منگل, مارچ 15, 2022
عورتوں کے لئے تعلیم کا مسئلہ_____مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
پیر, مارچ 14, 2022
پے ٹی ایم کے بانی وجۓ شرما کی گرفتاری اور رہائی
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
سڑک حادثہ میں موت پر مشتعل لوگوں نے کیا آمد ورفت ٹھپ
سڑک حادثہ میں موت پر مشتعل لوگوں نے کیا آمد ورفت ٹھپ
بیگوسرائے میں مسلسل سڑک حادثات کے باوجود گاڑیوں کی رفتار پر قابو نہیں پایا جا رہا ہے اور لوگوں کی بے وقت موت ہورہی ہے۔ پیر کے روز بھی صبح صبح بیگوسرائے۔ گڑھ پورہ ۔ حسن پور مین سڑک پر حادثے میں بچے کی موت ہوگئی ۔ واقعہ گڑھ پورہ تھانہ علاقہ کے سکڑا گاؤں کے قریب ہے۔ متوفی کی شناخت مقامی باشندہ رام وجے یادو کے بیٹے وکی کمار کے طور پر کیا گیا ہے ۔ حادثے موت سے ناراض لوگوں نے سکڑا گاؤں اور ہرسائن پل کے قریب سڑک جام کرآمدورفت ٹھپ کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی پہنچے گڑھ پورہ تھانہ انچارج اور انتظامیہ نے لوگوں کو سمجھا بجھا کر کافی کوشش کے بعد سڑک جام ختم کرایا اور گاڑی ڈرائیور کو گرفتار کرکے کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔واقعے کے سلسلے میں بتایا جا رہا ہے کہ وکی سڑک پار کر رہا تھا کہ اس دوران تیز رفتار سے آ رہی نامعلوم اسکارپیو گاڑی نے اسے روند دیا ، جس سے موقع پر ہی اس کی موت ہوگئی ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں لوگ پہنچ گئے اور گڑھ پورہ بیگوسرائے سڑک کو دو مقامات پر جام کر کے آمدورت ٹھپ کر دئے ۔ سڑک جام کرنے والے مشتعل لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک بڑی بس کمپنی کے مالک کی اسکارپیو روزانہ انتہائی بے قابو رفتار سے گزرتی ہے۔ دونوں طرف گھنی آبادی کی وجہ سے کئی بار لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش بھی کی۔ لیکن رفتار پر قابو نہ پایا جاسکا جس کی وجہ سے آج حادثہ پیش آیا۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
درگاہ پر چڑھایا گیا بھگوا رنگ،مقدمہ درج
درگاہ پر چڑھایا گیا بھگوا رنگ،مقدمہ درجریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سےمتصل نرمداپورم(ہوشنگ آباد) کی ایک درگاہ کو شر پسندوں نے توڑ پھوڑ کے بعد اس کو بھگوا رنگ سے رنگ دیا دیا۔
شرپسندوں نے ایک بار پھر ریاست میں فرقہ وارانہ اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہاں سمیری ہرچند روڈ پر واقع درگاہ کو شرپسندوں نے رات کے اندھیرے میں نہ صرف درگاہ میں توڑا بلکہ بھگوا رنگ سے رنگ دیا۔ جس کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پولیس نے مقامی مسلمانوں کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کشیدگی کے پیش نظر پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ کا جائزہ لیا اور تفتیش شروع کردی۔
خیال رہے کہ حضرت مخدوم کی درگاہ نرمداپورم کے سمیری ہرچند روڈ پر درگاہ بڑا پیر کے قریب واقع ہے۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ آتے ہیں اور اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہرروز شام کو مجاور درگاہ میں چراغاں کرتے ہیں۔ صبح جب عقیت مند درگاہ پر حاضری کے لیے پہنچے تو دیکھا کہ اسے بھگوا رنگ سے رنگا ہوا دیکھا۔
درگاہ کے مجاور محمد خالد کا کہنا ہے کہ درگاہ کو بھگوا رنگ سے رنگنے والے شرپسندوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے پولیس انتظامیہ سے معاملے کی تحقیقات کرنے اور شرپسندوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے میں سخت کارروائی کی جائے۔
پولیس اسٹیشن انچارج ہیمنت سری واستو نے بتایا کہ سمیری ہرچند روڈ پر واقع درگاہ میں توڑ پھوڑ کےساتھ اندراورباہربھگوا رنگ پایا گیا۔ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
بچوں کو اردو ضرور پڑھائیں:ڈاکٹر اطہر فاروقی
بچوں کو اردو ضرور پڑھائیں:ڈاکٹر اطہر فاروقیغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی غالب سمینار اختتام پذیر نئی دہلی،12مارچ:غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی غالب سمینار اختتام کو پہنچا۔ "معاصر اردو ادب میں نئے تخلیقی روپے" کے عنوان سے منعقدہ غالب سمینار کے آخری روز کے پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کی۔
پروفیسر شافع قدوائی نے"تعزیری نظام کے خلاف مزاحمت کا استعارہ: اللہ میاں کا کارخانہ"،لندن سے تشریف لائے جاوید کاکرو نے"Contemporary Relevance Challenges And Prospects For Promotion Urdu Language"ڈاکٹر ابو ظہیر ربانی نے"اردو افسانے کے رجحانات" کے عنوان پر اپنے مقالات پیش کیے۔
اختتام پر صدر اجلاس ڈاکٹر اطہر فاروقی نے اردو کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 75برسوں سے اردو کی فکر کی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی کی جاتی رہے گی۔ اردو کی بہتری اسی بات میں ہے کہ آپ اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں، اگر ایسا نہیں کرتے ہیں تو لاکھ تقریریں کر لی جائیں کوئی فرق نہیں پڑتاہے۔
آپ تقریریں کریں اور دوسروں کے بچے اردو پڑھیں یہ نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر شہزاد انجم نے کی۔ جب کہ پروفیسر خالد اشرف نے"اردو زبان کا بدلتا ہوا منظر نامہ اور چند اہم ناول"،پروفیسر ابن کنول نے"اردو افسانہ عہد حاضر میں"پروفیسر ثروت خان نے"ماضی کی بازیافت:اردو کے چند نئے ناولوں کے آئینے میں" کے عنوان پر اپنے مقالات پیش کیے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے صدارتی خطبے میں فرداً فرداً سبھی مقالات پر سیر حاصل گفتگو کی، انھوں نے کہا کہ 21ویں صدی ناول کا عہد ہے، اس زمانے میں کئی اہم ناول لکھے گئے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہماری تہذیب و ثقافت کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان تمام باتوں کو بھی معاصر ادب میں شامل کیا جانا چاہئے۔تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کی جب کہ پروفیسر غضنفرنے"اردو ناول کی تجدید اور پیغام آفاقی"پروفیسر صغیر افراہیم نے"اردو ناولون میں تہذیبی بازیافت"،اور ڈاکٹر نفیس عبدالحکیم نے"اردو افسانہ اور نئی حقیقت نگاری"کے عنوان پر مقالات پیش کیے۔
سمینار کے آخری اجلاس کی صدارت پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی نے کی اورپروفیسر علی احمد فاطمی کا مقالہ ڈاکٹر نفیس عبدالحکیم نے پیش کیا۔ ڈاکٹر عرفان عارف نے"اردو افسانے کے نئے تخلیقی روپے اور رجحانات"، ڈاکٹر الطاف انجم نے"فائرنگ رینج کا بیانیاتی جائزہ" کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی نے کہا کہ سمینار کا موضوع متاثر کن اور بحث انگیز ہے، مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس موضوع کو مرکز میں لاکر اس سمینار کا انعقاد کیا۔
سبھی پیپر اہمیت کے حامل تھے۔ اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی، اس موقع پر انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ اپنے سمیناروں کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کرے جو محض روایتی نہ ہوں بلکہ اس کے ذریعے نئے مباحث پر خاطر خواہ روشنی ڈالی جاسکے۔ یہ موضوع بھی اسی نوعیت کا تھا، مجھے خوشی ہے کہ تمام شرکاء نے بڑی محنت سے مقالے لکھے۔
پروفیسر عتیق اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم سوال ہے کہ معاصر کی تاریخ کا تعین کیسے ہو، کس قسم کے ادب کو معاصر کہا جا سکتا ہے۔ کیا وہ ادب معاصر کہلائے گا جو عصری،سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل کی نمائندگی کر رہا ہے یا وہ جس کی پہچان ادبی پیمانون سے کی جاسکتی ہے۔
ایسے ہی بہت سے سوال اس سیمنار میں ابھرے ہیں اور ان کا سب نے اپنے اپنے طور پر جواب تلاشنے کی کوشش کی۔ مجھے امید ہے کہ جب ہم سبھی مقالوں کو یکجا دیکھیں گے تو کسی نتیجے پر پہچنے میں آسانی ہوگی۔پروفیسر انیس اشفاق نے کہا کہ میں عرصے سے اس سمینار میں شریک ہوتا رہا ہوں اور مجھے یہاں ہونے والے سمینار متاثر کرتے ہیں۔ ایوان غالب کا سمینار تخلیقی بصریتوں کا خیال افروز محاکمہ ہے، یہاں خیالات کی یکسانیت کے بجائے خیالات کے تصادم کی صورتیں بھی ہوتی ہیں۔ جس سے ہم ایسے نتیجے پر پہنچتے ہیں جو پہلے سے ہمارے ذہن میں نہیں ہوتا۔
پروگرام کے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ اس سمینار کے بنیادی موضوع 'معاصر ارو ادب کے تخلیقی رویے' پریہا ں جو مقالات پیش کیے گئے، ان سے ہمارے عہد کے ادبی میلانات اور صورت حال کاایک عمدہ خاکہ مرتب ہوتاہے۔ سمینار میں جو مقالات پیش کیے گئے ان میں اکثر کو سنتے ہوئے یہ محسوس ہواکہ یہ موضوع ایک سمینار میں سامنے والا نہیں ہے۔ زیادہ تر مقالہ نگارنے بڑی محنت اور ذمہ داری سے مقالے لکھے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ سمینار ایک فضاکی تشکیل کرتاہے وہ مباحب یاوہ گوشے جن کی طرف ہماری توجہ کسی وجہ سے نہیں ہوپاتی انہیں مرکز میں لے آتاہے۔ ہمارے یہاں کلاسیکی ادب پر بہت گفتگو ہوئی، جدید ادب پر بھی خاصا لکھا گیالیکن جدید ادب جس سے میری مراد معاصر ادب ہے ایک دھند کی سی کیفیت بھی محسوس ہوتی ہے۔ یعنی وہ کون سے میلان ہیں جو پیش رو میلانات سے مختلف ہیں جن کی بنیاد پر ہمارا معاصر ادب اپنا وجود ثابت کررہاہے اور ہماری فہم کی بھی آزمائش کررہاہے۔ لیکن سمینارکی ایک خامی یہ بھی ہے کہ یہ بہت دنوں تک ہمارے ذہنو ں میں تازہ نہیں رہتا۔ یہ فریضہ کتاب ادا کرتی ہے اور جیسا کہ ہمارا روایت رہی ہے ہم بہت جلد ان مقالات کو کتابی شکل میں بھی شائع کریں گے۔
مجھے پورا یقین ہے کہ جب یہ کتاب منظرعام پر آئے گی تو اس موضوع پر اس کی حیثیت حوالے کی ہوگی۔ میں اعتراف کرتاہوں کہ اس کی علمی حیثیت آپ کی کاوشوں اور ذکاوتوں کے نتیجے میں ہوگی۔ لہٰذا آپ دوتین مہینے میں اپنے مقالے اور متعلقہ موضوع سے متعلق جتنا اضافہ کرنا چاہیں وہ اس کتاب کے حق میں مفید ہوگا۔
میں فرداً فرداً سب کا نام لوں تو ممکن ہے کہ کسی کا نام چھوٹ جائے میں تمام مقالہ نگار، صدور اور شرکاکادل کی گہرائیوں سے سے شکریہ ادا کرتاہوں اور آئندہ بھی آپ کے تعاون کی امید رکھتا ہوں۔ ایک ضروری بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ تمام شرکا کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو، اس کے باوجود اگر ہماری طرف سے کچھ کمی رہ گئی ہوتو اسے در گزر فرمائیں۔ہاں ذاتی طور پرہمیں مطلع فرمائیں تاکہ ہم اس کا آئندہ خیال رکھیں۔اس موقع پر یونیورسٹیز کے ریسرچ اسکالرز کوسرٹیفکیٹ اور کتابوں کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔ شام میں اردو ڈرامہ"مشاعرہئ رفتگاں" پیش کیا گیا، تحریر و ہدایت کار ڈاکٹر محمد سعید عالم کی نگرانی۔جب کہ پیش کش تھی 'ہم سب ڈرامہ گروپ(غالب انسٹی
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
وہ آنکھیں پھیرلیں میں کیسے پھیروں
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اتوار, مارچ 13, 2022
ملک کا موجودہ منظر نامہ اور ہماری ذمہ داریاں __✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
عید الفطر کا پیغام
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر Urduduniyanews72 کشمیر کے ضلع پہلگام میں واقع بیسرن گھاٹی کا واقعہ نہایت ہی دردناک...
-
وقف ایکٹ پر عدالت عالیہ کا موقف Urduduniyanews72 وقف ترمیمی بل جو دونوں ایوانوں سے پاس ہوتے ہوئے صدر جمہوریہ...
-
عید الاضحٰی کا پیغام مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔ موبائل نمبر :7909098319 Urdudu...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
ٹی راجہ سنگھ کی بکواس ___ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اردو دنیا نیوز٧٢ تلنگانہ اسمبلی ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
