Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 07, 2021

لداخ کے زانسکار میں واقع پینسلنگپا گلیشیر (پی جی) پیچھے کھسک رہا ہے

لداخ کے زانسکار میں واقع پینسلنگپا گلیشیر (پی جی) پیچھے کھسک رہا ہے(اردو اخبار دنیا)درجہ حرارت میں اضافے اور موسم سرماں میں کم برفباری ہونے کی وجہ سے لداخ کے زانسکار میں واقع پینسلنگپا گلیشیر (پی جی) پیچھے کھسک رہا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گلیشیر درجہ حرارت میں اضافہ اور سردیوں میں کم برف باری ہونے کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالیئن جیولوجی (WIHG)، دہرادون، 2015 سے گلیشیئروں کا مطالعہ کر رہا ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ حکومت ہند کے محکمہ سائنس وٹیکنالوجی کے ماتحت ہے۔ اس کے تحت، گلیشیروں میں برف جمع ہونے کی صورتحال، برف پگھلنے کی حالت، ماضی کے موسمی حالات، مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کی کیفیت اور اس خطے کے گلیشیئروں پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ہمالیہ کے علاقوں جیسے زانسکار کا مطالعہ کیا جس کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔

گلیشیئروں میں برف جمع ہونے کی کیا صورتحال ہے اور اس پر کتنی برف ہے، اس کا موقع پر معائنہ کیا گیا۔ اس کے لیے بانس سے بنا ہوا ایک پیمانہ گلیشیر کی سطح پر نصب کیا جاتا ہے۔ یہ کھود کرکے اندر گاڑا جاتا ہے۔ اسی سے برف کی حالت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح کا پیمانہ 2016 سے گلیشیر کی سطح پر موجود تھا۔

پنسلنگپا گلیشیر پر جمی ہوئی برف پر ماضی اور حال کے زمانے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا اندازہ لگایا گیا۔ چار سالوں کے دوران میدانی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وادی زانسکار میں یہ گلیشیر اوسطا 6.7 پلس مائنس 3 ایم اے -1 کی شرح سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یہ مطالعہ میگزين 'ریجنل اینوائرنمنٹ چینج' میں شائع ہوا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے گلیشیر کے پیچھے کھسکنےکا سبب درجہ حرارت میں اضافے اور سردیوں میں کم برف باری بتایا ہے۔

مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برف کی چادر کے اوپر ملبہ بھی جمع ہے جس کے مضر اثرات بھی ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے گرمیوں میں گلیشیر کا ایک سرا کھسک جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پچھلے تین سالوں (2016-2019) کے دوران برف جمع ہونے میں منفی رجحان رہا ہے اور برف کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ جمع ہوا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہوا کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے برف کے پگھلنے میں تیزی آئے گی۔

واضح رہے کہ پوری دنیا میں ہوا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امکان ہے کہ گرمیوں کے دورانیہ میں اضافے کی وجہ سے اونچی جگہوں پر برف باری کے بجائے بارش شروع ہو جائے، جس کی وجہ سے سردی-گرمی کے موسم کا مزاج بھی بدل جائے گا۔

جاوتری صحت کیلئے کیسی ہے؟

(اردو اخبار دنیاجاوتری جسے جلوتری بھی کہا جاتا ہے اس کا شمار گرم مسالے میں کیا جاتا ہے، جاوتری کے استعمال کے صحت پر بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں جاننا بے حد ضروری ہے۔ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق جاوتری وٹامن اے، بی1، بی 2، کیلشیم ، میگنیشم ، فاسفورس، میگنیز اور زنک جیسے کئی معدنیات سے لبریز جز ہے، اسے بر صغیر پاک و ہند میں کھانے کی تیاری جیسے کہ میٹھی غذائیں، گوشت، سبزیوں، چٹنیوں، پلاؤ اور چند مشروبات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس کی فصل ملیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا اور بھارت میں ہوتی ہے جبکہ اس کی تھوڑی سی زیادتی بھی کھانے کو کڑوا اور زہریلا بنا سکتی ہے۔

 

ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق اسے ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 1 سے 3 گرام تک استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کی کم مقدار ہی فائدہ مند ہے جبکہ ضرورت سے زیادہ استعمال فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

جائفل جاوتری کے استعمال کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد :ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق جاوتری کڑوی ہونے کے سبب یہ خون کی صفائی اور دل کی بیماریوں میں معاون ثابت ہوتی ہے۔خوا تین کے متعدد پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے بے حد مفید ہے۔جاوتری کے استعمال کے نتیجے میں معدے کی صحت اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے ، نظام ہاضمہ تیز ہوتا ہے ۔جاوتری کو سانسوں اور منہ کی بد بو ختم کرنے کے لیے بھی کھایا جا سکتا ہے۔بلڈ پریشر اور شوگر کو متوازن بناتی ہے۔مثانے اور اس کے مکمل نظام کے انفیکشن کا خاتمہ کرتی ہے۔

 

جائفل جاوتری کا استعمال گلے میں خراشوں، کھانسی کے علاج اور گلے درد اور دمے کا علاج بھی کرتی ے۔جاوتری اپھار کا بھی بہترین علاج ہے۔پیاس کی شدت کو کم کرتی ہے، بچوں میں پیٹ کے کیڑے کی شکایت کو دور کرتی ہے ۔جائفل جاوتری کا پیسٹ بنا کر جوڑوں پر لگانے سے درد ختم ہو جاتا ہے اور بڑے اور بچوں کے قوت مدافعت کے نظام کو مضبوط بناتی ہے۔

جائفل جاوتری کے استعمال کے نتیجے میں صحت پر حاصل ہونے والے نقصانات:جائفل اگر ضرورت سے زیادہ استعمال کر لی جائے تو اس کے بہت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جیسے کہ متلی، پیٹ درد، سانس کا پھولنا اور دورے پڑنا۔جائفل سے بدہضمی کی شکایت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔جاوتری ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے، اس مسالے کو ذہنی صحت کے لیے منفی قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان :دعوت ولیمہ میں فائرنگ سے صوبائی وزیر کا بھائی جاں بحق

  • (اردو اخبار دنیا)

لاہور میں نامزد صوبائی وزیر اسد کھوکھر کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں فائرنگ سے اسد کھوکھر کے چھوٹے بھائی مبشر کھوکھر جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔وزیر اعلیٰ کے سیکورٹی اسٹاف نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا، فائرنگ کے وقت وزیر اعلیٰ کی گاڑی بھی قریب تھی۔ وزیر اعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔

 

نامزد صوبائی وزیر اسد کھوکھر کے بیٹے کی ڈیفنس میں دعوت ولیمہ میں فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیراعلیٰ عثمان بزدار واپس جانے کے لیے گاڑی میں سوارہوئے۔پولیس کے مطابق اسد کھوکھر اور مبشر کھوکھر وزیراعلیٰ کو رخصت کرر ہے تھے کہ حملہ آور نےفائرنگ کردی۔ عینی شاہد فرحان کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت حملہ آور گھات لگا کر بیٹھے تھے۔

 

گولیاں لگنے سے مبشر کھوکھر اور افضل نامی شخص زخمی ہوگیا، مبشر کھوکھر کو ڈیفنس کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔وزیر اعلیٰ کے سیکورٹی اسٹاف نے حملہ آور ملزم ناظم کو پکڑ لیا۔ڈپٹی کمشنر مدثر ریاض بھی اسپتال پہنچے، میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دیرینہ دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے تاہم مزید تفتیش کے بعد حتمی رائے دی جا سکتی ہے۔

 

گرفتار ملزم ناظم نے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا کہ اپنے چچا کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ملک مبشر عرف گوگا کو قتل کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آئی جی پنجاب سے فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو قانون کے مطابق سزا یقینی بنائی جائے۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے رحیم یار خان کے مندر پر حملے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا

اسلام آباد، 6 اگست (اردو اخبار دنیا) پاکستانی سپریم کورٹ نے رحیم یارخان میں مندر پر حملے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کے علاوہ شر پسندی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ مندر کی بحالی پر آنے والے اخراجات کی رقم ہر صورت ملزمان سے وصول کی جائے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے رحیم یار خان میں مندر پر ہونے والے حملے کے واقعے پر لیے گئے از خود نوٹس پر سماعت کی۔سماعت میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) انعام غنی، چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت مندر پر حملہ ہوا تو انتظامیہ اور پولیس کیا کر رہی تھی۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے سی اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس موقع پر موجود تھے، انتظامیہ کی ترجیح مندر کے اطراف میں واقع ہندوؤں کے 70 گھروں کا تحفظ تھا۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کام نہیں کر سکتے تو انہیں ہٹا دیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک 9 سال کے بچے کی وجہ سے یہ سارا واقعہ ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، پولیس نے ماسوائے تماشہ دیکھنے کے کچھ نہیں کیا۔

جسٹس قاضی امین نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی؟ جس پر آئی جی نے بتایا کہ ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم نے بھی معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم اپنا کام جاری رکھیں، لیگل کیس عدالت دیکھے گی۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوئی، پھر پولیس ملزمان کی ضمانت، صلح کروائے گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سرکاری پیسے سے مندر تعمیر ہو گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ واقعے کو 3 دن ہو گئے ایک بندہ پکڑا نہیں گیا، واقعے پر پولیس کی ندامت دیکھ کر لگتا ہے پولیس میں جوش ولولہ نہیں، پولیس کے لوگ پروفیشنل ہوتے تو اب تک معاملات حل ہوچکے ہوتے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہندوؤں کا مندر گرادیا، ان کے دل پر کیا گزری ہوگی، سوچیں مسجد شہید کردی جاتی تو مسلمانوں کا ردعمل کیا ہوتا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندو کمیونٹی کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب بالخصوص متاثرہ علاقے میں قیام امن کے لیے ویلج کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ساتھ ہی عدالت نے آئی جی اور چیف سیکریٹری سے ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ ایک 9 سالہ بچے کے مبینہ طور پر مدرسے میں پیشاب کردینے پر دارالعلوم عربیہ تعلیم قرآن کے ایک معلم حافظ محمد ابراہیم کی شکایت پر بھونگ پولیس نے بچے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-اے کے تحت 24 جولائی کو مقدمہ درج کیا تھا۔تاہم مقامی عدالت نے چند روز قبل اسے ضمانت دے دی تھی جس کے بعد کچھ افراد نے علاقے کے عوام میں اشتعال پھیلایا اور تمام دکانیں بند کروادی تھیں۔

مہاراشٹرمیں 17اگست سے اسکول کھولنے کاف

ممبئی:6اگست (اردو اخبار دنیا) ریاست مہاراشٹرمیں کورونا کیسز میں کمی آئی ہے اسلئے حکومت نے اب کالجز اور اسکولوں کی دوبارہ کشادگی کافیصلہ کیا ہے۔دو دن قبل ریاست کے اعلی تعلیم و تکنیکی تعلیم کے وزیر اودئے سامنت نے کہاتھا کہ مہاراشٹرمیں15ستمبرتایکم اکتوبر کے درمیان کالجز کوشروع کیاجارہاہے ۔

 

آج ریاست کی وزیرتعلیم محترمہ ورشاگائیکواڑ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہاریاست میں اسکول کھولنے پرغور وخوص جاری ہے اور ایک ہفتہ میںفیصلہ کرلیاجائے گااورامکان ہےکہ17اگست سے ریاست میں اسکولوں کی دوبارہ کشادگی عمل میں آئے گی۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ ریاست کے شہری علاقوں یعنی میونسپل کارپوریشن ‘میونسپل کونسل علاقوں میں پانچویں جماعت سے اسکول کھولنے پرفیصلہ کیاگیا ہے ۔

 

اسلئے جلد ہی کوئی قطعی فیصلہ کرلیاجائے گا۔ایک طرف حکومت اگست سے اسکول کھولنے کافیصلہ کررہی ہے اور دوسری جانب ماہرین نے اشارہ دیاہے کہ ریاست میں تیسری لہربھیانک شکل اختیارکرسکتی ہے اور اکتوبر میں تیسری لہر اپنے عروج پررہے گی۔تو پھر ایسے حالات میں دوبارہ لاک ڈاون اوراسکولوں کوبند کرنے کی نوبت آسکتی ہے۔اسلئے عوام اور اسکولوں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حکومت جولائی میں ہی اسکولوں کو کھولنے کافیصلہ کردیتی کوبہتر تھا ۔اگرتیسری لہر اکتوبر میںعروج پررہتی ہے اورایسے میں لاک ڈاون کی نوبت آبھی جاتی ہے تو کسی طرح جولائی تااکتوبر تک اسکولوں میں تعلیم ہوسکتی تھی ۔


جمعہ, اگست 06, 2021

بہار: کئی اضلاع سیلاب سے بے حال، گنگا اور پن پن میں طغیانی، کئی گاوں میں پانی داخل

بہار: کئی اضلاع سیلاب سے بے حال، گنگا اور پن پن میں طغیانی، کئی گاوں میں پانی داخل

bihar flood
فائیل فوٹو

،

پٹنہ6 اگست:(اردو اخبار دنیا)بہار کی راجدھانی پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں سیلاب نے خطرناک صورت حال پیدا کر دی ہے۔ گنگا اور پن پن ندیوں میں طغیانی دیکھنے کو مل رہی ہے اور پٹنہ و بھاگلپور میں یہ ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ پٹنہ کے کئی #گاوں میں #سیلاب کا پانی بھی داخل ہو گیا ہے جس سے لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ انتظامیہ ے ذریعہ راحت رسانی کا کام جاری ہے۔آبی وسائل محکمہ کے ایک افسر نے جمعہ کو بتایا کہ گنگا ندی #بھاگلپور کے کہل گاوں میں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے جب کہ پن پن پٹنہ کے شری پال پور میں خطرے کے نشان کے اوپر بہہ رہی ہے۔

اس کے علاوہ باگمتی ندی مظفر پور کے بینی آباد، دربھنگہ کے حیا گھاٹ میں #خطرے کے نشان سے اوپر اور بوڑھی گنڈک #ندی کھگڑیا میں لال نشان کے اوپر #بہہ رہی ہے۔ کملا بلان مدھوبنی کے جے نگر اور جھنجھارپور ریل پل کے پاس خطرے کے نشان کو پار کر گئی ہے۔اس درمیان راحت کی بات یہ ہے کہ سون ندی پر بنے اندرپوری بیراج کے پاس ندی کی آبی سطح میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یہاں صبح چھ بجے سون ندی کی آبی سطح 40920 کیوسیک تھی جو آٹھ بجے گھٹ کر 35614 کیوسیک درج کی گئی ہے۔ چھوٹی ندیوں کی آبی سطح میں اضافہ نے لوگوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔

پٹنہ ضلع انتظامیہ نے کہا کہ سینڈ بیگ سے کئی گائوں میں پانی داخل کو روکا جا رہا ہے۔ دھنروا ڈویژن کے سونمئی پنچایت میں زمینداری پشتہ ٹوٹ جانے سے بدھانی ٹولہ میں پانی گھس گیا ہے۔ پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ چندرشیکھر سنگھ نے بتایا کہ ضلع کے جن مقامات پر سیلاب کا پانی آ چکا ہے وہاں پر انتظامیہ کی جانب سے کمیونٹی کچن چلایا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جمعرات کو وہ خود کئی علاقوں کا جائزہ لینے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گئے تھے۔ انھوں نے متاثرہ علاقوں میں فصل کو ہوئے نقصان کا سروے اور جائزہ لینے کی ہدایت بھی زراعتی افسر کو دی ہے تاکہ جلد از جلد کسانوں کو راحت مل سکے۔

بچے کو اپنی ماں کے نام کے استعمال کاہے حق : دہلی ہائی کورٹ

بچے کو اپنی ماں کے نام کے استعمال کاہے حق : دہلی ہائی کورٹ

delhi-high-court-1

نئی دہلی، 6 اگست :(اردواخباردنیا)دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کیلئے شرائط نہیں تھوپ سکتا اور ہر بچے کو اپنی ماں کا ذیلی نام استعمال کرنے کا حق ہے۔عدالت نے ایک نابالغ لڑکی کے والد کی درخواست پر سماعت کے دوران دیایہ بیان دیا۔ درخواست میں اس شخص نے حکام سے یہ ہدایت دینے کی اپیل کی ہے کہ #دستاویزات میں ان کا نام ان کی بیٹی کے عرفی نام میں ظاہر کیاجائے نہ کہ ان کی ماں کے نام کے طور پر۔تاہم جسٹس ریکھا پلی نے ایسی ہدایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ باپ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ بیٹی کو صرف اس کا نام استعمال کرنے کا حکم دے،اگر نابالغ بیٹی اس’کنیت‘ سے خوش ہے تو پھر آپ کو کیا مسئلہ ہے؟۔

سماعت کے دوران اس شخص کے وکیل نے دلیل دی کہ اس کی #بیٹی #نابالغ ہے اور وہ خود اس طرح کے معاملات کا فیصلہ نہیں کر سکتی اور #لڑکی کے نام کو الگ ر ہ رہی بیوی نے تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ نام میں تبدیلی سے انشورنس #کمپنی سے #انشورنس کلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ یہ پالیسی بچی کے نام پر اس کے والد کے نام سے لی گئی تھی۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...