Powered By Blogger

پیر, اگست 31, 2026

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*  
حضرت مولانا سید محمد علی صاحب نے اپنی پوری زندگی بڑی مسجد باسنی میں *امامت، دینی تعلیم، نمازیوں کی رہنمائی* اور *امت کی اصلاحی خدمت* میں گزار دی۔ ان کی یہ طویل دینی خدمات عوام میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔  

آج جب حضرت امام صاحب *ریٹائر* ہوئے تو *نمازیوں (مقتدیوں)* نے اپنے دل کی *محبت* اور *احترام* کا اظہار کرتے ہوئے *₹31,50,786/- (اکتیس لاکھ پچاس ہزار سات سو چھاسی روپے)* بطور *نذرانہ* پیش کیا۔ یہ واقعی ایک *تاریخی خدمت* اور *اعترافِ خدمت* ہے جو ایک *مثال* بن گئی ہے۔  

یہ عمل ان تمام مقتدیوں کی *قدر دانی* اور *دینی جذبے* کی بلندی کا ثبوت ہے۔ ان کی یہ پیشکش نہ صرف امام صاحب کے لیے ایک تحفہ ہے، بلکہ *پوری مسلم قوم کے لیے ایک نصیحت* ہے کہ جو *علماء، حفاظ اور دینی رہنما* دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، ان کی قدر کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا *ہماری ذمہ داری* ہے۔  

*اللہ تعالیٰ امام صاحب کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور مقتدیوں کی اس محبت و احترام کو عظیم اجر عطا فرمائے۔ آمین۔*  

✍️ *سلیم امجدی ناگوری*

صغیر میں جلوس محمدی نکالنے کی تاریخ اور اس کا پس منظر

بر صغیر میں جلوس محمدی نکالنے کی تاریخ اور اس کا پس منظر 
برصغیر میں جلوس محمدی نکالنے  کی تاریخ اور اس کا پس منظر کا اتا پتہ بریٹش دور میں  ملتا ہے جب برطانوی سرکار نے تمام قسم کے مظاہرے اور جلسے جلوس پر پابندی عائد کردیا تو ازادی کے متوالے مذہب کے نام ہر حصول ازادی کے خاطر جلسہ جلوس نکالنے لگے اور مسلمانوں نے جلوس محمدی سن 1922 میں مولابا محمد علی جوہر کی سربراہی میں ممبئی کے اندر نکالا اور یہ جلوس آہستہ آہستہ ملک کے بڑے شہر کلکتہ، حیدرآباد، لاہور، لکھنؤ، کانپور اور بنگلور وغیرہ  سے نکلنے لگا اب ملک کے ہر شہر سے نکلنا شروع ہوگیا ہے اور یہ دینی اعتبار سے ایک قسم کی بدعت ہے کیونکہ اسلام میں صرف عیدین منانے کی اس کے مخصوص ایام میں اجازت ہے  فیاض احمد ندوی گرولوی  بس کے اندر سے

اردودنیانیوز۷۲

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*

*بڑی مسجد باسنی، ناگور (راجستھان)*   حضرت مولانا سید محمد علی صاحب نے اپنی پوری زندگی بڑی مسجد باسنی میں *امامت، دینی تعلیم، نما...