Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 21, 2021

گیا : ڈوبنے سے 5 کی موت ایک ساتھ 3 معصوم کے گھرمیں صف ماتم

گیا : ڈوبنے سے 5 کی موت ایک ساتھ 3 معصوم کے گھرمیں صف ماتمگیا ؍پٹنہ ،20اگست(اردو اخبار دنیا)
جمعہ کو گیا میں تین الگ الگ حادثات میں 5 لوگ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں تین بچے ، ایک نوعمر اور ایک ادھیڑ عمر شخص شامل ہے۔ وزیر گنج میں ایک ساتھ تین معصوم کی ہلاکت کی وجہ سے سوگ اور صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ پہلا واقعہ مفصل تھانہ علاقہ میں واقع عالمی شہرت یافتہ سیتا کنڈ کے قریب سے گزرنے والے فالگو دریا میں پیش آیا۔ وہاں 12 سے 14 سال کی عمر کے تین دوست نہانے گئے۔ جب تینوں دریا میں تیزبہاؤ کی وجہ سے ڈوبنے لگے،تو انہوں نے شور مچا دیا۔چیخ و پکار سن کر قریب کھڑے ایک مقامی نوجوان نے دو لڑکوں کو بچایا ، لیکن ایک لڑکے کا سراغ نہیںمل سکا۔ بہت تلاش کے بعد نوجوان دریا میں ایک پتھر میں دبا ہوا ملا ، وہ فوت کر چکا تھا۔دو لڑکے جنہیں مقامی نوجوان نے بچایا تھا ،وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لوگوں نے پولیس کو اس واقعے سے آگاہ کیا ، اس کی خبر سوشل میڈیا پرنشر کی ، تب متوفی نوجوان کی شناخت ہوسکی ۔ متوفی نوعمر کا باپ اور بھائی سیتا کنڈ پہنچے ہیں۔ والد نے بتایا-بیٹا انشو برٹش انگلش سکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا، وہ صبح گھر سے نکلا تھا ، لیکن نہ تو اس نے اور نہ ہی اس کے دوستوں نے اس کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ انشو مفصل تھانہ علاقہ کے تحت نارائن نگر کا رہائشی تھا۔دوسرا واقعہ وزیر گنج کے سوڑھنی گاؤں میں پیش آیا۔ یہاں مورہر ندی میں نہاتے ہوئے تین بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ تمام بچوں کی عمر تقریباً چھ سال بتائی جاتی ہے۔ یہاں ایک بچے کی ماں بچوں کی تلاش میں دریا کے کنارے پہنچی ،تو وہ اپنے بچے کے کپڑے دریا کے کنارے دیکھ کر رونے لگی۔ اس کے رونے کی آواز سن کر گاؤں کے لوگوں نے موقع پر پہنچ کر بچے کو دریا میں تلاش کیا، تو تینوں بچے مردہ پائے گئے۔ مرنے والوں کی شناخت امرجیت کمار ، پشکر کمار اور رجنیش کمار کے طور پر ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ہی دریا میں ڈوبنے سے پانچویں موت 50 سالہ سریش مانجھی کی ہوئی ہے۔


مہاجر کشمیری پنڈتوں کی وادی میں بچی ہوئی املاک کو بچانے کا حکم کشمیر کے تمام ضلع مجسٹریٹ کو دی گئی ہے ہدایت

مہاجر کشمیری پنڈتوں کی وادی میں بچی ہوئی املاک کو بچانے کا حکم کشمیر کے تمام ضلع مجسٹریٹ کو دی گئی ہے ہدایت
جموں(اردو اخبار دنیا)٢١اگست: جموں و کشمیر حکومت نے حال ہی میں ایک حکم جاری کیا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام ضلعی مجسٹریٹ کو ان کی صلاحیت کے مطابق بطور مجاز اتھارٹی سروے کرنے کی اجازت دی جائے، مہاجروں کی باقیات کی فیلڈ تصدیق اور 15 دن کی مدت میں تمام رجسٹروں کو اپڈیٹ کیا جائے۔ یہ قدم جے اینڈ کے مہاجر کی غیر منقولہ جائیداد (پریشانی کی فروخت پر تحفظ، تحفظ اور روک تھام) ایکٹ، 1997 کو نافذ کرنے کے مقصد کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔ وادی کشمیر سے دور رہنے والے کشمیری تارکین وطن نے وادی کشمیر میں اپنی چھوڑی ہوئی جائیداد جس میں زمین اور مکانات شامل ہیں کے بارے میں ایل جی انتظامیہ کی طرف سے اس نئی ہدایت کا خیر مقدم کیا ہے۔

روشن لال، جموں کے جگتی ٹاؤن شپ میں رہنے والا ایک کشمیری تارکین وطن اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے, لیکن ایسا کرنے میں ناکام ہے۔ اس کے چہرے کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے جو غصے، درد اور تکلیف کو ظاہر کر رہا ہے، جو اس درد سے گزر رہا ہے۔ روشن لال اور ان کا خاندان تین مزید جانوں پر مشتمل ہے جو کہ حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی ماہانہ امداد پر مکمل طور پر منحصر ہیں۔ ہجرت سے پہلے اس کے حالات ایسے نہیں تھے۔ روشن لال کہتے ہیں کہ ضلع بارہمولہ کی تحصیل سوپور میں ان کے آبائی گاؤں بومائی میں تقریباً 8 ایکڑ پر ان کا بڑا باغ ہے اور باغ کی زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی روشن لال کے خاندان کی اہم آمدنی تھی، لیکن جلد ہی وہ ہجرت کرگئے۔ باغ کی پوری زمین اور دوسری زرعی زمین پر اس کے اپنے گاؤں سے کسی نے قبضہ کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہجرت کے دوران خاندان کو پالنے کے لیے بہت سے مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معمولی مالی مدد تھی۔

کشمیری پنڈت روشن لال نے کہا کہ پچھلے 32 سالوں سے اُن کی زمین جنہوں نے قبضے میں لی ہے، انہوں نے آج تک اُس زمین سے آئی ہوئی آمدنی میں سے کچھ بھی نہیں دیا۔ ہمارے باغات میں سے ہونے والی آمدنی سے ہم اپنا پورا کنبہ پالتے تھے، لیکن پچھلے 32 سالوں میں سے ہمیں اپنی زمین میں سے کچھ بھی نہیں ملا۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اپنی زمین کھو دی ہے۔ روشن لال نے مزید کہا آج کے وقت میں میرے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ سرکار کی طرف سے جو ہمیں امداد فراہم کی جاتی ہے وہ بہت ہی کم ہے، لیکن ہمیں اُسی سے گزارا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے جو آج حالات ہیں ایسے حالات کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

ہندوستانی پنڈت روشن لال کی بیوی نے بتایا ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم بھی اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں ڈالنا چاہتے تھے ہم اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دے کر اُن کو کسی مقام پر پہنچانا چاہتے تھے، لیکن ہمارے سبھی خواب ادھورے رہ گئے، صرف اس وجہ سے کہ ہمارے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔ اگر ہمارے پاس اپنی زمین ہوتی تو شاید آج ہمارے سبھی خواب پورے ہوتے۔

جموں و کشمیر حکومت نے حال ہی میں ایک حکم جاری کیا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام ضلعی مجسٹریٹ کو ان کی صلاحیت کے مطابق بطور مجاز اتھارٹی سروے کرنے کی اجازت دی جائے، مہاجروں کی باقیات کی فیلڈ تصدیق اور 15 دن کی مدت میں تمام رجسٹروں کو اپڈیٹ کیا جائے۔

مہاجر املاک کے معاملے میں جے اینڈ کے حکومت کے حکم نامے کی بہت ضرورت تھی کیونکہ سال 1997 میں بنائے گئے ایکٹ پر عمل درآمد اس انداز میں نہیں ہوا جس طرح ایکٹ نے مشورہ دیا ہے اور مثالیں خاص طور پر ہائی کورٹ کے حکم کے بعد نوٹس میں آئی ہیں۔ حکم کے مطابق، مجاز اتھارٹی تارکین وطن کی غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات اس شکل میں تیار کرے گی، جیسا کہ تجویز کیا گیا ہے اور مہاجر املاک کے غیر مجاز قابضین کو بے دخل کرنے کے لیے مناسب کارروائی کرے گی اور دفعہ 5 کے مطابق کارروائی کرے گی۔ جموں اور ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت کے حکم کے ساتھ، وادی میں نقل مکانی کرنے والوں کی بقایا جائیدادوں کی حفاظت کی جائے گی اور تمام پریشانیوں کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔ کشمیری پنڈت ستیش سہاس نے کہا جب مجبور ہوکر ہمیں اپنا گھر چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی تھی تو ہمارے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں تھا۔ ہم نے اپنے بچوں پڑھانا لکھانا تھا۔ اپنے کنبے کا پیٹ بھی پالنا تھا تو مجبور ہو کر ہمیں اپنی تمام جائداد بیچنی پڑی۔ اُس وقت جو ہمیں قیمت ملی تھی اُس قیمت سے ہم تب بھی مطمئن نہیں تھے، لیکن مجبوری نے ہمیں یہ کرنے پر مجبور کیا۔ سہاس نے مزید کہا کہ اب جو ایل جی انتظامیہ نے یہ قدم اُٹھایا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اب ہمیں اُمید جاگی ہے جو اُس وقت ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی اب شاید ہمارے ساتھ انصاف ہوگا۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ یہ جو حکم نامہ جاری ہوا ہے اسے جلد سے جلد نافذ کیا جائے۔ ایک اور کشمیری پنڈت انجلی ٹیکو نے کہا اُس وقت جو حالات بنے تھے ہم صرف اتنا چاہتے تھے کسی طرح سے ہم خود کو بھی بچائے اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں تو ایمرجنسی میں ہم کو یہ قدم اُٹھانے پر مجبور کیا۔ آج اگر ہمارے پاس اپنی جائداد ہوتی تو شاید آج ہمارے گھروں کے حالات کچھ اور ہوتے۔ انجلی نے مزید کہا انتظامیہ نے دیر سے ہی سہی، لیکن ہماری مشکلات کو لے کر کچھ سنجیدگی دکھائی ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ اس بار ایل جی انتظامیہ اپنی باتوں پر وعدہ بند رہے گی۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جیسے مذہبی املاک کے حوالے سے قانون کی کسی بھی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور ایسی جائیدادوں کی بے دخلی، تحویل اور بحالی کی بروقت کارروائی کو یقینی بنائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرے۔

سونف اور اس کے قہوے کے صحت سے متعلق طبی فوائد

  • (اردو اخبار دنیا)

سونف ایک عام جڑی بوٹی ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں، اس کے چھوٹے چھوٹے ہرے دانے انسانی مجموعی صحت اور خوبصورتی کے لیے بیش بہا فوائد اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔غذائی ماہرین جڑی بوٹی کے مطابق سونف معدے کی کارکردگی اور اس کی صفائی، مضر صحت مادوں کے جسم سے اخراج، خون کی صفائی، آنتوں کی صحت اور جلد کے لیے بے حد فائدہ مند ہے، یہ کیل مہاسوں کا سبب بننے والے ہارمونز کی افزائش کو روکتی ہے، سونف خواتین میں ہارمونز کے بگاڑ کو متوازن بناتی ہے، یہ وٹامن سی، اے اور غذائی ریشہ کا بہترین ذریعہ ہے، سونف خصوصاً وزن کم کرنے کے لیے ایک بہترین جڑی بوٹی ہے۔

 

غذائی ماہرین کے مطابق جہاں سونف کے خوبصورتی پر بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں یہ صحت کے لیے بھی نہایت مفید ہے، بے شمار وٹامنز اور منرلز سے بھرپور سونف صرف بیماریوں کا ہی علاج نہیں کرتی بلکہ اس سے بنایا گیا قہوہ بھی لاتعداد فوائد فراہم کرتا ہے ۔ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ جو افراد اپنے وزن میں تیزی سے کمی چاہتے ہیں ان کے لیے سونف کا قہوہ کسی جادوئی مائع سے کم نہیں ہے۔

 

سونف میں وٹامن اے اور سی بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے جس کے سبب اس کا استعمال بینائی کی حفاظت کرتا ہے، غذائی ماہرین کے مطابق سونف پیس کر اس کا قہوہ بنا کر پینے سے کمر درد میں بہتری آتی ہے، سونف گردے اور مثانے کا ورم دور کرنے میں بھی مدد فراہم کر تی ہے، فرحت بخش احساس دلانے والی سونف کا استعمال دماغ کی کمزوری اور یادداشت کے لیے بہترین دوا ہے، سونف چبانے سے بیٹھی ہوئی آواز ٹھیک ہو جاتی ہے۔سونف اور اس سے بنا قہوہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بھی بہت مفید قرار دیا جاتا ہے، اس کے استعمال سے دودھ کی مقدار بھی بڑھتی ہے۔

 

سونف سے بنا قہوہ پینے کے صحت پر مثبت اثرات:

سونف سے بنے قہوے میں ایسے منرلز پائے جاتے ہیں جو انسانی دماغ کو سکون پہنچاتے ہیں اور پُر سکون نیند کا سبب بنتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو افراد اچھی اور پُرسکون نیند سوتے ہیں ان کا وزن نہیں بڑھتا اور نہ ہی ذہنی دباؤ جیسی شکایات کا جَلد شکار ہوتے ہیں۔سونف سے بنے قہوے کا ایک گلاس پی لینے سے کافی دیر تک بھوک نہیں لگتی ، سونف میں موجود ضروری معدنیات انسانی پیٹ کو بہت دیر تک بھرا رکھتے ہیں جس سے انسان بے وجہ کا کھانا کھانے سے بچ جاتا ہے ور کم کیلوریز کھانے کے سبب وزن میں کمی آتی ہے۔

سونف کے قہوے کے مستقل استعمال کے نتیجے میں جسم کو زنک اور کیلشیم جیسے قیمتی معدنیات ملتے ہیں، یہ معدنیات ہارمونز کو متوازن کرنے اور آکسیجن کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔سونف کا قہوہ پینے کے سبب بلڈ پریشر متوازن رہنے میں مدد ملتی ہے۔

سونف کا قہوہ بنانے کا طریقہ:جس طرح سبز پتی کو پانی میں جوش دلا کر سبز چائے بنائی جاتی ہے بالکل اسی طرح سونف کو بھی پانی میں پکا کر، چھان کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔سونف کے قہوے کو مزید فائدہ مند بنانے کے لیے اس میں کچن میں موجود اور بھی غذائی اجزاء شامل کیے جا سکتے ہیں جیسے کہ دار چینی، سفید زیرہ، اجوائن، الائچی وغیرہ۔

سونف سے بنے قہوے کا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے اس میں حسب ذائقہ شہد اور لیموں کے چند قطرے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر نے ڈلیوری کے دوران بچے کی گردن کاٹ دی

  • (اردو اخبار دنیا)

راولپنڈی:راولپنڈی کے اسپتال میں ڈاکٹر نے ڈلیوری کے دوران بچے کی گردن کاٹ دی۔ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ راولپنڈی کے مقامی اسپتال میں پیش آیا جہاں حاملہ خاتون کو طبعیت ناسازی کی وجہ سے گذشتہ رات اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔جہاں ڈاکٹر نائلہ نے ڈلیوری کے دوران کمسن بچے کی گردن ہی کاٹ دی۔

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندان پر قانونی کارروائی نہ کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا۔متاثرہ شہری کی جانب سے تھانہ نیو ٹاؤن پولیس کو واقعے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی تاہم لیڈی ڈاکٹر اسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔لواحقین نے اسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور ڈاکٹر کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

شاہ رخ کے ساتھ کام کریں گی ثانیہ اگست 21, 2021

ممبئی، 18 اگست(اردو اخبار دنیا) بالی وڈ اداکارہ ثانیہ ملہوترا کنگ خان شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرتی نظر آ سکتی ہیں ان دنوں شاہ رخ خان یش راج بینر تلے بننے والی فلم پٹھان میں کام کر رہے ہیں بتایا جارہا ہے کہ پٹھان کی شوٹنگ مکمل کرنے کے بعد شاہ رخ خان فلمساز ایٹلی کی تھرلر فلم شروع کریں گے۔

200 کروڑ کے بجٹ میں بننے والی اس تھرلر فلم میں ملک بھر سے فنکار سائن کئے جا رہے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ ایٹلی کی اس فلم میں شاہ رخ خان کے ساتھ جنوبی ہند کی اداکارہ نین تارا اہم کردار میں نظر آئیں گی جن کی یہ پہلی بالی وڈ فلم ہے۔کہا جا رہا ہے کہ نین تارا کے بعد شاہ رخ خان کی فلم میں ثانیہ ملہوترا کی بھی اینٹری ہوگئی ہے۔

جمعہ, اگست 20, 2021

راجیو گاندھی کے یوم پیدائش پر این ایس یو آئی نے اخون عطیہ کیمپ ' منعقد کیا پورے ملک میں

راجیو گاندھی کے یوم پیدائش پر این ایس یو آئی نے اخون عطیہ کیمپ ' منعقد کیا پورے ملک میں(اردو اخبار دنیا)راجیو گاندھی کے 77ویں یوم پیدائش پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے ملک گیر سطح پر خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا۔ این ایس یو آئی قومی صدر نیرج کندن یادو کی ہدایت پر یہ عوامی فلاح کا کام انجام دیا گیا۔ تنظیم کے ذریعہ جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ نیرج کندن کی ہدایت پر این ایس یو آئی کی سبھی ریاستی یونٹس نے اپنی اپنی ریاستوں کے مختلف اضلاع میں خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس تعلق سے نیرج کندن نے کہا کہ ''ملک بھر میں خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کرنے کے لیے اس خاص دن کو منتخب کیا گیا تھا، تاکہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ این ایس یو آئی نے یہ پیش قدمی نہ صرف لوگوں کو خون عطیہ کی اہمیت کے بارے میں بیدار کرنے کے لیے کی گئی، بلکہ انھیں یہ یاد دلانے کے لیے بھی کہ وبا کے وقت میں خون عطیہ کرنا کس قدر اہم ہے۔''

 تصویر بذریعہ پریس ریلیز  تصویر بذریعہ پریس ریلیز  تصویر بذریعہ پریس ریلیز  تصویر بذریعہ پریس ریلیز

دہلی میں منعقد ایک خون عطیہ کیمپ کا کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی دورہ کیا۔ وہ این ایس یو آئی قومی صدر نیرج کندن کے ساتھ دہلی ہیڈکوارٹر کے خون عطیہ کیمپ میں پہنچے اور تنظیم کی کوششوں اور ملک بھر میں خون عطیہ کیمپ منعقد کیے جانے کی پیش قدمی کی خوب تعریف کی۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے خون عطیہ کرنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

این ایس یو آئی دہلی کے ریاستی صدر کنال سہراوت نے اس موقع پر کہا کہ ''ہم نے دہلی میں خون عطیہ کیمپ منعقد کر کے ڈھائی سو یونٹ سے زیادہ خون جمع کیا۔ خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کرنے کا ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کوئی بھی شخص خون کی کمی سے نہ مرے۔'' اس درمیان این ایس یو آئی نے وزیر اعظم کی شکل میں آنجہانی راجیو گاندھی جی کے دور اقتدار میں کیے گئے کاموں پر روشنی ڈالنے کے لیے ایک خصوصی قدم بھی اٹھایا۔ تنظیم نے راجیو گاندھی کی کارگزاریوں پر مبنی کئی ہورڈنگ دہلی میں لگوائے جس میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔


ناندیڑ:مدینتہ العلوم اسکول کے مدرس عبدالسمیع کاانتقال

ناندیڑ:20اگست۔ (اردواخبار دنیا)نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے عبدالسمیع ولد عبدالغنی عمر48سال(مدرس مدینتہ العلوم اسکول بھوکر ) کا مختصر علالت کے بعد آج بروز جمعہ اورنگ آباد میں انتقال ہوگیا۔انکا مکان بڑی درگاہ گاڑی پورہ ناندیڑمیں واقع ہے ۔

وہ عبدالوہاب، عبدالقدیر، عبدالحئی اور عبدالبشیر کے چھوٹے بھائی تھے۔ تدفین کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ادارہ ورق تازہ اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہےکہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...