Powered By Blogger

جمعہ, فروری 25, 2022

سر پر رہے اے بیٹیو ہر آن ڈوپٹہشمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

سر پر رہے اے بیٹیو ہر آن ڈوپٹہ
شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار
آج کل اسلام دشمن قوتوں نے عجیب پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے جس سے مسلمان عورتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں پر بہت زیادہ پابندیاں لگا دی ہیں ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی مستورات خواتین اور بچیاں غلط فہمی کا شکار ہو جاتی ہیں اور وہ یہ سمجتی ہیں کہ شاید ہمارے جائز حقوق نہیں دیے گئے حالانکہ بات ہرگز ایسی نہیں ہے سب سے پہلی بات تو یہ کی جاتی ہے کہ اسلام نے پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے جبکہ غیر مسلم معاشرہ میں عورت بے پردہ پھرتی ہے تو یہ بات سمجھنی بہت آسان ہے کہ عورت پردہ میں رہے تو اس کا فائدہ عورت کو بھی ہے مرد کو بھی 
کتاب اللہ کے بعد اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کریں تو آپ یقین کریں کہ پردہ کے بارے میں اس قدر احادیث ہیں کہ تعجب ہوتا ہے کہ بعض لوگ کیسے حضور  صلی اللہ وسلم کا نام بھی لیتے ہیں اور بے پردگی بھی کرتے ہیں عشق  کے دعوے بھی کرتے ہیں اور زمانہ سازی کے لئے بہو بیٹیوں کو عریانیت کی اجازت بھی دیتے ہیں بلکہ بعض تو نماز بھی پڑھتے ہیں حج بھی کرتے ہیں صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں لیکن محض قدامت پرستی اور دقیانوسیت کے طعنوں سے بچنے کے لیے بے غیرتی بھی کرتے ہیں زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کا دستور تھا کہ دوپٹوں سے اپنے سروں کو ڈھانک کر باقی دوپٹہ کمر پر ڈال لیتی تھیں مسلمان عورتوں کو حکم ہوا کہ اپنے دوپٹوں سے سر بھی ڈھانکیں اور گلے اور سینے پر ڈالے رہا کریں چونکہ صحابیات کے پاس مال و دولت کی اس قدر فراوانی نہ تھی کہ وہ نئے دوپٹے خریدتیں اس لیے انہوں نے اس حکم کو سن کر موٹی موٹی چادروں کے دوپٹے بنالیے اور ان سے اپنے گلوں اور سینوں کو بھی ڈھکنے لگی 
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قال المرأ ۃ عورۃ) عورت سر تا پا پوشیدہ رہنے کے قابل ہے یعنی سر سے پاؤں تک عورت ستر ہے تو سر بھی ستر ہوا پس عورتیں ننگے سر نہ پھرا کریں کہ بے پردگی ہے (ترمذی)
کئی پردہ دار عورتیں برقع کے ساتھ باہر جاتی ہیں استانیہ اسکول جاتی ہیں جب گھر آتی ہیں تو ننگے سر گھر کا کام کاج کرتی ہیں اور ننگے سر پھرتی رہتی ہیں یہ حرام ہے سر چھپانے کی چیز ہے ستر ہے اسے مستور رکھا کریں گھر میں بھی ننگے سر نہ پھرا کریں یہ بات اکثر لڑکیوں اور عورتوں کے لئے سخت کوفت کا موجب ہے بڑی جانکاہ ہے جگر خراش ہے اور اس سے ان پر اتنا بوجھ ہوگا کہ گویا ان کے دل پر ایک پہاڑ پر لا کر رکھ دیا گیا ہے۔ یاد رکھیں اسلام اسی بات کا نام ہے کہ اپنے آپ کو اسلام کے حوالے کر دیا جائے اپنی خواہشات اور چاہت کو اسلام کے حکم کے آگے دبا دیا جائے نفس پر اسلام کے قانون اور حکم کا خنجر پھیر دیا جائے پھر مسلمان ہو سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ عورتیں ننگے سر نہ پھریں تو عورتوں کو خدا تعالی کا یہ حکم مان لینا چاہیے اللہ کے حکم کے آگے باتیں نہیں بنانا چاہیے اور نہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ احکام الہی سے منہ پھیر یں یا بے اعتنائی برتیں اور پھر یہ عاجز انسان جو ہر وقت اس کے رحم و کرم پر زندہ ہے چلتا پھرتا ہے اور سانس لیتا ہے خدا تعالی کے آگے دم مارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حکم سے بولتے ہیں خدا کے احکام کا نور پھیلاتے ہیں ہر عورت مرد کو اس نور میں گام فرسا رہنا چاہیے
حجاب اور پردے کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے اندر بےپردگی کے نتیجے میں جو فتنہ پیدا ہو سکتا ہے اس کا سد باب کیا جائے ۔ حجاب کا حکم اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نازل فرمایا اور حضور صلی اللہ وسلم نے احادیث میں اس کی تفصیل بیان فرمائی اور ازواج مطہرات اور صحابیات نے اس حکم پر عمل کرکے دکھایا اب اہل مغرب نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ مسلمانوں نے عورتوں کے ساتھ بڑا ظالمانہ سلوک کیا ہے کہ ان کو گھروں میں بند کر دیا ان کے چہروں پر نقاب ڈال دی اور ان کو ایک کارٹون بنادیا تو کیا مغرب کے اس مذاق اور پروپیگنڈے کے نتیجے میں ہم اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم کے ان احکام کو چھوڑ دیں؟  یاد رکھیں جب تک خود ہمارے اپنے دلوں میں یہ ایمان اور اعتقاد پیدا نہ ہو کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے جو طریقہ سیکھا ہے وہی طریقہ برحق ہے کوئی مذاق اڑاتا ہے تو اڑایا کرے کوئی طعنے دیتا ہے تو دیا کرے یہ طعنے تو مسلمان کے گلے کا زیور ہیں انبیاء علیہم السلام جو اس دنیا میں تشریف لائے کیا انہوں نے کچھ کم طعنے سہے؟ جتنے انبیاء علیہم السلام اس دنیا میں تشریف لائے ان کو یہ طعنے دیئے گئے کہ یہ تو پسماندہ لوگ ہیں یہ قیانوس اور رجعت پسند ہیں یہ ہمیں زندگی کی راحتوں سے محروم کرنا چاہتے ہیں یہ سارے طعنے انبیاء کو دیے گئے اور ہم آپ جب مومن ہیں تو انبیاء کے وارث ہیں جس طرح وراثت میں اور چیزیں ملیں گی یہ طعنے بھی ملیں گے کیا ان طعنوں سے گھبرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو چھوڑ دیں گے؟ اگر اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم پر ایمان ہے تو پھر ان طعنوں کو سننے کے لیے کمر کو مضبوط کر کے بیٹھنا ہوگا (اصلاحی خطبات) 
ام المومنین حضرت ام سلمہ کا بیان ہے کہ میں اور میمونہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں کہ اچانک عبداللہ بن ام مکتوم ( نابینا)  سامنے سے آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے پاس آنے لگے چونکہ عبداللہ نابینا تھے اس لئے ہم دونوں نے پردہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا اور اسی طرح اپنی جگہ بیٹھی رہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان سے پردہ کرو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم کیا وہ نابینا نہیں ہیں؟ ہم کو تو وہ دیکھ نہیں رہے ہیں اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم ان کو دیکھ نہیں رہی ہو ؟ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو بھی جہاں تک ممکن ہوسکے مردوں پر نظر ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہئے حضرت عبداللہ نابینا تھے پاکباز صحابی تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بیویاں نہایت پاک دامن تھیں اس کے باوجود بھی آپ نے دونوں بیویوں کو حکم فرمایا کہ عبداللہ سے پردہ کریں یعنی ان پر نظر نہ ڈالیں اسلام میں مرد و زن کو حکم ہے کہ وہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں تاک جھانک نہ کریں نگاہیں نیچی رکھیں تاکہ مرد اسے دیکھ ہی نہ سکے اگر عورتیں بے پردہ رہیں گی تو وہ صورتحال پیش آۓ گی جسے کسی دل جلے شاعر نے بیان کیا ہے 
سبھی مجھ کو کہتے ہیں نظریں نیچی رکھ اپنی
کوئی ان کو نہیں کہتا نہ نکلیں یوں بے حجاب ہوکر
آیات و احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت سر سے لے کر پاؤں تک مستورہ ہے سارا جسم اس کا ستر ہے جسے ڈھانکنا ضروری ہے اب تو کئی عورتیں کہہ دیں گی کہ یہ پردہ تو پنجرہ ہے جس میں ہم کو قید کر دیا گیا ہے یاد رکھیں  کہ اللہ تعالی عورتوں کا خالق ہے وہ ان کی طبیعت مزاج اور جبلت کو خوب جانتا ہے اس نے اپنے علم اور حکمت سے عورتوں کے لیے یہ پردہ کا حکم نازل فرمایا ہے جو قرونِ اولیٰ کی عورتوں نے بسر و چشم قبول کیا اور دین اور دنیا کی خوبیاں اور بھلائیاں سمیٹ کر لے گئیں تاریخ ان کی روحوں پر تحسین اور آفرین کے پھول برساتی ہیں آج اگر عورتیں اپنی خواہش نفس اور ماحول کی کشش اور رواج اور فیشن کی نیلم پری کو خدا تعالی کے حکم کی چھری سے ذبح کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پردے کو اپنا لیں تو ان کے اولیاء اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہوگا بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شیطان مایوس ہو گیا تھا کہ اس کی پرستش کی جائے وحی کے نزول کے سامنے اس پر مردنی چھائی ہوئی تھی لیکن آج ابلیس مع اپنی ذریت کے ننگا ناچ رہا ہے تمام دنیا فسق و فجور اور بے حیائی سے بھری ہوئی ہے آج اگر عورتیں شرم و حیا کازلال پی کر پردہ قبول کرلیں تو فرشتے ان پر رحمتوں کے پھول برسائیں  اور حوروں کی عفت انہیں سلام کرے اور یہ اپنے لیے جنت کے دروازے کھلے پائیں 
سر پر رہے اے بیٹیو ہر آن ڈوپٹہ
ہے خانہ نشینوں کی حسیں شان دوپٹہ

حجاب پر سیاستمفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

حجاب پر سیاست
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
مسلم لڑکیوں کے لیے حجاب کا استعمال اور پردہ ان کی تہذیب وثقافت ہی نہیں، دینی تقاضے کا حصہ ہے، حجاب اور اسکاف استعمال کرنے والی عورتیں سماج میں با وقار سمجھی جاتی ہیں، لیکن فرقہ پرست طاقتوں کو مسلم لڑکیوں کا حجاب میں آنا گوارہ نہیں ہے، وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنی گھر کی عورتوں کو نیم عریاں رکھنا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں ویسے ہی مسلم لڑکیوں کے دیدار سے بھی وہ اپنی آنکھیں سینکیں، یہ ایک نفسیاتی برائی ہے، جو انسان کوجسمانی تلذذ اور عیاشی کا خوگر بنا دیتا ہے، اسی لیے شریعت نے عورتوں کو پردہ کا حکم دیا ، تاکہ وہ غیرمردوں کی ہوس بھری نگاہوں سے محفوظ رہیں، کرناٹک اور ملک کی کئی ریاستوں میں حجاب پر سیاست شروع ہو گئی ہے، کرناٹک میں حجاب پہن کر کئی اسکول اور کالج میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، مسلم لڑکیاں احتجاج کر رہی ہیں، بھگوا بریگیڈ ان کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آ رہا ہے، معاملہ عدالت میں ابھی زیر غور ہے، لیکن حجاب پر اس پابندی کی وجہ سے کرناٹک میں ہند ومسلم منافرت زوروں پر ہے ، اب یہ تحریک پورے کرناٹک میں پھیل گئی ہے، حالات اس قدر خطرناک ہو گیے ہیں کہ حکومت نے تین دنوں کے لیے تمام تعلیمی ادارے بندکر دیئے ہیں، عدالت میں سماعت چل رہی ہے، ابھی فیصلہ نہیں آیا ہے، لیکن عدالت نے اپنے تبصرے میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حجاب مسلم لڑکیوں کا حق ہے اور ہم قرآن کو نہیں بدل سکتے ہیں، یہ سب اسکول یونیفارم کے لزوم کے نام پر کیا جا رہا ہے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ جب سکھ لڑکے پگڑی باندھ کر کلاس کر سکتے ہیں، تو مسلم لڑکیوں کا حجاب کیوں یونیفارم کے خلاف سمجھ میں آ رہا ہے۔

جمعرات, فروری 24, 2022

معراج کا پیغام : امت مسلمہ کے ناممفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

معراج کا پیغام : امت مسلمہ کے نام
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
طائف کی گلیوں سے اوباشوں کے پتھرکھا کھا کر ، لہولہان جسم اور رئیسوں کے طعن وتشنیع سن سن کر ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ لوٹتے ہوئے نبیٔ رحمت ﷺنے آسمان کی طرف باچشم نم دیکھا، اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوئے : 
’’ الہی اپنی کمزوری ، بے سروسامانی اور لوگوں میں تحقیر کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں ، تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا، درماندہ اور عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے، مجھے کس کے سپرد کیا جاتا ہے ۔کسی بیگانہ ترش کے یا اس دشمن کے جو کام پر قابو رکھتا ہے اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں ، لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔‘‘
زبان مبارک سے یہ کلمات نکل رہے تھے اور ادھر ملاء اعلی میں ہلچل مچی ہوئی تھی کہ آج  جو کچھ ہوا وہ چشم فلک نے کاہے کو دیکھا ہوگا، فرشتوں میںسرگوشیاں ہورہی ہیں کہ آخر جس کے صدقے میں کائنات بنی، اسے اور کتنے مظالم سہنے ہوں گے ، رب کائنات کو بھی اس کی فکر تھی، اس لئے خالق کائنات نے اس شکستہ دل کی دل جوئی کے لئے طائف سے واپسی کے بعد ایسا نسخہ تجویز کیا کہ عروج نسل انسانی کی انتہا ہوگئی ، زمان و مکان کے قیود وحدود اٹھالئے گئے ، تیز رفتار سواری براق فراہم کی گئی ، مسجداقصی میں سارے ابنیاء کی امامت کرائی گئی ، اور پھر اس جگہ لے جایا گیا؛ جہاں جاتے ہوئے جبرئیل کے بھی پر جلتے ہیں ،پھر قربت خداوندی کی وہ منزل بھی؛ آئی جس کے بارے میں قرآن کریم نے فکان قاب قوسین اوادنی کہہ کرسکوت اختیار کرلی ، ساتوں آسمانوں کی سیر ، جنت و جہنم کا معائنہ، ابنیاء کی ملاقاتیں ، اور پھر واپسی، کتنے گھنٹے لگے ؟ کیا تیز رفتاری تھی؟  سب کچھ رات کے ایک حصے میں ہوگیا ، اور صبح آپ ﷺ اپنے حجرہ ٔمبارکہ سے نکلے، اور لوگوں میں اس واقعہ کا اعلان کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تصدیق کرکے صدیق ہوگئے اور کئی نے تکذیب کرکے اپنی عاقبت خراب کرلی ، اور منافقین کے دل کی کدورتیں اور ایمان واسلام سے ان کی دوری، کھل کرسامنے آگئی ۔اللہ کے رسول ﷺ نے اس سفر میں، عالم قدس میں اپنی تمام قولی ، بدنی اور مالی عبادتوں کا نذرانہ پیش کیا ، اور اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ پر ایسی سلامتی بھیجی، جومومنین کے نمازوں کا جز ہوگیا ، اللہ کے رسول ، اس اہم موقع سے اپنی امت کو کیسے بھول سکتے تھے ،فورا ہی اس سلامتی میں مومنین و صالحین کو شامل کرلیا اور اس پورے مکالمہ کا اختتام کلمۂ شہادت پر ہوا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔
تحفے نورانی اس سفر میں اور بھی ملے ، ایسے تحفے جس سے مومنین بھی معراج کا کیف وسرور پا سکتے ہیں یہ تحفہ نماز کا تھا ، پچاس وقت کی نماز تحفہ میں ملی، قربان جایئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے، جنہوں نے بار بار بھیج کر تعدادکم کرائی اور بات پانچ پر آکر ٹھہری ، ثواب پچاس کا باقی رہا ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ نبی ﷺ نے اعلان کیا کہ نماز مومنین کی معراج ہے ۔ہم واقعۂ معراج پر سر دھنتے ہیں ، دھننا چاہئے ۔لیکن اس واقعہ کا جو عظیم تحفہ ہے اس سے ہماری غفلت بھی لائق توجہ ہے ، معراج کے واقعہ کا بیان، سیرت پاک کا اہم واقعہ ہے، ہم اس کو سن کر خوب خوش ہوتے ہیں ، جلسے جلوس بھی منعقد کرتے ہیں اور اس خاص تحفہ نماز کو بھول جاتے ہیں جو ہمارے لئے آقا ﷺ لے کر آئے ، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ جہاں ہمیں کچھ کرنانہیں ہوتا، وہاں ہم بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، اور جہاں کچھ کرنے کی بات آتی ہے ہم اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں اور ان سے پہلو تہی کرتے ہیں اگر ایسا نہ ہو توہماری مسجدیں نمازیوں سے بھری رہیں گی اور رحمت ونصرت کی وہ پرُوائی چلے گی جو مصائب والم کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی ۔
یہ حال تو ہمارا معراج کے اس تحفہ کے ساتھ ہے جس کا ذکر معراج سے متعلق گفتگو میں بار بارآتا رہتا ہے ۔ لیکن قرآن نے تو {فَاَوْحَی اِلیٰ عَبْدِہِ مَا اَوْحٰی}کہہ کر ہمیں بتایا کہ باتیں اور بھی ہیں اور سورہ اسریٰ ہی میں بارہ احکام کے ذکر کے بعد{ ذَالِکَ مِمَّا اَوْحَی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ} ( یہ تمام باتیں دانش مندی کی ان باتوں میں سے ہیں جو خدا نے آپ پر وحی کی ہیں ) کہہ کر واضح کردیا کہ’’ مااوحی‘‘ میں کیا کچھ تھا، آیئے ان احکامات پر بھی ہم ایک نظر ڈالتے چلیں ۔
۱۔سب سے پہلا حکم یہ دیا گیا کہ شرک نہ کرو: کیوں کہ یہ بڑا ظلم ہے ، وہ اللہ جو اس سارے کائنات کا خالق اورمالک ہے اس کے ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے ، اللہ اس بارے میں اتنا غیور ہے کہ اس نے اعلان کردیا ہے کہ وہ اس گناہ کو معاف نہیں کرے گا۔ {اِنَّ اللَّہَ لاَ یَغْفِرُاَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُمَا دُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَشَائ}
۲۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ان کی عزت واطاعت کرو ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو جھڑکنا تو بڑی بات ہے، اف تک نہ کہو ، اور ان سے ادب سے باتیں کیا کرو ، اور ان کے سامنے اپنے کندھے عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ جھکا دو ، اور ان کے لئے دعا بھی کرتے رہو کہ اے رب ان پر رحم کر جیسا کہ انہوں نے مجھے صغر سنی میں پا لا۔
واقعہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم ہے اور جس طرح اللہ کا شکر ضروری ہے، اسی طرح والدین کا بھی شکرگذار ہونا چاہئے ، اس بارے میں احادیث بھری پڑی ہیں، لیکن ہم میں کتنے ہیں جو ان کا پاس و ادب قرآن کے مطلوب انداز میں کرتے ہیں حالانکہ مستدرک حاکم کی ایک روایت ہے کہ اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے ، اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے اور یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ حسن سلوک کے لئے ان کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔
۳۔ حق داروں کے حق کی ادائیگی کرو :   والدین کے علاوہ بہت سے اعزو اقربائ، مسکین اور مسافر کے بھی حقوق ہم سے متعلق ہیں اور ہم ان کے ساتھ جو حسن سلوک کررہے ہیں یا کریں گے اصلا یہ ان کے حق کی ادائیگی ہے ان پر احسان نہیں ہے ۔
۴۔ فضول خرچی اور اسراف سے بچو : کسی گناہ کے کام میں اور بے موقع خرچ کرنے یا ضرورت سے زائد خرچ کرنے سے بھی منع کیا گیا ، اسی کے ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا کہ اپنے ہاتھ بخالت کی وجہ سے گردن سے باندھ کرنہ رکھو ، اور نہ اس طرح کشادہ دست ہوجائو کہ فقر و فاقہ کی نوبت آجائے ،  خلاصہ یہ کہ افراط وتفریط سے بچتے ہوئے،اعتدال اور میانہ روی کی راہ اپنائو ۔
۵۔ مفلسی کے خوف سے اولاد کو قتل نہ کرو:    اس لئے کہ روزی ہم تم کوبھی دیتے ہیں ان کو بھی دیں گے ، ان کا مارنا بڑی خطا ہے دراصل اس حکم کا تعلق اللہ کی صفت رزاقیت سے جڑا ہوا ہے ، بچوں کو اس خوف سے ماردینا یا ایسی ترکیبیں کرنا جس سے ان کی ولادت ممکن نہ ہو ، اللہ کی صفت رزاقیت پر یقین کی کمی کا مظہر ہے ،جب اللہ کا اعلان ہے کہ روئے زمین پرجتنے جاندار ہیں سب کا رزق میرے ذمہ ہے ۔اورمیں رزق اس طرح دیتا ہوں جو بندہ کے وہم وگمان سے بھی بالاتر ہے۔اس صورت میں مفلسی کے خوف سے اولاد کا قتل کرنا، کس طرح جائز ہوسکتا ہے ۔
۶۔  زنا کے قریب مت جائو:  اس لئے کہ یہ بے حیائی کا کام ہے اور یہ پُرا راستہ ہے، حدیث میں ہے کہ زانی زنا کرتے وقت مسلمان نہیں رہتا ، ایمان اس کے قلب سے نکل جاتا ہے ،آج جس طرح فحاشی بے حیائی اور کثرتِ زنا کے واقعات پیش آرہے ہیں اس سے پورا معاشرہ فساد وبگاڑ میں مبتلا ہوگیا ہے، کاش اس حکم کی اہمیت کوہم سمجھتے۔
۷۔ ناحق کسی کی جان مت لو:   اس حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ قتل ناحق حرام ہے ، اور یہ ایسا جرم عظیم ہے کہ اسے قرآن میں ساری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا، اسی طرح اگر کسی نے ایک جان کو بچالیا تو گویا اس نے بنی نوع انسان کی جان بچالی ، اس حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آج بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری کا بازار گرم ہے۔
۸۔ یتیم کے مال کے قریب مت جائو:  یتیم اپنی کمزوری اور کم سنی کی وجہ سے اپنے مال کی حفاظت نہیں کرسکتا ، اس لئے بہت سے لوگ اسے سہل الحصول سمجھ کر ہڑپ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، اس حکم میں ہڑپ کرنے اور نائز جائز تصرف کرنے کا معاملہ تو کجا؟ اس کے قریب جانے اورپھٹکنے سے بھی منع کیا، کمزوروں کی اس قدر رعایت صرف اسلام کاحصہ ہے ۔
۹۔ اپنا عہد پورا کرو: معا ہدہ کی خلاف ورزی سے بچو، اس لئے کہ وعدوں کے بارے میں بھی پرشش ہوگی یعنی جس طرح قیامت میں فرائض واجبات کے بارے میں سوالات ہوں گے، ویسے ہی معاہدات کے بارے میں بھی سوال ہوگا ، عہد کے مفہوم میں وعدہ بھی شامل ہے اسی وعدہ خلافی کو حدیث میں عملی نفاق سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
۱۰۔ ناپ تول میں پیمانہ اور ترازو کو ٹھیک رکھو :یعنی ڈنڈی نہ مارواورنہ کم ناپو، اس لیے کہ انجام کے اعتبار سے یہ اچھا اور بہتر ہے، اگر تم نے ناپ تول میں کمی کی تو جہنم کے’’ ویل‘‘ میں ڈالے جائو گے یہ تواخروی عذاب ہے، دنیاوی اعتبار سے پیمانے اور اوزان ٹھیک رکھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ تجارت میں برکت بھی ہوگی ۔کاروبار بھی خوب چمکے گا۔
۱۱۔ جس بات کی تحقیق نہ ہو اس پر عمل مت کرو: کیوں کہ کان، آنکھ ، اور دل سب کے بارے میں قیامت کے دن پوچھ گچھ ہوگی ، ہمارا حال یہ ہے کہ ایک بات سن لیا اور بغیرکسی تحقیق کے اسے دوسروں سے نقل کردیا ۔یا اگر کچھ فائدہ نظر آیا تو اپنی زندگی میں اتارلیا ،قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں خبر کی تحقیق کا حکم دیا گیا ہے کہ اگرتم بغیر تحقیق کے کام شروع کردوگے تو کبھی تمہیں ندامت کاسامنا کرنا پڑے گا، حضور ﷺ نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ کفی بالمرء کذبا ان یحدث ماسمعہ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ اس نے جو سنا ہے وہ بیان کردے ، آج جب سنی ہوئی بات کو بغیر تحقیق کے نمک مرچ لگا کر بیان کرنے کا مزاج بن گیا ہے اورسنی سنائی باتوں پر عمل کی بنیاد رکھی جارہی ہے ۔ تو ہمیںدنیامیں ندامت کا سامناکرناپڑسکتا ہے اور آخرت کی رسوائی الگ ہے، جہاں مجرموں کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے ہاتھ بولیں گے ، پائوں گواہی دیں گے کہ ان اعضاسے کیسے کیسے کام لئے گئے ۔
۱۲۔ اور آخری حکم اس سلسلے کا یہ ہے کہ زمین پر مغرور بن کر مت چلو :  اس لئے کہ تم اپنے اس عمل سے نہ تو زمین کی چھاتی پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑ کی چوٹی سر کرسکتے ہو ، گویا یہ ایک احمقانہ فعل ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں پستی ذلت وخواری تمہارا مقدر ہے ، کیوں کہ قدرت کا اصول ہے کہ اکڑ کر نیچے آیا جاتا ہے اوپر نہیں ، اوپر جانے کے لئے جھک کر جانا ہوتا ہے جو کبر کی ضد ہے ۔آپ کو جب پہاڑ پر چڑھنا ہو تو جھک کر ہی چلنا ہوگا ، سائیکل اونچی سڑک پر چلا رہے ہوں یا پیدل ہی نیچے سے اوپر کو جارہے ہوں تو جھک کر چلنا ہوگا، ورنہ آپ الٹ کر کھائی میں جاگریں گے ، معلوم ہوا کہ اوپر جانے کے لئے جھکنا ہوتا ہے لیکن جب پہاڑ سے نیچے آنا ہو تو اکڑکر آنا ہوتا ہے اس لئے کہ اگر جھک کر آئے گا تو ڈھلک کر کھائی میں جا پڑے گا ۔ البتہ یہ جھکنا جاہ ومنصب اور کسی آدمی کے خوف سے نہ ہو بلکہ جھکنا صرف اللہ کے لئے ہو اسی کو اللہ کے رسول  ﷺ نے من تواضع للہ رفعہ اللہ سے تعبیر کیا ہے ۔
یہ ہے درحقیقت معراج کا پیغام اور تحفہ، جن پر عمل کرنے سے یہ دنیا جنت نشان ہوسکتی ہے آج ہم نے اس پیغام کو بھلا دیا ہے ، اور شب معراج کے ذکر سے اپنی محفل کو آباد کر رکھا ہے حالانکہ شب معراج تو ہمیشہ ہمیش کے لئے وہی ایک رات تھی جس میں آقا ﷺ معراج میں تشریف لے گئے تھے، قیامت تک کوئی دوسری رات شب معراج نہیں ہوسکتی ہے، وہ تاریخ آسکتی ہے، لیکن وہ نورانی رات پھر کبھی نہیں آئے گی، ہم نے بھی اپنی جہالت وغفلت سے کیسی کیسی اصطلاحیں وضع کر رکھی ہیں اللہ تعالی ہم سب کو شب معراج میں دیئے گئے پیغام کی اہمیت ومعنویت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین یا رب العلمین وصلی اللہ تعالی علی النبی الکریم وعلی الہ وصحبہ اجمعین

بدھ, فروری 23, 2022

داخل ہوجاؤاسلام میں پورے*ارریہ ضلع کی مسلم آبادی میں ایک چیز نئی نظر آرہی ہےجو سراسرجہالت پر مبنی ہے۔ افسوس تو اس بات پربھی ہے کہ یہ جہالت پڑھےلکھےلوگوں سے ہی سرزد ہورہی ہے

*داخل ہوجاؤاسلام میں پورے*
ارریہ ضلع کی مسلم آبادی میں ایک چیز نئی نظر آرہی ہےجو سراسرجہالت پر مبنی ہے۔ افسوس تو اس بات پربھی ہے کہ یہ جہالت پڑھےلکھےلوگوں سے ہی سرزد ہورہی ہے۔انٹلیکچول فیملی کےکچھ لوگوں نے اپنے بچوں کے لیے سال گرہ کے نام پرایک نئی تقریب کا اضافہ کرلیا ہے،دھوم دھام سےاس پروگرام کومناتے ہیں اور مبارکبادی کا گانا بھی اسمیں گاتے ہیں۔
ایک صاحب نے باضابطہ اپنے فیسبک آئی ڈی پرسالگرہ کے پروگرام کو شیئربھی کیا ہے۔دوستوں سے داد ودہش کے طالب بھی ہوئے ہیں، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ موصوف نے ایک بڑاکارنامہ انجام دیا ہے،  اورقوم وملت پر احسان عظیم کیا ہے۔اسی لیےبڑے شوق سے اس بے بنیاد پروگرام کو پیش کررہے ہیں، اپنے لاڈلے کے سر پر ایک ہاتھ اونچی کیپ ڈالے ہوئے ہیں،سامنے ایک لمبی چوڑی کتاب جیسی چیز رکھی ہوئی ہے،ایسالگ رہا کہ ننھےمیاں ختم بخاری کرنے جارہے ہیں ،پھرغور سے  ہاتھ کی طرف نظر گئی ہےتو قلم کی جگہ ہاتھ میں ایک چھری ہے ،سامنے کتاب جگہ بخاری شریف نہیں ہے بلکہ کیک رکھا ہوا ہے، میاں بیدردی سےکاٹے جارہے ہیں،"بازو میں موم بتی بھی روشن کی گئی ہے۔ہیپی برتھ ڈے ٹو یو "موجود لوگ یہ ورد زورزورسےکررہے ہیں۔"نعوذ بالله من ذالك "
یہ کونسی تقریب ہے؟کم از کم ہمارے علاقے کی مسلم آبادی اس سے ناواقف رہی ہےاور نہ یہاں اس کا کوئی رواج رہا ہے۔افسوس کی بات ہے کہ خود کو تعلیم یافتہ کہنے والے لوگ اس صریح جہالت وبدعت کا مرتکب ہورہے ہیں۔یہ غیر شرعی عمل جس کی سنت وشریعت میں کوئی سند نہیں ہے اس کی تشہیر کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ غیروں کا طریقہ ہے،مغربی ثقافت کی دین ہے،خاص دھرم کی پہچان ہے،اسے اپنارہے ہیں اور اپنے پیاروں کو اس کی تربیت دے رہے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کچھ لوگ یہودیت چھوڑ کر مذہب اسلام میں داخل ہوئے،احکام اسلام کے ساتھ وہ تورات کے چند احکام کی بھی رعایت کرنا چاہتے تھے، بطور مثال سنیچر کے دن کی تعظیم وتکریم، اونٹ کے گوشت ودودھ کو حرام ماننا اور تورات کی تلاوت کرنا وغیرہ چنانچہ اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ:اے ایمان والو داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے اور مت چلو قدموں پر شیطان کے بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے،(سورہ بقرہ:208)
یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے اس حکم کے بعد اس کی اگر کوئی مخالفت کرتا ہے تو وہ عذاب خداوندی کو دعوت دے رہا ہے۔
آج ملک میں جہاں اپنی بچیوں کو ہم مکمل حجاب میں داخل ہونے کی بات کہتے ہیں وہیں ہمیں پہلے پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔آج ہم عدالت کو اور حکومت کو اپنی بات سمجھانے کے بھی قابل نہیں رہے ہیں، وجہ صاف یہی ہے کہ ہم نے غیروں کا طریقہ بھی اپنی زندگی میں اپنا رکھا ہے اور معاملہ گڈ مڈ سا ہوگیا ہے۔
دھیرے دھیرے ہم اپنی شناخت اور پہچان سے بھی ہاتھ دھوتے جارہے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ خدا ہمیں بچائے کہیں اس عذاب کے شکار تو نہیں ہوگئے ہیں کہ ہم پر اب زبردستی کی جارہی ہے اور ہماری شناخت کو ختم کرنے کی منظم کوشش شروع ہوگئی ہے۔ اقبال علیہ الرحمہ نے یہی بات کتنی خوبصورت انداز میں ہم تک پہونچادی ہے:
پانی پانی کرگئی مجھکو قلندر کی یہ بات 
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ 
رابطہ، 9973722719

رواداری مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

رواداری 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
جس ملک میں مختلف مذاہب ، تہذیب وثقافت اور کلچر کے لوگ بستے ہوں ، وہاں دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے درمیان بقاء باہم کے اصول کے تحت ایک دوسرے کا اکرام واحترام ضروری ہے، مسلمان اس رواداری میں کہاں تک جا سکتا ہے اور کس قدر اسے برت سکتا ہے، یہ وہ سوال ہے جو ملک میں عدم رواداری کے بڑھتے ماحول میں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے، اس سوال کے جواب سے نا واقفیت کی بنیاد پر سوشل میڈیا ، ٹی وی اوردوسرے ذرائع ابلاغ پر غیر ضروری بحثیں سامعین، ناظرین اور قارئین کے ذہن ودماغ کو زہر آلود کرنے کا کام کر رہی ہیں، اس آلودگی سے محفوظ رکھنے کی یہی صورت ہے کہ رواداری کے بارے میں واضح اور صاف موقف کا علم لوگوں کو ہو اور غیر ضروری باتوں سے ذہن ودماغ صاف رہے۔
 اسلام میں رواداری کا جو مفہوم ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کیاجائے، خندہ پیشانی سے ملا جائے، ان کے انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے، وہ ضرورت مندہوں تو ان کی مالی مدد بھی کی جائے اور صدقات نافلہ اور عطیات کی رقومات سے ان کی ضرورتوں کی تکمیل کی جائے ، کسی کو حقیر سمجھنا اور حقارت کی نظر سے دیکھنا اکرام انسانیت کے خلاف ہے، اس لیے معاملہ تحقیر کا نہ کیا جائے اور نہ کسی غیر مذہب کا مذاق اڑایا جائے،یہ احتیاط مردوں کے سلسلے میں بھی مطلوب ہے، اور عورتوں کے سلسلے میں بھی ، تاکہ یہ آپسی مذاق جنگ وجدال کا پیش خیمہ نہ بن جائے، معاملات کی صفائی بھی ہر کس وناکس کے ساتھ رکھا جائے ، دھوکہ دینا، ہر حال میں ہر کسی کے ساتھ قابل مذمت ہے اور اسے اسلام نے پسند نہیں کیا ہے، البتہ حالت جنگ میں اس قسم کے حرکات کی اجازت ہے، جس سے فریق مخالف دھوکہ کھا جائے، دھوکہ دینا اور چیز ہے اور کسی عمل کے نتیجے میں دھوکا کھانا بالکل دوسری چیز۔
 اسی لیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو دھوکہ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے، ایسے تمام قوانین کا پاس ولحاظ بھی ضروری ہے، جو شریعت کے بنیادی احکام ومعتقدات سے متصادم نہیں ہیں، اگر کسی قسم کا معاہدہ کیا گیا ہے، زبانی یا تحریری وعدہ کیا گیا ہے تو اس کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ ہمیں معاہدوں کا پاس ولحاظ رکھنے کو کہا گیاہے ، جن شرائط پر صلح ہوئی ہے، اس سے مُکر جانا انتہائی قسم کی بد دیانتی ہے، اسی طرح رواداری کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ان تمام حرکات وسکنات سے گریز کیا جائے، جس سے نفرت کا ماحول قائم ہوتا ہے اور قتل وغارت گری کو فروغ ملتا ہے، اس ضمن میں تقریر وتحریر سبھی کچھ شامل ہے، کوئی ایسی بات نہیں کہی جائے جس سے فرقہ پرستی کی آگ بھڑکے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے، جو فتنہ وفساد کا پیش خیمہ ثابت ہو، غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے آپسی میل جول کو بڑھایا جائے اور اپنے پروگراموں میں تقریبات میں دوسرے مذاہب والوں کو بھی مدعو کیاجائے، تاکہ میڈیا کے ذریعہ پھیلا ئی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے، افواہوں پر کان نہ دھرا جائے، اور خواہ مخواہ کی بد گمانی دلوں میں نہ پالی جائے، جلسے جلوس میں بھی نفرت انگیز نعروں سے ہر ممکن بچا جائے، اشتعال انگیزی نہ کی جائے، دوکانوں میں توڑ پھوڑ ، گاڑیوں کو جلانا وغیرہ بھی امن عامہ کے لیے خطرہ ہے، اس لیے ایسی نوبت نہ آنے دی جائے، اور ہر ممکن اس سے بچاجائے، دیکھا یہ جا رہا ہے کہ جلوس میں دوسرے مذاہب کے لوگ گھس جاتے ہیں، مسلمان اپنی وضع قطع چھوڑ چکا ہے، اس لیے پتہ نہیں چلتا کہ جلوس میں شریک لوگوں میں کتنے فی صد مسلمان ہیں اور کتنے دوسرے ، پھر یہ دوسرے لوگ جو اسی کام کے لیے جلوس میں گھس جاتے ہیں، امن وامان کو تباہ کرنے والی حرکتیں کرکے جلوس سے نکل جاتے ہیں، بدنام بھی مسلمان ہوتا ہے اور نقصان بھی مسلمانوں کا ہوتا ہے ۔
رواداری کے باب میں سب سے اہم یہ بات ہے کہ دوسرے مذاہب کے پیشوا اور معبودوں تک کو برا بھلا نہ کہا جائے، کیوں کہ سب سے زیادہ اشتعال اسی عمل سے پیدا ہوتا ہے اور اس کا الٹا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ہمارے اللہ ورسول کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں گویا ہمارا عمل اللہ ورسول کی توہین کا باعث بنتاہے ، کسی کو بتانا اور سمجھانا بھی ہو تو نرم رویہ اختیار کیا جائے، جارحانہ انداز سے بچا جائے اور حکمت سے کام لیا جائے، حکمت مؤمن کی گم شدہ پونجی ہے، جہاں بھی ملے اسے قبول کر لینا چاہیے، لے لینا چاہیے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ رب العزت نے اپنے وقت کے سب سے بُرے انسان کے پاس اپنے وقت کے سب سے اچھے انسان حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو بھیجا تو نرمی سے بات کرنے کا حکم دیا ۔
 لیکن اس رواداری کا مطلب قطعا یہ نہیں ہے کہ ایسے نعرے لگا ئے جائیں جو کسی خاص مذہب کے لیے مخصوص اور ان کا شعار ہیں، چاہے لغوی طور پر اس کے معنی کچھ بھی ہوں، عرف اور اصطلاح میں اس کا استعمال مشرکانہ اعمال کے طور پرکیا جاتا ہے،تو اس سے ہر حال میں گریز کرنا چاہیے ، جے شری رام، بھارت ماتا کی جے اور بندے ماترم جیسے الفاظ دیش بھگتی کے مظہر نہیں، ایک خاص مذہب کے لوگوں کے طریقۂ عبادت کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو ایسے الفاظ کی ادائیگی سے احتراز کرنا چاہیے، کیوں کہ ان الفاظ کا استعمال رواداری نہیں، مذہب کے ساتھ مذاق ہے۔بعض سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ کہنے سے ایمان واسلام پر کوئی فرق نہیں پڑتا وہ غلط فہمی میں ہیں، کیوں کہ مسلمان کا قول وفعل جیسے ہی اسلای معتقدات کے خلاف ہوتا ہے، ایمان واسلام کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو جاتی ہے، یہ بہت نازک اور حساس معاملہ ہے، اتنا حساس کہ مذاق کے طور پر بھی کلمات کفر کی ادائیگی نا قابل قبول ہوتی ہے، اس مسئلہ کو جبریہ کلمۂ کفر پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ، کیوں کہ جبر کی شکل میں دل ایمان پر مطمئن ہوتا ہے، الفاظ صرف زبان سے ادا ہوتے ہیں، لیکن برضا ورغبت کی شکل میں یا تو وہ دین کو مذاق بنا رہا ہے، یا واقعتاوہ ایسا کر رہا ہے، دین کا مذاق اڑانا یا کلمۂ کفر پر راضی ہونا، دونوں ایمان کے لیے مضر ہے اور دارو گیر کا سبب بھی ۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارا مسلمان بھائی جو اپنے کو غیر مسلم بھائیوں کے سامنے سیکولر بننے کے لیے مختلف مندروں اور گرودواروں میں جا کر پوجا ارچنا کرتا ہے، متھا ٹیکتا ہے، وہ اپنے دین ومذہب سے کھلواڑ کرتا ہے، رواداری ایک دوسرے کے تئیں احترام کے رویہ کا نام ہے، نہ یہ کہ ایسے اعمال شرکیہ کا جو خدائے وحدہ لا شریک کی پرستش کے تقاضوں کے خلاف ہو ، یہ رویہ زیادہ تر ہمارے سیاست دانوں میں پایا جاتا ہے، میں یہ نہیںکہہ سکتا کہ جس کو جان ودل، ایمان واسلام عزیز ہو ، وہ اس گلی میں کیوں جائے، جائیے ضرور جائیے ، خوب سیاست کیجئے، لیکن سیاست میں عہدے اور مال وزر کی حصولیابی کی غرض سے اپنا ایمان وعقیدہ تو بر باد نہ کیجئے، تھوڑے مفاد کے حصول کے لیے حق بات کہنے سے گریز کا رویہ نہ اختیار کیجئے، اس لیے کہ دنیاوی عہدے جاہ ومنصب اور مفادات چند روزہ ہیں، اور آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے، چند روزہ زندگی کے لیے ابدی زندگی کو بر باد کر لینا عقل وخرد سے بعیدہی نہیں، بعید تر ہے۔

منگل, فروری 22, 2022

ہمیں اپنی ترجیحات طے کرنی چاہیے: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی22 فروری( پریس ریلیز) ذیلی دفاتر کے جائزہ کے چودہویں اور آخری دن دھنباد پہونچنے پر اہم خطاب

ہمیں اپنی ترجیحات طے کرنی چاہیے: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
22 فروری( پریس ریلیز) ذیلی دفاتر کے جائزہ کے چودہویں اور آخری دن دھنباد پہونچنے پر اہم خطاب
حالات حاضرہ کے پیش نظر ہماری توجہات اور ترجیحات کی سمت کادرست ہونا ضروری ہے نسل کی ایمانی و فکری بے راہ روی پر حد درجہ تشویشناک رپورٹیں آرہی ہیں ایسے میں سب علماء و دانشوران اور عوام کو متحد ہوکر دینی بیداری پیدا کرنا اسلامی تشخص کو برقرار رکھنا مسلم سماج کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم ذیلی دفاتر کے انچارج ملک کے مشہور و معروف عالم دین و کالم نگار حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب مدظلہ العالی نے عبد الجبار بڑی مسجد واسع پور دھنباد میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کلمہ کی بنیاد پر اتحاد تعلیم اور خدمت خلق  کے بارے میں فرمایا کہ یہ امارت شرعیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، مفتی صاحب نے اجتماعیت اور اس کے تقاضوں پر سیر حاصل گفتگو فرمائ، مفتی صاحب ان دنوں امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی کی ہدایت پر ذیلی دفاتر کے جائزہ اور وہاں کے ضروریات و تقاضوں کے تعلق سے سفر پر ہیں انہوں نے اس موقع سے امارت شرعیہ دھنباد میں جاری دینی مکتب کے طلبہ و طالبات سے قرآن مجید و اذکار مسنونہ سنکر ضروری مشورہ بھی دئے اور اسلامیہ ہائی اسکول مہلی ڈیہ کے پرنسپل و امارت شرعیہ ارباب حل و عقد کے رکن حضرت مولانا یوسف قاسمی صاحب کی دعوت پر اسکول کا جائزہ لے کر خوشی کا اظہار فرمایا اور جھارکھنڈ میں جاری امارت پبلک اسکول کے تعلق سے ضروری مشورے کئے۔
حضرت مفتی صاحب نے آئندہ نسلوں کی آب یاری و ذمہ داریوں کی جانب توجہ مبذول کرنے کا مشورہ بھی دیا آپ نے فرمایا کہ سکنڈ لائن کی تیاری ضروری ہے، انہوں نے فرمایا کہ قحط الرجال کی بات کرنا صحیح نہیں ہے ہمارے پاس قابل افراد ہیں جن کی تربیت کرکے سکنڈ لائن تیار کی جا سکتی ہے، لیکن اس طرف ہماری توجہ نہیں ہے، ضرورت سکنڈ لائن اور دوسری صف کی تیاری کی ہے کیوں کہ یہی ہمارے بعد ہمارے مشن تحریکات اداروں کو حیات نو بخشنے کا کام کریں گے، چودہ دن کے طویل اور تھکا رہنے والے دورے آج مفتی صاحب پٹنہ کے لئے روانہ ہوگئے، قاضی محمد شاہد قاسمی،مولانا محمد شمیم اختر،نورالاسلام ،مولانا افروز ندوی وغیرہ نے انہیں الوداع کہا،یہ اطلاع مولانا محمد شمیم اختر استاذ مکتب امارت شرعیہ دھنباد نے دی ہے۔

نوجوان علماء دیوبند کی تصوف سے دوری*

*نوجوان علماء دیوبند کی تصوف سے دوری*

تصوف ہمارے اکابرین کا منہج و مشرب رہا ہے اکابرین دیوبند فقیہ ہوں محدث ہوں مفسر ہوں یا مورخ ہوں یا پھر کسی تحریکی و حربی تنظیم سے وابستہ رہے ہوں یا انکا کام دعوتی و سیاسی میدان میں ہو، کلام کے ماہرین سے مناظرے و مکالمے کے اساتذہ تک، میدان عمل سے علم کے دائروں تک، صحافتی حلقوں سے حکومتی مسانید تک ہر ہر دائرے سے تعلق رکھنے حضرات کا تعلق کسی نہ کسی درجے میں تصوف کے میدان سے رہا ہے، آپ کسی بھی عالم دیوبند کی سوانح دیکھیے چاہے وہ ندوی (ندوی سلفیہ کے علاوہ) ہو یا سہارنپوری ہو خالص دیوبند مدرسے کا فارغ ہو یا حیدر آباد دکن سے تعلق رکھتا ہو یا پھر پاکستان میں لب ساحل دار العلوم کراچی سے پہاڑوں کے سائے میں بنے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک تک ہر ہر جگہ آپ کو قادری ، چشتی ، ، سہروردی ، نقشبندی سلسلے کے انوارات دکھائی دیں گے۔
مگر افسوس کہ آج کا نوجوان عالم دیوبند معرفت کے ان راستوں سے بیگانہ دکھائی دیتا ہے، اس کے ذہن میں تصوف کے حوالے سے بے شمار اشکالات پیدا ہو چکے ہیں اور وہ قلبی اعتبار سے کسی نہ کسی درجے میں دور جدید کی مادی فکر کے مذہبی رخ سے متاثر ہے یعنی اس کے اندر تحریکیت کا اس درجہ غلبہ ہو چکا ہے کہ اس کی نگاہ قلبی دائروں سے ہٹ گئی ہے۔
آج کہ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مدارس کے نوجوان فاضل کہیں پر کسی ڈسکورس سے متاثر ہیں تو کہیں ان پر ادیب و صحافی بننے کا غلبہ ہے اور وہ اپنے پاک و صاف اموال میں سے اس کے نام پر ہونے والے کورسز میں بیت سا پیسہ جھونک چکے ہیں اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا نوجوان عالم کرپٹو کی وادیوں میں سرگرداں ہے مگر نفی اثبات کی ضربیں اسے بوجھ لگتی ہیں، آج کہ جب ہم ووٹ کی جمہوری غلام گردشوں میں چکراتے ہوئے اسلامی فیمینزم کی بنیاد رکھ رہے ہیں ، مگر افسوس! کہ ہمیں بیعت کے عنوان سے ہی چڑ محسوس ہونے لگی ہے آج کہ جب ہم پر ایک خاص توحیدی منہج فکر کا غلبہ ہے تو ہمیں اپنے اکابر کے تصوف میں شرک کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔
آج ہمارے پاس بے شمار تاویلیں ہیں بہت سی علمی دلیلیں ہیں مگر کیا کیجئے کہ آج ہی کے دور میں گمرہی کے مگر مچھ اپنے جبڑے کھولے ہمارے جسد ملی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے نگل جانے کے درپے ہیں۔
آج کہ جب روحانیت ہمیں عجوبہ دکھائی دیتی ہے آج کہ جب ہمارا اعتماد کرامت کے نام سے ہی اٹھ چکا ہے (یاد رہے کرامت تصوف کا نہیں کلام کا مسئلہ ہے) آج کہ جب ہمارا ربط دل کی دنیا سے ٹوٹ چکا ہے آج کہ جب ہم چائے خانوں اور ادبی چوپالوں میں بیٹھنے کو معراج سمجھ بیٹھے ہیں اور خانقاہوں سے ہمیں چڑ محسوس ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ، ہے! کوئی غزالی کہ جو تہافت الفلاسفہ کے مباحث سے نکل کر کیمیائے سعادت کے عالم معرفت تک چلا آئے، کیا آج ہمیں مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ہمعات کی ضرورت نہیں۔
آج کہ جب تشکیک کے سیاہ بادل نا صرف جدید جامعات بلکہ قدیم مدارس کے اوپر بھی برسنے کو تیار ہیں تو کیا ہمیں کسی پیر طریقت کے دامن سے وابستہ ہو جانے کی ضرورت نہیں۔
ہاں یہ بات سچ ہے کہ بہت سوں نے پیری مریدی کے نام پر اپنی اپنی دوکانیں کھول رکھی ہیں لیکن کیا دین کے ہر ہر شعبے میں ایسی دوکانیں موجود نہیں ؟ تو پھر خاص تصوف سے ہی بعد کیوں اور افسوس تو اس سانحے پر ہے کہ یہ بعد خالص مخالف و مغائرت کے درجے میں آ چکا ہے۔
تو آج کے نوجوان عالم دیوبند کو یہ بھولا ہو سبق یاد کرانا ہوگا۔
جس طرح ہماری علمی سند ہمارے اکابرین سے نبی کریم ﷺ تک بواسطہ سلف متصل ہے ایسے ہی ہماری روحانی سند ہمارے اکابرین سے نبی کریمﷺ تک بواسطہ مشائخ متصل ہے۔
حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں 
ھو علم یعرف بہ احوال تزکیۃ النفوس وتصفیۃ الاخلاق وتعمیر الظاہر والباطن۔
یعنی وہ علم جس سے تزکیہ نفوس اور تصفیہ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جاتے ہیں۔
(سلوک کامل ص7)

ذیل میں اکابرین دیوبند کے سلسلہ روحانی کی ایک سند بواسطہ حضرت مدنیؒ پیش کررہا ہوں ملاحظہ کیجیے اور اپنے اکابرین کے منہج فکر کا ادراک کیجیے۔

حضرات اکابر دیوبند حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمة اللہ علیہ اور حضرت مولانارشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ سلوک و تصوف میں سید الطائفہ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمة اللہ علیہ سے بیعت تھے اور ان حضرات کو حضرت حاجی صاحب رحمة اللہ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ حضرت حاجی صاحب کا چشتی سلسلہ حسب ذیل ہے:

(۱)۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمة اللہ علیہ۔
(۲)۔ الشیخ نور محمد جھنجھانوی رحمة اللہ علیہ۔
(۳)۔الشاہ عبد الرحیم شہید رحمة اللہ علیہ۔
(۴)۔الشیخ عبد الباری امروہوی رحمة اللہ علیہ۔
(۵)۔الشیخ عبد الہادی امروہوی رحمة اللہ علیہ۔
 (۶)۔الشیخ عضد الدین امروہوی رحمة اللہ علیہ۔
(۷)۔الشیخ محمد مکی رحمة اللہ علیہ۔
(۸)۔الشیخ الشاہ محمدی رحمة اللہ علیہ۔
(۹)۔الشیخ محب اللہ الہ آبادی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۰)۔الشیخ ابو سعید گنگوہی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۱)۔الشیخ نظام الدین البلخی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۲)۔جلال الدین تھانیسری رحمة اللہ علیہ۔
(۱۳)۔الشیخ عبد القدوس گنگوہی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۴)۔الشیخ محمد العارف ردولوی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۵)۔الشیخ احمد العارف ردولوی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۶)۔الشیخ عبد الحق ردولوی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۷)۔الشیخ جلال الدین پانی پتی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۸)۔الشیخ شمس الدین الترک پانی پتی رحمة اللہ علیہ۔
(۱۹)۔الشیخ علاء الدین صابر کلیری رحمة اللہ علیہ۔
(۲۰)۔الشیخ فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ علیہ۔
(۲۱)۔الشیخ قطب الدین بختیار کاکی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۲)۔شیخ المشائخ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۳)۔الشیخ عثمان الہارونی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۴)۔السید الشریف الزندانی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۵)۔الشیخ مودود الچشتی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۶)۔الشیخ ابو یوسف الچشتی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۷)۔الشیخ ابو محمد الچشتی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۸)۔الشیخ احمد الابدال الچشتی رحمة اللہ علیہ۔
(۲۹)۔الشیخ ابو اسحاق الشامی رحمة اللہ علیہ۔
(۳۰)۔الشیخ ممشاد علوی الدینوری رحمة اللہ علیہ۔
(۳۱)۔الشیخ ابو ہبیرة البصری رحمة اللہ علیہ۔
(۳۲)۔الشیخ حذیفہ المرعشی رحمة اللہ علیہ۔
(۳۳)۔الشیخ ابراہیم بن ادہم البلخی رحمة اللہ علیہ۔
(۳۴)۔الشیخ فضیل بن عیاض رحمة اللہ علیہ۔
(۳۵)۔الشیخ عبد الواحد بن زید رحمة اللہ علیہ۔
(۳۶)۔الشیخ حسن البصری رحمة اللہ علیہ۔
(۳۷)۔سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ۔
(۳۸)۔سیدنا و رسولنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔

(سلاسل طیبہ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ)

حسیب احمد حسیب

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...