Powered By Blogger

جمعہ, جون 09, 2023

چھین کر کو ن لےگیاچہرہ میر ا ا پنا نہیں مرا چہرہ تہ بہ تہ گر د ہے عذ ا بوں کی میں بھی رکھتاتھاخوشنماچہرہ * انس مسرورانصاری

بک رہا ہوں جنوں میں۔۔۔۔۔(2) 
                      ( چندمعروضات) 
          اردودنیانیوز۷۲ 
         *انس مسرورانصاری
    
        بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
        کچھ نہ سمجھے خد ا کر ے کو ئی
                                         (غالب) 
      اگر لوگوں میں کچھ بھی سمجھ ہوتی تو شاید اس طرح کی تحریروں کی ضرورت نھیں پیش آتی۔ ہمارا کام سمجھاناہے،سو ہم سمجھاتےآئےہیں اورسمجھاتےرہیں گے۔لوگ سمجھ سمجھ کر بھی نہ سمجھیں تو ان کی سمجھ کوہم اپنی سمجھ سےخداکےحوالے کرتےہیں۔ 
       عرض یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اردو شعروادب کا سب سےبڑا المیہ یہ ہے کہ جس شخص کو ذراسی بھی اردو آجاتی ہے وہ شاعری کی لت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔کیا دیہات اورکیاشہر،ہرجگہ شاعر مخلوق کاایک جم غفیرموجودہےجواپنی   محبوباؤں کی زلف گرہ گیرکا  شکار,اوررگ گل سےبلبل کےپرباندھنے میں مصروف ہے۔ایسی حالت میں جب قوم خطرناک اور تباہ کن مسائل میں گھری ہوئی بےدست وپاہے،قوم کادانشورطبقہ شاعری اور تخیلاتی دنیاؤں میں فرارہوگیاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ۔۔۔ 
        دنیا پڑی ہوئی ہے ترقی کی راہ میں
        شاعرپڑےہوئے ہیں مگر واہ واہ میں
    ضروری معلوم ہوتاہے کہ برصغیرمیں اردو شاعروں اورمتاشاعروں کی مردم شماری کرائی جائےتاکہ ان کی صحیح اور اصل تعداد کا کچھ تو پتا چلے۔گمان غالب ہےکہ بھارت میں ان کی آبادی لاکھوں میں ہے۔طرفہ تماشہ یہ کہ مشاعرہ گاہ سے سوشل میڈیا اورکتابی دنیا تک۔ہرشاعرعظیم ہے اور ہر تخلیق شاہ کار۔۔۔۔! واٹس ایپ، فیس بک، ٹیوٹر، انسٹا گرام وغیرہ کوئی بھی ایپ کھولئے،اوردیکھئیےکہ سڑےسےسڑے شعر پر بھی لوگ اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کردادوتحسین کےنعرےبلندکرتےہیں کہ غالب واقبال کی روحیں کانپ کانپ جاتی ہوں گی۔ یہاں تک کہ سڑےاوربدبودارشعروں 
 اور غزلوں کو شاہکار کے درجہ تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ حالانکہ انھیں شاہ کار کے معنی تک نہیں معلوم۔اس طرح شاعروں کو۔۔عظیم الشان۔۔بتاکر انھیں گمراہ کرنے کی مہم بھی عام ہے۔ہرشاعرعظیم اوراس کی شاعری عظیم الشان ہوگئی ہے۔ہرشعرپرواہ۔۔واہ۔۔بہت خوب۔۔بہت عمدہ۔۔لاجواب۔۔۔بے مثال۔۔جیسے تبصرے سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر شاعرکےدماغ کا خراب ہوجانا بعیدازقیاس نہیں۔ جب کہ حقیقت  حال یہ ہےکہ گزشتہ بیس سالوں میں اردو زبان  میں کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں لکھی گئی جوعالمی ادب کو متاثر کرسکتی اوردوسری زبانوں میں ترجمہ کےلیے ناگزیر ہو جاتی۔ 
      المیہ یہ بھی ہے کہ اردو مشاعرے اب کوی سمیلن کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔۔سبحان الله۔۔ ماشاءاللہ۔۔ جزاک اللّہ کے بجائے اب دادو تحسین کے لیےتالیایاں بجائی اوربجوائی جاتی ہیں۔یہ اردو مشاعرہ کی تہذیب نہیں۔ یہ بدعت ہندی کوی سمیلن سے آئی ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ ادب سازوں اور ادب نوازوں کو تالیوں جیسےغیراردو تہذیبی عمل پر کوئی اعتراض نہیں۔۔ مشاعرہ کی اپنی ایک روایت اور تہذیب ہےجس کی بنا ہمارے بزرگوں نے ڈالی تھی اورصدیوں سے اس تہذیب کی حفاظت کی جاتی رہی ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ کےشاعراورسامعین،دونوں نے مل کراس اردو تہذیب کوموت کےگھاٹ اتاردیا۔ مشاعروں کے اسٹیج پر اردوشاعری کو طوائفوں کی طرح نچایا جاتاہے۔شعراءمضحکہ خیزاداکاریاں اور حرکتیں کرتے ہیں اور سامنے بیٹھے ہوئے تماشائی تالیاں بجاتے ہیں۔ 
            ،، اک تماشاہواگلہ نہ ہوا۔۔ 
     اس سچائی سے کون انکارکرسکتاہے۔پھر اس قبیح عمل کو اردو کی ترقی اورفروغ سےجوڑدیاجاتاہے۔کہاجاتا ہےکہ مشاعروں سے اردوزبان کو فروغ حاصل ہورہاہے۔۔کوئی بتائے کہ مشاعروں کو سن کر کتنےلوگوں نےاردو زبان کولکھناپڑھناسیکھا۔؟تماشا یہ بھی ہےکہ آج مشاعرےمحض ذہنی عیاشی کاایک ذریعہ بن گئے ہیں۔اردوکےنام پر محض تجارت۔صرف کاروبار۔! مشاعروں اور جلسوں کےشعراء اورنعت خوانوں کی کثیر تعداد ان لوگوں کی ہےجو اردولکھناپڑھنانہیں جانتے اورکلام ہندی میں لکھ کرلاتےہیں۔اردو کو اپنی رسوائی کا یہ تماشا بھی دیکھناتھا۔اردو زندہ بادکےنعرے لگانےوالوں میں اکثریت ان لوگوں کی بھی ہے جو سوشل میڈیا میں اپنا نام اردو زبان میں لکھنا تک پسند نہیں کرتے۔شاید اردومیں لکھنا اپنی توہین سمجھتےہیں۔اجدادکی بخشی ہوئی عظیم الشان وراثت نا خلف وارثوں سے سنبھالے نہیں سنبھلتی۔انھیں شاید یہ تاریخی مقولہ یادنھیں کہ جس قوم کو اپنا غلام بنانا ہو اس سےاس کی زبان چھین لو۔قوم اپنی موت آپ مرجائےگی۔یوں تواردو کومارنےاور مٹانے کاسلسلہ ہمارے ملک میں آزادی کے فوری بعدسے شروع ہوگیاتھا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہےکہ آج بھی مرکزی و صوبائی حکومتں اردو کی ترویج و ترقی کے نام پرسرکای ونیم سرکاری اداروں کوہرسال  کروڑوں روپئے کا بجٹ دیتی ہیں۔لیکن ان اداروں کاحال اوران کی کارکردگی کیاہے،،سب جانتے ہیں۔ 
     اردو اکادمیاں مشاعروں کے منتظمین سے کمیشن لےکر بڑی بڑی امدادی رقم منظور کرتی ہیں۔یعنی خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ۔منتظمین اپنا کمیشن کاٹ کر شاعروں کو نذرانے پیش کردیتے ہیں۔ یہ بھی خوش وہ بھی خوش۔ کس قدر نفع بخش دھندہ ہے۔      دوسری طرف امداد نہ ملنے کے سبب مسودات دھول چاٹتے رہتے ہیں۔ ایک سال۔ دوسال۔ تین سال۔ پھر دیمکوں میں جشن مسرت برپاہوتا ہے۔ طباعت کے منتظر مسودات کی تعداد بھی توکافی ہوتی ہے جن میں شعری مجموعات کو اکثریت حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح دیمکوں کو وافر مقدار میں طعام کے لیے غذائی سامان فراہم ہوجاتاہے۔۔ہمارے ایک دوست کےمضامین  کا مسودہ۔۔ فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی۔لکھنؤ،،، میں مالی امدادکی درخواست کےساتھ جمع ہوئے تین سال ہوگئے۔ جب بھی خط لکھئےتوجواب نہیں آتا۔ فون کیجئے توجواب ملتا ہے کہ ابھی ۔۔پروسیس،، میں ہے۔اس پروسس کا سلسلہ کتنادرازہوگا۔ یہ تو خدا ہی جانےالبتہ مزے کی بات یہ ہےکہ مذکورہ مسودہ کے بہت بعد میں جمع ہونے والے مسودات زیور طباعت سےآراستہ ہوکر کب کے منظرعام پرآچکےہیں۔خطاہمارےدوست کی ہے۔ مسودہ کےساتھ کسی سفارشی کو کیوں نہ بھجا۔بیچارے تین سال سے اسی دکھ میں گھلےجارہےہیں کہ جیتے جی ان کی کتاب چھپ جاتی تو اچھا ہوتا۔۔ہم سمجھاتے ہیں کہ اناللہ و انا الیہ راجعون،، پڑھئےاورصبرکیجئے  مگران کا منھ نہیں کھلتا۔ ایسےکتنےہی ادیب اورشاعر ہوں گے۔۔۔ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان۔دہلی،، کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔   مشاعروں اور سیمیناروں کےلیے بجٹ موجود ہیں مگر مالی امداد کی درخواست کےساتھ جمع شدہ مسودات کی عمریں دو، تین، اور شاید چار سالوں تک پہنچ گئی ہیں۔۔۔
         کوئی بتلاؤکہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔ 
    اردو سیمیناروں کے حالات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔۔ اس میں بھی کمیشن خوری کاطویل سلسلہ ہے۔۔اردوکےنام پرتجارت  خوب پھل پھول رہی ہے۔ فروغ پارہی ہے۔ سیاسی سفارش ہو تو اردو اکادمیاں ایک لاکھ سے پانچ اورچھ لاکھ روپئے تک کے ایوارڈبھی دیتی ہیں مگر کمیشن کی شرط لازم ہے۔ خواہ ادیب اورشاعر مستحق ہویانہ ہو۔۔چاہیں تو آپ بھی اس لوٹ مار میں شامل ہوکر منفعت بخش کاروبارکرسکتے ہیں۔ 
       صلائےعام ہےیاران نکتہ  داں کےلیے ۔
      المیہ یہ بھی ہےکہ موجودہ زمانہ میں اردوتنقید اپنےمعنوی معیارسےمنحرف ہوکر محض تعریفی و توصیفی تبصرہ نگاری تک آگئی ہے۔اردو شعروادب کی ترقی کےلیے یہ ایک منفی اور نقصان رساں رجحان اورعمل ہے۔ اردو مشاعروں کےپوسٹراور تشہیری تحریروں کاہندی میں رواج تیزی سے عام ہورہاہے۔اردو والوں کا حال اس ریوڑی والے جیسا ہوگیا ہےجس کاخوانچہ شریر بچے زمین پر گراکراس کی ریوڑیاں لوٹنے لگتےہیں۔ریوڑی والاحیران و پریشان کہ وہ کیا کرے۔ جب کچھ سمجھ میں نہیں آتا تو وہ شریربچوں کے ساتھ خود اپنی ہی ریوڑیاں لوٹنےلگتاہے۔ 
       یاد رکھیے۔۔۔اردوزبان کا رسم الخط ہی اس کی جان ہے۔اب اس کی جان کی جان نکالنے کے عمل میں تیزی آگئی ہے۔اگر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اردو کاصرف نام رہ جائےگااورکچھ عرصہ بعدنام بھی جاتا رہے گا۔یہ زبان ہندی کے ساگر میں ڈوب َجائے گی۔۔۔۔ کھوجائے گی۔۔۔ایک حصہ انگریزی اپنےاندرہضم کر لے گی اور باقی سارے حصے ہندی زبان نگل جائے گی۔۔۔پھر اردوکی موت پر انالللہ واناالیہ راجعون۔۔ پڑھنا بھی لوگ بھول جائیں گے۔۔اور ایک عظیم الشان اسلامی لٹریچر مدفون ہوجائےگا۔لوگ قرآن تو پڑھیں گے لیکن تلفظ ہندی ہوگا۔آیات کےمعنی و مفہوم بدل جائیں گے۔لوگ ثواب اور برکت کےلیے قرآن پڑھیں گے اور عذاب کو دعوت دیں گے۔۔زبانیں اسی طرح بتدریج ختم ہوتی ہیں۔کیااردوزباں بھی ختم ہوجائے گی۔؟بلاشبہ یہی ہوگا۔۔۔ 
اگراب بھی نہ جاگےہم توصرف صوراسرافیل     ہی ہمیں جگاسکے گا۔۔ 
  یاد رکھئے کہ اردوزبان اپنے اصل رسم الخط کےساتھ ہی زندہ رہ پائےگی۔اردو کی زندگی اس لیے ضروری ہے کہ اس سےاسلامی کلچر اورشاندارلٹریچرکا وافرذخیرہ وابستہ ہے۔ہم ایک عظیم الشان وراثت سے محروم ہوجائیں گے۔اس لیےاردو میں لکھنا پڑھنااب ثواب کے زمرے میں داخل ہوگیاہے۔اس زبان کا تحفظ اب صرف زبان کا تحفظ نہیں۔ اردوزبان کا مسئلہ اب صرف ایک معدوم ہوتی ہوئی زبان کامسئلہ نہیں۔بلکہ یہ مسئلہ قومی وملی تحفظات کےساتھ منسلک ہے۔اس لیے اردوزبان کی بقاء و تحفظ کےلیے نہایت سنجیدگی سے غوروفکر کی ضرورت ہے۔مشاعرےاورسیمیناراردوکےمسائل کا حل نہیں ہیں۔اپنوں کی خودغرضیوں کی شکار اردوزبان کوگہرےجذباتی تعلقات مطلوب ہیں۔ وہ محبت کا تقاضہ کرتی ہے۔بے چاری اردو۔!مسلمانوں کو اب تسلیم کرلینا چاہئے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔مردم شمارے کے وقت ز بان کے خانہ میں کوئی غیرمسلم کبھی۔۔ اردو۔۔ نہیں لکھتا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔ اردوہمای جان ہے۔۔ ہماری شان ہے۔۔۔ ہماری شناخت اورپہچان ہے۔۔۔۔ اردو زندہ باد۔۔ اردوپائیندہ باد۔۔۔۔۔۔ 

                چھین  کر  کو ن لےگیاچہرہ 
                 میر ا ا پنا  نہیں  مرا چہرہ
               
                تہ بہ تہ گر د ہے عذ ا بوں کی
            میں بھی رکھتاتھاخوشنماچہرہ 
 
        * انس مسرورانصاری

      َ قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن(انڈیا)
                رابطہ/9453347784

جمعرات, جون 08, 2023

حج: اسلام کا اہم رکن __مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

حج: اسلام کا اہم رکن __
اردودنیانیوز۷۲ 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف ، پٹنہ(9431003131)
اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پرہے،ایمان لانا،اورایمان کے بعدنماز پڑھنا، روزہ رکھنا،بعض شرائط وقیودکے ساتھ سب پرفرض ہے، مردہو یا عورت، جوان ہویابوڑھا، فقیرہویامالدار،سب ایک صف میں ہیں،چونکہ یہ کام سب کرسکتے ہیں،بعض مخصوص حالات میں جولوگ نہیں ادا کرسکتے ہیں ان کو چھوٹ دی گئی ہے یااعذارختم ہونے کے بعدادائیگی کاحکم دیاگیاہے۔
زکوٰۃ اورحج سب پرفرض نہیں کیاگیاہے،کیونکہ ان کاتعلق مال سے ہے،اورسب مال والے نہیں ہیں،پھرجن کے پاس مال ہے،ان کے اوپرزکوٰۃفرض کرنے کے لیے نصاب کی شرط لگائی گئی اورحج فرض کرنے کے لیے مالداری کے ساتھ ’’استطاعت‘‘کی قیدلگائی گئی،اس لیے کہ حج میں سفر کرنا بھی ہوتاہے اورمال بھی خرچ کرناہوتاہے،اب اگرآدمی بیمارہے،تندرست نہیں ہے توخودسفرنہیں کرسکتا،قیدمیں ہے توسفرکی اجازت ہی نہیں۔تندرست وتوانااورآزادہے؛ لیکن راستہ پرامن نہیں ہے ۔عورت کے ساتھ کوئی محرم جانے والا نہیں ہے یاعورت عدت میں ہے،توبھی سفرممکن نہیں،اس لیے اس پرحج فرض نہیں،سب کچھ موجودہے، سفرخرچ اورواپسی تک بال بچوں کے نفقہ کی صورت نہیں بنی توبھی حج کرناممکن نہیں اوراللہ رب العزت اپنے فضل سے بندوں پر اسی قدرفرض کرتاہے جس کی ادائیگی پروہ قدرت رکھتاہو۔
اب قدرت وطاقت ،صحت ،مال ودولت اورہرقسم کی مطلوبہ استطاعت ہوتواللہ اپنے گھرکی طرف بلاتاہے،سب کچھ اللہ ہی کادیاہواہے،ایسے میں وہ یوںہی بلالے کچھ نہ دے اورکوئی وعدہ نہ کرے، تب بھی سرکے بل جاناچاہیے،دوڑناچاہیے،لیکن یہ اللہ رب العزت کاکتنابڑافضل اورکرم ہے کہ سب کچھ دے کرکہتاہے کہ آؤمیرے گھر،احرام باندھو،طواف کرو،سعی کرو،حجراسودکااستلام کرو،رکن یمانی کوچھوؤ،زمزم پیو،صفاومروہ کی سعی کرو،عرفہ،مزدلفہ میں وقوف کرو،منیٰ میں رات گذارو،شیطان کوکنکری مارو،قربانی کرو،ہم اس کے بدلے تمہیں جنت دیں گے،وہ جنت جس کے لیے تم پوری زندگی ہماری عبادت کرتے رہتے ہو،اس پوری زندگی کامطلوب صرف ایک حج مقبول میں تمہیں دیں گے،تم نے اس سفرمیں کوئی غلط کام نہیں کیا، جھگڑانہیں کیا، شہوانی خواہشات سے مغلوب نہیں ہوئیں توایسے پاک صاف ہوکرگھرلوٹوگے جیسے آج ہی تم ماں کے پیٹ سے معصوم پیداہوئے ہو،اس کے علاوہ اوربھی انعامات تمہیں ملیں گے،تمہارے اندردنیاسے بے توجہی پیداہوجائے گی،آخرت کی فکراوررغبت تمہاری زندگی کاحصہ بن جائے گی،تم نے جومال خرچ کردیاوہ تمہارے لیے فقروفاقہ کاباعث نہیں بنے گا؛ بلکہ اللہ تعالی اپنے فضل سے تمہیں اوردے  کرغنی بنادے گا،اتنادے گاکہ بے نیازہوجاؤگے،تمہیں ہرقسم کی عصبیت اورامتیازکی بیماری سے پاک کردے گا،ریا،نمودونمائش کاجذبہ ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالی کے اس اعلان فضل ونعمت کے بعدبھی دوسرے ارکان کی ادائیگی کی طرح حج میں جانے میں کوئی کوتاہی کرتاہے تویہ بڑی محرومی اوربدبختی کی بات ہے،یقیناًحج زندگی میں ایک بارفرض ہے،لیکن فرض ہونے کے بعدساقط نہیں ہوتاہے اورکیامعلوم اگلی زندگی کیسی ہوگی؟ابھی اللہ کے انعام کی قدرنہیں کیااوربعدمیں مال ہی جاتارہا یاصحت ہی باقی نہ رہی تویہ فرض باقی رہ جائے گا،اس لیے انتظارکرناکہ ملازمت سے سبکدوش ہوجائیں تب اللہ کے بلاوے پرلبیک کہیں گے اورسب گناہ سے رک جائیںگے،یہ شیطان کابہلاواہے کہیں اس کے پہلے ہی بلاواآگیااورکون جانتاہے کہ کب بلاواآئے گا؟ مرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اورکوئی نہیں جانتا کہ کب اورکس وقت ملک الموت اپناکام کرجائیںگے؛ اس لیے جوزندگی دی گئی ہے اورجومال ودولت ،صحت وعافیت فراہم ہے،اس کی قدرکرنی چاہئے اوربلاتاخیراللہ کے اس بلاوے پردوڑجاناچاہیے۔
ہمارے بعض بھائی اس اہم رکن کی ادائیگی کواس لیے ٹالتے ہیںکہ بچی کی شادی کرنی ہے، حج الگ فرض ہے اوربچی کی شادی الگ ذمہ داری ہے، خصوصاًاس شکل میں جب کہ لڑکی ابھی سیانی بھی نہیں ہوئیں ہے ذمہ داری ہی اس کام کی نہیں آئی،ایسے میں کہاں کی عقل مندی ہے کہ ایک فرض کوآئندہ والی ذمہ داری کے نام پرٹالاجائے۔یہی حال مکان کی تعمیر،زمین کی خریدگی،اوردوسرے گھریلومعاملات کاہے،جن کے نام پرشیطان بہکاتارہتاہے،اورحج کی ادائیگی مؤخرہوتی رہتی ہے،اورپھروہ وقت بھی آجاتاہے کہ ادائیگی کی شکل باقی نہیں رہتی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ جس شخص کے پاس کوئی عذرنہ ہو،استطاعت بھی ہو،سخت حاجت بھی درپیش نہ ہو،ظالم بادشاہ اورمرض نے بھی نہ روکاہواوروہ  بغیر حج کئے مرگیاتویہودی ہوکرمرے یانصرانی ہوکرمرے ،مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اللہ کی پناہ کس قدرسخت وعیدہے۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
بندہ جب اس بات کو سمجھ لیتا ہے اور حج کے سفر پر روانہ ہوجاتا ہے تو اسے اللہ پر کامل اعتماد پیدا ہوجاتا ہے ، وہ خدا کے فیصلوں پر بھروسہ کرنے لگتا ہے ، اور دل میں اطمینان قلب کی وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے ، جس سے دنیا میں بھی سکون ملتا ہے اور آخرت کے راستے بھی ہموار ہوتے ہیں ، اس پہلے تحفہ کے ساتھ عازمین کا سفر حج شروع ہوتا ہے ، مال ودولت کی محبت نکلتی ہے تو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر بھی ہوتی ہے ، جس جس کا حق دبا رکھا ہے ، سب کو ادا کردیتا ہے ، بیٹی کا حق ، بھائی کا حق ، پڑوسیوں کے حقوق یہ اللہ پر توکل کا پہلا اثر ہوتا ہے ، جو حقوق ادا نہیں ہوسکے، جو کوتاہیاں اور غلطیاں رہ گئیں اس کے لئے بندوں سے معافی مانگتا ہے اور سارے علائق دنیوی سے کنارہ کش ہوکر کفن نما دو کپڑے پہن کر اللہ کے راستے پر ہولیتا ہے ۔
احرام باندھا ، آرائش  وزیبائش کا خیال جاتا رہا ، نہ خوشبو ہے ، نہ میل چھڑایا جارہا ہے ، نہ بال ناخن بنائے جارہے ہیں ، دیوانگی ، وارفتگی ، شیفتگی میں مزہ آرہا ہے ۔عشق  حقیقی کے مراحل طے ہورہے ہیں، سفرجاری ہے ، حاجی انہیں سر مستی میں مکہ پہنچ جاتاہے ، وہاں وہ دیکھتا ہے کہ پوری دنیا سے آئے ہوئے لوگ اپنے اپنے انداز میں عبادت کررہے ہیں کوئی ہاتھ باندھے ہوا ہے ، اور کوئی بغیر باندھے ہی اللہ کے دربار میں کھڑا ہے ، کوئی آمین زور سے کہہ رہا ہے ، اور کوئی دھیرے ، کوئی رفع یدین کررہا ہے ، اور کوئی نہیں ، جنازہ میں کوئی سلام ایک ہی طرف پھیرتا ہے تو کوئی دونوں طرف، اتحاد و اجتماعیت کا یہ مظہر ،ہمیں ہرقسم کے تعصب سے پاک ہونے کا تحفہ دیتا ہے ، ذات برادری ، زبان ، علاقائیت ، مسلک ومشرب ، رنگ و نسل کی تفریق سب اس اجتماعیت میں کھو جاتے ہیں ، کالے کوگورے پراور گورے کو کالے پر ، عربی کو عجمی پر، عجمی پرعربی کو فضیلت نہیں رہتی ، معیارِ فضیلت تقویٰ کھلے آنکھوں سے یہاں دکھتا ہے، ایک امت اور ایک جماعت کا صرف تصور نہیں تصدیق کے مراحل طے ہوتے ہیں ، قرآن نے یوں ہی اعلان نہیں کیا کہ یہ امت ایک امت ہے اسے ر ب کی عبادت کرنی چاہیے اور اس سے ہی لولگانا چاہئے ، اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ وَ اَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْن پڑھتے جایئے اور غور کرتے جایئے کہ علم وحکمت کے کتنے موتی اور عمرانی تمدنی دنیا کے کتنے اسرار ورموز آپ پرکھلتے جائیں گے یہ منظر کتنا حسین ہے ، کوئی اختلاف نہیں ، کوئی جھگڑا نہیں ، الگ الگ انداز سے عبادت کرنے والے کو حیرت کی نگاہ سے بھی کوئی نہیں دیکھتا ، سب ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں ، یہ لڑی کلمہ ٔواحدہ کی لڑی ہے ، سب محمد رسول اللہ کے کلمہ پڑھنے والے ہیں ، حج کا یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ فروعی مسائل میں کسی طرح لڑنے کی گنجائش نہیں ہے ، کسی مسلک کا ماننے والا ہو ، وہ حرمین شریفین کے امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہے ، کوئی نہیں دیکھتا کہ ہمارے امام سے ان کا طریقہ الگ ہے ، یا یہ کس امام کو مان رہے ہیں ۔ اجتماعیت کا یہ وہ پیغام ہے جسے حاجی اپنے ساتھ تحفہ کے طور پر لے کرآتا ہے، یہ تحفہ اسے دوسروں تک بھی پہونچانا چاہئے۔
 ایک اور تحفہ صبروتحمل کا حاجی کے ساتھ آتا ہے ،دھکے پردھکے کھا رہا ہے ، اللہ کی بڑائی بیان کررہا ہے ، معافی حاجی ، معافی حاجی کی رٹ لگا رہا ہے ، وہ دھکے کھاکر مرنے مارنے پرآمادہ نہہیی ہوتا؛بلکہ وہ سب سہہ رہا  ہے ، اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے، اسے یاد ہے کہ’’ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلاَجِدَالَ فِی الْحَجِّ  ،، وہ اپنے حج کو رفث ، فسوق ، اور جدال سے بچا رہا ہے ، اب وہ حج سے لوٹا ہے تو دوسرے کے لئے بھی اپنے ساتھ برداشت کا تحفہ لا یاہے ، تحمل اور صبر کی سوغات لایا ہے ، یہ سوغات اگر قاعدے سے لوگوں تک پہونچ جائے تو بے شمار سماجی اور تمدنی فائدے لوگوں کو حاصل ہوں گے۔
 ایک تحفہ شرک و بدعات سے اجتناب کا بھی ہے ، صرف اور صرف اللہ کی عبادت کا جو خیال حج میں راسخ ہوتا ہے ، لبیک اللھم لبیک کی صدا انسانوں کو جس طرح غیروں سے بے نیاز کرتی ہے اسے بھی عام کرنے کی ضرورت ہے، روضہ رسول پر صلاۃ و سلام پیش کرکے جو روحانیت حاجی نے حاصل کی ہے ، اسے بھی بانٹنے کی ضرورت ہے اور بتانے کی ضرورت ہے کہ محبت رسول کیاچیز ہے اوراس کے تقاضے کیا ہیں؟اور اتباع رسول کس طرح بندے کو اللہ کی محبت کا حق دار بنادیتی ہے۔اس  کے علاوہ حسب صلاحیت و استطاعت مختلف ممالک کے لوگوں کے احوال و آثار سے جو واقفیت اس سفر میں ہوئی ، علمی گفتگو سے جو کچھ سمجھنے کوملا ، یقینا یہ سارے تحفے انتہائی قیمتی ہیں ، اور اس کی تقسیم بھی حاجی کی ذمہ داری ہے ، کیوں کہ وہ ضیوف الرحمن بن کر گیا تھا ، اور داعی بن کر واپس ہوا ہے ۔

پروفیسر نسیم احمد ___✍️مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف ، پٹنہ

پروفیسر نسیم احمد  ___
اردودنیانیوز۷۲ 
✍️مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف ، پٹنہ
پروفیسر سید نسیم احمد صاحب موتی ہاری مشرقی چمپارن نے کینسر کے موذ ی مرض سے طویل جنگ کے بعد 5 اپریل 2023ءبروز اتور بوقت ایک بجے دن سی ایم سی ہوسپیٹل ویلور میں اس دنیا کو الوداع کہا، جنازہ بذریعہ ہوائی جہاز پٹنہ اور پھر پٹنہ سے موتی ہاری لے جایا گیا، موتی ہاری روانہ کرنے سے پہلے راشٹریہ جنتا دل کے پارٹی آفس میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، موتی ہاری میں ان کی نماز جنازہ ان کے داماد مولانا اسامہ شمیم ندوی نے 7 اپریل کو بعد نماز جمعہ پڑھائی اور انجمن اسلامیہ کے صدر قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، اس طرح ایک علمی، ملی، سماجی اور سیاسی شخصیت کی حیات وخدمات کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کے لیے بند ہو گیا، پس ماندگان میں دوسری اہلیہ چھ لڑکا اور دس لڑکی کو چھوڑا۔
 پروفیسر سید نسیم احمد بن محمد یونس (ولادت 1904) بن سید امانت حسین بن سید ریاست حسین کی ولادت 7 جنوری 1938ءکو ان کے آبائی وطن بارو، برونی موجودہ ضلع بیگو سرائے میں ہوئی، مرحوم کی والدہ کا نام بی بی فضل النساء(ولادت1912) تھا، پروفیسرصاحب نوبھائی، بہن تھے، جن میں سے دو بھائی کا انتقال ایام طفلی میں ہو چکا تھا، ابتدا سے ہائی اسکول تک کی تعلیم رادھا کرشنن چمریا اسکول برونی ضلع مونگیر سے پائی، آئی اس سی اوربی اس سی راجندر کالج چھپرہ سے کیا، ایم ایس سی کی ڈگری ال اس کالج مظفر پور سے حاصل کیا۔
 محمد یونس صاحب کی شادی سید جواد حسین رئیس رانی کوٹھی موتی ہاری کی دختر نیک اختر بی بی فضل النساءسے ہوئی تھی، اس لیے پروفیسر صاحب کے والد1944ءمیں رابی کوٹھی لوہر پٹی ، موتی ہاری، بارو سے نقل مکانی کرکے آبسے،1960ءمیں یہ خاندان نشاط منزل بلواٹولہ موتی ہاری منتقل ہو گیا، ان دنوں پروفیسر صاحب کی رہائش یہں تھی۔
پروفیسر نسیم احمد صاحب نے دوشادیاں کیں، پہلی بی بی زینب النساءتھیں، جن سے اللہ رب العزت نے چھ لڑکیاں اور تین لڑکے کل نو اولاد عطا فرمائی، دوسری اہلیہ مہر النساءبیگم سے تین لڑکے اور پانچ لڑکیاں کل آٹھ بچے ہوئے، یعنی دونوں اہلیہ سے سترہ بچے تھے، جن میں ایک لڑکی بچپن میں فو ت ہو گئی، اب دونوں اہلیہ کے تین تین لڑکے اور پانچ پانچ لڑکیاں کل سولہ اولاد حی القائم ہیں، پروفیسر صاحب کی زندگی اس دور میں اہل وعیال کے اعتبار سے بھی نمونہ تھی، کیوں کہ آج کل تو دو یا تین بچے کے اچھے ہونے کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔
تدریسی زندگی کا آغاز انہوں نے گوپال شاہ ہائی اسکول موتی ہاری سے سائنس ٹیچر کی حیثیت سے کیا، یہ 1963ءکا سال تھا، صرف تین ماہ کے بعد آپ کی بحالی ایم اس کالج موتیہاری میں فزکس کے لکچرر کے طور پر ہوگئی، ترقی کرتے ہوئے آپ پروفیسر کے عہدہ تک پہونچے اور2001ءمیں یہیں سے سبکدوش ہوئے۔
 آپ ایک اچھے استاذ کے ساتھ اچھے سیاست داں بھی تھے، زندگی کے مختلف ادوار میں وہ سینوکت سوشل پارٹی(SSP)جنتا پارٹی، جنتا دل اور راشٹریہ جنتا دل سے وابستہ رہے، انہوں نے 1968ءمیں جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر بتیا پارلیمانی حلقہ، اور1985ءمیں اسی پارٹی کے ٹکٹ پر سوگولی حلقہ اسمبلی اور 1996میں جنتادل کے ٹکٹ پر پارلیامنٹ کی رکنیت کے لیے انتخاب لڑا، لیکن کسی بھی انتخاب میں انہیں کامیابی نہیں ملی، بعض انتخابات میں آپ دوسرے نمبر تک پہونچ سکے۔
 آپ کی شناخت سماجی خدمت گار کے طور پر بھی تھی، وہ بہت سارے تعلیمی اداروں کے قیام میں شریک رہے، انہوں نے ہریندر کشور کالج موتی ہاری کے صدر کے طور پر کام کیا، وہ انجمن اسلامیہ موتی ہاری کے قیام میں بھی شریک وسہیم رہے، انہوں نے انجمن اسلامیہ ، اس کے مدرسہ، یتیم خانہ، لڑکیوں کے اسکول مسجد اور صدر قبرستان موتی ہاری کی خدمات کو وقیع اور ان اداروں کی تعمیر وترقی میں نمایاں رول ادا کیا۔ وہ 1972ءسے 2023ءتک انجمن اسلامیہ کے صدر منتخب ہوتے رہے، وہ مدرسہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا اور مدرسہ منبع العلوم مادھو پور مشرقی چمپارن کے لیے بھی جو کچھ بن پڑتا، کر گذرتے تھے، اس طرح دیکھیں تو ان کی زندگی علمی ، سماجی ، سیاسی اور ملی تھی، وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، جس کی وجہ سے وہ لوگوں میں مقبول ومحبوب رہے، ان کے گذر جانے سے موتی ہاری، بلکہ مشرقی چمپارن میں بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ 
 پروفیسر نسیم احمد صاحب امارت شرعیہ اور ان کے اکابر سے بہت قریب رہے، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے وہ گرویدہ تھے، اور قاضی صاحب نے جب آل انڈیا ملی کونسل قائم کیا تو وہ علاقہ میں اس کے دست وبازو بنے، امارت شرعیہ کے ایک زمانہ میں مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے، اور مٹنگوں میں پابندی سے شریک ہوا کرتے تھے، آخری بار امارت شرعیہ وہ امیر شریعت سابع کو انجمن اسلامیہ تشریف لانے کی دعوت دینے کے لیے آئے تھے، ان کے ساتھ قاری جلال صاحب قاسمی امام جامع مسجد موتی ہاری بھی تھے، حضرت کا سفر ایک نکاح پڑھانے کے سلسلے میں موتی ہاری کاہو ا تھا۔
میری ملاقات ان سے امارت شرعیہ میرے آنے سے پہلے سے تھی، ایم، ایس کالج موتی ہاری بعض ضرورتوں کی وجہ سے بھی جانا آنا رہا، ابا بکر پور کے ایک پروفیسر بھی وہاں تھے، ان کی قربت کی وجہ سے بھی پروفیسر صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، بعد میں جب کبھی موتی ہاری جانا ہوتا، جامع مسجد میں حاضری ہوتی اور پروفیسر صاحب سے بھی ملاقات ہوجایا کرتی تھی، آل انڈیا ملی کونسل کے اُس علاقہ کے دورہ اور بعض مدارس کے جلسے میں بھی ان کا ساتھ رہا، جانا ایک دن سب کو ہے
پروفیسر صاحب نے الحمد للہ لا نبی عمر پائی، لیکن ان کا فیض اس قدر عام تھا کہ ان کے جانے کے بعد خلا محسوس ہونا فطری ہے، یوں کسی کے جانے سے نہ تو کاروبار زندگی میں رکاوٹ آتی ہے اور نہ ہی روئے زمین پر اندھیرا چھاتا ہے، وہ جو کسی کے مرنے پر کہتے ہیں کہ ایک چراغ اور بجھا ، تاریکی اور بڑھی، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں، ہم سب کا عقیدہ ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ آسمان وزمین کا نور ہے، اور اس کو فنا نہیں ہے، اس لیے آسمان وزمین میں تاریکی کیسے پھیلے گی، اللہ سے دعا ہے کہ وہ پروفیسر صاحب کی خدمات کو قبول کرے اور ان کے سیئات کو در گذر کرکے جنت کے فیصلہ فرمادے ۔ آمین یا رب العالمین

اتوار, جون 04, 2023

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں ۔مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں ۔مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی ۔
Urduduniyanews72 
٣ جون اندور(مدھیہ پردیش)جامعہ اسلامیہ بنجاری کے پر شکوہ ہال میں پانچویں صدر کے انتخاب کے لیے پورے ملک سے بورڈکے ارکان جمع ہویے ۔ملک کی مؤقر تنظیموں اور بڑے مدارس کے ذمہ داروں نے بالاتفاق مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا نام پیش کیا بہار سے حضرت امیر شریعت نے اس نام کی تایید کی۔امارت شرعیہ سے حضرت امیر کے علاوہ مفتی وصی احمد قاسمی اور  محمد ثناءالہدی قاسمی کا نام پکارا گیا ۔ہم لوگوں نے بھی اور مولانا انوار اللّٰہ فلک قاسمی بانی مہتمم ادارہ سبیلش شرعیہ آواپور سیتامرھی نے  مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی کے نام کی تایید کی
اس کے بعد عاملہ کی مٹنگ ہوءی جس میں گلبرگہ کے ایک بزرگ اور امیر جماعت اسلامی انجنیر سعادتِ اللہ حسینی کو نایب صدر حضرت امیر شریعت مفکر ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی،مولانا بلال حسنی ندوی اور مولانا یسین بدایونی کو سکریٹری منتخب کیا گیا ۔اس طرح ایک معتدل اور مضبوط قیادت ابھر کر سامنے آءی۔جس میں مسلک اور اداروں کا خیال رکھا گیا ہے ۔توقع کی جاتی ہے کہ یہ مضبوط قیادت ملت اسلامیہ کےپرسنل لا کی حفاظت میں اپنی ذمہ داری نبھاءے گی نیک خواہشات ،مبارکبادی اور دعا ءوں کے ساتھ یہ توقع رکھتا ہوں کہ ملک کے بدلتے حالات میں یہ قیادت مسلمانوں کو مایوسی،خدشات کے دلدل سے نکال کر نءے عزم و حوصلے کے ساتھ آگے بڑھانے کا کام کرے گی۔وماذالک علی اللہ بعزیز

ہفتہ, جون 03, 2023

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی__قائم جن کے دم سے ہے محفلوں کی تابانی(آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پانچویں صدر منتخب ہونے پر خصوصی تحریر)

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی__قائم جن کے دم سے ہے محفلوں کی تابانی
اردودنیانیوز۷۲ 
(آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پانچویں صدر منتخب ہونے پر خصوصی تحریر)
✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
  نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

 جامعہ رحمانی مونگیر کے نامور فاضل،چوتھے امیر شریعت حضرت مولاناسید شاہ منت اللہ رحمانی ؒ نیزساتویں امیرشریعت مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کے شاگرد رشید، افتاء وقضاء میں امارت شرعیہ کے تربیت یافتہ، امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ وارباب حل عقد کے رکن، المعھدالعالی امارت شرعیہ کے ٹرسٹی اور رکن اساسی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کارگذار جنرل سکریٹری وترجمان، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری ، امارت ملت اسلامیہ آندھرا پردیش کے قاضی شریعت ، مجمع الفقہ الاسلامی مکہ مکرمہ ،مجلس علمی دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد ،مجلس منتظمہ و مجلس نظامت ندوۃ العلماء لکھنؤ ، مجلس مشاورت دارالعلوم وقف دیوبند، الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین قطر، رابطہ علماء اہل سنۃ والجماعت بحرین کے رکن، حضرت مولانامحمد سالم صاحبؒ ،مولانا سید رابع حسنی ندوی، مولانامنیر احمد مظاہری اور مولانامحمد یونس پالن پوری ادام اللہ فیوضہم کے خلیفہ و مجاز، درجنوں ملی، تعلیمی، تحقیقی اداروں کے ذمہ دار، دارالعلوم سبیل السلام حید آباد کے سابق شیخ الحدیث ، المعھد العالی الاسلامی حید آباد کے بانی، بڑے مفسر، فقیہ، مقرر، منتظم اور مدبر ،دینی ملی، سماجی مسائل پر گہرائی اور گیرائی کی نظر رکھنے والے، ستر سے زائد قرآن واحادیث، فقہ ،سیرت، تاریخ، تذکرہ، سفرنامہ،تقابل ادیان اور فکری ،اصلاحی ، تذکیری موضوعات پر عربی، اردو اور انگریزی کتابوں کے مصنف ،علمی رسوخ، تفقہ فی الدین اور معتدل فکرونظر کے حامل سب کے کام آنے والے اور سب کے لیے وقت نکالنے والے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی۔قائم جن کے دم سے ہے محفلوں کی تابانی ۔
 حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بن حضرت مولانا زین العابدین بن حضرت مولانا عبد الاحد صاحب کی پیدائش ۴/جمادی الاولیٰ ۱۳۷۶ھ مطابق نومبر ۱۹۵۶ء قاضی محلہ جالے دربھنگہ میں ہوئی، تاریخی نام خورشید ہے، ابتدائی تعلیم دادی، والدہ سے حاصل کرنے کے بعد مدرسہ قاسم العلوم حسینیہ دوگھرا دربھنگہ میں داخل ہوئے، یہاں مولانا کے پھوپھا مولانا وجیہ احمد صاحب مدرس تھے، ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، وہاں سے جامعہ رحمانی مونگیر تشریف لے گیے، جہاں عربی سوم سے دورئہ حدیث کی تعلیم پائی اور یہیں سے سند فراغت پانے کے بعد رحمانی کو اپنے نام کے لاحقہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، جو ان کے نام کا جزو لازم بن گیا، مونگیر میں انہوں نے جن نامور اساتذہ سے کسب فیض کیا، ان میں امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانیؒ،امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانیؒ مولاناسید محمد شمس الحق صاحبؒ سابق شیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیر کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں، جامعہ رحمانی کے بعد آپ نے دوبارہ دارالعلوم دیوبند سے بھی دورئہ حدیث کی تکمیل کی، یہاں کے نامور اساتذہ میں حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحب ، حضرت مولانا مفتی محمودالحسن صاحب، مولانامعراج الحق صاحب، مولانا محمدحسین صاحب بہاری رحمھم اللہ سے مولانا نے علوم و فنون کی تعلیم پائی۔
 تدریسی زندگی کا آغاز مولانا حمید الدین عاقل حسامیؒ کے مدرسہ دارالعلوم حید آباد سے شوال ۱۳۹۷ھ میں کیا، لیکن صرف ایک سال بعد ۱۳۹۸ھ میں دارالعلوم سبیل السلام حید آباد منتقل ہوگئے، شوال ۱۳۹۹ھ میں آپ صدر مدرس بنائے گئے اور ۱۴۲۰ھ تک کم و بیش بائیس سال اس ادارے سے وابستہ رہے، یہاں رحمت عالم سے بخاری شریف تک کا درس آپ نے دیا، آپ اور مولانا رضوان القاسمیؒ کی جوڑی تعلیم و تربیت کے میدان میں مثالی سمجھی جاتی رہی،مولانا کی توجہ سے یہاں تخصص فی الفقہ ، دعوۃ اور ادب کے بھی شعبے کھلے اور دارالعلوم سبیل السلام کا جنوبی ہند کے ممتاز ترین اداروں میںشمار ہونے لگا۔
 شعبان ۱۴۲۰ھ میں آپ نے یہاں سے مستعفی ہوکر المعھد العالی الاسلامی حید رآبادکی بنیاد ڈالی، یہاں کے اسباق کے ساتھ دارالعلوم حید آباد میں تخصصات کے شعبے میں بھی درس دیتے رہے، ان دنوں یہ سلسلہ موقوف ہوگیا ہے۔آپ کی شہرت اچھے مدرس اور بہترین مربی کی حیثیت سے پورے ہندوستان میں زبان زد خلائق ہے۔
 ان علمی مشاغل کے ساتھ آپ کی توجہ ملی مسائل پر بھر پور رہی ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وہ زمانہ دراز سے سکریٹری تھے ان دنوں کارگذار جنرل سکریٹری ہیں، واقعہ یہ ہے کہ ہر مسئلہ پر شرعی موقف کی تیاری اس کے حوالہ جات کی فراہمی وکیلوں کے لیے مولانا ہی کرتے رہتے ہیں،تفہیم شریعت کے پروگرام کو پورے ہندوستان میں متعارف کرانے اور اس کو عملی شکل دینے میں بھی آپ کی عملی جدوجہد کا بڑا ہاتھ ہے، ہندوستان کی کوئی قابل ذکر تنظیم ایسی نہیں ہے، جس سے کسی نہ کسی حیثیت سے آپ کی وابستگی نہ ہو، رہتے حیدرآباد میں ہیں ؛لیکن روح آبائی وطن میں لگی رہتی ہے ،یہاں کی تعلیمی اور اخلاقی حالت کو سدھارنے کی فکر برابر دامن گیر رہتی ہے، اسی فکرمندی کے نتیجہ میں مولانا نے دارالعلوم سبیل الفلاح اور مدرسۃالفالحات جالے میں قائم کیا،جس سے علاقہ کو بڑا فائدہ پہونچ رہا ہے؛ یہاں کے مدارس اور امارت شرعیہ سے ان کی وابستگی قدیم، مضبوط اور مستحکم ہے، جنوبی افریقہ کے بعض حلقوں میں امارت شرعیہ کا تعارف بھی تحریری طور پر انہوں نے کرایا، جس سے میرے سفر میں آسانیاں پیدا ہوئیں، واقعہ یہ ہے کہ مولانا کی حیات وخدمات مستقل ایک کتاب ؛ بلکہ کئی جلدوں میں لکھی جانے والی کتاب کا موضوع ہے، لکھنے والوں نے لکھا ہے اور آئندہ بھی لکھتے رہیں گے۔اس مضمون میں طوالت کی گنجائش نہیں ہے، اتنے بافیض عالم دین اور ملت پر قربان ہوجانے والی شخصیت کے لیے صحت و عافیت کے ساتھ درازئی عمر کی دعا نہ کرنا خود اپنی حرماں نصیبی ہوگی، اس لیے بس اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
توسلامت رہے ہزار برس
 ہربرس کے ہوں دن ہزار

مظہر الحق۔ تحریک آزادی کا فراموش کردہ کردار ۔۔۔۔۔ایک جائزہ

مظہر الحق۔ تحریک آزادی کا فراموش کردہ کردار ۔۔۔۔۔ایک جائزہ
Urduduniyanews72 

جب کوئی  مصنف پہلی بار کوئی کتاب لکھتا ہے تو چا ہتا ہے کہ اس کتاب کو ایک ایک صاحب ذوق انسان نہ صرف یہ کہ پڑھ لے بلکہ ایک ایک کی طرف سے اسے داد بھی مل جائے اور اگر وہ صاحب تصنیف کوئی نوجوان ہے یا نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی یہ خواہش اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔وہ بے دریغ اپنی کتاب کی کاپیاں تقسیم کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس کی ادبی یا علمی کوش پہنچ جائے اور اسے پتا چل سکے کہ اہل, علم اور صاحب, ذوق کی نظر میں وہ کتاب کیسی ہے؟ اس میں کیا خوبیاں ہیں اور کیا کمیاں ہیں ؟ آس نے کتنی محنت کی ہے ؟ اور کیسے کیسے نکات دریافت کیے ہیں؟ اس کی تسلی اس طرح کے ریمارکس سے نہیں ہوتی کہ واہ واہ ! کر دی جائے یا کیا کہنے! ماشاءاللہ! خوب ، تعجب خیز ،قابل, داد وغیرہ جیسے الفاظ فیس بک پر لکھ دیے جائیں! یا فون پر بول دیے جائیں 
   مگر اس کی تسلی اور تشفی والے جملے تو تب  پڑھنے کو ملیں گے جب کتاب پڑھی گئ ہو اور وہ بھی خلوص اور سنجیدگی سے کتاب کی ورق گردانی کی گئی ہو۔ کتب بینی کی صورت حال تو یہ ہے کہ اول تو بہت دنوں تک کتابوں والی ڈاک کھلتی ہی نہیں ہے اور اگر کھلتی بھی ہے تو وہ کتاب تو کسی حد تک توجہ پا لیتی ہے جس کے سر ورق پر کسی دوست یا شناسا یا کسی بہت بڑے ادیب کا نام درج ہوتا ہے اور اگر نام کوئی اجنبی ہوتا ہے تو اس کے شروع کے اوراق بھی نہیں کھلتے ۔ مگر اسی صورت حال میں کچھ ایسے بک لور  بھی ہیں جو کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ضرور ہیں اور اگر کتاب کی تحریر معنی خیز اور موثر ہوتی ہے تو اسے وہ سنجیدگی اور دلچسپی سے آخر تک پڑھ جاتے ہیں اور اپنی رائے بھی لکھ دیتے ہیں۔ میں دعویٰ تو نہیں کرتا کہ میں بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوں مگر یہ بات سچ ہے کہ نہاں رباب کی کتاب ڈاکیہ کے ہاتھ سے میرے ہاتھوں میں آتے ہی کھلی۔ ورق الٹے پلٹے گئے اور کتاب کے موضوع اور اسلوب نے مجھے پڑھنے پر بھی مجبور کیا اور کتاب کے خاتمے تک آتے آتے دل نے اس پر کچھ لکھنے کے لیے بھی مجھے تیار کر لیا۔ میں اس لیے بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ اس کتاب کی مصنفہ رسرچ اسکالر ہیں اور پہلی بار انھوں نے کوئی کتاب لکھی ہے ۔تاکہ اس کتاب کی مصنفہ محترمہ نہاں رباب کو پتا چلے کہ میری نگاہ میں یہ کتاب کیسی ہے اور اس کے مواد و موضوع اور پیش کش کی کیا قدر وقیمت ہے؟ اور انھوں نے اس کتاب کی تیاری میں کتنی محنت کی ہے ۔
  اس کتاب کے چھ ابواب قائم کیے گئے ہیں:
1- مظہرالحق
2-, مظہرالحق کی شخصیت کے اوصاف و امتیازات
3- مظہر الحق کی علمی و سیاسی خدمات
4- تحریک, آزادی ہند اور مظہرالحق
5- تحریک, آزادی ہند میں مظہرالحق کے ہم عصر قائدین
6- مظہرالحق کی سیاسی سرگرمیوں سے سبکدوشی:  اسباب و عوامل
    کتاب کے یہ ابواب بتاتے ہیں کہ اس کتاب میں مجاہد, آزادی مولانا مظہر الحق کی کے سوانحی کوائف، شخصیت اور ان کی سرگرمیوں کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اور ان پر دلائل کے ساتھ منطقی بحث  بھی کی گئی ہے ۔ مولانا کی شخصیت والے باب میں جو ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور ان کی روشنی میں مولانا کی شخصیت کے جو نمایاں پہلو ابھارے گئے ہیں اور جس طرح ان پہلوؤں سے مولانا کے کارناموں کو منطقی انداز میں جوڑا گیا ہے وہ واقعی قابل,داد ہے اور اس تجزیے سے قلم کارہ نہاں رباب کی ذہنی بالیدگی اور ان کی ناقدانہ استعداد کا پتا چلتا ہے ۔اوراس بات کا اشارہ بھی کہ جب کسی کام میں جی لگایا جاتا ہے اور خون, جگر صرف کیا جاتا ہے تو اس کام کے ثمر کا رنگ چوکھا ضرور ہوتا ہے ۔
     پانچویں باب میں جنگ آزادی کے تمام اہم قائدین اور خصوصاً ان سیاست دانوں اور آزادی کے متوالوں جن کا تعلق بہار سے تھا کی بنیادی کارگزاریوں کو سمیٹا گیا ہے ۔
  کتاب کا آخری باب بہت دل دوز اور پرسوز ہے کہ اس میں ان واقعات و حالات کا ذکر ہے جن کے باعث مولانا مظہر الحق کو ملک کی سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہونا پڑا ۔اور وہ شخص جو ہمیشہ میدان کارزارِ میں رہا اور وہ بھی اگلی صف میں اسے تنہائی کی زندگی گزارنی پڑی ۔
    اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ مصنفہ نے نہایت اختصار کے ساتھ مولانا مظہر الحق کی تمام جہتوں کو سمیٹ لیا ہے اور ان کے کارناموں اور قربانیوں کی روشنی میں ان کے قد کو اس طرح پیش کیا ہے کہ
مولانا کی وہ حیثیت جو وقت کی گرد میں دب کر رہ گئی تھی روشن ہو کر سامنے آ گئی ہے ۔ پوری کتاب پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم  اپنے ملک کے ایک سچے ہیرو سے مل کر آ رہے ہیں اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمیں آزادی کا سکھ دینے کے لیے ہمارے بزرگوں نے کتنی اور کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائی ہیں۔
  یہ کتاب اس اعتبار سے بھی اہم اور کارآمد ہے کہ یہ نئی نسل کو ہندوستان کے ایک سچے دیش بھکت اور جاں نثار, قوم مولانا مظہر الحق کی ہمہ جہت اور ڈائنمک شخصیت سے متعارف کرائے گی اور ان کے دلوں میں بھی جذبہء حُب الوطنی بیدار کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
   نہاں رباب نے زبان بھی صاف ستھری ، سادہ اور رواں دواں استعمال کی ہے ۔پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ نے کتاب کے نہاں خانے میں رباب کے تار چھیڑ دیے ہوں۔
  نہاں رباب اس لیے بھی قابل, قدر اور لائق, تحسین ہیں کہ
ان کی یہ کتاب پی۔ایم  ہوا میںٹورشپ اسکیم کے تحت سیکڑوں مسودوں میں سے منتخب ہونے والے ان چار مسودوں میں سے ایک ہے جنھیں ہندوستانی کتابوں کے سب سے بڑے ادارے نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا نے شائع کی
اور اس کتاب پر مصنفہ کو حکومت,ہند کی طرف سے
تین لاکھ روپے بھی عطا کیے گئے ۔
   ایک عمدہ کارآمد اور اہم کتاب کے لیے نوجوان ادیبہ محترمہ نہاں رباب کو ڈھیروں  دلی داد و مبارک باد۔
    امید ہے یہ کتاب قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور نوجوان مصنفہ کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔
                            پروفیسر غضنفر
                   سابق ڈائریکٹر ،اردو اکادمی ،برائے اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی
7678436704

مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری حیات وخدمات:تعارف و تبصرہ ڈاکٹر نورالسلام ندوی

مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری حیات وخدمات:تعارف و تبصرہ 
ڈاکٹر نورالسلام ندوی
Urduduniyanews72 
 بہار کے خانوادہ صادق پور، پٹنہ کے گل سرسبد حضرت مولانا عبدالسمیع جعفری ندوی صادق پوری متنوع خوبیوں اور کمالات کے حامل تھے۔بلند پایہ عالم دین،بہترین مربی، مشفق استاذ، بے باک خطیب اور داعی تھے، اخلاص وللہیت اور جرأت و جسارت خاندانی وراثت میں ملی تھی، سادگی و تواضع کے پیکر تھے، اخلاق و شرافت کے مجسم اورانسانیت ومحبت کے نقیب تھے، ہمدردی وغمگساری کے نمونہ اور صبر و ایثار کی تصویر تھے۔حق گوئی اور حق شناسی ان کی فطرت تھی، انسانیت کو نفع پہنچانا ان کی طبیعت تھی، اکابر علماء کی یادگار تھے، انہوں نے مثالی زندگی گزاری، ان کی زندگی نسل نوکے لئے سبق آموز اور چراغ راہ ہے۔

 ضرورت متقاضی تھی کہ ایسی باکمال شخصیت کی سوانح حیات مرتب کی جائے اور نسل نو کو ان کےکارنامے سے متعارف کرایا جائے،اللہ تعالی نے یہ سعادت جواں سال صاحب قلم عالم دین اور مصنف مولانا انظار احمد صادق کے حصے میں مقدر کر تھی، موصوف برسوں مولانا کی تربیت میں رہ چکے ہیں اور سفر وحضر کے ساتھی ورفیق رہے ہیں، انہوں نے مولانا عبدالسمیع جعفری ندوی صادق پوری کی حیات وخدمات پر بہترین سوانح حیات مرتب کی ہے۔

 زیر تبصرہ کتاب’’ مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری :حیات وخدمات ‘‘چار حصوں میں منقسم ہے، پہلا حصہ خاندان صادق پور کی تاریخ اور تعارف پر مشتمل ہے، اس میں مختصر طور پر خاندان صادق پور کا تعارف کراتے ہوئے جنگ آزادی میں اس کی قربانیاں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اس کے کارنامے کو قلم بند کیا گیا ہے، دوسرا حصہ جو دراصل کتاب کا بنیادی موضوع ہے مولانا کی حیات وخدمات پر محیط ہے، اس میں صاحب سوانح کی ابتدائی زندگی (جو نہایت اہمیت کا حامل ہے اور جس کے مطالعہ سے عزم حوصلہ کو تازگی اور نئ اڑان ملتی ہے) سے لے کر موت تک کے احوال تحریر کیے گئے ہیں، سلسلہ نسب، تاریخ ولادت،ایام رضاعت میں ماں کی ممتا اور دودھ سے محرومی، پرورش و پرداخت، تعلیم وتربیت، شادی بیاہ، ملازمت،خدمت، کارنامے، اوصاف حمیدہ، خصوصیات، کمالات، عہدے، مناصب، سفر وحضر کے معمولات، تقریر و تحریر کا انداز، دعوت و تبلیغ کا اسلوب، دینی و ملی اداروں سے وابستگی، رفاہی فلاحی کاموں سے دلچسپی غرض ایک ایک پہلو  پر روشنی ڈالی گئی ہے،مولانا کی زندگی کا ایک اہم باب جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کی سنٹرل لائبریری کی نوکری چھوڑ کر وطن واپسی اور امارت اہل حدیث اور مدرسہ اصلاح المسلمین، پٹنہ کی سرپرستی اور اس کے لیے جدوجہد پر مشتمل ہے، اس حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، تیسرا حصہ مختلف تنظیموں اور مکاتب فکر کے ذمہ داروں کے تعزیتی بیانات اور چوتھا حصہ ان تحریروں پر مبنی ہے جو مولانا کی وفات کے بعد متعدد اہل علم و قلم نے تحریر کئے ہیں، یہ مضامین بھی قیمتی اور معلوماتی ہیں، ان کے مطالعہ سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ مختلف مسالک کے اہل علم ودانش مولانا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

کتاب 358 صفحات پر مشتمل ہے، اس کے مطالعے سے صاحب سوانح کی شخصیت کا عکس نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے، بعض ایسے واقعات اور حقائق زیر قلم لائے گئے ہیں جو مخفی تھے، ان واقعات کے پڑھنے سے انسانیت نوازی، صلہ رحمی، ہمدردی اورخدمت خلق کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، کتاب مولانا کی زندگی کے مختلف گوشوں سے پردہ اٹھاتی ہے، مولانا عبد السمیع جعفری ندوی پر آنے والی یہ پہلی کتاب ہے، اس سے وہ لوگ بھی استفادہ کر سکیں گے جن کی مولانا سے دیدوشنید رہی ہے اور وہ لوگ بھی جن کی مولانا سے دید وشنید نہیں رہی ہے،نیز اگر آئندہ کوئی مولانا کی سوانح حیات پر کام کرنا چاہے تو اس کو بنیادی مواد فراہم ہو جائے گا۔

 انظاراحمد صادق جواں سال قلم کار ہیں، خالق قدرت نے ان کو قلم کی دولت سے نوازا ہے، صلاحیت کے ساتھ صالحیت کے وصف سے متصف ہیں، ان کے مضامین اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں، بچوں کے لئے بطور خاص ان کی کہانیاں بڑی دلچسپ اور سبق آموز ہوتی ہیں، ان کی کہانیوں کےدو مجموعے ’’باغ سلمی کے مہکتےپھول‘‘ اور ’’گلہائے جنت‘‘ شائع ہو کر دادتحسین وصول کر چکے ہیں، زیرنظر کتاب کی ترتیب و تالیف میں انہوں نے کافی محنت کی ہے اور سلیقے سےسوانح حیات مرتب کی ہے۔

مذکورہ کتاب کی ایک اہم خوبی اسلوب تحریر اور انداز پیشکش ہے، زبان سادہ، سہل اوررواں ہے، اسلوب بیان شگفتہ اور دل آویزہے، منطقی ترتیب کتاب میں شان پیدا کرتی ہے، مبالغہ اور غلو سے بچتے ہوئے متوازن راہ اختیار کی گئی ہے، افراط و تفریط اور مبالغہ آمیز اسلوب سوانح حیات کو محض تعریف و توصیف کا پلندہ بنا دیتا ہے، حالانکہ سوانح نگار نے بشری کمزوریوں اور خامیوں کو بیان کرنے سے گریز کیا ہے،چونکہ احادیث میں گزرے ہوئے لوگوں کی خوبیوں کو بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے،سوانح نگار نے صاحب سوانح کے اوراق زندگی کا معروضی مطالعہ کرتے ہوئے شخصیت کے ارتقا اور نقوش کی جیتی جاگتی تصویر پیش کر دی ہے،سوانح حیات میں فن سوانح نگاری کے اصول، موضوع، مواد تحقیق اور  اسلوب کی بڑی حد تک رعایت برتی گئی ہے۔

عنوانات متعدد جگہوں پر طویل اور لمبے ہیں،جبکہ عنوان مختصر اور جامع ہونا چاہیے، مثال کے طور پر’’ والد صاحب اور اجلہ اساتذہ کی موجودگی میں اچانک خطبہ جمعہ دینے کا حکم اور اس کی بجا آوری‘‘،’’جامعہ میں آخری سال کی پریشانیاں اور ثبات قدمی کا مظاہرہ، ’’مفوضہ فرائض کے علاوہ غریب ممالک کے مزدوروں کے ساتھ ہمدردی‘‘، اس کوبالترتیب مختصر کرکے اس طرح لکھا جا سکتا تھا،’’ اچانک خطبہ جمعہ دینے کا حکم‘‘، ’’جامعہ کا آخری سال‘‘، ’’غریب ممالک کے مزدوروں کے ساتھ ہمدردی‘‘،جہاں جہاں تاریخ اور سنین درج کی گئی ہے شمسی تاریخ اور سنین کے ساتھ قمری تاریخ بھی رقم کی گئی ہے،یہ قابل تحسین ہے، آج کل عموماً قمری تاریخوں کا التزام نہیں ملتا ہے۔ اسی طرح حوالوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے، جس سے کتاب کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔یہ کتاب سوانح عمری کے باب میں ایک اضافہ ہے،اس کی طباعت معیاری، کاغذ نفیس اور سرورق خوبصورت ہے، امید ہے کہ ارباب علم ودانش اس کاوش کی بھرپور پذیرائی کریں گے۔گرانی کے دور میں کتاب کی قیمت250روپے زیادہ نہیں ہے، اسے الحرا پبلک اسکول،شریف کالونی، پٹنہ اور بک امپوریم، سبزی باغ ،پٹنہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
E-mail:nsnadvi@gmail.com
Mob NO. 9504275151 
****

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...