Powered By Blogger

ہفتہ, اکتوبر 30, 2021

مغربی بنگال : پٹاخوں کے استعمال اور فروختگی پرہائی کورٹ نے لگائی مکمل پابندی

مغربی بنگال : پٹاخوں کے استعمال اور فروختگی پرہائی کورٹ نے لگائی مکمل پابندی

کولکاتہ:مغربی بنگال میں اس دیوالی پٹاخے نہیں پھوڑے جاسکیں گے ۔ دراصل ریاست میں پٹاخوں کی فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندی دیوالی، کالی پوجا، چھٹھ پوجا، کرسمس اور نئے سال پر بھی جاری رہے گی۔ جمعہ کو کولکاتہ ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں ایک حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرونا وبا کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ریاستی حکومت نے دیوالی، چھٹھ اور کالی پوجا پر دو گھنٹے تک آتش بازی کی اجازت دی تھی۔ وہیں کرسمس اور نئے سال پر 35 منٹ تک آتش بازی کی اجازت دی تھی ۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ صرف گرین پٹاخے ہی پھوڑے جاسکیں گے۔ اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے پٹاخوں پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے مغربی بنگال میں پٹاخوں کی فروخت اور استعمال پر نئے سال تک کیلئے مکمل طور پر پابندی لگا دی ہے۔


تری پورہ میں مسلمانوں پرہورہے مظالم کے خلاف پاپولرفرنٹ آف انڈیاکاسخت احتجاج

تری پورہ میں مسلمانوں پرہورہے مظالم کے خلاف پاپولرفرنٹ آف انڈیاکاسخت احتجاجممبئی (بی این ایس)گذشتہ کچھ دنوں سے ریاست تریپورہ میں مسلمانوں پر، اُن کی عبادت گاہوں پر اور اداروں پر ہندو شر پسند عناصر کی جانب سے مسلسل ہتھیار بند حملے ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک کئی لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ کئی مسجدوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔ توڑ پھوڑ کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مسلم مرد و خواتین پر ناروا تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ انھیں ہراساں کرنے کے لیے زبردستی ان کے گھروں پر بھگوا جھنڈے لہرائے جا رہے ہیں۔ کئی مساجد میں خنزیر کا گوشت ڈالا گیا ہے۔ کئی علماء اور ائمہ کو بھی تشدد کا شکار بنایا گیا ہے۔ لیکن اب تک حکومت کوئی کارروائی کرنے اور بھگوا دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ہندو شر پسند عناصر کا بلاخوف، قانون اپنے ہاتھ میں لے کر، اس طرح قتل وغارت گری کا بازار گرم کرنا ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ جس کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرکے مسلم نسل کشی کے سنگھی ایجنڈے کو پورا کرنا ہے۔ ایک جمہوری ملک میں اس طرح کی غنڈہ گردی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔اس پس منظر میں 29 / اکتوبر 2021 بروز جمعہ کو جمعہ کی نماز کے بعد پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی جانب سے عروس البلاد ممبئی میں باندرہ، کرلا، ممبرا، چیتا کیمپ اور دیگر مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا، جس میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے مطالبہ کیا کہ سرکار تریپورہ میں ہونے والے ظلم وستم اور فرقہ پرستی کے خلاف مضبوط قدم اٹھائے ۔چیتا کیمپ میں منعقد احتجاج کے دوران پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے ذمہ دار جناب عبد الرحمن صاحب نے تمام ہندوستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک پیغام دیا کہ اقتدار میں موجود ہندوتوا فسطائی طاقتیں جس طرح سے ہمارے وطن عزیز کی گنگا جمنی تہذیب، دستور اور آئین ہند کو نیست و نابود اور اس کا گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں، ہم وطن عزیز ہندوستان کی عوام مل کر اور متحد ہو کر دستور اور آئین ہند کی حفاظت کریں گے اور ہندوتوا فسطائی طاقتوں کے ناپاک نظریے کو ناکام بنائیں گے۔ انشاءاللہ

بہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ:درجہ وسطانیہ کے فارم بھرنے کی توسیعی تاریخ کا اعلان!

بہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ:درجہ وسطانیہ کے فارم بھرنے کی توسیعی تاریخ کا اعلان!


درجہ وسطانیہ ایویلیوشن 2022 کے فارم بھرنے کی تاریخ میں 07نومبر2021 تک توسیع کردی گئی ہے۔ تمام ملحقہ مدارس کے پرنسپل ؍ صدرمدرس ؍ طلبا وطالبات اور گارجین حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ درجہ وسطانیہ ایویلیوشن 2022 کا آن لائن فارم بھرنے کی تاریخ میں 07نومبر2021 تک توسیع کی جاتی ہے۔

آن لائن فارم بھر نے کے لیےنیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں!
www.bsmeb.org

متعین وقت کے درمیان بذاتِ خود فارم بھرنا یقینی بنائیں!


جمعہ, اکتوبر 29, 2021

گرگاؤں میں کھلے مقام پر نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل پھرحالات خراب کرنے کی کوشش

گرگاؤں میں کھلے مقام پر نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل پھرحالات خراب کرنے کی کوشش

گرگاؤں: دہلی کے قریب ہریانہ کے گرگاؤں کھلے مقام پر نماز جمعہ کی ادائیگی سے عین قبل ہندو تنظیم سے وابستہ افراد نے پھر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس اگرچہ جمعہ کے روز مجموعی طور پر 37 مقامات پر نماز ادا کرنے کی اجازت فراہم کی ہے تاہم یہ تنظیم گزشتہ 5 ہفتوں سے لگاتار ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ آج جمعہ کے روز جیسے ہی نماز کا وقت ہوا تنظیم کے ارکان نماز کے مقام پر پہنچ کر ہنگامہ کرنے لگے۔ پولیس نے ان میں سے 13 افراد کو حراست میں لیا ہے۔


"قرآن پاک کی اردو تفاسیر" :ایک مطالعہانوار الحسن وسطوی

"قرآن پاک کی اردو تفاسیر" :ایک مطالعہ
انوار الحسن وسطوی 
_______________________________________
 زیر مطالعہ کتاب کے مصنف ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی ہیں جن کا تعلق سرزمین بہار کے ایک مشہور و معروف علمی خانوادے سے ہے- محترم ڈاکٹر طلحہ رضوی برق قبلہ مد ظلّہ العالی کو کون نہیں جانتا- ڈاکٹر حیدر رضوی صاحب حضرت موصوف کے برادر عزیز ہیں- ڈاکٹر حیدر رضوی کی مذکورہ تصنیف دراصل ان کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس پر انھیں 2008 میں  پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ - ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی تھی- اس تحقیقی مقالے کے نگراں ڈاکٹر ذکی الحق مرحوم و مغفور شعبہ اردو بی این کالج پٹنہ مقرر ہوئے تھے لیکن ان کے انتقال فرما جانے کے سبب ڈاکٹر خواجہ افضل امام شعبہ فارسی پٹنہ کالج کے زیر نگرانی یہ مقالہ پایہ تکمیل کو پہنچا- کتابی شکل میں یہ مقالہ 2018 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے جو 392 صفحات پر مشتمل ہے- ڈاکٹر حیدر رضوی نے اپنی اس تصنیف کا انتساب اپنے والدین سید شاہ سراج الدین رضوی مرحوم و بی بی وسیع النساء مرحومہ کے نام کیا ہے-
 زیر تذکرہ کتاب "قرآن پاک کی اردو تفاسیر" پانچ ابواب پر مشتمل ہے-" باب اول" میں تمہیدی کلمات کے طور پر تفسیر کی تعریف، اس کی ضرورت اور اس کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے - "باب دوم" فارسی تفاسیر سے متعلق ہے، گرچہ یہ مقالہ کا موضوع نہیں ہے مگر پس منظر کے طور پر اس کا ذکر ناگزیر اس لیے تھا کہ قرآن پاک کے ترجمے اور تفسیر کی پہلی کوشش جس زبان میں کی گئی وہ فارسی ہے-" باب سوم" میں اردو زبان کی پیدائش اور اردو ادب کے ارتقائی سفر کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ان اردو تفاسیر کا ذکر کیا گیا ہے جو یا تو جزوی طور پر ہیں یا پھر مکمل صورت میں ہیں - جزوی تفاسیر وہ ہیں جن میں مختلف سورتوں اور آیات کریمہ کی تفسیر یں ہیں جن کی تعداد 44 بتائی گئی ہے اور تفصیلی تفسیریں وہ ہیں جو مکمل تیس پاروں پر مشتمل ہیں - ان مکمل تفاسیر کی تعداد37 شمار کرائی گئی ہے - اس باب کی خصوصیت یہ ہے کہ تمام تفاسیر کا مختصر تعارف بھی بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے- اس باب کے مطالعے سے مصنف کے دقت نظر، وسعت مطالعہ اور  ذوق تحقیق کی داد دینی پڑتی ہے-" باب چہارم" میں ہندوستان کے جن سات ممتاز معروف مفسرین کرام کے احوال و آثار کا مفصل ذکر کیا گیا ہے ان کے اسمائے گرامی ہیں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ثناء اللہ امرتسری، سرسیداحمدخان، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ابوالاعلی مودودی اور مولانا محمد شفیع- ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی نے مذکورہ شخصیات کی تفسیری خدمات کے مفصل بیان کے ساتھ دوسرے میدان عمل میں بھی ان کی نمایاں خدمات کا نہ صرف ذکر کیا ہے بلکہ ان کے سوانحی حالات کے ساتھ ساتھ ان کے امتیاز، ان کی انفرادیت اور ان کی علمی، ادبی،تحریری اور تقریری صلاحیت کو بیان کرتے ہوئے ان کے تعلق سے سیر حاصل گفتگو کی ہے - کتاب کے اس باب کا مطالعہ مذکورہ تمام شخصیتوں کو سمجھنے اور جاننے کا بہترین وسیلہ ہے - یہ تحریریں قاری کے علم میں اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں - اس باب کی دوسری اور ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے مذکورہ شخصیات کے تعارف اور ان کی خدمات کے ذکر میں مسلکی عینک کا استعمال نہیں کیا ہے اور اظہار بیان میں مکمل دیانت داری اور وسیع النظری کا مظاہرہ کیا ہے - مصنف موصوف کا یہ عمل قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی- " باب پنجم" اس مقالے کا آخری باب ہے جسے "ماحصل" بھی کہا جا سکتا ہے- اس باب میں تفسیر کی مذہبی ادبی اور لسانی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے- کتاب کے آخر میں ان کتابوں، اخبارات و رسائل کی فہرست درج ہے جن سے مقالے کی ترتیب میں مدد لی گئی ہے-
   کتاب کے آغاز میں بعنوان" پیش آہنگ" (از :پروفیسر طلحہ رضوی برق)" تقریظ" (از: ڈاکٹر پروفیسر حبیب المرسلین شیدا، پٹنہ یونیورسٹی) اور" افتتاحیہ" (از :ڈاکٹر لیاقت علی خان، یو پی) تین پر مغزاور بصیرت افروز تحریریں شامل کتاب ہیں جن کے مطالعے سے جہاں ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی کی زیر تذکرہ کتاب کو بنظر غائر پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے وہیں ان تحریروں کے مطالعے سے علم و بصیرت کے کئ دریچے بھی وا ہوتے ہیں- قارئین کی دل چسپی کے لیے مذکورہ تحریروں سے اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:-
* "اس گراں قدر مقالے کے مصنف میرے برادر عزیز ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی مدعمرہ ہیں - الحمد اللہ کی یہ مقالہ اپنی گوناگوں تحقیق کی خصوصیات اور لسانی خوبیوں کی وجہ سے بے نظیر ہے- ہر چند تحقیقی دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا اور مزید تحقیق کے امکانات و مواقع باقی رہتے ہیں - مصنف موصوف نے بڑی محنت، تلاش و جستجو اور عمیق مطالعے کے بعد اپنی تحقیقات کو خوبصورتی سے مرتب کیا ہے - "
(پروفیسر طلحہ رضوی برق-ص:16)
* " یہ مقالہ چونکہ بلاامتیاز مسلک و مذہب اور عقائد ہر مکتب فکر کے مفسرین کی لکھی ہوئی تفاسیر کا جامع ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ پیش نظر "قرآن پاک کی اردو تفاسیر" کا مطالعہ مختلف مذہبی اور فرقوں کے افکار و آراء کو سمجھنے کا اچھا اور موثر ذریعہ ہے اور اسے دین کے مختلف مذہبی گروہوں کے افکارو آراء اور معتقدات کے مطالعے کا اچھا وسیلہ قرار دیا جا سکتا ہے-"
( ڈاکٹر پروفیسر حبیب المرسلین شیدا - ص:23-24)
* " جناب ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی صاحب کا "قرآن پاک کی اردو تفاسیر" پر تجزیاتی مضمون(Thesis) اردو داں طبقے کے لیے بڑا ہی نادر اور قابل ستائش قدم ہے - محترم مصنف کو یا کسی اور کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اسی طرح کی مزید کوشش دوسری ہندوستانی (ملکی) زبانوں میں بھی ہو تا کہ قرآن پاک جو کہ بلاغ للناس ہے، اس کا حق ادا ہوسکے-"
( ڈاکٹر لیاقت علی خاں- ص، 31)
  ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی نے اپنی گراں قدر قابل تعریف اور قابل رشک تحقیقی کاوش کو اپنی کم علمی اور بے بضاعتی پر محمول کرتے ہوئے نہایت عاجزی اور خاکساری کے ساتھ تحریر فرمایا ہے:
" 'الانسان مرکب من الخطا والنسیان' کے مصداق میں بھی ایک انسان ہوں- اپنی کم علمی و بے بضاعتی کا احساس و اعتراف کرتے ہوئے 
حتی الامکان میں نے کوشش کی ہے کہ اس تحقیق میں کوئی تشنگی باقی نہ رہے - پھر بھی اہل علم وہ ارباب نظر سے چشم عطا و عفوخطا  کا امیدوار ہوں-"
(" عرض مؤلف" ص:43")
 ڈاکٹر سید شاہ حیدر رضوی کی پیش نظر تصنیف "قرآن پاک کی اردو تفاسیر" اردو زبان میں تفسیری خدمات کا بہترین جائزہ ہے - یہ کتاب نہ صرف دینی نقطہ نظر سے استفادے کی چیز ہے بلکہ اس کی ادبی و لسانی حیثیت بھی مسلم ہے- اس کتاب کے ذریعے شروع سے ابھی تک اردو میں لکھی گئی تفسیروں سے جہاں قاری کی واقفیت ہوتی ہے وہیں اردو زبان کی پیدائش اور اس کے ارتقاء کے تعلق سے بھی قاری کے علم میں اضافہ ہوتا ہے- اس کی یہ کاوش دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے قابل قدر اور قابل ستائش ہے - میں دل کی عمیق گہرائیوں سے مصنف موصوف کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی صحت و تندرستی کے ساتھ ان کی درازئ عمر کی بھی دعا کرتا ہوں- اس گراں قدر اور قابل استفادہ کتاب کی قیمت 450 روپے ہے جسے سید فرحان رضوی، نواب کوٹھی، نزد گرلس آئی ٹی آئی (گیٹ نمبر 97) دیگھا، پٹنہ - 11 اور "بک امپوریم" اردو بازار، سبزی باغ، پٹنہ- 4 سے حاصل کیا جا سکتا ہے -کتاب کے تعلق سے مزید معلومات کے لئے مصنف کے موبائل نمبر 9708978329 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے -

تری پورہ میں مسلمانوں اورمسجدوں پرحملہ قابل مذمت : انیس الرحمن قاسمی

تری پورہ میں مسلمانوں اورمسجدوں پرحملہ قابل مذمت : انیس الرحمن قاسمیپھلواری شریف (پریس ریلیز)
تری پورہ میں مسلمانوں کے گھروں اورمسجدوں پرہونے والے حملوں کی شدیدمذمت کرتے ہوئے آل انڈیاملی کونسل کے قومی نائب صدرمولاناانیس الرحمن قاسمی نے اسے سرکارکی ناکامی بتایااورکہاہے کہ اقلیتوں کوتحفظ دینا،ان کے عبادت خانوں اورگھروں کی حفاظت کرناتری پورہ سرکارکی بنیادی ذمہ داری ہے،مولاناقاسمی نے کہا کہ پچھلے کئی دنوں سے لگاتارتری پورہ میں مسلمانوں پرحملہ کیاجارہاہے،ان کے گھروں کاتوڑاجارہاہے،قرآن کریم کی بے حرمتی کی گئی ہے،ان کونقصان پہنچایاگیا ہے جوبے حدشرمناک ہے،مرکزی سرکارکوچاہیے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت کویقینی بنائے اورجس طرح بھارت میں لگاتارمسلمانوں پرحملہ ہورہاہے،ماب لنچنگ کی جارہی ہے،مسلمانوں کافرضی انکاؤنٹرکیاجارہاہے،مسلمانوں کوجیلوں میں بندکیاجارہاہے،جوسرکار کی ناکامی ہے، مولاناقاسمی نے اپیل کی ہے کہ سرکاراپنی ذمہ داری اداکرے، ملک کے ماحول کوپرامن بنائے،اقلیتوں کومحفوظ کرے اوران پرہونے والے لگاتارحملوں کوروکے اورجولوگ اس طرح کے حملوں میں ملوث ہیں،انہیں عبرتناک اورسخت سزادی جائے اورمساجدکی ازسرنوتعمیرکرائی جائے اورتباہ گھروں کامکمل معاوضہ دیاجائے۔مولانانے کہاکہ آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرمحمدمنظورعالم نے ان واقعات پرمذمت کرے ہوئے ان کی اعلیٰ سطحی جانچ کرانے کا مظلومین کی دادرسی کے لیے حکومت سے معاوضہ کامطالبہ کیا،نیزمرکزی حکومت سے ریاستی حکومت پرگرفت کرنے کامطالبہ کیا،انہوں نے حامی پولیس والوں کے خلاف بھی کاروائی کامطالبہ کیا۔

انتخاب کے بعد امراء شریعت کے احساسات وخیالاتمفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

انتخاب کے بعد امراء شریعت کے احساسات وخیالات
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
عبد الرحیم دربھنگہ وی
اسلام میں عہدے اور منصب کا تعلق نہ تو روایتی جاہ وحشم سے ہے اور نہ ہی حکمرانی اور ملوکیت سے ، یہاں عہدہ کا مطلب ذمہ داری اور فرائض کی ادائیگی کا وہ احساس ہے جو انسان کو قوم کا خادم بنا دیتا ہے ، اسی وجہ سے سید القوم خادمہم کہا گیا ہے۔  امارت شرعیہ کے سارے امراء کے احساسات انتخاب کے بعد یہی تھے اور سب نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ ایک ذمہ داری ہے ، جس کی ادائیگی کے لیے اللہ رب العزت سے دعا بھی کرنی چاہیے اور مسلمانوں کو سمع وطاعت کے جذبہ سے تعاون بھی کرنا چاہیے، اس کے بغیر اس اہم منصب کی ذمہ داری کا ادا کرنا عملا ممکن نہیں ہے، یہ احساس ذمہ داری اس قدر حاوی ہوتا تھا کہ عوام بھی یہ مان کر چلتی تھی کہ یہ عہدہ ایک آزمائش ہے، اب تو عہدہ ملنے پر مبارکبادی دی جاتی ہے اور ہر چھوٹا بڑا اس میں سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ ماضی میں متعلقین تعزیت اور پُر سہ کے لیے جاتے تھے کہ اب آزمائشیں اس شخص پر بارش کی طرح نازل ہوں گی وہ دعا کرتے تھے کہ اللہ عزم وحوصلہ اور استقامت سے نوازے۔
 امارت شرعیہ کے امراء شریعت بھی انتخاب کے بعد ان ہی احساسات کے حامل تھے، انہوں نے اپنے پہلے خطاب یا احکام میں واضح کر دیا کہ امارت شرعیہ کی کشتی کو کس طرح آگے بڑھانا ہے، اس کے حدود وقیود کیا ہوں گے اور کن اصول وضوابط کے ساتھ کام کرنا ہے ، چنانچہ پہلے امیر شریعت حضرت مولانا سید شاہ بدر الدین قادری ؒ پہلے تو اس ذمہ داری کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے تھے، لیکن لوگوں کے اصرار خاص کر قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری ؒ کے کہنے سے اس عہدہ کو قبول کیا۔ ۱۹؍ شوال ۱۳۳۹ھ کو امارت شرعیہ کا قیام اور امیر کا انتخاب ہوا تھا، دوسرے دن حضرت امیر شریعت اول نے اپنے پہلے فرمان میں لکھا کہ 
’’تمام مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ امارت کا مقصد کیا ہے ؟ خدمت وحفاظت اسلام ، بقاء عزت وناموس دین، اجراء احکام شرعیہ جو بجز اجتماعی قوت کے ممکن نہیں ہے ، ان مقاصد ومصالح شرعیہ کو پیش نظر رکھ کر میں اسی نوع کے احکام جا ری کروں گا، جس سے حیات اجتماعی کو تعلق ہو اور وہ ایسے احکام ہوں گے جو مسلمانوں کی کسی جماعت کے خلاف نہ ہوں۔‘‘
 آگے لکھتے ہیں:  آج میں محسوس کرتا ہوں کہ میری ذمہ داریاں کسی قدر بڑھ گئی ہیں ، ہمارا فرض ہوگا کہ کسی مسلمان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہونچے‘‘ (دینی جد وجہد کا روشن باب)
امیر شریعت اول کے وصال کے بعد ۹؍ ربیع الاول ۱۴۴۳ھ کو حضرت مولانا سید محی الدین قادری ؒ امیر شریعت ثانی منتخب ہوئے، انتخابی اجلاس میں ہی بحیثیت امیر شریعت آپ نے اپنے قیمتی اور کلیدی خطاب میں فرمایا:
’’حضرات! آج آپ نے جو بار اور بوجھ میرے سر ڈالا ہے، میں ہرگز اس کو اٹھانے اور بر داشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہوں، لیکن جب آپ حضرات اتفاق رائے سے مجھ پر یہ بار ڈال رہے ہیں تو میں صرف اس لیے کہ میرے انکار سے تفرقہ کا خوف ہے، مجبور ہو کر قبول کرتا ہوں، آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح آپ نے میرے سراتنا بڑا بوجھ ڈالا ہے، اپنے سر بھی ڈال لیا ہے، یعنی آپ نے مجھ کو اپنا سردار تسلیم کر لیا ہے تو میری تمام خدمات کا دارو مدار آپ کے سمع وطاعت پر ہے ، آپ حضرات سمع وطاعت سے میری مدد کریں تو یقین کیجئے کہ آپ کے لیے دین ودنیا کی بھلائی حاصل ہوگی۔(محی الملۃ والدین ۴۹)
تیسرے امیر شریعت کا انتخاب ڈھاکہ میں ۲۶؍ جون ۱۹۴۷ء کو ہوا ، امیر شریعت کی حیثیت سے مولانا سید شاہ قمر الدین ؒ کا انتخاب عمل میں آیا، دوسرے روز رات کے اجلاس میں ۲۷؍ جون کو آپ پٹنہ سے ڈھاکہ تشریف لے گیے، اجلاس عام سے خطاب بھی فرمایا ؛ لیکن بد قسمتی سے جس طرح قیام امارت کے موقع سے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریر ضبط تحریر میں نہیں لائی جا سکی ، ویسے ہی امیر شریعت ثالث کے خطاب کا کوئی حصہ یا تو محفوظ نہیں رہا یا میرے مطالعہ میں نہیں آیا، چوتھے امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ کا انتخاب ۲۴؍ مارچ ۱۹۵۷ء کو مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ میں عمل میں آیا، انتخاب کے چوتھے روز ۲۷؍ مارچ ۱۹۵۷ء کو دفتر تشریف لائے اور مختصر معائنہ کے بعد کتاب الاحکام میں لکھا: 
’’امارت شرعیہ ہر طبقہ اور ہر خیال کے مسلمانوں کا مشترک ادارہ ہے ، جس کا مقصد بنیادی عقیدہ کی وحدت پر مسلمانوں کی شرعی تنظیم ہے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، مسلمانوں میں ممکن حد تک اسلامی احکام جاری ہوں، اور مسلمان اس ملک میں اسلامی زندگی گذار سکیں، ظاہر ہے کہ یہ مقصد عظیم تعصب ، تنگ نظری ، پارٹی بندی اور اپنے مسلک سے ہٹے ہوئے لوگوں پر طعن وتشنیع کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔‘‘آگے لکھتے ہیں۔
’’ ایسا طریقۂ کار اختیار کریں کہ مختلف مسلک اور خیال کے ادارے اور اشخاص ، مقصد عظیم کے لیے امارت شرعیہ کے گرد یہ حسن ظن رکھتے ہوئے جمع ہو سکیں کہ یہاں ان کی انفرادیت پر حملے نہ ہوں گے اور نہ ان کو مشتبہ نگاہوں سے دیکھا جا ئے گا۔ (دینی جد وجہد کا روشن باب) 
حضرت امیر شریعت رابع کے ۱۹۹۱ء میں انتقال کے بعد مولانا عبد الرحمن صاحب پانچویں امیر شریعت منتخب ہوئے، امیرمنتخب ہونے کے بعد جو آپ نے پہلا خطبہ دیا ، اس میں فرمایا: 
’’آج کے نازک حالات میں مسلمانان بہار واڈیشہ کی امارت کے منصب کی جو بھاری ذمہ داری اس حقیر پر عائد کی گئی ہے، میں اس کی نزاکت کومحسوس کرتا ہوں، اور اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے کمزور بندے کو قوت اور ہمت عطا فرمائے، اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، میں اپنی طاقت بھر اس کے لیے کوشاں رہوں گا کہ اللہ کے احکام کی تنفیذ اور حضور اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو جاری کرنے کی راہ میں سلف اور خاص کر پچھلے چاروں امراء شریعت اور بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ کی روش پر چلتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ جملہ برادران اسلام بلا لحاظ اختلاف ومسلک وخیال ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر اللہ کے دین کی حفاظت کی راہ میں اس حقیر کے ساتھ تعاون کریں گے ۔ ‘‘ (نقیب ۸؍ اپیل ۱۹۹۱ئ) 
امیر شریعت خامس کے انتقال کے بعد چھٹے امیر شریعت کی حیثیت سے مولانا سید نظام الدین صاحب کا انتخاب ہوا، حضرت نے امت مسلمہ کے نام اپنے پہلے پیغام میں لکھا: 
’’یکم نومبر ۱۹۹۸ء کو مجلس ارباب حل وعقد کا اجلاس ہوا اور اس نے اتفاق رائے سے امیر شریعت سادس کی حیثیت سے میرا انتخاب کیا اور ایک بڑی ذمہ داری میرے کمزور کاندھوں پر ڈال دی ہے ، میں اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فیصلہ سمجھتا ہوں اور اس کی بار گاہ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس عظیم منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی توفیق واستطاعت فرمائے۔‘‘
 حضرت نے لکھا : ’’بحیثیت امیر شریعت اس موقع پر یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ امارت شرعیہ جس طرح اب تک اسلاف کے طریقہ پر چلتی رہی ہے آئندہ بھی اس روش پر گامزن رہے گی ۔ ‘‘ (نقیب ۲۳؍ نومبر ۱۹۹۸ئ)
چھٹے امیر شریعت کے وصال کے بعد ساتویں امیر شریعت کی حیثیت سے مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کا انتخاب ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۵ء کو دار العلوم رحمانی زیرو مائل ارریہ میں عمل میں آیا، اس موقع سے آپ نے مجلس ارباب حل وعقد کے ارکان سے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا : 
’’آپ حضرت نے جو ذمہ داری میرے سپرد کی ہے وہ بہت ہی نازک اور اہم ہے، اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے اللہ کے فضل کے علاوہ آپ حضرات کی مضبوط ، مستحکم اور مربوط معاونت کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ امارت شرعیہ کے کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے یہاں موجود آپ تمام حضرات اور بہار اڈیشہ جھارکھنڈ کی عوام کا مجھے اور امارت شرعیہ کو مکمل تعاون ملے گا۔‘‘
حضرت نے فرمایا : لوگوں پر تبصرہ کرنے سے پہلے ہم خود اپنا محاسبہ کریں، اس لیے کہ شخصیتیں بہت مشکل سے بنتی ہیں اور آسانی سے پگھل جاتی ہیں، اگر شخصیتوں اور اداروں کی حفاظت کریں گے تو ہم مضبوط ہوں گے ۔ (نقیب۷؍ دسمبر ۲۰۱۵ئ)
ان تمام امراء شریعت کے پہلے احساسات وخیالات کو طویل اقتباس کے ساتھ نقل کر کے یہ بتانا مقصودہے کہ امیر شریعت کا منصب عہدہ نہیں ایک ذمہ داری ہے ، سارے امراء شریعت نے اس کا اظہار کیا ہے، سمع وطاعت پر بھی زور دیا ہے، یہ دو طرفہ معاملہ ہے اور اسی میں امارت شرعیہ کی ترقی کا راز مضمر ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...