منگل, نومبر 16, 2021
سعودی عرب نے پاکستان کودیادوخوبصورت مسجدوں کاعظیم تحفہ
سعودی عرب نے پاکستان کے عوام کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی طرز پر تعمیر کی گئی دو مساجد حکومت پاکستان کے حوالے کر دی ہیں۔
اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد سعودی حکومت نے جہاں پاکستان میں تعمیر اور بحالی کے دیگر منصوبے شروع کیے وہیں مقامی آبادی کی خواہش پر دو وسیع و عریض جامعہ ملک عبد العزیز مانسہرہ میں اور جامعہ ملک فہد بن عبدالعزیز مظفر آباد میں تعمیر کی گئیں۔
سوموار کو اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے میں مساجد کی تکمیل اور انتظامی حوالگی کی تقریب ہوئی جس میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب میں سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ نئی مساجد سعودی حکومت کی جانب سے حکومت پاکستان اور پاکستانی بھائیوں کے لیے تحفہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسجد شاہ عبد العزیز میں 10 ہزار سے زائد اور مسجد شاہ فہد میں چھ ہزار سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح دونوں مسجدوں کے کشادہ صحن ہیں اور عمدہ ڈیزائننگ سے آراستہ ہیں جو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے مستعار ہیں۔
نواف سعید المالکی کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت ہر قسم کے حالات میں پاکستان کی مددگار رہی ہے۔ حکومت سعودی عرب کی دانشمندانہ قیادت اور فراخ دلانہ حکم نامے کے باعث یہ تعاون جاری ہے جو شاہ عبد العزیز اور ان کے بیٹوں سے ہو کر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود، اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز تک ہے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کے ادارے مدد کو پہنچے تھے۔
مقامی افراد نے مخیر تنظیموں کو مساجد کی تعمیر کی درخواست کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خوبصورت مساجد تعمیر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے تاریخی، دینی ، ثقافتی اور روحانی رشتہ ہے۔
ہم پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی سفیر، عوام اور قیادت کا بطور خاص شکریہ ادا کرتے ہیں۔
سعودی حکومت کے تعاون سے جامع شاہ فہد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد اور جامع شاہ عبدالعزیز صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مانسہرہ میں تعمیر کی گئی۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
بھارت : گائیوں کے لیے پہلی مرتبہ ایمبولنس سروس
بھارت : گائیوں کے لیے پہلی مرتبہ ایمبولنس سروس
انہوں نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دسمبر سے شرو ع ہونے والی اس ایمبولنس سروس کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر بنایا گیا ہے جہاں ضرورت مند افراد ایک مخصوص ایمرجنسی نمبر پر فون کرکے خدمات حاصل کرسکیں گے۔ اس سروس کے تحت گائیوں کو ممکنہ کم سے کم وقت میں ویٹرنری ہسپتال تک پہنچایا جائے جس میں زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس منٹ لگیں گے۔ ہر ایمبولنس میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر اور دو معاونین بھی موجودہوں گے۔''اس سے سنگین طور پر بیمار گایوں کے جلد علاج میں مد د ملے گی۔''
مویشی پروری کے وزیر لکشمی نارائن نے بتایا کہ فی الحال 515ایمبولنس گاڑیاں اس کام کے لیے تیار کھڑی ہیں۔
'یہ سب الیکشن کا کھیل ہے'
بھارت میں گائے انتخابات کے دوران اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ شمالی بھارت جسے عرف عام میں Cow Belt بھی کہا جاتا ہے، پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک کے انتخابات گائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ چونکہ ہندو مت میں گائے کو مقدس مقام دیا جاتا ہے اور اسے ماں کا درجہ حاصل ہے اس لیے ہندو قوم پرست جماعتیں گائے کے تحفظ کے نام پر ووٹروں کو راغب کرتی ہیں جب کہ مبینہ سیکولر جماعتیں گائے کے نام پر شدت پسند ہندووں کے ذریعہ لنچنگ کے واقعات کو پیش کرتی ہیں۔
اترپردیش سمیت بی جے پی کی حکومت والی کئی ریاستوں نے ذبیحہ گائے کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں، جس میں جرم ثابت ہونے پر دس برس تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ لیکن گائے کے حوالے سے کوئی مرکزی قانون نہیں ہے۔ ہندو قوم پرست حکومت بھی گائے کے حوالے سے کوئی ٹھوس قانون بنانے سے گریز کرتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ الیکشن کے کھیل ہے۔ بھارتی صحافی شرد گپتا نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن آنے والے ہیں، ایسے میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی بی جے پی حکومت اس طرح کے اور بھی کئی اعلانا ت کرسکتی ہے۔
شرد گپتا کا کہنا تھا،''اترپردیش میں آوارہ گائیوں کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ جب گائے دودھ دینا بند کردیتی ہے تو کسانوں کے لیے ان کی پرورش کرنا ممکن نہیں رہ جاتا اور چونکہ قانوناً وہ اسے کسی کو فروخت بھی نہیں کرسکتے لہذا انہیں آوارہ چھوڑ دیتے ہیں۔''
شرد گپتا کہتے ہیں، ''گائیوں کے لیے ایمبولنس سروس سننے میں تو اچھا لگتا ہے اور یہ یقیناً اچھی چیز بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ریاست میں بدحال ہیلتھ سروسز میں بھی سدھار کیا جانا چاہئے۔ تاکہ لوگوں کو ضرورت پڑنے پر 15سے 20منٹ کے اندر ایمبولنس مل سکے اور وہ ہسپتال پہنچ سکیں۔''
ہیلتھ سروسز کی خستہ حالی
رپورٹوں کے مطابق صحت کے میعارات کے لحاظ سے اترپردیش کی حالت بہت خراب ہے۔ اترپردیش نے گوکہ 'نیشنل فیملی ہیلتھ سروے' کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں تاہم 'سیمپل رجسٹریشن سروے' کے2019کے اعدادو شمار کے مطابق اترپردیش، نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کے لحا ظ سے دوسرے نمبر پر ہے جب کہ 2016-18کی رپورٹ کے مطابق زچگی کے دوران حاملہ خواتین کی اموات کے لحاظ سے بھی یوپی دوسرے نمبر پر ہے۔
'رورل ہیلتھ اسٹیٹسٹکس 2020-21' کے مطابق شہری علاقوں میں صحت خدمات کی حالت اچھی نہیں ہے جبکہ دیہی علاقوں میں تو حالات اور بھی ابتر ہیں۔حکومتی ادارے نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں کسی بھی ضلع ہسپتال میں بستروں کی اوسط تعداد فی ایک لاکھ نفوس پر صرف 13ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
کاس گنج پولس حراست موت معاملہ : الطاف کے والدنے انکشاف کیاکہ خاموش رہنے کے لئے پولس نے دیئے 5 لاکھ روپے کاس گنج ( ایجنسی )
چاند میاں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں نے انھیں بتایا کہ پیسہ حکومت کی جانب سے ہے۔ اتنا ہی نہیں، ان سے معاملے کو آگے نہیں بڑھانے کے لیے بھی کہا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گوراہا پولیس چوکی پر پولیس اور انتظامیہ کے سینئر افسران کی موجودگی میں انھیں 500 روپے کے نوٹوں کے بنڈلوں میں نقدی مہیا کرائی گئی تھی۔ چاند میاں نے کہا کہ پیسہ اب بھی ان کے پاس ہے۔ میں اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں بس اپنے بیٹے کے لیے انصاف چاہتا ہوں۔
مرحوم الطاف کے والد نے کہا کہ کاغذ میں لکھا تھا کہ اس کا بیٹا ڈپریشن سے متاثر تھا اور اس نے کوتوالی صدر تھانہ کے لاک اَپ کے واش روم میں خودکشی کر لی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے رشتہ داروں کو بھی اس معاملے کے بارے میں میڈیا سے بات نہ کرنے اور لاش کو خاموشی سے دفن کرنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔ ایک دیگر رشتہ دار نے کہا کہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ویریندر سنگھ اندولیا (اب معطل)، کچھ دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایک سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور ایک مقامی کارکن گوراہا پولیس چوکی پر موجود تھے، جب پیسہ الطاف کے والد کو سونپا گیا تھا۔
کاس گنج کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) بوترے روہن پرمود نے حالانکہ اس کے طرح الزام سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے الطاف کے والد کو کوئی نقد پیسہ نہیں دیا ہے۔ معاملے کے بارے میں پوچھے جانے پر ضلع مجسٹریٹ ہرشیتا ماتھر نے کہا کہ ابھی تک مہلوک کے کنبہ کے لیے مالی امداد کا کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو تجویز بھیجی ہے۔ ہم الطاف کے کنبہ میں سے ایک کو ملازمت دلوانے کی بھی کوشش کریں گے۔
یو پی کے ایڈیشنل ڈی جی پی راجیو کرشن نے کہا کہ مجھے اس طرح کے کسی بھی لین دین کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ بھلے ہی پورے معاملے کو چھپانے کے لیے نقدی سونپ دی گئی ہو، یہ اب بے معنی ہے۔ مہلوک شخص کے والد کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جانچ کا فوکس حراست میں ہوئی موت پر ہے۔ اس تعلق سے مجسٹریل اور محکمہ جاتی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔
اس درمیان کاس گنج پولیس نے 16 سالہ ہندو لڑکی کو اغوا کنندگان کے چنگل سے چھڑا لیا ہے جس کا مبینہ طور پر الطاف اور ایک نامعلوم دوست کے ذریعہ اغوا کیا گیا تھا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ اسے بیان درج کرانے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اتر پردیش کے کاس گنج میں گزشتہ ہفتے منگل کو چاند میاں کا بیٹا الطاف تھانہ کے لاک اَپ کے واش روم میں مبینہ طور پر 2 فیٹ اونچے پانی کے پائپ سے لٹکا پایا گیا تھا۔ پولیس اسے ایک لڑکی کو بھگانے کے الزام میں گرفتار کر تھانے لے گئی تھی۔ گھر والوں کا الزام ہے کہ الطاف کی موت پولیس کی پٹائی کے سبب ہوئی۔ علاوہ ازیں 5 فیٹ سے زیادہ قد رکھنے والے الطاف کی 2 فیٹ اونچی نل کی ٹونٹی سے لٹک کر خودکشی کرنے کی پولیس کی تھیوری کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
پیر, نومبر 15, 2021
بچے تعلیم یافتہ ہونگےتو صالح معاشرہ کی تعمیر ہوگی : پروفیسر رقیب احمد
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ریلوے: رات میں کیوں نہیں ہوگی ٹکٹ کی بکنگ
ریلوے: رات میں کیوں نہیں ہوگی ٹکٹ کی بکنگ
خیال رہے کہ اپ گریڈیشن کے دوران 11.30 بجے سے صبح 5.30 بجے تک ریلوے ٹکٹ بک نہیں کرائے جا سکتے۔ یہ اقدام نئے ٹرین نمبروں اور دیگر ڈیٹا کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ریلوے نے کہا کہ چونکہ تمام ٹرینوں میں پرانے ٹرین نمبروں اور موجودہ مسافروں کی بکنگ کے اعداد و شمار کی ایک بڑی مقدار کو اپ ڈیٹ کیا جانا ہے، اس لیے اسے کئی مراحل میں کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس کی وجہ سے ٹکٹنگ سروسز پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے رات کو یہ کام کیا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ سے ان 6 گھنٹوں کے دوران پی آر ایس خدمات جیسے ٹکٹ ریزرویشن، کرنٹ بکنگ، کینسلیشن اور انکوائری خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔
ریلوے نے کہا کہ اس کے علاوہ ریلوے اہلکار متاثرہ وقت کے دوران ٹرینوں کو شروع کرنے کے لیے پیشگی چارٹنگ کو یقینی بنائیں گے۔
ریلوے کی وزارت نے کہا کہ پی آر ایس خدمات کے علاوہ دیگر تمام انکوائری خدمات بشمول ڈائل 139 خدمات دستیاب رہیں گی۔
خصوصی ٹرینیں معمول کی ٹرینوں کی طرح چلائی جائیں گی۔
کورونا کے دوران خصوصی ٹیگ کی وجہ سے بڑھے ہوئے کرائے کے ساتھ چلنے والی تمام ٹرینیں اب پرانے نام اور نمبر کے ساتھ چلیں گی۔ وزارت ریلوے نے مسافروں کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ وہ تمام ٹرینیں جنہیں کورونا کے دوران خصوصی ٹرینوں میں تبدیل کیا گیا تھا اب وہ پہلے کی طرح معمول کے مطابق چلائی جائیں گی۔
اس سے ان ٹرینوں میں لگائے جانے والے خصوصی چارج میں کمی آئے گی جس سے کرایہ تقریباً 30 فیصد کم ہو جائے گا۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مکمل لاک ڈاون کے لیے تیار۔ عدالت میں دہلی سرکار کا حلف نامہ
مکمل لاک ڈاون کے لیے تیار۔ عدالت میں دہلی سرکار کا حلف نامہ
دہلی:دہلی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آلودگی کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔سپریم کورٹ نے آلودگی کے مسئلہ پر مرکز اور دہلی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔ آلودگی کے معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے دونوں حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ آلودگی کو روکنے کے لیے جلد از جلد سخت اقدامات کریں۔
عدالت نے دہلی حکومت سے کل تک جواب طلب کیا ہے، جب کہ مرکزی حکومت کو ہنگامی اجلاس بلانے اور دہلی، پنجاب اور ہریانہ حکومتوں کو مل بیٹھ کر آلودگی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کو کہا گیا ہے۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ دہلی اور شمالی ریاستوں میں اس وقت پرالی جلانا آلودگی کی بڑی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ آلودگی میں صرف 10 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔
سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے کل شام تک جواب دینے کو کہا ہے کہ کون سی صنعتوں کو روکا جا سکتا ہے، کن گاڑیوں کو روکا جا سکتا ہے اور کون سے پاور پلانٹس کو روکا جا سکتا ہے اور اس وقت تک آپ متبادل بجلی کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ فضائی آلودگی کے لیے ٹرانسپورٹ، صنعتیں اور ذرائع نقل و حمل سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ پرالی جلانا بھی کچھ علاقوں میں فضائی آلودگی کا باعث ہے۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا اثر کچھ وقت تک ہی پڑے گا۔ کیجریوال حکومت نے کہا کہ دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر خطے میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت ہے، تب ہی ایسے اقدامات کا اثر ہوگا۔
دہلی حکومت نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ دہلی کو این سی آر کا حصہ مانے اور پورے این سی آر میں لاک ڈاؤن نافذ کرے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
رحمانی 30نیٹ' اور 'جےای ای' میں بے مثال کامیابی، پٹنہ میں کامیاب طلبا کواستقبالیہ
پٹنہ : اردو دنیا نیوز ۷۲
پٹنہ میں اتوار کو ایک تعلیمی مشن میں کامیابی حاصل کرنے والوں کے لیے ’عید‘ کا سماں تھا۔ سال بھر کی محنت اور لگن کے ساتھ تعلمی مشن کو پورا کرنے والے طلبا کے چہرے کھلے ہوئے تھے ۔ساتھ ہی ان کے اساتذہ کے سر فخر سے اٹھے ہوئے تھے جنہوں نے ان بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بات ہے نیٹ اور جے ای ای ایڈوانس میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کی اور اس مشن کی جسے ملک اب ’رحمانی 30‘ کے نام سے جانتا ہے۔ کامیابی کی ایک بے مثال کہانی۔ ہر کردار کے پیچھے جدوجہد اور محنت کی کہانی۔ اساتذہ کے جذبے کی کہانی اور بزرگوں کی رہنمائی اور دعاوں کی کہانی۔ جو ملک بھر میں رحمانی 30 کا وقار بلند کررہی ہیں اور دنیا کو بتا رہی ہیں کہ کس طرح تعلیمی میدان میں زندگی کو سنوارنے کا کام کیا جاسکتاہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران دیگر اداروں کی طرح رحمانی 30 کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔مگر اہم بات یہ ہے کہ بچوں کی محنت اور رحمانی 30 کی کوچنگ کی حکمت نے اس مشکل کو بھی دور کیا ۔نہ صرف تمام مقابلہ جاتی امتحانات میں پرچم گاڑے بلکہ کامیابی کا نیا ریکارڈ بھی قا’م کیا ہے ۔ نیٹ اور جے ای ای ایڈوانس کے ساتھ اپنا لوہا منوالیا ہے۔ کورونا کی وبا کے باوجود اس سال 2021 رحمانی 30 نے میڈیکل (نیٹ) میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔
لاک ڈائون میں تعلیمی سرگرمیوں کے فقدان کے باوجود نامناسب ماحول میں رحمانی 30 کے اساتذہ اور منتظمین کی انتھک محنت کی وجہ سے رحمانی 30کے طلبہ وطالبات نے عظیم کامیابی حاصل کی ہے، اور تمام پریشانیوں کے باوجوداچھا رینک حاصل کیا ہے، اور ایک مثال قائم کی ہے، رحمانی 30 کے طلبہ کی یہ نمایاں کامیابی بتاتی ہے کہ وسائل کی کمی اور مخالف حالات میں بھی اگر حوصلہ اورہمت سے کام لیا جائے اور اللہ پر بھروسہ کرکے محنت کی جائے ، تو بڑی کامیابی ملتی ہے، آلات وحالات کی دشواری کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنا کرتی۔
نیٹ 2021
غور طلب ہے کہ میڈیکل (نیٹ) میں 165 طلباء نے امتحان دیا تھا، جس میں تمام طلباء نے کامیابی حاصل کی، جبکہ 35 طلباء نے 600 سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔ جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ 77 طلباء نے 550 سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ایم بی بی ایس کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، انشاء اللہ۔ یقیناً یہ کامیابی مسلم طلبہ کے روشن مستقبل کی شاندار ضمانت ہے۔
محمد ضیاء بلال صوبہ بہار کا ٹاپر تھا، جس نے آل انڈیا کیٹیگری رینک میں تیسرا، 19 کا آل انڈیا رینک حاصل کیا۔ اس کے علاوہ وہ پورے ہندوستان میں سب سے ممتاز مسلمان طالب علم تھے۔ رحمانی 30 بنگلور کی طالبہ پی ایچ سعدیہ نے بھی میڈیکل (نیٹ) میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے آبائی صوبے منی پور میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ یقیناً، رحمانی 30 کے لیے یہ بہت کامیاب سال رہا ہے۔
جے ای ای ایڈوانس
میڈیکل کے علاوہ، رحمانی کے 30 طلباء نے جے ای ای ایڈوانس میں کوڈنگ کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جو انجینئرنگ میں انڈرگریجویٹ داخلہ کے لیے دنیا کے مشکل ترین امتحانات میں سے ایک ہے۔رحمانی 30 کے طلبہ وطالبات نے انجینئرنگ میں انڈر گریجویٹ داخلے کی دنیا میں سب سے سخت گیر امتحان میں سے ایک جے ای ای ایڈوانس میں کووڈ کے باوجودایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
اس امتحان میں کل 134 طلبہ نے شرکت کی تھی،جس میں 68 طلبہ نے کامیابی حاصل کی جبکہ گذشتہ سال55 طلبہ کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جے ای ای مینس میں کل 218 طلبہ نے شرکت کی تھی جس میں کل 185 طلبہ کامیاب ہوئے۔ جے ای ای مینس میں113 طلبہ 90 پرسنٹائل یا اس سے اوپر رہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی قابل تعریف کوالیفکیشن کے علاوہ طلبہ کے بہت اچھے رینکس بھی آئے ہیں. زوریز احمد نے جے ای ای ایڈوانس مین 28 کٹیگری رینک حاصل کرتے ہوئے آل انڈیا 393 رینک حاصل کیا جبکہ اس نے جے ای ای مین میں کٹیگری رینک 67 اور آل انڈیا 712 رینک کے ساتھ کامیاب ہوا ہے، لڑکیوں میں منتشا فردوس نےاعلیٰ نمبر سے کامیابی حاصل کی ہے، جے ای ای مینس فزکس میں شہنواز حسین، کیمسٹری میں ضیاء بلال، ریان سلیمان اور میتھ میں ریان سلیمان نے صد فیصد پرسنٹائل کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔امن احمد نے مغربی بنگال جے ای ای کے انجینئرنگ میں کیٹیگری رینک 9 اور آل انڈیا رینک 720 اور فارمیسی میں کیٹیگری رینک 10 اور آل انڈیا رینک 751 حاصل کیا ہے
. آئی آئی ٹی یعنی انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ملک کا سب سے نمایاں اور ممتاز انجینئرنگ کا ادارہ ہے، اور یہ انسٹیٹیوٹ آف نیشنل امپورٹینس میں بھی سب سے نمایاں ہے. آئی این آئی کیٹیگری ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ قائم کی گئی تھی تاکہ ہندوستانی جدت کی مسلسل کامیابی کے لئے ضروری تعلیمی تنظیموں کو شناخت اور خصوصی فنڈ فراہم کیا جاسکے۔ مذکورہ بالا مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعہ آئی این آئی میں جاکر طلباء اعلی درجے کی تعلیم، مناسب تحقیقی سہولیات اور بین الاقوامی تحقیقی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ آئی این آئی میں تعلیم عملی طور پر مفت یا انتہائی سبسڈی پر ہوتی ہے۔
_AwE_(10)_M3J_Vqg_sDe_haz_(5)_(1).jpg)
کامیاب امیدواروں کو استقبالیہ
اتوار کو پٹنہ میں رحمانی پروگرام آف ایکسی لینس (رحمانی 30) نے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصک کرنے والے طلبا کو ایک استقبالیہ دیا ۔جس میں رحمانی 30 کے سرپرست و سرپرست حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ یقیناً یہ مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ بانی رحمانی 30 کی قبولیت اور مسلم طلباء کے روشن مستقبل کے لیے ان کے خوابوں کی تعبیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بہار کے سابق ڈی جی پی فہد رحمانی (سی ای او رحمانی 30) نے کہا کہ یہ کامیابی یقینی طور پر ادارے کی انتھک کوششوں سے حاصل ہوئی ہے، یہ ہدف کی نشاندہی اور باہمی تعاون سے ہی ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کے تعاون کے بغیر ایسی تاریخی کامیابی کبھی ممکن نہیں تھی۔
استقبالیہ میں سب نے اس بات کی تعریف کی کہ کورونا کے اس عالمی وبا کے دوران ان بہترین نتائج سے رحمانی پروگرام آف ایکسیلنس (رحمانی 30) کی پوری ٹیم ہمت افزا اور مطمئن ہے.
سال در سال دو دو لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح ملکی پیمانہ پر تعلیمی سرگرمی بھی بری طرح متأثر ہوئی۔ سارے طلبہ وطالبات سینٹر سے دو دو بار گھر روانہ کر دیے گئے لیکن رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے ذمہ داروں نے دونوں لاک ڈاؤن میں آن لائن کلاسیز اور ٹیسٹ کا نظام جاری رکھا، اور اس کا اہتمام کیا کہ ہر بچے کے پاس ایک انٹرنیٹ ڈیوائس ہو جس کے ذریعے وہ اپنی کلاس کرسکیں، کلاس کی رپورٹ لکھ سکیں اور امتحان دے سکیں.
طلبہ کے ساتھ صبح وشام بے پناہ محنت کی گئی. حالاں کہ طلبہ کی کارکردگی اور بہتر ہوتی اگر وسائل کی کمی جیسے کہ کمپیوٹر، مستحکم انٹرنیٹ، بجلی کی موجودگی، وغیرہ کا اور بہتر نظام ہوتا۔
رحمانی پروگرام آف اکسلنس ملک کے کئی شہروں میں کام کر رہا ہے جیسے پٹنہ، جہان آباد (بہار) اورنگ آباد، خلد آباد (مہاراشٹر)، حیدرآباد اور بنگلور میں متعدد میڈیکل و انجینئرنگ سینٹر پوری محنت کے ساتھ مسلم مائنوریٹی طلبہ وطالبات کے مستقبل کو سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سینٹرز میں ملک کے مختلف صوبوں کے علاوہ بیرون ملک کے این آر آئی طلبہ وطالبات بھی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کی نگرانی میں کر رہے ہیں، یقینا خلیج کے ملکوں میں رہنے والے ہمارے ملک کے باشندگان بھی اب اس بات کو محسوس کر رہے ہیںکہ رحمانی پروگرام آف اکسلنس مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔

رحمانی پروگرام آف اکسلنس (رحمانی 30) اپنی سرپرست تنظیم رحمانی فاؤنڈیشن کے ساتھ بہت مؤثر انداز میں کمیونٹی کی تعلیمی نا امیدی کو امید اور یقین میں بدل رہا ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اپنے سیکھنے کے طریقہ کار کو مؤثر بنا رہا ہے۔ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سرپرست رحمانی 30 نے کہا کہ یقیناً یہ سب مفکر اسلام امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی علیہ الرحمہ (بانی رحمانی 30) کی دعاؤں کی قبولیت اور مسلم طلبہ و طالبات کے لیے دیکھے گئے خواب کی تعبیر ہے۔
جناب فہد رحمانی (سی ای او رحمانی 30) نے کہا کہ یقینا یہ کامیابی جناب ابھیانند جی سابق ڈی جی پی بہار کی انتھک محنت و رہنمائی، سینئر لیڈر شپ، فیکلٹی، مینجمنٹ ودیگر عملہ کے ساتھ طلبہ اور ان کے گارجین کے درمیان مقصد کی شناسائی اور باہمی تعاون ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر ہم سب کا باہمی تعاون نہ ہو تو ایسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول ہرگز ممکن نہیں۔فہد صاحب نے والد بزرگوار حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس موقعہ پر یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقعہ پر اس سال کے رزلٹ سے مایوس ہوگیا تھا، والد صاحب ؒ نے مجھے حوصلہ دیا ، ان کی باتوں سے ہی حوصلہ پاکر جو ٹوٹے پھوٹے وسائل تھے، ان کے ساتھ کام شروع کیا، اور اللہ نے یہ کامیابی دی، جس پر آج ماہرین کو حیرانی ہورہی ہے، انہوںنے کہا کہ رحمانی 30 انشاء اللہ آگے اس سے اور بہتر کرے گا، اور اپنے پچھلے ریکارڈ کو توڑے گا۔

https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
عید الاضحٰی کا پیغام مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔ موبائل نمبر :7909098319 Urdudu...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش اگست 26, 2021 ممبئی اگست26(اردو دنیا نیوز۷۲) کرائم برانچ یون...
-
ریلوے نے مسافروں کو دی بڑی راحت ، اب لوگ جنرل ٹکٹ کے ساتھ ٹرینوں میں کر سکیں گے سفر ملک میں کورونا کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونے...
