Powered By Blogger

پیر, فروری 13, 2023

تیری معراج کہ تو لوح قلم تک پہنچا ، میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

تیری معراج کہ تو لوح قلم تک پہنچا ۔
اردودنیانیوز۷۲ 
شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار 

سرکار دو عالم ﷺ کو اللہ تعالی نے جس طرح قرآن مجید جیسا دائمی اور بے مثال معجزہ عطا فرمایا ہے اسی طرح آپ ﷺ کو معراج جیسا منفرد بے مثال اور نادرہ روزگار قسم کا معجزہ عطا فرمایا جس کی نظیر ماضی و حال مستقبل میں بھی نہ ملتی ہے نہ ملے گی ۔

 ‌تاریخ معراج میں اختلاف ۔

معراج کی تاریخ میں اختلاف ہے تاہم اس میں اتفاق ہے کہ یہ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے بعض کہتے ہیں ایک سال قبل اور بعض کہتے ہیں کئی سال قبل یہ واقعہ پیش آیا اسی طرح مہینے کی تاریخ میں اختلاف ہے کوئی ربیع الاول کی سترہ ( 17) یا ستائیس ( 27 ) کوئی رجب کی ستائیس ( 27 ) اور بعض کوئی اور مہینہ اور اس کی تاریخ بتلاتے ہیں ( فتح القدیر)
 لیکن معراج یقینی ہے اور قبل از ہجرت ہوئی ہے لیکن مہینے کی تعیین ثابت نہیں لہذا یقینی طور پر یہ کہنا کہ واقعۂ معراج رجب کی ستائیس ( 27 ) تاریخ کو ہی پیش آیا سراسر غلط ہے ۔
معراج کیا ہے ؟ 
دراصل محبوب و محب ، ساجد و مسجود ، عابد و معبود کی داستان محبت اور اسرارِ شریعت کا وہ عظیم الشان خزانہ ہے جس سے جواہرات و انوارات کے چشمے ابل پڑے اور حقیقت محمدی اور عظمت محمدی کے چار دانگ عالم میں ڈنکے بج گئے ۔

حضور ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی یا روحانی ؟ 
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ( نشر الطیب) میں لکھتے ہیں جمہور اہل سنت و جماعت کا مذہب یہ ہے کہ معراج بیداری میں جسد اطہر کے ساتھ ہوئی اور دلیل اس کی اجماع ہے (نشر الطیب ، ص: ٨٠
 مطبوعہ سہارنپور) 
علامہ سہیلی رحمۃ اللہ علیہ ( الروض الانف شرح سیرت ابن ہشام) میں لکھتے ہیں کہ مہلب نے شرح بخاری میں اہل علم کی ایک جماعت کا قول نقل کیا ہے کہ معراج دو مرتبہ ہوئی ایک مرتبہ خواب میں ، دوسری مرتبہ بیداری میں جسد اطہر کے ساتھ اس سے معلوم ہوا کہ جن حضرات نے یہ فرمایا کہ معراج خواب میں ہوئی تھی انہوں نے پہلے واقعہ کے بارے میں کہا ہے ورنہ دوسرا واقعہ جو قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ میں مذکور ہے وہ بلا شبہ بیداری کا واقعہ ہے ۔
واقعۂ معراج ۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جب مجھے معراج ہوئی صبح کو میں ہیبت زدہ سا ہو گیا کہ میں یہ واقعہ جس کے سامنے بیان کروں گا وہ مجھے جھوٹا کہے گا اسی تردد میں غمزدہ بیٹھا ہوا تھا تو دشمن خدا ابوجہل میرے پاس آیا اور مذاقا مجھ سے کہنے لگا کہئے کوئی نئی بات ہے؟ میں نے کہا ہاں اس نے کہا وہ کیا؟ میں نے کہا رات مجھے معراج ہوئی اس نے کہا کہاں تک گئے ؟ میں نے کہا بیت المقدس تک اس نے کہا واہ واہ اور پھر صبح آپ یہاں موجود ہیں ؟ میں نے کہا ہاں اسی طرح ہوا اس نے خیال کیا کہ اس وقت انہیں جھٹلانا ٹھیک نہیں ایسا نہ ہو کہ ہوشیار ہو کر اس بات کا انکار کر جائیں اور لوگوں کے سامنے اسے بیان نہ کریں اس لئے اس نے اسے بطور پیش بندی کے کہا کہ جو آپ نے مجھ سے فرمایا کیا آپ کی تمام قوم کو میں جمع کر لوں تو ان سب کے سامنے بھی آپ کہیں گے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ اسی وقت یہ گیا اور آوازیں دے دے کر تمام برادری کو جمع کرکے میرے پاس لایا مجلس جب کھچا کھچ بھر گئی اور ایک بھی باقی نہ رہا تو یہ اٹھا اور کہا جو آپ نے بات مجھ سے بیان کی ہے اب اپنی قوم کے سامنے اسے دہرا دیجئے تو حضور ﷺ نے فرمایا ( انی اسری بی اللیلۃ ) آج کی رات مجھے معراج کرائی گئی ہے سب نے پوچھا کہاں تک؟ آپ نے فرمایا (الی بیت المقدس ) بیت المقدس تک تو انہوں نے کہا واہ واہ پھر صبح کے وقت آپ یہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا ( نعم ) ہاں یہ سنتے ہی کسی نے تو تالیاں بجانی شروع کیں کسی نے اسے جھوٹ سمجھ کر اپنا ہاتھ ماتھے پر دھر لیا لیکن بالآخر ان میں سے بعض نے بعض کو کہا بیت المقدس ہمارا دیکھا ہوا ہے یہ کبھی وہاں نہیں گئے اب یہ کہتے ہیں کہ میں ہو آیا تو ان سے وہاں نشانات دریافت کرو یہ بتلا نہیں سکیں گے تو ان کا جھوٹ سب پر کھل جائے گا اس پر سب نے اتفاق کیا اور حضور ﷺ سے کہا کیا آپ مسجد اقصی کے جو احوال ہم پوچھیں انہیں بتلا سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کا نقشہ بیان کرنا شروع کر دیا حضور ﷺ فرماتے ہیں یہاں تک کہ بعض باتوں نے مجھے شک سا معلوم ہونے لگا اسی وقت اللہ تبارک و تعالی نے مسجد اقصیٰ کو میرے سامنے کھڑی کردی گویا عقیل کے گھر سے بھی زیادہ قریب ہے اب میں اسے دیکھتا جاتا ہوں اور ان کے سامنے اس کا نقشہ مع چھوٹی بڑی چیزوں کے بیان کر رہا ہوں جب میں نے پوری مسجد کا حال بیان کر دیا تو دیکھنے والوں نے کہا خدا کی قسم اس میں نہ تو ایک حرف غلط ہے نہ کوئی وصف باقی ہے ( مسند احمد )
یہ معراج پیغمبرِ خدا ﷺ کو جاگتے ہوئے جسم و روح سمیت ہوئی رب العالمین فرماتا ہے ( مازاغ البصر وما طغی ) نہ تو نظر بہکی نہ بھٹکی ۔ ولقد رای من آیات ربہ الکبریٰ ۔ یقیناً ہمارے نبی ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی بھاری نشانیاں ( بچشم خود ) خود ملاحظہ فرمائیں ۔ تعجب ہے ان پر جو اسے خواب کا واقعہ بتاتے ہیں اگر خواب ہوتا تو کون سی ایسی تعجب کی بات اور کونسی اتنی بڑی نعمت تھی کہ جسے خدا تعالی فخریہ بیان کرتا ہے ؟ احسان بتاتا ہے ؟ فرماتا ہے ( سبحان الذی اسریٰ بعبدہ ، الخ یہ بھی خیال رہے کہ یہاں وہ ہی لفظ عبدہ ہے جو سورۂ کہف میں ( الحمدللہ الذی انزل علی عبدہ الکتاب) وغیرہ میں ہے یعنی اس خدا کی پاک ذات تعریفوں کے لائق ہے جس نے اپنے بندے پر اپنی کتاب قرآن مجید نازل فرمائی جو مراد یہاں لفظ عبدہ سے ہے وہی مراد وہاں بھی ۔ معراج جسمانی عقلاً بھی ممنوع اور محال نہیں اگر عالم سفلی سے جسم خاکی کا عالم علوی میں جانا محال تسلیم کر لیا جائے تو اسی طرح عالم علوی سے جسم نورانی کا عالم سفلی میں آنا محال ہوجائے گا ۔پھر نہ تو جبرئیل علیہ السلام آسکتے ہیں نہ کسی نبی کی طرف وحی ہوسکتی ہے نہ کوئی نبی ہو سکتا ہے ( وای کفر او ضح من ہذا ) اسی طرح اتنی سرعتِ حرکت بھی یقینی امر ہے کہ ناممکن نہیں بجلی ہوا وغیرہ کی سرعتِ حرکت ملاحظہ ہو ۔ اسی طرح اہل اسلام کے نزدیک جبرئیل علیہ السلام اور ارواح کی سرعتِ حرکت بھی مسلم ہے۔ زمین و آسمان کی سرعتِ حرکت فلسفیوں کے نزدیک متحقق ہے پس ثابت ہوا کہ اتنی سرعتِ حرکت ممکن ہے اور اللہ تعالی ہر ممکن پر قادر ہے تو معراج جسمانی سیدالاولین والآخرین کی مستعبد نہیں اگر واقعۂ معراج صرف خواب و خیال ہی تھا تو بیسیوں کچے پکے مسلمان اسے سن کر کیوں دین اسلام سے پلٹ گئے ؟ کفار نے کیوں اسے خلافِ عادت سمجھا اور انکار کیا کس بات نے انہیں تعجب میں ڈالا ؟ اور ہنسی مذاق کرنے پر آمادہ کیا ؟ خواب میں اس سے زیادہ مستعبد امر کا دیکھنا خلافِ عقل نہیں اگر حضور ﷺ نے خواب ہی کا ذکر کیا تھا تو وہ کیوں نشانیاں پوچھتے ؟ کیوں دوڑے ہوئے صدیق اکبر کو بہکانے جاتے ؟ کیوں اللہ تعالی اسے ( فتنۃ للناس ) کہتا ؟ بالکل صحیح مطابق عقل و نقل وہی ہے جو جمہور علمائے اسلام کا مذہب ہے ۔
تیری معراج کہ تو لوح قلم تک پہنچا ، میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا ۔

پاکستان میں معاشی بحران ____

پاکستان میں معاشی بحران ____
اردودنیانیوز۷۲ 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
 پاکستان کے حالات نا گفتہ بہ ہیں، سیاسی بحران تو وہاں کی روایت رہی ہے ، جمہوریت کا گلا گھونٹ کر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے مارشل لا کا نفاذ وہاں کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ، لیکن اس بار پاکستان میں جو معاشی بحران آ یا ہے ، اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان کو روز مرہ کے اخراجات کے لیے رقومات کی کمی کا سامنا ہے، زر مبادلہ کے لیے صرف تین چار روز کے خرچ کے بقدر ڈالر موجود ہے، اس کے بعد سناٹا ہی سناٹا دکھ رہا ہے ، سیاسی بازیگری کے نتیجے میں شہباز شریف وہاں کے وزیر اعظم ضرور بن گیے، لیکن ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ان کے پاس کوئی ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل نہیں ہے، انہوں نے مختلف ملکوں سے قرض کی عرضی گذاری ہے، لیکن ان کے شرائط اس قدر سخت ہیں کہ پاکستان کے لیے اس پر عمل ممکن نہیں ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ، پاکستانی کرنسی کمزور ہو گئی ہے، ایک ڈالر کی قیمت دو سو ساٹھ روپے پاکستانی ہو گئی ہے، پیاز دو سوساٹھ روپے کلو بک رہا ہے ، آٹا بازار سے غائب ہے۔ بجلی کی فراہمی پورے ملک میں نہیں ہوپا رہی ہے، ایک دن تو بارہ گھنٹے سے زیادہ دار الحکومت اسلام آباد میں بجلی نہیں رہی، ان حالات میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج اور مظاہرہ کا سلسلہ مختلف علاقوں میں شروع ہو گیا ہے، اگر حالات سازگار نہیں ہوئے تو اسے سری لنکا جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ہندوستان سے پاکستان کی دیرینہ مخاصمت رہی ہے اور دونوں کے ما بین کئی جنگیں ہو چکی ہیں، اس لیے ہندوستان پڑوسی ملک میں راحت رسانی کے لیے یقینی طور پر سامنے نہیں آئے گا، شہباز شریف کی حکومت ان حالات کا ذمہ دار عمران خان کی سابق حکومت کو قرار دیتی ہے ، اگر ایسا ہے تو عمران خان کی حکومت کو گرانے کے جو اسباب بیان کیے جاتے تھے، ان میں ایک مہنگائی بھی تھی، یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایسے معاشی اصلاحات کرے کہ ملک اس صورت حال سے نکل سکے، بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا، عالمی کساد بازاری کے دور میں قدرے حالات ہندوستان کے بھی بگڑے تھے، لیکن ملک کے پاس من موہن سنگھ جیسا ماہر معاشیات تھا، جس نے ہندوستان کواپنی حکمت عملی سے بچالیا تھا، پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے پاس من موہن جیسا کوئی آدمی نہیں جو ملک کو اس بھنور سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، پاکستان کے وزیر مالیات اسحاق ڈار کے بیان کو جس میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ ملک کلمہ کے نام پر بنا ہے ، اللہ اسے معاشی دلدل سے نکالیں گے، اسی پس منظر میں لوگ دیکھ رہے ہیں، بات سچی اور پکی ہے، لیکن دنیا دار الاسباب ہے، اس کے مسائل سبب اختیار کرنے سے ہی حل ہوا کرتے ہیں۔

گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ میں یونانی ڈے کی شاندار تقریب ۔

گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ میں یونانی ڈے کی شاندار تقریب ۔
اردودنیانیوز۷۲ 
گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں یوم یونانی کے موقع پر مختلف پروگرام کا انعقاد کیا گیا، واضح ہو کہ یونانی ڈے 11 فروری کو حکیم اجمل خان کی یاد میں انکی یوم پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے, اس موقع پر سب سے پہلے پروگرام کی شروعات 27 جنوری کو سائنٹیفک لکچرز کے ذریعہ ہوئی اور یہ31 جنوری تک جاری رہا, جس کی تحت کالج کے پی جی اسکالرس نے ,حکیم اجمل خان,حکیم کبیرالدین,اور طب یونانی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ،
 جب کہ پروگرام کا دوسرا حصہ اسپورٹس ویک پر مشتمل تھا، جس کا باضابطہ افتتاح 1 فروری کو معزز وزیر قانون جناب ڈاکٹر شمیم احمد کے ہاتھوں ہوا جو 7 فروری تک جاری رہا,جس کے تحت مختلف قسم کے کھیلوں کا انعقاد کیا گیا,جسمیں کرکٹ, والی بال کبڈی, ٹیبل ٹینس, لوڈو, کیرم بوڑڈ, ٹگ آف وار, شطرنج, میوژیکل چیر, ڈم شیراژ, مہندی کمپیٹیشن شامل تھے۔ جس میں یوجی اور پی جی کے طلبہ نے بڑھ چڑھکر حصہ لیا۔
علاوہ ازیں پروگرام کا تیسرا حصہ کلچرل پروگرام پر مشتمل تھا، جس کی شروعات 8 فروری کو مشہور آرتھوپیڈک سرجن جناب ڈاکٹر اکرام صاحب کے ذریعہ ہوا اور یہ 10 فروری کی شام تک جاری رہا، جس کے تحت طلبہ و طالبات نے غزل گوئی , تخلیقی مشاعرہ, قوالی, ڈرامہ, پوسٹر پریژینٹیشن,اسٹینڈاپ کامیڈی,اور دیگر کلچرل پروگرام پیش کیے, جس میں طلبہ و طالبات کی خاصی دلچسپی دیکھی گئی، اور تمام اساتذہ اور کالج کے ذمہ داروں نےبھی طلبہ و طالبات کی بھر پور حوصلہ افزائی کی۔
 اور پروگرام کا آخری حصہ ساتویں یونانی ڈے پر مشتمل تھا ۔ جسکی صدارت معزز وزیر قانون حکومتِ بہار جناب شمیم احمد صاحب نے کی، اور بطور مہمان اعزازی جناب ڈاکٹر شیام سندر سنگھ اور دیگر مہمانان موجود رہے، جنھوں نے طلبہ سے خطاب کر تے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی پیتھی کو آگے بڑھانے کیلئے کوششیں کرنی چاہئے۔۔۔۔۔
تمام مہمانان نے ونر طلبہ و طالبات کو انعامات سے سرفاراز کیا۔ آخر میں انجمن خدام طب کے سکریٹری محمد ساحل نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا , کا لج کے ترانہ اور نیشنل انتھم کے ذریعہ پروگرام کا اختتام ہوا۔

" دوبدو" ادبی مکالمہ) انور آفاقی - - - - ایک جائزہ اسلم چشتی ( پونے) انڈیا

( " دوبدو" ادبی مکالمہ) انور آفاقی - - - - ایک جائزہ 
اسلم چشتی ( پونے) انڈیا 
اردودنیانیوز۷۲ 
 09422006327

انٹرویو انگریزی لفظ ہے - صحافت میں اس کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے - اس لفظ کو اُردو والے مکالمہ،. کبھی ملاقات تو کبھی مصاحبہ لکھتے ہیں تو کبھی انٹرویو - بہرحال ہے یہ صحافت کا ہی جُز چاہے اسے صحافت کی ایک صنف ہی کہہ لیں - یہ عموماً سوال و جواب کی شکل میں ہوتا ہے - کچھ لوگ اسے مضمون کے پیکر میں بھی ڈھال لیتے ہیں - انٹرویو کے بارے میں ایک غلط فہمی جڑ پکڑتی جا رہی ہے کہ سوال کرنے والے کا قد چھوٹا اور جواب دینے والے کا قد بڑا ہوتا ہے جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے - کچھ سوال کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جواب دینے والے کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں - مطلب یہ کہ سوال کرنے والا اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا کہ جواب دینے والا - یہ بات مَیں یوں ہی نہیں کہہ رہا ہوں سینکڑوں انٹرویوز پڑھنے کے بعد کہہ رہا ہوں - اس کی ایک مثال " دوبدو" ادبی مکالمہ ہے جس میں سوال کرنے والے انور آفاقی ہیں - جن کی شخصیت ادبی دنیا میں مستحکم ہے - انہوں نے بے حد سنجیدگی اور سلیقے سے مکالمے قائم کیے ہیں بقول ڈاکٹر عبدالحئ - 
      " انور آفاقی کے زیادہ تر انٹرویو شخصی ہیں اور ذاتیات کا احاطہ کرتے ہیں - جن شخصیات کے انٹرویو لیے گئے ہیں ان کے بارے میں مکمّل معلومات دے دی گئی ہیں - اگر کوئی اسکالر اس شخصیت پر کچھ لکھنا چاہتا ہے تو اس کتاب سے اسے کافی مدد ملے گی" 
[ کتاب ہذا ص 11 ڈاکٹر عبدالحئ ] 
اس اقتباس سے مَیں پوری طرح متفق ہوں کیونکہ میں نے" دوبدو " کا ورق ورق مطالعہ کیا ہے اور شخصیات کے بارے میں مُجھے جو معلومات ہوئی ہیں وہ میرے مطالعہ کے تجربے میں اضافہ ہے - 

176 صفحات کی اس کتاب میں ڈاکٹر عبدالحئ کا مضمون رہبری کا درجہ رکھتا ہے اور یہ مضمون انٹرویوز پڑھنے کی تحریک قاری کو دیتا ہے اور جب قاری کتاب پڑھ لیتا ہے تو شخصیات کے بارے میں ان کی تحریروں کے متعلق انکشافات تو ہوتے ہی ہیں ساتھ میں اُردو زبان اور ادب کے ماضی اور حال کا منظر نامہ قاری کے سامنے آ جاتا ہے اور قاری کے ادبی شعور کو تازہ دم کر دیتا ہے - 
انور آفاقی نے اپنی بات کے تحت اپنے بارے میں کتاب کے قاری کو بہت کچھ بتایا ہے جو کچھ بتایا ہے نہایت ہی انکساری سے بتایا ہے اس میں اس کتاب کو لکھنے کے محرکات بھی پیش کیے گئے - شخصیات سے ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا - " اپنی بات" آخری صفحہ کے پہلے پیراگراف میں مکالمے کی روایت اور اہمیت پر گفتگو کی ہے جو من و عن پیشِ خدمت ہے - 
           " مکالمے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے - زمانہ قدیم میں افلاطون کے مکالمے مشہور ہوئے بلکہ سچّی بات تو یہ ہے کہ مکالمے کی روایت بعض حوالوں سے اس سے بھی پہلے سے ملتی ہے - یہ وہ روایت ہے جس کے توسط سے ہم کسی ادیب، شاعر، دانشور اور فنکار کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں، ان سے تبادلہء خیال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت ساری ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور بعض دفعہ ذہنو پر پڑے ہوئے تالے کھلتے ہیں اور پھر بصیرت و آگہی کی ایسی دنیا سامنے آتی ہے جس سے نئی نسل مستفیض ہوتی ہے "
( ص 9 ، کتاب ہذا، اپنی بات، انور آفاقی) 
              اس اقتباس سے ظاہر ہُوا کہ انور آفاقی کی ادبی سوچ کتنی صالح ہے اور یہ بھی پتہ چلا کہ ان کا مقصد بلند و بالا اس طرح ہے کہ یہ انٹرویوز کے ذریعے آگہی کی روشنی ادب کے تاریک گوشوں میں پھیلانا چاہتے ہیں - 
       انور آفاقی نے انٹرویو کے لیے کوئی غیر معمولی مشہور و مقبول شخصیات کا انتخاب نہیں کیا انہوں نے اپنی ترجیحات کے مطابق آفتاب احمد آفاقی ، خلیق الزماں نصرت، سلیم خان شمیم قاسمی، عبدالمنان طرزی، مجیر احمد آزاد، منصور خوشتر، نور شاہ اور وحشی سعید جیسے فعّال اور اپنے فن میں یکتا قلمکاروں کو ترجیح دی - اور ان سے ایسے سوالات پوچھے کہ جوابات دینے والوں نے اپنے بارے میں وہ سب کچھ بتا دیا جسے لوگ شاید کم ہی جانتے ہوں یا نہیں جانتے ہوں - 
           انور آفاقی کی یہ کتاب " دوبدو" کئی اعتبار سے ایک اہم کتاب سمجھی جائے گی یہ کتاب انور آفاقی کی تخلیقی، تحقیقی صلاحیتوں کو بھی ظاہر کرتی ہے اور ان کی ادبی دوستی کی بھی غمّازی کرتی ہے - جن شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں ان کے قد و قامت کا بھی اندازہ اس کتاب سے ہوتا ہے - 
                    انور آفاقی سے اُمّید ہے کہ وہ اور بھی ہمعصر قلمکاروں سے انٹرویوز لے کر ادبی صحافت کو وقار بخشیں گے - اس کتاب پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے - لیکن ناچیز اکتفا کرتے ہوئے انور آفاقی اور مشمولات میں شامل شخصیات کو تہہِ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے انور آفاقی کے ایک پُر عزم شعر پر اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں - 
درد اور ٹیس سے مر جاتے ہیں کیسے کچھ لوگ 
مَیں نے زخموں کے سمندر میں سکوں پایا ہے 

Aslam Chishti flat no 404 shaan Riviera aprt 45 /2 Riviera society wanowrie near jambhulkar garden pune 411040

سید عادل گڈو بھائی گلستان محلہ پھلواری شریف پٹنہ کی بھانجی ارم وارثی کو گولڈ میڈل ملنے پر جامعہ عربیہ دارالعلوم محمدیہ کی جانب سے مبارکبادی و دعائیہ محفل کا انعقاد

سید عادل گڈو بھائی گلستان محلہ پھلواری شریف پٹنہ کی بھانجی ارم وارثی کو گولڈ میڈل ملنے پر جامعہ عربیہ دارالعلوم محمدیہ کی جانب سے مبارکبادی و دعائیہ محفل کا انعقاد
  اردودنیانیوز۷۲ 


پھلواری شریف پٹنہ مورخہ 13/فروری
 محمد ضیاء العظیم (پریس ریلیز) 
تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے، اس کے اخلاق و کردار کو سنوار کر اسے زندگی گزارنے کے سلیقے بخشتی ہے، اس کے اندر حوصلہ، جذبہ، اور جرات گفتار ورفتاربھی پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کو احساسِ سود و زیاں عطا کرتی ہے اور کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے کا شعور بخشتی ہے۔ یہ بات یقینی ہے کہ سماج ومعاشرہ میں اگر کوئی ایک فرد کامیاب ہوتا ہے تو گویا پورا سماج ومعاشرہ کامیاب کہلاتا ہے۔ ایسی ہی مثال اس وقت ابھر کر ارم وارثی بنت مظفر عالم پٹنہ جو کہ پٹنہ ویمینس کالج کی طالبہ ہیں سامنے آئی ہے،
ارم وارثی پٹنہ ویمینس کالج میں بی ایس سی کی طالبہ ہیں جنہوں نے پورے کلاس میں امتیازی نمبر لاکر گولڈ میڈل حاصل کی ہے،
پٹنہ ویمینس کالج میں منعقد ایک تقریب میں انہیں مائکرو بایولاجی کے شعبہ میں ٹاپر قرار دیتے ہوئے گولڈ میڈل سے نوازا گیا ۔
اس موقع پر سید عادل گڈو بھائی کو جامعہ عربیہ دارالعلوم محمدیہ کے ناظم مفتی محمد نور العظیم مظاہری نے مبارکبادی پیش کرتے ہوئے جامعہ میں ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا، جس میں تعلیم اور اہمیت تعلیم پر علماء کرام نے روشنی ڈالی،
مبارکبادی پیش کرنے والوں میں مولانا محمد عظیم الدین رحمانی ،مولانا محمد ضیاء العظیم قاسمی، قاری عبدالواجد ندوی ،قاری ماجد، مفتی جلاء العظیم وغیرہ کا نام مذکور ہے،

اتوار, فروری 12, 2023

تلاش گمشدہ

تلاش گمشدہ
اردودنیانیوز۷۲ 
محمد معصوم ابن محمد میکائیل مرحوم
عمر 15/سال
ساکن پرسا گڑھی تھانہ جدیہ بازار تروینیی گنج، ضلع سوپول بہار،
متعلم :- شاخ جامعہ رحمانی شجاعل پور مونگیر (بہار)
یہ بچہ بروز سوموار 6/فروری 2023 کی صبح 9/بجے سے لاپتہ ہے،
اگر کہیں یہ نظر آئے، یا اس کا سراغ لگے تو از راہ کرم اس نمبرات پر رابطہ کرکے اطلاع دیں گے،
7319803589
9608750465
8757710017
9155745674
توصیف اقبال ندوی (سوپول)

مولانا شفیق قاسمی ؒ __✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

مولانا شفیق قاسمی ؒ __
اردودنیانیوز۷۲ 
✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
  امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کی مجلس شوریٰ کے سابق رکن، کانگریس اقلیتی سیل ضلع بیگوسرائے ، غیر منقسم مونگیر جمعیت علماءکے سابق صدر، جامعہ رشیدیہ بیگو سرائے کے بانی ، مدرسہ بدر الاسلام کے سابق استاذ حضرت مولانا شفیق عالم قاسمی براسی (82) سال کی عمر میں قلب کے آپریشن کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے، اطلاع کے مطابق دوروز قبل انہیں دل کا دورہ پڑا تھا، میڈی ورسل ہوسپیٹل میں ڈاکٹر نلنی رنجن کی نگرانی میں علاج شروع ہوا، پیس میکر لگانے کی تجویز آئی، چنانچہ فوری کارروائی شروع ہوئی اور آپریشن ہو گیا، پیس میکر لگا دیا گیا، لیکن بے ہوشی دور نہیں ہوئی 23 جنوری 2023 مطابق یکم رجب 1444ھ بوقت سات بجے شام حادثہ پیش آگیا، اہلیہ پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں، پس ماندگان میں تین بیٹے، محمد افروز، ڈاکٹر معراج الحق، محمد اعزاز اور پانچ لڑکیوں کو چھوڑا، ان میں سے ایک نامور عالم دین، بڑے محقق، مفسر اور لجنة اتحاد علماءالمسلمین قطرکے مفتی مولانا خالد حسین نیموی کے نکاح میں ہیں، مولانا خالد حسین نیموی امارت شرعیہ کے دار العلوم الاسلامیہ کے سابق اور مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے کے موجودہ استاذ ہیں۔
 چوکہ ان کی رہائش ہرّک بیگو سرائے میں تھی ، اس لیے دوسرے دن ڈھائی بجے جنازہ کی نماز ہرک میں ادا کی گئی اور ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ہرّک قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، جنازہ کی امامت ان کے داماد مولانا مفتی خالد حسین نیموی نے فرمائی، امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم سے مفتی سعید الرحمن صاحب مفتی امارت شرعیہ کی قیادت میں امارت شرعیہ کے ایک مو قر وفد نے تدفین میں شرکت کی اور حضرت امیر شریعت کا پیغام سوگوار خاندان تک پہونچایا۔یکم فروری 2023 کو منعقد بیگوسرائے کی ایک تعزیتی مجلس میں احقر محمد ثناءالہدیٰ قاسمی کی بھی شرکت ہوئی اور بُجھے ہوئے دل سے کچھ تعزیتی کلمات کہے گیے۔
 مولانا شفیق عالم قاسمی بن مقصود عالم کی جائے پیدائش نیما چاند پورہ ضلع بیگو سرائے ہے۔ 1940 میں اسی گاؤں میں آ پ نے آنکھیں کھولیں، ناظرہ دینیات اور ابتدائی فارسی کی تعلیم مدرسہ بشارت العلوم نیما میں حافظ وقاری محمد صدیق ؒ صاحب سے حاصل کرنے کے بعد ڈھاکہ (موجودہ ضلع بنگلہ دیش) میں حضرت مولانا محمد اللہ صاحب عرف حافظ جی حضور خلیفہ حضرت تھانوی ؒ کے سامنے حفظ قرآن کے لیے زانوے تلمذ تہہ کیا اور چودہ پارے ان سے حفظ کیے، وہاں سے پھر مولانا محمد ادریس نیموی ؒ کی تحریک پر پہلے مدرسہ تجوید القرآن مونگیرمیں مولانا سعد اللہ بخاری صاحب کی زیر سر پرستی تعلیم حاصل کی اور پھر جامعہ رحمانی مونگیر میں داخلہ لیا، ایک سال وہاں قیام کے بعد پھر جامعہ عربیہ قرآنیہ لال باغ ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش)چلے گیے اور حافظ جی حضور کی زیر سر پرستی قاری مفیض الرحمن نواکھالی اور حافظ نور الہدیٰ سے حفظ قرآن کی تکمیل اور دور کے مراحل طے کیے، اس کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی، علامہ ظفر احمد تھانوی اور مولانا احتشام الحق تھانوی کے دست مبارک سے آپ کے سر پر دستار باندھی گئی۔
 عربی کی تعلیم کا آغاز مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے سے ہوا، یہاں آپ نے 60-1956کے دوران عربی اول سے عربی پنجم تک کی تعلیم پائی، 1961میں آپ دار العلوم دیو بند تشریف لے گیے، 1964تک آپ کا وہاں قیام رہا، انہوں نے بخاری شریف فخر المحدثین حضرت مولانا فخر الحسنؒ سے پڑھی ، آپ کو اس وقت کے بڑے علماءومشائخ کی خدمت کا موقع ملا اور آپ نے سب سے کسب فیض کیا، مسلسلات حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی اور حجة اللہ البالغہ کا درس قاری محمد طیب صاحب رحمہما اللہ سے لیا، دوران طالب علمی بلکہ دار العلوم دیو بند جانے سے قبل ہی آپ کا نکاح مشہور حکیم اور معالج حکیم یٰسین صاحب کی اکلوتی صاحب زادی صفورہ خاتون سے ہو گیا تھا۔
 دیو بند سے واپسی کے بعد آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز اپنی مادر علمی مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے سے کیا، ملی، سماجی اور سیاسی سر گرمیوں میں مشغولیت کی وجہ سے بعد میں بدر الاسلام کی تدریسی زندگی کو آپ نے خیر باد کہہ دیا ، لیکن کم وبیش بیس سالوں تک مدرسہ کی خدمت صدر کی حیثیت سے کرتے رہے۔ جمعیت علماءکے پلیٹ فارم سے بحیثیت صدر وسکریٹری مولانا کی خدمات انتہائی وقیع ہیں، سیاست کی بات کریں تو کانگریس اقلیتی سیل کے صدر کی حیثیت سے مدتوں خدمات انجام دیں، تدریسی زندگی کو خیر باد کہنے کے بعد ذریعہ معاش تجارت کو بنایا اور اس میں اس قدر نام کمایا اور شہرت حاصل کی کہ بیگو سرائے چیمبر آف کامرس کے صدر منتخب ہوئے۔ امارت شرعیہ کی شوری کے ممبر رہے اور وفود کے دوروں کے موقع سے ان کا خصوصی تعاون ہمیشہ امارت شرعیہ کو ملتا رہا ، پوری زندگی ، توانائی اور انرجی ملت کے لیے وقف کر دیا، جامعہ رشیدیہ بیگو سرائے قائم کرکے دینی تعلیم کی ترویج واشاعت کا انتظام کیا، بہت سارے مکاتب ومدارس کے سر پرست ونگراں رہے، اللہ نے خوب کام لیا، عزت بھی دی اور شہرت بھی دی ، جہاں رہے نیک نام رہے، اور آخری حد تک اپنی صلاحیت کو صالحیت کے ساتھ دینی خدمات کے لیے وقف رکھا۔
 مولانا سے میری ملاقات پرانی تھی، بیگو سرائے میں مولانا کا قائم کردہ جامعہ رشیدیہ وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ سے منسلک ہے، کبھی جائزہ یا کسی اور پروگرام میں جانا ہوتا تو مولانا سے ملاقات ضرور کرتا، مولانا اسم بامسمی تھے، شفیق نام تھا اور چھوٹوں پر شفقت بہت کیا کرتے تھے، میری آخری ملاقات گذشتہ ماہ ہی دہلی میں ہوئی تھی، موقع مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن اور فخر المحدثین مولانا سید فخر الحسن رحمہما اللہ پر سمینار کا تھا، جو صد سالہ تقریب کے عنوان سے جمعیت علماء(مولانا محمود مدنی گروپ) نے کروایا تھا، مولانا نے اس سمینار میں انتہائی جذباتی انداز میں مولانا فخر الحسن صاحب پر اپنا مقالہ سنا یا تھا، ان کے ساتھ مولانا خالد نیموی بھی تھے، دستر خوان پر ہم لوگ الگ سے ان کی باتوں سے مستفیض ہوتے رہے ، ان کے اندر بزرگانہ خشکی نہیں تھی، اور نہ ہی بزرگی کا رعب تھا، اس لیے ہم لوگ کھل کر باتیں کرتے رہے، مولانا خالد حسین نیموی سے میں نے اسی مجلس میں یہ درخواست بھی کی تھی کہ ان کی سوانح جو آپ نے مرتب کرنا شروع کیا تھا اور جس کی کئی قسطیں سوشل میڈیا پر آئی بھی تھیں کو مکمل کر دیں، تاکہ مولانا کی زندگی میں ہی یہ کام مکمل ہوجائے، مفتی خالد حسین صاحب نے وعدہ بھی کیا تھا کہ دہلی سے جا کر لگوں گا، لیکن کیا معلوم تھا کہ اس کتاب کی تکمیل کے قبل ہی ان کی حیات کا آخری ورق الٹ جائے گا اور ہم سب ان کے فیوض وبرکات سے محروم ہو جائیں گے۔ گذشتہ دنوں تعزیتی جلسہ میں جانا ہوا تو کئی مقررین نے اپنی تقریر میں اس بات کا ذکر کیا کہ وہ میری تحریروں کے بڑے مداح تھے اور اپنے عزیز و رفقاءکو اسے پڑھنے کی تلقین کیا کرتے، بعضوں کو وھاٹسپ کے ذریعہ خود منتقل کرتے۔میں یادوں کے چراغ ضرور جلاتا ہوں ، لیکن مولانا طلحہ نعمت ندوی کی رائے ہے کہ میں اسے مرثیہ بنانے سے گریز کرتاہوں اور کسی کی جدائی پر ماتم کا میرا مزاج نہیں ہے ، لیکن کیا کروں مولانا کی جدائی پر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور جب ہم دور والوں کا یہ حال ہے تو ان کے بچوں پر کیا گذر رہی ہوگی ، مولانا خالد حسین نیموی پر کیا گذر رہی ہوگی، جن کے کم سنی میں والد کے گذر جانے کے بعد سارا کچھ ایک والد کی طرح انہوں نے کیا تھا، اور مفتی صاحب سے کی زندگی پر سکون رہے اس کے لیے اپنی تربیت یافتہ لخت جگر ان کے نکاح میں دیا۔ اب مفتی صاحب زیادہ کون اس بات کو جانے گا کہ صبرآتے آتے آتا ہے، لیکن صبر صدمہ اولیٰ کے وقت کا ہی معتبر ہے، روپیٹ کر تو سب کو صبر آجاتا ہے۔
 اللہ پورے خاندان اور مفتی خالد صاحب ان کی اہلیہ، مولانا کے تلامذہ، رفقاءاور معتقدین کو صبر وثبات کی توفیق بخشے، مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کا بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ آمین۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...