل اس ماڈل پروجیکٹ کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک مزید دس مقامی مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی یہ درخواست دی جا چکی ہے کہ انہیں بھی مساجد میں جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکروں پر نماز جمعہ کی اذان دینے کی باقاعدہ اجازت دی جائے۔

قبل ازیں کولون سے شائع ہونے والے اخبار 'کُلنر شٹڈ اَنسائگر' نے بھی اپنی آج کی اشاعت میں کولون شہر کی انتظامیہ کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایسی اولین درخواستوں کی تصدیق کر دی تھی۔

اخبار کے مطابق ترک نژاد جرمن مسلمانوں کی مساجد کی مرکزی تنظیم دیتیب نے کہا ہے کہ وہ کولون کے ایہرن فَیلڈ نامی علاقے میں قائم مرکزی مسجد کے علاوہ شہر میں پانچ اور مقامی مساجد کا انتظام بھی چلاتی ہے۔ تاہم جن دس دیگر مساجد نے اب مؤذن کی طرف سے جمعہ کی سہ پہر لاؤڈ اسپیکر پر باقاعدہ اذان کی اجازت کی درخواستیں دی ہیں، وہ دیتیب کی مساجد نہیں ہیں۔

لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی شرائط

جرمنی میں مسلمان اپنی مساجد میں عام طور پر لاؤڈ اسپیکروں پر اس طرح اذان نہیں دے سکتے کہ وہ دور دور تک سنائی دیتی ہو۔ ایسا صرف ان چھوٹے لاؤڈ اسپیکروں کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے، جن کی آواز مساجد کے اندر اور ان سے ملحقہ کمیونٹی مراکز تک میں سنی جا سکتی ہو۔

کولون کی بلدیاتی انتظامیہ نے جس ماڈل پروجیکٹ کی منظوری یکم اکتوبر سے دی تھی، اس کے تحت شہر کی چند مساجد میں جمعے کی نماز سے پہلے لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دیے جانے کی چند لازمی شرائط بھی ہیں۔ ان شرائط میں یہ بھی شامل ہیں کہ مؤذن کی طرف سے اذان کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ نہ ہو، لاؤڈ اسپیکروں کی آواز انتہائی اونچی نہ ہو اور اذان دینے سے پہلے ہمسایوں کو اطلاع بھی کی جائے۔

خاتون مئیر کی اجازت کے حق میں دلیل

کولون کی مئیر ریکر نے جب ستمبر میں یہ اعلان کیا تھا کہ اس ماڈل پروجیکٹ پر عمل درآمد کا آغاز اکتوبر کے اوائل سے ہو جائے گا، تو شہر کی اکثریتی آبادی سے تعلق رکھنے والے کئی شہری اور سماجی حلقوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ کچھ متنازعہ بھی ہو گیا تھا۔

مئیر ریکر کا تاہم کہنا یہ تھا کہ اس منصوبے کا مقصد شہر کی آبادی میں مختلف مذہبی برادریوں کی طرف سے ایک دوسرے کو کھلے دل سے قبول کرنے کی سوچ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ساتھ ہی میئر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فیصلے کی وجہ عوام کا یہ حق ہے کہ ہر کسی کو اپنے عقیدے پر عمل درآمد کی کھلی اجازت ہونا چاہیے۔

گرجے کی گھنٹیوں کی بھی تو اجازت ہے

کولون کی میئر ہینریئٹے ریکر کی اس بظاہر متنازعہ قرار دیے جانے والے منصوبے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ تھی، ''یہ کہ ہم اپنے شہر میں گرجے کی گھنٹیوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ مؤذن کی آواز بھی سن سکیں، یہ امر ثابت کرتا ہے کہ کولون شہر میں تنوع کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور وہ مقامی باشندوں کی زندگیوں میں نظر بھی آتا ہے۔''

اس کے برعکس جن ناقدین نے مقامی مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی، ان کا دعویٰ تھا کہ اس اجازت کے ساتھ شہر کی خاتون میئر ایک مقامی مذہبی اقلیت کو 'ناجائز ترجیح' دینے کی مرتکب ہوئی ہیں۔

کاس گنج میں الطاف کی حراستی موت کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے : مولانا محمود مدنی

کاس گنج میں الطاف کی حراستی موت کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے : مولانا محمود مدنینئی دہلی :جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے یوپی کے کاس گنج میں پولس کے زیر حراست ۲۲؍سالہ نوجوان الطاف کی ہوئی موت پر دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے اورریاستی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحہ کی اعلی سطحی انکوائری کرائی جائے ، ملوث پولس عملہ کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اورمرحوم کے اہل خانہ کو پچاس لاکھ روپے زر تلافی ادا کی جائے۔ مولانا مدنی نے اترپردیش میںپولس انکائونٹراور حراستی اموات کے سلسلہ وار واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام واقعات کی، سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک اعلی سطحی کمیٹی سے انکوائری کرائی جائے ۔انھوں نے کہا کہ ہندستان کی شناخت ہمیشہ سے انسانی حقوق کی حفاظت جیسی اعلی اقدار سے رہی ہے ، اگر کوئی سرکار اسے قائم رکھنے میں ناکام ہے، تو اس سے بڑی ناکامی کچھ اور نہیں ہوسکتی۔کاس گنج میں جو کچھ بھی ہوااو راسے جس طرح چھپانے کی کوشش کی گئی ہے ، وہ خود اپنے آپ میں شرمناک ہے۔انھوں نے کہاہے کہ جمعیۃ علماء ہند ، مغموم والدین کے ساتھ کھڑی ہے او ر ان کو انصاف دلانے کے لیے اپنا وکیل کھڑا کرے گی ۔ واضح ہوکہ آج جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں تنظیم کے ایک وفد نے کاس گنج کا دورہ کیا اور ڈی ایم ہرشتا ماتھور اور ایس پی بوترے روہن پرمود سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ الطاف کو انصاف ملے ۔ساتھ ہی جمعیۃ کے وفد نے گھر جاکر والد چاند میاں اور دیگراہل خانہ سے بھی ملاقات کی، ان کو تعزیت پیش کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، اس موقع پر والد چاند میاں نے جمعیۃ علماء ہند سے استدعا کی کہ جمعیۃ اس مقدمہ کو لڑے،جس کے بعد مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جمعیۃ کے وفد میںمولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا محمد یاسین جہازی ، آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند ،جناب ڈاکٹر ازہر علی شیڈجمعیۃ علماء ہند، مفتی محمد خبیب صدر جمعیۃ علماء کاس گنج، مولانا محمد اسرار اللہ ناظم جمعیۃ علماء کاس گنج اور قاری محمد راشد صدر جمعیت علماء تحصیل سہاور کاس گنج شامل تھے

جمعرات, نومبر 11, 2021

اسد الدین اویسی نے کاس گنج میں پولیس تحویل الطاف کی موت پر دیا بڑا بیان ، کہی یہ بات میں

اسد الدین اویسی نے کاس گنج میں پولیس تحویل الطاف کی موت پر دیا بڑا بیان ، کہی یہ بات میںکاس گنج پولیس اسٹیشن میں الطاف کی پراسرار موت کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے ۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس کو قتل قرار دیا ہے ۔ نیز انہوں نے وزیر اعلی یوگی اور دیگر سیاسی پارٹیوں پر مذہب کی سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا ۔

مولانا آزاد نمونے کے انسان تھے : مفتی محمد امداداللہ قاسمی

مولانا آزاد نمونے کے انسان تھے : مفتی محمد امداداللہ قاسمی

مدہوبنی /بی این ایس

حکومتِ ہند نے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے یوم پیدائش 11 /نومبر کو یوم تعلیم کے طور پر منانے کا اعلان کیا جو 2008ء سے ملک کے تمام تعلیمی و رفاہی سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں یوم تعلیم کے نام سے منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے مؤقر چئیر مین کی ہدایت پر مدرسہ اصلاح المومنین راگھونگر بھوارہ مدھوبنی میں مدرسہ ہٰذا کے پرنسپل مولانا جلال الدین صاحب مفتاحی کی صدارت میں تقریب یوم تعلیم کا اہتمام کیا گیا جس میں اساتذہ اور طلباء و طالبات مدرسہ ہٰذا نے شرکت کی، مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کی حیات و خدمات کا تعارف کراتے ہوئے مفتی محمد امداداللّٰہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ مدھوبنی و ناظم تعلیمات مدرسہ ہٰذا نے کہا کہ مولانا آزاد ؒ کی ولادت مرکز اسلام مکہ معظمہ میں11 نومبر 1888ء مطابق ذی الحجہ1305 کو ہوئی ۔والد ِ ماجد مولانا خیر الدین احمد، غدر 1857ء کو ہندوستان مین برطانوی جبر وتشدد سے تنگ آکر مکہ معظمہ تشریف لے گئے ،اور مدینہ منورہ کے مفتی اکبر شیخ محمد طاہر کی بھانجی سے ان کی شادی ہوئی ،انہی سے مولانا آزاد ؒ دنیا ئے رنگ وبو میں تشریف لائے ۔آپ کا ذاتی نام'' محی الدین احمد'' اور تاریخی نام''فیروز بخت'' رکھا گیا،لیکن آپ کی کنیت'' ابو الکلام ''اور آپ کا لقب ''آزاد'' نے آپ کے اصلی نام پر کچھ ایسا پردہ ڈالا کہ معدودے چند لوگوں کے کسی کو اس کا علم نہیں۔‌ مولانا آزاد بہت کم عمری میں دینی علوم سے آراستہ ہوگئے، اللہ تعالی نے زبردست حافظہ اور قوت یاد داشت عطا کیا تھا، اسی وجہ سے آپ نے دیگر علوم کو بھی حاصل کیا اور ہر ایک میں کمال حاصل کیا، ابتدائی عمر سے کتابوں کے شوقین اور مطالعہ کے رسیا تھے، مولانا آزاد نظم اوقات کے اس قدر پابند تھے کہ:'ایک مرتبہ دن میں پانچ بجے شام گاندھی جی آگئے، مولانا کو خبر کی تو ٹس سے مس نہ ہوئے ،فرمایا: اس وقت ملنے سے معذور ہوں کل صبح نو بجے تشریف لائیں ،گاندھی جی ہشاش بشاش لوٹ گئے اور اگلے دن صبح نو بجے تشریف لائے'۔مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، آپ ہندوستانی تاریخ کی ناقابلِ فراموش ہستی ہیں، جن کی پوری زندگی جہدِ مسلسل اور عملِ پیہم کا نمونہ تھی، جو ہند میں سرمایہ ملت کے نگہبان تھے۔ مولانا آزاد مختلف کمالات کا منبع تھے، ان کی شخصیت علوم وفنون کا مصدر اور مرکز تھی۔ علم و فضل، دین و مذہب، فلسفہ و حکمت، تصنیف و تالیف، خطابت و صحافت سیاست و تدبر، غرض کون سا ایسا علم و ہنر کا میدان تھا جو ان سے اچھوتا رہا ہو۔ سیاسی بصیرت ایسی کہ مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو جیسے رہنما آپ سے مشورہ کرتے۔ وہ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔

ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے انھوں نے وہ تعلیمی نظام ترتیب دیا جو اپنی مثال آپ ہے۔

مولانا آزاد نے ۱۵ /جنوری 1947/ کو وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا اور 2/فروری 1958/تک اسی عہدے پر فائز رہے۔

انھوں نے تقریباً گیارہ برس تک ملک کے لئے تعلیمی خدمات انجام دیں۔وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالتے ہی انھوں نے یہ عزم کیا کہ وہ ہندوستان میں ایک اتنے مضبوط تعلیمی نظام کی بنیاد ڈالیں کہ آنے والی نسلیں اس پر عالی شان محل تعمیر کر سکے، مولانا ابو الکلام آزاد اس سچائی پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم کے بغیر ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔ تعلیم کے ذریعے ہی اس ملک کو ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں کی فہرست میں لایا جا سکتا ہے۔ان کی نگاہ میں قومی نظام تعلیم ملک کے نظام کا ناگذیر حصہ ہے۔ انھوں نے وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے تعلیم کے فروغ میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ، وہ ناقابل فراموش ہیں۔

اس تقریب میں مولانا جلال الدین صاحب مفتاحی، مولانا ابوالخیر قاسمی، مولانا حیدر قاسمی، مولانا ثناء اللہ، مولانا نظام الدین، حافظ سلیم، حافظ شفیع الرحمن، قاری نظام الدین، ماسٹر گلریز، ماسٹر عبداللہ کے علاوہ مدرسہ کے تمام کارکنان نے شرکت کی، اخیر میں قاضی شریعت کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا

اب الطاف کے والد کا نیا بیان میں ہوں ان پڑھ ، سمجھوتہ پولیس نے لکھوایا '

اب الطاف کے والد کا نیا بیان میں ہوں ان پڑھ ، سمجھوتہ پولیس نے لکھوایا '

کاس گنج: کاس گنج کی صدر کوتوالی میں بیت الخلا کی 2 فٹ کی ٹنکی سے ساڑھے پانچ فٹ کے 21 سال کے نوجوان الطاف کی پھانسی لگاکر خود کشی کرنے کی بات پہلے کسی کے گلے نہیں اتر رہی تھی۔ اب الطاف کے والد کا خودکشی کے اعتراف والا خط سوالات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ الطاف کے والد کا اب کہنا ہے کہ وہ بیٹے کی موت کے بعد تناؤ میں ہیں اور اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ ایک ناخواندہ انسان ہے اور اس سے ایک کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا گیا تھا، وہ خوف کے سایہ میں زندگی گزار رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو انصاف ملے۔

 متاثرہ کنبہ کے ساتھ عبد الحفیظ گاندھی / تصویر آس محمد کیف

الطاف کے والد چاہت میاں نے یہ بات آج کانگریس وفد کے سامنے بھی کہی ہے۔ آج یہ وفد الطاف کے گھر پہنچا ہے۔ اس وفد میں اوم ویر یادو، توقیر عمر اور ضیاء الرحمن شامل ہیں۔ ضیاء الرحمن نے نمائندہ کو بتایا کہ الطاف کی موت کے بعد کنبہ اب تک صدمہ میں ہے اور خوفزدہ ہے۔ پورا کنبہ ناخواندہ اور غریب ہے۔ الطاف کے والد چاند میاں کو لکھنا پڑھنا بالکل بھی نہیں آتا۔ پولیس نے معاوضہ کی بات کہہ کر اسے سمجھا لیا تھا مگر اسے تاحال کوئی معاوضہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ الطاف کے والد چاند میاں کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی کاغذ پر موجود ہے وہ پولیس نے لکھا ہے اور اس سے تو صرف انگوٹھا لگوایا گیا ہے۔

اس معاملے میں ایک اور سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ الطاف پر جس لڑکی کو لالچ دے کر لے جانے کا الزام ہے، وہ اکثریتی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ پہلے کہا جا رہا تھا کہ الطاف لڑکی کے گھر ٹائلیں لگانے گیا تھا۔ اسی بنیاد پر لڑکی کے گھر سے الطف کے چلے جانے کے بعد اس کے گھر والوں کو شک ہوا کہ ان کی لڑکی اس کے ساتھ گئی ہے اور اس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ انسپکٹر کاس گنج اجے سروہی کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق کوتوالی میں الطاف اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 363، 366 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے الطاف کی پھوپھی نے بتایا کہ الطاف کا لڑکی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ یہاں گھر پر ہی موجود تھا اور یہاں سے کہیں نہیں گیا تھا۔ یہ الزام سراسر غلط ہے اور اسی کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔ پولیس ابھی تک لڑکی کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ دریں اثنا، خاندان کے ایک فرد آزاد حکیم نے الزام لگایا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ الطاف کی پٹائی تعصب کی بنا پر کی گئی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے ترجمان عبدالحفیظ گاندھی بھی اہل خانہ سے ملے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی کہانی میں جھول ہی جھول ہیں۔ ایک طرف جہاں الطاف کی خودکشی کی بات منطقی نظر نہیں آتی، وہیں ان کے والد کی طرف سے پولیس کو دی گئی کلین چٹ بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً الطاف کے والد ناخواندہ ہیں اور خودکشی کے اعتراف کے حوالہ سے سامنے آنے والے خط کی زبان کسی ماہر کی معلوم ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس خط کی تحریر کسی وکیل یا پولیس اہلکار نے تیار کی ہو۔ پھر انگوٹھا لگوایا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ چاند میاں کو ملنے والے معاوضے کے بارے میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہے۔ عام طور پر معاوضہ چیک کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے اور وہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہ معاملہ بہت سنگین ہے، اس میں کمزوروں اور غریبوں کو انصاف ملنے کی امید کو کچل دیا گیا ہے۔

کاس گنج کی سابق رکن اسمبلی زینت خان نے بھی پولیس کی نیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اہل خانہ سے ملاقات کر کے آ رہی ہیں اور یہ واضح ہے کہ پولیس کا خاندان پر بہت دباؤ ہے اور وہ خوفزدہ ہیں۔ خاندان کی خواتین میں کافی غم و غصہ ہے اور وہ انصاف کی امید کھو چکی ہیں۔ لیکن ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چاند میاں کے گھر پر تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنما پہنچ رہے ہیں۔

متوفی الطاف کے ماموں آزاد حکیم نے نمائندہ کو بتایا کہ وہ پولیس کی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ الطاف پر تشدد کیا گیا۔ یہ بات ان کی بہن اور الطاف کی والدہ نے بتائی ہے۔ الطاف کی پھوپھی مومنہ نے اپنے سر کی چوٹ بتائی۔ پولیس نے الطاف کو کسی سے ملنے نہیں دیا۔ میرے بہنوئی کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا حوالہ دے کر خاموش کر دیا گیا۔ لڑکی کا بھائی مسلسل گھر آنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ پورا خاندان صدمے میں ہے۔ ہماری پولیس سے انصاف کی امید دم توڑ چکی ہے۔ ہم اس پورے معاملے کی سی بی آئی انکوائری چاہتے ہیں۔

گورنرز کانفرنس 2021 : گورنرز نے کورونا کے دوران سرگرمی سے کام کیا

گورنرز کانفرنس 2021 : گورنرز نے کورونا کے دوران سرگرمی سے کام کیا

نئی دہلی، 11 نومبر (انڈیا نیرٹیو)

جمعرات کو راشٹرپتی بھون میں منعقد 'گورنرس کانفرنس-2021' میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کورونا کے خلاف جنگ میں گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنرز کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گورنروں نے کورونا کے دوران فعال طور پر کام کیا ہے۔

گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کی 51ویں کانفرنس جمعرات کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی صدارت میں راشٹرپتی بھون میں شروع ہوئی۔ صدر کووند کی صدارت میں منعقد ہونے والی یہ چوتھی کانفرنس ہے۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کے علاوہ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانفرنس میں شرکت کی۔

امت شاہ نے پہلی بار گورنرز کانفرنس میں شرکت کرنے والے گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس دو سال بعد کورونا کی وجہ سے منعقد کی جا رہی ہے۔ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ملک نے کامیابی سے کورونا کا مقابلہ کیا ہے۔ آج، 100 کروڑ ویکسی نیشن کے ساتھ، ہم تقریباً کووڈ کے سائے سے نکل آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک ہندوستان کی اس کامیابی کو سراہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران وزیر اعظم نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے 20 بار بات چیت کی۔ گورنروں سے بھی وقتاً فوقتاً تبادلہ خیال کیا۔ کورونا جنگجوؤں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے کئی پروگرام منعقد کیے گئے۔

آزادی کے امرت مہتسوکے پیش نظر گورنروں کی کانفرنس کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ ہمیں آزادی کے امرت مہتسو کو زیادہ سے زیادہ جوش و خروش سے منانا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ عوام کی شرکت کو یقینی بنانا چاہئے۔ گورنرز بھی عوامی شرکت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نئی تعلیمی پالیسی 2020 کا تذکرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستانی زبانوں کو تقویت دینے کے لیے کئی دفعات کی گئی ہیں۔ انہوں نے ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے لیے گورنرز سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گورنر نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں اہم کردار ادا کریں گے

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...