گلیشیئروں میں برف جمع ہونے کی کیا صورتحال ہے اور اس پر کتنی برف ہے، اس کا موقع پر معائنہ کیا گیا۔ اس کے لیے بانس سے بنا ہوا ایک پیمانہ گلیشیر کی سطح پر نصب کیا جاتا ہے۔ یہ کھود کرکے اندر گاڑا جاتا ہے۔ اسی سے برف کی حالت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کا پیمانہ 2016 سے گلیشیر کی سطح پر موجود تھا۔
پنسلنگپا گلیشیر پر جمی ہوئی برف پر ماضی اور حال کے زمانے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا اندازہ لگایا گیا۔ چار سالوں کے دوران میدانی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وادی زانسکار میں یہ گلیشیر اوسطا 6.7 پلس مائنس 3 ایم اے -1 کی شرح سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یہ مطالعہ میگزين 'ریجنل اینوائرنمنٹ چینج' میں شائع ہوا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے گلیشیر کے پیچھے کھسکنےکا سبب درجہ حرارت میں اضافے اور سردیوں میں کم برف باری بتایا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برف کی چادر کے اوپر ملبہ بھی جمع ہے جس کے مضر اثرات بھی ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے گرمیوں میں گلیشیر کا ایک سرا کھسک جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پچھلے تین سالوں (2016-2019) کے دوران برف جمع ہونے میں منفی رجحان رہا ہے اور برف کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ جمع ہوا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہوا کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے برف کے پگھلنے میں تیزی آئے گی۔
واضح رہے کہ پوری دنیا میں ہوا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امکان ہے کہ گرمیوں کے دورانیہ میں اضافے کی وجہ سے اونچی جگہوں پر برف باری کے بجائے بارش شروع ہو جائے، جس کی وجہ سے سردی-گرمی کے موسم کا مزاج بھی بدل جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں