Powered By Blogger

اتوار, ستمبر 04, 2022

کانگریس اپنا محاسبہ کرے __مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

کانگریس اپنا محاسبہ کرے __
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
اردو دنیا نیوز٧٢
اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس اس ملک کی سب سے بڑی پرانی سیاسی پارٹی ہے ، اس نے اپنے وجود کے ایک سو چوتیس پینتیس سال پورے کر لئے ، ان سوسوا سو برسوں میں اس نے بہت سے نشیب وفراز دیکھے، لیکن بحیثیت سیاسی پارٹی کے اس کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا، ماضی میں اسے تین چار بار تقسیم کے عمل سے بھی گذرنا پڑا، آزادی کے قبل بھی اور آزادی کے بعد بھی ، لیکن ان میں سے بیشتر پھر اس کے سایہ کے نیچے آگیے۔
 آج اسے ایک بار پھر شناخت کا مسئلہ در پیش ہے اور اسی مسئلہ کی وجہ سے اس کا استحکام متزلزل ہو رہا ہے ، اور اس صورت حال کے لئے وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو کانگریس کے طے شدہ نظریات پر مکمل یقین اور اعتماد نہیں رکھتے، اپنے بے تکے بیانات سے پارٹی کی ساکھ کو کمزور کرتے رہے ہیں، ششی دھرور اس معاملہ میں دو چار قدم آگے ہی ہیں یعنی کانگریسیوں کے اندر باہمی تال میل کے فقدان سے پارٹی کو نقصان پہونچ رہا ہے ، اور شاید یہی وجہ ہے کہ مرکز سمیت متعدد ریاستوں میں وہ اقتدر سے محروم ہوئی ، وہ مضبوط قلعے بھی منہدم ہو گئے ، جہاں عرصہ تک ان کی حکومت تھی ، اس کی بنیادی وجہ پارٹی کا اندرونی خلفشار اور انتشار ہے جو فکری بھی ہے اور عملی بھی، اس کے لئے سب سے پہلے پارٹی اپنے قول وعمل کا محاسبہ کرے ۔ اپنی بنی ہوئی عوامی حمایت اور کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرے ، مسلمانوں کو اعتمادمیں لے کر اپنا سیکولر چہرہ سامنے لائے ، دیکھا یہ جا رہا ہے  کہ ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات کے بعد وہ شکست خوردگی کی چادر اوڑھ کر سوتی جا رہی ہے ، الیکشن میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ، راہل گاندھی کا کانگریس کی صدارت سے راہ فرار اختیار کرلینا گویا میدان چھوڑ کر بھا گنا اور پارٹی کو بے سروسامانی کی حالت میں چھوڑنا ہے، شکست سے زیادہ شکست خوردگی کا احساس جان لیوا ہوتا ہے، اور ملک جن نظریاتی جنگ سے گذر رہا ہے ، ان حالات میں اگر اس نے اپنی موثر قیادت اور اپوزیشن کا رول نہیں نبھایا تو آنے والے دنوں میں ملک کے جمہوری ڈھانچوں کے تانے باتے بکھرنے شروع جا ئیں گے  پھر پارٹی کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔

باشندگان موضع شاہ علی پور کوٹره عرف گانوڑی کے زیرِ اہتمام ایک روزہ دینی بیداری اجلاس عام

باشندگان موضع شاہ علی پور کوٹره عرف گانوڑی  کے زیرِ اہتمام ایک روزہ  دینی بیداری اجلاس عام
اردو دنیا نیوز ٧٢
بتاریخ 10 صفر المظفر 1444 ہجری بمطابق 8 ستمبر 2022 بروز جمعرات بعد نمازِ عشاء
جِس میں
 ولی کامل     رہبر شریعت حضرت  اقدس مفتی عبد الرحمٰن صاحب مدظلہ نقشبندی 
اُستاد مدرسہ شاہی مراد آباد و خلیفہ حضرت  پیر ذو الفقار صاحب دامت برکاتہم
حضرت قاری الطاف حسین صاحب دامت برکاتہم مہتمم مدرسہ  اختر العلوم جلال آباد بجنور و خلیفہ حضرت مفتی عبد الرحمٰن صاحب نو گاواں سادات 
استاذ القراء حضرت قاری محمد حماد صاحب اُستاد تجوید و قرآت مدرسہ شاہی مراد آباد
مقرر نوجواں حضرت مولانا مفتی محمد معاذ صاحب  قاسمی دامت برکاتہم  امام و خطیب جامع مسجد شہر نورپور
ناظمِ ذیشان حضرت  مولانا   ابنِ حسن صاحب دامت برکاتہم  امام و خطیب مسجد قا ضیان  جلال آباد 
تمام حضرات سے شرکت کی پُر زور اپیل کی جاتی ہے
المعلن انس حسامی بجنوری 

ہفتہ, ستمبر 03, 2022

دھرم شالہ : بادل پھٹنے سے سیلاب ، بچاؤ راحت رسانی کام جاری

دھرم شالہ : بادل پھٹنے سے سیلاب ، بچاؤ راحت رسانی کام جاری
اردو دنیا نیوز ٧٢
دھرم شالا، 3 ستمبر: سینئر عہدیداروں نے سنیچر کو یہاں خان پارہ علاقے کا دورہ کیا، جہاں ایک دن قبل بادل پھٹنے سے علاقے میں سیلاب آیا ہے۔امدادی کارکنوں کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کریں۔ اس علاقے میں جمعہ کو ہونے والی شدید بارشوں میں کئی مکانات اور دکانیں تباہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ 15 مکانات اور تین دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا اور 45 بھیڑیں اور بکریاں لاپتہ ہو گئیں۔ کانگڑا کے ڈپٹی کمشنر نپن جندال نے آج صبح پولیس سپرنٹنڈنٹ کشال شرما کے ساتھ خان پارہ کا دورہ کیا۔انہوں نے امدادی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ شدید بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کریں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جمعہ کو خان پارہ میں بادل پھٹنے کی اطلاع ملنے کے بعد، ایس ڈی آر ایف (اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس) کی ریسکیو ٹیم پانچ منٹ کے اندر جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔ تحصیلدار اپوروا شرما کی سربراہی میں ایک ٹیم کو بھی امدادی کاموں کے لیے جائے وقوع پر بھیجا گیا۔بجائزہ لیا جا رہا ہے اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع اور ذیلی اضلاع کی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی آفت کی اطلاع ملنے کے بعد فوری طور پر راحت اور بحالی کا کام کیا جا سکے۔ جمعہ کے روز ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث خانیارہ گاؤں میں ایک نالہ بہہ گیا جس سے مرکزی بازار میں نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ ناگ مندر روڈ پر کیچڑ گھروں اور دکانوں میں گھس گیا اور ایک چھوٹا پل بہہ گیا جس سے دھرم شالہ-سدھواڑی سڑک پر ٹریفک متاثر ہوا۔ سیلاب سے چند گاڑیوں کو بھی ارشوں سے ہونے والے نقصانات کا نقصان پہنچا۔

جمعیتہ علماء تحصیل نجیب آباد کے زیراہتمام

جمعیتہ علماء تحصیل نجیب آباد کے زیراہتمام
اروددنیانیوز٧٢
جلسہ اصلاح معاشرہ
موضوع کٹھورہ تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور میں بہن۔بیٹیوں کےلئے عظیم الشان
بتاریح ٤سیتمبر ٢٠٢٢بروز اتوار بوقت صبح ٩بجے  بمقام مدرسہ فیض القرآن موضوع کٹھورہ تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور
اسمائے گرامی حضرات علمائے کرام
حضرت مولانا کلیم الزاماں صاحب مدظلہ مہتمم مدرسہ رشیدیہ میمن سادات 
حضرتمولانا محمد ابرار صاحب مدظلہ امام جامع مسجد سمیع پور
شہنشاہ خطابت حضرت مولانا مفتی محمد افتخار احمد قاسمی صاحب مدظلہ مہتمم مدرسہ ضیاء العلوم کلر والی مسجد کیرت پور
حضرت قاری محمد شعیب نفیس صاحب  ناظم جمعیتہ علماء تحصیل نجیب آباد
حضرت مولانا جاوید صاحب 
حضرت حافظ منکشف عالم صاحب کمراج پور
الداعی حضرت مولانا محمد اقرار بیگ صاحب امام خطیب جامع مسجد کٹھورہ تحصیل نجیب آباد ضلع بجنور

چیف جسٹس کی فکر مندی ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

چیف جسٹس کی فکر مندی ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
اردو دنیا نیوز٧٢
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمن جلد ہی اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ہیں، اپنے طویل پیشہ دارانہ تجربات کی وجہ سے ہندوستان میں عدلیہ سے جس طرح اعتماد اٹھتا جا  رہا ہے ، اس سے وہ کافی فکر مند ہیں، انہوں نے عدلیہ سے اعتماد کھونے کو جمہوریت کی بقا کے لیے خطرہ قرار دیا اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پرزور دیا کہ عوام کا بھروسہ عدلیہ سے نہ اٹھے، اس کے لیے ضروری ہے کہ جج اور وکلاء مل کر زیر التوا مقدمات میں جلد انصاف فراہم کرائیں، ان کی رائے ہے کہ وکلاء کو عدالت کے علاوہ معاشرہ میں تبدیلی کے لیے بھی کام کرنا چاہیے، اس لیے کہ معاشرہ کے پُر امن اور متحد ہونے کی صورت میں ترقی کا عمل آسان ہوتا ہے، جسٹس رمن وجے واڑہ میں نو تعمیر شدہ کورٹ کمپلکس کے افتتاحی تقریب میں وکلائ، جج اور دانشوروں کے ایک مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔
 جسٹس رمن کی پوری تقریر کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے جو کہا سچ کہا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہا ہے، اس لیے کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے،پچاس (۵۰) مقدمات کا فیصلہ ہوتا ہے، تو سو (۱۰۰) نئے درج ہوجاتے ہیں، پارلیامنٹ کے حالیہ مانسون اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں چار کروڑ تراسی لاکھ سے زائد مقدمات سماعت کے منتظر ہیں۔ چار کروڑ سے زائد نچلی عدالتوں میں اور سپریم کورٹ میں بہتر ہزار مقدمات پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔
 عدالتوں کے بعض فیصلے ضابطے اور قانون کے اعتبار سے جس قدر بھی اہم ہوں اور عدالتی وقار کے پیش نظر جس قدر اس کا احترام کیا جائے، عوام کے حلق سے نیچے نہیں اترپاتے، ایسے میں عوام یہ سمجھنے لگی ہے کہ عدلیہ پر حکمراں طبقہ کا سخت دباؤ ہے، اور فیصلے قانون کی پاسداری کے بجائے دباؤ کے نتیجے میں آ رہے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ معاملات ومسائل پر فیصلے حکمراں کرتے ہیں، اور عدالت اسے قانونی زبان فراہم کرتی ہے ، اس دباؤ کا اظہار کئی مرتبہ جج صاحبان کی زبانی بھی سامنے آچکا ہے، اس لیے عوام کی اس سوچ کو یکسر بے بنیاد بھی نہیں کہا جا سکتا۔
 عدالت میں مقدمات کے التواء اور فیصلے میں تاخیر کی وجہ سے جمہوریت کو بڑا خطرہ لاحق ہے، اس کی وجہ سے قانو ن شکنی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، ریاستیں عدالت کے فیصلے کو نافذ کرنے میں آنا کانی کرتی ہیں اور اس کی منشا کے خلاف کبھی کبھی اس کے فیصلے رد بھی کر دیے جاتے ہیں، جیسا بلقیس بانو کے معاملہ میں ہوا، سپریم کورٹ نے مکان اور سرکاری ملازمت دینے کا ریاست کو حکم دیا تھا، جس پر عمل نہیں ہو سکا، اور اس کے بر عکس اجتماعی عصمت دری معاملہ میں عمر قید کے سزا یافتہ مجرمین کو گجرات حکومت نے چھوڑ دیا، اور چھ ہزار سے زائد دستخطوں سے جاری اس عرضی پر کوئی غور نہیں کیا گیا، جس میں مجرمین کو پھر سے سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی تجویز رکھی گئی ہے مجرمین بے خوف ہوکر گھوم رہے ہیں۔
 ان حالات میں عدلیہ کو اپنا کردار غیر جانب دار ہو کر ادا کرنے کی ضرورت ہے، عدالت جمہوریت کا اہم ستون ہے، اگر اس پر سے بھی عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو جمہوریت کے ساتھ، ملک کا بھی بڑا نقصان ہوجائے گا۔

جمعرات, ستمبر 01, 2022

یوپی:سرکاری مدارس کے لئے ضابطے، غیرسرکاری مدارس کا سروے

یوپی:سرکاری مدارس کے لئے ضابطے، غیرسرکاری مدارس کا سروے

اردو دنیا نیوز ٧٢

لکھنو: اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے بدھ کو ایک حکم نامہ پاس کیا جس میں سرکاری امدادیافتہ مدارس کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی منتقلی کی اجازت دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے ریاستی مدرسہ بورڈ کی خواتین عملہ کو زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال کی چھٹی بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس معاملے کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے ریاستی وزیر (اقلیتی بہبود) دانش انصاری نے میڈیا کو بتایا کہ یہ فیصلہ مدارس کے عملے کے ارکان اور اساتذہ سے مشاورت کے بعد لیا گیا ہے۔

اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت دانش نے کہا، "مدرسوں کے منتظمین کی منظوری اور یوپی مدرسہ تعلیم کے رجسٹرار کی منظوری سے امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ/غیر تدریسی عملے کے تبادلے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا گیا ہے۔ اب تک، بورڈ میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے ارکان کے ٹرانسفر کی اجازت نہیں تھی جسے نئے حکم نامے کے بعد لاگو کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، اتر پردیش حکومت کے نئے حکم کے مطابق، اب کسی بھی ملازم کے زیر کفالت افراد کو میت کے زیر کفالت کے طور پر نوکری دی جائے گی۔ یہ سہولت ان لوگوں کو بھی فراہم کی جائے گی جو مدت ملازمت میں انتقال کر جائیں گے۔ یہ ضلع اقلیتی بہبود افسر یا مدرسہ کے پرنسپل سے رضامندی حاصل کرنے کے بعد کیا جائے گا۔

نئے قوانین کے تحت مدارس میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کو اب میٹرنٹی لیو اور چائلڈ کیئر چھٹیاں محکمہ ثانوی تعلیم اور بنیادی تعلیم میں لاگو قوانین کے مطابق ملیں گی۔ حکومت نے ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ وہاں موجود اساتذہ کی تعداد، نصاب اور انفراسٹرکچر کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔

انصاری نے بتایا کہ حکومت قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی ضرورت کے مطابق مدارس میں طلباء کو بنیادی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے ایک سروے کرے گی۔ ایک خبر رساں ایجنسی نے وزیر کے حوالے سے بتایا کہ "سروے بہت جلد شروع ہو جائے گا۔"

بدھ, اگست 31, 2022

پاکستان: سیلاب میں قبرستان بہہ گیا، میتوں کی دوبارہ تدفین

پاکستان: سیلاب میں قبرستان بہہ گیا، میتوں کی دوبارہ تدفین

اردو دنیا نیوز٧٢

پشاور؛:پاکستان میں سیلابی صورتحال بد سے بد تر ہوگئی ہے۔ ملک کا نصف سے زیادہ حصہ زیر آب ہے۔ ہاہا کار کا عالم ہے۔ حالات یہ ہیں کہ زندہ تو زندہ اب مردے بھی سیلاب کی زد میں ہیں۔ سیلاب نے کئی قبرستانوں کو نگل لیا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جہاں دیگر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے وہیں کچھ علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے قبرستان بھی شدید متاثر ہوہے ہیں۔چارسدہ کی تحصیل شب قدر کا دلزاک قبرستان بھی انہی قبرستانوں میں سے ایک ہے جہاں سیلابی پانی داخل ہو کر کئی قبروں کا بہا لے گیا اور اب وہاں مدفون میتوں کے عزیز و اقارب دوبارہ ان میتوں کی تدفین کر رہے ہیں۔

دریائے کابل کے کنارے دلزاک قبرستان سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرہ ہوا تھا اور اب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے میتوں کو دوبارہ دفن کرنے کے لیے تابوت فراہم کیے گئے ہیں۔ ضلعی ڈپٹی کمشنر عبدالرحمان کے مطابق زمینی کٹاؤ کی وجہ سے سیلابی پانی دریا کے قریب موجود قبروں کو بہا کر لے گیا تھا۔

مقامی لوگوں نے جب نشان دہی کی تو انہیں تابوت فراہم کیے گئے تاکہ ان میتوں کے عزیزواقارب ان کی دوبارہ تدفین کر سکیں اور اب میتوں کو دوبارہ دفن کر دیا گیا ہے۔

چارسدہ کے علاوہ نوشہرہ کے علاقے امان گڑھ میں واقع قبرستان بھی دریائے کابل میں سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اور سیلابی پانی اب بھی قبرستان میں موجود ہے۔ دلزاک علاقے کے رہائشی آصف خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ 'یہ اس علاقے کا تاریخی اور پرانا قبرستان ہے جہاں پر ہمارے بزرگ اور عزیزو اقارب دفن ہیں لیکن 20 سے 25 قبریں سیلابی پانی میں بہہ گئی ہیں۔'

اس علاقے میں دریائے کابل کے کنارے آبادی بھی واقع ہے اور سیلاب نے پہلے گھروں کو متاثر کیا اور بعد میں قبرستان کی زمین کی کٹائی شروع کی۔ سیلاب کے دوران بعض لوگوں نے اپنے عزیزو اقارب کے میتوں کو وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر بھی دفن کیا۔

مطابق چارسدہ میں سیلاب متاثرین کے لیے قائم کیمپ میں دو بچے پانی میں ڈوب گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق پانی میں ڈوبنے والے دونوں بچے بہن بھائی تھے جن کی عمریں آٹھ اور گیارہ سال تھیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے بچوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دیں ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ملک بھر میں مجموعی طور پر ہونے والی 1186 اموات میں 386 بچے شامل ہیں۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...