Powered By Blogger

اتوار, جون 12, 2022

توہین رسالت ﷺ کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں تشدد کا کون ہے ذمہ دار ؟ -شکیل رشید

توہین رسالت ﷺ کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں تشدد کا کون ہے ذمہ دار ؟ -شکیل رشید

ایڈیٹر ممبئی اردودنیا نیوز۷۲)
کون ہے رانچی کے سولہ سالہ شہید مدثر ولد محمد پرویز اور شہید ساحل کا مجرم ؟ کون ذمہ دار ہے اُن نوجوانوں کے جسموں پر لگے زخموں کا ، جو عشقِ رسول ﷺ میں احتجاج کے لیے سڑکوں پر اترے تھے ؟ یہ کیوں رانچی سے لے کر اتر پردیش اور مغربی بنگال تک ، اندھا دھند گرفتاریاں کی جا رہی ہیں ، اور کون ہے اِن گرفتاریوں کے پیچھے ؟ کیا شہید مدثر اور ساحل کے مجرم خود احتجاجی ہیں ، یا سیاسی اور مذہبی قائدین ، یا حکومت اور پولیس ؟ کیا یہ کہنا درست ہوگا ، کہ احتجاجی خود اپنے زخموں اور اپنی گرفتاریوں کے قصوروار ہیں ، انہوں نے جو بویا وہی کاٹا ؟ ان سوالوں کے جواب ایسا نہیں ہے کہ نہیں مل رہے ہیں ، مل رہے ہیں ، کوئی سارا قصور ، سارا الزام احتجاجیوں کے سر ڈال رہا ہے ، تو کوئی سیاسی اور مذہبی قائدین کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے ، اور کوئی حکومتوں ( مرکزی و ریاستی ) ، پولیس اور انتظامیہ کو مجرم کہہ رہا ہے ۔
یہ سچ ہے کہ جمعہ ۱۰ ، جون کو کسی بھی تنظیم ، جماعت یا کسی ادارے کی جانب سے ، کسی بھی طرح کے احتجاج کا اعلان نہیں کیا گیا تھا ۔ ہاں ، اس روز ، عالم اسلام میں ' جمعتہ نصرۃ رسول اللہ ﷺ ' کے عنوان سے احتجاج کا اعلان تھا ، اور عالمِ اسلام نے جمعہ کو مظاہرے کر کے ، رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا بھی ۔ بھارت میں کسی بند کا اعلان نہ ہونے کے باوجود ملک گیر سطح پر مظاہرے ہوئے ، احتجاج کیا گیا ، نعرے لگا کر غم وغصے کا اظہار کیا گیا اور یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ گستاخ نوپور شرما اور نوین جندل کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ سوال یہ ہے ، کہ جب احتجاج کا کوئی اعلان ، مسلم تنظیموں و جماعتوں کی طرف سے نہیں تھا ، تو احتجاج ہوا کیسے؟ اس سوال کے تین ممکنہ جواب ہو سکتے ہیں : اوّل یہ کہ ہو سکتا ہے عام مسلمانوں نے ' جمعتہ نصرۃ رسول اللہ ﷺ ' کے اعلان میں بھارت کو بھی شامل سمجھ لیا ہو اور احتجاج کے لیے تیار ہو گئے ہوں ، کیونکہ ذمہ داران کی جانب سے ، بالفاظ دیگر ملّی جماعتوں کی طرف سے کوئی ایسا اعلان یا وضاحت نہیں آئی تھی کہ ' جمعتہ نصرۃ رسول اللہ ﷺ ' سے ہمارا ، ہم ہندوستانی مسلمانوں کا ، کوئی لینا دینا نہیں ہے ، لہٰذا اس سے دور رہیں ۔ دوم یہ کہ سوشل میڈیا پر ایک اعلان ' جمعہ کے بند اور احتجاج ' کا مسلسل گردش میں تھا ، حالانکہ اس ' اعلان ' کے نیچے نہ کسی تنظیم کا نام تھا نہ ہی کسی شخص کا ، لیکن ' اعلان ' چونکہ وائرل ہو چکا تھا ، اس لیے یہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں نے اسے ' احتجاج کا اعلان ' سمجھ لیا ہو اور جمعہ کو احتجاج کا ارادہ کر لیا ہو ۔ یہ سچ ہے کہ بعض مسلم تنظیموں اور بعض قائدین نے سوشل میڈیا پر بھی اور اخبارات میں بھی ' اعلان ' کو فرضی بتایا اور لوگوں کو ' بند ' نہ کرنے کی تاکید کی ، لیکن اس تاکید کے آنے سے پہلے ' بند کا اعلان ' اپنا اثر ڈال چکا تھا ۔ ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ ' بند کے اعلان ' کو ' نامعلوم افراد کی کارستانی اور فرضی بتانے ' کے باوجود ، اور اس وضاحت کے بعد بھی ، کہ کسی بھی مسلم تنظیم یا جماعت نے ' بند کا اعلان ' نہیں کیا ہے ، کیوں عام لوگوں نے قائدین کی باتوں پر توجہ نہیں دی ؟ شاید اس سوال کا جواب بہتوں کو اچھا نہ لگے ، لیکن تلخ سہی جواب ایک ہی ہے ، لوگ اب قائدین کے ' رویّوں ' سے عاجز آ چکے ہیں ۔ میں مولانا محمود مدنی کا مخالف نہیں ہوں ، اور ممکن ہے کہ انہوں نے کسی مصلحت کی بنا پر '' بی جے پی کو ذمہ دار سیاسی پارٹی کہہ کر اس کی سراہنا کی ہو '' ، لیکن یہ بات عام مسلمانوں کو بھائی نہیں ہے ، انہیں یہ لگ رہا ہے کہ جیسے مولانا محمود مدنی نے اہانتِ رسولﷺ کے مرتکبین کے آگے گٹھنے ٹیک دیے ہوں ۔ اسی طرح مولانا توقیر رضا خان کا یہ بیان کہ '' یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے '' ، لوگوں کے لیے حیرت اور غصے کا باعث بنا ہے ۔ بھلا کیسے اہانتِ رسول ﷺ کا شرمناک معاملہ '' صرف اندرونی معاملہ '' ہو گیا ؟ کیا اللہ کے رسول ﷺ کو رحمۃاللعالمین نہیں کہا جاتا ، اور کیا ساری دنیا کے مسلمانوں کا اپنے نبی پر کوئی حق نہیں ہے؟ لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ آپ نے بھلا کون سا ایسا اقدام کیا کہ جس سے مرکز کی مودی سرکار اور ملک کی بی جے پی کی ریاستی سرکاریں ، گستاخوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوتیں ؟ کچھ نہیں کیا سوائے گفتار کے ۔ آپ کا تعلق اعلیحضرت ؒ کے خٓانوادے سے ہے ، جنہوں نے ساری زندگی عشقِ رسول ﷺ میں گذار دی ، کیا اعلیحضرت ؒ یہ گستاخی برداشت کرتے ؟ کبھی نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ اس معاملہ میں چند ایک کو چھوڑ کر ساری مذہبی قیادت کٹگھرے میں کھڑی ہے ۔ اکابر نے ان حالات میں کیا کیا تھا ، اس کی ایک مثال ملاحظہ کر لیں : شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنیؒ کے تلامذہ میں سے ایک حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب ؒ نے اپنی ایک کتاب '' علماء دیوبند کے تابندہ نقوش '' میں ایک واقعہ لکھا ہے ، کہ ' مجھے یاد ہے یو پی میں پنتھ جی وزیراعلیٰ تھے ، اس وقت توہین رسولﷺ کا واقعہ پیش آیا ، تمام مسلمان اس سے متاثر اور مشتعل ہوئے ۔ حضرت مدنی ؒ نے اس موقع پر دارالعلوم دیوبند میں ایک تقریر کی ۔ تقریر کیا تھی دل کے داغ تھے ، جو الفاظ کی شکل میں ظاہر ہو رہے تھے ۔ آپ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ '' ہم نے آزادی کے لیے اس واسطے قربانیاں نہیں دی تھیں کہ ہمارے مذہب یا ہمارے مذہبی پیشوا اور پیغمبروں کی توہین کی جائے ، اگر حکومت نے اس کو روکنے کی کوشش نہ کی ، اور گستاخی کرنے والے کو قرار واقعی سزا نہ دی ، تو سول نافرمانی کرتے ہوئے جو شخص سب سے پہلے جیل جائے گا وہ ' حسین احمد ' ہوگا ، ہم انگریزوں کی جیلوں سے نہیں ڈرے ، اب کیا ڈریں گے ۔ '' اس وقت پنڈت نہرو وزیراعظم تھے ، ساری حکومت حرکت میں آ گئی تھی ۔ مانا کہ آج پنڈت جی کی حکومت نہیں ہے ، راج مودی اور یوگی کا ہے ، لیکن اس کے باوجود اپنی بات صاف صاف کہنے کا دروازہ کوئی بند تو ہے نہیں ، اور اگر بند بھی ہو تب بھی اس معاملہ میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنی بات رکھنا چاہیے تھی ، خاص کر یہ بات کہ اب تک گستاخوں کی گرفتاری کیوں نہیں کی گئی ہے ؟

اب آئیں تیسری وجہ کی بات کر لیں ۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے ، ایک ' بند کا اعلان ' سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا ، تو سوال یہ ہے کہ اس ' اعلان ' کے پسِ پشت کون تھا ؟ انگلیاں ' شرپسندوں ' کی جانب اٹھ رہی ہیں ۔ یہ شرپسند وہ ہیں جو مسلمانوں کو پھنسانے کے لیے کمر بستہ ہیں ، اگر کوئی یہ کہے کہ ان میں مسلمان بھی شامل ہو سکتے ہیں تو حیرت نہیں ہونا چاہیے ، کہ مسلمان ایسے کام کر چکے ہیں ۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل ایسے کاموں کے لیے بڑا ہی ' مشہور ' ہے ، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اس نے ' بند کا اعلان ' وائرل کیا ہو ؟ ایک تیر سے کئی شکار کھیلنے کی کوشش کی گئی ، ایک تو یہ کہ مسلمانوں پر الزام ڈال دیا گیا کہ وہ ' تشدد ' کرتے ہیں ،' شرپسند ' ہیں اور مندروں پر پتھراؤ کرنے والے ہیں ۔ اس الزام کے نتیجے میں دونوں فرقوں ہندوؤں اور مسلمانوں میں مزید خلیج بڑھ سکتی ہے ، اور فرقہ پرست اپنے مفادات کی تکمیل کےلیے یہی چاہتے ہیں ۔ مزید یہ کہ توہینِ رسالتﷺ کا معاملہ ' اندرونی لڑائی ' میں تبدیل ہو سکتا ہے ، گرفتاریوں کا مزید موقع مل سکتا ہے ، مسلم فرقے کی معاشی کمر توڑی جا سکتی ہے اور انہیں احساسِ ذلت اور احساسِ محرومی کے ساتھ خوف کی نفسیات میں مبتلا کیا جا سکتا ہے۔ اب تو ' بلڈوزروں کی سیاست ' بھی زوروں پر ہے ، لہٰذا ان کے گھروں کو بھی مسمار کیا جا سکتا اور انہیں در در پھرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ سازش کی طرف اشارہ کر رہی ہیں ،انتظامیہ ، پولیس اور حکومت کو اس سب کے پیچھے بتایا جا رہا ہے۔ سارا معاملہ منصوبہ بند تھا ، وہ لوگ جو مسلمانوں کے احتجاج میں گھسے اور پےھراؤ کیا ان کے چہرے بھی سامنے آ گیے ہیں ۔ سارا کھیل کانپور ، جہانگیرپوری اور کھرگون کی طرح کھیلا گیا ہے ۔ ایک اہم بات ' پروپیگنڈا ' بھی ہے ، مسلمانوں کے خلاف جم کر نفرت پھیلانے کا ماحول بنایا جا سکتا ہے ۔ اب یہی دیکھ لیں کہ مسلمان بالخصوص نوجوان ، جو ان مظاہروں میں شریک رہے ہیں ، جو شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور جنہیں گرفتار کیا جا رہا ہے ، ان پر ہی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں ۔ اور انگلیاں اٹھانے والوں میں مسلمان پیش پیش ہیں ۔ سوشل میڈیا پر کئی ایسے پوسٹ نظر آ جائیں گے جن میں احتجاجیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ سڑکوں پر ہڑ بونگ مچانے والے لوگ ہیں ، یہ رسول ﷺ کی بے ادبی کے مرتکب ہوئے ہیں ، انہوں نے احترام کو تج دیا ہے ، یہ غیروں کی مشابہت کے مجرم ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہ ہے ' غیروں کے پروپیگنڈے ' کا ' اثر ' کہ جو عشق رسول ﷺ میں سڑکوں پر اتریں وہ ' بےادب ' کہلائیں اور جو گھروں میں بیٹھ کر لیکچر دیں وہ خود کو عاشقِ رسول ﷺ قرار دیں !خیر بات چل رہی تھی ' اعلان ' کی ، جس کا وائرل کرنے والا یا وائرل کرنے والے ' نامعلوم ' ہیں ۔ یہ ' اعلان ' ممکن ہے کہ مسلمانوں کو اکسانے کی سازش رہا ہو ۔ خیر یہ جو بھی ہیں ، شاطر لوگ ہیں ، ان کی عیاری اور مکاری کا کوئی توڑ ضروری ہے ۔ بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کی روایت اب بند ہونی چاہیے ۔ ایک سوال یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کہیں یہ ' اعلان ' مسلمانوں ہی کی طرف سے تو نہیں تھا ، کہ ' اعلان ' دیا ہو اور نام نہ ظاہر کیا ہو ؟یہ ممکن ہو سکتا ہے ، ایسے لوگ موجود ہیں ۔ اسی لیےعام مسلمانوں کو بھی اور مسلمانوں کی سیاسی و مذہبی قیادت کو بھی بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ یقیناً بے قیادت احتجاج کے نقصانات ہیں ، جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ، لیکن ' بگڑتی ہے جب ظالم کی نیت ، نہیں کام آتی دلیل اورحجت ' کے مصداق باقیادت مظاہروں کا حشر بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ مالیگاؤں کا مظاہرہ باقیادت تھا ۔ آج بھی ساٹھ ستّر لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں ، یوپی اور شاہین باغ کے این آر سی مخالف مظاہرے باقیادت تھے ، ان کے ذمہ داران پر مقدمے بن گئے ہیں ، یوپی میں تو قرقیاں ہو چکی ہیں ۔ ایک جمہوری ملک میں بھی آپ احتجاج کے لیے آزاد نہیں ہیں ۔ تو کیا احتجاج بند کر دیا جائے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، اور اس پر غور کرنے کی کہ اگر احتجاج بند کیا گیا تو دوسرا راستہ کیا ہوسکتاہے؟ کچھ بات نوپور شرما اور نوین جندل کی کر لیتےہیں ۔ یہ لکھے جانے تک دونوں گرفتار نہیں کیے گئے ہیں ، عرب ممالک کی ناراضگی بی جے پی سے ان کی معطلی کا باعث بنی ہے ، ہندوستانی مسلمانوں کا احتجاج نہیں ۔ اور یہ بات اگر کہی جائے تو غلط نہیں ہو گی کہ ان دونوں کی گرفتاری کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ مقدمہ کر دیا ، عرب ممالک کو بتا دیا ، کام ہو گیا ۔ بی جے پی کی سیاست ہی ہندوتوا کی سیاست ہے ، وہ کبھی بھی ' ہندوتوادیوں ' کے خلاف سخت کارروائی نہیں کر سکتی ، لہٰذا اگر یہ کہا جائے تو صد فیصد سچ ہوگا کہ یہ پارٹی ' ذمہ داری ' کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے ، اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی تو اب تک پی ایم مودی ، بی جے پی صدر نڈا اور یوگی و امیت شاہ کا ، دونوں کی مخالفت میں بیان آ چکا ہوتا ۔ نہ بیان آیا ہے اور نہ آنے کی امید ہے ۔

عادل آباد میں سوشیل میڈیا پر حضور اکرم ﷺ صل الله شان میں گستاخی _ مسلمانوں کا پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج _ مقدمہ درج

عادل آباد میں سوشیل میڈیا پر حضور اکرم ﷺ صل الله شان میں گستاخی _ مسلمانوں کا پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج _ مقدمہ درج

خضر یافعی کی رپورٹ

عادل آباد _ تلنگانہ کے عادل آباد شہر میں ایک غیر مسلم نوجوان نے سوشل میڈیا پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جس پر مسلمانوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن پر جمع ہوکر گستاخ رسول کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔

اس دوران عوام اور پولیس کے درمیان ہلکی سی کشیدگی دیکھی گئی ۔ ضلع ایس پی نے ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن پہنچ کر حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی ۔ مشتعل عوام کو منتشر کرنے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا ۔ تاہم مسلم سیاسی قائدین نے پولیس پر دباؤ بناتے ہوئے خاطی کے خلاف کیس درج رجسٹر کرنے کا مطالبہ کیا ۔

یس پی نے حالات کو دیکھتے ہوئے کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے ایف آئی آر کاپی مسلم سیاسی قائدین کے حوالے کی۔واضح رہے کہ فل حال حالات قابو میں ہے ۔ مسلم سیاسی قائدین نے مسلمانوں اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ امن کی برقراری میں اہم کردار ادا کریں۔ پولیس خاطی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ کارروائی میں جٹ گئی ہے

مزید حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس کی جانب سے ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن حدود میں پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی ہے ۔ پولیس کی جانب سے بھی افواہوں پر دھیان نہ دینے اور امن کی برقراری میں اہم رول ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔

ہفتہ, جون 11, 2022

★مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد کے اساتذہ کی تنخواہوں میں آٹھ ہزار روپیے کا اضافہ۔ دیگر مدارس کے لیے مثالی اقدام★*

*★مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد کے اساتذہ کی تنخواہوں میں آٹھ ہزار روپیے کا اضافہ۔ دیگر مدارس کے لیے مثالی اقدام★*
 اردودنیا نیوز ۷۲
حیدرآباد: 11/جون (عصرحاضر) مدرسہ امداد العلوم ٹین پوش لال ٹیکری حیدرآباد کے اساتذہ کی تنخواہوں میں آٹھ ہزار روپیے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اساتذہ کی تنخواہیں اٹھارہ تا بائیس ہزار روپیے ہوچکی ہیں جو کہ دیگر مدارس کے لیے ایک مثالی اقدام ہے۔ دینی مدارس کے اساتذہ کے مالی مسائل تو زبان زد خاص و عام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آسمان کو چھوتی مہنگائی میں قلیل تنخواہوں کی وجہ سے ضروریاتِ زندگی بھی بہ مشکل تمام پوری ہوتی ہے۔ ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ ایک مستحسن اقدام ہے۔
مدرسہ امداد العلوم ٹین پوش لال ٹیکری سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک میسیج بہت گشت کررہا تھا جس میں لکھا گیا کہ:


اعلان
” با وثوق ذرائع سے۔۔۔۔
مدرسہ امداد العلوم میں امسال مولانا عبید الرحمن صاحب نے شعبہ حفظ کے اساتذہ کرام کی تنخواہ میں 8000 (آٹھ ہزار) روپیے کا اضافہ کیا، اور مہینے کی دو رخصتیں اگر نہ لیں تو اس پر تین روز کی اضافی تنخواہ دی جائے گی۔
اس طرح حفظ کے اساتذہ کی تنخواہیں 20000 بیس ہزار سے متجاوز ہو چکی ہیں
نیز عالمیت کے اساتذہ کرام کی تنخواہ 5 ماہ قبل ہی تین، ساڑھے تین ہزار بڑھائی جا چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر مدرسے کے مہتمم صاحب کو بالخصوص اس طرح کے اقدام کی توفیق بخشے۔ آمین”

یہ میسیج وائرل ہونے کے بعد ناظم مدرسہ ریاست کے مؤقر عالم دین حضرت مولانا احمد عبید الرحمن صاحب ندوی سے ہم نے تصدیق کے لیے رابطہ کیا تو مولانا نے تفصیلی طور پر بتلایا کہ اس وقت شعبہ حفظ کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کا اصل سبب ان کے اوقات کار میں دو گھنٹے کا اضافہ ہے۔ پہلے چھ گھنٹے صبح سات بجے تا ایک بجے ان کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں اب اس میں دو گھنٹے مزید شامل کردیے گئے۔ اب ان کے اوقات کار صبح سات تا ایک بجے اور تین تا پانچ بجے دن طے ہیں۔
شعبہ حفظ کے اساتذہ کی تنخواہیں اٹھارہ ہزار تا بائیس ہزار ہوچکی ہیں۔ علاؤہ ازیں حفظ کے جن اساتذہ کے اوقات کار چھ گھنٹے ہیں انہیں ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر دس تا پندرہ ہزار روپیے ماہانہ مشاہراہ دیا جارہا ہے۔
مولانا نے واضح فرمایا کہ شعبہ عالمیت کے اساتذہ کی تنخواہوں میں چند ماہ قبل تین تا ساڑھے تین ہزار روپیے کا اضافہ کیا گیا تھا اب دوبارہ ان کی تنخواہوں میں پھر تین ہزار تا چھ ہزار روپیے کا اضافہ کیا گیا ان کے اوقات کار ساڑھے چھ گھنٹے مقرر ہیں۔ اس طرح شعبہ عالمیت کے اساتذہ جن کے ساڑھے چھ گھنٹے اوقات کار ہیں ان کی تنخواہیں بھی اٹھارہ تا بیس ہزار روپیے ہیں۔

پریاگ راج تشدد کے ماسٹر مائنڈ جاوید پمپ کو پولیس نے حراست میں لیا

پریاگ راج تشدد کے ماسٹر مائنڈ جاوید پمپ کو پولیس نے حراست میں لیاپریاگ راج: اترپردیش کے پریاگ راج میں جمعہ کی نماز کے بعد شرپسندوں کے تشدد کے ماسٹر مائنڈ محمد جاوید عرف جاوید پمپ کو پولیس نے ہفتہ کو حراست میں لے لیا۔
پریاگ راج کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجے کمار نے یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کے خلد آباد تھانہ علاقہ کے اٹالہ باغ ایریا میں کل جمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ کے 24 گھنٹے کے اندر پولیس نے جاوید کو واقعہ کے ماسٹر مائنڈ کے طورپر شناخت کرکے حراست میں لے لیاہے۔ اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل کے تشددکے بعد پولیس کی تفتیش میں واردات کے ماسٹرمائنڈ کے طورپر جاوید کا نام سامنے آیا تھا۔
کمار نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ماضی کی تحریکوں میں بھی جاوید کے ذریعہ اہم کرداراداکرنے کی بات پولیس کی تفتیش میں سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاوید کا موبائیل فون قبضے میں لے کر جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں پتہ چلا ہے کہ دہلی واقع جواہرلال نہرویونیورسٹی میں زیرتعلیم جاوید کی بیٹی اسے مشورہ دیتی ہے۔ کمار نے واضح کیا کہ کسی کو مشورہ دیناکوئی جرم نہیں ہے لیکن اگر قانونی عمل کے بعد ضرورت پیش آئی تو جاوید کی ان سرگرمیوں سے جڑے دیگر لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔

یوپی:جہاں احتجاج اورتشدد، وہاں بلڈوزر

یوپی:جہاں احتجاج اورتشدد، وہاں بلڈوزر

سہارنپور: اتر پردیش میں جمعہ کو بھڑکنے والے تشدد کے بعد کانپور اور سہارنپور میں تشدد کے ملزمان اور ان سے وابستہ کچھ لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا دیے گئے ہیں۔ اتر پردیش کے سہارنپور ضلع میں تشدد کرنے والے ملزم کے گھر پر بلڈوزر چلا دیا گیا ہے۔

یوپی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے گھر پر غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا گیا ہے۔ کانپور میں ہونے والی کاروائی پر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ جس عمارت میں انہدام کیا گیا ہے، وہ تشدد کے مرکزی ملزم سے منسلک لینڈ مافیا ہے۔ تشدد کے سلسلے میں اب تک 13 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی 237 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بی جے پی ترجمان کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ بیان کے بعد پریاگ راج، سہارنپور سمیت اتر پردیش میں کئی مقامات پر تشدد بھڑک اٹھا۔

اطلاع کے مطابق ملزم مزمل ولد عصمت ساکن راحت کالونی 62 فوٹا روڈ تھانہ کوتوالی دیہی علاقوں ضلع سہارنپور نے میونسپل ٹیم کے ساتھ مل کر موثر بلڈوزر کارروائی کی ہے۔

ملزم عبدالوقیر ولد بلال ساکن کھٹا کھیڑی بلال مسجد تھانہ منڈی ضلع سہارنپور نے میونسپل کارپوریشن کی ٹیم کے ساتھ مل کر بلڈوزر کے ذریعے موثر کاروائی کی۔ اس کاروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی علاقے میں موجود تھی۔

اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 227 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

سینئر پولیس افسر نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ( لاء اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے کہا کہ ریاست میں اس سلسلے میں 227 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اس میں پریاگ راج میں 68، ہاتھرس میں 50، سہارنپور میں 48، امبیڈکر نگر میں 28، مراد آباد میں 25 اور فیروز آباد میں آٹھ افراد شامل ہیں۔

دریں اثنا، تشدد کے مرتکب افراد کو انتباہ میں، یوپی کے وزیر اعلیٰ کے میڈیا مشیر، مرتیونجے کمار نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا، "فساد کرنے والوں کو یاد رکھیں، ہر جمعہ کے بعد ایک ہفتہ ہوتا ہے..." کمار نے ایک بلڈوزر کی عمارت کو گرانے کی تصویر بھی ٹویٹ کی۔

سہارنپور کے علاوہ کانپور میں ایک ہفتے کے تشدد کے بعد انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات کو گرایا گیا ہے۔ اس عمارت کو جائے وقوعہ سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر منہدم کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے کہا کہ اس عمارت کے مالک کے کانپور تشدد کے مرکزی ملزم کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ بھی اس سازش میں ملوث ہے۔ حکام نے اس معاملے کی تصدیق کی ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا، "ماضی میں ریاست کے مختلف شہروں میں ماحول کو خراب کرنے کی کوششوں میں ملوث سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔"

مہذب معاشرے میں ایسے سماج دشمن لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ خیال رہے کہ کسی بے گناہ کو ہراساں نہیں کیا جاتا، لیکن ایک بھی مجرم باقی نہیں رہتا۔ بتادیں کہ اتر پردیش کے پریاگ راج اور سہارنپور سمیت کئی اضلاع میں لوگوں نے جمعہ کی نماز کے بعد بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے خلاف مبینہ قابل اعتراض ریمارکس پر نعرے لگائے اور پتھراؤ کیا۔

رانچی : Protest Against Nupur Sharma احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں میں جھڑپ ، ایک شخص ہلاک

رانچی : Protest Against Nupur Sharma احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں میں جھڑپ ، ایک شخص ہلاک

رانچی کی مرکزی سڑک پر جمعہ کی نماز کے بعد لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ Protest Against Nupur Sharma

جھارکھنڈ: رانچی کی مرکزی سڑک پر نماز کے بعد لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں سیاہ پٹی اور مذہبی جھنڈا لیے ڈیلی مارکیٹ کے سامنے البرٹ ایکا چوک کی طرف احتجاج کیا۔ Protest Against Nupur Sharma

رانچی میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ، کرفیو نافذ

اس دوران ڈیلی مارکیٹ کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے پتھراؤ شروع کردیا۔ وہیں پولیس حالات کو قابو کرنے میں مصروف ہے۔ فی الحال سجاتا چوک اور اقرا مسجد کے قریب بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ پورے علاقے میں بڑی تعداد میں آئی آر بی، جے اے پی اور ضلع پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔

احتجاج کے دوران جھڑپ کے بعد پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ میں ایک شخص کی موت ہوگئی ہے۔ وہیں ڈیلی مارکیٹ کے اسٹیشن انچارج اودھیش ٹھاکر کے سر میں چوٹ آئی ہے۔ ایس ایس پی رانچی سریندر کمار جھا کے سر پر بھی چوٹ آئی ہے۔ ساتھ ہی اس جھڑپ میں کئی پولیس اہلکار زخمی بتائے گئے، جنہیں ریمس RIMS میں داخل کرایا گیا۔

بہار کے پورنیہ میں سڑک حادثہ 9کی موت

بہار کے پورنیہ میں سڑک حادثہ 9کی موت

پٹنہ ، 11 جون (اردو دنیا نیوز۷۲)۔ بہار کے پورنیہ ضلع کے بائیسی سب ڈویزن کے انگڑھ او پی کے کنجیا پرائمری اسکول کے قریب جمعہ کی دیر رات ڈیڑھ بجے سڑک حادثے میں نو لوگوں کی موت ہوگئی ۔ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ تلک تقریب تارا باڑی سے واپس اپنے گاؤں کشن گنج کے نونیا لوٹ رہے تھے۔

راستے میں ان لوگوں کی اسکارپیو پانی سے بھرے گڑھے میں الٹ گئی۔ اس حادثے میں 8 افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی ۔ جبکہ ایک دیگر کا علاج کے دوران موت ہوگی ۔اسکارپیو میں کل 11 لوگ سوار تھے ۔ حادثے میں جان گنوانے والوں میں سبھی آپس میں رشتہ دار تھے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...