Powered By Blogger

پیر, اگست 02, 2021

نئی دہلی۔یکم؍اگست: اب سے دو سال قبل یکم اگست کو پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ مخالف قانون پاس ہوا تھا

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی۔یکم؍اگست: اب سے دو سال قبل یکم اگست کو پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ مخالف قانون پاس ہوا تھا ، اس کی دوسری برسی کے موقع پر مودی حکومت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ اور یکم؍ اگست کو مسلم خواتین کے حقوق کا دن قرار دیا ہے۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد مختلف مودی نواز تنظیموں اور مسلم خواتین کے حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کی جانب سے جگہ جگہ مسلم خواتین کے تحفظ کے تعلق سے پروگرام منعقد کیے گئے۔ مرکزی وزراء نے بیانات جاری کیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلم خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا چمپئن قرار دیا۔قانون کو مکمل طور پر مؤثر قرار دیتے ہوئے مودی حکومت نے کہا ہے کہ تین طلاق کے معاملات میں ۸۰فیصد کمی آئی ہے اور مسلم خواتین نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یوم حقوق مسلم خواتین کے تعلق پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہاکہ ''مرکزی حکومت نے آج تین طلاق قانون کے پس منظر میں یوم مسلم خواتین منانے کا اعلان کیا ہے، یہ چوری اور سینہ زوری کا مصداق ہے، اس قانون نے مسلمان عورتوں کی دشواریوں کو بڑھا دیا ہے؛ کیونکہ حکومت اس کو طلاق تسلیم نہیں کرتی اور مسلم سماج شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کو طلاق تصور کرتا ہے، اس کے نتیجہ میں ایسی عورتیں قانون کی رو سے دوسرا نکاح کرسکتی ہیں، اور مسلم سماج میں کوئی ان سے نکاح کے لیے تیار نہیں ہوتا اور کوئی بھی فرد اپنے سماج سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا، اس قانون میں مطلقہ عورت کو شوہر کی طرف سے نفقہ کا مستحق قرار دیا گیا ہے، دوسری طرف مرد کے لیے تین سال جیل کی سزا رکھی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ جب شوہر جیل میں ہوگا تو یہ بیوی کا نفقہ کیسے ادا کرے گا، پس یہ قانون تضاد سے بھرا ہوا ہے، اور عورتوں کے لئے سخت نقصان دہ ہے؛ اسی لیے بڑے پیمانہ پر خواتین اس قانون کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں، اس لئے حکومت کو چاہیے کہ علماء کے مشورہ سے اس میں مناسب ترمیم کا بل لائے''۔مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے کہاکہ مسلمان اس قانون کو قبول نہیں کرتے اور اس سے صرف خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسدالدین اویسی نے اے این آئی کوبتایاہے کہ یہ قانون (تین طلاق) غیر آئینی ہے اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ مساوات کے خلاف ہے۔ کیا مودی حکومت صرف مسلم خواتین (حقوق) کا دن منائے گی؟ ہندو ، دلت اور او بی سی خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں کیاخیال ہے؟ صرف مقدمات درج کیے جائیں گے ، کوئی انصاف نہیں کیا جائے گا۔ زمین پرموجودمسلمانوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ مفتی وحیدالزماں صدیقی قاسمی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جو نجیب کی والدہ کو انصاف نہیں دے پائے، جو محسن کی اہلیہ کو انصاف نہیں دے پائے، جو تبریز کی بیوی کو انصاف نہیں دے پائے جو اخلاق اور سینکڑوں مسلم خواتین کو انصاف نہیں دے پائے وہ لوگ مسلم خواتین کو انصاف پر مبارک باد دینے نکلے ہیں۔ دریں اثناء اس موقع پر مرکزکے تین وزراء طلاق ثلاثہ کی متاثرہ خواتین سے بات چیت کی۔ سرکاری بیان کے مطابق اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی، بہبودی خواتین واطفال کی وزیر اسمرتی ایرانی، وزیر محنت بھوپیندر یادو مسلم خواتین کے حقوق کے دن پر مختلف پروگرام میں شامل ہوئے۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ مسلم خواتین نے یکم اگست ۲۰۱۹ کو اس رواج کے خلاف قانون لانے کےلیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔ قانون کے تحت اسے جرم قرار دیاگیا ہے۔ نام نہاد مسلم خواتین نے وزراء کے ساتھ بات چیت میں کہاکہ مودی کی قیادت والی حکومت نے ملک کی مسلم خواتین میں خود اعتمادی، خود کفالتی اور وقار کو مضبوط کیا ہے اور ایک بار میں کہہ کر دئیے جانے وا لے تین طلاق کے غلط رواج کے خلاف قانون لاکر آئینی، بنیادی اور جمہوری حقوق کی حفاظت کی ہے اس موقع پر اسمرتی ایرانی نے کہاکہ یکم اگست تین طلاق کے خلاف مسلم خواتین کے جدوجہد کو سلام کرنے کا دن ہے۔ بھوپیندر یادو نے کہاکہ مودی حکومت سماج کے ہر طبقے کی خواتین کی عزت ووقار اور بااختیار بنانے کےلیے کام کررہی ہے۔ وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون مسلم خواتین کے آئینی حقوق کو یقینی بنانے کےلیے بڑا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قانون کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں طلاق ثلاثہ کے معاملوں میں واضح کمی آئی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...