
عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کاحکم دیا، گلزار اعظمی
ممبئی23/ اگست:ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے مبینہ الزامات کے تحت گرفتار دارالعلوم دیوبند کے فارغ مولانا عبدالرحمن (کٹکی) کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو گذشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا اور چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمینے دی۔ انہو نے مزید بتایا کہ ایڈوکیٹ صارم نوید نے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس رائے کو بتایا کہ ملزم پانچ سال اور آٹھ مہینہ سے جیل میں قید ہے اور اس درمیان استغاثہ نے 82 میں سے صرف 14 گواہوں کو ہی عدالت میں پیش کیا جبکہ دفاعی وکیل نے عدالت میں یہ بیان بھی دیا تھا کہ وہ ملزم کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل چلانے کے لیئے تیار ہے لیکن اس کے باجود ٹرائل التواء کا شکار ہے۔
ایڈوکیٹ صارم نوید نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم پر الزام ہیکہ اس نے غیر قانونی طریقے سے دوبئی سے پاکستان کا سفر کیا تھا اور اس نے پاکستان سے دہشت گردانہ ٹریننگ حاصل کی تھی لیکن استغاثہ یہ نہیں بتا سکا کہ ملزم دبئی سے پاکستان گیا کیسے کیونکہ پاسپورٹ پر کوئی اندراج نہیں ہے۔
ایڈوکیٹ صارم نوید نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کو 17/ دسمبر 2015 کو گرفتار کیا گیا تھا جب سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے اور اس درمیان خصوصی این آئی اے عدالت اور دہلی ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی ہے لیکن حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم نامہ میں کہا کہ جن ملزمین کے مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے باجود ختم نہیں ہو ئے ہیں انہیں ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے لہذا ملزم کو بھی ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔دفاعی وکیل کے دلائل سماعت کرنے کے بعد دو رکنی بینچ نے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کیا۔
واضح رہے کہ ملزم عبدالرحمن کو قومی تفتیشی ایجنسی نے اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے گرفتار کیا تھا اور اسے بذریعہ طیارہ دہلی لایا گیا تھا۔ ملزم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہ وہ ہندوستان میں القاعدہ کے لیئے لڑکوں کو باہر دہشت گردانہ ٹریننگ حاصل کرنے کے لیئے بھیجنے کا کام کر رہا تھا۔
اسی معاملے میں دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے بنگلور کے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو بھی گرفتا ر کیا تھا لیکن بعد میں خصوصی عدالت نے نا کافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے ڈسچارج کردیا گیا، ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے جمعیۃ علماء کی جانب سے ڈسچارج عرضداشت پر بحث کی تھی جس کے بعد دہلی کی خصوصی عدالت نے مولانا انظر شاہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرتے ہوئے دیگر ملزمین کے خلاف مقدمہ شروع کیئے جانے کا حکم دیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں