Powered By Blogger

جمعہ, جولائی 01, 2022

قربانی: رسم سے آگےکامران غنی صباؔ

قربانی: رسم سے آگے
کامران غنی صباؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اردو دنیا نیوز۷۲)
اسلام کی کوئی بھی عبادت صرف رسم نہیں ہے۔ قربانی بھی ایک عظیم عبادت ہے جس میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ افسوس کہ ہم میں سے بیشتر لوگ یا تو ان حکمتوں کو سمجھتے نہیں یا سمجھتے بھی ہیں تو انہیں اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش نہیں کرتے۔
قربانی دراصل کسی کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنی رضا و خوشنودی کو ترک کر دینے کا نام ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے نور نظر، لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کو راہِ خدا میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی ابتدا حضرت آدمؑ کے بیٹے قابیل اور ہابیل کی قربانیوں سے ہی ہو چکی تھی۔
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْقَرَّ بَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ“۔المائدہ:۱۸۳
ترجمہ:۔”اور آپ اہلِ کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجیے، جب ان میں سے ہرایک نے اللہ کے لیے کچھ نیاز پیش کی تو ان میں سے ایک کی نیاز مقبول ہوگئی، اور دُوسرے کی قبول نہیں کی گئی“۔
قربانی کا مادہ "قرب" ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قربانی کا اصل مقصد کسی کا قرب حاصل کرنے کے لیے اپنی خوشی کو چھوڑ دینا ہے۔ کسی انگریز مفکر کا قول ہے :
The greatest sacrifice is when you sacrifice your own happiness for the sake off someone else. 
قربانی رشتوں کو مستحکم کرتی ہے۔ اگر قربانی کسی فرد یا سماج کے لیے پیش کی جائے گی تو ہمارا رشتہ اُس فرد اور سماج سے مستحکم ہوگا۔ اسی طرح خدا کے لیے پیش کی جانے والی قربانی خدا سے ہمارے رشتوں کو مستحکم کرے گی۔ 
کسی نے بالکل صحیح کہا ہے :
A strong relationship starts with two brave people who are ready to sacrifice anything for one another.
جان کی قربانی تو قربانی کی معراج ہے۔ اگر ہم کسی کی محبت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا سعادت سمجھتے ہیں خواہ وہ محبت خدا کی ہو، وطن کی ہو یا کسی اور کی تو پھر یقیناً چھوٹی موٹی قربانی ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ 
قربانی کا تیوہار ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم خدا اور بندگان خدا کے لیے اپنے تن، من، دھن کی قربانی پیش کرنے کو ہمہ وقت تیار رہیں۔ اگر ہمیں اللہ نے دولت سے نوازا ہے تو ہم خدا کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنی دولت کا کچھ حصہ بندگان خدا کے لیے قربان کریں۔ اگر ہمیں علم کی دولت عطا کی گئی ہے تو ہم اپنے علم سے دوسروں کو فیضیاب کریں۔ اگر قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیں اپنے عہدے و منصب سے دست بردار ہونے کی نوبت پیش آئے تو ہم اپنے مفاد پر قوم و ملت کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے عہدے و منصب سے دست بردار ہو جائیں۔ یہی قربانی کی اصل روح اور پیغام ہے۔
اللہ ہمیں قربانی کی اصل روح اور پیغام کو سمجھنے اور انہیں اپنی زندگی میں اتارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

صدارتی انتخاب ___

صدارتی انتخاب ___
( اردو دنیا نیوز۷۲)
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ
 صدر رام ناتھ کووند کی مدت کار ختم ہو رہی ہے، چنانچہ انتخابی کمیشن نے نئے صدر کے انتخاب کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے ، اور سیاسی پارٹیوں میں سر گرمیاں تیز ہو گئی ہیں، ممتا بنرجی حزب مخالف کو متحد کرنے میں لگی ہوئی ہیں، ان کی دعوت پر سترہ چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں میٹنگ میں شریک ہوئیں اور شرد پوار ، فاروق عبد اللہ اورگوپال کرشن گاندھی میں سے کسی ایک کو متحدہ امیدوار بنانے کی تجویز آئی، شرد پوار نے تو مجلس میں ہی انکار کر دیا، فاروق عبد اللہ نے غور وفکر کرکے انکار کردیا، اور کشمیر کو ابھی ان کی ضرورت ہے کہہ کر اپنے کو امیدواری سے الگ کر لیا، یعنی وہ ابھی سر گرم سیاست سے کنارہ کش نہیں ہوناچاہتے، آخر میں گوپال کرشن گاندھی نے بھی صدارتی امیدوار بننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم سے بہت اچھے لوگ اس عہدہ کے لیے دستیاب ہیں، شرد پوار نے اس پر دوبارہ میٹنگ بلائی جس میں حزب مخالف نے یشونت سنہا کے نام پر اتفاق کر لیا، انہوں نے ۱۹۶۲ء میں یوپی اس سی امتحان میں بارہوا رینک حاصل کیا تھا اور ڈی ایم بن گیے تھے، مہا مایا پرشاد کے زمانہ میں ان کے ایک وزیر کی بد تمیزی اور وزیر اعلیٰ کے بگڑ جانے پر انہوں نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ وزیر اعلیٰ تو آئی اے ایس نہیں بن سکتے، لیکن میں وزیر اعلیٰ بن سکتا ہوں، پھر انہوں نے سیاست شروع کی ،یشونت سنہا بھاجپا کے سابق ترجمان بھی رہے ہیں، ۱۹۹۶ء میں ان کو یہ عہدہ پارٹی نے دیا تھا، وہ ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۲ء تک باجپئی حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ بھاجپا سے ناطہ توڑ کر انہوں نے ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی، حزب مخالف کے مشترکہ امیدوار بنے کے بعد انہوں نے ترنمول کانگریس سے استعفا دیا ، انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دروپدی سے میرا کوئی ذاتی اختلاف اور لڑائی نہیں ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ صدر جمہوریہ کی حیثیت سے ان سے زیادہ دستور کی حفاظت کر سکتا ہوں،یشونت سنہا کے نام کے اعلان کے بعد بھاجپا نے بھی اڈیشہ کی آدی باسی قبائلی خاتون دروپدی مرمو کو اپنی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے ، دروپدی مرمو نے اپنی زندگی کی شروعات کلرک کے طور پر کیا تھا، بعد میں وہ میور بھنج کی وارڈ کونسلر ، پھر وہاں کی نائب میئر بنیں، اڈیشہ حکومت میں وزیر کے طور پر بھی دو بار خدمت انجام دیا، شوہر اور دو بیٹیوں کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا سماجی خدمت ہی رہا،وہ جھارکھنڈ میں پہلی آدیواسی گورنر کی حیثیت سے کام کر چکی ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے بہت سوچ سمجھ کر یہ نام پیش کیا ہے ، بیجو جنتا دل کے نوین پٹنایک کہہ چکے تھے کہ کسی آدی واسی امیدوار کو ہی ہم سپورٹ کریں گے ، اس طرح درویدی مرمو کے حق میں بیجو جنتا دل کا جانا طے ہے ، نتیش کمار کی جدیو عاب، وائی اس آر کانگریس اور دوسری علاقائی پارٹیوں نے بھاجپا امیدوار کے ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، مرکزی حکومت نے جیت کے یقین کی وجہ سے ہی انہیں زیڈ سیکوریٹی بھی فراہم کر دی ہے، انصاف کا تقاضہ تھا کہ یشونت سنہاکو بھی سیکوریٹی فراہم کی جاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا، وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ ذمہ داری راج ناتھ سنگھ کو سونپی ہے کہ وہ اپنے امیدوار کے حق میں دوسری پارٹیوں کی آرا ہموار کریں، بظاہر یہ بہت مشکل بھی نہیں ہے، لیکن مشہور ہے کہ سیاست اور کرکٹ میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا، مہاراشٹرا کی مخلوط حکومت کا حشر ہمارے سامنے ہے، یقین تو یہی ہے کہ این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو جیت جائیں گی، وہ خاتون ہیں ، آدی باسی ہیں اور پارٹیاں ۲۰۲۴ء کے انتخاب کے پیش نظر ان کو نظر انداز نہیں کر سکیںگے گی، بھاجپا اور این ڈی اے کی حلیف پارٹیوں کے ذریعہ دروپدی مرمو کا انتخاب یہ بتاتا ہے کہ آزادی کے پچھہتر سال کے بعد بھی ہمارے یہاں علاقائی اور طبقاتی ترجیحات دور غلامی کی طرح ہی ہے، تبھی تو بھاجپا کے صدر جے پی نڈا نے اس نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب تین وجہ سے ہوا، وہ پورب کے علاقہ سے آتی ہیں، عورت ہیں اور آدی باسی ہیں، یعنی اس انتخاب میں علاقہ، قبیلہ اور صنفی جنس کا دھیان رکھا گیا ہے۔

سابق رکن پارلیمان عتیق احمد کے ساتھی حمزہ انصاری کو گرفتار کر لیا ہے۔

سابق رکن پارلیمان عتیق احمد کے ساتھی حمزہ انصاری کو گرفتار کر لیا ہے۔

(اردو دنیا نیوز۷۲)

سی بی آئی نے سابق رکن پارلیمان عتیق احمد کے ساتھی حمزہ انصاری کو گرفتار کر لیا ہے۔ حمزہ پر پراپرٹی ڈیلر موہت اگروال کے اغوا اور جیل میں مارپیٹ کا الزام ہے۔ Hamza Ansari Arrested In Prayagraj

ریاست اترپردیش کے ضلع پریاگ راج کے سابق رکن پارلیمان عتیق احمد کے ساتھی حمزہ انصاری کو سی بی آئی نے گرفتار کر لیا ہے۔ معلومات کے مطابق سی بی آئی کی لکھنؤ ٹیم نے حمزہ کو کریلی علاقے کے قبرستان کے قریب سے گرفتار کیا ہے۔ فی الحال سی بی آئی عتیق کے بیٹے عمر کی تلاش کر رہی ہے۔ CBI arrest hamza ansari in prayagrajذرائع کے مطابق حمزہ انصاری دیوریا جیل کیس میں مطلوب تھے۔ اس لیے سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بھی ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔ ساتھ ہی حمزہ پر پراپرٹی ڈیلر موہت اگروال کے اغوا اور جیل میں مارپیٹ کا بھی الزام ہے۔ اس واقعہ کے بعد پراپرٹی ڈیلر موہت اگروال نے لکھنؤ میں عتیق احمد اور ان کے بیٹے عمر اور دیگر کے خلاف اغوا اور مارپیٹ کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ عدالت کے حکم پر کیس کی تفتیش سی بی آئی کو منتقل کر دی گئی۔ اس واقعے کے بعد سے ملزم حمزہ انصاری مفرور تھے۔ آخر کار سی بی آئی نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔


عتیق احمد کا بڑا بیٹا عمر بھی اسی کیس میں ملزم ہے۔ سی بی آئی نے عمر پر ایک لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ فی الحال وہ سی بی آئی کی گرفت سے باہر ہے۔ تفتیشی ادارہ عتیق احمد کے بیٹے عمر کی کافی عرصے سے تلاش میں مصروف ہ


مزید پڑھیں:۔ عتیق احمد کے رشتہ دار کو عدالتی حراست میں بھیجا گ

یاے۔


جمعرات, جون 30, 2022

ماہ ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا _ 10 جولائی کو عیدالاضحی


ماہ ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا _ 10 جولائی کو عیدالاضحی
(اردو دنیا نیوز۷۲)
رویت ہلال کمیٹی حیدر آباد دکن (ریاست تلنگانہ) نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات 30 جون 29 ذوالقعدہ کو چاند نظر آگیا اس لئے جمعہ یکم جولائی کو یکم ذوالحجہ ہوگی اور اتوار 10 جولائی کو عیدالاضحٰی ہوگی

اودے پور: قاتل داعش کے سلیپر سیل بنا رہے تھے۔

اودے پور: قاتل داعش کے سلیپر سیل بنا رہے تھے۔

(اردو دنیا نیوز۷۲)

اودے پور: اودے پور میں کنہیا لال کو قتل کرنے والے ریاض اور غوث محمد راجستھان کے 8 اضلاع میں آئی ایس آئی ایس کے لیے سلیپر سیل بنا رہے تھے۔ ریاض نے اس کے لیے کراچی، پاکستان میں دہشت گردی کی تربیت بھی لی تھی- ملزم کے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور پولیس افسران سے بات کی تو راجستھان میں دہشت پھیلانے کی ایک بڑی سازش کا پردہ فاش ہوا

ریاض جبار 20 سال قبل گھر چھوڑ گیا تھا۔ روزگار کی تلاش میں ادے پور آنے والے ریاض کا پاکستان میں بیٹھے مولانا کے ذریعے برین واش کیا گیا۔ اس نے اس کی شادی کر دی اور پھر اسے اور غوث محمد کو تربیت کے لیے پاکستان بھیج دیا۔ تربیت کے بعد ریاض نے بھی غوث محمد کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ دونوں غریب اور بے روزگار نوجوانوں کو بھڑکا کر ادے پور، بھیلواڑہ، اجمیر، راجسمند، ٹونک، بنڈی، بانسواڑہ، جودھپور اضلاع میں سلیپر سیل بنا رہے تھے۔ خدشہ ہے کہ یہ سلیپر سیل داعش کے لیے بنائے جا رہے تھے۔ اس کے لیے عرب ممالک سے فنڈنگ ​​بھی کی گئی۔ دونوں ملزمان نے کرولی، جودھ پور، بھیلواڑہ کے بعد ادے پور میں فساد بھڑکانے کے لیے کنہیا لال کا قتل کیا

دعوتِ اسلام کے مولانا کی برین واشنگ ریاض 20 سال پہلے گھر چھوڑ کر اودے پور آیا تھا۔ یہاں اس کی غوث محمد سے دوستی ہو گئی۔ دونوں زیادہ تر وقت ساتھ رہتے تھے۔ اس دوران ریاض کا رابطہ پاکستان سے کام کرنے والے ایک گروپ دعوتِ اسلام سے ہوا۔ اس گروہ نے اس کی شادی کرادی۔ پاکستان میں بیٹھے مولانا نے ریاض کی برین واشنگ کی اور ان کی اور غوث محمد کی تربیت کی۔

کراچی میں 30 افراد کے ساتھ تربیت سال 2014 میں ریاض اور غوث محمد 30 افراد کے ساتھ کراچی، پاکستان گئے۔ ان کے ساتھ وسیم اختری اور ادے پور کے اختر راجہ بھی تھے۔ یہاں اسے دہشت گرد تنظیموں نے تربیت دی تھی۔ 45 دن کی تربیت کے بعد، دونوں یکم فروری 2014 کو ہندوستان واپس آئے۔

دونوں پاکستان کی سیاسی جماعت دعوت اسلامی اور تحریک لبیک سے رابطے میں تھے۔ ریاض اور غوث محمد 2014 اور 2019 میں سعودی عرب اور 2017-18 میں نیپال فنڈنگ ​​کے لیے گئے۔ سعودی عرب میں وہ سلمان اور ابو ابراہیم سے مسلسل رابطے میں تھے۔ یہ دونوں تنظیم دعوتِ اسلام سے بھی وابستہ تھے۔

بدلہ لو یا چوڑیاں پہن لو عرب ممالک کی فنڈنگ ​​سے دونوں نے پہلے غریب اور بے روزگار نوجوانوں کی مدد کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ دونوں کا مقصد راجستھان میں سلیپر سیل کا نیٹ ورک بنانا تھا۔ ریاض اور غوث محمد نے ادے پور، بانسواڑہ، جودھ پور، بھیلواڑہ، اجمیر، راجسمند، ٹونک، بنڈی اضلاع کے نوجوانوں کو کئی واٹس ایپ گروپس سے جوڑا۔ گروپ کی برین واشنگ کے لیے اشتعال انگیز ویڈیوز پوسٹ کرنا۔ ریاض نوجوانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں پر حملہ کرنے پر اکساتا تھا۔ ان سے کہو بدلہ لو یا چوڑیاں پہن لو۔ ریاض نے ویڈیو جاری کیا اور ادے پور کے تاریخ سازوں اور شرپسندوں کو حملہ کرنے پر اکسایا۔

ناموس رسالت پر آنچ - نہیں برداشت کر سکتا مسلمان

ناموس رسالت پر آنچ - نہیں برداشت کر سکتا مسلمان
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
(اردو دنیا نیوز۷۲)
(9431003131)
مسلمانوں کی دل آزاری اورملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے اور نفرت کو پروان چڑھانے کی غرض سے فرقہ پرست طاقتوں نے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور ماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں کی ہیں، اس گستاخی کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمان اور سیکولر انسان ہیجان اور غصے میں مبتلا ہیں، ہندوستان میں مسلمانوں پر ڈھائے گیے ظلم وستم کی لمبی داستان ہے، ان کی عزت وآبرو پر حملے عام ہیں، ماب لنچنگ کے ذریعہ قتل کے شکار بھی مسلمان ہوتے رہے ہیں، ان کے گھروں پر بلڈوزر چلایاگیا اور چلایا جا رہا ہے ، ان حالات وواقعات پر مسلمانوں نے تھوڑے بہت احتجاج کے علاوہ عموما صبر سے کام لیا، تحمل اور برداشت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا، ہمارے اس برداشت کو ہماری کمزوری سمجھی گئی ،بعض مسجد پر بھی بلڈوزر چلائے گیے، مسلمانوں نے ان سب کو برداشت کر لیا، لیکن فرقہ پرستی کی یہ آگ اب ناموس رسالت اور تقدس عائشہ ؓ تک پہونچ گئی ہے ، یہ معاملہ ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے لیے صبر وتحمل کے سارے بند توڑ دیے ہیں، پھر بھی مسلمانوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، حالاں کہ یہ ہماری غیرت وحمیت پر حملہ ہے، ایمان وعقیدہ پر حملہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہماری زندگی کا ما حصل اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے، کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا، جب تک اس کے دل میں دنیا کی ساری چیز ، حتی کہ جان ومال والدین اور اولاد سے آقا صلی اللہ علیہ وسلم محبوب نہ ہوں، صحابہ کرام نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھا تھا، اسی وجہ سے وہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر پروانوں کی طرح آپ پر نثار ہونے کا جذبہ رکھتے تھے،موقع آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال بن جاتے تھے، محبت کی ایسی مثال دنیا میں کسی اور شخص کے لیے دیکھنے میں نہیں آئی۔
 ناموس رسالت اور محبت نبوی کی اسی اہمیت کی وجہ سے بھاجپا کے ترجمان کی اس گھنونی حرکت اور جاہلانہ تبصرہ کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان کے ساتھ پورا عالم عرب کھڑا ہو گیا ہے اور جو لوگ اس حرکت پر تالیاں پیٹ رہے تھے وہ سوچنے پر مجبور ہو گیے ہیں کہ عرب ممالک سے جو تجارتی تعلقات ہیں ان کا کیا ہوگا، کئی ملکوں کے تاجروں نے ہندوستانی مصنوعات کو سوپر مارکیٹ سے سمیٹ کر رکھ دیا ہے، اور وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ہم  ہندوستانی مصنوعات کی خریدوفروخت کرکے ایک ایسے ملک کو نفع پہونچائیں جہاں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اس سلسلے میں مسقط عمان کے مفتی اعظم الشیخ احمد بن حمد الخلیلی کا کردار سب سے نمایاں رہا ہے، واقعہ یہ ہے کہ ان کی سخت مذمت اور پوری امت مسلمہ سے ہندوستانی جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کی اپیل کی وجہ سے عرب حکمراں جاگ پائے، ورنہ وہ تو اپنے ملک پر حملے کے وقت بھی سوتے ہی رہتے ہیں۔
 کئی ملکوں میں یہ بھی بات چل رہی ہے کہ وہاں سے ہندوستانی ملازمین کو واپس بھیج دیا جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک کو دُہری معاشی مار برداشت کرنی ہوگی، ایک تو جوزر مبادلہ ان حضرات کے ذریعہ ملک میں آتا ہے وہ بند ہوجائے گا، اور دوسرے پہلے سے بے روزگاری کی مار سہہ رہے اس ملک میں بے روزگاروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں غریبی بڑھے گی اور دوسرے مسائل پیدا ہوں گے، اس لیے حکومت کو فوری اقدام کرنے چاہیے، صرف مجرمین کوپارٹی سے نکال دینا کافی نہیں ہے اور پھر دہلی پولیس نے اس ملعونہ کو جو سیکوریٹی دی ہے اس سے اس کو نکالے جانے کا احساس ختم ہو گیا ہے، پارٹی سے نکالا جانا اندرونی سزا تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ دوسروں کے لیے نا قابل قبول ہے، اس لیے ضروری ہے کہ توہین رسالت کرنے والے دونوں مجرمین کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی اس کی جرأت نہ کر سکے۔ اس کے لیے ہندوستانی قانون میں تبدیلی کرنی ہو تو حکومت کو کرنی چاہیے؛ تاکہ مذاہب کے بڑوں کے ناموس کی حفاظت کی جا سکے ، مسلمان کو تو یہ قرآنی حکم ہے کہ معبود ان باطل کو برا نہ کہو ، اس دل گداز اور قلب کو پارہ پارہ کردینے والے واقعہ پر بھی مسلمانوں نے ان کے مذہبی سر براہوں کو بُرا بھلا نہیں کہا، اس حکم کو دوسرے مذاہب کے لوگ بھی مانیں تو اس قسم کے افسوسناک واقعہ سے بچا جا سکتا ہے، لیکن جن کی جڑیں نفرت کے کھاد سے ہی مضبوط ہوتی ہیں وہ بھلا کیوں اس پر عمل کریںگے ۔ اس کی وجہ سے جو ملک کی بدنامی ہو ئی ہے اورعرب ملکوں سے رشتے کمزور ہوئے ہیں، اس کی بھرپائی میں اب برسوں لگ جائیں گے۔
 مسلمانوں کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرائیں، حکومت کے متعلقہ افسران کو میمورنڈم دیں اور ضرورت محسوس ہوئی تو اکابرین امارت شرعیہ سے مشورہ کر لیں، سڑکوں پر نکلنے سے احتراز کریں اور بغیر قائد کے مشورے کے کچھ نہ کریں۔

حج اور عمرہ کامقصد اللہ تعالیٰ کی رضا

حج اور عمرہ کامقصد اللہ تعالیٰ کی رضا
الحراء ٹورس کے تربیتی اجتماع سے مولانا شاہ جمال الرحمن و علماء کرام کے خطابات
حیدرآباد۔ ٣٠جون ۔ ( اردو دنیا نیوز۷۲ ) ۔ عبادات میں ایک عاشقانہ عبادت حج و عمرہ ہے۔ اسلام کی بنیادوں میں سے ہے۔ اس عبادت سے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اس کو ابھی جنم دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی نے الحراء ٹورس اینڈ ٹراویلس کے زیراہتمام شاہ فنکشن پلازہ ' ریڈ ہلز میں منعقدہ تربیتی اجتماع میں کیا۔ قبل ازیں مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی نے عمرہ کا طریقہ پیش کیا اور کہا کہ عمرہ میں دو عمل فرض ' احرام نیت تلبیہ اور طواف اور دوکام واجب صفا و مروہ کی سعی کرنا اور حلق و قصر کرنا' یہ عمرہ کے اہم اعمال ہیں۔ مولانا احمد عبیدالرحمن اطہر ندوی قاسمی نے عازمین حج کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اعمال سیکھ کر کریں۔ کوئی بھی عمل رسول اللہ کی سنت و طریقہ کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔ مفتی تجمل حسین قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم نے حج کے پانچ دن پر خطاب کیا اور مناسک حج کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ دعا کا خصوصی اہتمام کریں۔ فرائض و واجبات اور سنتوں کے ساتھ حج و عمرہ ادا کریں۔ مولانا محمد بانعیم مظاہرہ نائب ناظم مجلس علمیہ آندھراپردیش نے عازمین حج کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی دعاؤں میں پوری امت کو یاد رکھیں۔ قربانی و رمی کے سلسلہ میں ہدایات پر عمل کریں۔ مفتی صادق محی الدین فہیم نظامی نے کہا کہ حجاج اپنی زندگی میں اصلاح کریں۔ جناب محمد اختر حسین پروپرائٹر الحراء ٹورس اینڈ ٹراویلس نے عازمین کوسفر سے متعلق تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے عازمین اور علماء کرام کا شکریہ ادا کیا۔ قاری محمد یونس علی خان کی قرات کلام پاک سے اجتماع کا آعاز ہوا۔ قاری محمد عبدالاحد نے نعت نبوی پیش کی۔ حافظ سید خلیل نے نظم سنائی۔ مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی نے نگرانی کی۔ مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی کی دعاء پر جلسہ اختتام پذیر ہو۔ الحراء ٹورس اینڈ ٹراویلس کے عازمین حج کا قافلہ 3 جولائی کو بذریعہ سعودی ایرلائنز روانہ ہوگا اور واپسی 16 جولائی کو ہوگی ' 17 جولائی کو صبح 9.35 منٹ پر حیدرآباد آمد ہوگی۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...