حضرت مولانا سید محمد علی صاحب نے اپنی پوری زندگی بڑی مسجد باسنی میں *امامت، دینی تعلیم، نمازیوں کی رہنمائی* اور *امت کی اصلاحی خدمت* میں گزار دی۔ ان کی یہ طویل دینی خدمات عوام میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
آج جب حضرت امام صاحب *ریٹائر* ہوئے تو *نمازیوں (مقتدیوں)* نے اپنے دل کی *محبت* اور *احترام* کا اظہار کرتے ہوئے *₹31,50,786/- (اکتیس لاکھ پچاس ہزار سات سو چھاسی روپے)* بطور *نذرانہ* پیش کیا۔ یہ واقعی ایک *تاریخی خدمت* اور *اعترافِ خدمت* ہے جو ایک *مثال* بن گئی ہے۔
یہ عمل ان تمام مقتدیوں کی *قدر دانی* اور *دینی جذبے* کی بلندی کا ثبوت ہے۔ ان کی یہ پیشکش نہ صرف امام صاحب کے لیے ایک تحفہ ہے، بلکہ *پوری مسلم قوم کے لیے ایک نصیحت* ہے کہ جو *علماء، حفاظ اور دینی رہنما* دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، ان کی قدر کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا *ہماری ذمہ داری* ہے۔
*اللہ تعالیٰ امام صاحب کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور مقتدیوں کی اس محبت و احترام کو عظیم اجر عطا فرمائے۔ آمین۔*
✍️ *سلیم امجدی ناگوری*
