Powered By Blogger

جمعرات, جون 30, 2022

حج اور عمرہ کامقصد اللہ تعالیٰ کی رضا

حج اور عمرہ کامقصد اللہ تعالیٰ کی رضا
الحراء ٹورس کے تربیتی اجتماع سے مولانا شاہ جمال الرحمن و علماء کرام کے خطابات
حیدرآباد۔ ٣٠جون ۔ ( اردو دنیا نیوز۷۲ ) ۔ عبادات میں ایک عاشقانہ عبادت حج و عمرہ ہے۔ اسلام کی بنیادوں میں سے ہے۔ اس عبادت سے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو ابھی جنم دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی نے الحراء ٹورس اینڈ ٹراویلس کے زیراہتمام شاہ فنکشن پلازہ ' ریڈ ہلز میں منعقدہ تربیتی اجتماع میں کیا۔ قبل ازیں مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی نے عمرہ کا طریقہ پیش کیا اور کہا کہ عمرہ میں دو عمل فرض ' احرام نیت تلبیہ اور طواف اور دوکام واجب صفا و مروہ کی سعی کرنا اور حلق و قصر کرنا' یہ عمرہ کے اہم اعمال ہیں۔ مولانا احمد عبیدالرحمن اطہر ندوی قاسمی نے عازمین حج کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اعمال سیکھ کر کریں۔ کوئی بھی عمل رسول اللہ کی سنت و طریقہ کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔ مفتی تجمل حسین قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم نے حج کے پانچ دن پر خطاب کیا اور مناسک حج کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ دعا کا خصوصی اہتمام کریں۔ فرائض و واجبات اور سنتوں کے ساتھ حج و عمرہ ادا کریں۔ مولانا محمد بانعیم مظاہرہ نائب ناظم مجلس علمیہ آندھراپردیش نے عازمین حج کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی دعاؤں میں پوری امت کو یاد رکھیں۔ قربانی و رمی کے سلسلہ میں ہدایات پر عمل کریں۔ مفتی صادق محی الدین فہیم نظامی نے کہا کہ حجاج اپنی زندگی میں اصلاح کریں۔ جناب محمد اختر حسین پروپرائٹر الحراء ٹورس اینڈ ٹراویلس نے عازمین کوسفر سے متعلق تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے عازمین اور علماء کرام کا شکریہ ادا کیا۔ قاری محمد یونس علی خان کی قرات کلام پاک سے اجتماع کا آعاز ہوا۔ قاری محمد عبدالاحد نے نعت نبوی پیش کی۔ حافظ سید خلیل نے نظم سنائی۔ مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی نے نگرانی کی۔ مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی کی دعاء پر جلسہ اختتام پذیر ہو۔ الحراء ٹورس اینڈ ٹراویلس کے عازمین حج کا قافلہ 3 جولائی کو بذریعہ سعودی ایرلائنز روانہ ہوگا اور واپسی 16 جولائی کو ہوگی ' 17 جولائی کو صبح 9.35 منٹ پر حیدرآباد آمد ہوگی۔

مانسون کی پہلی بارش میں ہی ڈوب گیا پٹنہ ، این ایم سی ایچ کے کئی وارڈوں میں داخل ہوا پانی


مانسون کی پہلی بارش میں ہی ڈوب گیا پٹنہ ، این ایم سی ایچ کے کئی وارڈوں میں داخل ہوا پانی

پٹنہ (اردو دنیا نیوز۷۲)

بہار میں ایک ساتھ دو ہواؤں کا نظام سرگرم ہے۔ جس کی وجہ سے شمالی بہار کے تقریباً 20 اضلاع میں ہلکی بارش ہو رہی ہے۔ کئی دنوں کے بعد پٹنہ میں موسلادھار بارش ہوئی۔ لوگوں نے گرمی سے یقیناً راحت محسوس کی۔ لیکن کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ریاست کے بڑے میڈیکل کالجوں میں سے ایک نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کے وارڈ میں بارش کا پانی پہنچ گیا ہے۔

کچھ دیر کے لیے بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی دارالحکومت پٹنہ کی سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہو گیا۔ پٹنہ سٹی کے چوک شکارپور علاقے کی سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے پریشانی پیدا ہوگئی ہے۔ بارش کے پانی میں دوڑتی گاڑیاں ڈوبتی نظر آئیں۔ نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کے سب سے نچلے حصے میں واقع میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے وارڈ میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا۔

اسپتال میں پانی جمع ہونے سے مریضوں ، لواحقین ، ڈاکٹروں اور صحت عملہ کو پریشانی کا سامنا ہے۔ صفائی کارکن وارڈ سے پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔اسپتال سے پانی نکالنے کے متبادل انتظام کے طور پر ڈیزل سے چلنے والی موٹریں لگائی گئی ہیں۔ پانی نکالنے کے لیے ایک چھوٹے پمپ کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے نے پٹنہ میونسپل کارپوریشن کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

ریلوے کی معلومات

*ریلوے کی معلومات*
 
 ,
 *1 جولائی سے* ریلوے کے یہ 10 اصول بدل گئے...
 ,
 *1*) انتظار کی فہرست کی پریشانی ختم ہو جائے گی۔  ریلوے کی طرف سے چلائی جانے والی سووِدھا ٹرینوں میں مسافروں کو کنفرم ٹکٹ کی سہولت دی جائے گی۔
 ,
 *2*) یکم جولائی سے تتکال ٹکٹوں کی منسوخی پر، 50% رقم واپس کی جائے گی۔
 ,
 *3*) یکم جولائی سے تتکال ٹکٹوں کے قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔  اے سی کوچ کے لیے صبح 10 بجے سے 11 بجے تک ٹکٹ بکنگ کی جائے گی جبکہ سلیپر کوچ کی بکنگ صبح 11 سے 12 بجے تک ہوگی۔
 ,
 *4*) 1 جولائی سے راجدھانی اور شتابدی ٹرینوں میں پیپر لیس ٹکٹنگ کی سہولت شروع کی جارہی ہے۔  اس سہولت کے بعد شتابدی اور راجدھانی ٹرینوں میں کاغذی ٹکٹ دستیاب نہیں ہوں گے، اس کے بجائے ٹکٹ آپ کے موبائل پر بھیج دیا جائے گا۔
 ,
 *5*) جلد ہی مختلف زبانوں میں ریلوے ٹکٹنگ کی سہولت شروع ہونے جا رہی ہے۔  ابھی تک ریلوے میں ہندی اور انگریزی میں ٹکٹ دستیاب تھے لیکن نئی ویب سائٹ کے بعد اب مختلف زبانوں میں ٹکٹ بک کرائے جاسکتے ہیں۔
 ,
 *6*) ریلوے میں ہمیشہ ٹکٹوں کی لڑائی ہوتی ہے۔  ایسے میں یکم جولائی سے شتابدی اور راجدھانی ٹرینوں میں ڈبوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
 ,
 *7*) رش کے اوقات میں ٹرین میں بہتر سہولت فراہم کرنے کے لیے، متبادل ٹرین ایڈجسٹمنٹ سسٹم، سہولت ٹرین اور اہم ٹرینوں کی ڈپلیکیٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
 ,
 *8*) ریلوے کی وزارت یکم جولائی سے راجدھانی، شتابدی، دورنتو اور میل ایکسپریس ٹرینوں کی طرز پر سہولت ٹرینیں چلائے گی۔
 ,
 *9*) ریلوے یکم جولائی سے پریمیم ٹرینوں کو مکمل طور پر بند کرنے جا رہا ہے۔
 ,
 *10*) سوویدھا ٹرینوں میں ٹکٹوں کی واپسی پر 50% کرایہ واپس کیا جائے گا۔  اس کے علاوہ، AC-2 پر 100/- روپے، AC-3 پر 90/- روپے، سلیپر پر 60/- روپے فی مسافر کاٹ لیے جائیں گے۔
 مفاد عامہ میں جاری کیا گیا۔
 ,
 *ٹرین میں لاپرواہی سے سونا*، منزل اسٹیشن پر پہنچتے ہی ریلوے جاگ جائے گا....
 ,
 آپ کو 139 پر کال کرکے اپنے PNR پر Wakeup Call-Destination Alert سہولت کو چالو کرنا ہوگا۔
 ,
 ریلوے نے رات کو ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے منزل اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ویک اپ کال ڈیسٹینیشن الرٹ کی سہولت شروع کردی ہے۔
 ,
 *منزل الرٹ کیا ہے*
 ,
 > اس فیچر کو *Destination Alert* کا نام دیا گیا ہے۔
 ,
 سہولت کے فعال ہونے پر، منزل کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ہی موبائل پر الارم بج جائے گا۔
 ,
 > فیچر کو چالو کرنے کے لیے
 ,
 *انتباہ* ٹائپ کرنے کے بعد
 ,
  *PNR نمبر* ٹائپ کرنا ہوگا۔
 اور 139 پر بھیج دیں۔
 ,
 > 139 *کال کرنا ہے*۔
 کال کرنے کے بعد، زبان منتخب کریں اور پھر 7 ڈائل کریں۔
 ,
 *7 ڈائل کرنے کے بعد، PNR نمبر* ڈائل کرنا ہوگا۔  اس کے بعد یہ سروس ایکٹیویٹ ہو جائے گی۔
 ,
 > اس فیچر کو *ویک اپ کال* کا نام دیا گیا ہے۔
 ,
 موبائل کی گھنٹی اس کے موصول ہونے تک بجتی رہے گی۔
 ,
 اس سروس کو چالو کرنے پر، اسٹیشن پر آنے سے پہلے موبائل کی گھنٹی بج جائے گی۔  یہ گھنٹی اس وقت تک بجتی رہے گی جب تک آپ فون وصول نہیں کر لیتے۔  فون موصول ہونے پر مسافر کو بتایا جائے گا کہ اسٹیشن پہنچنے والا ہے۔
 ,

بدھ, جون 29, 2022

بہار میں اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کے 5 میں سے 4 ایم ایل اے آر جے ڈی میں شامل


تیجسوی یادو نے کیا بڑا کھیلا ، بہار میں اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کے 5 میں سے 4 ایم ایل اے آر جے ڈی میں شامل
(اردو دنیا نیوز۷۲)
آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کو بہار میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ان کی پارٹی کے پانچ میں سے چار ایم ایل اے آر جے ڈی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اختر الایمان کو چھوڑ کر باقی چار ایم ایل ایز نے پارٹی چھوڑ دی۔ بدھ کو آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ تمام ممبران اسمبلی اسپیکر کے پاس پہنچے۔
آر جے ڈی نے بہار میں اویسی کی پارٹی کو بڑا توڑ دیا ہے۔ تیجسوی یادو بدھ کی شام پریس کانفرنس کرکے اس بارے میں پوری معلومات دیں گے۔ بتا دیں کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کے 5 ایم ایل اے جیت کر اسمبلی پہنچے تھے۔ ان میں سے چار ایم ایل اے اب پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں شاہنواز، محمد انجر نعیمی، محمد اظہار آصفی اور سید رکن الدین کے نام شامل ہیں۔

اویسی کی پارٹی سے چار ایم ایل اے آنے کے بعد آر جے ڈی بہار اسمبلی میں واحد سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ پارٹی کے پاس اب کل 80 ایم ایل اے ہیں۔ بی جے پی دوسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے جس کے ایم ایل اے کی تعداد 78 ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ تیجسوی یادو طویل عرصے سے اے آئی ایم آئی ایم کو آر جے ڈی میں ضم کرنا چاہتے تھے۔ وہ اویسی کی پارٹی کے ایم ایل اے سے مسلسل رابطے میں تھے۔ تاہم اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اختر الایمان کے ساتھ انضمام کی بات نہیں ہو سکی۔ لیکن تیجسوی پانچ میں سے چار ایم ایل اے کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے میں کامیاب رہے۔

مہا نندا ندی نے اعظم نگر میں خطرے کے نشان کو کیا پار

مہا نندا ندی نے اعظم نگر میں خطرے کے نشان کو کیا پار

کٹیہار، 29 جون (اردو دنیا نیوز۷۲)۔ ضلع سے گزرنے والی گنگا، مہانندا، کوسی اور برانڈی ندیوں سے پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اعظم نگر اور دھابول میں مہانندا ندی خطرے کے نشان کو پار کر چکی ہے۔ مہانندا کے پانی کی سطح بڑھنے سے ساحلی علاقوں کے کئی گاؤں زیر آب آگئے ہیں اور آمدورفت متاثر ہوا ہے۔ اعظم نگر بلاک علاقے کے چولہر پنچایت کے تحت چاند پور بیریا سمیت کئی گاؤں سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں۔

بدھ کی صبح فلڈ کنٹرول ڈویزن کٹیہار کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق مہانندا ندی اعظم نگر میں خطرے کے نشان 29.89 میٹر پار کرکے 30.10 پر بہہ رہی ہے۔ اسی طرح جھاؤ میں انتباہی نشان 30.80 میٹر سے بڑھ 31.15 میٹر ۔ بہرکل میں 30.48 میٹر سے بڑھ کر 31.07، دھابول میں 28.65 میٹر سے بڑھ کر 29.26 میٹر، کرسل میں 30.78 میٹر سے بڑھ 31.20، درگاپور میں 27.44 میٹر سے بڑھ کر 27.75 میٹر، اور گووند پور میں 26.52 میٹر سے گھٹ کر 25.71 میٹر پر بہہ رہا ہے۔

ضلع کے کرسیلا، منیہاری اور احمد آباد بلاکوں سے گزرنے والی گنگا ندی کے پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، لیکن دھار کے کنارے رہنے والے لوگوں میں اب بھی خوف کا ماحول ہے۔ گنگا ندی رامائن پور میں انتباہی نشان 26.65 میٹر سے نیچے 23.07 میٹر، اور کڑھا گولا گھاٹ میں 28.96 میٹر سے نیچے 25.65 میٹر پر بہہ رہی ہے۔ جبکہ برانڈی ندی این ایچ 31 ڈومر کے پاس خطرے کے نشان 28.96 میٹر سے نیچے 27.94 میٹر، کاری کوشی چین 389 میٹر کے قریب 27.13 میٹر نیچے اور کوسی ندی کرسلا ریلوے برج کے پا س 29.50 میٹر سے نیچے 25.70 میٹرپر بہہ رہی ہے۔ اس درمیان فلڈ کنٹرول ڈویزن کے مطابق ضلع میں تمام پشتے محفوظ ہیں اور ضلع انتظامیہ 24 گھنٹے سیلاب کو لیکر الرٹ موڈ میں ہے۔

بہار میں صبح سے ہو رہی بارش، محکمہ موسمیات کا الرٹ

بہار میں صبح سے ہو رہی بارش، محکمہ موسمیات کا الرٹ

پٹنہ، 29 جون (اردو دنیا نیوز۷۲)۔ راجدھانی پٹنہ سمیت بہار کے کئی اضلاع میں صبح سے ہو رہی بارش سے باشندگان پٹنہ کو گرمی سے کچھ راحت ملی ہے۔ صبح سے ہورہی بارش کے باعث درجہ حرارت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پٹنہ سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں بارش کے ساتھ ساتھ گرج چمک کے الرٹ جاری کیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے پٹنہ کے کچھ علاقوں کے ساتھ ساتھ مظفر پور، سمستی پور، ویشالی، بکسر، نالندہ، نوادہ، شیخ پورہ، بیگوسرائے، کھگڑیا، سہرسہ، دربھنگہ اور مدھوبنی میں بارش اور بجلی گرنے کی پیشن گوئی کی ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے پٹنہ کے کچھ علاقوں میں آج صبح 8 بجے سے 11 بجے تک گرج چمک کے ساتھ طوفان کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گئی پیشن گوئی کے مطابق آج بہار کے 19 اضلاع میں بارش ہوگی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بہار میں بیک وقت دو ہواؤں کا سسٹم سرگرم ہے۔ اس کے ساتھ ہی طوفانی ہواؤں کا اثر راجستھان سے خلیج بنگال تک برقرار ہے جس کی وجہ سے شمالی بہار کے تمام اضلاع میں ہلکی بارش ہونے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی حصے کے پٹنہ، گیا، نالندہ، نوادہ سمیت 19 اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہوگی۔ وہیں محکمہ موسمیات نے سیوان، گوپال گنج، مغربی چمپارن میں موسلادھار بارش کو لیکر الرٹ جاری کیا ہے

زیارت حرمین شریفین مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

زیارت حرمین شریفین 
(اردو دنیا نیوز۷۲)
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
 زیارت حرمین شریفین کی خواہش ہر مؤمن کے دل میں انگڑائی لیتی ہے، وسائل میسر ہوں اور اللہ بلائے تو اس خواہش کی تکمیل بآسانی ہوجاتی ہے، کبھی کبھی وسائل نہیں بھی ہو تو اللہ بلا لیتا ہے، وہ ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ بندہ بآسانی حرمین شریفین تک پہونچ جاتا ہے اور کیوں نہ ہو جب آسمان وزمین کے خزانہ کی ملکیت اسی کی ہے، وسائل کی موجودگی کے با وجود بلاہٹ نہ ہو تو انسان دل مسوس کر رہ جاتا ہے۔
 پھر جو خوش قسمت حرمین شریفین تک پہونچ جاتا ہے وہ پوری زندگی ان احوال وکوائف کو بیان کرتا رہتا ہے، یہ بیان تقریری بھی ہوتا ہے اور تحریری بھی ، لکھنا آتا ہے تو قلبی واردات ، وکیفیات کا ذکر تحریری ہوتا ہے، کبھی سفر نامے کی شکل میں اور کبھی حج وزیارت پر ایک باب میں اضافہ کی شکل میں، اس فہرست میں ڈاکٹر کلیم عاجز کی ’’یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ‘‘ ، عبد الخالق خلیق کی ’’حاضری‘‘ ، راقم الحروف (محمد ثناء الہدیٰ قاسمی)کا سفرنامہ’’ یہ سفر قبول کرلے‘‘  مولانا رضوان احمد ندوی کی ’’گھر سے بیت اللہ تک‘‘ شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں، اس سلسلے میں بعض حیثیت سے ممتاز مفتی کے سفرنامہ’’ لبیک‘‘ کی حیثیت بھی ادبی دنیا میں تسلیم کی گئی ہے ، یہ ایک ایسے شخص کا سفر نامہ ہے جو قلبی واردات بھی لکھتا ہے اور باغیانہ انداز میں اسرار ورموز بھی واشگاف کرتا جاتاہے، خود ممتاز مفتی نے اسے سفر نامہ کے بجائے رپوتاز قرار دیا ہے ، حج کے سفر ناموں میں سورش کشمیری کا سفر نامہ’’شب جائیکہ من بودم‘‘ غلام ثقلین کی ’’ارض تمنا‘‘ عبد اللہ ملک کے ’’حدیث دل ‘‘ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان سفر ناموں میں حج کے حوالہ سے نئی نئی جہتوں کا ادراک واحساس ہوتا ہے۔
اردو میں حج کا پہلا سفرنامہ حاجی محمد منصف علی کا ’’ماہ مغرب المعروف بہ کعبہ نما‘‘ کے نام سے ۱۹۱۷ء میں سیدھے سادے اسلوب میں لکھا گیا اور طبع ہو کر مقبول ہوا، اس کے بعد ۱۸۴۴ء میں سید شاہ عطا حسین فانی گیاوی نے ’’ دید مغرب المعروف بہ ہدایت المسافرین ‘‘کے نام سے اور نواب سکندر بیگم نے ’’یاد داشت تاریخ وقائع حج‘‘ کے نام سے اپنا سفر نامہ لکھا، لیکن یہ دونوں سفرنامے طباعت کے مرحلے سے گذر نہ سکے، مزید معلومات کے لیے حج کے سفرنامے پر ڈاکٹر محمد شہاب الدین کا تحقیق مقالہ جو انہوں نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے لکھا ہے، مطبوعہ شکل میں موجود ہے، اس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
 اس طویل سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی جناب ارشد انور الف (ولادت ۱۵؍ جنوری ۱۹۷۰ء )بن الحاج افضل حسین (م ۲۳؍ستمبر ۲۰۱۸ئ) ساکن گیاری ضلع ارریہ ، استاذ آزاد اکیڈمی ارریہ کا یہ سفرنامہ ہے، موصوف نے ۲۰۱۴ء میں بہار حج کمیٹی کی جانب سے خادم الحجاج کے طور پر حرمین شریفین کا سفر کیا تھا، اس سفر نامہ میں جو کچھ دل پر گذری اس کو پیش کیا ہے، اس کے ساتھ اس کے دوسرے حصہ میں رہنمائے حج وزیارت کے طور پر ضروری مسائل ، دعائے مسنونہ ، زیارت کے آداب وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی ہے ، اس طرح یہ سفر نامہ ماضی میں لکھے گئے سفرناموں کے دونوں مقاصد کی تکمیل کرتا ہے، حج کے ابتدائی سفر ناموں میں آپ پائیں گے کہ ان میں معلومات اور مناسک کی تفصیل زیادہ اور واردات قلبی کا ذکرلیکن موجودہ دور کے سفرناموں میں مناسک کم اور دلی کیفیات کا اظہار زیادہ ملتا ہے، اگر ایک جملہ میں اس کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ابتدائی سفر ناموں میں ’’کیا ہے‘‘ کی تفصیل ہوتی تھی اور موجودہ حج کے سفرنامے کا محور’’کیا پایا‘‘ ہے، اس طرح کہنا چاہیے کہ آج کل کے سفرنامے میں حج وزیارت کے ایام کی آپ بیتی ہیں جن میں مقصد سفر کے ساتھ اپنے قلبی واردات وکیفیات ، محسوسات وتجربات کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔
 ارشد انور ’’الف‘‘ نے بڑی خوبصورتی سے دونوں دور کے انداز کو الگ الگ حصوں میں ہمیں برت کر دکھایا ہے، ہم اس سفرنامے سے ان کے دلی جذبات واحساسات کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں اور مناسک حج کو بھی سمجھ سکتے ہیں، کتاب کی ضخامت بہت نہیں ہے، مختصر میں بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے، مصروفیت کے اس دور میں ضخیم کتاب پڑھنے کے لیے نہ تو وقت ہے اور نہ قوت خرید، ارشد انور الف اس راز کو اچھی طرح جانتے ہیں، اس لیے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے مختصر انداز میں اپنی بات رکھنے کا کام کیا ہے۔
 ارشد انور صاحب اصلا سائنس کے استاذ ہیں، سائنس جیسے خشک اور کھر درے مضمون کے ساتھ ادب لطیف کا گذر ذرا کم ہی ہوتا ہے، لیکن ارشد انور سائنسی حقائق وانکشافات کی معلومات کے ساتھ اپنے سینہ میں ایک درد مند دل بھی رکھتے ہیں، موقع ملتے ہی یہ درد مند دل ادب لطیف کے نرغے میں چلا جاتا ہے، پھر وہ کہانیاں لکھنے لگتے ہیں، شاعری بھی کرتے ہیں اور نثر بھی خوبصورت لکھتے ہیں۔
 ارشد انور نے اپنا تخلص ’’الف ‘‘ رکھا ہے، مجھے وجہ تسمیہ نہیں معلوم؛لیکن بچپن میں استاذ نے پڑھایا تھا ’’الف‘‘ سے اللہ کو پہچان ’’ب‘‘ سے بڑوں کا کہنا مان، ارشد انور اللہ کو پہچاننے کے مرحلے سے گذر رہے ہیں، اس مرحلہ کو عروج بخشنے میں زیارت حرمین شریفین کا خاص حصہ ہے، کیوں کہ انہوں نے مکہ میں کعبہ کی تجلیات ، اللہ کے جلال اور مدینہ طیبہ سے اللہ کے رسول کے جمال کو کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یہ دونوں چیزیں معرفت الٰہی کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہیں، انہیں سرمۂ کیمیا کہا جا سکتا ہے۔
 میں اس اہم کتاب کی تصنیف وتالیف پر ارشد انور ’’ الف‘‘ کو مبارکباد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ کتاب مقبول بھی ہو اور یہ سفر ان کاآخر سفر ثابت نہ ہو آپ بھی ہماری اس دعا پر آمین کہیے اور پڑھنے کے لیے تھوڑا انتظار کیجئے، میں بھی مسودہ کو مطبوعہ شکل میں دیکھنے ض کا منتظر ہوں۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...