دلیپ گھوش کے اس رد عمل کے بعد بابل سپریہ نے ایک اور پوسٹ لکھ کر لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کا اعلان کیا۔اپنے پہلے پوسٹ میں بابل سپریہ نے صرف سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ دلیپ گھوش کے رویے کی وجہ سے بابل سپریہ دل برداشتہ تھے۔گھوش ان کی اہمیت دینے کے حق میں تھے۔اسی وجہ سے بابل سپریہ نے اپنے فیس بک پر تفصیل سے 2014کے سیاسی حالات پر لکھا ہے کہ وہ سیاست میں کیوں آئے اور آسنسول سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا۔سابق مرکزی وزیر بابل سپریہ کے سیاست سے کنار ہ کشی اختیار کرنے کے اعلان سے متعلق سوالات پر بنگال بی جے پی کے ریاستی صدردلیپ گھوش برہم ہوگئے اور کہا کہ کون سیاست میں آئے گا اور کون جائے گا اس کا فیصلہ ان کا ذاتی ہوتا ہے۔اس کے ساتھ دلیپ گھوش نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں ہے تو پریس کانفرنس چھوڑ کر چلا جائوں گا۔
خیال رہے کہ بابل سپریہ اور دلیپ گھوش کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں ۔گھوش کے متنازع بیانات کی بابل سپریہ کھلے عام تنقید کرتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہے ہیں ۔
پریس کانفرنس میں جب دلیپ گھوش سے میڈیا اہلکاروں نے بابل سپریہ سے متعلق سوالات کرنے لگے تو وہ برہم ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے کوئی اور سوالات ہیں تو کریں ، ورنہ میں پریس کانفرنس چھوڑ رہا ہوں۔اس سے پہلے بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا تھا کہ میں کسی کا فیس بک یا ٹویٹر نہیں دیکھتاہوں ۔
بابول کی فیس بک پوسٹ کے فورا بعد دلیپ گھوش کی پریس کانفرنس ہورہی تھی۔جب ان کی توجہ بابل سپریہ کے فیس بک پوسٹ سے متعلق کیا گیا تو دلیپ نے کہا کہ کون جا رہا ہے ، کیا کر رہا ہے ، میں کیسے بتا سکتا ہوںیہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہر کسی کو سیاست کرنے کا حق ہے ، کب کرنا ہے ، کب چھوڑنا ہے۔
دلیپ گھوش کے اس رد عمل کے بعد بابل سپریہ نے ایک اور پوسٹ لکھ کر لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کا اعلان کیا۔اپنے پہلے پوسٹ میں بابل سپریہ نے صرف سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تھ
کہا جاتا ہے کہ دلیپ گھوش کے رویے کی وجہ سے بابل سپریہ دل برداشتہ تھے۔گھوش ان کی اہمیت دینے کے حق میں تھے۔اسی وجہ سے بابل سپریہ نے اپنے فیس بک پر تفصیل سے 2014کے سیاسی حالات پر لکھا ہے کہ وہ سیاست میں کیوں آئے اور آسنسول سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں