Powered By Blogger

جمعرات, اکتوبر 07, 2021

بریکنگ نیوزپاکستان کے شہر ہرنائی میں شدید زلزلہ ، 20 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

پاکستان کے شہر ہرنائی میں شدید زلزلہ ، 20 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

اسلام آباد:پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں آج صبح تقریباً 03.30 بجے آنے والے شدید زلزلے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان کے جیو نیوز کے مطابق جمعرات کی صبح ہرنائی کے علاقے میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ زلزلے کی شدت کافتی تیز تھی اور آس پاس کے کئی اضلاع میں بھی نقصان ہوا ہے۔


روڑکی میں چرچ پر حملہ کی منصوبہ بند سازش کے بعد متاثرین کا بیان ' کیا ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں ؟ '

روڑکی میں چرچ پر حملہ کی منصوبہ بند سازش کے بعد متاثرین کا بیان ' کیا ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں ؟ '

اتراکھنڈ کے شہر روڑکی میں سول لائن کوتوالی علاقے میں واقع سلونی پورم میں چرچ پر حملے کا معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ متاثرین اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت انجام دیا گیا تھا اور اس کے لیے کئی دنوں سے مسیحی سماج کے لوگوں پر طنز کئے جا رہے تھے۔ چرچ سے وابستہ لوگوں نے اس بارے میں پولیس کو شکایت بھی دی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار کی مداخلت کے بعد اس واقعے کے کئی دنوں کے بعد روڑکی پولیس میں ہلچل نظر آئی اور پولیس اہلکار زخمیوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے اسپتال پہنچے۔ ذرائع کے مطابق حملہ کے پیچھے چرچ کی کروڑوں روپے کی مالیت کی زمین بھی ہے، جس پر کچھ ہندووادی رہنما قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انہوں نے مذہب کے نام پر مقامی لوگوں کو اکسا کر چرچ پر حملہ کروایا۔

عینی شاہدین کے مطابق چرچ پر پیر کی صبح 10 بجے خوفناک حملہ انجام دیا گیا۔ پرنس نامی ایک متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ اس خوفناک حملہ کو یاد کر کے وہ ابھی تک لرز رہے ہیں۔ ہندو تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں افراد نے لاٹھی ڈنڈے لے کر مسیحی سماج کے لوگوں پر حملہ کیا۔ وہ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جئے اور جئے شری رام کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی اور ہم پر حملہ کیا۔ ہم پر تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔ ہمارا سامان توڑ دیا اور ہمارے موبائل چھین لیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کیا یہاں صرف ہندو سماج کے لوگ ہی رہیں گے؟

سلونی پورم کی رہائشی پریو سانا پورٹر نے اس واقعہ کے خلاف پولیس رپورٹ درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو جانتی تھی کیونکہ وہ مقامی تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں سے ان کے خاندانی تعلقات ہیں اور ان میں سے ایک نے مجھے پڑھایا بھی ہے، لیکن نفرت نے اسے اندھا کر دیا ہے۔ ان کی قیادت بی جے پی کی یوتھ ونگ اور او بی سی شعبہ کے لیڈران کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ خاتون لیڈران بھی موجود تھیں اور حملہ آوروں کی تعداد 200 سے زائد تھی۔ وہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ اس دوران رجت، سمت پرنس اور ولسن کو بری طرح پیٹا گیا۔ رجت شدید زخمی ہے اور موت سے لڑ رہا ہے۔ وہ ہمیں مارتے رہے، ہم پولیس کو لگاتار کال کر رہے تھے لیکن پولیس ہمیں بچانے نہیں آئی۔

اتراکھنڈ کانگریس سیوا دل کے ریاستی صدر راجیش رستوگی نے بتایا کہ دراصل ہندو تنظیموں کا یہ حملہ منصوبہ بند تھا۔ اس سے قبل لکسر میں بھی تبدیل مذہب کا الزام لگا کر لوگوں سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ ادھم سنگھ نگر میں بھی ہنگامہ ہوا۔ اتراکھنڈ میں انتخابات نزدیک دیکھ کر اس طرح کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اقلیتوں پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے اور ہم متاثرہ سماج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کانگریس چرچ متاثرین کی حمایت میں امن مارچ نکانے کی تیاری کر رہی ہے۔ راجیش رستوگی نے بتایا کہ اس کا جواب ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو دینا چاہیے۔ چرچ پر جس دن حملہ ہوا اس دن وزیر اعلیٰ قریبی کنج پور علاقے میں موجود تھے۔ پولیس ان کی مہمان نوازی میں مصروف تھی لیکن وہ اقلیتی مسیحی برادری کی حفاظت نہیں کر سکے۔ اس طرح کے حملوں سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس معاملے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اب تک چرچ پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ متاثرین کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب اس معاملے میں ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اسے کویتا نامی خاتون نے درج کرایا ہے۔ یہ ایف آئی آر چرچ مینجمنٹ سے وابستہ لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔ کویتا کے مطابق، اتوار کے روز چرچ سے وابستہ لوگوں نے اسے 2 لاکھ روپے اور نوکری کی پیشکش کرتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی، جسے اس نے قبول نہیں کیا۔

چرچ سے وابستہ پرنس نے کہا کہ انہیں لگا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا ہے۔ وہ تین چار دن سے ہلچل محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ چرچ کے آس پاس گھوم رہے تھے اور ان کے چہرے کے تاثرات درست نہیں تھے۔ وہ فقرے بھی کس رہے تھے۔ ہم نے پولیس کو اس کے بارے میں بتایا تھا لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس نے اب بھی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ہمارے درجنوں ساتھی زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ چرچ انتظامیہ کے خلاف درج کیا گیا یہ مقدمہ ہماری آواز کو خاموش کرنے کے لیے ہے۔ چرچ پر حملے کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھیں۔

ایک مقامی دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاست اپنی جگہ ہے لیکن کچھ مقامی لیڈران چرچ کی زمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چرچ کے آس پاس کا علاقہ تجارتی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ چرچ 35 سال پرانا ہے، تبدیلی مذہب کی کہانی بنائی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد اتراکھنڈ کا انٹلی جنس ڈیپارٹمنٹ الرٹ ہو گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تمام گرجا گھروں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار نے اس معاملے میں سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے جبکہ مقامی پولیس نے ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔


بریکنگ نیوز با رہ بنکی میں خوفناک سڑک حادثہ ، 14 افراد ہلاک متعدد زخمی نیوز

بارہ بنکی میں خوفناک سڑک حادثہ ، 14 افراد ہلاک متعدد زخمی

بارہ بنکی: اتر پردیش کے ضلع بارابانکی کے دیوا علاقے میں آج صبح سویرے ایک بس اور ٹرک کے درمیان زبردست ٹکر میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور تقریباً 30 افراد زخمی ہو گئے۔ خبروں کے مطابق دہلی سے بہرائچ جانے والی ڈبل ڈیکر بس دیوا کے علاقے بابوریہ گاؤں کے قریب کسان شاہراہ پر مخالف سمت سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی۔

علی الصبح ہونے والا یہ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ ڈبل ڈیکر بس کے پرخچہ اڑ گئے جبکہ جس ٹرک کے ساتھ بس کا تصادم ہوا اس کی بھی حالت خراب ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حادثہ کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ ٹرک دہلی سے بہرائچ کی جانب گامزن تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق باہری رنگ روڈ کے کسان شاہراہ پر مویشی کو بچانے کے چکر میں ڈبل ڈیکر بس سامنے سے آ رہے بالو سے بھرے ٹکر سے ٹکرا گئی۔

زخمیوں کو بارہ بنکی اور لکھنؤ کے ٹراما سینٹرز میں بھیجا گیا ہے۔ زخمیوں میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر راحت اور بچاؤ مہم شروع کی۔ جی سے بی مشین منگوا کر ملبہ ہٹا کر سڑک پر ٹریفک بحال کیا جا رہا ہے۔


بریکنگ نیوزآسام واقعہ اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف کھمم میں زبردست احتجاجی ریلی

آسام واقعہ اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف کھمم میں زبردست احتجاجی ریلی

آسام میں مسلمانوں پر ظلم کے واقعات اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف تلنگانہ کے کھمم میں کل جماعتی قائدین اور سماجی وملی تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی گٸی ۔ کھمم شہر کے دھرنا چوک پر منعقدہ احتجاجی دھرنے سے شہر کھمم کے تمام علماء و مشائخین اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے آسام میں ہوے واقعہ اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں ملک کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے کی ناپاک کوشش میں لگے ہوئے ہیں آسام میں ہوے واقعہ کے خلاف خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور مولانا کلیم صدیقی کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا تمام قائدین نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے مولانا کی فوری رہائی کامطالبہ کیا


بدھ, اکتوبر 06, 2021

تبدیلیٔ مذہب کی کوششوں کو روکنے کے لیے وی ایچ پی کا بڑا مطالبہ

نئی دہلی ، 6 اکتوبر (یو این آئی) وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے حکومت ہند سے مطالبا کیا ہے کہ وہ چرچ کے پادریوں اور مشنریوں کی تبدیلیٔ نذیب کی کوششوں کو روکنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے۔وی ایچ پی کے ترجمان ونود بنسل کی طرف سے بدھ کو یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق ، وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر جین نے الزام لگایا کہ فرانس کی طرح ہندوستانی چرچ کے ذریعے لالچ، طاقت سے کیے جانے والے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب سےہندوستا ن کو آزاد کروانے کے لیے سخت قانون قانون ضروری ہے۔

انہوں نے الزام لگایا ، ’ہندوستان میں چرچ دھوکہ ، لالچ اور طاقت کے استعمال کے ذریعے تبدیلیٔ مذہب کر رہے ہیں۔ اسی طرح نن کے جنسی استحصال کے بے شمار واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ کئی نن نے خودکشی بھی کی ہے۔ چرچ کے زیر انتظام یتیم خانوں سے سینکڑوں یتیموں کو بیرون ملک فروخت کرنے کے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ شمال مشرق میں ماؤنوازوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کا الزام بھی وہاں کی ریاستی حکومتوں نے لگایا ہے‘۔

ڈاکٹر جین نے مطالبہ کیا ، ’ہندوستان میں گرجا گھروں کی تحقیقات کے لیے ’نیوگی کمیشن‘ کی طرح ایک قومی سطحی انکوائری کمیشن بنایا جانا چاہیے اور مجرموں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو فوری طور پر ایک سخت قانون بنانا چاہیے تاکہ تبدیلیٔ مذہب کو روکا جا سکے۔وی ایچ پی نے کہا ہے کہ اگر اس کے مطالبات نہیں سنے گئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرے گا اور غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب پر روک لگائے گی۔

بریکنگ نیوزوزیر اعلیٰ نے ' گنگا جل ادوہ منصوبہ ' کے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا

وزیر اعلیٰ نے ' گنگا جل ادوہ منصوبہ ' کے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا

پٹنہ06اکتوبر 2021:وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے 1انے مارگ واقع سنکلپ میں جل جیون ہریالی مہم کے تحت پینے کے پانی کے لیے'گنگا جل ادوہ یوجنا'کے کام کی پیش رفت کا جائز ہ لیا ۔
آبی وسائل محکمہ کے سیکریٹری مسٹر سنجیو ہنس نے جل، جیون، ہریالی مہم کے تحت پینے کے پانی کے لیے گنگا جل ادوہ منصوبہ کے کام کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دیا ۔ انہوں نے ہاتھیدہ ،مکامہ میں انٹیک ویل و پمپ ہائوس ، متنازع واقع ڈیٹنشن ٹینک و پمپ ہائوس ،متنازع میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ،راجگیر میں اردن ڈیم ، تیتر ریزروائر اردن ڈیم اور آبگیلہ مانپور میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے کام کی حقیقی پیش رفت کی جانکاری دی ۔ انہوں نے بتا یا کہ پہلے مرحلہ میں راجگیر ، گیا اور بودھ گیا میں اور دوسرے مرحلہ میں نوادا ،شہرکے لیے اس پانی کی فراہمی منصوبہ پر کام کیا جارہا ہے ۔ ہاتھیدہ متنازع ،تیتر ،آبگیلہ تک کل 150 کیلو میٹر کی پائپ لائن میں سے تقریبا 118 کیلو میٹر پائپ بچھانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔
آبی وسائل محکمہ کے سیکریٹری نے بتا یا کہ اصل منصوبہ کا کام مارچ 2022 تک مکمل ہو جائے گا اور پانی کی سپلائی کا کام جون 2022 تک شروع کر نے کا نشانہ رکھا گیا ہے ۔
جائزہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ راجگیر ، گیا ، بودھ گیا ، اور نوادہ میں 'گنگا جل ادوہ یوجنا'کے تحت تمام لوگوں کو صاف پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا ۔ اس منصوبہ کو مکمل کر نے کے تعلق سے جو وقت مقرر کیا گیا ہے اس نشانہ پر تیزی سے کام کریں ۔ اسپارٹ پر جاکر ایک ایک چیز کا معائنہ کریں تاکہ تمام لوگوں کو پانی کی فراہمی یقینی ہوسکے ۔ آبی وسائل محکمہ ، پبلک ہیلتھ محکمہ اور شہری ترقیات و رہائش محکمہ آپس میں رابطہ کر کے اس پر کام کریں ۔نوادہ میں بھی پانی کی سپلائی کا کام تیزی سے شروع کریں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ راجگیر میں ڈیولپمنٹ کے کئی کام کیے گیے ہیں ۔ وہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ بڑھتی آبادی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پانی کی فراہمی کے لیے منصوبہ بنا کر کام کریں ۔ پانی کی زمینی سطح کو مینٹن رکھنا ہے ، اس کے لیے لوگوں کو راغب کرتے رہیں ۔
میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر دیپک کمار ،چیف سیکریٹری مسٹر تریپوراری شرن ، ڈیولپمنٹ کمشنر مسٹر عامر سبحانی ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر چنچل کمار ، آبی وسائل محکمہ کے سیکریٹری مسٹر سنجیو ہنس ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری مسٹر انوپم کمار ، وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی مسٹر گوپال سنگھ سمیت سینئر انجینئر موجودتھے ۔


بریکنگ نیوزممتا بنرجی نے وزیر اعظم کوخط لکھا ۔ انسان ساختہ سیلاب کا مستقل حل نکالا جائے

ممتا بنرجی نے وزیر اعظم کوخط لکھا ۔ انسان ساختہ سیلاب کا مستقل حل نکالا جائےکلکتہ 6اکتوبر-وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جنوبی بنگال کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی صورت حال پر وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کہا ہے کہ مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں دامودر ویلی کارپوریشن (ڈی وی سی) کے ذریعہ جھارکھنڈ کے ڈیموں اور بیراجوں سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے سیلاب سے متاثر ہوگئے ہیں۔ مرکزی حکومت سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ممتا بنرجی نے منگل کو بھیجے گئے چار صفحات کے خط میں وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں سیلاب قدرتی آفات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ انسانی غلطی کا نتیجہ ہے۔یہ صورت حال جھارکھنڈ کے پنچیٹ اور میتھن میں ڈی وی سی ڈیموں سے "بے قابو اور غیر منصوبہ بند"طریقے سے پانی کے چھوڑے جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔4 اگست کو لکھے گئے اپنے پہلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ "میں نے اپنے پہلے خط میں بھی جنوبی بنگال میں آنے والے سیلاب کے عوامل کا ذکر کیا تھا۔سیلاب کی وجہ سے کس طریقے سے بنیادی ڈھانچے کونقصان پہنچا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ مرکزی حکومت کی افسوس ناک لاپرواہی کی وجہ سے نچلی ریاستوں میں بار بار سیلاب کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ انہیں گزشتہ خط کا کوئی جواب نہیں ملا ہے۔خط میں لکھا گیاہے کہ میں نے جو مسائل اٹھائے ہیں وہ لاکھوں زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، اور میری درخواست ہے کہ حکومت ہند مزید تاخیر کئے بغیر کچھ سنجیدہ اقدامات کرے۔ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈی وی سی انتظامیہ نے بھاری بارش کی آئی ایم ڈی کی وارننگ پر توجہ نہیں دیا۔'ڈیموں سے پانی کا اخراج کم سطح پر رکھا اور جب بھاری بارش ہوئی تو 30 ستمبر سے2 اکتوبر کے درمیان 10لاکھ ایکڑ فٹ پانی چھوڑ د گیا۔اس کے نتیجے میں جنوبی بنگال ایک ایسے وقت میں سیلاب کی زدمیں ہے جب پوجا کا موسم شروع ہوگیا ہے۔ممتا بنرجی نے اپنے خط میں میتھن اور پنچیٹ ڈیموں سے پانی چھوڑنے کی تاریخ کے حساب سے فہرست بھی دی ہے۔ممتا بنرجی نے خط میں لکھا ہے کہ یہ مسئلہ فوری طور پر قلیل مدتی اور طویل مدتی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ لوگوں کے دکھوں کو کم کیا جائے اور جان و مال کے نقصان سے بچا جا سکے۔میں آپ کی فوری مداخلت چاہتی ہوں تاکہ حکومت ہند کی متعلقہ وزارت سے درخواست کی جائے کہ وہ مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کی حکومتوں اور ڈی وی سی کے حکام سے رابطہ کرے، تاکہ ہماری ریاست کے اس مسئلے کے مستقل حل تک پہنچنے میں مدد ملے۔ اتفاقی طور پر، جنوبی بنگال کے کچھ حصے اگست کے اوائل میں سیلاب میں آگئے تھے، اور بنرجی نے الزام لگایا تھا کہ انسان ساختہ سیلاب ہے اور یہ آفت ڈی وی سی کے ذریعہ زیادہ پانی چھوڑنے کی وجہ سے سے آیا ہے۔اس کی وجہ سے16 افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں کسان متاثر ہوئے ہیں۔پچھلے ہفتے، بنرجی نے جھارکھنڈ حکومت اور ڈی وی سی کو مغربی بنگال کے جنوبی حصے میں موجودہ سیلاب کی صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔انہوں نے دعوی کیا کہ یہ جھارکھنڈ میں ڈیموں اور بیراجوں سے پانی کی غیر منصوبہ بند اور بڑھتی ہوئی اخراج کی وجہ سے آیا ہے۔بنرجی نے دعویٰ کیا کہ جھارکھنڈ کے آبی ذخائر کو پچھلے 50 سالوں سے صاف نہیں کیا گیا ے، اور بار بار آنے والے سیلاب کو روکنے کے لیے فوری بنیادوں پر ڈیموں اور بیراجوں کی کھدائی نہیں کی گئی توہم بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...