Powered By Blogger

بدھ, ستمبر 07, 2022

مدارس کی حفاظت کاواحد راستہ

مدارس کی حفاظت کاواحد راستہ 
اردو دنیا نیوز٧٢
میرے عزیزو! 
 آج ہمارے دینی مدارس کے لیے ایک ہی راستہ ہے،اور وہ یہ کہ وہ زندگی کا استحقاق ثابت کریں، وہ یہ ثابت کریں کہ اگر وہ نہ رہے تو زندگی بے معنی ہوجائے گی، اور کم سے کم اس میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگا،جس کو اور کوئی پر نہیں کرسکتا، باقی رحم کی درخواست نہ کبھی دنیا میں سنی گئی ہے، نہ کبھی سنی جاسکتی ہے، اور یہ زمانہ تو جمہوریت کا ہے،اس میں تو اب بالکل اس کی گنجائش نہیں رہی کہ ہم یہ کہیں کہ بھائی ہمیں فلاں حکومت نے باقی رکھا،فلاں حکومت نے باقی رکھا، ہم فلاں دور میں باقی رہے،فلاں دور میں باقی رہے،آپ بھی ہمیں باقی رکھئیے، یا آپ یہ کہیں کہ ہم نے آزادی میں اتنا حصہ لیا تھا،ہمارا استحقاق ہے،اس کو اب دنیا ماننے کے لیے تیار نہیں ہے" (پاجاسراغ زندگی)
آج سے پچاس سال قبل حضرت علی میاں رحمۃ نے یہ باتیں دارالحدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیرکی اپنی تقریر میں پیش کی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج ہی حضرت اہل مدارس سے مخاطب ہیں اورموجودہ حالات کی روشنی میں نصیحت فر مارہے ہیں، 
اس تقریر کے ایک ایک جملہ میں کتنی صداقت اورسچائی ہے؟آج ہمارے سامنے کھل کر آگئی ہے۔اس وقت خاص نظریہ کی ملک میں بالا دستی ہوگئی ہے،ہم نے اتنے مدرسے بند کرادئے یہ بات بڑے فخر کے ساتھ کہی جارہی ہے، مدارس پر بلڈوزر چلے یہ خبر اخبارات کی زینت بن رہی ہے، ہر چہار جانب سے مدارس کو بند کرنے اور کرانے کی بات ہورہی ہے، ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں مدارس کو بند کرنے کے لیے باضابطہ روٹ پلان طےکرلیا گیا ہے،اوراس سمت میں کام بھی شروع ہوگیا ہے،
یوپی حکومت نےان تمام مدارس کےسروےکا فیصلہ صادر کیا ہےجو سرکار سے مالی تعاون نہیں لیتے ہیں،آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟ ایسےسوالات پوچھے جارہے ہیں جس سے صرف حکومت کی نیت پر سوال کھڑا نہیں ہوتا ہے بلکہ صاف طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کی منظم کوشش ہے۔ملک کی ریاست آسام میں تین مدارس بلڈوزرسے منہدم کر دیے گئے ہیں،یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہورہا ہے،ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم اہل مدارس خاموش بیٹھے ہیں،ہم آئین کا حوالہ دیتے ہیں کہ اپنی پسند کے ادارے قائم کرنا مدارس قائم کرنا یہ ہمارا آئینی حق ہے، اس سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا ہے، مگر ہماری آواز صدا بصحرا ثابت ہورہی ہے، 
 ابھی گزشتہ کل کی بات ہے، دہلی میں" اجلاس تحفظ مدارس"  کے عنوان پر باضابطہ پروگرام منعقد کیا گیا،اسمیں پوری ریاست سے مدارس کےمہتمم صاحبان شریک ہوئے ہیں، حکومت سے گفت وشنید کی تجویز لی گئی ہے، مدارس کے ڈیڑھ سو سالہ کارناموں کا حوالہ دیکر اپنا مستقل وجود ثابت کیا گیا ہے، جنگ آزادی میں اہل مدارس کی قربانیاں گناکر اپنااستحقاق پیش کیاگیاہےاور رحم کی درخواست بھی کی گئی ہے، مگربقول حضرت علی میاں رحمۃ اللہ یہ حکومت ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، ساری گزارشات بے کاراور ساری کوششیں بے سود ہورہی ہیں،سابقہ مشاہدہ یہی کہتا ہے، کوئی گزارش قبول ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔  بقول شاعر۰۰ کوئی امید بر نہیں آتی 
                      کوئی صورت نظر نہیں آتی 
اور۰۰۰ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی" کا مصداق بن گیا ہے ۔ایک سوال پھر آج یہ قائم ہوتا ہے کہ آخر اس مسئلہ کاحل کیا ہے؟
 حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے ملک ہند کے گہرے مطالعہ کے بعد یہاں مدارس کے وجود اور اس کی بقا کاواحد حل بتلایا ہے،یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج بھی اگر مولانا کی کہی ہوئی بات پر اہل مدارس متحد ہوجاتے ہیں ،اور عمل میں اسے لے آتے ہیں، تو یہی اس مسئلہ کا دائمی حل نظر آتا ہے، اوربعید نہیں کہ پورے ملک کی ہدایت کا راز بھی اسی میں چھپا ہوا ہے،۔
قرآن کریم کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے مولانا نے یہ کہا ہے کہ دریاؤں میں جوجھاگ اور پانی کا پھین ہوتا ہے وہ اڑجایا کرتا ہے، اورپانی جسمیں لوگوں کو نفع پہونچانے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔یہ قرآنی نظام ہے جو فائدہ پہونچانے والی چیزیں ہوتی ہیں انہیں باقی رہنے کا حق ہوتا ہے اور وہ باقی رہتی ہیں، دنیا بھی اسی اصول کوتسلیم کرتی ہے۔آج اہل مدارس کو ماہرین پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا کہتے ہیں:" آپ کسی علم میں کسی فن میں اختصاص پیدا کرلیں،امتیاز پیدا کرلیں،دنیا آپ کا لوہا مانے گی،اور معاشی مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، اور مدارس کا جو مسئلہ اس وقت ہمارے یہاں درپیش ہے، یہ سب ختم ہوجائے گا"(حوالہ سابق)
 مولانا اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج زمانہ انگریزی کا ہے،عربی زبان میں مہارت پیدا کرنے سے یہاں کیا ہوجائے گا، ملاحظہ کیجئے؛ آپ کہتے ہیں کہ طب یونانی کو زوال اس لیے ہے کہ ڈاکٹری آگئی ہے، ہومیو پیتھک آگئی ہے،اور جدید میڈیسن آگئی ہے، میں بالکل نہیں مانتا،طب یونانی کو اس لیے زوال ہوا کہ اب اس طرح کے طبیب نہیں پیدا ہوتے،۰۰۰۰اگر آج وہ پیدا ہوجائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے پاس ڈاکٹر جائیں، اس میں ذرا مبالغہ نہیں، آپ کے شہر کا سول سرجن جھک مار کر ان کے پاس جائے،(پاجاسراغ، ص:166)
دوسرا کام جس کی طرف حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے اہل مدارس کو متوجہ کیا ہے وہ دینی مکاتب کا قیام ہے،دراصل حضرت علی میاں رحمۃ اللہ کی نظر میں مکتب ہی مضبوط مدرسہ ہے جسے کوئی طاقت اکھیڑ نہیں سکتی ہے،
 حضرت کی زبان میں سنئے:
تیزی کے ساتھ ہندوستان بدل رہا ہے، ہر چیز کو نیشنلائز کیا جارہا ہے،۔۔۔مسلم یونیورسٹی کی باری آگئی، کل مدارس کی باری آسکتی ہے، تو اس کے لیے مکاتب کا جال بچھا دیجئے، اور مساجدکومسلمانوں کی زندگی کا مرکز بنایئے، سب سے آخر میں انقلاب کے قدم جہاں پہونچیں گے، وہ مسجدیں ہیں، اس لیے آپ ایسی جگہ اپنے مرکز بنایئے، جہاں دیر میں انقلاب پہونچے یاوہاں تک انقلاب پہونچتے پہونچتے قیامت آجائے، (حوالہ سابق )
مذکورہ دونوں باتیں اہل مدارس کے وجوداور بقا کےضامن ہیں، اس وقت اس پر منظم کوشش کی ضرورت ہے، ایک تیسری چیز جوحضرت علی میاں رحمۃ اللہ نے پچاس سال قبل مذکورہ بالا خطاب کے بعد شروع کیا ہے، وہ تحریک پیام انسانیت ہے،
آپ کی یہ تقریر ۱۹۷۳ء میں ہوئی ہے، اور سال کے اختتام پر ۱۹۷۴ء میں آپ نے الہ آباد کے پہلے اجلاس سے تحریک پیام انسانیت کا آغاز فرمایا ہے، اور اس تحریک کو ملک کی تمام دینی وملی تحریکوں کے لئے ضروری قرار دیا ہے،مولانا نے صاف صاف یہ کہا ہے کہ پیام انسانیت تحریک کے ذریعہ ہی اس ملک کی دھرتی کو ہموار کرسکتے ہیں، اور پھر اس پر ہمارا کوئی دینی وملی اور ادبی پروگرام منعقد ہوسکتا ہے،آج اہل مدارس کو اس کام کو اپنے وجود کی بقا کے لیے بھی کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۷/ستمبر ۲۰۲۲ء

منگل, ستمبر 06, 2022

مدرسہ سروے میں پوچھے جانے والے سوالات*

*مدرسہ سروے میں پوچھے جانے والے سوالات*
اردو دنیا نیوز ٧٢
(1)مدرسہ کانام؟
(2) کونسی سنستھا(کمیٹی) مدرسہ کو چلاتی ہے؟
(3)مدرسہ کب بنا تھا؟
(4)مدرسہ کی زمین نجی ہے یا کرایہ کی؟
(5)بچوں کو مول بھوت سودھا(بنیادی سھولیات ) ملتی ہیں یانہیں؟
(6)مدرسہ میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد؟
(7)مدرسہ میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد؟
(8)مدرسہ میں کیا پڑھایا جاتاہے یعنی نصاب کیا ہے؟
(9)غیر منظورشدہ مدرسوں کا ذریعہ آمدنی کیاہے؟
(10)مدرسہ میں پڑھنے والے بچے کسی اور اسکول میں پڑھتے ہیں یا نہیں؟
(مدرسہ کا تعلق کسی ngo(Non-governmental organization)
 یعنی غیر سرکاری ادارہ ۔یا سنستھاسے  ہے یا نہیں؟
یہ کل ۱۱ سوالات ہیں جو مدرسہ والوں سے کئے جائیں گے اس لئے ان کے جوابات تحریری شکل میں تیار رکھیں



 
پیش کردہ : 
حسین احمد قاسمی خادم دارالعلوم حسینیہ احمد پور شاہجہان پور وصدر جمعیة علماء ضلع شاہجہان پور یوپی

مائرہ سبطین کی یوم پیدائش کی دوسری سالگرہ پر رشتہ داروں نے دعاؤں سے نوازا

مائرہ سبطین  کی یوم پیدائش کی دوسری سالگرہ پر رشتہ داروں نے دعاؤں سے نوازا 
اردو دنیا نیوز٧٢
(حاجی پور 5 ستمبر  نمائندہ ) موضع بھیرو پور کے مشہور و معروف سابق استاد جناب شہاب الرحمن صدیقی صاحب کی نواسی  مائرہ سبطین بنت محمد سبطین نے 6 ستمبر 2022 ء بروز منگل اپنی عمر کے دو سال مکمل کر لیے۔ محض دو سال کی عمر میں ماشاءاللہ اس معصوم سی بچی کو کئ مسنون دعائیں ، اردو اور انگریزی کے حروف تہجی کے علاوہ چند الفاظ بھی ذہن نشیں ہیں ۔ ماشاءاللہ مائرہ سبطین بہت ہی زیادہ ذہین، اخلاق مند ، خوش مزاج اور چنچل ہے ۔ وہ اپنے گھر کے تمام افراد کی لاڈلی و چہیتی تو ہے ہی ساتھ ساتھ وہ اپنے خوش مزاجی اور چنچل پن کی وجہ کر تمام رشتہ داروں و پڑوسیوں کی بھی چہیتی ہے ۔ آج اس کی دوسری سالگرہ پر  نانا نانی ، والدین ، بڑے ابو ، گجو ، اور تمام چچا ، چچی ،    ماموں ممانی، خالہ خالو ، پھوپھا ، پھوپھی، بھائ بہن و تمام رشتہ داروں میں خوشی ہے اور تمام لوگوں نے اس کے بہتر صحت ، علم نافع ، دینداری اور بہتر مستقبل کی دعائیں دی ہیں ۔ مائرہ کے نانا جناب شہاب الرحمن صدیقی نے قارئین سے بھی  اپنی نواسی  کے روشن مستقبل کے لیے  دعا کی درخواست کی ہے ۔ یہ اطلاع مائرہ سبطین کے بڑے ماموں جان قمر اعظم صدیقی بانی و ایڈمن ایس آر میڈیا نے دی ہے ۔

مولانا یعقوب منشی اسماعیلؒ ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

مولانا یعقوب منشی اسماعیلؒ ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
اردو دنیا نیوز٧٢
مشہور ماہر فلکیات، نامور عالم دین، قرآن کریم کے عاشق، نمونۂ اسلاف، جامعہ اس روزلامیہ ڈابھیل کے سابق استاذ، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے شاگرد رشید، درجنوں اداروں ، مساجد ، ومدارس کے سر پرست ، جامعہ علوم القرآن جمبوسر کے قیام کے محرک اور اس کے رکن حضرت مولانا محمد یعقوب قاسمی بن منشی اسماعیل (گجرات) کا برانوے (۹۲) سال  کی عمر میں ان کے وطن ثانی ڈیوزوری، یوکے میں انتقال ہو گیا، تاریخ ۱۹؍ محرم ۱۴۴۴ھ مطابق ۱۸؍ اگست ۲۰۲۲ء کی تھی، جنازہ کی نماز ڈیوری میں ادا کی گئی اور وہیں مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، مولانا مرحوم کی ولادت چودہ محرم ۱۳۵۰ھ مطابق یکم جون ۱۹۳۱ء کو راندیر ضلع کے مشہور قصبہ کاوی میں ہوئی، ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے متداول نصابی کتابوں کوجامعہ اشرفیہ راندیر میں سبقاً سبقاً پڑھا، مختلف علوم وفنون اور عربی زبان وادب مضبوط صلاحیت پیدا کی، علمی تشنگی باقی تھی اس لیے دار العلوم دیو بند کا رخ کیا، اور یہاں کے نامور اساتذہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے صحیح بخاری، علامہ ابراہیم بلیاوی سے صحیح مسلم ، مولانا اعزاز علی امروہوی سے سنن ابود ؤد ، مولانا فخر الحسن ؒ سے سنن نسائی، مولانا ظہور احمد دیو بندی سے سنن ابن ماجہ پڑھی، ان کے درسی افادات سے فائدہ اٹھایا اور ۱۳۷۲ھ میں سند فراغ حاصل کیا۔
 تدریسی زندگی کا آغاز جامعہ اسلامیہ ڈابھیل گجرات سے کیا، کم وبیش دس سال یہاں درس وتدریس سے وابستہ رہے، اور فقہ واصول فقہ کی کتابیں زیر درس رہیں، ۱۹۶۴ء میں وہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ تشریف لائے اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ سے کار قضا کی تربیت لی اور اس میں مہارت پیدا کی، امارت شرعیہ سے استفادہ کا تذکرہ وہ اپنی مجلسوں میں کیا کرتے تھے، میں نے یہ بات ان سے بلا واسطہ سنی ہے ، ہر ملاقات میں وہ اکابر امارت شرعیہ کا تذکرہ بھی بڑی محبت سے کیا کرتے، حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ کے تو وہ عاشق تھے، امارت شرعیہ سے قضا کی تربیت مکمل ہونے کے بعد ۱۵؍ رمضان ۱۳۸۵ھ مطابق ۱۹۶۶ء میں برطانیہ کا رخ کیا اور وہاں شمالی برطانیہ کے ایک قصبہ ڈیوزوری کو اپنا مستقر بنایا، برطانیہ میں عائلی مسائل کو اسلامی انداز میں حل کرنے کے لیے دار القضاء کے نظام کو رائج کیا، البتہ مقامی مصلحت کی وجہ سے یہ نام انہوں نے نہیں استعمال کیا۔ ۱۴۰۹ھ میں مجلس تحقیقات شرعیہ برطانیہ کو قائم کرکے اسے علمی تحقیقی ادارہ بنایا، ایک مسجد کی تعمیر کرائی ،جسے وہ دینی واسلامی تعلیم کے فروغ کے ساتھ دعوت وتبلیغ کے کاموں کے لیے بھی استعمال کرتے تھے، اس کام میں جو بے راہ روی آئی ہے اس پر تنبیہ بھی کرتے رہتے تھے۔
 برطانیہ میں ان کی شناخت ماہر فلکیات کی حیثیت سے تھی ، رویت ہلال اور برطانیہ کے اوقات صلوٰۃ کے بارے میں لوگ ان کی آراکی قدر کرتے تھے، گویہ مسئلہ وہاں ابھی بھی لا ینحل ہے، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ اور مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ نے برطانیہ کے اس قضیے کو حل کرنے کی بڑی کوشش کی، لیکن وہاں اٹھارہ اور بائیس ڈگری کا معاملہ طے نہ ہو سکا، جو اس مسئلہ کے حل کے لیے بنیادی چیز ہے ۔
 حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ نے جب اسلامک فقہ اکیڈمی قائم کی تو اس کے سیمیناروں میں بہت پابندی سے شریک ہوا کرتے اور اپنے مقالہ کے ساتھ مناقشہ میں بھی خوب حصہ لیتے، دار العلوم ماٹلی والا بھروچ میں جب قاضی صاحب ؒ نے رویت ہلال پر سمینار کرایا تو کلیدی مقالہ ماہر فلکیات کی حیثیت سے انہوں نے پیش کیا تھا۔قاضی صاحب کے بعد ان کی توجہ کا مرکزمولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ تھے، ان کے دور میں بھی فقہی سیمیناروں میں ان کی شرکت ہوتی رہی۔
جیسا کہ مذکور ہوا، اللہ نے انہیں تحقیق وتصنیف کی مضبوط صلاحیت دی تھی، اوقات صلوٰۃ اور رویت ہلال سے خاص دلچسپی تھی، اسلامی ماہ اور رویت ہلال شریعت وعلم فلک کی روشنی میں ،برطانیہ میں صبح صادق کا وقت، برطانیہ میں اوقات نماز - مشاہدہ پر ایک نظر ، اوقات صوم وصلوٰۃ ، اسلامی نکاح وطلاق، برطانیہ واعلیٰ عرض البلاد پر صبح صادق وشفق کی تحقیق، ایصال ثواب کے لیے اجتماعی ختم قرآن وحدیث شریف کی شرعی حیثت، ان کی معروف اور مقبول کتابیں ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا عاشق بنایا تھا، فرصت کے سارے اوقات تلاوت قرآن میں صرف کیا کرتے ، میں نے اپنی بیش تر ملاقاتوں میں انہیں قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے پایا، تلاوت قرآن کے نورانی اثرات ان کے چہرے سے ہویدا تھے، وہ انتہائی وجیہ انسان تھے، لباس کے رکھ رکھاؤ نے انہیں اور بھی مرکز توجہ بنا دیا تھا۔
 میری ملاقات مولانا سے پہلی بار فقہی سمینار ہی میں ہوئی تھی ، پھر یہ تعلق بڑھتا گیا، امارت شرعیہ کا بھی کئی سفر انہوں نے کیا تھا، مسلسل ملاقات سے ایک تعلق خاطر ہو گیا تھا، پھر برطانیہ کا میرا سفر شروع ہوا، ڈیوزو ری کی طرف جانا ہوتا تو قیام ان کی مسجد میں ہی ہوتا، جمعہ کا دن ہوتا تو مسجد میں خطاب مجھ سے کرواتے۔فرصت ہوتی تو ایک وقت کی گھر پر دعوت بھی کرتے اور ممکنہ سہولت بہم پہونچانے کی کوشش کرتے، ۲۰۱۹ء میں میرا آخری بار سفر برطانیہ کا ہوا، وہ اس وقت انتہائی کمزور ہو چکے تھے، کمزوری کا اثر تمام اعضاء وجوارح اور قویٰ پر تھا، لیکن مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کرتے رہے، انتقال سے قبل حافظہ نے ساتھ چھوڑ دیا تھا اور وہ بستر سے لگ گیے تھے، پھر موت کے فرشتے نے آواز لگائی اور انہوں نے رخصت سفر باندھ لیا۔
 مولانا نے بھر پور زندگی گذاری وہ جامعہ علوم القرآن جمبوسر گجرات کی بنا کے محرک تھے اور پوری زندگی اس کے استحکام کے لیے ہر سطح پر تعاون فرماتے رہے، اس طرح یہ غم مولانا مفتی احمد دیولہ دامت برکاتہم اور ان کے صاحبزادگان کا غم ہے، ہم مولانا مرحوم کے تمام پس ماندگان ، متعلقین کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں او رمغفرت تامہ کی دعا پر اس مضمون کا اختتام کرتے ہیں۔

30 سال سے ڈیم میں ڈوبی مسجد اچانک باہر آگئی، لوگ جمع ہوگئے۔_________________________________

30 سال سے ڈیم میں ڈوبی مسجد اچانک باہر آگئی، لوگ جمع ہوگئے۔

_________________________________

اردو دنیا نیوز ٧٢

بہار کے نوادہ میں تین دہائیوں سے پانی میں ڈوبی ایک مسجد ملی ہے۔ 30 سال پانی میں رہنے کے باوجود مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ 3 دہائیوں سے پانی میں ڈوبی یہ مسجد نوادہ کے راجولی بلاک ہیڈکوارٹر سے 5 کلومیٹر دور پھولواریہ ڈیم کے قریب چندولی گاؤں کے قریب پوری طرح سے دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے بعد مسجد کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم ہوگیا۔
مسجد کے نظر آنے کی خبر قریبی گاؤں میں آگ کی طرح پھیلی تو مختلف علاقوں سے مسلمان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مسجد دیکھنے کے لیے ڈیم پر پہنچنے لگے۔ یہ مسجد پچھلے کچھ دنوں سے موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کئی نوجوان ہاتھوں میں چپل لیے مٹی میں داخل ہوتے ہیں اور مسجد کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاہم درمیان میں کیچڑ اور پانی کی وجہ سے وہ وہاں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں اور بہت دور سے واپس آ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ مسجد 120 سال پرانی ہے، لیکن گزشتہ 30 سال سے مسجد مکمل طور پر پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، اس کے باوجود مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، یہ 1984 میں بنی تھی، اس سے پہلے بھی مسجد ہوا کرتی تھی۔ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی ہے، یہ ڈیم حکومت نے زمین حاصل کرنے کے بعد تعمیر کیا، پھر ان جگہوں پر رہنے والے لوگ بے گھر ہو کر ہردیہ ڈیم کے ساتھ والے گاؤں میں آباد ہو گئے۔
محمد شمشیر کا کہنا تھا کہ ڈیم کی تعمیر کے بعد مسجد ایسی ہی رہ گئی تھی، پانی بھرنے کی وجہ سے مسجد کا صرف گنبد نظر آتا تھا، لیکن اب پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ سے پوری مسجد نظر آ رہی ہے۔

پیر, ستمبر 05, 2022

گداگری ____مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

گداگری ____
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
اردو دنیا نیوز ٧٢
کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا ، بھیک مانگنا اور گداگری کرنا ، انسانی غیرت وحمیت اور خود داری کے خلاف ہے ، اب بھی سماج میں بڑی تعدادمیں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بھوکے رہنا ، فاقہ پر فاقہ کرنا اور اپنی ضروریات کو مفلسی کی باعزت چادر تلے دبا کر سوجانا پسند کرتے ہیں ، وہ بے چین ضرور ہوتے ہیں ؛لیکن اس بے چینی میں بھی انہیں اتنا اطمینان ہوتا ہے کہ سر کے نیچے تکیہ نہیں ہوتا تو اپنی ہتھیلی کو تکیہ بنا لیتے ہیں، دن بھر کی سخت محنت ومشقت کے بعد بھی ان کے سروں پر چھت نہیں ہے ، اوروہ برسہا برس؛ بلکہ کبھی پوری زندگی فٹ پاتھ پر سو کر گذار دیتے ہیں، کیو نکہ اس حالت میں ان کی خودداری اور غیرت کو ٹھیس نہیں لگتی ہے ، اور وہ مانگنے کی ذلت سے بچ جاتے ہیں ، لیکن سماج کا ایک طبقہ وہ ہے جن کے نزدیک گداگری بھی دوسرے پیشوں کی طرح ایک پیشہ ہے ، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گدا گر بنانے کے لئے پورا ریکٹ کام کرتا ہے ، چھوٹے بچوں کو اغوا کرکے انہیں اپاہج بنا دینا ، اور انہیں گداگری کے پیشے سے لگا دینا عام سی بات ہے ، سڑک کے کنارے اورعام گزر گاہوں پرایسے گداگروں کی بڑی تعداد آپ روزانہ دیکھتے ہیں جن کے اعضاء وجوارح اس طرح ناکارہ ہیں کہ وہ جانوروں کی طرح رینگ بھی نہیں سکتے ، یہ پیدائشی اپاہج نہیں ہیں ، انہیں پڑھے لکھے گداگروں نے اس حالت تک پہونچا دیا ہے، انہیں صبح سویرے کوئی متعینہ مقام پر چھوڑ جاتا ہے اور دیررات گئے  اٹھا کر لے جاتا ہے ،غذا کے لئے چند لقمے کے بدلے دن بھر کی حصولیابی پر قبضہ جما لیتا ہے ، ہم انہیں معذو ر سمجھ کر مدد کرتے ہیں ، لیکن ہماری امدا د ان کے کام نہیں آ کران طاقتور گداگروں کے کام آتی ہے ، جو اسے ایک صنعت سمجھتے ہیں ، اوربغیر کسی پونجی کے آمدنی کا ذریعہ بھی، یہ ذریعہ اتنا کارگر ہے کہ ایک سروے کے مطابق ممبئی کے بھکاریوں کی کل سالانہ آمدنی ایک سو ا سی کروڑ روپے ہے ، اور پیشہ وارانہ چپقلش کی وجہ سے قتل وغارت گری تک کی نوبت آگئی ہے ، پولس کو ایک قتل معاملہ کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ یہ فقراء سو د پر روپے کا لین دین کرتے ہیں اور قتل اسی لین دین میں گڑبڑی کی وجہ سے ہوا ہے۔
ہمیں اس صور ت حال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے کی تعلیم وتربیت میں کوئی کمی ہے، جس کی وجہ سے ایک بڑی تعداد کو گدا گری کے پیشے سے منسلک ہونے پر مجبور ہوناپڑ رہا ہے ، غور طلب یہ بھی ہے کہ روز گار کے حصول کی غیر یقینی صورت حال ، استحصال اور سخت جدوجہد کا خوف تو اس کا محرک نہیں ہے، ہم نے جن مقاصد کے حصول کے لئے تعلیم کے سارے شعبوں کی ڈور معاش کے حصول اور روزی روٹی سے جو ڑ دیا ہے ، کہیں ہم اس میں ناکام تو نہیں ہوگیے ہیں ، سوا ل یہ بھی ہے کہ ہم نے جن پیشہ وارانہ تعلیم میں بچوں کو لگایا تھا، کیا اس میں معیار کی کوئی کمی رہ گئی ، یا ہم ان کی تربیت اس انداز میں نہیں کرسکے، جو ان کے اندر غیرت وخوداری جیسے اوصاف حمیدہ پیدا کر پاتی ، جس کے نتیجے میں ان کے اندر مفت خوری کا مزاج پروان چڑھ گیا ، سوالات اور بھی کئی ہیں جو ہر آدمی اپنی سطح سے سوچ سکتا ہے ۔
اسلام نے گداگری کو ہمیشہ ناپسند کیا ہے ، اس کی تعلیم یہ ہے کہ مانگنا ذلیل کام ہے ، اس لئے اس سے ہر ممکن اجتناب کرنا چاہئے اگر کسی کے پاس وقتی گذارے کے لئے کچھ ہے اور مفلسی و محتاجی اتنی نہیں ہیکہ وہ بھوکے مرجائے گا تو اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہئے ، اسے صرف اور صرف اس رب العالمین سے مانگنا چاہئے جو ہمار ی ساری ضرورتیں پوری کرتا ہے ، اور جس کے سامنے عاجزی ، انکساری ، اورگرگرانا ذلت نہیں، عبادت ہے، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو تے کا تسمہ بھی مانگنا ہو تو اللہ سے مانگو ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علہیم اجمعین نے اس فرمان پراس قدر سختی سے عمل کیا کہ سواری پر جاتے ہوئے جانوروں کو تیز رفتار کرنے والا کوڑا گرجاتا توسوار ی سے اتر کر خود اٹھاتے اور کسی سے یہ نہیں کہتے کہ ذرا کوڑا بڑھا دو ، یہ ان کی غیرت کی انتہا تھی ، اسی غیرت وخوداری کی وجہ سے وہ پیوند پر پیوند لگے کپڑے پہن لیا کرتے تھے ، پیٹ پر پتھر باندھ کر گذارہ کر لیتے تھے ، ایک کپڑے میں زندگی گذار دیتے تھے لیکن کسی انسان سے مانگنے کوباعث شرم وعار اور انسانی نفس کی عظمت کے خلاف تصور کرتے تھے ۔
دوسری طرف ایسے گدا گروں کے لئے جن کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ سامان موجود ہے ، پھر بھی وہ گدا گری پر اتر آتے ہیں ، وعیدیں بھی آئیں کہ وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو نوچتے ہوئے آئیں گے ان کے چہرے پر گوشت کا نام و نشان نہیں ہوگا ، ہڈیاں ہی ہڈیاں ہوگی۔ الامان والحفیظ ۔
مانگنے والوں سے متعلق اس فرمان کا تقاضہ ہے کہ گدا گری سے حد درجہ اجتناب کیا جائے اور نفس کی عزت کو ذلت میں نہ بدلا جائے یہ ہدایات مانگنے والوں کے لئے ہیں ،اب اگر کوئی اپنے کو ذلیل کرنے پرہی آمادہ ہوتو جودوبخشش ودادودہش کرنے والوں کو دوسرے احکام دیئے گئے ، اللہ ر ب العزت نے حکم دیا کہ جو مانگنے والا آئے اس کو جھڑکومت اور اپنے رب کی نعمتوں کوبیان کیا کرو ، بیان کبھی تو زبان سے ہوتا ہے ، اور کبھی حال سے ،نعمتوں کے بیان کی یہ بھی ایک شکل ہے کہ فقرا کو کچھ دیدیا جائے اور اگر کچھ دینا ممکن نہ ہو تو انتہائی نرمی سے معذرت کرلی جائے، اس سلسلے میں مانگنے والوں کی ظاہری ہیئت کو معیار نہ بنایا جائے ، حدیث میں آیا ہے کہ اگر مانگنے والا ایسے گھوڑے پر سوار ہوجس کی لگام سونے کی ہوتو بھی اس کو برا بھلا نہ کہا جائے ، نہ معلوم وہ کن حالات کا شکار ہے ، جس کی وجہ سے وہ تمہارے دروازہ پر آگیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایک متوازن نظام دیا گیا ہے ، جس میں کچھ ہدایات گداگروں کے لئے ہیں ، اور کچھ دادوہش کرنے والوں کے لئے ، دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے، روز گار کے مواقع پیدا کرنے چاہئے ، استْحصال سے باز آنا چاہئے اور تعلیمی اداروں میں عزت نفس غیرت وخود داری کے فروغ کے لئے تربیتی نظام کو قائم کرنا چاہئے تاکہ گداگر کوگدا گری کومعیوب سمجھنے لگیں ۔

اتوار, ستمبر 04, 2022

عورتوں سے متعلق بعض مسائل میں اسلام کا موقف

عورتوں سے متعلق بعض مسائل میں اسلام کا موقف ____
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)
اردو دنیا نیوز٧٢
اس وقت ذرائع ابلاغ اسلام پر جو اعتراضات کر رہا ہے ،اس میں اسلام کے حوالہ سے عورت کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ہمارے نام نہاد دانشور بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں، ہمارے وکلاء بھی ان اعتراضات کو حق بجانب قرار دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ اپنی ذہنی ساخت کی وجہ سے اسلام سے دور جاپڑے ہیں، ہو سکتا ہے بعض خاص شخص کے بارے میں معاملہ یہی ہو ، لیکن عمومی احوال ایسے نہیں ہیں ، بڑی تعداد ان دانشوروں اور وکلاء کی ہے ،جس کی ذہنی ساخت تو ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن مسلم پرسنل لا کے بارے میں ان کی معلومات سطحی اور نا قص ہیں، اس لیے کہ جن کتابوں کو اس کام کے لیے انہوں نے مطالعہ میں رکھا اور جن کے مندرجات سے وہ استفادہ کرتے رہتے ہیں وہ اسلامی اسکالر کی نہیں ہیں، وہ ان لوگوں کی تیار کردہ ہیں، جنہیں اسلام اور اس کی تعلیمات میں کیڑے نکال کر نفسیاتی تسکین ملتی ہے، عجیب وغریب بات یہ ہے کہ سارے علوم میں تحقیق کے لیے جن حوالوں کو دیکھاجاتا ہے وہ فرسٹ ریفرنس بک FIRST REFRENCE BOOKہوا کرتا ہے،لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے وقت وہ لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں اور سکنڈ ریفرنس بک سے کام چلاتے ہیں جو ایتھنٹک(Authentic) نہیں ہیں، شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی زبان سے وہ واقف نہیں ہیں، اور انگریزی زبان کے واسطے سے ترجمہ پڑھنا اور ڈائرکٹ اسی کو دیکھ کر کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر ہیں، اس لیے ساری توجہ ان کتابوں پر رہتی ہے جومسلم پرسنل لا کے نام سے مرتب کی گئی ہیں اور بہت ساری غلط چیزیں اس میں بھر دی گئیں ہیں، اس معاملہ میں تو بعض لوگوں نے مستشرقین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، ان حالات میں مسلم اسکالروں اور علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کی حقیقت کوسامنے لائیں اور بتائیں کہ عورت کے مسئلے اور ان سے متعلقہ احکامات میں صحیح اور درست وہی ہے جو اسلام نے کہا ہے، دقت یہ ہے کہ قرآن واحادیث سے حوالہ دے کر انہیں سمجھائیے تو اسے قدیم کہہ کر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کی بحث کا سارا رخ منطقی ہوتا ہے، اور قرآن واحادیث کو بالائے طاق رکھ کر ہوتا ہے ، حالانکہ مسلمانوں کے لیے یہ بات کافی ہے کہ بات سمجھ میں آئے یا نہیں، اللہ رسول کے حکم کے آگے سرجھکا دیاجائے،کیونکہ ہماری سمجھ کمزور ہو سکتی ہے،لیکن قرآن واحادیث کی تعلیم کی معقولیت میں کوئی کمزوری نہیں ہے۔ 
 مثال کے طور پر لڑکے لڑکیوں کی نابالغی میں شادی کا مسئلہ ہے ، مسلم پرسنل لا کے علاوہ نا بالغی کی شادی قانوناً جرم ہے،لیکن یہی قانون داں حضرات اس بات کو جائز قرار دیتے ہیں کہ اگر نا بالغ لڑکے اور لڑکی نے آپسی رضا مندی سے جنسی تعلق قائم کر لیا تو اس میں داروگیرکی گنجائش نہیں ہے، البتہ چونکہ یہ تعلق رضا مندی سے ہوا ہے ، اس لیے اسے ریپ (Rape)زنا بالجبر قرار نہیں دیا جاسکتا،جائز طریقے سے نا بالغی میں کی جانے والی شادی دنیاوی قانون میں درست نہیں ، البتہ نا جائز طریقے سے نا بالغی کی عمر میں رضا مندی سے زنا کرنا ان کے نزدیک جائز ہے، شریعت کہتی ہے کہ جائز طریقہ سے نکاح نابالغنی میں بھی جائز ہے، کیونکہ نابالغ کا نکاح بھی رضا مندی سے ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ اس میں دونوں کے ولی کی رضا مندی معتبر ہے ، کبھی مصلحتیں ایسی ہوتی ہیں کہ کم عمری میں شادی کرنی ہوتی ہے ، اس لیے کسی بھی طرح اس عمل کو غیر منطقی اور غیر عقلی نہیں کہاجا سکتا ۔
 اسی طرح چار شادیوں کا مسئلہ ہے، یہاں یہ بات رکھنے کی ہے کہ شریعت نے چار شادی کرنے کا نہ تو حکم دیا ہے اور نہ ہی اسے لازم قرار دیا ہے، یہ تو صرف ایک اجازت ہے جو عدل جیسی سخت شرط کے ساتھ دی گئی ہے، اسی لیے چار شادیوں کا رواج کم ہے ، اور اس اجازت سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد اقل قلیل ہے، ہر آدمی اپنے گاؤں اور محلوں میں ایک سے زائد شادی کرنے والوں کا سروے کرکے اس حقیقت کی تصدیق کر سکتا ہے، لیکن میڈیا نے اس کا پروپیگنڈہ اس طرح کر رکھا ہے گویا سارے مسلمان چار شادیاں کرتے ہیں، دوسری طرف دنیاوی قانون میں ساتھ رہنے کا تصور پایا جاتا ہے، بیوی نہیں ہے، لیکن بیوی کی طرح ہی مرد کے ساتھ رہ رہی ہے ، رکھیل بن کر ، قانون نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے، بلکہ وہ جائیداد جو مرد نے ذاتی جد وجہد سے حاصل کیا ہے وہ اس کے ترکہ میں حصہ پالے گی ، ناجائز تعلق زندگی بھر رکھا ، وہ اس کی کمائی میں حصہ پارہی ہے،پھر ان رکھیلوں کی تعداد بھی مقرر نہیں ، جتنی کو زندگی کا پارٹنر بنا لو، اسلام جائز طریقے سے چار کی اجازت دیتا ہے تو اس پر سوالات کھڑے کیے جاتے ہیں، اور دانشور طبقہ ناک بھئوں چڑھانے لگتا ہے ،دونوں کی صورت حال پر غور کرکے فیصلہ خود ہی کر سکتے ہیں کہ نکاح والی عزت کی زندگی بہتر ہے یا رکھیل والی ذلت کی، زندگی یہ لا تعداد رکھیل کے مطابق چار نکاحی عورت میں ہی آپ کو عزت نظر آئے گی ۔
 ایک سوال طلاق کے حوالہ سے اٹھایا جاتا ہے،یہ چاہتے ہیں کہ طلاق کا حق عورتوں کو بھی دے دیاجائے ،جس طرح نکاح اس کی مرضی سے ہوتا ہے طلاق میں بھی اس کی مرضی شامل رہے،مردوں کو طلاق کا حق دینے میں خود عورتوں کا تحفظ ہے، خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے شریعت نے یہ حق مردوں کو دیا ہے ، اگر یہ حق عورتوں کومل جائے تو جذباتیت کی وجہ سے خاندان زیادہ ٹوٹیں گے ، پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے بالکل یہ اسے اس حق سے محروم کر دیا گیا ہے، اسے اس کا پابند کیا گیا کہ اگر رشتے کو پسند نہیں کرتی تو اس کے وجوہات بتا کر بعض حالتوں میں قاضی سے اپنا نکاح فسخ کر اسکتی ہے اور بعض حالتوں میں خلع لے کر جان خلاصی کر واسکتی ہے، اس طرح رشتے ٹوٹیں گے بھی تو ان کی وجوہات معقول ہوں گی ، اور بہت نا گزیر حالت میں ایسا ہوا کرے گا۔
اسی طرح تین طلاق پر کثرت سے سوالات اٹھائے جا تے ہیں اور اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو کہتے سنا کہ اگر تین کو ایک طلاق ما ن لیں تو کیا حرج ہے، خاندان ٹوٹنے سے بچ جائے گا ،یہ عجیب وغریب منطق ہے کہ تین کو ایک مانا جائے ، یہ تو نہ عقلی ہے نہ منطقی، تین تو تین ہے اور ایک ، ایک ہے، اس تین کو ایک کہنے کا جواز کسی طور سمجھ میں نہیں آتا، لیکن اسلام نے تین کو تین کہہ دیا تو اب اس کے خلاف کرنا ہے، اس لیے ساری طاقت تین کو ایک ثابت کرنے میں لگائی جا رہی ہے،کسی نے تین روپے دیا تو آپ کس طرح ایک روپے کہہ کر دو کو القط کر دیں گے ،کسی نے تیس ہزار روپے دیا تو آپ ایک لاکھ اسے کس طرح تسلیم کریں گے معلوم ہوا کہ نہ تین ایک ہو سکتا ہے اور نہ ایک تین، اتنی واضح سی بات کو تسلیم کرنے میں اسلام دشمنوں کو تردد ہوتا ہے ۔
 ایک سوال تین طلاق کے نفاذ پر بھی اٹھایاجاتا ہے ، کہ تین طلاق ایک مجلس میں دینا شریعت کے مقررکردہ طریقے کے خلاف ہے ، اس لیے اس کو نافذ نہیں ہونا چاہیے، یہاں اعتراض کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ایک ہے کسی چیز کا غلط استعمال اور ایک ہے غلط استعمال کے نتائج واثرات ، دو نوں الگ الگ چیز ہے کسی کو گولی مارنا غلط ہے ، بندوق کا استعمال غلط کیا گیا، کسی کو چاقو مار دی گئی ، چاقو کاغلط استعمال ہوا، لیکن کون عقلمند یہ کہے گا کہ بندوق اور چاقوکے غلط استعمال کی وجہ سے آدمی بھی محفوظ رہ جائے گا ، اس کی جان نہیں جائے گی ، کیونکہ آلہ کا غلط استعمال ہوا ہے ، جس طرح گولی اور چاقو لگنے کے بعد آدمی کی جان جا سکتی ہے آدمی زخمی ہو جاتاہے، اسی طرح تین طلاق کا یک بارگی استعما ل واقعۃً غلط ہے، لیکن استعمال کے غلط ہونے کی وجہ سے اثرات کے طور پر نکاح ٹوت جائے گا اور عدد کے اعتبارسے حکم لگایا جائیگا۔طلاق کا نفقۂ عدت شوہر کے ذمہ ہے ، اسے اچھے طریقہ پر اپنے گھر سے الوداع کہنا بھی اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے، لیکن جب تک وہ دوسری شادی نہ کرلے یا تا حیات، سابق شوہر سے کھانا خرچہ دلانا کون سی عقلمندی ہے، جب شوہر نے عورت کو چھوڑ دیا ، اور اسے اپنی زندگی سے نکال پھینکا تو اب وہ دوسری عورتوں کی طرح غیر ہے، سابق شوہر سے اس کاکوئی رشتہ کسی درجہ میں باقی نہیں ہے، اس لیے عدت گذرنے کے بعد وہ اپنے نفس کی مجاز ہے ،کسی بھی مؤمن مرد سے رشتہ کر سکتی ہے ، پھر بھلا مرد کیوں اس نفقہ کا ذمہ دار ہوگا، اور کیوں اسے Maintenance دلایا جائے گا، یہ عورت کی غیرت کے بھی خلاف ہے کہ جس نے اپنے نکاح میں باقی نہیں رکھا اس کے کھانا خرچہ پر وہ زندگی گذارے، کھانا خرچہ لازم کرنے کی وجہ سے عورت کے گناہ میں مبتلا ہونے کا بھی خطرہ ہے، طلاق کے بعد کھانے خرچہ کا تعلق اسے کبھی بھی معصیت میں مبتلا کر سکتا ہے۔
ایک سوال یہ بھی کھڑا کیاجاتا ہے کہ عورت بوڑھی ہو گئی اور اس کے شوہر نے طلاق دیدی ، عمر کی اس منزل میں اس کی شادی بھی نہیں ہو سکتی پھر وہ کہاں رہے گی ، کس طرح زندگی بسر کرے گی ، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت نے کسی کو لاوارث نہیں چھوڑا ہے، اس حالت میں اس کا کھانا خرچہ ان لوگوں پر لازم ہے جو عورت کے پاس مال ہونے کی صورت میں اس کے وارث ہوتے، وہ والد بھی ہوسکتے ہیں اور بھائی وغیرہ بھی ، میکے میں بھی کوئی نہیں ہو تو حکومت اور امارت شرعیہ کے امیر اس کے ولی ہوں گے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  أنا ولی من لا ولی لہ۔ جس کا کوئی ولی نہیں ، میں اس کا ولی ہوں، یعنی حکومت اور امیر اس کی کفالت کے لیے فکر مند ہوں گے ، اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ اسلام میں کوئی لا وارث نہیں ہے ، جس کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری کسی پر نہ ہو ۔
طلاق کے حوالہ سے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ غصہ اور نشہ کی طلاق کونافذ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان دونوں حالت میں آدمی اپنے آپ میں نہیں رہتا ، یہ اعتراض بھی لایعنی اور فضول ہے ،کبھی آپ نے سنا کہ کسی نے اپنی بیگم کو محبت میں طلاق دیا ہو، طلاق تو غصہ ہی میں دی جاتی ہے ، غصہ کی طلاق کو نافذ نہ ماننے کا مطلب ہوگا کہ طلاق تماشہ بن کر رہ جائے اور اس کے اثرات واقع نہ ہوں ، اسی طرح نشہ کی طلاق کا معاملہ ہے ، نشہ میں جو شخص طلاق دے رہا ہے، وہ اس قدر ہوش وحواس میں ضرور ہے کہ وہ طلاق بیوی کو دیجاتی ہے ،ماں بہن کو نہیں ، اگر نشہ میں اس کی عقل نے جواب دے دیا تو اس نے ماں بہن کے لیے طلاق کے الفاظ کیوں نہیں استعمال کئے ،بیوی کو طلاق دینے کا سیدھا اور صاف مطلب ہے کہ نشہ کے با وجود اس کے اندر تمیز کی صلاحیت ہے اور تمیز کی صلاحیت کی وجہ سے ہی نشہ کے حالت کی طلاق نا فذ ہوجاتی ہے۔ 
طلاق کبھی جبر واکراہ کے ساتھ بھی دی جاتی ہے ، اگر جبر واکراہ میں تحریر کے ساتھ زبان کا استعمال بھی کرلیا تو طلاق نافذ ہوجائے گی۔ حالانکہ جبر واکراہ کی صورت میں کلمۂ کفر قابل اعتبار نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان کا محل قلب ہے اور طلاق کا محل زبان ، جب چیز اپنے محل سے نکل جائے گی تو اس کا اثر پڑے گا ، جبر واکراہ اگر کلمہ ٔ کفر کے کہنے پر ہوا اور قلب مطمئن ہے تو صرف کلمہ کفرکے کہنے سے ایمان نہیں جائے گا ، اس کے بر عکس طلاق کا محل زبان ہے اور جبر واکراہ میں طلاق اس نے زبان سے کہہ دیا تو اب یہ طلاق محل سے ادا ہو جانے کی وجہ سے نافذ ہوگی۔
 اس کا ایک دوسری طرح جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ حالت جبر طلاق میں پایا ہی نہیں جاتا  اس لیے کہ اگر کسی نے گردن پر بندوق رکھ کر طلاق دینے کوکہا تو اس نے اسے اختیار دیا کہ تم اپنی جان دے دو یا بیوی سے دست بردار ہوجاؤ ۔ میں نے اس اختیار سے فائدہ اٹھاکر اپنی جان بچالی اور بیوی کو چھوڑ دیا یہ دو چیزوں کے درمیان اختیار اور پسند کا معاملہ ہے  وہ یہ بھی کر سکتا تھا کہ جان دیدے اور بیوی کو باقی رکھے تاکہ اس کے ترکہ سے اس کو قاعدے سے حصہ مل جائے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔
 سوالات عورت کی آزادی اورمساوات کے حوالہ سے بھی اٹھائے جاتے ہیں، عورتوں کو آزادی دے کر مغرب نے اس سے لطف اندوزی کاسامان کر لیا ،اسے قحبہ خانوں اور کوٹھوں کی زینت بنا دیا ، ماچس کی ایک ڈبیہ بھی بغیر اس کی تصویرکے نہیں بیچنے کا تصور دیا ، اس آزادی نے عورت کو ایک مظلوم بنا کر رکھ دیا ،اسلام نے اسکا ساراکھانا خرچہ مرد پر ڈالا تھا، مرد نے اپنی جان بچانے کے لیے اس سے کموانا شروع کر دیا ، اب وہ دفتری اوقات میں ڈیوٹی بھی کرتی ہے بچے بھی پیدا کرتی ہے ، گھر آنے کے بعد با ورچی خانہ بھی اسی کا منتظر رہتا ہے ،بال بچوں کی پرورش وپرداخت اور شوہرکی خدمت گذاری بھی اسے کرنی پڑتی ہے ، یہ آزادی کے نام پر عورتوں پر ظلم ہے،جسے اسلام کسی طرح برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ 
 یہی حال مساوات کا ہے ،مساوات کا مطلب صرف یہ ہے صلاحیت وقوت کے مطابق اس کو ترقی کے یکساں مواقع ہوں، اب مساوات کا مطلب یہ لیا جائے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی چار شادی کی اجازت ہو ،تومساوات کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ ایک بچہ ایک سال عورت پیدا کرے اور دوسرا بچہ دوسرے سال مرد پیدا کرے، چیر مین کی کرسی پر ایک دن چیر مین صاحب بیٹھیں اور دوسرے دن چپراسی اس کرسی پربراجمان ہو جائے کیونکہ مساوات کا تقاضہ یہی ہے،ظاہر ہے اس قسم کے مساوات کاکوئی قائل نہیں ہے،لیکن ہمارا دانشور طبقہ بار بار اس بات کو اٹھاتا رہتا ہے،بلکہ ماضی قریب میں تو ایک جج صاحب نے عورتوں کو چار شادی کی اجازت دینے کی تجویز رکھی تھی،اس پر ایک صاحب نے ان سے گذارش کی تھی کہ یہ نیک کام آپ اپنے گھر سے ہی شروع کریں۔
اعتراضات اور بھی ہیں، سب الٹی سوچ کا نتیجہ ہے،جولوگ اسلامی قانون کو نہیں ماننا چاہتے وہ اسلامی قانون میں ترمیم کے بجائے دوسرا متبادل تلاش لیں انہیں کوئی یہ نہیں کہتا کہ لازمامسلم پرسنل لا ہی سے چمٹے رہو ،مسلم پرسنل لا اسلامی قوانین کا حصہ ہے اور یہ خدائی قانون ہے اس لیے اس میں کسی قسم کی ترمیم وتنسیخ نہیں ہو سکتی، خواہ عورت کی آزادی کے تعلق سے ہو یامساوات کے تعلق سے، اسے سماجی اصلاح کا نعرہ دیا جائے یا یکساں سول کوڈ کا ، معاملہ نکاح وطلاق کاہویا دیگر عائلی اور خاندانی مسائل کااسلام کا قانون نا قابل تبدیل ہے،جو لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ، ان کے لیے اسلام سے باہر تبدیلی کے بڑے مواقع ہیں، اگر انہیں کفر کا راستہ ہی پسند ہے تو ان کو نہ کوئی دلیل کام آسکتی ہے اور نہ کوئی منطق۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...