اتوار, دسمبر 05, 2021
اپنے کو ہلاکت میں مت ڈالیے______مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ایڈیٹر ہفت روزہ نقیب امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہہر چیز کی رفتار کا ایک معیار ہے، مقررہ رفتار سے آگے بڑھنے کا عمل تیز رفتاری کہلاتا ہے
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
آل انڈیا مسلم پر سنل لا ءبورڈ :کچھ توقعات اور خواہشات
.webp)

پروفسر اختر الواسع،نئی دہلی
بمبئی میں دسمبر 1972ءمیں مسلمانوں کے تمام مذہبی فرقوں کے رہنما اور نمائندے اور سیاسی جماعتوں کے قائدین جمع ہوئے تھے اور انہوں نے ایک ایسے وقت میں جب یکساں سِوِل کوڈ کی بعض حلقوں کی طرف سے پُرزور حمایت ہو رہی تھی، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی باتیں ہو رہیں تھیں، ایک غیرسرکاری تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نام سے بنائی۔ راقم الحروف نے بھی اس کنوینشن کے ذمہ داروں کی دعوت پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈینٹس یونین کے اس وقت کے صدر (آج کے گورنر کیرالہ) جناب عارف محمد خاں کے ساتھ طلبہ یونین کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے شرکت کی تھی اور بورڈ کے قیام کے تجویز کی تائید میں تقریر بھی کی تھی۔ اس بات کو کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ بالکل صحیح بات ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک ایسا ادارہ اور تنظیم ہے جس پر مسلمان سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ بورڈ کے قیام کا اصل مقصد مسلمانوں کے عائلی قوانین کا تحفظ رہا ہے لیکن گزرتے وقت کے ساتھ حالات نے بورڈ کو اس پر مجبور کیا کہ وہ وسیع تر معنوں میں مسلمانوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ بھی اپنے دائرے کار میں شامل کر لے۔
کورونا کی عالمی وبا کے سبب ایک طویل عرصہ کے بعد 20 اور 21 نومبر کو کانپور میں بورڈ کا دو روزہ اجلاس ہوا۔ پورے ملک سے 100 سے زائد اراکین، عہدیدارن، علما اور دانشوران شریک ہوئے۔ نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، مختلف مسائل پر بات چیت ہوئی اور آخر میں قراردادوں کی منظوری کے بعد اجلاس ختم ہوا۔ ملک کے سلگتے ماحول میں مسلمانوں کو بورڈ سے جو امیدیں تھیں، اس میں مایوسی ہوئی۔ اجلاس میں یکساں سول کوڈ، جبراً مذہب تبدیلی، لوجہاد، سی اے اے، این آر سی،ماب لنچنگ، بے قصوروں کی گرفتاری اور دیگر اہم ایشوز پر غور و خوض تو ہوا ۔
غور کریں تو پتہ چلے گا کہ ملت کی زبوں حالی، مظلومی اور بے چارگی کو دیکھتے ہوئے عائلی قوانین میں انصاف اور حقوق کی بازیابی کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھا۔بعد ازاں بورڈ کے تمام عہدیداران اور اراکین نے فیصلہ کیا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ خود کو صرف شرعی اور عائلی مسائل تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ مسلمانوں کا تحفظ، حقوق کی بازیابی اور ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لئے بھی کام کرے گا۔ اس کے لئے جامع حکمت عملی وضع کی گئی، افراد تیار کئے گئے اور ان کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس طرح ملت کا یہ کاررواں آگے بڑھتا رہا اور کامیابیاں ملتی رہیں۔ بنیاد گزاروں نے سنگلاخ راہ سے گزر کر مسلمانوں کوانصاف دلایا۔ منزل کی جدوجہد میں وہ زخمی بھی ہوئے، لیکن کبھی آبلہ پائی کی شکایت نہیں کی اور نہ وہ اس سے ڈرے۔
کانپوراجلاس میں دو روز تک غور و خوض کے بعد 11 قراردادیں منظور کی گئیں اور اعلامیہ جاری کیا گیا۔ یکساں سول کوڈ کو لے کر چل رہے عمل پر جو قرارداد پاس ہوئی ہے اس میں اگرچہ سبھی مذاہب کے آئینی حقوق کا تذکرہ تو کیا گیا ہے اور یکساں سول کوڈ کو نہ ماننے کی بات کہی گئی ہے لیکن دوسرے مذاہب کے لوگوں کےساتھ مل کر جس حکمت علمی کو تیار کرنا چاہیے اس کے لئے کسی کوشش کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گیان واپی مسجد اور شاہی عیدگاہ متھرا کے سلسلے میں فرقہ پرست عناصر، خاص طور پر ہندومہاسبھا کی جانب سے شرانگیزی پر لگام لگانے کا مطالبہ تو کیا گیا ہےلیکن 1991ء کے اس قانون کے حوالے سے جو 15؍اگست 1947ء کو جو عبادت گاہ جیسی تھی اور جس کی تھی اس کو باقی رکھنے کی بات کی گئی تھی اس پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا۔ جب کہ یہ اس لئے ضروری ہے کہ ملک میں متھرا اور کاشی کو لے کر شرپسند جو آوازیں اٹھا رہے ہیں وہ نہ صرف دستورِ ہند کے منافی ہیں بلکہ 1991ء میں پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کئے گئے قانون کے بھی خلاف ہے اور اس طرح کی آوازیں اور شرپسندانہ اقدامات لاء اینڈ آرڈر (نظم و نسق) کا مسئلہ ہے۔
اس لئے سپریم کورٹ سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔ اسی طرح اسلاموفوبیا اور توہین رسالت کے بڑھتے معاملات کے خلاف قانون بنانے کا موقف اختیار کیا گیا ہے۔ مذہب کی تبلیغ کرنا آئین کے مطابق بنیادی حق ہے،مسلمانوں نے کبھی بھی زبردستی، لالچ یا دباؤ دے کر کسی کا مذہب تبدیل نہیں کرایا۔ اسی لیے ملک میں طویل مدت تک حکومت کرنے کے باوجود مسلمان اب بھی اقلیت میں ہیں۔ کسی نے ابھی تک اس طرح کی شکایت نہیں کی ہے کہ اس کا کسی نے جبراً مذہب تبدیل کرایا،اس لئے جبراً تبدیلی مذہب کو بے بنیاد بتایا گیا۔ تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کرنے والی اس طاقتور تنظیم نے مولانا کلیم صدیقی، ڈاکٹر عمر گوتم سمیت مسلم مبلغین کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہیں جبری تبدیلی مذہب کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی بات تو کہی ، لیکن اس سےنمٹنے پر کوئی خاص زور نہیں دیاجب کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اور ملت کی تمام جماعتوں کو مل جل کر نہ صرف ان لوگوں اور ان کے اہل خانہ کی بھرپور مدد میں آگے آنا چاہیے اور اس ظلم و نا انصافی کے خلاف قانونی لڑائی کو ان کی طرف سے اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ ان کے اہلِ خانہ اور وہ خود کس کرب سے گزر رہے ہوں گے اس کا اندازہ راقم الحروف کو اس لئے ہے کہ وہ خود بھی1973ء سے 1974ءکے بیچ سات مہینے تک میٖسا(MISA) کے تحت قیدوبند کیا اذیتوں سے دو چار رہا ہے۔
کانپور اجلاس میں خوشی کی بات ہے کہ ایک بار پھر مولانا سید رابع حسنی ندوی صاحب بورڈ کے صدر بنائے گئے، جب کہ جمعیۃ علما ء ہند کے سر براہ مولانا ارشد مدنی نائب صدر اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری منتخب کئے گئے ۔راحت کی بات یہ بھی ہے کہ پہلی بار بورڈ میں مختلف سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی 30مسلم خواتین کو رکنیت دی گئی اور 3خواتین کو ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ ہمیں اس بات کی اس لئے خوشی ہے کہ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی اپنے ایک کالم میں ہم نے اس طرف بورڈ کے ذمہ داروں کی توجہ دلائی تھی۔
بلاشبہ اسےہندوستان کی اعلیٰ اسلامی تنظیم میں مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔یہ سبھی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار خواتین ہیں، جو بورڈ کے موقف کو پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں گی اور اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ عورتیں جن کو اسلامی تعلیمات کے منافی رویہ رکھنے والے مردوں کے ہاتھوں بے چارگی کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے ان کی پریشانیوں کا حل ڈھونڈھا جائے اور ان کے مسائل و مصائب کو جاننے کے لئے ایک عملی کوشش کی جائے، اس کے لئے بورڈ کو علیحدہ سے ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔
ہم آخر میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ ’’مسلمانوں کی امیدوں کا اکلوتا مرکز‘‘ ہے جسے ہر اعتبار سے مضبوط و مستحکم ہونا چاہیے۔ ملت پیچھے آنے کو تیار بیٹھی ہے، شرط ہے کہ قیادت مناسب حکمت عملی کے اس کی رہنمائی کرے۔
نوٹ: مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ہفتہ, دسمبر 04, 2021
ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے پر 100 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا ہدف : مودی
دہرادون: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان جدید انفراسٹرکچر پر 100 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ارادے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی پالیسی رفتار، طاقت، کام سے دوگنا یا تین گنا تیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں اور رابطوں کی ترقی خطے میں سیاحت، زیارت اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں کی ترقی کا باعث بنتی ہے، معیشت مضبوط ہوتی ہے۔
مسٹر مودی یہاں اسمبلی انتخابات کی سمت بڑھ رہے اتراکھنڈ میں 18000 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کے بعد ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہےتھے، انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اتراکھنڈ میں ایک لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔ یہاں کی حکومت 'ان اسکیموں کو زمین پر لا رہی ہے'۔
مسٹر مودی نے کہا کہ اس صدی کے آغاز میں اس وقت کے اٹل بہاری واجپئی کی حکومت نے ہندوستان میں رابطے بڑھانے کی مہم شروع کی تھی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ واجپئی حکومت کے دوران شروع کی گئی ہائی وے ڈیولپمنٹ مہم کو بعد کی حکومت نے تتر بتر کر دیا۔
انہوں نے کہا، "لیکن ان کے بعد ملک میں 10 سال ایسی حکومت رہی ، جس نے ملک کا قیمتی وقت برباد کیا، دس سال تک ملک میں انفراسٹرکچر کے نام پر گھپلے ہوتے رہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے انفراسٹرکچر کی ترقی کے کام کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہم نے ملک کو ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے دگنی محنت کی اور آج بھی کر رہے ہیں۔
آج مجھے بہت خوشی ہے کہ دہلی-دہرا دون اقتصادی راہداری منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس سے باغپت سے لے کر شاملی تک اتراکھنڈ اور دہلی کے درمیان واقع اضلاع میں اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ ہائی وے پراجیکٹ تیار ہو جائے گا تو دہلی سے دہرادون کے سفر میں لگنے والا وقت تقریباً آدھا رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیدار وادی اس حقیقت کی ایک مثال ہے کہ سڑک کے رابطے میں اضافہ سیاحت اور یاترا میں تیزی کا باعث بنتا ہے۔ کیدارناتھ سانحہ سے پہلے 2012 میں پانچ لاکھ 70 ہزار لوگوں نے درشن کئے تھے ۔ اس وقت یہ ایک ریکارڈ تھا۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
پیام صبا میرے مطالعہ کی روشنی میں✍️ عبدالرحیم ابن ڈاکٹر مولوی انور حسین برہولیا”پیام صبا” برادر محترم جناب کامران غنی صبا کا پہلا شعری مجموعہ ہے اور اس کی اشاعت محکمہ کابینہ سکریٹیریٹ حکومت بہار کے مالی تعاون سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی نے کی ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
عکس مطالعہ____________مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ایڈیٹر ہفت روزہ نقیب امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہڈاکٹر محمد عارف حسن وسطوی بن انوارالحسن وسطوی بن محمد داؤد حسن مرحوم، ساکن حسن منزل آشیانہ کالونی روڈ نمبر 6 حاجی پور ویشالی بڑی تیزی سے نئی نسل کے اہل قلم کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں،
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
سورج گرہن کے بارے میں کیا کہتے ہیں NASA سائنسدان ؟ جانیے کیاہیں خرافات اور کیا ہیں حقائق ؟
قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
جمعہ, دسمبر 03, 2021
جھانسی کے لوگ اب بی جے پی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے : اکھلیش یادو
جھانسی کے لوگ اب بی جے پی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے : اکھلیش یادو
یہاں ایک مقامی ہوٹل میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، ایس پی سربراہ نے کہاکہ بندیل کھنڈ کے لوگوں نے بی جے پی کی ڈبل انجن والی حکومت کو ووٹ دیا لیکن عوام خالی ہاتھ رہ گئے۔ اس حکومت نے بندیل کھنڈ کو خوش کرنے کے لیے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا۔یہاں تک کہ پرانی حکومت میں جو کام چل رہے تھے، یہ حکومت انہیں بھی مکمل نہیں کر سکی، عوام اب سب کچھ سمجھ چکی ہے۔ جھانسی کی مہارانی لکشمی بائی نے جس طرح انگریزوں کو بھگانے کا کام کیا تھا، اسی طرح بندیل کھنڈ کے لوگ لائن میں کھڑے ہو کر ان کے خلاف ووٹ دیں گے اور انہیں بندیل کھنڈ سے بھگانے کا کام کریں گے۔
نوجوانوں، کسانوں، تاجروں سمیت سماج کا ہر طبقہ بی جے پی حکومت کے دور میں زبردست مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ یاد رہے جب لاک ڈاؤن نافذ تھا تو لوگ پیدل ہی اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ یہ وہی بارڈر ہے جہاں سے مزدوروں کو اندر نہیں آنے دیا جا رہا تھا، کئی دنوں تک بغیر کھائے پیے، بغیر کسی انتظام کے بارڈر پر اسی طرح پڑے رہے۔ جب وہ مجبوری میں اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے تو انہوں نے بریکیٹ توڑ دی اور مجبوری میں گھر کی راہ لی۔ جو مزدور دوسری ریاستوں میں کام کرتے تھے وہ دوسری ریاستوں میں بغیر کھائے پیئے بغیر نہائے اس طرح پڑے رہتے تھے۔ اس وقت حکومت نے ان کی کوئی مدد نہیں کی، انہیں یتیم چھوڑ دیا۔اس حکومت میں کسانوں پر زبردست مظالم ہوئے۔ حکومت کسانوں پر جیپ چڑھانے والوں کے ساتھ کھڑی ہے، انہیں بچا رہی ہے۔ جب الیکشن سر پر ہے تو کہہ رہے ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ دیں گے، ٹیبلیٹ بانٹیں گے، اسمارٹ فون دیں گے۔ اگر حکومت اپنا وعدہ پورا کرتی تو لاک ڈاؤن میں لوگوں کو اتنی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یہ حکومت صرف سابقہ حکومتوں کے کاموں کا نام بدل کراپنا بتانے والی حکومت ہے۔ نام بدلنے والی اس حکومت کو بدلنے کا کام اب عوام کریں گے۔
بی جے پی کے دور میں پولیس نے سب سے زیادہ مظالم ڈھائے، بہت ظلم ہوا ہے۔ حراستی اموات کی سب سے زیادہ تعداد اتر پردیش میں ہے۔ اتر پردیش حکومت کو زیادہ سے زیادہ فرضی انکاؤنٹرز پر این ایچ آر سی نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ یہ حکومت قتل و غارت گری اور دھمکیاں دے کر حکومت کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی خوشامد کی نہیں بلکہ شرارت کی سیاست کرتی ہے۔
اکھلیش نے کہا کہ ایس پی وجے یاترا کا پروگرام لگاتار جاری ہے۔ میں عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جہاں بھی پروگرام ہو رہا ہے وہاں عوام کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ اس بار بھی عوام کی مکمل محبت اور حمایت ایس پی کے حق میں نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سماجوادی حکومت بنتی ہے تو کھیتوں میں پانی پہنچانے کا ایسا انتظام کیا جائے گا کہ کم از کم بندیل کھنڈ کے ہمارے کسان دو فصلیں حاصل کر سکیں گے۔ اس مہنگائی کے باوجود ہم ماں بہنوں کو تین گنا عزت دے کر ان کی عزت بڑھانے کا کام کریں گے۔ جھانسی کو بندیل کھنڈ ایکسپریس وے سے جوڑیں گے۔ اس بار کسانوں،جوانوں، خواتین اور تاجروں نے بی جے پی کو شکست دینے کا ارادہ کر لیا ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
عید الاضحٰی کا پیغام مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔ موبائل نمبر :7909098319 Urdudu...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش اگست 26, 2021 ممبئی اگست26(اردو دنیا نیوز۷۲) کرائم برانچ یون...
-
ریلوے نے مسافروں کو دی بڑی راحت ، اب لوگ جنرل ٹکٹ کے ساتھ ٹرینوں میں کر سکیں گے سفر ملک میں کورونا کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونے...
