Powered By Blogger

بدھ, نومبر 17, 2021

وسیم رضوی کے خلاف چوک کوتوالی میں مولانا کلب جواد نے درج کرائی ایف آئی آر

وسیم رضوی کے خلاف چوک کوتوالی میں مولانا کلب جواد نے درج کرائی ایف آئی آر

شاتم رسول اور دشمن قرآن مجید وسیم رضوی کے خلاف مولانا سید کلب جواد نقوی نے مختلف علما کے ساتھ آج لکھنو کے چوک کوتوالی میں ایف آئی آر کے لیے تحریر دی۔ مولانا نے کوتوالی میں دی گئی تحریر میں کہا ہے کہ وسیم ملعون جس پر پہلے سے ہی مختلف سنگین دفعات کے تحت مختلف شہروں میں مقدمات درج ہیں، اب اس نے 'محمد' نامی کتاب لکھ کے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے۔

اس نے کتابچہ میں ایسی باتیں تحریر کی ہیں جو خلاف واقعہ، فحش،اشتعال انگیزاور تاریخی حقائق سے عاری ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے اور ملک میں فساد و خونریزی پھیلانے کے لیے اس کتابچہ کواپنے ساتھیوں کے ذریعہ لکھا ہے۔ اس نے کتابچہ کے سرورق پرپیغمبر اسلام کی تصویر دی ہے جب کہ آج تک پیغمبر اسلام کی تصویرنہیں بنی اور نہ بنائی گئی۔ اس نے اپنے شرپسند ساتھیوں کے تعاون سے ایسا کیا ہے جو اس کی بدعنوانیوں اور فتنہ و فساد کی کوششوں میں برابر کے شریک ہیں۔ پیغمبر اسلام کی تصویر کے ساتھ بھی اشتعال انگیز اور فحش تصویر شائع کی گئی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچی ہے۔ اس نے حضرت محمد مصطفیٰ کی ذات والا صفات پر طرح طرح کی تہمتیں رکھی ہیں جن سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مولانانے لکھا کہ اس کتابچہ کی بنیاد پرہمارے ملک ہندوستان کی عالمی سطح پر بہت بدنامی ہورہی ہے۔ خاص طورپر مسلمان ممالک جن کے ہندوستان سے گہرے روابط ہیں، اس کتابچہ کی بنیاد پر ان ممالک سے ہمارے روابط متاثر ہوں گے۔ اس لیے اس کتابچہ پر فوراً پابندی عائد کی جائے اور بازار میں اس کی کاپیاں فروخت ہونے سے روکی جائیں۔ ساتھ ہی ملعون وسیم رشدی کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور اسے گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے۔

مولانانے لکھا ہے کہ اس سے پہلے وسیم قرآن مجید کی اہانت بھی کرچکا ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ وسیم نے پیغمبر اسلام کی نازیبا تصویر شائع کی ہے اور کتابچہ میں قابل اعتراض، فحش، اشتعال انگیز اور جھوٹے حقائق درج کئے ہیں تاکہ ملک میں فتنہ و فساد کو ہوا دی جا سکے۔ اس لیے اس پر فوری کاروائی کی جائے۔ اس کے ذریعہ لکھے گئے کتابچہ کو فوراً ضبط کیا جائے اور اس پر پابندی عائد کی جائے۔ ساتھ ہی وسیم اور اس کے شرپسند ساتھیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے جیل بھیجا جائے

اترپردیش : للت پورمیں ہندوبرادری کی آپسی لڑائی کوہندوبنام مسلم کرنے کی کوشش ناکام للت پور ( ایجنسی )

اترپردیش : للت پورمیں ہندوبرادری کی آپسی لڑائی کوہندوبنام مسلم کرنے کی کوشش ناکام للت پور ( ایجنسی )

اتر پردیش کے للت پور میں ہندو برادری کے دو گروپوں کے درمیان آپسی جھگڑے کےبعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔ ہندو تنظیم کےلوگوں پر مسلم برادری کےلوگوں کو ان کے مکانوں کو اور اسلامی جھنڈے کو نشانہ بنا کر ماحول خراب کرنے کا الزام ہے ۔ واقعہ سے جڑی کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جو اب سوشل میڈیاپر خوب وائرل ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ایک ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ کچھ لوگ ' جے شری رام' کا نعرہ لگاتے ہوئے توڑ پھوڑ کر رہے ہیں اور اسلامی جھنڈے کو نشانہ بنا رہےہیں۔ ان لوگوں میں پولیس کا بھی کوئی خوف نظر نہیں آر ہا ہے ۔ ہندو تنظیموں کے لوگوں پر مسلم برادری کے لوگوں کو ان کے مکانوں کو اوراسلامی جھنڈے کو نشانہ بنا کر ماحول خراب کرنے کا الزام ہے۔ یہ معاملہ کوتوالی للت پور کے ماتحت گووند پورا علاقہ کا ہے۔

بگڑتے ہوئے ماحول کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں پولیس فورس کو موقع پر تعینات کیا گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع انتظامیہ اور پولیس نے سخت مشقت کے بعد کسی طرح معاملہ پر قابو پالیا۔

للت پور پولیس نے اپنے بیان میں کہا، ''ایک پرانے تنازع پر ایک ہی برادری (ہندو برادری) کے دو فریقوں کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔ فریقین سے تحریری کارروائی کے بعد پیشگی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ مناسب پولیس فورس موقع پر موجود ہے، امن و امان برقرار ہے۔''

منگل, نومبر 16, 2021

بہار کی عوام کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے دیا جھٹکا ، بس کرایہ میں اضافہ

بہار کی عوام کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے دیا جھٹکا ، بس کرایہ میں اضافہ

پہلے سے مہنگائی اور خوردنی اشیاء کی بڑھی قیمتوں سے پریشان بہار کے لوگوں کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے نتیش حکومت نے بسوں کے سفر کو بھی مہنگا کر دیا ہے۔ ریاستی ٹرانسپورٹیشن محکمہ نے بسوں کے کرایہ میں 67 فیصد تک کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس درمیان بجلی بھی مہنگی ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریاستی ٹرانسپورٹیشن محکمہ کے افسر نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد بس کے کرایہ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن محکمہ کے ذریعہ بسوں کے کرایہ میں 67 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کو عوامی مقامات پر بسوں کا کرایہ ظاہر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گزشتہ مرتبہ 6 اکتوبر 2018 کو بسوں کا کرایہ بڑھایا گیا تھا۔

بہار ٹرانسپورٹیشن محکمہ کے سکریٹری سنجے کمار اگروال نے پیر کو اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ متعلقہ علاقائی ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی 15 دنوں میں بنیادی کرایہ اور فی کلو میٹر ے مطابق ایک جگہ سے دوسری جگہ کا نیا کرایہ جاری کرے گا۔ اسی کے ساتھ ریاست میں مسافر کرایہ میں اضافہ کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

دوسری طرف نئے سال میں ریاستی عوام کو بجلی کے لیے بھی زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑ سکتی ہیں۔ بجلی کمپنیوں کی طرف سے بہار الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کو سونپی گئی عرضی میں بجلی کی شرحوں میں 10 فیصد اضافہ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کمیشن اب اس پر عوامی سماعت کے بعد نئی شرحیں طے کرے گا جو اگلے سال یکم اپریل سے نافذ ہوں گی۔

بتایا جاتا ہے کہ بجلی فراہمی کے خرچ میں ہوئے اضافہ کے بعد کمپنی نے سبھی درجات میں تقریباً 10 فیصد بجلی کی شرح بڑھانے کی گزارش کی ہے۔ شہری اور گھریلو صارفین کے سلیب کو تین کی جگہ دو کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں صفر سے 100 یونٹ کو ختم کر 200 یونٹ کا پہلا سلیب اور 200 یونٹ سے زیادہ کا دوسرا سلیب طے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، پٹنہ کا اعلان :درجہ وسطانیہ، فوقانیہ، مولوی

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، پٹنہ کا اعلان :درجہ وسطانیہ، فوقانیہ، مولوی


تمام ملحق مدارس کے پرنسپل صدر مدرس طلبا و طالبات اور گارجین حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ درجہ فوقانیہ اورمولوی
وسطانیہ 2022 کا آن لائن فارم بھرنے کی تاریخ میں 25 نومبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔ تمام پرنسپل صدر مدرس کو ذمہ داری دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مدرسہ کے طلباء و طالبات کا فارم مدرسہ بورڈ کے ویب سائٹ www.bsmeb.org پنتین وقت کے درمیان بذات خود جرانا یقینی بنائیں۔ امتحان فارم بھرنے کیلئے روپے کی ادائیگی آن لائن کی جائے گی۔ مدرسہ بورڈ کے ویب سائٹ پروستائی ایولیوشن کیلئے تک بنام – wastania Examination موجود ہے۔ طلبا و طالبات کاربین حضرات اس لنک کے ذریعہ درجہ وسطانیہ ایولیوشن کیلئے فارم بھر سکتے ہیں۔

نوٹ:- تمام طلبا طالبات اور گارجین حضرات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ درجہ فوقانیہ و مولوی امتحان کا فارم بھرنے میں امیدوار کے آدھار کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیل فراہم کرانے کی لازمیت کم کردیا گیا ہے اب طلباوطالبات با آسانی فارم بھر سکتے ہیں۔
نیچے دیے گئے لنکس فارم بھریں👇✍️http://bsmeb.org/

الہ آباد یونیورسٹی میں طلبا اور پولیس کے درمیان ہوئی چھڑپ : جانیں پورا معاملہ

الہ آباد یونیورسٹی میں طلبا اور پولیس کے درمیان ہوئی چھڑپ : جانیں پورا معاملہالہ آباد۔ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے این ایس یو آئی کے طلبا اور مقامی پولیس کے درمیان چھڑپ ہو گئی ۔ الہ آباد یونیورسٹی طلبا یونین کے باہر این ایس یو آئی سے وابستہ طلبا نے مرکزی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ احتجاج کے دوران طلبہ نے مرکزی حکومت کا علامتی پتلا نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے طلبا کو احتجاج سے باز رکھنے اور پتلا جلانے سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا ۔ اس درمیان کافی دیر تک این ایس یو آئی اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی جاری رہی ۔ پولیس کی تمام کوششوں کے باوجود احتجاجی طلبہ مرکزی حکومت کا علاتی پتلا نذر آتش کرنے میں کامیاب رہے ۔ این ایس یو آئی کے ریاستی ترجمان بی ۔ چند شیکھر کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے خلاف پورے ملک میں اس طرح کے احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں ۔ چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کے محکموں میں بڑی تعداد میں نوکریاں موجود ہیں لیکن اس با وجود خالی جگہوں پر تقرری نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے قابل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے ۔ این ایس یو آئی نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سرکاری تقرریوں میں بڑے پیمانے پر دھاندی کی جا رہی ہے ۔

اس پہلے این ایس یو آئی نے الہ آباد یونیورسٹی کیمپس میں واقع ہاسٹلوں میں طلبہ سے ملاقات کی اور ان سے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ یو پی چناؤ سے پہلے پرینکا گاندھی کی غیر معمولی سیاسی سرگرمیوں سے کانگریس کی ذیلی تنظیموں میں بھی نیا جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

حضرت مولانا مفتی محمد راشد اعظمی صاحب مدظلہ العالی (استاذ حدیث و نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند یوپی) تحفظ شریعت ٹرسٹ کی دعوت پر ایک روزہ حیدرآباد کے دورہ پر جمیع تلامذہ ومحبین سے استفادہ کی اپیل

حضرت مولانا مفتی محمد راشد اعظمی صاحب مدظلہ العالی (استاذ حدیث و نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند یوپی) تحفظ شریعت ٹرسٹ کی دعوت پر ایک روزہ حیدرآباد کے دورہ پر جمیع تلامذہ ومحبین سے استفادہ کی اپیل

حیدرآباد تلنگانہ : 16/نومبر (پریس ریلیز ہماری آواز، نمائندہ مفتی خواجہ شریف مظاہری) مفتی عبدالرشید طلحہ نعمانی جنرل سکریٹری تحفظ شریعت ٹرسٹ کی اطلاع کے بموجب حضرت مولانا مفتی محمد راشد اعظمی مدظلہ العالی (استاذ حدیث و نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند یوپی) تحفظ شریعت ٹرسٹ کی دعوت پر بتاریخ 18/نومبر بروز جمعرات بعد نمازِ ظہر ایک روزہ دعوتی دورے پر حیدرآباد تشریف لارہے ہیں۔حضرت مفتی صاحب مدظلہ کے پروگرام کی تفصیلات اسطرح ہیں:

حضرت مفتی صاحب مدظلہ بعد نماز ظہر (1:30) مسجد اکبری اکبر باغ سعیدآباد حیدرآباد میں منعقد ہونے والے تحفظ شریعت ٹرسٹ کے سالانہ اجلاس سے خصوصی صدارتی خطاب بعنوان فرق ضالہ کا تعاقب اور علماء کرام کی ذمہ داریاں جیسے اہم اور حساس موضوع پر فرمائیں گے؛ نیز اسی دن بعد نماز مغرب جمعیۃ علماء ملکاجگری/میڈچل کے تحت مولیٰ علی سکندرآباد (786 گارڈن) میں منعقد ہونے والے جلسہ رحمۃ للعالمینﷺ و اصلاح معاشرہ سے مخاطب ہوں گے۔جمعہ کے دن بعد نماز فجر دفتر تحفظ شریعت ٹرسٹ بالائی منزل مسجد صراط مستقیم آزاد نگر عنبرپیٹ کا جائزہ لیں گے؛ اور جامعہ اسلامیہ تجوید القرآن میں قیام فرمائیں گے۔


شراب بندی کو لے کر کچھ انداز میں نظر آئے وزیر اعلی نتیش کمار ، کہا کسی بھی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں

شراب بندی کو لے کر کچھ انداز میں نظر آئے وزیر اعلی نتیش کمار ، کہا کسی بھی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں

جنتا دربار کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پیرکے روز صحافیوں سے بات چیت کی۔ اس دوران شراب بندی کو لے کر منگل کو منعقد ہونے والے جائزہ اجلاس کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوگوں کوشراب بندی کو لے کر آگاہ کرنے کے لیے دوبارہ مہم چلائی جائے گی۔ پہلے سے چل رہی مہم کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ہم شراب بندی کو لے کر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتے۔ معاشرے میں کچھ لوگ گندے ہیں، ان پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ شراب بندی قانون کی خلاف ورزی پر کون پکڑا گیا ہے۔ منع کرنے سے پہلے اس بات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ آج کل شراب کے کاروبار سے جڑے کون لوگ کام کر رہے ہیں۔ امتناع کو مزید مضبوطی سے نافذ کرنے کے لیے جو بھی ضروری اقدامات کیے جائیں گے، وہ مزید اٹھائے جائیں گے۔ لوگوں کو دوبارہ آگاہ کرنے کے لیے مہم چلانے سے لے کر قواعد کے مطابق غلطی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے تک بھی بحث کی جائے گی۔

فلم اداکارہ کنگنا رناوت کے آزادی کے بیان پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہم حیران ہیں کہ ایسے لوگ کیسے شائع ہوتے ہیں۔ ان سب چیزوں کی کیا اہمیت ہے؟ آپ اس شخص کے بارے میں بھی نہیں کہہ سکتے جو کیا کہے گا۔ کیا کوئی ایسی باتوں پر توجہ دیتا ہے؟ کون نہیں جانتا کہ آزادی کب ملی۔ اس طرح کے بیانات کو کوئی اہمیت دیے بغیر طنز کرنا چاہیے تھا۔ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے ہم ایسے لوگوں پر توجہ نہیں دیتے۔

راہل گاندھی کے ہندوتوا بیان پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان سے پوچھیں، ساری بات بتا دیں گے۔ ان سب باتوں پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کچھ لوگ کچھ کہہ کر بحث میں رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں کام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم کام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارا مذہب عوام کی خدمت ہے، ہم اسی میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم کسی خاص شخص کے لیے نہیں مانگ رہے ہیں۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہی رہتا ہے کہ کوئی نہ کوئی بیان بازی کرتے رہیں تاکہ پبلسٹی ہوتی رہے۔ بہار میں دیکھیں تو کچھ لوگ میرے خلاف بولتے ہیں تاکہ ان کو پبلسٹی ملے۔ وہ جانتے ہیں کہ میرے خلاف بولو ں گے تو پبلسٹی ملے گی۔

بہار میں بڑھتے ہوئے جرائم کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں جرائم کی تعداد پہلے کی نسبت کم ہوئی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس پر ایکشن لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس اس معاملے میں متحرک ہیں۔ جہاں کہیں کچھ ہو رہا ہے، کارروائی ہو رہی ہے۔ بعض چیزوں میں واقعہ مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ اگر نکسلیوں کا معاملہ ایک جگہ آیا ہے تو اس کی مکمل جانچ ہو رہی ہے۔ ایک وقت میں ایک چیز دیکھی جا رہی ہے۔ یہ ایک اعداد و شمار ہے، ہر سال اعداد و شمار شائع ہوتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، یہ نہیں کہا جا سکتا۔ جب سے ہم نے ممانعت کو نافذ کیا ہے، جرائم میں بھی کمی آئی ہے۔ اس سے قبل نشے میں ڈرائیونگ کی وجہ سے سڑک حادثات کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ اب ملک بھر میں سڑک حادثات کے اعداد و شمار کو دیکھیں، اس میں بہار کی کیا حیثیت ہے۔ اگر کہیں کوئی واقعہ ہو جائے تو ہر واقعہ کی مکمل چھان بین کرکے کارروائی کی جاتی ہے۔ پولیس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو جو قانون ہے اس کے مطابق تحقیقات کریں اور اپنی ذمہ داری کے مطابق مناسب کارروائی کریں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چمپارن میں باپو کے آنے کے بعد ملک میں تحریک کتنی تیزی سے بڑھی اور تیس سال کے اندر ملک آزاد ہوا۔ بہار کے لوگوں کو لے کر غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ بہار کے زیادہ تر لوگ ان تمام چیزوں کے بارے میں بہت اچھے خیال رکھتے ہیں۔ بہت کم لوگ گڑبڑ کریں گے، دنیا میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہر شخص ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ دنیا میں کہیں بھی دیکھ لیں، ہر آدمی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...