Powered By Blogger

پیر, اگست 02, 2021

نئی دہلی۔یکم؍اگست: اب سے دو سال قبل یکم اگست کو پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ مخالف قانون پاس ہوا تھا

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی۔یکم؍اگست: اب سے دو سال قبل یکم اگست کو پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ مخالف قانون پاس ہوا تھا ، اس کی دوسری برسی کے موقع پر مودی حکومت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ اور یکم؍ اگست کو مسلم خواتین کے حقوق کا دن قرار دیا ہے۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد مختلف مودی نواز تنظیموں اور مسلم خواتین کے حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کی جانب سے جگہ جگہ مسلم خواتین کے تحفظ کے تعلق سے پروگرام منعقد کیے گئے۔ مرکزی وزراء نے بیانات جاری کیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلم خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا چمپئن قرار دیا۔قانون کو مکمل طور پر مؤثر قرار دیتے ہوئے مودی حکومت نے کہا ہے کہ تین طلاق کے معاملات میں ۸۰فیصد کمی آئی ہے اور مسلم خواتین نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یوم حقوق مسلم خواتین کے تعلق پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہاکہ ''مرکزی حکومت نے آج تین طلاق قانون کے پس منظر میں یوم مسلم خواتین منانے کا اعلان کیا ہے، یہ چوری اور سینہ زوری کا مصداق ہے، اس قانون نے مسلمان عورتوں کی دشواریوں کو بڑھا دیا ہے؛ کیونکہ حکومت اس کو طلاق تسلیم نہیں کرتی اور مسلم سماج شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کو طلاق تصور کرتا ہے، اس کے نتیجہ میں ایسی عورتیں قانون کی رو سے دوسرا نکاح کرسکتی ہیں، اور مسلم سماج میں کوئی ان سے نکاح کے لیے تیار نہیں ہوتا اور کوئی بھی فرد اپنے سماج سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا، اس قانون میں مطلقہ عورت کو شوہر کی طرف سے نفقہ کا مستحق قرار دیا گیا ہے، دوسری طرف مرد کے لیے تین سال جیل کی سزا رکھی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ جب شوہر جیل میں ہوگا تو یہ بیوی کا نفقہ کیسے ادا کرے گا، پس یہ قانون تضاد سے بھرا ہوا ہے، اور عورتوں کے لئے سخت نقصان دہ ہے؛ اسی لیے بڑے پیمانہ پر خواتین اس قانون کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں، اس لئے حکومت کو چاہیے کہ علماء کے مشورہ سے اس میں مناسب ترمیم کا بل لائے''۔مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسدالدین اویسی نے کہاکہ مسلمان اس قانون کو قبول نہیں کرتے اور اس سے صرف خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسدالدین اویسی نے اے این آئی کوبتایاہے کہ یہ قانون (تین طلاق) غیر آئینی ہے اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ مساوات کے خلاف ہے۔ کیا مودی حکومت صرف مسلم خواتین (حقوق) کا دن منائے گی؟ ہندو ، دلت اور او بی سی خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں کیاخیال ہے؟ صرف مقدمات درج کیے جائیں گے ، کوئی انصاف نہیں کیا جائے گا۔ زمین پرموجودمسلمانوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ مفتی وحیدالزماں صدیقی قاسمی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ جو نجیب کی والدہ کو انصاف نہیں دے پائے، جو محسن کی اہلیہ کو انصاف نہیں دے پائے، جو تبریز کی بیوی کو انصاف نہیں دے پائے جو اخلاق اور سینکڑوں مسلم خواتین کو انصاف نہیں دے پائے وہ لوگ مسلم خواتین کو انصاف پر مبارک باد دینے نکلے ہیں۔ دریں اثناء اس موقع پر مرکزکے تین وزراء طلاق ثلاثہ کی متاثرہ خواتین سے بات چیت کی۔ سرکاری بیان کے مطابق اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی، بہبودی خواتین واطفال کی وزیر اسمرتی ایرانی، وزیر محنت بھوپیندر یادو مسلم خواتین کے حقوق کے دن پر مختلف پروگرام میں شامل ہوئے۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ مسلم خواتین نے یکم اگست ۲۰۱۹ کو اس رواج کے خلاف قانون لانے کےلیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا۔ قانون کے تحت اسے جرم قرار دیاگیا ہے۔ نام نہاد مسلم خواتین نے وزراء کے ساتھ بات چیت میں کہاکہ مودی کی قیادت والی حکومت نے ملک کی مسلم خواتین میں خود اعتمادی، خود کفالتی اور وقار کو مضبوط کیا ہے اور ایک بار میں کہہ کر دئیے جانے وا لے تین طلاق کے غلط رواج کے خلاف قانون لاکر آئینی، بنیادی اور جمہوری حقوق کی حفاظت کی ہے اس موقع پر اسمرتی ایرانی نے کہاکہ یکم اگست تین طلاق کے خلاف مسلم خواتین کے جدوجہد کو سلام کرنے کا دن ہے۔ بھوپیندر یادو نے کہاکہ مودی حکومت سماج کے ہر طبقے کی خواتین کی عزت ووقار اور بااختیار بنانے کےلیے کام کررہی ہے۔ وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون مسلم خواتین کے آئینی حقوق کو یقینی بنانے کےلیے بڑا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قانون کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں طلاق ثلاثہ کے معاملوں میں واضح کمی آئی ہے۔

اتوار, اگست 01, 2021

آسان_ومسنون_نکاح_کی_عملی_تحریک!تاثرات:محمداطہرالقاسمی۔۔ جنرل سکریٹریجمعیت علماء ارریہ بہار۔یکم اگست 2021

( اردو اخبار دنیا)#آسان_ومسنون_نکاح_کی_عملی_تحریک!
تاثرات:محمداطہرالقاسمی۔۔                                   جنرل سکریٹری
جمعیت علماء ارریہ بہار۔
یکم اگست 2021
______________________
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرارد دیتے ہوئے اس کے عمل کو آسان اور سادہ بنانے کا حکم دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"ان اعظم النکاح برکۃ ایسرہ مئونۃ" کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم اخراجات ہوں۔(مشکوۃ شریف2/268)
صحابہ کرام نے دیگر سنتوں کی طرح نکاح کی سادگی کی اس سنت پر بھی اس طرح عمل کیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔لیکن امت مسلمہ جیسے جیسے دین سے دور ہوتی گئی ان پر مادہ پرستی غالب ہوگئی۔حتی کہ سنت نبوی کی اہمیت ان کے دل سے اس طرح نکل گئی کہ نکاح کی یہ سنت،سنت کے بجائے نام و نمود،شان وشوکت،جھوٹی عزت و شہرت اور عارضی لطف حاصل کرنے بلکہ یہ مقدس سنت اب باضابطہ تجارت اور کاروبار کی ایک منڈی بن گئی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ سماج کی بیٹیاں اب رحمت کے بجائے زحمت بنتی چلی جارہی ہیں اور نکاح کا عمل انتہائی مشکل ترین ہوجانے کی وجہ سے ملت کی بے شمار جوان بیٹیاں اپنے والدین اور سرپرستوں کے لئے مصیبت بنتی چلی جارہی ہیں جو ملت اسلامیہ اور مسلم معاشرے کے لئے حددرجہ افسوسناک و شرم ناک ہے۔اس دردناک صورت حال سے ملک بھر کے اکابرین علماء کرام اور سماج کے منصف مزاج دانش وران وسماجی کارکنان بےحد فکر مند ہیں۔
چنانچہ2021 کے ابتدائی دنوں میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مفکر اسلام امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قیادت میں باضابطہ پورے ملک میں آسان و مسنون نکاح مہم کی شروعات کی جسے جمعیت علماء ارریہ بہار کے کارکنان نے اپنے ضلع میں زمینی سطح پر چلانے کا فیصلہ لیا اور الحمدللہ ہر بلاک کی مقامی جمعیتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں کوششیں شروع کردیں۔الحمدللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
کل اور پرسوں(30 و31/جولائی2021) کو اس تحریک کی عملی تصویر پیش کرکے اور تحریک کا آغاز اپنے گھرانے سے کرکے ہمارے دو ہونہار بھتیجے عزیزم مفتی محمد طارق قاسمی و عزیزم حافظ محمد راغب نعمانی ابنان مولانا خورشید انور صاحب نعمانی ناظم اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم ترکیلی عیدگاہ ضلع ارریہ نے لائق تقلید اور قابل مبارکباد نمونہ پیش کیا ہے۔
چنانچہ لین دین اور موجودہ ہرطرح کے مطالبات تو دور؛ شادی کے دیگر تمام تر موجود رسومات و بدعات سے پاک نکاح کی سادہ تقریب عمل میں لائی گئ اور گفت و شنید کے بعد طرفین کی طرف سے چند ذمےداران نے مسجد میں بیٹھ کر نکاح کی تاریخ طے کرلی،مہر فاطمی مقرر کرلیا اور وقت متعینہ پر صرف خاندان کے چند معزز افراد پر مشتمل ایک مختصر سی جماعت کے ساتھ لڑکی والے کے گھر پہونچ کر مسجد میں نکاح کی تقریب منعقد کرکے سماج و معاشرے کو ایک خوبصورت پیغام پیش کیا۔
دونوں نکاح بحمداللہ احقر نے پڑھایا۔ایجاب و قبول سے پہلے خطبہ نکاح پڑھ کر چند منٹ میں خطبہ نکاح کا ترجمہ اور خطبہ میں آمدہ تینوں آیات تقوی کے پیغام سے حاضرین کو روشناس کرایا اور یہ بھی وضاحت کی کہ یہ نکاح آسان و مسنون نکاح تحریک کا ایک حصہ ہے جسے آپ حضرات کو بھی اپنے سماج و معاشرے میں جاری کرنا ہے۔تمام حاضرین سے یہ خواہش کی گئی کہ آپ سب بھی اسی آسان طرز پر نکاح کی تقریب منعقد کرکے معاشرے میں رائج مطالبہ جہیز،نقد رقم،سامان آسائش،لمبی چوڑی بارات،حیثیت سے زیادہ مہریں،ڈھول ڈھماکے،گانے باجے اور پٹاخےکے ساتھ تمام تر رائج بدعات و خرافات و رسومات سے سماج کو نجات دلائیں۔جس پر موجود افراد نے لبیک کہتے ہوئے عمل کی یقین دہانی کرائی۔
الحمدللہ ان سادہ مگر پروقار تقریب نکاح کو لوگوں نے بےحد پسند کیا حتیٰ کہ بتانے والوں نے بتایا کہ خطبہ نکاح اور ایجاب و قبول کے وقت مجلس میں موجود افراد میں سے بیشتر لوگوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئی تھیں اور نیز مجلس میں موجود مقامی نکاح خواں نے کہا کہ ہمیں اپنی پوری زندگی میں آج تک ایسا آسان اور خوبصورت نکاح پڑھانے اور اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔آج یہ منظر دیکھ کر کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ہے اور یہ امید بندھ گئی ہے کہ معاشرہ اور طرفین بطورِ خاص لڑکے والے چاہ لیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔
الحمدللہ تاریخ طے ہونے کے بعد ہمارے گھر کی خواتین نے بھی ہماری ہدایات پر سختی کے ساتھ عمل کیا اور ہمارے معاشرے میں رائج نکاح کے تمام تر بدعات وخرافات سے عمل نکاح کو محفوظ رکھا۔
مفتی محمد طارق قاسمی کا نکاح مدن پور ارریہ کے جناب اخلاق احمد صاحب کی دختر جبکہ حافظ محمد راغب نعمانی کا نکاح رام پور کدرکٹی کے جناب سہیل احمد صاحب کی دختر سے ہوا۔
ان دونوں نوعروس جوڑوں کو مبارکباد پیش کرنے والوں میں چچا جمشید عالم،بھائی مولوی محمد توصیف نعمانی،مولانا محمد طالب قاسمی،حافظ راشد نعمانی،حافظ ابوذر غفاری،حافظ اسجد نعمانی،بہنوئی انوار الحق و صابر عالم،ماموں ڈاکٹر مشتاق احمد،بابو السما،سرپنچ محمد عامر،نانا مولانا رئیس الدین،کرانی کفیل احمد،مفتی اسعد اللہ صابری ندوی،صبیح احمد و شاہنواز عالم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

جالے۔ 2 اگست کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کشیشوراستھان آمد کو لیکر ایس ‏

(اردو اخبار دنیا)رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔ 2 اگست کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کشیشوراستھان آمد کو لیکر ایس ایس پی بابورام ہفتہ کے روز کشیشوراستھان پہنچے اورآنجہانی سابق ایم ایل اےششی بھوشن ہزاری کے آبائی گاؤں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے آنجہانی سابق ایم ایل اے کے بیٹے امن بھوشن ہزاری سے بھی ملاقات کی اور انہیں تسلی دی۔ اس دوران ایس ایس پی نے پولیس حکام کو سیکورٹی کے حوالے سے کچھ ضروری ہدایات بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ممکنہ آمد کے لیے ہیلی کاپٹر لینڈنگ سائٹ کا دو تین مقامات پر معائنہ کیا گیا۔ سائٹ کا حتمی فیصلہ ضلعی مجسٹریٹ سے ملاقات کے بعد لیا جائے گا۔ اس موقع پر بیرول ایس ڈی پی او دلیپ کمار جھا ، ایس ایچ او گوتم کمار ، جے ڈی یو بلاک صدر راجیش رائے ، مدن کمار رائے ، راجکمار رائے سمیت کئی سرکردہ لوگ موجود تھے۔


نئی دہلی: لداخ میں فلم کی شوٹنگ ختم کرنے کے بعد عامر خان (Aamir Khan) اور کرن راو (Kiran Rao) سری نگر پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا آزاد راو خان (Azaad Rao Khan) بھی تھا۔ انہوں نے جموں وکمشیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا (Lt Gov

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی: لداخ میں فلم کی شوٹنگ ختم کرنے کے بعد عامر خان (Aamir Khan) اور کرن راو (Kiran Rao) سری نگر پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا آزاد راو خان (Azaad Rao Khan) بھی تھا۔ انہوں نے جموں وکمشیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا (Lt Gov Manoj Sinha) سے ایک دن پہلے یعنی 31 جولائی کو ملاقات کی تھی اور جموں وکشمیر کی فلم پالیسی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ٹوئٹ کرکے خود اس بات کی اطلاع لوگوں کو دی ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے ٹوئٹر میں لکھا، 'آج مشہور فلم اداکار عامر خان اور کرن راو سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے جموں وکشمیر کی نئی فلم پالیسی پر تبادلہ خیال کیا ہے، جو جلد ہی سامنے آئے گی۔ یہ تبادلہ خیال بالی ووڈ میں جموں وکشمیر کے وقار کو پھر سے بلند کرنے سے متعلق تھی۔ ساتھ میں فلم شوٹنگ کے لحاظ سے اسے پسندیدہ لوکیشن بنانے پر بھی بات ہوئی تھی۔



(تصویر کریڈٹ: Twitter@OfficeOfLGJandK)عامر خان اور کرن راو نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر محمد اعجاز احمد کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ سوشل میڈیا پر عامر خان اور ان کی سابق اہلیہ کی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ تصاویر سے ظاہر ہے کہ اس ملاقات میں ان کا بیٹا آزاد راو خان بھی موجود تھا۔ واضح رہے کہ عامر خان اور کرن راو الگ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک مشترکہ بیان جاری کے اس کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے اپنی 15 سال پرانی شادی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ، وہ بیٹے آزاد راو خان کے کو پیرنٹس (مشترکہ والدین) بنے رہیں گے۔

(تصویر کریڈٹ: Instagram@__aamirkhann__)



(تصویر کریڈٹ: Instagram@__aamirkhann__)



(تصویر کریڈٹ: Instagram@__aamirkhann__)



میڈیا رپورٹس کے مطابق، فلم 'لال سنگھ چڈھا' کی تعمیر وائیکام 18 موشن پکچرس اور عامر خان پروڈکشنس کے بینر تلے ہو رہا ہے۔ یہ فلم ٹام ہینکس کی کلاسک فلم 'فاریسٹ گنپ' کی آفیشیل ہندی ریمیک ہے۔ فلم کی اسکرپٹ اداکار-رائٹر اتل کلکرنی نے لکھی ہے۔ یہ فلم اسی سال کرسمس تیوہار کے آس پاس ریلیز ہونے والی ہے۔

ملک میں جب سے بھگوا طاقتوں کو اقتدار کی باگ ڈور ملی ہے تب سے ہی گھر واپسی، لو جہاد

(اردو اخبار دنیا)نازش ہما قاسمی

ملک میں جب سے بھگوا طاقتوں کو اقتدار کی باگ ڈور ملی ہے تب سے ہی گھر واپسی، لو جہاد، ہندوستان کے مسلم دراصل ہندو ہیں سبھی کا ڈی این اے ایک ہے وغیرہ کے شوشے چھوڑ کر خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ایک طرف پوری پلاننگ کے ساتھ خاندان کے خاندان کو ہندو بنانے کا عمل جاری ہے تو وہیں دوسری جانب مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کو اسلام سے پھیرنے کا سلسلہ زور پکڑنے لگا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو لو جہاد کی آڑ میں پکڑا جارہا ہے اور مسلم اعلی تعلیم یافتہ اور معروف شخصیتوں کو ہندو لڑکیوں کی محبت میں پھنساکر ان کا دین دھرم خراب کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں ایسا پہلے سے ہی ہوتا آرہا تھا؛ لیکن ۲۰۱۴ کے بعد اس میں شدت آگئی ہے۔ بھگوائیوں کے لوٹرپ کا نشانہ بننے والی مسلم لڑکیوں کی زندگی ہی اگر عبرت کے لیے پیش کی جائے تو یہ کافی ہے؛ لیکن عشق و محبت کے جال میں پھنسی، بنیادی دینی تعلیم سے دور دوشیزاؤں کو یہ سمجھ میں نہیں آتا؛ لیکن جب خود پر بیتتی ہے تو جب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ حال میں ارتداد کے واقعات اتنی تیزی اور شدت سے بڑھتے جارہے ہیں کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مسلمانوں کو مستقبل میں انتہائی تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ بھگوائی ہر محاذ پر سرگرم ہیں؛ لیکن ہم مسلمان صرف ایک دوسرے کو کافر ایک دوسرے پر طعنہ زنی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے کو نااہل ثابت کرنے میں لگے ہیں۔ بھگوائیوں کا حوصلہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ ٹرینوں سے مسلم دوشیزاوں کو اغوا کررہے ہیں، ان کے ساتھ آگے کیا ہوتا ہوگا یہ سوچ کر ذہن کانپ جاتا ہے۔ بھگوائی مرد ہی نہیں عورتیں بھی میدان میں نکلی ہوئی ہیں اور مسلم خواتین کو اپنی دوستی کے سہارے ان کی عصمت و عفت تار تار کرکے انہیں بے دست و پاکررہی ہیں۔ گزشتہ روز ایک واقعہ ہوا کہ ایک خاتون نے اپنی مسلم سہیلی کو اپنے گھر مدعو کرکے مشروب پینے کو دیا، جس میں نشہ آور چیز تھی، وہ مشروب پیتے ہی بے ہوش ہوگئی، اس کے بعد اس خاتون نے مسلم خاتون کی اپنے بیٹے اور اس کے دوستوں سے عصمت دری کروائی۔ اللہ کی پناہ۔۔۔۔ان سب واقعات سے دل رنجور ہے، دل دہل جاتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں کچھ ایسے بھی واقعات گردش کررہے ہیں کہ 'غیر مسلم لڑکے بے غیرت مسلم دلالوں کو پیسے دے کر غریب مسلم لڑکیوں سے ان کے اہل خانہ کو دھوکہ میں رکھ کر شادی کر رہے ہیں'۔ بلکہ ایسی بھی خبریں ہیں کہ ان بھگوائیوں کو مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے پر لاکھوں کا انعام دیاجاتا ہے اور ان کے رہن سہن کا تنظیمیں خرچ بھی برداشت کرتی ہیں۔

ایک طرف تو وہ مکمل تیاری میں ہیں اور دوسری طرف ہم بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواب غفلت میں مدہوش ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت یہ سوچ کر ان واقعات کو بھلاکر آگے نکل جاتی ہے کہ ہماری بچیاں ایسا نہیں کرسکتی ہیں، ہماری بچیاں بھاگ کر شادی نہیں کرسکتیں، ہماری بچیاں ہندو لڑکوں کی محبت میں گرفتار نہیں ہوسکتیں۔ اتنا بتادوں کہ جو لڑکیاں گرفتار ہوئی ہیں ان کے والدین بھی کبھی ایسا ہی سوچتے رہے ہوں گے؛ لیکن آج ان جو پر بیت رہی ہے اسے ہم نظر انداز کررہے ہیں اور سبق نہیں لے رہے۔ میں اس سے پہلے بھی کئی مضامین اس سلسلے میں لکھ چکا ہوں جب تکلیف کا احساس اور حالیہ واقعات پر نظر پڑتی ہے تو پھر لکھنے کو مجبور ہوجاتا ہوں کہ شاید کسی لڑکی کے والدین کو سمجھ میں آجائے، کسی مسلم دوشیزہ کی سمجھ میں آجائے کہ وہ کیا کررہی ہے اور کہاں جارہی ہے، محبت کے نام پر اپنے دین حنیف سے رشتہ توڑ رہی ہے اور والدین تعلیم کے نام پر اپنی بیٹیوں کو آزاد چھوڑ رہے ہیں، ان کی کوئی گرفت نہیں کرتے؛ لیکن جب معاملہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو خون کے آنسو روتے ہیں۔

۲۰۱۴ کے بعد ہی بھگوا تنظیموں نے اعلان کیا تھا اور ایک حد مقرر کی تھی وہ حد صرف یوپی کی تھی کہ ہم اتنی تعداد میں مسلم لڑکیوں کو بہو بنائیں گی وہ حد کب کی پوری ہوچکی ہے اور صرف یوپی ہی نہیں بہار، بنگال، جھارکھنڈ، گجرات و مہاراشٹر سمیت پورے ملک میں اب ارتداد کی لہر ہے، بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں ہندو بن رہی ہیں، بڑی تعداد میں گھر اجڑ رہے ہیں کنواری لڑکیوں کے ساتھ ساتھ شادی شدہ مسلم خواتین بھی اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے دامن کفر میں جارہی ہیں۔ ہم ان سب واقعات کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے، کسی تنظیم کو لعن طعن نہیں کرتے، نہ جدید تعلیم کا اسے شاخسانہ قرار دیتے ہیں؛ لیکن یہ اپیل ضرور کرتے ہیں کہ خدارا جلد اس ضمن میں سوچیں اپنی بچیوں کو بچائیں۔۔۔۔خدارا جلد اس پر قابو پائیں اور ان کو ارتداد سے محفوظ رکھیں؛ ورنہ اس تاریک دن کے لیے تیار رہیں جب آپ کی بیٹیاں بڑی تعداد میں کافر بچوں کو جنم دیں گی اور وہ بچے کفر کا دامن تھامے آپ سے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہیں آپ کی لنچنگ کررہے ہوں گے، کہیں آپ کی بچی ہوئی لڑکیوں کی عصمت دری، تو کہیں ٹرین سے اغوا کرکے اسے نشانہ بنا رہے ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے ملی تنظیمیں، والدین اور خود ہر مسلمان اس پر غور کرے اور اس کے سدد باب کے لیے تال میل کے ساتھ انتہائی منظم طور پر اس آندھی کو روکنے کی ہم سب کوشش کریں، اللہ ہماری ماؤں، بہنوں کی عصمت و عفت کی حفاظت فرمائے اور انہیں ارتداد سے بچائے رکھے۔۔۔آمین

نازش ہما قاسمی

ملک میں جب سے بھگوا طاقتوں کو اقتدار کی باگ ڈور ملی ہے تب سے ہی گھر واپسی، لو جہاد، ہندوستان کے مسلم دراصل ہندو ہیں سبھی کا ڈی این اے ایک ہے وغیرہ کے شوشے چھوڑ کر خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ایک طرف پوری پلاننگ کے ساتھ خاندان کے خاندان کو ہندو بنانے کا عمل جاری ہے تو وہیں دوسری جانب مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کو اسلام سے پھیرنے کا سلسلہ زور پکڑنے لگا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو لو جہاد کی آڑ میں پکڑا جارہا ہے اور مسلم اعلی تعلیم یافتہ اور معروف شخصیتوں کو ہندو لڑکیوں کی محبت میں پھنساکر ان کا دین دھرم خراب کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں ایسا پہلے سے ہی ہوتا آرہا تھا؛ لیکن ۲۰۱۴ کے بعد اس میں شدت آگئی ہے۔ بھگوائیوں کے لوٹرپ کا نشانہ بننے والی مسلم لڑکیوں کی زندگی ہی اگر عبرت کے لیے پیش کی جائے تو یہ کافی ہے؛ لیکن عشق و محبت کے جال میں پھنسی، بنیادی دینی تعلیم سے دور دوشیزاؤں کو یہ سمجھ میں نہیں آتا؛ لیکن جب خود پر بیتتی ہے تو جب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ حال میں ارتداد کے واقعات اتنی تیزی اور شدت سے بڑھتے جارہے ہیں کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو مسلمانوں کو مستقبل میں انتہائی تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ بھگوائی ہر محاذ پر سرگرم ہیں؛ لیکن ہم مسلمان صرف ایک دوسرے کو کافر ایک دوسرے پر طعنہ زنی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے کو نااہل ثابت کرنے میں لگے ہیں۔ بھگوائیوں کا حوصلہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ ٹرینوں سے مسلم دوشیزاوں کو اغوا کررہے ہیں، ان کے ساتھ آگے کیا ہوتا ہوگا یہ سوچ کر ذہن کانپ جاتا ہے۔ بھگوائی مرد ہی نہیں عورتیں بھی میدان میں نکلی ہوئی ہیں اور مسلم خواتین کو اپنی دوستی کے سہارے ان کی عصمت و عفت تار تار کرکے انہیں بے دست و پاکررہی ہیں۔ گزشتہ روز ایک واقعہ ہوا کہ ایک خاتون نے اپنی مسلم سہیلی کو اپنے گھر مدعو کرکے مشروب پینے کو دیا، جس میں نشہ آور چیز تھی، وہ مشروب پیتے ہی بے ہوش ہوگئی، اس کے بعد اس خاتون نے مسلم خاتون کی اپنے بیٹے اور اس کے دوستوں سے عصمت دری کروائی۔ اللہ کی پناہ۔۔۔۔ان سب واقعات سے دل رنجور ہے، دل دہل جاتا ہے، آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں کچھ ایسے بھی واقعات گردش کررہے ہیں کہ 'غیر مسلم لڑکے بے غیرت مسلم دلالوں کو پیسے دے کر غریب مسلم لڑکیوں سے ان کے اہل خانہ کو دھوکہ میں رکھ کر شادی کر رہے ہیں'۔ بلکہ ایسی بھی خبریں ہیں کہ ان بھگوائیوں کو مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے پر لاکھوں کا انعام دیاجاتا ہے اور ان کے رہن سہن کا تنظیمیں خرچ بھی برداشت کرتی ہیں۔

ایک طرف تو وہ مکمل تیاری میں ہیں اور دوسری طرف ہم بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواب غفلت میں مدہوش ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت یہ سوچ کر ان واقعات کو بھلاکر آگے نکل جاتی ہے کہ ہماری بچیاں ایسا نہیں کرسکتی ہیں، ہماری بچیاں بھاگ کر شادی نہیں کرسکتیں، ہماری بچیاں ہندو لڑکوں کی محبت میں گرفتار نہیں ہوسکتیں۔ اتنا بتادوں کہ جو لڑکیاں گرفتار ہوئی ہیں ان کے والدین بھی کبھی ایسا ہی سوچتے رہے ہوں گے؛ لیکن آج ان جو پر بیت رہی ہے اسے ہم نظر انداز کررہے ہیں اور سبق نہیں لے رہے۔ میں اس سے پہلے بھی کئی مضامین اس سلسلے میں لکھ چکا ہوں جب تکلیف کا احساس اور حالیہ واقعات پر نظر پڑتی ہے تو پھر لکھنے کو مجبور ہوجاتا ہوں کہ شاید کسی لڑکی کے والدین کو سمجھ میں آجائے، کسی مسلم دوشیزہ کی سمجھ میں آجائے کہ وہ کیا کررہی ہے اور کہاں جارہی ہے، محبت کے نام پر اپنے دین حنیف سے رشتہ توڑ رہی ہے اور والدین تعلیم کے نام پر اپنی بیٹیوں کو آزاد چھوڑ رہے ہیں، ان کی کوئی گرفت نہیں کرتے؛ لیکن جب معاملہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو خون کے آنسو روتے ہیں۔

۲۰۱۴ کے بعد ہی بھگوا تنظیموں نے اعلان کیا تھا اور ایک حد مقرر کی تھی وہ حد صرف یوپی کی تھی کہ ہم اتنی تعداد میں مسلم لڑکیوں کو بہو بنائیں گی وہ حد کب کی پوری ہوچکی ہے اور صرف یوپی ہی نہیں بہار، بنگال، جھارکھنڈ، گجرات و مہاراشٹر سمیت پورے ملک میں اب ارتداد کی لہر ہے، بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں ہندو بن رہی ہیں، بڑی تعداد میں گھر اجڑ رہے ہیں کنواری لڑکیوں کے ساتھ ساتھ شادی شدہ مسلم خواتین بھی اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے دامن کفر میں جارہی ہیں۔ ہم ان سب واقعات کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے، کسی تنظیم کو لعن طعن نہیں کرتے، نہ جدید تعلیم کا اسے شاخسانہ قرار دیتے ہیں؛ لیکن یہ اپیل ضرور کرتے ہیں کہ خدارا جلد اس ضمن میں سوچیں اپنی بچیوں کو بچائیں۔۔۔۔خدارا جلد اس پر قابو پائیں اور ان کو ارتداد سے محفوظ رکھیں؛ ورنہ اس تاریک دن کے لیے تیار رہیں جب آپ کی بیٹیاں بڑی تعداد میں کافر بچوں کو جنم دیں گی اور وہ بچے کفر کا دامن تھامے آپ سے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہیں آپ کی لنچنگ کررہے ہوں گے، کہیں آپ کی بچی ہوئی لڑکیوں کی عصمت دری، تو کہیں ٹرین سے اغوا کرکے اسے نشانہ بنا رہے ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے ملی تنظیمیں، والدین اور خود ہر مسلمان اس پر غور کرے اور اس کے سدد باب کے لیے تال میل کے ساتھ انتہائی منظم طور پر اس آندھی کو روکنے کی ہم سب کوشش کریں، اللہ ہماری ماؤں، بہنوں کی عصمت و عفت کی حفاظت فرمائے اور انہیں ارتداد سے بچائے رکھے۔۔۔آمین

عادل آباد سے ایک 35 سالہ نوجوان 31 جولائی 2021 بروز ہفتہ سے لاپتہ ہے

(اردو اخبار دنیا)عادل آباد _ عادل آباد سے ایک 35 سالہ نوجوان 31 جولائی 2021 بروز ہفتہ سے لاپتہ ہے۔افراد خاندان کی اطلاعات کے مطابق شہر مستقر عادل آباد کے محلہ پنجہ شاہ سے تعلق رکھنے والا 35 سالہ سہیل خان نامی نوجوان 31 جولائی 2021 ہفتہ کی صبح سے لاپتہ بتایا گیا ہے۔ہفتہ کی صبح اہلیہ کو کسی کام سے باہر جانے کی اطلاع دیکر روانہ ہوا تھا۔تاہم ہفتہ اور اتوار دو دن کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی گھر واپس نہیں لوٹا۔پیشہ سے ہیرو ہونڈا شوروم میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا ہے۔فون بھی بند بتایا جارہا ہے۔اچانک شادی شدہ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے سے افراد خاندان صدمے میں ہے۔اور گمشدہ نوجوان کو تلاش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔افراد خاندان نے عوام سے گمشدہ شخص نظر آنے پر درج ذیل فون نمبرات پر اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔7036764286/9985663432

نئی دہلی:جیساکہ بھارت اگست کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی:جیساکہ بھارت اگست کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی صدارت سنبھال رہاہے ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اتوار کوکہاہے کہ بھارت ہمیشہ تحمل کی آواز رہا ہے ، مذاکرات کا حامی اور بین الاقوامی قانون کا حامی رہے گا۔وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے اسے ایک اہم دن قرار دیا اور دنیا کے بارے میں بھارت کے نقطہ نظر کو بیان کرنے کے لیے 'دنیا ایک خاندان ہے' کا حوالہ دیا۔ جے شنکر نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہم اگست کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتے ہوئے دوسرے ممبروں کے ساتھ نتیجہ خیزکام کرنے کے منتظرہیں۔بھارت ہمیشہ تحمل کی آواز،مذاکرات کا حامی اور بین الاقوامی قانون کا حامی رہے گا۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...