Powered By Blogger

جمعرات, اگست 19, 2021

6 ماہ بعد پہلے کووڈ کیس پر پورے نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن نافذ

  • (اردو اخبار دنیا)

نیوزی لینڈ میں 6 ماہ بعد پہلا کووڈ 19 کیس سامنے آنے پر پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔17 اگست کی شب بارہ بجے سے (نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق) پورے ملک میں کم از کم 3 دن تک لاک ڈاؤن رہے گا جبکہ آک لینڈ اور کورومینڈل کے خطوں میں اس کی مدت 4 سے 7 دن ہوگی۔

نیوزی لینڈ میں اس پہلے کیس کے بعد الرٹ لیول 4 کے تحت لاک ڈاؤن کا نافذ کیا گیا، یہ الرٹ لیول سخت ترین لاک ڈاؤن پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے۔اس ملک میں لیول 4 لاک ڈاؤن آخری بار کورونا کی وبا کے آغاز میں لگایا گیا تھا اور موجودہ پابندیوں کی وجہ یہ خیال کرنا ہے کہ نیا کیس مقامی سطح پر کورونا کی قسم ڈیلٹا کا پہلا کیس ہے۔

 

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘ڈیلٹا کو گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے اور یہ درست بھی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں شروع میں ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ہونا ہوگا، ہم نے دیکھا ہے کہ دیگر ممالک میں ناکامی پر کیا حال ہوا، ہمارے پاس صرف ایک ہی موقع ہے’۔اس نئے لاک ڈاؤن میں نیوزی لینڈ کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گھر میں صرف ان کے گھرانے کے افراد رہیں گے اور وہ اپنے گھر سے صرف خوراک یا ادویات خریدنے کے لیے ہی نکل سکیں گے، اس دوران بھی انہیں سماجی دوری کا خیال رکھنا ہوگا۔

 

جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ابھی ہم نہیں جانتے کہ یہ نیا کیس ڈیلٹا کا نتیجہ ہے یا نہیں اور اس کے لیے جینوم سیکونسنگ کا انتظار کرنا ہوگا، مگر حکومت ڈیلٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیلٹا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہم دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہیں جہاں ابھی برادری کی سطح پر کورونا کی یہ قسم پھیلنا شروع نہیں ہوئی تو ہمارے پاس دیگر سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیگر ممالک میں تاخیر سے کیے گئے اقدامات کے تباہ کن نتائج بھی دیکھیں، ہمارے پڑوس میں بھی ایسا ہوا۔انہوں نے آسٹریلیا کا حوالہ دیا جہاں اس وقت کورونا کی لہر بے قابو میں ہے، نیوزی لینڈ کے حکام اب تک نئے کیس کی وجہ بننے والے ذریعے کا تعین نہیں کرسکے ہیں۔

یہ کیس 58 سالہ شخص میں سامنے آیا جو آک لینڈ کا رہائشی تھا اور اس کی ویکسینیشن نہیں ہوئی۔طبی حکام کے مطابق یہ کیس ایک ‘قومی مسئلہ’ ہے کیونکہ ہم اس کیس کو سرحدوں سے منسلک نہیں رسکتے اور ایسا ممکن ہے کہ آک لینڈ میں مزید کیسز موجود ہوں اور وائرس پھیل جائے۔نیوزی لینڈ کے زیادہ تر شہریوں کی ویکسینیشن اب تک نہیں ہوئی اور اب تک 16 سال سے زائد عمر کی صرف 22 فیصد آبادی کی ویکسینیشن مکمل ہوئی ہے۔نیوزی لینڈ میں شہریوں پر ماسک پہننے کی پابندی بھی نہیں مگر وزیراعظم اور طبی حکام نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ گھر سے نکلنے کے بعد ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

نئی نویلی بھابھی شادی کے 10 ماہ بعد دیور کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی، ڈیڑھ ماہ بعد واپس آکر خوفناک قدم اٹھالیا

  • (اردو اخبار دنیا)

پٹنہ :ریاست بہار کے ضلع نالندہ میں دیور بھابھی کے گھر سے بھاگنے اور خود کشی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شبنم کماری کی ایک سال پہلے راکیش کمار سے شادی ہوئی تھی۔

راکیش شادی کے بعد اپنے کام کے سلسلے میں دلی چلا گیا جس کے بعد شبنم کماری اپنے دیور کندن کمار کے قریب آگئی۔

کچھ عرصہ دونوں کا معاشقہ چلا اور شادی کے تقریباً 10 ماہ بعد دونوں گھر سے فرار ہوگئے۔ شبنم اور کندن ڈیڑھ ماہ تک گھر سے غائب رہے جس کے بعد وہ واپس آئے اور گھر جانے کی بجائے ریلوے سٹیشن پر ہی زہر کھالیا۔

زہر خورانی کی وجہ سے کندن کمار کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ شبنم کماری کو فوری طور پر ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں اس کی حالت انتہائی نازک ہے۔

بدھ, اگست 18, 2021

ریاست تلنگانہ کے معروف و مشہور عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد المغنی مظاہری صاحب کا سانحہ ارتحال ‏

  • (اردو اخبار دنیا)

   جمعیۃ علما ء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب کا تعزیتی بیان
ممبئئ: یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ دی جاتی ہے کہ ریاست تلنگانہ کے معروف و مشہور عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد المغنی مظاہری صاحب ناظم مدرسہ سبیل الفلاح و صدر سٹی جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد آج بتاریخ18  اگست 2021.طویل علالت کے بعد ہمیشہ ہمیش کے لئے اس دار فانی کو چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔

اس سانحہ ارتحال پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مفتی صاحب کی رحلت  مسلمانا ن تلنگانہ کے لئے عظیم سانحہ ہے۔ قحط الرجال کے اس دور میں مفتی صاحب کا ہم سے جدا ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملنا،یہ کسی ایک طبقے کا نقصان نہیں بلکہ پوری ملت کانقصان ہے،اللہ تعالی ملت کو آپ کا نعم البدل عطا ء فرمائے ۔

مولانا ندیم صدیقی صاحب نے مفتی عبد المغنی صاحب کے فر زند مولانا محمد میاں صاحب اور ان کے برادر حضرت مولانا عبد القوی صاحب مہتمم ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد ٹرسٹ سے فون پر رابطہ کرکے تعزیت مسنونہ اور دعاء مغفرت پیش کی اور کہا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا ء کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت مفتی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے،ان کی خدمات کو قبول فرمائے،جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا ء فرمائے۔ انہوں نے صوبے بھر میں واقع جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی تمام یونیٹوں کے عہدیداران و اراکین، ذمہ داران مدار س اسلامیہ، ائمہ مساجد اور عامۃ المسلمین سے اپیل کی ہے کہ حضرت مفتی عبد المغنی صاحب کے لئے دعاء مغفرت اورایصال ثواب کا اہتمام کریں۔

ممبئی ہائی کورٹ نے جلوس عاشورہ کی مشروط اجازت دی

  • (اردو اخبار دنیا)

ممبئی: یوم عاشورہ پر ممبئی ہائی کورٹ نے کورونا کی دونوں خوراکیں لگانے والے جانثاران حسین کو جلوس عاشورہ تعزیہ داری اور ماتمی جلوس کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ جسٹس تاتڑے اور جسٹس چوہان پر مشتمل ہائیکورٹ کی دو رکنی بینچ نے اپنے اہم فیصلہ میں سات ٹرک پرتعزیہ کے ساتھ جلوس نکالنے کو اجازت دیدی ہے یہ جلوس ممبی کے امامباڑہ علاقے سے نکل کر مجگاوں میں واقع شعیہ قبرستان رحمت آباد پر اختتام پذیر ہو گا

اس میں کورونا اصول و ضوابط کا خیال رکھنا لازمی ہو گا ہائیکورٹ میں آل انڈیا ادارہ تحفظ حسینت نے عرضی داخل کرکے جلوس کی اجازت طلب کی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے 100 جانثاران حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مشروط اجازت دی ہے شرکا جلوس کوجلوس میں شرکت کے لئے دونوں خوراکیں لگانا لازمی ہے بلاخوراک لگانے والوں کو اجازت نہیں ہو گی اس کے ساتھ قبرستان میں صرف 25 سوگوران حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو اجازت ہو گی کیونکہ تنگ گلی کی وجہ سے یہ فیصلہ لیا گیاہے جبکہ سات ٹرک پر تعزیہ اور ماتمی جلوس اور اعزاداری کو اجازت دی گئی ہے یہ ٹرک گشت کرتے ہوئے شام 4 بجے سے 7 بجے تک قبرستان پہنچ سکتی ہے

مسلم طلباءو طالبات کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئےاسکالرشپ 2021 کا اعلان

ممبئی 18 اگست)(اردو اخبار دنیا) ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلس کی جانب سے سال 2013 میں اسکالرشپ فنڈ کی شروعات عمل میں آئی. جس کا مقصد غریب و مستحق مسلم طلباء کو اعلی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکالرشپ کی شکل میں مالی مدد کرنا ہے تاکہ ایسے طلبہ تعلیم مکمل کر سکیں.

تنظیم کی جانب سے جاری ایک اخباری بیان کے مطابق زیادہ تر مسلم ذہین طلبہ معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں. اسی لئے اے ایم پی انڈیا کی جانب سے ایسے طلبہ کیلئے اسکالرشپ دی جاتی ہے جو پروفیشنلس کورسیس (انجینئرنگ, میڈیکل, آرکیٹیکٹ, سی اے اور دیگر) میں زیر تعلیم ہیں. ایسے طلبہ کو آئی ٹی آئی کورسیس اور نیشنل کونسل فار ووکیشنل ٹریننگ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں.

اے ایم پی ہائر ایجوکیشن اسکالرشپ فنڈ:تین سو ذہین و مستحق طلبہ کو کم ازکم دس ہزار روپیہ ایجوکیشنل اسکالرشپ دی جائے گی. اسکالرشپ کی درخواست کے بعد اے ایم پی کی ٹیم کے ذریعے ذہین, مستحق اور غریب طلبہ کا انتخاب کیا جائے گا.اے ایم پی کے زیر اہتمام انڈیا زکات ڈاٹ کام IndiaZakat.com پلیٹ فارم کے زریعے ہائر ایجوکیشن اسکالرشپ کی ملے گی. اسکالرشپ کیلئے درخواست IndiaZakat.com پورٹل پر آن لائن فارم بھر جائے گا. اے ایم پی اسکالرشپ کے علاوہ بھی دیگر اسکالرشپ و فنڈ بھی مستحق طلبہ کو اسی پورٹل سے فراہم کیا جائے گا. ابتک اس پورٹل پر Rs 5,40,20,512 فنڈ جمع ہوا. جس سے تعلیمی شعبے میں ضرورتمند طلبہ کی مدد کی جا رہی ہے.

اہلیت:اسکالرشپ معاشی طور پر غریب فیملی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ہی دی جائے گی. ایسے طلبہ جو اسلامی شریعت کے مطابق زکات لینے کے اہل ہوں. طلباء و طالبات کا بارہویں کامیاب ہونا لازمی ہے. پروفیشنلس کورسیس (انجینئرنگ, میڈیکل, فارمیسی, جرنلزم, لاء اور دیگر), سینٹرل یونیورسٹیوں, ٹاپ کالجوں, آئی آئی ٹی, آئی آئی ایم اور یوجی سی سے منطورشدہ اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو اولیت دی جائے گی. ٹیکنیکل کورسیس, آئی ٹی آئی اور ووکیشنل کورسیس کیلئے بھی اسکالرشپ دی جائے گی.اسکالرشپ چیک یا آن لائن پیمنٹ طریقہ کار سے تعلیم اداروں کو تقسیم کی جائے گی. اسکالرشپ کی منظوری سے پہلے طلبہ کے زریعے دی گئی معلومات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا.
درکار دستاویزات:دسویں اور بارہویں کی مارکس شیٹ, پروفیشنلس کورس میں زیر تعلیم طلبہ کی گزشتہ سال کی مارکس شیٹ, آدھار کارڈ یا پین کارڈ کی فوٹو کاپی-
نوٹ: رجسٹریشن کی آخری تاریخ 10 ستمبر 2021 اور اسکالرشپ کیلئے آن لائن درخواست ہی قبول کی جائے گی
رجسٹریشن کیلئے:

اتر پردیش میں پرائمری اور مڈل اسکولوں کو کھولنے کی تاریخ کا اعلان

اتر پردیش میں پرائمری اور مڈل اسکولوں کو کھولنے کی تاریخ کا اعلانلکھنؤ(اردو اخبار دنیا): عالمی وبا کورونا وائرس کے انفیکشن کی کم ہوتی شرح کے پیش نظر لمبے عرصے سے بند چل رہے اتر پردیش کے اسکول جلد ہی بچوں سے گلزار ہونے والے ہیں۔ کورونا انفیکشن کے کم ہوتے معاملوں کے درمیان ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے جماعت ایک تا پانچ تک کے پرائمری اسکولوں کو یکم ستمبر اور جماعت چھ تا آٹھ تک کے اسکولوں میں درس و تدریس کا کام 23 اگست سے شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ریاست کے محکمہ تعلیمات نے اس ضمن میں بدھ کو ضروری ہدایات سرکاری اسکولوں، منظور شدہ اسکولوں اور دیگر بورڈوں کے چلانے والے کالجوں کو جاری کئے ہیں۔

ریاست کے محکمہ تعلیمات میں اسپیشل سکریٹری آروی سنگھ نے ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن کو لکھے خط میں کہا ہے کہ کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے جماعت ایک تا آٹھ تک کے اسکولوں کو کھولے جانے کی کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ دو روز پہلے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جماعت ایک تا آٹھ تک کے اسکولوں کو دو مراحل میں کھولے جانے پر غور کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وبا اب کنٹرول میں ہے اور اسکولوں کو اب کھولنے کی سمت میں قدم اٹھا یا جاسکتا ہے۔ 16 اگست سے جماعت 9 تا 12 تک کے اسکولوں کو کھولا جاچکا ہے۔ یہاں دو مراحل میں اسکول کھولے جارہے ہیں

وزیراعلی نے سیلاب متاثرہ کٹیہار ضلع کا دورہ کیا

وزیراعلی نے سیلاب متاثرہ کٹیہار ضلع کا دورہ کیاکٹیہار،(اردو اخبار دنیا) 18 اگست ۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بدھ کے روز کٹیہارضلع کے براری اسمبلی حلقہ میں واقع بھیس دیارہ میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا۔ اس ضمن میں نائب وزیراعلیٰ تارکشور پرساد بھی وزیر اعلیٰ کے ساتھ تھے۔ وزیراعلیٰ نے بی ایم کالج ، براری میں سیلاب متاثرہ لوگوں کے لیے چلائے جانے والے کمیونٹی کچن کا بھی جائزہ لیا اور کھانا کھانے والے لوگوں کی خیریت دریافت کی۔ سیلاب امدادی کیمپ کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر چیز اور پریشانی دیکھی گئی ہے۔ عوام کی راحت کے لیے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔ 2016 میں بھی گنگا ندی کی ا?بی سطح میں اضافہ ہوا تھا اور اس بار بھی گنگا ندی کی ا?بی سطح میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ا?فات متاثرین کا سرکاری خزانے پر پہلا حق ہے اور امدادی کاموں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گنگا ندی کی پانی سطح بڑھ رہی ہے اور معلومات کے مطابق اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر تمام ضلع مجسٹریٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ مکمل الرٹ موڈ میں رہیں۔ عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیلاب متاثرہ لوگوں سے رابطہ قائم رکھیں اور انتہائی حساسیت کے ساتھ ہر ایک کی مدد کریں۔ نتیش کمار نے کہا کہ مقامی لوگوں کی مدد اور جانوروں کے لیے چارے کے انتظام کے لیے خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔ سیلاب سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو امدادی کیمپوں میں تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...