Powered By Blogger

پیر, اکتوبر 04, 2021

بریکنگ نیوزسمندری طوفان شاہین: ایران اور عمان میں13 افراد ہلاک ‏


بریکنگ نیوزسمندری طوفان شاہین: ایران اور عمان میں13 افراد ہلاکسمندری طوفان شاہین: ایران اور عمان میں13 افراد ہلاک
سمندری طوفان شاہین: ایران اور عمان میں13 افراد ہلاک

  •  
  •   
  •  
  •  

 اردو دنیا نیوز۷۲ ایجنسی

سمندری طوفان شاہین ایران اور عمان کے ساحلوں سے ٹکرانے کے بعد کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ عمان کی قومی کمیٹی برائے ایمرجنسی مینجمنٹ نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ عمان میں مزید سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سمندری طوفان شاہین کی آمد کے بعد ملک میں تیز ہوائیں چل رہی ہیں اورموسلہ دھار  بارش ہوئی ہے۔ اتوار کو ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔ اب تک 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ طوفان کا اثر کم ہو گیا ہے لیکن ابھی تک بارش کا امکان ہے۔ اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ عمان میں مٹی کے تودے گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے اور ایک بچہ سیلاب کی زد میں آگیا۔

عمان کی قومی کمیٹی برائے ایمرجنسی مینجمنٹ نے کہا کہ ایک ریسکیو ٹیم نے دو ایشیائی مزدوروں کی لاشیں نکالیں جو صوبہ مسقط کے روسیل صنعتی علاقے میں مٹی کے تودے کی زد میں آئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت میں سیلاب کے باعث ایک بچہ ہلاک اور ایک شخص لاپتہ ہے۔ طوفان کی وجہ سے پروازیں معطل کر دی گئیں اور اسکولوں کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ہوا کی رفتار 139 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی جب طوفان شام کے اومان کے شمالی ساحل کو عبور کر گیا۔ مسقط میں گاڑیوں کے پہیے پانی میں ڈوب گئے۔

 دوسری جانب ایران میں چابہار بندرگاہ پر چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ ڈپٹی اسپیکر علی نکجاد نے یہ معلومات دی۔

صوبائی گورنر حسین موڈارس-خبانی نے ایرنا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ بجلی اور سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طوفان ساحل سے 220 کلومیٹر دور تھا۔ خطرے کے پیش نظر مسقط بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی کچھ پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں اور وادیوں کے سفر سے گریز کریں۔

عمان نیوز ایجنسی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ عمان نے اتوار اور پیر کو دو روزہ قومی تعطیل کا اعلان کیا ہے اور موسم کی وجہ سے اسکول بند کر دیے ہیں۔

طوفان شاہین کا اثر متحدہ عرب امارات پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ایمرجنسی اتھارٹی نے لوگوں کو ساحل اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

بریکنگ نیوزلکھیم پور واقعہ پر یوتھ کانگریس کا احتجاج

بریکنگ نیوزلکھیم پور واقعہ پر یوتھ کانگریس کا احتجاجنئی دہلی، یوتھ کانگریس نے لکھیم پور کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج یہاں اتر پردیش بھون کے سامنے احتجاج کیا اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
یوتھ کانگریس کے صدر سرینواس بی وی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے کسان کو کچلا جارہا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس کے پاس اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی حکومت کسانوں کو کچلنے اور تباہ کرنے کی سیاست کر رہی ہے۔ بی جے پی کو سمجھ لینا چاہیے کہ اناج دینے والوں کے حقوق کی جنگ اب نہیں رکے گی۔
انہوں نے کہا کہ جب 'تاریخ' لکھی جائے گی تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ جب لکھیم پور کسان قتل عام ہوا تو کون سڑکوں پر لڑ رہا تھا اور کون اپنے گھروں میں آرام کرتے ہوئے اناج پیدا کرنے والوں کی موت کا جشن منا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یوگی حکومت کے تحت اترپردیش 'افغانستان' بن گیا ہے۔
مسٹر سرینواس نے یہ بھی کہا کہ اب محترمہ پرینکا گاندھی وڈرا اتر پردیش پولیس کے لیے سب سے بڑا نشانہ بن گئی ہیں۔ Z+ سیکورٹی کیٹیگری والے لیڈر کی بغیر کسی وارنٹ کے گرفتاری ، رکن اسمبلی کے ساتھ غنڈوں جیسا سلوک انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ صرف لڑائی کا آغاز ہے اور آخر میں سچ کی جیت ہوگی۔

ٹی -20 عالمی کپ میں تمام اسٹیڈیمس میں 70 فیصد شائقین کی اجازت ہوگی

ٹی -20 عالمی کپ میں تمام اسٹیڈیمس میں 70 فیصد شائقین کی اجازت ہوگیدبئی، متحدہ عرب امارات (یواے ای)میں اکتوبر نومبر میں ہونے والے آئی سی سی مینز ٹی-20 عالمی کپ میں تمام اسٹیڈیمس میں 70 فیصد شائقین کو داخلے کی اجازت ہوگی ۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اتوار کو یہ اعلان کیا۔ آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا،''آئی سی سی اورٹورنامنٹ کا میزبان بی سی سی آئی نے میزبان افسران کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، تاکہ شائقین کامحفوظ ماحول میں استقبال کو یقینی بنایا جاسکے۔ انعقاد کے تمام مقامات پر کورونا پروٹوکال نافذ ہوں گے۔ آئی سی سی کے اس فیصلے کے بعد ٹی-20 ورلڈ کپ شائقین کی حصہ داری کے لحاظ سے کورونا وبا کے بعد سے یواے ای میں سب سے بڑے پیمانےپر منعقد ہونے والا ٹورنامنٹ ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ پی ایس ایل (پاکستان سپر لیگ) کا دوسرا حصہ اس سال جون میں متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوا تھا جو کہ تماشائیوں کی عدم موجودگی میں منعقد کیا گیا تھا جبکہ موجودہ آئی پی ایل 2021 میں کم صلاحیت کے ساتھ اسٹیڈیموں میں تماشائیوں کی موجودگی نظرآرہی ہے۔ جیسا کہ پہلے اطلاع دی گئی تھی کہ آئی پی ایل میچوں کے لئے شائقین کو داخلہ دینا ، ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے متحدہ عرب امارات میں مقامی حکومتوں ،آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے لئے ایک طرح کی ڈریس ریہرسل بھی ہے۔ سمجھاجاتا ہے کہ عمان اور متحدہ عرب امارات دونوں میں میچوں کے لیے ٹکٹوں کی فروخت شروع ہو گئی ہے۔ ابوظہبی کے اسٹیڈیم میں سماجی دوری کے منچ بھی شامل ہوں گے اور ہر ایک میں چار افراد بیٹھ سکتے ہیں، جبکہ عمان کرکٹ اکیڈمی میں ایک عارضی ڈھانچہ 3،000 شائقین کو ذاتی طور پر شرکت کے قابل بنائے گا۔ ٹی 20 ورلڈ کپ اصل میں ہندوستان میں منعقد ہونا تھا ، لیکن 2020 میں ملک میں کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے اسے متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا ، جہاں فی الحال آئی پی ایل 2021 کے باقی میچز ہورہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 17 اکتوبر کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوگا۔ کوالیفائنگ راؤنڈ کے میچز یہاں کھیلے جائیں گے ، جس میں سب سے پہلے عمان اور پاپوا نیو گنی آمنے سامنے ہوں گے۔ اس راؤنڈ سے ، چار ٹیمیں اہم ایونٹ ، یعنی سپر ایٹ میں شامل ہوں گی ، جو 23 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ سپر ایٹ کا پہلا میچ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ابوظہبی میں ہوگا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 14 نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

بریکنگ نیوز کورونا سے موت پر معاوضہ : درخواست دینے کے 30 دن کے اندر ہوگی 50 ہزار روپے کی ادائیگی

کورونا سے موت پر معاوضہ : درخواست دینے کے 30 دن کے اندر ہوگی 50 ہزار روپے کی ادائیگی

کورونا سے ہونے والی اموات پر معاوضہ کو لے کر سپریم کورٹ نے آج 50 ہزار روپے ادائیگی سے متعلق حکم کو منظوری دے دی۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ کورونا سے ہونے والی موت کے بعد اہل خانہ کو 50 ہزار روپے ریاستی حکومت ادا کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اس تعلق سے کہا کہ مہلوک کے گھر والوں کو ملنے والا یہ معاوضہ دوسرے فلاحی منصوبوں سے الگ ہوگا۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت دی کہ معاوضہ کے لیے دعویٰ کیے جانے کے 30 دن کے اندر یہ ادائیگی ہوگی۔ یہ معاوضہ ریاست کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ سے دیئے جائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 23 ستمبر کو سپریم کورٹ کے جسٹس ایم آر شاہ اور اے ایس بوپنّا کی بنچ نے اس معاملے میں حکم کو محفوظ رکھا تھا۔ اس دن مرکز نے ہر موت کے لیے 50 ہزار روپے معاوضہ طے کرنے کی جانکاری عدالت کو دی تھی۔ کورٹ نے اس پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشکل حالات میں ہندوستان جو کر پایا، ویسا دوسرا کوئی ملک نہیں کر سکا۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ جن لوگوں نے تکلیف برداشت کی، ان کے آنسو پونچھنے کے لیے کچھ کیا جا رہا ہےواضح رہے کہ گزشتہ 30 جون کو دیئے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ملک میں کورونا سے ہوئی ہر موت کے لیے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ حالانکہ عدالت نے معاوضہ کی رقم کے تعلق سے فیصلہ حکومت پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ اس وقت سپریم کورٹ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے کہا تھا کہ وہ 6 ہفتے میں معاوضے کی رقم طے کر ریاستوں کو مطلع کرے۔ این ڈی اے ایم نے بعد میں عدالت سے اضافی وقت طلب کیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے تقریباً 12 ہفتے بعد اس نے معاوضہ کے تعلق سے فیصلہ لیا۔ اسے اب عدالت نے رسمی طور پر منظوری دے دی ہے

جی ہاں ، لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر کے بیٹے نے ہی کسانوں پر چڑھائی تھی گاڑی ، پستول سے کی کئی راؤنڈ فائرنگ !

جی ہاں ، لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر کے بیٹے نے ہی کسانوں پر چڑھائی تھی گاڑی ، پستول سے کی کئی راؤنڈ فائرنگ !

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں اتوار کو ہوئے تشدد میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشر کے بیٹے آشیش مشر کو لے کر کچھ حیران کرنے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ اجے مشر کا کہنا ہے کہ واقعہ کے وقت ان کا بیٹا وہاں موجود نہیں تھا، لیکن جائے وقوع پر موجود پولیس اہلکاروں نے نیوز چینل 'اے بی پی گنگا' کے رپورٹر کو بتایا ہے، اس سے صاف ہوتا ہے کہ وزیر محترم اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں اور ان کا بیٹا نہ صرف وہاں موجود تھا بلکہ کسانوں پر کار چڑھائی، اور گولیاں بھی چلائیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ سیاہ جھنڈے دکھائے جانے سے ناراض وزیر کے بیٹے آشیش مشر نے غصے میں کسانوں پر اپنی گاڑی چڑھا دی۔ آشیش سب سے آگے اپنی تھار گاڑی میں تھا۔ اس کے پیچھے تین مزید گاڑیاں چل رہی تھیں۔ 'اے بی پی گنگا' کی خبر کے مطابق گاڑیاں چڑھانے کے بعد کسان مشتعل ہو گئے اور انھوں نے گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور پتھراؤ کیا۔ اس واقعہ سے ناراض کسانوں نے آشیش کو پکڑ لیا جس سے بچنے کے لیے اس نے اپنی پستول سے کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس فائرنگ میں سے ایک گولی ایک کسان کے سر پر لگی، جس سے اس کی جائے حادثہ پر موت ہو گئی۔ اس کے بعد کسانوں کا اشتعال مزید بڑھ گیا اور انھوں نے گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ حالانکہ آشیش وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہا۔ اے بی پی گنگا کے رپورٹر کا دعویٰ ہے کہ ایک سپاہی جو موقع پر موجود تھا، اس نے پورے واقعہ کی تفصیل بتائی ہے۔

دی گئی جانکاری کے مطابق وزیر کا بیٹا آشیش تھار گاڑی میں تھا اور وہ گاڑی خود چلا رہا تھا۔ اس سے صاف ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشر کا یہ کہنا کہ ان کا بیٹا جائے حادثہ پر موجود نہیں تھا، غلط ہے۔ مرکزی وزیر نے اے این آئی سے کہا تھا کہ ''جائے واقعہ پر میرا بیٹا موجود نہیں تھا۔ وہاں کئی شورش پسند تھے جنھوں نے کارکنوں پر لاٹھیوں اور تلواروں سے حملہ کیا۔ اگر میرا بیٹا وہاں ہوتا تو زندہ واپس نہیں لوٹتا۔''

دوسری طرف یو پی پولیس نے لکھیم پور تشدد معاملے میں مرکزی وزیر اجے مشر کے بیٹے آشیش مشر سمیت 14 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یو پی پولیس نے دفعہ 302، 120 بی اور دیگر دفعات میں یہ کیس درج کیا ہے۔ اس معاملے میں آئی جی رینج لکشمی سنگھ نے بتایا کہ تحریر کی بنیاد پر نامزد آشیش مشر مونو اور 20-15 نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 147، 148، 149، 302، 130بی، 304اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

مفتی محمد راشد اعظمی دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم منتخب ، کارگزار مہتمم کا فیصلہ فی الحال ملتوی

مفتی محمد راشد اعظمی دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم منتخب ، کارگزار مہتمم کا فیصلہ فی الحال ملتوی

دیوبند، 4 اکتوبر (سمیر چودھری) عظیم علمی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ نے نہایت اہم فیصلہ کرتے ہوئے ادارے کے مؤقر و ممتاز استاذ حدیث مفتی راشد اعظمی کو دارالعلوم دیوبند کا نائب مہتمم منتخب کیا ہے۔ مفتی راشد کے انتخاب کی خبر سے علمی حلقوں میں خوشی کا ماحول ہے ۔ مفتی راشد اعظمی کے انتخاب سے ان کے چاہنے والوں، محبین، متعلقین اور تلامذہ میں خوشی کا ماحول ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز سے دارالعلوم دیوبند کی جنرل باڈی یعنی کہ مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس چل رہا تھا جس میں کارگزار مہتمم مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ کی جگہ نئے کارگزارمہتمم کا انتخاب ہونا تھا اور نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ کی جگہ نئے نائب مہتمم کا منتخب کیا جانا تھا۔ نائب مہتمم کے طور پر مفتی محمد راشد اعظمی کو منتخب کر لیا گیا ہے؛ جبکہ کارگزار مہتمم کے عہدے کو فی الوقت خالی چھوڑ دیا گیا۔ ذرائع کے حوالےسے خبر ملی ہے کہ کارگزار مہتمم کی دوڑ میں رکن شورٰی مولانا انوار الرحمن صاحب سب سے آگے تھے؛ لیکن فی الحال شوریٰ نے اس فیصلے کو ملتوی کردیا ہے؛ واضح رہے کہ دارالعلوم دیوبند کی طرف سے ابھی تک اس خبر کا اعلان نہیں کیا گیا ہے؛ لیکن جلدی ہی اس خبر کا اعلان آنے کی امید ہے۔


دارالعلوم دیوبند:عہدیداروں کی تقرری و بجٹ کے حوالے سے میٹنگ

دارالعلوم دیوبند:عہدیداروں کی تقرری و بجٹ کے حوالے سے میٹنگ

دارالعلوم دیوبند
دارالعلوم دیوبند

  •  
  •   
  •  

 اردو دنیا نیوز۷۲ دیوبند، سہارن پور

ہندوستان کے معروف مذہبی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند میں گذشتہ تین دنوں سے مجلس شوریٰ کی جانب سے ایک اہم مٹنگ ہوئی، جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

دارالعلوم دیوبند کی سپریم پاور مجلس شوریٰ کا اجلاس ادارے کے گیسٹ ہاؤس میں شروع ہوا۔ تین روزہ اجلاس کے پہلے دن اتوار کو جہاں سال22-2021 کے بجٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وہیں کارگزارونائب مہتمم کے عہدوں پر تقرری کے لیئے بھی غور و خوض کیا گیا۔

 خیال رہے کہ  اس بار 31 کروڑ روپے کا بجٹ پہلے کی طرح پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ساتھ ہی میٹنگ میں کارگزار مہتمم مولانا قاری عثمان منصورپوری اور نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی کی وفات کی وجہ سے خالی عہدوں کو پُر کرنے کے بارے میں غور و خوض کے بعد نئی تقرری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

کورونا کی وجہ سے جہاں پچھلے سال کے بجٹ میں تخفیف کی گئی تھی وہیں اس مرتبہ بھی قابلِ ذکر اضافے کی توقع نہیں ہے۔

اس بار بھی اگر بجٹ میں اضافہ نہ ہوا تو ملازمین کی تنخواہ مشکل سے بڑھ سکتی ہیں۔

اجلاس میں دارالعلوم کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی ، صدرمدارس مولانا ارشد مدنی ، مولانا غلام وستانوی ، مولانا نظام الدین خاموش ، مولانا عبدالعلیم فاروقی ، مولانا عاقل سہارنپوری ، مولانا عاقل گھڑھی دولت ، مفتی شفیق خان ، مولانا مفتی احمد خان پوری ماسٹر سید انظر حسین نے شرکت کی۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...