Powered By Blogger

اتوار, جون 26, 2022

بُلڈوزر کلچر -آمریت کی بد ترین شکل ___

بُلڈوزر کلچر -آمریت کی بد ترین شکل ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ
ہندوستان میں عدلیہ کا مضبوط نظام ضلعی سطح سے اوپر تک قائم ہے ، ملزموں کے داروگیر اور مجرموں کو سزا دینے دلانے کا  طریقہ کار دستور میں مذکور ہے، جب تک اس کی پاسداری کی گئی ، لوگوں کو انصاف ملتا رہا اور بہت سارے موقوں ںسے عدلیہ کے فیصلے پر تنقید کے باوجود آج بھی اس پر عام لوگوں کا اعتبار واعتماد قائم ہے ، عدالت ظلم کو دور کرنے اور مظلوم کو انصاف دینے کا مضبوط ذیعہ ہے ، دستور میں اسے یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ظلم ہواور عوام کے دستوری حقوق پامال کیے جا رہے ہوں تو وہ اس کی ان دیکھی نہیں کر سکتی ، وہ بغیر کسی مدعی کے اپنی طور پر بھی مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے متعلقہ شخص اور حکومت کو عدالت میں طلب کر سکتی ہے ، اور اس کی وضاحت سے مطمئن نہ ہو تو دستور کے مطابق سزا بھی دے سکتی ہے ۔
 ہندوستان ایک لمبی مدت تک برطانیہ کی نوآبادی رہا ہے، انگریزوں کے ذریعہ جو ظلم ڈھائے گئے ، اس کی صداقت سے انکار نہیں کیاجا سکتا ، لیکن ان کے یہاں بھی عدالتوں میں پیشی ہوتی تھی، گواہی اور بیانات گذرتے تھے، پھر فیصلہ ہوتا تھا کہ اس کو کا لا پانی بھیج دیا جائے، پھانسی دیدی جائے یا محصور کر دیا جائے، ہندوستان کی آزادی کی پوری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے ، پھر جن کو وہ سزا دیتے تھے ان کے گھر اور املاک کو تباہ کرنے کا عام رجحان نہیں تھا، اگر ایسا ہوتا تو گاندھی نہرو، بھگت سنگھ وغیرہ کے مکانوں کو منہدم کر دیا جاتا، حالاں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔
 لیکن آزاد ہندوستان میں وہ ہو رہا ہے، جو انگریزوں نے بھی نہیں کیا، اب ہندوستان میں بلڈوزر کلچر نے رواج پا لیا ہے ، نہ مقدمہ نہ سماعت، نہ گواہیاں اور نہ ہی بیانات، جس کے گھر پر پایا بلڈوزر دوڑا دیا ، جمعہ کو نوٹس دیا اور سنیچر کو گھر منہدم ، کوئی سنوائی کا موقع نہیں، اس لیے کہ سنیچر اتوار کو عدالت بند رہتی ہے ، اس کلچر کو رواج اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے دیا، دھیرے دھیرے یہ پورے ہندوستان میں پھیلتا جا رہا ہے ، جو آدمی حکومت کے خلاف ہے اس کا مکان تجاوزات کے دائرہ میں آجاتا ہے، اور اس کا ہی نہیں اس کی بیوی کا مکان بھی توڑ دیا جاتا ہے ، الٰہ آباد میں جاوید پمپ کے جس مکان کو زمین بوس کیا گیا ، وہ جا وید کا نہیں، جاوید کی بیوی کا تھا، اس کا پانی اور بجلی بل بھی اس کے نام تھا، پھر بھی اس کو توڑ دیا گیا، کیا جواز تھا اس کا؟ اب اس کی بیوی اور بیٹی سب گھر کی چھت سے محروم ہو گیے ، سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ، سماعت کے لیے قبول بھی ہو گئی ، لیکن انہدام کے بعد عدالت کیا کر سکتی ہے ، بہت کرے گی تو کہے گی کہ یہ غیر قانونی عمل تھا اور سرکار معاوضہ ادا کرے، معاوضہ کا تخمینہ بھی حقیقی نہیں ہوتا، اور پھر پورا معاوضہ مل بھی جائے تو مکان بنانا کوئی آسان کام ہے، ایک تعمیری منصوبہ کو زمین پر اتارنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، ذہنی کوفت اور پریشانی الگ ۔ 
 اس سے بھی بڑا لمیہ یہ ہے کہ جو اصل مجرم ہے اس کو گرفت میں نہیں لایا جا رہا ، گرفتار وہ ہو رہا ہے جس نے نو پور شرما اور جندال کے خلاف آواز اٹھائی، پولیس کی گولی کا شکار وہ ہو رہے ہیں، جو اپنے دستوری حق کا استعمال احتجاج اور مظاہرے کی شکل میں کر رہے ہیں، یہ حق کی آواز دبانے کی مذموم کوشش ہے ، ایسا جمہوریت میں نہیں آمریت میں ہوتا ہے کہ حاکم کے زبان سے نکلنے والے الفاظ ہی قانون ہوا کرتے ہیں، ہندوستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے ، یہ آمریت کی بد ترین شکل ہے، اور دنیا منتخب حکومت کے ذریعہ سارے قاعدے قانون بالا ئے طاق رکھ کر آمریت کے وہ نمونے دیکھ رہی ہے جو ہٹلر اور مسولینی کے دور میں دیکھنے کو ملتے تھے۔
 ہندوستان کو آمریت کے اس نئے حملے سے نکالنے کے لیے تمام محبان وطن کو سامنے آنا ہوگا، یہ راستہ کانٹوں بھرا ہے ، اقتدار میں وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کی ساری تہذیبی ، ثقافتی اور تاریخی روایتوں کو کچلنے کے درپے ہیں، ان کے پشت پر آر ایس ایس کی طاقت ہے، اور وہ اس طاقت کے بل پر جو من میں آئے کر گذرنے کو تیار ہیں، ہمارے وزیر اعظم نے اس سارے واقعات وحادثات پر ’’چُب مائی کا روزہ‘‘ رکھ رکھا ہے، ان کی زبان ان مسائل ومعاملات پر نہیں کھلتی اور ان کی خاموشی سے سب کو لگتا ہے کہ ان کی مرضی بھی ان امور میں شامل ہے، آمریت پسند لوگ ان کی منشا سمجھ کر اور آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور سیکولر طبقہ کواس صورت حال سے سخت مایوسی کا سامنا ہے، جب کہ اس ملک کو ایک اور آزادی کی ضرورت ہے اور وہ ہے نفرت بھرے ماحول سے ، آمرانہ کردار سے ، بد عنوانی اور ظلم سے، اس کے بغیر یہ ملک ماضی کی روایت کو باقی نہیں رکھ سکتا۔

مسجد نبویﷺ کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری انتقال کرگئے

مسجد نبویﷺ کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری انتقال کرگئے 

ریاض:کل ہفتے کے روز مسجد نبوی کے سابق امام اور خطیب اور مسجد قبلتین کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ الشیخ محمود خلیل کو چند روز قبل تکلیف کے بعد سعودی عرب کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ کل ہفتےکی شام خالق حقیقی سے جا ملے۔

وزیر مذہبی امور کا اظہار افسوس مسجد نبوی ﷺ کے سابق امام الشیخ محمود القاری کی وفات پرسعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے "ٹویٹر" پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "ہمیں انتہائی افسوسناک خبر ملی کہ ممتاز عالم دین الشیخ محمود القاری انتقال کرگئے ہیں۔ مرحوم نے پوری زندگی مسجد نبوی اور مسجد قبلتین میں امامت اور خطابت میں بسر کی۔ وزیر مذہبی امور نے مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

قابل ذکر ہے کہ محمود خلیل القاری مسجد نبوی کے امام اور مدینہ کی مسجد قبلتین کے امام رہے ہیں۔ وہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

الشیخ ابو ابراہیم کنیت اختیار کی اور دس سال کی عمر قرآن کریم حفظ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد قاری خلیل القاری سے قرآن پاک کی سند حاصل کی۔ مدینہ میں تحفیظ القرآن پرائیویٹ اسکولوں میں ابتدائی، مڈل اور ثانوی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نےفیکلٹی آف ہولی قرآن اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں بیچلر کی تعلیم مکمل کی اور مسجد نبوی میں امامت کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہوگئے۔

یوپی:یوگی کے ہیلی کاپٹر سے ٹکرایا پرندہ، ایمرجنسی لینڈنگ

یوپی:یوگی کے ہیلی کاپٹر سے ٹکرایا پرندہ، ایمرجنسی لینڈنگ

وارانسی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ہیلی کاپٹر سے پرندے کے ٹکرانے کا واقعہ اتوار کو سامنے آیا ہے۔

اس کے بعد وارانسی کی پولیس لائن میں سی ایم یوگی کے ہیلی کاپٹر کی ایمرجنسی لینڈنگ کی گئی ہے۔

ان کے ہیلی کاپٹر نے پولیس لائن سے سلطان پور کے لیے ٹیک آف کیا تھا لیکن پرندے سے ٹکرانے کے بعد پولیس لائن میں ہی اس کی ہنگامی لینڈنگ کی گئی۔

ہیلی کاپٹر کا تکنیکی ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری طیارہ لکھنؤ سے وارانسی کے لیے روانہ ہوا ہے۔

اب سی ایم یوگی سرکاری جہاز سے جائیں گے۔ سی ایم یوگی کے ہیلی کاپٹر کے بحفاظت اترنے کے بعد سبھی نے راحت کی سانس لی۔ وزیر اعلیٰ بابت پور ہوائی اڈے سے لکھنؤ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

ایمرجنسی لینڈنگ کے بعد سی ایم یوگی کار سے سرکٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔

ہفتہ, جون 25, 2022

مدھوبنی : 25 جون 022 کوضلع کے بینی پٹی لیلادھرہاءی اسکول کے ٹیچر ماسٹر محمد ہارون صاحب ( باشندہ گنگولی گاؤں )

مدھوبنی : 25 جون 022 کوضلع کے بینی پٹی لیلادھرہاءی اسکول کے ٹیچر ماسٹر محمد ہارون صاحب ( باشندہ گنگولی گاؤں ) بینی پٹی انومنڈل سطح پر مادھمک شکچھک سنگھ کے سکریٹری عہدہ پر کامیابی حاصل کیا, واضح ہوکہ سنگھ کی بیٹھک میں 6 امیدواروں میں موصوف واحد مسلم چہرہ تھا,
اس عہدے پر براجمان ہونے پر دوست و احباب اور متعلقین میں خوشی کا ماحول ہے نیز ڈھیرساری دعاءیں بٹور رہے ہیں,ساتھ ہی اساتذہ کے ہر طرح کے مساءل کو جمہوری طریقہ پر حل کرنے و کرانے کی جدوجہد کرتے رہیں گے,یہ کہناہے ماسٹر محمد ہارون صاحب کا- یاد ریے کہ موصوف کی ایلیہ محترمہ بھی ہاءی اسکول کی ٹیچر ہیں, (م- احمد گنگولوی)

آسام کے بعد مہاراشٹر میں بارش کا قہر،سات ہلاک

آسام کے بعد مہاراشٹر میں بارش کا قہر،سات ہلاک 

اورنگ آباد: مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے کے اورنگ آباد اور جالنا اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش سے متعلق واقعات میں کم از کم سات افراد کی موت ہو گئی۔

موصولہ اطلاع کے مطابق اورنگ آباد ضلع کے کنڑ تعلقہ کے ادگاؤں-جوہر گاؤں میں بادل پھٹنے سے آٹھ افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے۔

ان میں سے پانچ کو بچا لیا گیا لیکن ایک خاتون اور دو لڑکیاں دم توڑ گئیں۔ ایک اور واقعہ میں سویا گاوں تعلقہ کے ہنومنت کھیڑا کے رہنے والے 20 سالہ کشور پوار کی آسمانی بجلی گرنے سے موت ہو گئی۔

جالنا ضلع میں آسمانی بجلی گرنے سے تین افراد کی موت ہو گئی۔ مرنے والوں کی شناخت رینا داور، امباد دھننجے میتھے اور شانتا بائی رنگناتھ پوار کے طور پر کی گئی ہے۔ (ایجنسی)

امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے بڑا منصوبہ بنایا ہے

امارت شرعیہ کے آٹھویں امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے بڑا منصوبہ بنایا ہے کہ صوبہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے مسلم اکثریتی علاقے میں اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کے فروغ کے لئے سی بی ایس ای اسکول انگلش میڈیم کے ساتھ قائم ہوگا۔ الحمد للہ اس کی شروعات ہو چکی ہے ۔ سرزمین سہوڑا، ضلع گڈا میں مورخہ ۲۸؍ جون کوامارت پبلک اسکول کا افتتاح ہو رہا ہے۔ اس اسکول میں فی الحال نرسری ، ایل کے جی، یو کے جی اور پہلی جماعت(اسٹینڈر  ون) تک کی تعلیم ماہر اساتذہ کی نگرانی میں ہوگی۔
 *اس اسکول کے لئے ۲؍مدر ٹیچر’’جو نرسری ایل کے جی کے بچوں کو اچھے سے سنبھال سکیں اور تمام سبجیکٹ بڑھا سکیںــ‘‘ ۲؍پرائمری ٹیچر’’ جو تمام سبجیکٹ پڑھا سکیں‘‘اور ایک ایسے باصلاحیت آفس انچارج کی ضرورت ہے جوکمپیوٹر کی جانکاری رکھتے ہوں اور اسکول سے متعلق کاموں کا اچھا تجربہ بھی ہو۔ خواہشمند حضرات مندرجہ ذیل پتہ پر اپنا بایو ڈاٹاجمع کر سکتے ہیں۔ ٹیچر کی بحالی انٹرویو کے ذریعہ ہوگی۔انٹرویو کی تاریخ 26 جون 2022 بروز اتوار بوقت 10 بجے دن  امارت پبلک اسکول سہوڑا  گڈا میں ہونا طے پایا ہے ۔۔
لیاقت : گریجویشن )( ڈی ایل ایڈ)( ڈی ایڈ) (بی ایڈ)
امارت پبلک اسکول سہوڑا پوسٹ مہیش ٹکری ، بلاک بسنت رائے ضلع گڈا
موبائل نمبر : (9472077527-9304796956)
مندرجہ بالا نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں اور بذریعہ وہاٹس ایپ اپنا بایو ڈاٹا بھی بھیج سکتے ہیں۔ انٹرویو کی تاریخ آپ کے دئے گئے نمبر پر فون کرکے دی جائے گی۔

ترکی کی معروف اسلامی عالمی شخصیت شیخ محمود آفندی کا انتقال

ترکی کی معروف اسلامی عالمی شخصیت شیخ محمود آفندی کا انتقالاستنبول،عالم اسلام کی معروف شخصیت اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے پیر اوستاؤسمان اوغلو یا شیخ محمود آفندی کا انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے کے دو ہفتے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر تقریباً 93برس تھی۔ یہ اطلاع وکی پیڈیا پر دی گئی ہے۔ اوستاؤسمان اوغلو جن کو عام طور پر محمود آفندی کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کے شاگردوں میں حضرت لری آفندی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایک ترک صوفی شیخ اور نقشبندی خالدیہ سلسلے کے بااثر جامعہ اسماعیلہ کے رہنما تھے۔ محمود آفندی ضلع اوف کے گاؤں مکو(اب تیوسانلی) میں 1929میں ایک گاؤں کے امام کے یہاں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 10 سال کی عمر میں اپنے والد کے زیر سایہ حافظ بن گئے اور 16 سال کی عمر میں اپنا اجازہ حاصل کرتے ہوئے مدرسہ کی تعلیم جاری رکھی۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی چچا زاد بہن سے شادی کی اور امامت کا کام شروع کیا۔ 1952ء میں، محمود آفندی سے احسکاعلیٰ حیدر آفندی (گربزلر) سے ملاقات ہوئی، جو ایک نقشبندی شیخ تھے وہ ان کے مرشد بن گئے۔ علی حیدر آفندی نے انہیں 1954ء میں اسماعیلہ مسجد کا امام مقرر کیا۔ جہاں وہ سال 1996ء تک امام رہے، 1960ء میں علی حیدر آفندی کے انتقال کے بعد محمود آفندی کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ آیا اور وہ اس راستے (طریقہ) کے رہنما بن گئے۔ 1996ء میں، وہ اسماعیلہ مسجد کے امام کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ محمود آفندی نے آنے والے سالوں میں، خاص طور پر 1997ء کے میمورنڈم کے بعد، تنہائی میں رہنے کی کوشش کی، لیکن سلسلے میں اندرونی جھگڑوں کے ایک سلسلے کی وجہ سے ان کے تعلقات عوامی سطح پر آگئے۔ ان کے داماد حضر علی مراتو اوغلو کو 1998ء میں قتل کر دیا گیا تھا اور 2006ء میں ایک ریٹائرڈ امام بیرم علی اوزترک کو مسجد میں قتل کر دیا گیا تھا اور جس شخص نے انہیں چاقو مار کر قتل کیا تھا اسے جماعت نے بلوے میں قتل کر دیا تھا۔ رجب طیب ایردوان محمود آفندی کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ایردوان نے 2014ء میں صدارتی انتخابات سے ایک رات قبل محمود آفندی (استاؤسمان اوغلو) کی خانقاہ کا انتہائی مشہور دورہ کیا۔ واضح رہے کہ ترکی میں جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا تو کچھ علمائے نے چھپ چھپ کر اور درختوں کے نیچے دھاتی گاؤں میں وہاں کے بچوں کو دینی تعلیم دینا شروع کیا تھا اور جب وہاں کے لوگ فوج کو آتے دیکھتے تو فورن بچے کھیتی باڑی میں مشغول ہوجاتے یوں محسوس ہوتا تھا یہ بچے کوئی تعلیم حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ان طالبعلموں میں یہ شیخ محمود آفندی نقشبندی بھی شامل تھا اسی طرح دینی تعلیم حاصل کی۔پھر وہاں سے شہر کا رخ کیا وہاں ایک قدیم مسجد تھی محمود آفندی نقشبندی جب وہاں رہنے لگے اورچالیس سال تک درس دیتے رہے۔ اس کے علاوہ ترکی سے جب خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا وہ وہاں کے بانی کمال اتا ترک نے عربی کتاب اور دینی علوم پر مکمل پابندی لگادی تو شیخ محمود آفندی نقشبندی نے اپنے طلباء کو انگلیوں کے اشاروں پر صرف اور نحو کے گردان پڑھائے حج اور نماز کے مسئلے بھی ہاتھوں کے اشاروں پر سمجھائے اللہ تعالی نے اس کے ہاتھوں پر مکمل دینی نصاب رکھا تھا شیخ محمود آفندی علمائے دیوبند سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ شیخ آفندی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کو چودہویں صدی کا مجدد کہا۔ جنہوں نے اٹھارہ جلدوں میں ترکش تفسیر "روح الفرقان" لکھی اور اسکی چوتھی جلد کے صفحہ 724 پر مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کو شیخ المشائخ اور مولانا ذکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کو امام, محدّث اور علامہ لکھا۔یہی وجہ ہے کہ 2013 میں شیخ الاسلام شیخ محمود آفندی کو "امام محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ اوارڈ" سے بھی نوازا-

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...