Powered By Blogger

پیر, مارچ 09, 2026

مفتی ہمایوں اقبال ندوی نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

فلاح پانے والے لوگ!                    

  

روزہ کیوں فرض کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ قران میں لکھی ہوئی ہے۔ارشاد ربانی ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئےجیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں تاکہ تم متقی ہو جاؤ (بقرہ ۱۸۳) اس آیت شریفہ سے روزہ کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کی مکمل وضاحت ہوتی ہے کہ رمضان کی آمد اور روزے کی فرضیت کا مقصد درحقیقت ایک صاحب ایمان کو متقی بنانا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار بندہ متقی ہے۔ متقین کی قرآن میں نشانیاں بتلائی گئی ہیں، ارشاد خداوندی ہے: جو لوگ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا، اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اسمیں سے خرچ کرتے ہیں( بقرہ ۳)
 اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں:ایمان بالغیب، اقامت صلواه،اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔آسان زبان میں ہم ان تینوں کو متقین کی پہچان کہ سکتے ہیں۔نیز قران کریم میں متقی بندے کے مزید اوصاف بھی مذکور ہوئے ہیں کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، غصہ پی لیتے ہیں، صبر سے کام لیتے ہیں، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیتے ہیں، ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کرتےہیں ، اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں وغیرہ۰۰۰ کم و بیش تیس سے زائد اوصاف علماء کرام نے قران کریم کی روشنی میں متقین بندے کے بتلائے ہیں۔ مگر ان تمام کا خلاصہ یہ تین ہی ہیں۔ علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی فرماتے ہیں کہ :"سب طاعتوں کی اصل تین ہی ہیں۔ اول جو باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں، دوسری بدن سے، تیسری مال سے، سو اس آیت میں ہر سہ اصول کو ترتیب وار لے لیا"۔ 
حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ علیہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ:"جتنے اعمال انسان پر فرض یا واجب ہیں ان کا تعلق یا انسان کی ذات اور بدن سے ہے یا اس کے مال سے۔بدنی اور ذاتی عبادات میں سب سے اہم نماز ہے۔اس کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا گیا،اور مالی عبادات سب کی سب لفظ انفاق میں داخل ہیں، اس لئے درحقیقت یہ تنہا دو اعمال کا ذکر نہیں بلکہ تمام اعمال وعبادات ان کے ضمن میں آگئے، اور پوری آیت کے یہ معنی ہوگئے کہ متقین وہ لوگ ہیں جن کا ایمان بھی کامل ہے اور عمل بھی اور ایمان وعمل کے مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے"(معارف القران جلد اول صفحہ ۱۱۱)
ماہ رمضان کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ تین چیزیں ہیں جنکی مشق پورے مہینے کرائی جاتی ہے تاکہ یہ تینوں اوصاف جب ایک صاحب ایمان میں پیدا ہوجائیں گی تو وہ متقی بندوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا، ماہ صیام کی آمد کا مقصد ہی یہی ہے۔
پہلی صفت ایمان بالغیب کا رمضان میں یہ عالم ہوتا ہے کہ بندہ تنہائی میں بھی شدید بھوک و پیاس کی گھڑی بھی نہ ایک دانہ منھ میں رکھتا ہے اور نہ ایک قطرہ پانی کا حلق سے نیچے اتارتا ہے،اس کی شرعی طور پر گنجائش بھی نہیں ہے وہ اس لئے کہ وہ روزے سے ہے اور ایسا کرنے سے اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔یہ استحضار ماہ صیام میں اپنے شباب پر ہوتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے، جبکہ اس نے خدا کو کبھی دیکھا نہیں ہے۔یہ خیال واحساس ایمان بالغیب کا اعلی درجہ ہے،اورایک صاحب تقوی کے اند اس استحضار کا پایا جانا ہمہ وقت ضروری ہے۔
دوسری صفت اقامت صلواہ ہے، پانچ وقت کی نمازیں پڑھنی ہیں، مزیدتراویح کی اضافی نمازکی ہابندی بھی کرنی ہے۔بحمداللہ یہ چیزیں رمضان کے مبارک مہینے میں دیکھنے کو بھی ملتی ہے کہ واقعی اقامت نماز کا حق ایک نمازی ادا کرنے کی سعی کرتا ہے، فرائض، واجبات، مستحبات اور پھر ان پر دوام والتزام بھی کرتا ہے۔ایک بندہ رمضان کی اہمیت اور اجر وثواب کی امید لئے ان چیزوں کا اہتمام کرتا ہے مگر شارع کا مقصد ایک صاحب ایمان کو نماز کا پابند بنانا ہے اور یہ حصول تقوی کے لئے لازمی ہے۔
تیسری صفت متقی ہونے کے لئے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے چنانچہ رمضان کے مہینے میں اس کی بھی خوب تربیت دی جاتی ہے۔زکوٰۃ ،خیرات، صدقات کے علاوہ صدقہ فطر کی شکل میں ایک مصرف کو رمضان اور روزے کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، مقصد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مزاج بنانا ہے اور متقی ہونے کے لئے یہ تیسری لازمی صفت ہے۔جب یہ چیزیں پیدا ہوگئیں تویہ بندہ تقوی کی صفت سے متصف ہوگیا۔اس پر قرآن اس کی کامیابی کا اعلان کردیتا ہے،ارشاد خداوندی ہے:یہی لوگ ہیں اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (بقرہ ایت نمبر ۵)
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 
۱۹/رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ

ہفتہ, مارچ 07, 2026

مضمون نگار قاری عابد راہی صاحب

قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون‘‘ اس نصیحت نامہ اور کتاب ہدایت یعنی قرآن کو ہم نے ہاں ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ و نگہبان ہیں۔ اور بارگاہ ربانی کی اس عطا کی کوئی حد ہے کہ جو صفت اللہ نے اپنے لئے مخصوص رکھی تھی، اسے بندہ کو بھی نواز دیا، یعنی اللہ حافظ الذکر یعنی قرآن کے محافظ و نگہبان ہیں تو بندہ کو توفیق بخش دی کہ وہ تیس پاروں کو حفظ کرکے حافظ قرآن کا مبارک و مسعود لقب حاصل کرلے، سچ ہے کہ:
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و رتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی بلند ہے ۔ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مصروف رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اچھے اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔ خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (بخاری فضائل القرآن )

حافظ قرآن کا اللہ تعالی کے نزدیک بڑا مقام ہے اور یہ مقام اور تقرب حفظ قرآن مجید کی برکت کی وجہ سے بے ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک مجلس میں ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالی کے کچھ خاص بندے ہوتے ہیں ……..آپ کے اس ارشاد پر صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم متوجہ ہوئے اور اشتیاق و تجسس کے ساتھ سوال کیا ، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حافظ قرآن، ان کا بڑا مقام ہے اور یہ لوگ اہل اللہ اور خاصان خدا ہیں ۔( ابن ماجہ )

نسبت بڑی اونچی چیز ہے اور نسبت ہی سے کسی چیز کی قیمت متعین ہوتی ہے ۔ چوں کہ قرآن مجید کلام ربانی ہے ۔ خدا کا کلام ہے، جو تمام کلاموں میں اعلی اور ارفع ہے ۔ اسے جب اپنے سینے میں محفوظ کرلیا جائے، تو اس نسبت سے حافظ قرآن کا مقام و رتبہ تو بلند ہو ہی جائے گا ۔ اس حقیقت کو ہم اس مثال بھی سمجھ سکتے ہیں، کہ جب کسی شخص کا کسی بادشاہ حاکم یا بڑے عہدے دار سے کسی طرح کا تعلق اور رابطہ ہو جاتا ہے تو اس کا شمار خاص لوگوں میں ہونے لگتا ہے اور وہ شخص اس تعلق کو اپنے لئے فخر و عزت کی چیز سمجھنے لگتا ہے گویا اسے بہت بڑی دولت ملی گئی، جب اس عارضی فانی اور ناپائیدار دنیا کے تعلق کا یہ عالم ہے تو اس شخص کی خوشی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جو اپنے رب حقیقی کا مقرب اور خاص ہوجائے ۔ واقعتا وہ انسان قابل رشک اور لائق صد فخر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کرام کو خاصان خدا کہا گیا ہے ۔

امت کا یہ طبقہ یعنی حفاظ کرام کےطبقہ کو بڑی عزت اور وقار حاصل ہے ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اللہ تعالٰی کی تعظیم میں بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور اس حافظ قرآن کا اکرام کرنا جو افراط و تفریط سے خالی ہو اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا ہے ۔ (ابو داؤد ) طبرانی کی ایک روایت ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال و حرام کو سمجھا ۔ اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھرانے میں سے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں سفارش قبول کرے گا جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہو۔ (مشکوة)

لیکن یہ یہ بات بھی ذھن میں رہے کہ حفاظ کرام کو ملی یہ بشارتیں صرف ان حفاظ کرام کے لئے ہیں، جو قرآن کریم کے تقاضوں پر عمل بھی کرتے ہوں، جن کے اندر تقوی و خوف خدا ہو ۔ صالحیت ہو کتاب و سنت پر جس کا عمل ہو ۔ حفظ قرآن کی جو یہ عظیم دولت ملی ہے ، اس کی حفاظت کی فکر بھی کرتے ہوں ۔ اور ساتھ ہی اپنی نشست و برخاست عادات و اطوار اخلاق و کردار وضع قطع وہ ثابت کریں کہ وہ واقعتا حافظ قرآن اور خدا کے نمائندے ہیں ۔ نیز ان کا سینہ طمع لالچ اور تمام اخلاقی و روحانی بیماری پاک ہو ۔

حافظ قرآن امت کا انتا ہی کریم اور معزز طبقہ ہے ۔کنزل العمال میں یہ حدیث موجود ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ۔ ایک دوسری روایت میں ہے اشرف امتی حملةالقرآن و اصحاب اللیل ( معجم طبرانی)

حافظ قرآن امت کا انتا ہی کریم اور معزز طبقہ ہے ۔کنزل العمال میں یہ حدیث موجود ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ۔ ایک دوسری روایت میں ہے اشرف امتی حملةالقرآن و اصحاب اللیل ( معجم طبرانی)

میری امت کے اشراف، حاملین قرآن اور رات کو عبادت کرنے والے ہیں ۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ حافظ قرآن کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ مسند فردوس میں ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن مجمع عام میں حافظ قرآن کی عظمت اور ان کے شرف کا اظہار و اعلان فرمائیں گے ۔ کنز العمال میں یہ روایت ہے کہ حافظ قرآن اور قرآن کو بار بار پڑھنے والے کی عقل آخر عمر تک ٹھیک اور درست رہتی ہے ۔ اور موت کے بعد قبر میں حافظ قرآن کی جسم کی حفاظت ہوتی ہے ۔ طبرانی کی اس روایت سے بھی حافظ قرآن کی عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ ایک حدیث میں حافظ قرآن کے درجات کی بلندی اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتے جاو اور بلند ہوتے جاو اور ٹہر ٹہر کر اطمنان سے پڑھو جس طرح دنیا میں تم ٹھر ٹھر کر پڑھتے تھے ،کیونکہ تمہارا درجہ وہی ہوگا جس جگہ تم قرآن کی آخری آیت پڑھو گے ۔( ترمذی)

اولاد کو جو والدین قرآن مجید پڑھاتے اور حفظ کراتے ہیں ان کے لئے خوش خبری ہے کہ قیامت کے دن ان کو نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی روشنی کی طرح ہوگی ۔ اور اس کو دو جوڑے ایسے پہنائیں جائیں گے کہ پوری دنیا بھی ان کی قیمت نہیں بن سکتی وہ پوچھیں گے کہ یہ ہمیں کس چیز کے بدلے پہنائے جا رہے ہیں؟ (ہمارا تو کوئ عمل ایسا اونچا نہ تھا) تو انہیں بتایا جائے گا کہ یہ تمہارے بچے کے قرآن مجید پڑھنے اور حفظ کرنے کا انعام ہے ۔ (ترغیب و ترہیب)

ایک باعمل حافظ قرآن کو زندگی کے مختلف شعبوں میں دوسروں کے مقابلے میں جو ترجیح و فضیلت اور بلندی و برتری حاصل ہے اس کے لئے ان احادیث پر بھی نظر رہنی چاہیے………… حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد میں سے دو دو کو ایک قبر میں دفن فرما رہے تھے اور دریافت فرماتے تھے کہ ان دونوں میں سے کس کو زیادہ قرآن کا حصہ یاد ہے ۔ پس جس کی جانب اشارہ کیا جاتا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں آگے رکھتے تھے ۔ (بخاری )

جس نے فضیلت قرآن کی وجہ سے حافظ قرآن کی کھانے پینے سے تواضع کی ۔ اللہ عز و جل اسے حافظ قرآن کے دل میں موجود ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں عطا فرماتے ہیں اور دس گناہ معاف فرماتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالی فرمائیں گے کہ تو نے میری وجہ سے اس کی عزت کی ہے تجھے اکرام اور بدلہ دینے کے لئے میں کافی ہوں ۔( مسند فردوس )

اس بات کو بھی ذھن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کریم سے اس کی تلاوت سے اس کو یاد کرنے کی فکر سے کبھی بے توجھی نہ برتی جائے کیونکہ قرآن مجید خدائے بے نیاز کا کلام ہے اس کے یاد رکھنے میں بے نیازی برتی گئی تو اس کی غیرت برداشت نہیں کرتی کہ ایسے سینہ میں محفوظ رہے ۔

علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی مثال اونٹ کی سی ہے کہ اونٹ جانوروں میں سب سے زیادہ حساس جانور ہے اگر اونٹ یہ محسوس کر لیتا ہے کہ اس کا مالک اس کے ساتھ بے رخی اور بے اعتنائی برت رہا ہے اور اس کے چارے کے انتظام میں غفلت سے کام لے رہا ہے تو اس اونٹ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کرتی اور پھر وہ جب مالک کے گھر سے نکل جاتا ہے تو دوبارہ اس جانب رخ نہیں کرتا ۔ اسی طرح قرآن مجید بھی بہت حساس اور غیرت والا کلام ہے اگر حافظ قرآن اس کو یاد کرنے میں تساہلی اور سستی سے کام لیتا ہے ۔ تو قرآن بھی حافظ قرآن کے دل سے نکل جاتا ہے اور اونٹ ہی کی طرح دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا ۔

اس لئے قرآن مجید اور قرآن کے حافظ کو الراحل المرتحل کہا گیا ہے کہ حافظ قرآن ایسا مسافر ہے جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی روشنی میں اپنے دور خلافت میں اس چیز کو حافظ کے لئے لازم کیا کہ رمضان میں ختم قرآن کے دن انیسویں رکعت میں قرآن مکمل کرلے اور بیسویں رکعت میں الحمد للہ اور سورہ بقرہ میں اولئک ھم المفلحون تک پڑھ کر بیسویں رکعت مکمل کرے ۔ تاکہ اس حدیث کے مقتضی پر عمل ہوسکے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حافظ قرآن کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور بہت سے امور میں ان کو فوقیت اور ترجیح دیتے تھے اور جن کو قرآن زیادہ یاد ہوتا سفر میں اور گاؤں اور قبیلہ کی مسجد میں ان کو امامت کے لئے متعین کرتے تھے ۔ بلکہ بہت سے موقع پر فوج کی قیادت کے لئے بھی زیادہ قرآن مجید یاد رکھنے والے کو آپ نے قائد اور امیر فوج بنایا ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے تو سب نے تفصیلات بتائیں ۔ ایک صحابی نے جب یہ کہا کہ مجھے سورہ بقرہ اور فلاں فلاں فلاں سورہ حفظ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہی اس فوج کا امیر مقرر فرمایا ۔ ایک صحابی نے اپنے والد سے روایت کردہ اس واقعہ کو بیان کیا کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوئے اور اسلامی احکام و مسائل سیکھنے کے لئے قبیلے کا ایک وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ روانہ ہوا جس میں میں بھی شامل تھا کچھ دنوں کے بعد جب وفد کی واپسی ہوئی تو اس موقع پر میں نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! ہم میں سے امامت کا فریضہ کون انجام دے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو قرآن زیادہ حفظ ہوگا چنانچہ اس وفد میں سب سے زیادہ سورتیں مجھ ہی کو یاد تھیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہی امامت کے لئے مکلف بنایا اور مجھے ہی اس کا اہل قرار دیا ۔

ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان قریش کی امامت کیا کرتے تھے اور ان کے پیچھے عبد الرحمن بن ابی بکر بھی ہوتے تھے یہ محض اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن مجید جانتے تھے ۔ (ابن سعد) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس وقت اہل دیوان کا حصہ مقرر کیا تو جس طرح نیکیوں میں اور اسلام لانے میں سبقت کرنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرنے والوں کو حصہ دئے جانے میں ترجیح دی جاتی تھی اس طرح انہوں نے قرآت قرآن کے اعتبار سے بھی فضیلت دی تھی یعنی جن لوگوں کو قرآن زیادہ یاد تھا ان کے حصے اوروں سے زیادہ مقرر کئے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حفاظ کرام کے لئے باضابطہ وظائف بھی جاری فرمائے تھے ۔( ابن سعد) بحوالہ سہ ماہی زبان خلق ) نوٹ اس مضمون میں بعض ضعیف احادیث کا ذکر ہوا ہے جو فضائل کے باب میں چل سکتے ہیں۔
اس پروگرام 
حضرت مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی صاحب قاسمی 
حضرت مولانا عبد السلام عادل صاحب ندوی 
اور بہت سے اکابرین موجود تھے 
(مضمون نگار قاری عابد راہی صاحب 

جمعرات, جون 05, 2025

ایک تکبیر جو مکمل تقریر ہے!

ایک تکبیر جو مکمل تقریر ہے!                  
Urduduniyanews72
آج ماہ ذی الحج کی نویں تاریخ ہے، فجر کی نماز کے بعد ایک عمل کا اضافہ ہوگیاہےجوآئندہ ۲۳/نمازوں تک جاری و ساری رہے گا۔ ۹/ذی الحج کی فجر سے ۱۳/ذی الحج کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد با اواز بلند امام مقتدی سبھی تکبیر تشریق پڑھیں گے، :اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد"یہ تکبیر کہنا ہر فرض نماز کے بعد واجب ہے۔ تشریق کے معنی عربی زبان میں گوشت کے پارچے بنا کر ان کو دھوپ میں سکھانا ہے، ابن منظور نے معروف عربی لغت :لسان العرب" میں کہا ہے "التشریق:کا معنی گوشت سکھانا ہے، اسی واسطے ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔
 ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ تکبیر کا تشریق سے کیا ربط و تعلق ہے اور کیوں دونوں کو ملا کر ایک ساتھ بطور نام کےبولا جاتا ہے؟ اس گرہ کو کھولنے کے لیے پہلے تکبیر تشریق کا مطالعہ ضروری ہے، بظاہر یہ ایک تکبیر ہےجبکہ درحقیقت یہ ایک مکمل تقریر ہے۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے،  قربانی کرنے والے ہی کو نہیں بلکہ ہر ایمان والے کے لیے اس میں بڑی نصیحت وصیت کا سامان ہے۔ فقہ حنفی کی مستند کتاب "البحر الرائق" میں تفصیل سے اس عنوان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ہوا ہے تو حکم خداوندی پرآپ اپنا سرتسلیم خم کر دیتے ہیں، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا کی راہ میں قربان کر دینے کے لیے زمین پر لٹا دیتے ہیں، چھری تیز کر لیتے ہیں، اور ذبح کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام جو جنت سے مینڈھا لے کر حکم خداوندی سے یہاں تشریف لارہے تھے، دراصل اسی مینڈھے کو ان کی جگہ پہ ذبح ہونا ہے۔ دور سے دیکھ کر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کہیں اسماعیل علیہ السلام ذبح نہ ہوجائیں، چنانچہ زور سے بآواز بلند حضرت ابراہیم علیہ السلام کو متنبہ کرنے کے لیے" اللہ اکبر اللہ اکبر" کے کلمات کہتے ہیں۔اور یہ باور کراتے ہیں کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت اسماعیل کو خدا کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں، اللہ توان چیزوں سے مستغنی ہے،وہ بہت بڑا ہے، حضرت اسماعیل کی قربانی نہیں بلکہ آپ کا امتحان لینا چاہتا ہے،  اپ کو اس امتحان میں کامیابی نصیب ہو چکی ہے، اب تورک جائیے، یہ دیکھیے میرے ساتھ جنت کا یہ مینڈھا ہے،  اسے ذبح ہونا ہے۔
 حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے جب دیکھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں، ان کے ساتھ جنتی مینڈھا بھی ہے،حکم خداوندی یہ ہے کہ اسے اسماعیل کی جگہ قربان کرنا ہے، تو فرمانے لگے کہ "لا الہ الا اللہ واللہ اکبر" خدا کی ذات کے علاوہ کوئی قابل اطاعت و عبادت نہیں ہے، وہ بہت بڑا ہے ،اور بڑی شان والا ہے، جب اس کا حکم ہوا کہ بیٹے کی قربانی کرنی ہے، میں نے سر تسلیم خم کیا، اور اب حکم ہے کہ نہیں کرنی ہے، میں نے اس کی اطاعت قبول کر لی ہے، اس کی بڑائی کا خیال کرتے ہوئے اپنے اپ کو اس عمل سے روک لیا ہے۔
 حضرت اسماعیل علیہ السلام زمین پر لیٹے یہ سب کچھ سن رہے تھے،جب انہیں اس بات کا علم ہو گیا کہ معاملہ کچھ اور ہونے جا رہا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام اگئے ہیں، خدائی حکم اور فدیہ میں جنت کا مینڈھا لائے ہیں، تو شکرانے کے طور پر یہ کلمہ زبان سے جاری ہوگیا :اللہ اکبر وللہ الحمد "اللہ بہت بڑا ہے،وہ بندے کے اخلاص کو قبول کرتا ہے، نیز فوری مدد نازل فرما دیتا ہے، جیسا کہ یہاں پیش ایا ہے، میری قربانی ہونی تھی ، بحمداللہ مجھے محفوظ ومامون رکھا گیا ہے، تمام تعریف اس خدائے وحدہ لا شریک لہ کی ہے۔
 اہل عرب ان دنوں کو قربانی کے گوشت سکھانے کے دن کہتے تھے، مذہب اسلام نے ایام تشریق کو گوشت سکھانے نہیں بلکہ حضرت ابراہیم اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کو تازہ کرنے اور یاد دلانے کا ذریعہ بنادیا ہے، دراصل تکبیر تشریق کایہی مقصد ہے۔ شریعت اسلامیہ نے جہاں بھی مادیت کا شائبہ محسوس کیا ہے وہاں ایمان والوں کی سمت روحانیت کی طرف مبذول کر دی ہے، حج میں بھی تلبیہ و دعا کے ذریعے یہ چاہا گیا ہے اور قربانی کے ایام میں بھی یہی منشاخداوندی ہےکہ بندہ اپنے اندر اس حقیقی قربانی کی یاد تازہ کرے، اور اپنی زندگی میں اسے جاری و ساری رکھے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نکات کو ہم کھول کھول کر عوام الناس کے سامنے رکھ دیں،دین کا صحیح فہم نہیں ہونے کی وجہ کر آج پھر مقصد قربانی نہیں بلکہ گوشت بن گیا ہے،اللہ ہمیں قربانی کی روح کو قربانی کے عمل کے ذریعہ اور تکبیر تشریق کے ذریعہ تازہ کرنے کی سعادت نصیب کرے، آمین 
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
۸/ذی الحج ۱۴۴۶ھ بروز جمعرات

عید الاضحٰی کا پیغام

عید الاضحٰی کا پیغام 
مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم 
معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔
موبائل نمبر :7909098319 
Urduduniyanew72
قربانی تقرب الی اللہ کا اہم ذریعہ اور وسیلہ ہے، قربانی در اصل راہ خدا میں جانور کو قربان کرنے کا نام ہے، اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ  تعالیٰ کاقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے۔ انسان کی تخلیق پر جب ہم غور وخوض کرتے ہیں تو اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قربانی کا وجود اور ثبوت انسانوں کی تخلیقات کے ساتھ ساتھ ہے، قرآن   مجید میں  حضرت آدم  کے  دو بیٹوں کی قربانی  کا  واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی عظیم ترین سنت ہے  یہ عمل اللہ تعالیٰ  کواتنا پسند آیا  کہ اس   عمل کوقیامت تک کے مسلمانوں کے لئے  عظیم سنت قرار  دیا ۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔قرآن مجید میں صراحتاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اور ان کے واقعات کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی ایک سورہ ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے ۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسے ماحول میں اپنی آنکھیں کھولی جو شرک، بت پرستی اور خرافات میں غرق، اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی کفر و شرک، بت پرستی اور خرافات کا مسکن وملجا تھا ۔
ابراہیم علیہ السلام کے احساسات وجذبات میں رب العزت کی محبت پیوست تھی، وہ رب کی تلاش و جستجو میں کوشاں رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک واقعہ کو قرآن مجید نے بڑے خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام چاند ستارے سورج میں رب کو تلاش کر رہے تھے، لیکن ان تمام چیزوں کو نکلتے اور ڈوبتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ رب کی ذات اقدس وہ ہے جو کبھی ڈوب نہیں سکتی، کوئی طاقت اسے عاجز نہیں کرسکتی، وہ رب تنہا، یکتا، اور طاقتور ہے۔ جسے نہ نیند آسکتی ہے، نہ اونگھ، 
سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر جب بت اور پرستی کی حقیقت کا انکشاف ہوا،  اس کا باطل ہونا طے ہوا، اور اللہ کی وحدانیت کا آشکار ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو دعوت اسلام دی،  اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کر کے اسے لاجواب کردیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی کا سامان بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے، اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کامیاب کیا، اور سرخروئی عطا کی ۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دل اللہ رب العزت کی محبت سے لبریز تھا، اور اللہ رب العزت کی ذات بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہے،  یہی وجہ ہے کہ آپ کے کردار عمل کو اللہ رب العزت نے قرآن عظیم میں نقل کرکے انسانوں کے لئے ایک نمونہ بنا دیا، عید الاضحٰی رب العزت کی محبت و اطاعت اور اس کے محبوب بندے کی محبت کی داستان ہے ۔
عید الاضحٰی سنت ابراہیمی ہے، یہ ہمیں محبت، اخوت، بھائی چارگی، ایثار وقربانی، وجذبہء ایمانی کا درس دیتا ہے، اس کی تاریخ در اصل ایک عظیم تاریخ ہے، اور وہ یہ کہ ایک عظیم اور بوڑھا باپ حکم خداوندی پر اپنے پیارے، لاڈلے، چہیتے،جگر کا پارہ، ہر دل عزیز، فرزند کے حلق پر چھری چلا رہا ہے، قربانی اس قوت ایمانی کا نام ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی اطاعت وبندگی کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ،، 
 اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞
 میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
(سورہ انعام آیت 162) 
یقیناً  ہماری عبادت وریاضت، ہماری بندگی، ہماری زندگی وموت، یہ سب محض آپ کی رضاو خوشنودی کے لئے ہے، ہم خالص آپ کے بندے ہیں، اور آپ کی ہی بندگی کرتے ہیں، ہمارا غم، ہماری خوشی، ہماری زندگی یہ سب محض آپ کی رضا کے لئے ہے، قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم خالص اللہ کے بندے بن کر رہیں، اور وقت پڑنے پر اپنی جان ومال کی قربانی پیش کرنے میں ذرہ برابر  بھی کوئی ہچکچاہٹ ہمیں محسوس نہ ہونے پائے ،یاد کریں اس وقت کو جبکہ ایک عظیم باپ نے اپنے عظیم بیٹے سے دریافت کی کہ  
يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞
اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں ‘ اب تم سوچ کر بتائو تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس (بیٹے) نے کہا اے ابان جان ! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ‘ آپ انشاء اللہ ! مجھے عنقریب صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
(سورہ الصافات آیت 102)

  یقیناً رب العالمین تم سے تمہاری قربانی کا تقاضہ کر رہے ہیں ، تمہاری اس سلسلے میں کیا رائے ہے، باپ کے عظیم بیٹے نے بہترین جواب دیا کہ آپ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کریں، ان شاء اللہ آپ ہمیں صابر وشاکر میں پائیں گے، اس جواب نے پوری کائنات کو حیران و ششدر کرکے سکتے میں ڈال دیا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام  ضعیفی میں تھے، اپنی اس اولاد سے بے پناہ محبت تھی، لیکن اس محبت کو اللہ کی اطاعت وبندگی پر ترجیح نہیں دی، 
سیدنا ابراہیم واسمٰعیل علیھما السلام نے اللہ کے اس حکم کے بعد فوراً اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا، کسی طرح کی تاویلات نہیں پیش کی کہ اللہ کا کوئی دوسرا منشا ہے، آپ کے اس کردار عمل نے پوری انسانیت کو جھنجھوڑتے ہوئے شعور بندگی سکھایا، اور یہ درس دیا کہ جب حکم خداوندی آجائے تو پھر کیوں، کس لئے، کب، کس طرح، ان باتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور عشق کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حکم ملے سر تسلیم خم ہوجاؤ، مسلمان بھی اسی کا نام ہے کہ رب کائنات کے سامنے سر تسلیم خم ہوجائے،قربانی صرف جانور کی گردن پر چھری چلانے کا نام نہیں ہے، بلکہ قربانی کے ذریعہ انسان کے اندر زہدوتقوی اور خشئت الہی پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ صرف جانور کے گردن پر چھری نہیں چلتی بلکہ قربانی میں اپنی انا، گھمنڈ، تکبر ،فخر، ریا کاری، سب کو قربان کرکے خالص اللہ کا بندہ بن کر زندگی گزارنے کا بندہ عزم کرتا ہے،سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کا یہ پورا واقعہ جو درحقیقت قربانی کے عمل کی بنیاد ہے روز اول سے امت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمہارے دلوں میں یہ احساس یہ علم یہ  معرفت اور یہ فکر پیدا ہوجائے کہ احکامات خداوندی ہر چیز پر مقدم ہے۔تمہاری تمام تر کامیابیوں کے راز اسی میں پنہاں ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو چاہے تمہاری عقل قبول کرے نہ کرے، تمہارے سماج کے خلاف معلوم ہو رہا ہو، تمہاری طبیعت اس کو پورا کرنے میں بوجھ محسوس کر رہی ہو۔
قربانی کا سارا فلسفہ یہی ہے اس لئے کہ قربانی کے معنی ہیں"اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے" لفظ" قربانی" قربان سے نکلا ہے اور لفظ "قربان" قرب سے بنا ہے یہ قربانی جہاں فی نفسہ ایک عظیم عبادت وبندگی اور شعاراسلام ہے وہیں یہ قربانی امت مسلمہ کو عظیم الشان سبق بھی دیتا ہے کہ یہ امت اپنے آپ کو کامل مسلمان بنائے سراسر اتباع اور اطاعت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی صحیح اور حقیقی روح "جذبہ اتباع" کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھ لے۔قربانی کی حقیقت اور اس کے پیچھے اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ دل میں جس چیز کی محبت اور طلب ہو وہی اللہ کی خاطر قربان کر دی جائے لیکن انسان تو صرف اپنی نفسانی خواہشات کی طلب اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں دن رات کمربستہ رہتا ہے۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ انسان سوچتا ہے تو محض یہ کہ وہ اپنے خواب کیسے پورے کرے، اپنی خواہشات کیسے حاصل کرے، مال و دولت کیسے کمائے، معاشرے میں مقام و مرتبہ کیسے بنائے۔ نہیں سوچتا تو بس یہ کہ اللہ کا قرب کیسے حاصل کیا جائے، گناہوں سے کیسے بچا جائے، اپنے نفس کی اصلاح کیسے کی جائے۔ وہ اپنی آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے ہر شے قربان کر دیتا ہے اگر قربانی نہیں دیتا تو محض اپنے نفس کی کیونکہ وہ اپنے نفس کی تسکین کی خاطر تو یہ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔لیکن انسان تب تک خیر نہیں پا سکتا جب تک اپنے نفس کی قربانی نہیں دیتا، قربانی کا اصل تقاضا اور اس کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ جس چیز سے تمہیں سب سے زیادہ محبت وانسیت اور لگاؤ ہے تمہارے دل میں اس چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حوصلہ اور جذبہ ہمہ وقت رہے، کیوں کہ اس وقت تک  بندے کی بندگی مقبول نہیں جب تک وہ اپنی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب اللہ اور اس کی نازل کردہ احکامات کو سمجھے، اور اس پر چلتا رہے، قربانی بھی اسی بندگی کی ایک کڑی ہے، اللہ ہم سب عید قرباں کے صحیح معانی ومفاہم سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

جمعرات, مئی 29, 2025

حج یہ "مہاکمبھ" کا میلہ نہیں ہے !              


آرایس ایس کا ہفتہ واری اخبار پنچ جنیہ ہے، اس کے ٹویٹر ہینڈل سےحجاج کرام کے قیام مزدلفہ کی ایک تصویرشائع کی گئی ہے، اس پر ایک نوٹ بھی تحریرکیا گیا ہے جس میں لکھا ہے: "٥٦/ اسلامی دیش، پیسے کے معاملے میں سبھی طاقتور، اس کے باوجود مکہ میں حج یاتریوں کی حالت اور بےبسی دیکھیے، یہ توچند لوگوں کی بھیڑ ہے، مہا کمبھ میں ۵٦/ کروڑ سے زائد لوگ ائے، پھر بھی ایسی کوبھ ویوستھانہیں رہی"
مذکورہ تحریر کے ذریعے سمجھے بغیر حج جیسی افضل ترین عبادت پرسوال قائم کیا گیا ہے، قیام مزدلفہ کےموقع کی ایک تصویربھی اس کے ساتھ شئر کی گئی ہےجس میں حجاج کھلے میدان میں ارام کر رہے ہیں اور کچھ لوگ عبادت میں مصروف ہیں، ان کی کسم پرسی دکھانے کی کوشش ہے، اور یہ کہنا ہے کہ مال و دولت کی ریل پیل کے باوجود یہ مسلمان ممالک حجاج کے لیے بندوبست نہیں کرتے ہیں ،یہاں کوئی ٹینٹ ہے نہ چھپڑ،سبھی رام بھروسے کھلے میدان میں پڑے ہیں۔
انصاف کی بات تو تھی کہ پہلےسمجھنے کی کوشش کرتےکہ آخر اس کھلے میدان میں یہ حجاج کیا کر رہے ہیں؟ کیوں اس پتھریلی زمین پر لیٹےپڑے ہیں؟ یہ ساری معلومات کے بعد مذہب اسلام کے اس بنیادی رکن پر سوال اٹھاتے، اور سوشل میڈیا کیاسے زینت بناتے، مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں کیا گیا، بس ایک تصویر ہاتھ لگی اور میدان مزدلفہ کی جسے مکہ مکرمہ کہ کر بنا کچھ سوچے سمجھے پوسٹ کر دیا، اس کا مقصد اسلام ومسلمان کو ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟اخبار کے اس عمل سے ہمیں ٹھیس پہونچی ہے اور سب سے پہلے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
حج کے مختلف ارکان ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے حج کے پورے سفر کا مطالعہ ضروری ہے، پہلی بات تو یہ کہ حج کے سفر پہ جانے والا کوئی غریب نہیں ہوتا ہےجس کا رونا رویا جارہا ہے، حج اسلام میں اسی پر فرض ہے جو مال و دولت رکھتا ہے، مذکورہ سوال جو مزدلفہ کی ایک تصویر کے ذریعہ کیا جارہا ہے، اس قدر دور جانے کی ضرورت کیا ہے؟ بلکہ یہ توحج کے سفر کی ابتدا ہی سے قائم ہوسکتا ہے، اس کی تصویربآسانی یہیں دستیاب ہوسکتی ہے وہ یہ ہرحاجی ایک ہی طرح طرح کا کپڑا زیب تن کیا ہوا ہے،گرمی کا زمانہ ہے، سفر سب کے سر کھلے ہیں، ٹوپی ہے نہ پگڑی ہے، سیدھی دھوپ سر پر پڑ رہی ہے، اس کے بچاؤ کے لیے کوئی نظم نہیں ہے، جبکہ عام دنوں میں اور اپنی عبادتوں میں یہ مسلمان ٹوپی اور پگڑی میں نظر اتے ہیں،میری سمجھ سے یہ پہلا اور ابتدائی وبنیادی سوال اگر حل کر لیتےتو باقی تمام سوالات خود بخود حل ہوتے چلے جاتے۔ 
حج مالداروں پر فرض ہے، انسان کی فطرت یہ ہے کہ دولت جب اس کے پاس آتی تو اپنے کو وہ خود کو بڑی چیز سمجھنے لگتا ہے، حج کے سفر میں اس بیماری کابھی علاج بھی اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ایک ہی لباس میں جسے احرام کہتے ہیں ،وہ سفید کپڑے کا اورسلا ہوا نہیں ہوتا ہے ،مردہ کو جس کپڑے میں دفن کیا جاتا ہے وہ بھی سفید ہوتا ہے اور بغیرسلاہوتا ہے، خواہ بادشاہ ہو یا فقیر،اسی کپڑے میں دفن کیا جاتا ہے، یہی کپڑا حج کے سفر میں ہر حاجی کو پہننا پڑتا ہے، اور سبھوں کے منہ سے ایک ہی ترانہ جاری ہوتا ہے جیسے تلبیہ کہتے ہیں، اس میں خدا کی بڑائی کا اعلان ہے، اپنی بڑائی کہیں نہیں ہے ،حاجیوں کے لیے حج کے سفر میں خیمے اور ٹینٹ کا بھی نظم ہے، مگر وہ منی اور عرفات کے میدان میں ہے، ان خیموں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی ہے، بادشاہ کا بھی خیمہ وہی ہوتا ہے جو ایک عام ادمی کا ہے، عرفات کے میدان سے چل کر حجاج مزدلفہ جاتے ہیں، مزدلفہ میں رات گزارنا حاجیوں کے لیے واجب و ضروری ہے، مگر یہاں خیمہ ہے اور نہ کوئی چھت ہے، بلکہ کھلے اسمان کے نیچے کھلے میدان میں رہنا ہے، عبادت کرنی ہے۔
 دراصل اس بات کا یہاں پر احساس کرنا ہے کہ کس طرح وہ لوگ زندگی گزارتے ہیں جنہیں گھر نصیب ہے اور نہ کوئی سائبان، اسی درد کو یہاں آکرمحسوس کرنا ہے ، پتھریلی زمین پر بیٹھنا ہے،اور ان کے درد و غم میں شریک ہونا ہے، ایک بادشاہ بھی اسی طرح کنکریلی زمین پر بیٹھاہوا،لیٹا ہوا، عبادت کرتا ہوا نظر اتا ہے جس طرح ایک عام حاجی کا معمول ہے، یہاں کوئی وی ائی پی کوٹا نہیں ہے، یہ مساوات اور برابری کا بڑا پیغام ہے ،جو مزدلفہ کے میدان سے پوری دنیا کو دیا جاتا ہے۔
 افسوس کے اس پیغام کو نہیں سمجھا گیا اور اج اس اہم پیغام کو اعتراض کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مذہب اسلام میں نماز کے ذریعے ایک ہی صف میں محمود و ایاز کو کھڑا کر کے یہی پیغام دیا گیا ہے، اسلام میں ایمان والے کی قیمت ایک ہے، یہاں سب کے لیے یکساں معاملہ کیا جاتا ہے۔
اسی حج کے سفر کی بات ہے، مکہ کے قریشی لوگ خود کو وی ائی پی سمجھتے تھے، عرفات کے میدان نہیں جاتے تھے، 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امد سے پہلے مکہ کے قریشی لوگ خود کو وی ائی پی سمجھتے تھے وہاں حاجیوں کے ساتھ عرفات کے میدان نہیں جاتے تھے حضرت علی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جاہلیت میں قریش حاجیوں کے ساتھ عرفات نہیں جاتے تھے اللہ تعالی نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی:ہاں تو تم وہاں جا کر واپس اؤ جہاں سے لوگ واپس اتے ہیں (سورہ بقرہ)
مذہب اسلام میں نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز کسی کو حاصل نہیں ہے،اور نہ کسی کے لیے کوئی اسپیشل قانون ہے۔ افسوس کہ لاعلمی کی بنیاد پر اج اس عمل کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے،یہ سراسر جھوٹ اور مذہب اسلام کے خلاف پروپگنڈا ہے، حج کی عبادت کا نام ہے، یہ کوئی کمبھ کا میلہ نہیں ہے ،ایام جاہلیت میں لوگوں نے اسے میلہ بنا دیا تھا، تفریح، کھیل، تماشے اور لڑائی جھگڑے جومیلوں میں ہوتے ہیں، یہاں بھی ہونے لگےتھے، قران نے یہ اعلان کیا:" حج میں نے کوئی فحش بات ہونے پائے اور نہ کوئی بےحکمی اور نہ کوئی جھگڑا( سورہ بقرہ)
عبادت کا مطلب صرف اور صرف خدا کی بڑائی وبندگی ہے،خدا کا پہلا گھر دھرتی پر کعبہ ہے ،حاجی وہاں جا کر طواف کرتے ہیں، اور حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی قربانیوں کو تازہ کرتے ہیں، صفا مروہ کا چکر لگا کر ایک ماں کی ممتا اوراس کی تڑپ کو تازہ کرتے ہیں، مزدلفہ کے ویرانے میں رات گزار کر اس بات کا احساس اپنے اندر پیدا کرتے ہیں کہ اللہ کے گھر کو اباد کرنے کے لیے اس ویرانہ کا انتخاب ان بزرگوں نے کیا ہے،مقصد کھیتی باڑی نہیں ہے، بلکہ خدا کی عبادت اور اس کے گھر کی حفاظت ہے۔ اسی مزدلفہ میں ایک وادی بھی ہےجسے وادی محسر کہتے ہیں، یہ وہی مقام ہے جہاں ابرہہ کی فوج کو اللہ نے نیست و نابود کیا تھا اور اپنے کعبہ کو بچا لیا تھا۔ اس جگہ حاجیوں کو ٹھہرنے سے منع کیا جاتا ہے، اس لیے کہ وہاں خدا کا عذاب ایا تھا، یہ تاریخی مقامات ہیں، اور ان میں بڑے پیغامات ہیں۔ آج انہیں عام کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ کہیں کا روڑہ کہیں کا پتھر، مارے گھٹنا پھوٹے سر۔
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
یکم ذی الحج ۱۴۴۶ھ بروز جمعرات

پیر, مئی 26, 2025

وقف ترمیمی قانون کےخلاف امارت کانیامحاذ        


یہ سبھی کے علم میں ہےکہ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف عرضیوں پر گزشتہ ۲۲/ مئی ۲۰۲۵ء کو ہی سماعت مکمل ہو چکی ہےاورسپریم کورٹ نےاپنافیصلہ محفوظ کر لیاہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کب ائےگا؟ اس تعلق سے دو باتیں کہی جارہی ہیں، اول یہ کہ ماہ رواں کے اختتام تک اس کی آمد کاقوی امکان ہے،دوم یہ کہ تاخیر کی صورت میں ۱۳/جولائی ۲۰۲۵ء کو تعطیل کے اختتام پرفیصلے کی گھڑی ان کھڑی ہوسکتی ہے۔ یہ فیصلہ کس کے حق میں ہے؟ 
یہ بات حتمی طور پر کوئی نہیں کہہ سکتا ہے،البتہ قیاس وقرینہ سےاس کے بہتر اور مسلمانوں کے حق میں ہونے کی امید کی جارہی ہے،اور یہ قیاس بے بنیاد بھی نہیں ہے،درحقیقت ترمیمی ایکٹ کے خلاف داخل عرضیوں پر جو اخری تین دنوں میں سماعت ہوئی ہے اس سے یہ امید کی کرن پھوٹی ہے، قوی امکان یہ ہے کہ انصاف پسند لوگوں اور ائین پر یقین رکھنے والوں کے لیے یہ بڑی تاریخی جیت ثابت ہو نے جارہی ہے۔ماہروکلاء نے جس مضبوطی کے ساتھ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف دلائل پیش کیے ہیں اس کی نظیر دیگر مقدمات میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

آخری سماعت میں ۲۵/سے زائدایسےپوائنٹس عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں جنہیں دلائل قاطعہ کہا جارہا ہے۔سینیئر ایڈوکیٹ جناب کپل سبل نےدرجن بھر سے زائد دلائل پیش کیے ہیں،یہ باتیں کس قدر اہم ہیں اندازہ کرنے کےلئے ملاحظہ فرمائیے;
  وقف قانون تحفظ کے نام پر اوقاف پر قبضہ ہے، اور ملک میں ایک نیا تنازع پیدا کرنے کی کوشش ہے، وقف ایک خالص مذہبی معاملہ ہے، اس کو سیکولر نظریے سے نہیں دیکھا جا سکتا ہےاورنہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو اس کا ممبر بھی نہیں بنایا جا سکتا ہے۔وقف بائی یوزر کو اس نئے قانون سے ہٹا دیا گیا ہے، جو پراپرٹی وقف ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہے وہ وقف نہیں ماناجائے گا۔ اس نئے قانون کے رو سے وہ جائیداد جو آرکیا لوجیکل کے تحت رجسٹرڈ ہے وقف نہیں مانا جائے گا۔ وقف کرنے کے لیے پانچ سال سے مسلمان ہونے کی شرط یہ آئین ہند کے خلاف ہے، ملکی قانون میں یہ نہیں ہے کہ ایک ہی مذہب کے لوگ دان کر سکتے ہیں وغیرہ ۰۰۰یہ مضبوط دلائل عدالت عظمی میں   پیش کئے ہیں،مزید ایڈوکیٹ راجیو دھون جی، منو سنگوی وایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے ایسے پوائنٹس پیش کیے ہیں جنکی توڑ فریق مخالف کی طرف سےہنوز نہیں کی جا سکی ہے،اسی لئے اس کیس کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آنے کی امید قوی ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگر تمام ملی تنظیموں کاوقف ترمیمی ایکٹ کے حوالہ سے یہ واضح اعلان موجود ہے کہ اس قانون کو واپسی تک اس کے خلاف تحریک جاری رہے گی، گزشتہ کل امارت شرعیہ کے ۵۴۱/ارباب حل و عقد نے باضابطہ اس کاریزولیشن بھی لیا ہے اوراس تحریک کو مسلسل جاری وساری رکھنے کا عزم مصمم کیا ہے،تجویز ملاحظہ کیجئے;
"اجلاس اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ وقف املاک ملت اسلامیہ کا قیمتی اثاثہ ہیں، اور وقف ایکٹ 2025ء ان اثاثوں کو سرکاری تحویل میں لینے کی سازش ہے، امارت شرعیہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی اداروں کی زیر قیادت احتجاجی جلوس، تحفظ اوقاف کانفرنسیں، اورضلعی حکام کو دیے گئے میمورنڈم قابل تحسین ہیں، یہ مہم اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک یہ قانون واپس نہ لے لیا جائے ،اجلاس تجویز کرتا ہے کہ گاندھی میدان میں تحفظ اوقاف کی ایک عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد کی تیاری فوری طور پر شروع کی جائے"۔
مذکورہ تجویز اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا ودیگر تمام ملی تنظیموں کے متفقہ فیصلے سے واضح ہوتا ہے یہ لڑائی وقف ترمیمی قانون کی واپسی تک جاری و ساری رہے گی، عدالت عظمی کا فیصلہ اس کی منزل نہیں ہے۔بلکہ اس تحریک کا اختتام قانون واپسی پر ہے۔
ابھی کچھ دنوں سے محسوس یہ ہو رہا تھا کہ یہ تحریک سرد مہری کا شکار ہو گئی ہے، ایسے وقت میں امیر شریعت جناب حضرت مولاناسید احمد ولی فیصل رحمانی نےاپنے صدارتی خطاب کے ذریعہ بھی یہ پیغام دیا ہےکہ تحفظ اوقاف تحریک کو تسلسل کے ساتھ جاری وساری رکھنا ہے، مزید اسمیں ندرت پیدا کرتے ہوئے مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں کہ; جمعہ کو کالی پٹی باندھ کر جمعہ کی نماز ادا کریں، اور ہفتہ کے دن فلش لائٹ کے ذریعہ احتجاج درج کرائیں، ان باتوں سے ایک بار پھرعوام الناس میں ایک نئی امنگ پیدا ہوئی ہے،مزید اس کو عظیم الشان اور تاریخ ساز بنانے کے لئےبہار کی راجدھانی کے گاندھی میدان میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ ۲۹/جون ۲۰۲۵ء کو امارت شرعیہ کرنے جارہی ہے، اس شاندار فیصلہ پرحضرت امیر شریعت و جملہ ارکان ارباب و حل و عقد کے ہم سبھی ممنون ومشکور ہیں۔واقعی اس کے ذریعہ وقف ترمیمی قانون کےخلاف تحریک کو ریاست بہار میں امارت نے ایک نئی زندگی بخش دی ہے اور اس کےلئےنیا میدان بھی تیار کرلیا ہے۔
مذکورہ ایکٹ کے خلاف امارت شرعیہ کی سابقہ کارگزاری بھی بڑی لائق تحسین رہی ہے،امارت کی نگرانی میں بہار کے ہر ضلع میں احتجاجی جلسے منعقد کیے گئےہیں،ہر ضلع کے کلکٹر کو میمورنڈم بھی دیا گیا ہے۔بہت ہی منظم انداز میں یہ سب کچھ انجام دیا گیا ہے ،کہیں سے کوئی بدنظمی کی شکایت نہیں آئی ہے، یہ امارت کے حسن انتظام کی برکت ہے،اور اب بحمداللہ چار ریاستوں کے تعاون سے گاندھی میدان میں عظیم الشان اجلاس کا تاریخی فیصلہ امارت نےلیا ہےگویا یہ زبردست پروگرام ہونے جارہا ہے، ہمیں امید ہے کہ ملک کے کونے کونے میں پھر سے امارت ودیگر ملی تنظیموں کی محنت سے وقف ترمیمی قانون کے خلاف تحریک مضبوط انداز میں دوبارہ شروع ہورہی ہے۔ اس آواز کوبہار میں مضبوطی کے ساتھ بلند کرنے میں امارت کی بڑی قربانی ہے،نیز صرف اسی لئے ناگفتہ بہ حالات کا بھی اسے سامنا کرنا پڑا ہے، مگر ذاتی نقصان کو برداشت کرتے ہوئے امارت  ملی مسائل کے لئے ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار  ثابت ہوئی ہے،آج بھی یہ اپنے مشن پر گامزن ہے۔
پھونک کر میں نے آشیانے کو               
روشنی بخش دی زمانے کو                
               
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 

26/5/2025

پیر, مئی 12, 2025

1857 کی ’جنگِ آزادی‘: جب دلی نے موت کو رقصاں دیکھامصنف : ریحان فضل

1857 کی ’جنگِ آزادی‘: جب دلی نے موت کو رقصاں دیکھا
Urduduniyanews72
مصنف : ریحان فضل
بی بی سی ہندی، دہلی

یہ مضمون ابتدائی طور پر مئی 2020 میں شائع ہوا اور قارئین کی دلچسپی کے پیشِ نظر دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے، میں وہ ایک مشت غبار ہوں

آج کے دور میں ایک عام آدمی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ان اشعار کے خالق آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے سنہ 1857 میں انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی آزادی کی پہلی جنگ میں ہندوستانیوں کی قیادت کی ہو گی۔
11 مئی سنہ 1857 کو پیر تھا اور رمضان کی 16 تاریخ۔
صبح سات بجے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ندی کنارے لال قلعے کے تصویر خانے میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔
اسی وقت انھیں جمنا پار ٹول ہاؤس سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
انھوں نے اس کی وجہ جاننے کے لیے فوراً اپنا ہرکارہ وہاں بھیجا اور وزیراعظم حکیم احسان اللہ خان اور قلعے کی حفاظت کے ذمہ دار کیپٹن ڈگلس کو بھی طلب کر لیا۔

ہرکارے نے آ کر بتایا کہ انگریزی فوج کی وردی میں ملبوس کچھ ہندوستانی سواروں نے برہنہ تلواروں کے ساتھ دریائے جمنا کا پل عبور کیا تھا اور انھوں نے دریا کے مشرقی کنارے پر واقع ٹول ہاؤس کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی تھی۔
یہ سن کر بادشاہ نے شہر اور قلعے کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔

شام چار بجے ان باغیوں کے رہنما نے بادشاہ کو پیغام بھجوایا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ باغی دیوان خاص کے احاطے میں جمع ہو گئے اور اپنی بندوقوں اور پستولوں سے ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔

’باغی بادشاہ کی آشیرباد کے خواہشمند تھے‘

دلی میں اس زمانے کے بڑے رئیس عبدالطیف نے 11 مئی کے اپنے روزنامچے میں لکھا: ’بادشاہ کی مثال وہی تھی جو شطرنج کی بساط پر شہ دیے جانے کے بعد بادشاہ کی ہوتی ہے۔‘
بہت دیر چپ رہنے کے بعد بہادر شاہ ظفر نے کہا کہ ’میرے جیسے بزرگ آدمی کی اتنی بےعزتی کیوں کی جا رہی ہے، اس شور کی وجہ کیا ہے؟ ہماری زندگی کا سورج پہلے ہی اپنی شام تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہماری زندگی کے آخری دن ہیں۔ اس وقت ہم صرف تنہائی چاہتے ہیں۔‘
بعد میں چارلس میٹکاف نے اپنی کتاب ’ٹو نیشنز نیریٹو‘ میں لکھا: ’حکیم احسان اللہ خان نے سپاہیوں سے کہا آپ انگریزوں کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور مقررہ تنخواہ کے عادی ہیں۔ بادشاہ کے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے۔ وہ کہاں سے آپ کو تنخواہ دیں گے؟‘
’سپاہیوں نے جواب دیا کہ ہم سارے ملک کا پیسہ آپ کے خزانے میں لے آئیں گے۔ بہادر شاہ ظفر نے کہا کہ میرے پاس نہ تو فوجی ہے، نہ ہتھیار اور نہ ہی پیسہ، تو انھوں نے کہا ہمیں صرف آپ کی حمایت چاہیے۔ ہم آپ کے لیے سب کچھ لے آئیں گے۔‘
چارلس لکھتے ہیں ’بہادر شاہ ظفر تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ فوری فیصلہ نہ کر پانا ان کی شخصیت کا سب سے بڑا نقص تھا لیکن اس دن بہادر شاہ ظفر نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی اور ہاں کر دی۔

’وہ ایک کرسی پر بیٹھے اور سبھی سپاہیوں نے باری باری ان کے سامنے آ کر سر جھکایا اور انھوں نے ان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا۔ سپاہیوں نے قلعے کے کمروں پر قبضہ کر لیا اور کچھ نے تو دیوان عام میں اپنے بستر لگا دیے۔‘

چاندی کا تخت اور نئے سکے

بادشاہ نہ تو اتنے بڑے لشکر کو قابو میں رکھ سکتے تھے اور نہ ہی ان کا انتظام کر سکتے تھے لہٰذا وہ خود لشکر کے قابو میں آ گئے۔
اگلے دن بادشاہ نے اپنا شاہی لباس زیبِ تان کیا۔ چاندی کے تخت پر رونق افروز ہوئے۔
بادشاہ کے نام پر سکے جاری کیے گئے پھر پھر ایک بڑی توپ داغے جانے کی آواز سنائی دی۔

انگریزوں کے خلاف بغاوت کیسے اور کیوں شروع ہوئی

اس سب کی شروعات 10 مئی 1857 کو میرٹھ میں اس وقت ہوئی تھی جب بنگال لانسر کے سپاہیوں نے بغاوت کر کے دلی کی جانب کوچ کیا تھا۔

سنہ 1857 کے واقعات پر انتہائی اہم تحقیق کرنے والی معروف تاریخ دان رعنا صفوی بتاتی ہیں: ’ایسی بندوقیں آئی تھیں جس کے کارتوسوں کو منہ سے کاٹ کر بندوق میں بھرنا پڑتا تھا۔ اس زمانے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اس کے اندر گائے کی اور خنزیر کی چربی ہے لہٰذا جو مسلمان تھے وہ بھی ان کو چھونے سے کترا رہے تھے اور ہندو بھی ان کو چھونے سے کترا رہے تھے۔‘
رعنا صفوی کے مطابق ’اس کے علاوہ بھی اسباب تھے کہ انھیں سمندر پار لڑائی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ تو برہمنوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پانی یعنی سمندر پار کر لیا تو ان کی ذات ختم ہو جاتی ہے۔ ان کی ترقی بھی صرف ایک حد تک ہوتی تھی۔ ہندوستانی سپاہی صوبے دار سے آگے نہیں جا سکتے تھے۔ اس طرح کی ان کی بہت ساری شکایتیں تھیں۔‘
کچھ لوگوں نے اسے غدر کہا تو کچھ نے جنگ آزادی کا نام دیا۔

دلی والوں نے باغیوں کا خیرمقدم نہیں کیا

ابتدا میں دلی والوں نے ہاتھ پھیلا کر ان باغیوں کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ کچھ حلقوں یہاں تک کہ بہادر شاہ کے قریبی لوگوں نے بھی ان کی مخالفت کی تھی۔
کہا گیا کہ ان باغیوں نے بھی شہنشاہ کا احترام نہیں کیا اور اس معاملے میں دربار کے قوانین کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا۔ درباریوں کو اعتراض تھا کہ وہ دربار میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے نہیں اتارتے اور شہنشاہ کے سامنے ہتھیار لے کر جاتے تھے۔
مشہور تاریخ دان اور کتاب ’بسیج 1857: وائسز آف دہلی‘ کے مصنف محبوب فاروقی بتاتے ہیں کہ ’دلی والے ناراض تھے لیکن اس سے ہم ایسا کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ دلی والے انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنا نہیں چاہتے تھے۔
’بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی ہر آدمی اپنے حساب سے لڑنا چاہے گا۔ کوئی یہ نہیں چاہے گا کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں آپ کے گھر کے اوپر 40 سپاہی آ کر بیٹھ جائیں۔‘
’جب ہم آزادی کی لڑائی مہاتما گاندھی یا کانگریس پارٹی کے ساتھ لڑ رہے تھے، بھگت سنگھ کے ساتھ لڑ رہے تھے تو بھی ہندوستان میں ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے گھر پر کوئی آنچ آئے یا پولیس ان کے گھر پر آ جائے۔ یہی بات سنہ 1857 پر بھی صادق آتی ہے۔‘

انتشار کے باوجود انتظام برقرار تھا

کہا جاتا ہے کہ ان واقعات نے دلی والوں کی زندگی میں بہت ہی اتھل پتھل مچا دی لیکن محبوب فاروقی کا خیال ہے کہ تمام تر انتشار کے باوجود نظام پہلے ہی کی طرح قائم تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’1857 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت افرا تفری تھی، بہت بدنظمی تھی، کوئی تنظیم نہیں تھی، کوئی کنٹرول نہیں تھا، کوئی ڈھانچہ نہیں تھا لیکن میں اپنی کتاب میں یہ بات کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔
’ظاہر سی بات ہے کہ ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے درمیان اگر 70 یا 80 ہزار فوجی آ جائيں گے تو کچھ نہ کچھ افرا تفری تو پھیلے گی۔ اگر آج دلی کی جتنی آبادی ہے اس میں 30 لاکھ فوجی آ کر بیٹھ جائیں تو شہر کا کیا حال ہو گا۔‘
ان کے مطابق ’اس کے باوجود جو بہت ہی حیرت انگیز اور عجیب و غریب چیز ہے کہ اگر کمانڈر ان چیف کوتوال سے کہہ رہا ہے کہ چار سپاہی جو ڈیوٹی پر نہیں گئے تھے ان کو پکڑ لاؤ اور چار سپاہی پکڑ لیے جاتے ہیں اور وہ آ جاتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ اچھا نظم و ضبط ہے۔ ‘
’آپ کو محاذ پر چار سو چارپائیاں چاہییں اور وہ آپ کو مل رہی ہیں تو یہ فراہمی کا ایک طریقہ ہے۔ یہ آسمان سے تو نہیں اتر رہیں، کسی نے کہا، کوئی گیا، کوئی لے کر آیا اور فورا ہی اس کا پیسہ دیا گیا۔ یہ تو ایک مثال ہے کہ لڑائی صرف سپاہی نہیں لڑتے ہیں۔ لڑائی جب آپ لڑتے ہیں تو آج کے زمانے میں بھی اگر آپ کو ٹاٹ کی بوریاں چاہییں، آپ کو پانی چاہیے، قلی چاہیے، مزدور چاہیے تو وہ سب ایک سپاہی کے ساتھ چار مزدور ہوتے ہیں تو وہ سب کہاں سے آ رہے تھے؟'

56 برطانوی مارے گئے

12 مئی کی صبح دلی انگریزوں سے پوری طرح خالی ہو چکی تھی لیکن چند انگریز خواتین نے قلعے کے باورچی خانے کے پاس کچھ کمروں میں پناہ لے رکھی تھی۔ باغیوں نے بادشاہ کی مخالفت کے باوجود ان سب کو قتل کر دیا۔
رعنا صفوی کہتی ہیں ’11 اور 12 کو جب انھوں نے حملہ کیا اور انگریزوں پر وار کیا تو اس وقت کافی انگریز تو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور کافیوں کو انھوں نے مارا بھی۔ کچھ عورتوں نے قلعے میں آ کر پناہ لی۔ وہیں پر انھوں نے دشمنی میں 56 لوگوں کو مار ڈالا۔ ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے جبکہ ان میں ایک دو مرد بھی تھے۔‘
ان کے مطابق ’بہادر شاہ ظفر کے خلاف جب مقدمہ چلا تو ان کے خلاف سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ انھیں آپ نے مروایا۔ حالانکہ ظہیر دہلوی کی کتاب اگر پڑھیے تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت 1857 کے غدر کے وقت قلعے میں موجود عینی شاہدین تھے وہ بتاتے ہیں کہ بادشاہ نے بہت کہا تھا کہ یہ کسی بھی مذہب میں نہیں لکھا ہے کہ تم معصوموں کو مارو۔‘

انگریزوں کی واپسی اور سزائیں

کچھ دنوں کے بعد ہی بغاوت کرنے والوں کے قدم اکھڑنے لگے اور دلی سے بھاگ نکلنے والے انگریزوں نے واپسی کی۔ انبالہ سے آنے والے فوجیوں نے بازی پلٹ دی اور انگریز ایک بار پھر دلی میں داخل ہو گئے۔

اور پھر شروع ہوا سزاؤں کا سلسلہ۔ اس وقت کے ایک برطانوی سپاہی، 19 سالہ ایڈورڈ وائبرڈ نے اپنے چچا گورڈن کو ایک خط میں لکھا تھا ’میں نے اس سے پہلے بھیانک مناظر دیکھے ہیں ، لیکن کل میں نے جو کچھ دیکھا ہے، میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں پھر کبھی ایسا منظر نہیں دیکھوں۔‘
’خواتین کو چھوڑ دیا گیا، لیکن اپنے شوہروں اور بیٹوں کی موت کے بعد ، ان کی چیخیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ مجھے ان پر ترس نہیں آیا لیکن جب میری آنکھوں کے سامنے معمر افراد کو جمع کر کے مار دیا گیا تو یہ میں مجھ پر اثرانداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔‘
محبوب فاروقی کہتے ہیں ’سنہ 1857 میں بہر حال افراتفری تھی اور کیوں نہ ہو کہ آپ اس بڑے پیمانے پر ایک ورلڈ پاور اور سپر پاور کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں تو ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ شہر میں جو کچھ جیسا تھا چلتا رہے گا۔ ظاہر سی بات ہے شہر میں شدید دہشت کا ماحول تھا، شک کا ماحول تھا، لڑائی چل رہی تھی تو اس قسم کا ماحول تو ہو گا۔‘
تاہم ان کے مطابق ’1857 کی بغاوت کے بعد جس طرح سے شہر اور شہریوں کو جبر کا نشانہ بنایا گیا اور جو انگریزوں نے کیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔
’دلی کے تمام شہریوں کو چھ مہینے تک شہر کے باہر رکھا گیا اور دلی والوں نے چھ مہینے تک سردی اور برسات میں کھلے آسمان تلے گزارے جبکہ محلوں کے محلے لوٹ لیے گئے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مرزا غالب بھی اسی دلی میں تھے۔ دیکھیں کہ وہ اس سب سے کتنے دہشت زدہ ہوئے کہ انھوں نے 1857 کے بعد سے اپنی زندگی کے باقی 12 برسوں میں کل 11 غزلیں کہی ہیں۔ یعنی ایک سال کی ایک غزل بھی نہیں بنتی ہے۔ تو شاعر مرزا غالب اور فنکار مرزا غالب یا جو وہ پوری کھیپ تھی 1857 کے بعد ختم ہو گئی۔‘

سنہ 1857 کے بعد سے ہندوستانی کبھی اس اعتماد کے ساتھ نہ انگریزوں سے مل پائے نہ بات کر پائے جو اس سے قبل ان میں موجود تھی۔ 1857 کی لڑائی ہندوستانی کی آخری لڑائی تھی جو وہ اپنی شرائط پر لڑ رہے تھے۔ اس کا مطلب اپنے ہتھیاروں پر نہیں بلکہ اپنی ذہنی شرائط پر، اپنی نفسیاتی شرائط پر۔‘

بادشاہ نے ہتھیار ڈال دیے

انگریز دلی میں داخل ہوئے تو بہادر شاہ ظفر لال قلعے کے عقب سے اپنی پالکی میں بیٹھ کر پہلے حضرت نظام الدین کے مزار پر گئے اور پھر وہاں سے ہمایوں کے مقبرے پر جہاں پر 18 ستمبر 1857 کو کیپٹن ولیم ہاجسن نے انھیں گرفتار کیا۔
بعد میں سی پی ساؤنڈرس کو تحریر کردہ خط میں انھوں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’بادشاہ، مرزا الٰہی بخش اور مولوی کے ساتھ ایک پالکی پر باہر آئے۔ ان کے پیچھے بیگم اپنے بیٹے مرزا جوان بخت اور والد مرزا قلی خان کے ساتھ باہر نکلیں۔ پھر پالکیاں رک گئیں اور بادشاہ نے پیغام بھجوایا کہ وہ میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں کہ ان کی جان بخش دی جائے گی۔‘
’میں اپنے گھوڑے سے اترا اور میں نے بادشاہ اور ان کی بیگم کو یقین دلایا کہ ہم آپ کی زندگی کی ضمانت دیتے ہیں بشرطیکہ کہ آپ کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان کی بےعزتی نہیں کی جائے گی اور ان کے وقار کو برقرار رکھا جائے گا۔‘
بہادر شاہ ظفر کی جان تو بخش دی گئی لیکن ان کے تین بیٹوں خضر سلطان، مرزا مغل اور ابوبکر کو ہتھیار ڈالنے کے باوجود گولی مار دی گئی۔
ولیم ہڈسن نے اپنی بہن کو ایک خط میں لکھا ’میں فطرتاً بےرحم نہیں ہوں لیکن مجھے ان تین بدبختوں سے چھٹکارا پا کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔‘

جب بادشاہ قیدی بنا

بادشاہ کو لال قلعے کی ایک کوٹھڑی میں ایک معمولی قیدی کی طرح رکھا گیا۔
سر جارج کیمبل اپنی کتاب ’میموائرز آف مائی انڈین کریئر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’بادشاہ کو ایسے رکھا گیا جیسے کسی جانور کو پنجرے میں رکھتے ہیں۔‘
بہادر شاہ ظفر کی نگرانی کے لیے تعینات لیفٹننٹ چارلس گریفتھ نے اپنی کتاب ’سیج آف دہلی‘ میں لکھا: ’ایک عام سی چار پائی پر مغل بادشاہ کا آخری نمائندہ بیٹھا ہوا تھا۔ ان کی لمبی سفید داڑھی تھی جو ان کے پیٹ تک آ رہی تھی۔ انھوں نے سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اسی رنگ کا صافہ باندھ رکھا تھا۔ ان کے پیچھے دو اردلی کھڑے ہوئے تھے جو مور کے پنکھ سے بنے پنکھے سے ان پر پنکھا جھل رہے تھے۔ ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا، ان کی آنکھیں زمین پر ہی گڑی ہوئی تھیں۔‘
ان کے مطابق ’بادشاہ سے تین فٹ دور ایک دوسری چارپائی پر ایک برطانوی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے دونوں طرف سنگینیں لیے انگریز سنتری کھڑے تھے جنھیں حکم تھا کہ اگر بادشاہ کو بچانے کی کوشش کی جائے تو وہ فوراً اسے مار ڈالیں۔‘

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اس حد تک بےعزتی کی گئی کہ انگریزوں کے گروہ کے گروہ انھیں دیکھنے آتے تھے کہ مغل بادشاہ دیکھنے میں کیسے لگتے ہیں۔
محمود فاروقی کہتے ہیں: ’بہادر شاہ ظفر کو قید کرنے کے بعد سے لال قلعے کی ایک کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا جہاں انگریز سیاح آ کر جس طرح آپ لال قلعے کو آج دیکھنے جاتے ہیں اسی طرح وہ ان کی کوٹھری میں جا کر انھیں دیکھتے تھے کہ یہ ہیں بہادر شاہ ظفر۔
’جس آدمی کا، جس بادشاہ ہندوستان کا دلی میں ہی یہ حال تھا تو ظاہر سی بات ہے کہ انھوں نے اپنی موت کی حسرت میں ہی باقی سال گزارے۔ یہاں سے انھیں رنگون بھیجا گیا اور اسی کے آس پاس رنگون کے بادشاہ کو مہاراشٹر لایا گیا۔‘
’یہ انگریزوں کی دنیا بھر میں حکومت تھی کہ بادشاہوں کی تجارت ادھر سے ادھر ہو رہی تھی۔ بہادر شاہ کے آخری ایام افسوس ناک اور دردناک ہیں۔ یہی وہ صورتحال تھی جس میں انھوں نے کہا:
’کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں‘
’ان پر جو کچھ گزرنا تھی میرا خیال ہے کہ سنہ 57 کے دوران اور اس کے بعد ان پر گزر چکی تھی۔ اس سے برا کیا ہو گا کہ تیموریہ جانشین اور بادشاہ ہندوستان کو آپ نے ایک کوٹھڑی میں رکھا ہوا ہے اور انگریز عورتیں اور بچے آ رہے ہیں ان کو دیکھنے کے لیے کہ اچھا یہ تھا بہادر شاہ!‘

بادشاہ کی موت

سات نومبر 1862 کو رنگون کے ایک جیل نما گھر میں کچھ برطانوی فوجی ایک 87 سالہ شخص کی لاش کو احاطے میں کھودی گئی قبر میں دفنانے کے لیے لے کر چلے۔ جنازے میں مرنے والے کے دو بیٹے اور ایک مولوی شامل تھے۔ کسی خاتون کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔
بازار میں کچھ لوگوں کو اس کی بھنک پڑی تو انھوں نے جنازے میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن مسلح سپاہیوں نے انھیں قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔
دفنانے سے قبل فوجیوں نے قبر میں چونا ڈال دیا تاکہ لاش جلد از جلد گل کر مٹی میں مل جائے۔
ایک ہفتے بعد برطانوی کمشنر ایچ این ڈیویز نے لندن بھیجی گئی رپورٹ میں لکھا ’اس کے بعد میں بقیہ شاہی قیدیوں کی خبر لینے ان کی رہائش گاہ پر گیا۔ سب ٹھیک ٹھاک ہیں اور کسی پر اس بوڑھے کی موت کا اثر دکھائی نہیں دیا۔ ان کی موت گلے میں فالج کی وجہ سے ہوئی۔
’تدفین کی صبح پانچ بجے ان کا انتقال ہوا۔ ان کی قبر کے چاروں طرف بانس کی باڑ لگائی جا چکی ہے۔ جب تک یہ باڑ ختم ہو گی تب تک وہاں گھاس اس زمین کو ڈھانپ چکی ہو گی اور کسی کو علم نہیں ہو گا کہ مغلوں کا آخری بادشاہ یہاں دفن ہے‘۔

اتوار, اپریل 27, 2025

خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر

خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر               
Urduduniyanews72 
کشمیر کے ضلع پہلگام میں واقع بیسرن گھاٹی کا واقعہ نہایت ہی دردناک والمناک ہے۔ گزشتہ منگل کے دن ۲۲/اپریل ۲۰۲۵ءکو نہتے اور مظلوم۲۸/ سیاحوں کودہشت گردوں نےموت کی نیند سلادیا ہے۔اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ سبھی بیسرن گھاٹی میں جسے "منی سویزرلینڈ" کہا جاتا ہے سیر و سیاحت کے لیے آئے تھے۔کشمیر میں باہر سے آنے والوں کی حیثیت مہمان کی سی ہے۔یہاں کی اکثریت آبادی مسلمانوں کی ہے۔ مذہب اسلام میں مہمانوں کابڑا مقام ہے، ارشاد نبوی ہے: "جو شخص خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے "(بخاری)
 اس حدیث کا تقاضا یہ ہےکہ مہمانوں کی عزت کی جائے، ان کی تکریم کی جائے، ان کی ضیافت کے ساتھ ان کی حفاظت کا بھی انتظام کیا جائے، یہ چیزیں ایک مسلمان پر صاحب ایمان ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ۲۸/سیاحوں کی جان چلی گئی، دہشت گردوں نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا،یہ سیاح ہی نہیں بلکہ کشمیری مسلمانوں کے لئے مہمان کا درجہ رکھتے تھے، انہیں بچایا نہیں جاسکا، ان کی جانی حفاظت نہیں ہوسکی، اور یہ سب کچھ چونکہ کشمیر میں رونما ہوا، لہذا اس بات کا سب سے زیادہ صدمہ کشمیری مسلمانوں کو پہونچاہےاور واقعی یہ لائق افسوس امر ہے۔
 آج اسی پیغام کو دینے کے لیے کشمیری عوام سڑک پر ہیں، بازار بند ہیں، مساجد کے منبر و محراب سے اس بزدلانہ حملے کی مذمت ہو رہی ہے، "ٹورسٹ ہماری جان ہیں"، ٹورسٹ ہماری شان ہیں"کے نعرے بلند کیے جا رہے ہیں۔کشمیری لوگ یہ بھی کہ رہے ہیں کہ ہم ان سیاحوں سے پیسے کماتے ہیں، ان سے ہماری روزی روٹی چلتی ہے، وہ شہید نہیں ہوئے ہیں دراصل ہم شہید ہو گئے ہیں،ہم ان کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ دے سکتے ہیں"
کشمیریوں کی معاش کابڑا دارومدار سیاحت پر ہی ہے،اس تکلیف دہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سیر وسیاحت پر برا اثر واقع ہونا فطری بات ہے، عموما یہ کہا جاتا ہے کہ مہمانوں کی آمد سے گھر میں برکت ہوتی ہے، اسی عنوان پر جناب 
 ماجد دیوبندی نے بڑا اچھا مصرع نظم کیا ہے کہ 
 اللہ رے میرے گھر کی برکت نہ چلی جائے
 دو روز سے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہے
کشمیریوں کے لیے یہ مہمان برکت ہی نہیں بلکہ رزق کا سامان ہیں، ان کی آمد موقوف ہونے کا سیدھا مطلب ان کا حقہ پانی بند ہونا ہے، یہ ان کے لئے بہت زیادہ فکر وتشویش کی بات ہے۔
قرآن کریم میں مہمان فرشتوں کا ایک قصہ بھی مذکور ہےکہ حضرت لوط علیہ السلام کے پاس کچھ مہمان تشریف لائے، گاؤں والوں کو خبر ہوئی تو ان پر حملہ کرنا چاہا،حضرت لوط علیہ السلام نے مدافعت و بچاؤ کی بھرپور کوشش کی اور حملہ آوروں سے یہ کہاکہ : یہ میرے مہمان ہیں،ان کے بارے میں مجھ کوفضیحت نہ کرو، اور خدا سے ڈرو مجھے رسوا نہ کرو"( سورہ حجر)
 علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ علیہ نےاس قرآنی واقعہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ مہمانوں کی حفاظت و مدافعت بھی ایک میزبان کے ضروری امر ہے، مہمان کے منجملہ حقوق میں سے یہ بھی ایک حق ہے۔ بحمداللہ اس آیت کی عملی تفسیر بھی ہمیں پہلگام میں دیکھنے کو ملی ہے۔کشمیری مسلمانوں نے جو وہاں موجود تھے ان کی حفاظت و مدافعت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اس نازک ترین وقت میں بھی اپنے مہمانوں کو تنہا نہیں چھوڑا ہے جبکہ اپنے بھی ساتھ چھوڑ کر بھاگے جارہے تھے، قیامت کا منظرتھا،نفسی نفسی کا عالم تھا، تابڑ توڑ گولیاں چل رہی تھیں، سبھی اپنی جان بچا کر بھاگ رہے تھے ،وہیں یہ کشمیری بھائی اپنے مہمان کی حفاظت و مدافعت میں لگے ہوئے رہے۔
ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی جسمیں ایک جوان ایک زخمی بچے کو اپنی پشت پر لاد کر دوڑتا چلا جارہا ہے، اس کا نام ساجد ہے اور پہلگام ہی کا رہنے والا ہے، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے یہ واضح کیا کہ تنہا میں نے سیاحوں کی مدد نہیں کی ہے بلکہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے کندھے پر زخمیوں کو اٹھا اٹھا کر محفوظ مقامات کو منتقل کر رہے تھے،وہ گھوڑے والے جو سیاحوں کو بیسرن وادی پہنچانے کا ذریعہ تھے انہوں اپنے مہمانوں کی حفاظت کا سب سے زیادہ حق ادا کیا ہے۔ گولیوں کے خوف سےوہ اپنی جان بچا کر بھاگے نہیں بلکہ بیسرن میں ڈٹے رہے، اور مظلوموں کی مدد کرتے رہے۔
بھائی ساجد کا یہ پیغام بھی بہت اہم ہے جو انہوں نے ملک کے تمام لوگوں کو آن کیمرہ دیاہے کہ:" افواہ میں نہ پڑیں، یہ قتل اپ کے بھائی کا نہیں، بلکہ ہم کشمیریوں کا ہوا ہے۔ پورے کشمیر میں اس وقت ماتم ہے، ایک ساجد ویڈیو میں نظر ارہا ہے مگر بیسرن میں ہزاروں ساجد موجود تھے،اوروہ اپنے مہمانوں کی حفاظت و مدافعت کر رہے تھے،جنکی ویڈیوزنہیں آسکی ہیں"۔
 دوسرا نوجوان جس کا نام سید عادل حسین شاہ ہے ان کی کہانی تو مذکورہ قرآنی آیات کی مکمل عملی تفسیر ہے۔عین اس وقت جب سبھی لوگ بھاگ رہے تھے، افرا تفری کا ماحول تھا، گولیاں چل رہی تھیں، سید عادل حسین شاہ اپنے گھوڑے پر لادکر ٹورسٹ کو لے جا رہے تھے، ایک دہشت گرد نے اس سیاح کو اپنی بندوق کا نشانہ بنانا چاہا تو بے ساختہ وہی جملہ ان کی زبان سے نکل گیا جو قرانی ہے اورخدا کے نبی حضرت لوط علیہ السلام کی زبانی ہےکہ:"یہ میرے مہمان ہیں، ان کے ساتھ ایسا مت کرو!، اسی پرسید عادل حسین شاہ نے اکتفا نہیں کیا بلکہ ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوگئے اور اپنے مہمان کی حفاظت میں حسینی کردار ادا کیا ہے، دہشت گردوں سے مقابلہ کیا ہے، اس رائفل کی نوک کا خود عادل نے سامنا کیا ہے جوٹورسٹ پر چلنےجارہی تھی،گولی چلتی رہی مگر وہ ہار نہیں مانے،آخری سانس تک لڑتے رہےاور اپنے خون کا اخری قطرہ مہمانوں کے نذرکردیا ہے۔ کشمیریوں نے جو کچھ اپنی زبانی دعوے میں کہا ہےاس کی یہ عملی دلیل بھی ہے،اللہ تعالٰی اس قربانی کو قبول فرمائےاورخیر کثیر کا ذریعہ بنائے، آمین 
 آج ملک میں پہلگام حادثے سے جہاں نفرت اور دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہیں سید عادل حسین شہید کی یہ حسینی شہادت خوب خوب رنگ لارہی ہے،نفرت پھیلانے والوں کو منھ کی کھانی پڑ رہی ہے، پریاگ راج کے بھاجپاایم ایل اے ہرش وردھن واجپئی جی بھی خود کو یہ کہنے پر مجبور پاتے ہیں کہ ;"میں ہندو ہوں، لیکن اس مسلمان خچر والے کا بھی خیال رکھیے گاجس نے نہتے روپ سے ایم فور رائفل اتنکیوں سے چھیننے کی کوشش کی اور اسی میں اس کی جان چلی گئی ۔کشمیریوں کے بارے میں سوچیے گا ،جو مسلمان ہیں، اور اج سری نگر میں شٹ ڈاؤن چل رہا ہے، بھارتی مسلمانوں کو پاکستانوں سے کمپیئر مت کیجئے گا۔
واقعی سید عادل شاہ نے اپنی اس قربانی سےپورے ملک کے انصاف پسند لوگوں کی انکھیں کھول دی ہے اور اسلام کا یہ پیغام عملی طور پر دیا ہے کہ ایک مہمان کی قیمت صاحب ایمان کی نظر میں کیا ہے؟ ہم ان کی قربانی کو سلام کرتے ہیں۔

ہمایوں اقبال ندوی
 نائب صدر جمعیت علماء ارریہ 
 و جنرل سیکریٹری،تنظیم ابنائے ندوہ پورنیہ کمشنری
26/4/2025

جمعرات, اپریل 17, 2025

وقف ایکٹ پر عدالت عالیہ کا موقف

وقف ایکٹ پر عدالت عالیہ کا موقف              
Urduduniyanews72
     وقف ترمیمی بل جو دونوں ایوانوں سے پاس ہوتے ہوئے صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد ایکٹ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔اس کے عملی نفاذ کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے، اس سے مسلم تنظیموں اور وطن عزیز کے انصاف پسند لوگوں میں بڑی مایوسی پیدا ہوئی ہے،پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، تکلیف دہ بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کی محنت رائیگاں چلی گئی ہے،پورا سال اسی ایک بات کو سمجھانے میں گزر گیا کہ یہ وقف ترمیمی بل آئین ہند کے خلاف ہے۔ ضابطہ یہی ہے کہ قانون ساز پارٹی بھی ملکی آئین کے خلاف دستور سازی نہیں کرسکتی ہے، اس کا حق اسے قطعی حاصل نہیں ہے۔اتنی صاف اور سیدھی بات بھی حکومت وقت کی سمجھ میں نہیں آسکی کہ یہ بل جمہوری ملک میں بسنے والے شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے، ارٹیکل 14،15 کے ذریعے یہاں کے ہر شہری کو مساوات کا حق حاصل ہے، ارٹیکل 25 کے ذریعے مذہب کی ازادی حاصل ہے، ارٹیکل 26 کے ذریعے مذہبی امور کے انتظام کی ازادی کا حق دیا گیا ہے، یہ بنیادی حقوق ہیں،ان سے کھلواڑ نہیں کیا جاسکتا ہے، جبکہ وقف امیڈمینٹ بل ان تمام حقوق پر کھلا ہوا حملہ ہے،پارلیمنٹ میں مذکورہ بالا دفعات کی روشنی میں مدلل اور مفصل بحث بھی ہوئی ہے، غير مسلم ممبران پارلیمنٹ نے تواس عنوان پرتاریخ رقم کی ہے اوربہترین مثال پیش کی ہے،،دنیا بھر میں یہ پیغام گیا ہے اور ہر کسی نے اس کی بڑی پذیرائی بھی کی ہے، اپوزیشن ممبران نے اس بات کو بڑی سنجیدگی سے ہاؤس میں پیش کیا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کامعاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کی آئین کی بقا اور اس کےتحفظ کا مسئلہ ہے، اگر اس پرفوری قدغن نہیں لگایا گیا تو ملک کا آئین ختم ہوجائے گا، چنانچہ ان تمام احباب نےاپنی ذمہ داری کا بروقت خیال کیا اور اس لمحہ کو یادگار اور تاریخ سازبھی بنادیا ہے،ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب کاوشیں دونوں ایوانوں میں سود ہوگئیں ، حزب اقتدار کو قانون بنانا تھا سو بنا لیا گیا، اوربڑی تیزی میں اس کے نفاذ کا بھی اعلان کردیا گیا، یہ سب دیکھ کر انصاف پسند لوگوں میں بڑی بے چینی پیدا ہوئی، بالآخر مجبور ہوکر عدالت عالیہ میں اس قانون کو چیلینج کیا گیا، آج 16/اپریل 2025۶ کی تاریخ میں ان تمام عرضیوں پر پہلی سماعت کی گئی ہے اور بحمدللہ بہت ہی خوش آئندرہی ہے،پہلی شنوائی میں سپریم کورٹ نے یہی باتیں کہی ہے کہ جو گزشتہ ایک سال سے کہی جارہی ہے،جو بات گزشتہ ایک سال سے حکومت کی سمجھ میں نہیں آسکی وہ عدالت عالیہ نے اپنی پہلی سماعت میں واضح کردیاہےاور یہ کہ دیاہے کہ ;یہ پوری طرح دھارمک معاملہ ہے اور اس میں کسی طرح کی مداخلت سویکار نہیں ہے،جن آئینی دفعات کی روشنی میں اس قانون کے خلاف درخواستیں پیش گئی ہیں اور انمیں یہ بات مشترک ہے کہ یہ ملکی آئین کے خلاف ہے گویاعدالت عالیہ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے، مذکورہ عدالتی تبصرہ سے یہ دعوٰی کیا جاسکتا ہے، علاوہ ازیں ترامیم کےاہم نکات کو سوالوں کے ذریعہ بھی آج سپریم کورٹ نے صاف کیا ہے اور یہ پوچھ لیا ہےکہ کہ; کیا آپ کسی ہندو بورڈ میں کسی مسلمان کو جگہ دیں گے، چیف جسٹس سنجید کھنہ جی سہ رکنی بینچ کا بذات خود حصہ ہیں، انہوں نے یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ وہ وقف کی جائیداد جو طویل عرصے سے وقف کے طور پر استعمال ہورہی ہے اور اس کا کوئی وقف نامہ نہیں ہے، اگر اسے غیر موقوفہ قرار دیا جائے تو سنگین نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
وقف کمیٹی کے حوالہ سے بھی باتیں آئی ہیں، عدالت عالیہ کا موقف یہی ہے کہ مرکزی کمیٹی میں مرکزی وزیر اقلتی امور کے علاوہ غیر مسلم کو جگہ نہیں مل سکتی ہے، اور ریاستی وقف کمیٹی میں ریاستی وزیر اقلتی امور کے علاوہ غیر مسلم نہیں ہوسکتے ہیں۔
عدالت عالیہ نے واقعی پہلی بحث میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے،یہ اگر چہ کوئی فیصلہ نہیں ہے مگر اس سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ ہمارے غم کو ملک کی بڑی عدالت نے سمجھ لیا ہےاور یہ آنسو جو جاری ہیں یہ بے سبب نہیں ہیں بقول عاجز رحمہ اللہ 
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے                  
مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے                  
بہت دشوار ہے سمجھانا غم کا                   
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے                 
ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری
16/4/2025

بدھ, مارچ 26, 2025

ویشالی کی بیٹی ثانیہ شفق نے بہار بورڈ انٹر آرٹس (بارہویں) میں کامیابی کا پرچم لہرایا

ویشالی کی بیٹی ثانیہ شفق نے بہار بورڈ انٹر آرٹس (بارہویں) میں کامیابی کا پرچم لہرایا
Urduduniyanews72
ضیائے حق فاؤنڈیشن کی جانب سے ثانیہ شفق بنت ذوالفقار علی خان کو انٹر آرٹس (بارہویں) میں کامیابی پر مبارکبادی ودعائیہ نشست کا انعقاد

پھلواری شریف پٹنہ مورخہ 26 /مارچ 2025 (پریس ریلیز :محمد ضیاء العظیم )
ثانیہ شفق ساکن مجھولی ضلع ویشالی بہار نے انٹر آرٹس میں امتیازی نمبر سے کامیابی حاصل کر کے ریاست بہار میں چھٹا اور ضلع ویشالی میں دوسرا مقام حاصل کیا ہے ۔ ثانیہ شفق نے 467نمبر حاصل کرکے یہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے، ثانیہ شفق چک غلام الدین ہائی اسکول بیلسر ویشالی کی طالبہ ہیں ، انہوں نے محض اساتذۂ کرام کی نگرانی اور ذاتی مطالعہ کے ذریعہ اس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد ذوالفقار علی خان خود اسی ادارہ میں انگریزی کے استاذ ہیں، 
اس موقع پر ضیائے حق فاؤنڈیشن میں ایک دعائیہ نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں قوم وملت کے تمام بچوں کی کامیابی اور اچھے مستقبل کے لئے دعا کی گئ،اور اظہار خیال کیا گیا، 
 محمد ضیاء العظیم اردو معلم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ثانیہ شفق چک غلام الدین ہائی اسکول کی ہونہار طالبہ ہیں، انہوں نے جہد مسلسل کے ساتھ یہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے، یقیناً ان کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہے، ہم ان کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے مستقبل کو تابناک بنائے ۔
ذوالفقار علی خان انگریزی معلم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے والے بچوں کو زندگی کی یہ کامیابی بہت بہت مبارک ہو، میں بحیثیت والد اور استاذ ان تمام والدین، اساتذۂ کرام، اور گارجین وسرپرست کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے طلبہ وطالبات کی بھر پور رہنمائی کی جن کاوشوں کی بنا پر ایک اچھا نتیجہ ابھر کر سامنے آیا ۔ محترم انیل کمار ہندی استاذ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ثانیہ شفق ایک ہونہار طالبہ ہے جس نے ویشالی ضلع کا نام روشن کرکے ہم سبھوں کو ایک عظیم اور نایاب تحفہ دیا ہے، میں بحیثیت استاذ ایسے شاگردہ پر فخر محسوس کرتا ہوں، ڈاکٹر امریندر کمار صدر مدرس نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چک غلام الدین ہائی اسکول ویشالی کے طلبہ وطالبات نے ہمیشہ عمدہ اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اور ثانیہ شفق نے اس روایت کو برقرار رکھا، ہم ان کے والدین سمیت تمام اساتذہ کرام کو مبارکبادی پیش کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر صالحہ صدیقی چیئر پرسن ضیائے حق فاؤنڈیشن نے خصوصی طور پر ثانیہ شفق اور عمومی طور پر ان تمام طلبہ وطالبات کو مبارکبادی پیش کی جنہوں نے اساتذہ کی نگرانی اور ان کی رہنمائی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، موصوفہ نے کہا کہ اس دفعہ کا نتیجہ اس بات کی علامت ہے کہ قوم وملت کے طلبہ وطالبات تعلیمی میدان میں بیدار ہورہے ہیں جو اچھے مستقبل کی علامت ہے، میں دعا گو ہوں کہ رب العالمین انہیں مزید کامیاب وکامران بنائے ۔ مولانا محمد عظیم الدین رحمانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً تعلیم اچھی سیرت سازی اور تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے، 
سماج ومعاشرہ میں اگر ایک بھی فرد کامیاب ہوتا ہے تو اس کا سہرا پورے سماج ومعاشرہ کے سر باندھا جاتا ہے، یقیناً یہ کامیابی صرف ان بچوں اور ان کے والدین کی نہیں بلکہ پورے سماج ومعاشرہ کی کامیابی ہے، تمام اساتذہ گارجین وسرپرست، طلبہ وطالبات قابل رشک ہیں جو تعلیم وتربیت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔
مبارکبادی پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر نسرین بانو، روپیش کمار، ستروگھن رام،ابھے کمار، روپم کماری، رشمی رانی، ناہید پروین، مولانا محمد عظیم الدین رحمانی، فاطمہ خان، عفان ضیاء، زیب النساء، عفیفہ فاطمہ، ازرہ فردوس کا نام مذکور ہے۔
واضح رہے کہ ضیائے حق فاؤنڈیشن ایک سماجی ،فلاحی اور ادبی تنظیم ہے جو دیگر ادبی خدمات میں سرگرم رہنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی کاموں میں بھی پیش پیش رہتی ہے، ٹرسٹ قوم وملت کے طلبہ وطالبات کی تعلیمی میدان میں بھر پور رہنمائی کرتی ہے، ساتھ ساتھ ان شعراء وادباء، صحافی، قلمکار کو تلاش کرتی ہے جو ایک اچھے فنکار ہونے کے باوجود بھی دنیائے ادب انہیں نظر انداز کرتی ہے اور وہ گمنامی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، انہیں تلاش کرکے ان کے علوم وفنون سے دنیائے ادب کو متعارف کراتی ہے ، مذکورہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شہر پٹنہ کے قلب میں واقع مسلم اکثریتی علاقہ پھلواری شریف میں ایک ادارہ بھی چل رہا ہے جہاں بچے بچیاں اپنی علمی وادبی پیاس بجھا رہے ہیں۔

منگل, مارچ 18, 2025

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں شاندار سالانہ نتیجہ اور تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں شاندار سالانہ نتیجہ اور تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد
Urduduniyanews72
مظفر نگر ۱۷ مارچ ۲۰۲۵ تسمیہ جونیئر ہائی اسکول نے پیر کو سالانہ نتیجہ اور تقسیم انعامات کی ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب کسی بھی اسکول کے لئے ایک اہم موقع ہوتا ہے جو طلبہ کے تعلیمی سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ اساتذہ، طلباء اور والدین کے لئے فخر اور جذبات سے بھرا ہوتا ہے۔

تقریب کے وقار کو بڑھانے کے لئے مہمان خصوصی عزت مآب پنکج ملک (ایم، ایل، اے چر تھاول) موجود رہے۔ ساتھ ہی مہمان ذی وقار گوہر صدیقی (سماجی کارکن) نے پروگرام میں شرکت کی۔

پروگرام کے آغاز میں اسکول کے قائم مقام پرنسپل جناب جاوید مظہر نے استقبالیہ تقریر پیش کی۔ انہوں نے اسکول کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تسمیہ جونیئر ہائی اسکول تعلیمی میدان میں بہترین کام کر رہا ہے اور طلباء کو نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی اور سماجی طور پر بھی با اختیار بنا رہا ہے۔ انہوں نے طلباء کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور والدین سے گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

مہمان خصوصی پنکج ملک (ایم ایل اے چر تھاول) نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ معاشرے کی ترقی کا دارومدار تعلیم یافتہ شہریوں پر ہے۔ بچے ہمارے مستقبل کی بنیاد ہیں اور ہمیں انہیں بہتر تعلیم اور اقدار دینے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

مہمان ذی وقار گوہر صدیقی (سماجی کارکن) نے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہمیں ایک بہتر انسان بناتا ہے۔ صرف محنت، لگن اور ایمانداری سے مطالعہ ہی بچوں کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

ہونہار طلباء کو اعزاز سے نوازا گیا اس موقع پر تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسکول کے طلباء کو اعزاز سے نوازا گیا۔ انعامات حاصل کرنے والے طلباء میں شامل ہیں:

عائرہ قریشی، عمرہ دانش، ولیہ، یو کے جی (جی) حمزه ،صمد، عاكف ۔ یو کے جی (بی) عبداللہ صدیقی، ہدایہ سمیہ (درجہ -۱) فاطمہ ذکرہ، فیضان (درجہ ۲) نور المدیحہ، زینب منصوری، شاہ باز (درجہ ۳) حمیرا عرفان، فاطمہ سمائیرا (درجہ ۴) زویا قریشی، ام حبیبہ زین قریشی (درجہ ۵) آمنہ صدیقی، عائشہ جاوید، شیرین (درجہ ۶ جی) عبدالصمد عرفان، شعبان، عبدالصمد شہزاد (درجہ ۶ بی) اقراء نبیہ، علما (درجہ ۷ جی) ارمان خان، منا، ارمان (درجہ ۷ بی) اقصیٰ شہرزاد، ام ایمن، ارین روشن (درجہ ۸ جی) محمد ایان، محمد وارث، عبدالرحمان (درجہ ۸ بی)۔

اختتامی تقریب میں جاوید مظہر نے تقریب کو کامیاب بنانے کے لئے تمام اساتذہ، طلباء اور والدین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا "ہمارا اسکول طلبہ کی ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ ہم ایک مشن کی طرح تعلیم کو آگے بڑھا رہے ہیں اور بچوں کو نہ صرف علم بلکہ اقدار بھی فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔ تسمیہ جونیئر ہائی اسکول کا عظیم الشان کانووکیشن اسکول طلباء اور والدین کے لئے ایک متاثر کن اور ناقابل فراموش تقریب بن گیا ۔

منگل, مارچ 11, 2025

پروفیسر قاضی زین الساجدین صدیقی میر ٹھیایک مخلص عالم دین،ملی رہنما ،عظیم دانشور اور ماہر تعلیم تھے

پروفیسر قاضی زین الساجدین صدیقی میر ٹھی
ایک مخلص عالم دین،ملی رہنما ،عظیم دانشور اور ماہر تعلیم تھے
Urduduniyanews72
مولانا مفتی عطاءالر حمن قاسمی

مارچ نئی دہلی ، پروفیسر زین الساجدین صدیقی سابق صدر وڈین شعبہء سنی دینیات مسلم یونیورسٹی علیگڑھ و سابق چیئر مین یو پی مدرسہ بورڈ کے اچانک انتقال پر اظہار رنج و ملال کرتے ہوئے مولانا مفتی عطاءالر حمن قاسمی چیئر مین شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی و نائب صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے کہا کہ شہر قاضی میرٹھ پروفیسر زین الساجدین صدیقی ایک مخلص عالم دین،ملی رہنما، عظیم دانشور اور ماہر تعلیم تھے، وہ ایک علمی خانوادہ کے چشم وچراغ تھے، آپ کے والد قاضی زین العابدین سجاد میر ٹھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اور دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن تھے ، خود پروفیسر قاضی زین الساجدین صدیقی تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند کے جنرل سکریڑی ،آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کے رکن اورشاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے بھی رکن تھے، آپ ایک اچھے قلم کار اور مصنف بھی تھے، آپ اپنی حیات مستعار کے آخری دنوں میں اپنے خاندان کے حالات وکوائف ا ورعلمی، دینی اور سماجی خدمات پر ایک اہم کتاب لکھنے میں مصروف تھےاور برابر اس کاذکر فرماتے تھے، آپ کے خانوادہ کا، خاندان ولی اللٰہی سے بڑا گھرا تعلق رہاہے،وہ تحریک شہیدینؒ سے بھی وابستہ رہےہیں۔
پروفیسر قاضی زین الساجدین میر ٹھی بڑے جری و بیباک انسان تھے، وہ ہرقسم کی اپنی قومی وملی رائے بڑی قوت ومضبوطی کے ساتھ رکھنے کے عادی تھے، پروفیسر زین الساجدین صدیقی کے انتقال سے جہاں قوم وملت کا عظیم خسارہ ہوا ہے، وہاں میرا ناقابل تلافی نقصان بھی ہواہے، اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کےدرجات ومراتب بلند کرے اور ان کے پسماند گان ولواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔آمین!


پیر, مارچ 10, 2025

*گرتوبرانہ مانے۔۔۔۔۔ *

*گرتوبرانہ مانے۔۔۔۔۔ *
Urduduniyanews72
مدرسوں کی سفارت بہت اہم اورنازک مسئلہ ہے۔تلخ نوائی معاف مگر حقیقت یہ ہےکہ مدارس کی سفارت کاواحد مقصد بس اب یہ رہ گیا ہے کہ 
مسلم معاشرہ کے غریب ونادارمسلمانوں کے حقوق سمیٹ کر مدرسہ میں لایا جائے اوراس میں سےہر ماہ تنخواہ لے کر اقربا پروری کی جائے۔ آخر مدرسہ والے مدرسوں کے اخراجات کےلیےخودکفالتی کے طریقے کیوں نھیں اختار کرتے کہ چندہ چٹکی کے لیے در در بھٹکنانہ پڑےاورغریبوں، یتیموں اور مسکینوں تک ان کا حق پہنچتارہےاوران کے حالات بھی بدل سکیں۔ ان کے سارے حقوق مدرسےوالےسمیٹ لے جاتے ہیں اور مسلم معاشرہ غریبی کی دلدل سے کبھی باہر ، نھیں آپاتا۔ مدرسوں کے منتظمین کوان ذرائع کے متعلق بھی غور کرناچاہئیے جن کے سبب چندہ وصولی کا دروازہ ہی بند ہو جائے اورمدرسہ اپنے آپ میں خود کفیل ہو۔ مدرسوں میں تجارتی شعبہ جات کیوں نھیں قائم کیےجاتےجن کی آمدنی سے مدرسہ کےاخراجات پورے ہوں! یہ ناممکن تونھیں۔کیا ضروری ہےکہ مدارس کے طلباء کی پرورش اسی مال سے کی جائے جسے نبی کریمﷺ نے مال کامیل کہا ہے۔ مدرسوں کے منتظمین کو چاہئیے کہ وہ علمائے کرام سے چندہ وصولی نہ کرایں۔ یہ ان کے منصب کے منافی ہے۔ بلکہ انتظامیہ ایسے وسائل واسباب اختیار کرےکہ ذکاۃ اور فطرہ وخیرات وصول کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔مدرسوں میں الگ سے ایک تجارتی شعبہ ہو جسے تنخواہ دار ملازمین کے ذریعے چلایاجاناچاہئیے۔ ان پر نگراں مقررہو۔ محاسب ہو۔ دیکھ دیکھ کرنے والے ہوں۔ مسلم معاشرہ کے افراد کو ملازمتیں مل سکیں۔ یہ بھی اسی فعال عمل سے ممکن ہے مگر نھیں سب سے آسان طریقہ اختیار کیاگیاکہ رسیداوررودادعلماء کے ہاتھوں میں پکڑادواورکہوکہ وہ سفرپرنکلیں اور ففٹی ففٹی پرسنٹ پر چند ہ وصول کر لائیں اور اگر کوئی غیرت مند عالم انکارکرےتوملازمت سے سبکدوشی کی دھمکی دی جائے۔ کیا یہ استحصال نھیں ہے۔؟مدرسہ چلانے والے عہدہ داروں کی ذمہ داری ہےکہ وہ اس کی آمدنی اور اخراجات کےکےلیےدیگرذرائع کے متعلق غوروفکر کریں اورذکوٰۃ وفطرہ اور خیرات کومسلم معاشرہ کےکمزورافرادکےلیےچھوڑدیں۔ مگر افسوس کہ عامتہ المسلمین کے ذہنوں میں یہ بات بھی بٹھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہےکہ مدرسہ میں ذکٰوۃ نھیں دوگےتوذکٰوۃ ادا ہی نھیں ہوگی۔ایک کروڑ روپئے کے بجٹ والےمدرسےپچاس لاکھ روپئے میں تجارتی شعبہ کیوں نھیں کھولتے۔؟جس کی آمدنی سے مدرسےکاخرچ اٹھایا جاسکے۔ 
سب کچھ ممکن ہے، اگر آدمی کرنا چاہے۔ چھوٹے اوربہت کم بجٹ والے مدرسوں کی مجبوریوں کو سمجھا جاسکتا ہے مگر وہ مدرسےجولاکھوں لاکھ اور کروڑوں کا بجٹ رکھتے ہیں اور سفارت کاروں کو چندہ وصولی کےلیےدربہ دربھٹکنے، اور ذلیل ورسواہونےپرمجبورکرتےہیں۔انھیں کیا کہا جائے اور ان کے سفیروں کے ساتھ کیابرتاؤکیاجائے۔؟ 

  انس مسرورانصاری
قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن

سامان کی قیمت معلوم ہے رمضان کی نہیں!

سامان کی قیمت معلوم ہے رمضان کی نہیں!      
Urduduniyanews72
امسال رمضان کا مہینہ سردی وگرمی کےملےجلے احساسات لیکر آیا ہے ،سردی ہے نہ زیادہ گرمی ہے، بھوک وپیاس برداشت ہے،اورسب کچھ سازگار وخوشگوارہے۔اس سے حوصلہ پاکر چھوٹے چھوٹے بچے بھی روزہ رکھ رہے ہیں، اس پر خدا کا شکرہم پر لازم ہے، اور یہ رمضان ہم سے زیادہ سے زیادہ اعمال کا مطالبہ کرتا ہے،اس ماہ مبارک کا حق صرف روزہ سے ہم ادا نہیں کرسکتےہیں ،یہ بات ملحوظ رہے کےاس برکت والے مہینے کے دامن میں اور بھی ہیرےو موتی ہیں، رمضان درحقیقت نزول قرآن کے جشن کا مہینہ ہے،کتاب الہی سے اس کو نسبت خاص حاصل ہے،اسی لئےتراویح میں قرآن کےپڑھنے ومکمل کرنے کا حکم ہے،جس طرح ایک روزہ دار کو ایمان واحتساب کے ساتھ روزہ پر پچھلے تمام گناہوں کی بخشش کی بشارت دی گئی ہے بالکل اسی طرح قیام اللیل پر بھی سابقہ گناہوں سے معافی کا پروانہ ملتا ہے،اس حدیث سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ رمضان کادن بھی مبارک ہے اور اس کی راتیں بھی برکت والی ہیں،اور یہ سب کچھ قرآن کریم کے صدقے ہے۔نزول قرآن کےاس مہینے میں تلاوت پر نیکیوں میں یوں بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ عام دنوں میں ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں ملتی ہیں مگر رمضان میں ہرایک نیکی کا ستر گنا ملتا ہے، نفل نماز کا ثواب فرض کے برابر ،اور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر کردیا جاتا ہے۔اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ نوافل کا اھتمام بھی اعمال رمضان میں شامل ہے،اس لئے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ نوافل کااھتمام ہم اس ماہ مقدس میں کریں۔ رات ودن کے ان قیمتی لمحات کا بہترین استعمال دعائیں کرنا بھی ہے۔دعا عبادت کا اصل ہے،ملکی حالات آئے دن ابتر ہوتے چلے جارہے ہیں، ساری تدبیریں الٹی پڑرہی ہیں، مسجد، مدرسہ، عیدگاہ، درگاہ،خانقاہ سب کچھ نشانے پر ہیں، خطرناک قسم کی سازشیں ہورہی ہیں، ایسی تدبیریں کہ پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دے، ان حالات میں ایک صاحب ایمان کے لئے دعا زبردست ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمیں ملک کی سلامتی، دین اسلام کی اشاعت وحفاظت کے لئے اس ماہ مبارک میں خاص اھتمام کرنا چاہئیے۔
آج لوگوں رمضان کا حق صرف روزہ اور افطاری وسحری کی تیاری کو سمجھ لیا ہے،" میرا روزہ ہے،افطاری کرنی ہے،سحرکھانا ہے"،پورا رمضان اسی پر محیط ہوتا ہے۔یہ چیزیں ٹھیک ٹھاک رہیں تو کہتے ہیں کہ ;اب کی بار تورمضان بڑا اچھا گزر ا" 
پورے رمضان اشیاء خوردنی پرہی خاص توجہ رہتی ہے، اس کی قیمت کا بھوت دماغ پر سوار رہتا ہے، بازار میں اور گھر میں اسی بات کا چرچا ہے کہ;" رمضان شروع ہواتو پپیتا مہنگا ہوگیا، تربوز کی قیمت بڑھ گئی، کیلے مہنگے ہوگئے،ڈرائی فروٹ کی قیمت آسمان پر پہونچ گئی"،وغیرہ ۰۰۰مگر اس بات کا ذکر نہیں ہوتا کہ;" یہ نیکی کا مہینہ ہے، ہر نیکی کی قیمت بڑھا دی گئی ہے اور کئی گنا زیادہ ہوگئی ہے"، یہ بڑی نادانی اور ناواقفیت کی بات ہے،اچھے خاصے پڑے لکھے لوگ اس عنوان کو رمضان میں موضوع سخن نہیں بناتے ہیں، عام لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ہے، نیکیوں کے چرچے پر بھی اجر ملتا ہے اورعوام الناس کا اس سے مزاج بنتا ہے اور نیکی کی چاہت دل میں پیدا ہوتی ہے۔
آج یہ سب چیزیں ہم ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ غلط اور بے بنیاد باتیں اسقدر چرچے میں لائی جاتی ہیں کہ لوگ صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔ہمارے پاس توخدا کا کلام ہے، قرآن ہے اور ماہ مبارک رمضان ہے،باوجود اس کے قرآن وحدیث کی باتوں کو عام کرنے اور چرچے میں لانےکی فکر نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ رمضان میں ہمیں کچھ 
  ایسے لوگ اپنی صف میں نظر آتے ہیں جو صحت مند ہوتے ہوئے بھی روزہ نہیں رکھتےہیں، ان بدنصیبوں کواس بات کا علم نہیں ہے کہ رمضان کے ایک روزہ کی قیمت کیا ہے؟پوری زندگی روزہ کی حالت میں گزاردینے سے بھی رمضان کے روزوں کی تلافی ممکن نہیں ہے۔رمضان کی سعادت اور روزہ کی توفیق کے لئے خدا بندے کے لئے فضا سازگار بناتا ہے، روزے اور نیکی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کرتا ہے،
  شیطان کو قید کردیتا ہے۔بخاری ومسلم شریف کی حدیث میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آسمان کے دروازے کھول دیئےجاتےہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔نفلی عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب اس ماہ مبارک میں ستر فرض کے برابر کردیا جاتا ہے۔روزہ دار کے لئے دو خوشی کے مواقع آتے ہیں، ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسرا جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے۔حدیث میں اللہ کا فرمان یہ بھی ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
یہ سب کچھ اسی لئے ہوتا ہے کہ بندہ روزہ کی برکتیں حاصل کرلےاور خدا کی خاص خوشنودی کا حقدار ہوجائے۔
یہ روز وشب یہ صبح وشام یہ بستی یہ ویرانہ سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہوجائے     

مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 
۹/رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ بروز دوشنبہ

اتوار, مارچ 09, 2025

ٹرین میں ناری شکتی پردرشن

ٹرین میں ناری شکتی پردرشن 
Urduduniyanews72
عالمی یوم خواتین سے سبھی واقف ہیں، یہ ہرسال مارچ کی آٹھویں تاریخ کوپوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔اس کا پیغام عورتوں کو بااختیار بنانا،نیز ان پر ہونے والے مظالم کو روکنا ہے، یہ ایک اہم کام ہے اوراس وقت کا ایک بڑا سماجی مسئلہ بھی ہے،اس پر محنت وکاوش کی شدید ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بدقسمتی سے اپنے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے والا یہ اہم ایجنڈا بھی سیاسی ہتھکنڈا بن گیا ہے۔مارچ کی پہلی تاریخ سے ہر سیاسی پارٹی کی طرف سے تیاری شروع ہوجاتی ہے، بڑے بڑے بینر تیار کئے جاتے ہیں، اس میں بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں، پھر آٹھ مارچ کے دن زبردست تقریر وتقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور اس میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ خاتون کے لئے دراصل مسیحا ہم ہیں، ہماری وجہ سے خواتین کسی میدان میں مردوں سے کم نہیں ہیں، اور خاص طور پر ناری شکتی کرن پر فوکس کیا جاتا ہے ۔یہ باتیں اب تک اسٹیج سے ہی کہی جاتی رہی ہیں، اس کا عملی نمونہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے مگر اس بار عملی طور پر ٹرین سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے،خواتین کے ذریعہ مردوں کو پٹوا کر اس کی زندہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ انہوں نے ہم سے حوصلہ پاکر یہ کارنامہ انجام دیا ہے، یہ بات اس لئے بھی کہی جاسکتی ہے ان واقعات میں بڑی یکسانیت ہے،راجستھان کے ایک عالم دین جو بزرگ ہیں،عمر کی آخری دہلیز پر ہیں، متشرع اور باریش ہیں، گجرات میں چھیڑ خانی کا ان پر الزام لگا کر ان کی پٹائی کی گئی۔وہیں ایک دوسرے بزرگ مفیک الاسلام پر بھی چھیڑ خانی کا الزام لگا کر خانون نے ان کی خوب پٹائی کردی، یہ سب کچھ آٹھ مارچ کے آس پاس کیا گیا ہے۔
 ، ان واقعات کی باریک بینی سے تحقیق اور جانچ ہو تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکتا ہے۔
اس واقعہ کا دوسرا پہلو جس کی طرف عام لوگوں کی توجہ نہیں ہے ،اس کے ذریعہ یہ پیغام بھی دینے کی ناکام کوشش کی گئی ہے کہ ہماری خواتین کو دراصل خطرہ مسلمانوں سے ہے،اور ہم نے انہیں اتنا پاور دیدیاہے کہ وہ اپنی تھپڑ کے ذریعہ ان زیر وزبر کررہی ہیں ۔یہ محض اتفاقی حادثہ نہیں ہے، بلکہ اس سے سازش کی بو آتی ہے،ناری شکتی کرن کا جو نعرہ اسٹیج سے دیا جاتا ہے اس کا عملی نمونہ ان دونوں واقعات کے ذریعہ دکھایا گیا ہے، یہ درحقیقت ٹرین میں ناری شکتی پردرشن ہے۔ اس کی پوری کہانی لکھی گئی ہے۔ایک خاتون کو طاقت انصاف کے ذریعہ مل سکتا ہے وہ تو کوسوں دور ہے، علیگڑھ کے ھاترس میں رونما ہونے والا المناک حادثہ جس نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا، پھر اس وقت چرچے میں آگیا ہے۔ایک ماں اپنی بیٹی کی عصمت وعزت اور جان وجہاں کھودینے کے بعد انصاف کے لئے اس وقت در در بھٹک رہی ہے مگر انہیں سیکورٹی تو مل گئی ہے مگر انصاف نہیں۔ملاہے،ضلعی عدالت سے ملزمین بری کردئیے گئے ہیں،مذکورہ بالا دونوں واقعات کے ذریعہ اس پر پردہ ڈالنے کا کام بھی کیا گیا ہے۔ 
ہمایوں اقبال ندوی ارریہ 
۹/مارچ ۲۰۲۵ء بروز یکشنبہ

منگل, مارچ 04, 2025

** اللٌٰہ ***

** اللٌٰہ *** 
Urduduniyanews72
میرے جنوں کو شعلہ بیانی دےاللٌٰہ 
پتھر بھی ہوجائے پانی، دےاللٌٰہ

میرےدریدہ پیراہن بھی مہک اٹھیں
پھولوں سادن رات سہانی دےاللٌٰہ

میرےباغ کےگل بوٹےبھی ہوں خوش تر
گوہرِ شبنم کی ارزانی دےاللٌٰہ

میرےتیرےبیچ نہ کوئی حائل ہو
ایسا کوئی رازِ نہانی دےاللٌٰہ

طیبہ جاؤں پلکوں سے ذرات چنوں 
قسمت کو انمول نشانی دےاللٌٰہ

صحراؤں میں بیت گئی یہ عمرتمام 
برسوں کاپیاساہوں، پانی دےاللٌٰہ

موجوں کی طغیانی کا ادراک ملے
کشتی کو اب اذنِ روانی دےاللٌٰہ

خاک کاپیکرہوں لیکن تو چاہے تو
میری غزل کونور فشانی دےاللٌٰہ

اپنی قوم کے نام جسے منسوب کروں 
ایسی غیرت خیز کہانی دےاللٌٰہ

گھر آنگن کومہکادےتورحمت سے
بیلا، جوہی،رات کی رانی دےاللٌٰہ

میری کیااوقات دعا کو ہاتھ اٹھاؤں 
تو چاہے تو سب آسانی دےاللٌٰہ

سب اشعار انس مسرورکےہوں مقبول 
ایسا طرزِ پاک بیانی دےاللٌٰہ
                    **********     
                * انس مسرورانصاری
         ,قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن
سکراول،اردوبازار،ٹانڈہ۔ضلع امبیڈکرنگر۔224190/
                                ( یو، پی) 
                      رابطہ/9453347784/

جمعہ, فروری 28, 2025

رمضان المبارک کے روزے صبر وتحمل کا پیغام ۔

رمضان المبارک کے روزے صبر وتحمل کا پیغام ۔
     مضمون نگار :  محمد ضیاء العظیم قاسمی ،
معلم  چک غلام الدین ہائی اسکول بیلسر ،ویشالی ،بہار 
موبائل نمبر 7909098319 
Urduduniyanews72
           اللہ رب العزت نے اس دنیا کی تخلیق فرما کر انسانوں کے سلسلے کو جاری وساری فرمایا، اور انسانوں کے مزاج اور اس کی ضروریات کے مطابق دنیا کی تمام چیزوں کو پیدا فرمایا ہے۔ رب کائنات نے انسانوں کی تخلیقات ایک عظیم مقصد کے تحت فرمائی ہے، انسان جب اپنی تخلیقی پس منظر پر غور وفکر کرکے آیات قرآنی پر نظر ڈالتا ہے تو اسے اس بات کا علم واندازہ ہوتا ہے کہ انس وجن کی تخلیقات رب کائنات کی عبادت وریاضت اور بندگی کے واسطے کی گئی ہے، وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ (الذریات: ٥٦)
ترجمہ: اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔

عبادت وبندگی نام ہے امر بالمعروف ونہی عن المنکر یعنی احکامات الہی کے بنائے حدود اور دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کا۔
اللہ رب العزت نے انسانوں پر چند احکامات فرض کیے ہیں جنہیں بجا لانا لامحالہ کلمۂ طیبہ پڑھنے والوں اور اس پر یقین کرنے والوں کے لئے لازمی ہے، ان احکامات میں سے ایک حکم رمضان المبارک کے روزے ہیں،
اللہ رب العزت نے مسلمانوں پر رمضان المبارک کا روزے فرض کیے ہیں۔ اور روزہ نام ہے صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے رک جانے کا۔
روزہ ارکان اسلام کا ایک رکن ہے،  رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے اس ماہ کی فضیلت واہمیت، افضلیت و برتریت دیگر ماہ سے بڑھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ یہ ماہ اپنے اندر کئی جہت سے خصوصیات کا حامل ہے، اور سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسی ماہ میں کلام اللہ کا نزول ہوا جس کی شہادت خود قرآن مجید نے دی ہے۔ 

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ (البقرۃ: ١٨٥)
ترجمہ: رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے۔) 
اللہ رب العزت نے روزے کی فرضیت کے وجوہات بھی خود قرآن مجید میں واضح طور پر بیان فرمائے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ (البقرۃ: ١٨٣)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی (پرہیزگار) بن جاؤ۔

تقوی کیا ہے؟
تقوی کا استعمال شرعی لحاظ سے دو معنوں پر ہوتا ہے، بچنا احتیاط کرنا، اور گناہ ومعصیت سے خوفزدہ ہوتے ہوئے دور رہنا ،ظاہر ہے کہ جب کسی چیز سے انسان خوفزدہ ہوگا  تبھی ان چیزوں سے احتیاط کرے گا، تقوی کا اصل تقاضہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ اصول شکنی سے خوفزدہ ہونا اور اس خوف کی وجہ سے ناجائز خواہشات اور تمام قسم کے معصیت اور فواحش سے بچنا۔
رمضان المبارک کے روزے ہمیں تقویٰ وخشئیت الہی کا درس دیتا ہے، کیوں کہ روزے کی حالت میں حلال اور جائز ومباح چیزیں بھی حرام ہیں اور یہ محض رب کی اطاعت و بندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لئے، یقیناً اللہ رب العزت نے انسانوں کے درجے اور مراتب طے کرتے ہوئے واضح طور پر فرمان جاری کردیا کہ ہمارے نزدیک محترم ومکرم اور معظم وہ بندہ ہے جو مجھ سے میرے معاملے میں تقویٰ پرہیزگاری کا لحاظ رکھے؛ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ۚ اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ خَبِيْـرٌ (الحجرات: ١٣)
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں وہ اس لیے تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔

یقیناً رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہمارے لئے زہد وتقویٰ کا درس دیتا ہے، مسلمان اس ماہ میں محض خوشنودئ الہی کے لئے کھانے پینے کے ساتھ ساتھ نفسانی خواہشات سے خود کو دور رکھ کر بندگی کے تقاضے پورے کرنے کی سعی کرتے ہیں، اور بزبان حال وقال اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ میری عبادت وریاضت اور میری بندگی، میری موت وحیات، میرا جاگنا سونا، میرا اٹھنا بیٹھنا، میرا چلنا پھرنا، میری ہر سانس میری ہر آس یہ محض آپ کے لئے ہے، آپ کے احکامات کی پیروی آپ کے فیصلے پر راضی رہنا یہی میرا سرمایۂ حیات ہے، ہم سے جس طرح کی بھی قربانی کا مطالبہ ہوگا ہم ایک رب کی خاطر اس کے لیے مستعد رہیں گے۔
وہی  رب ہے جس نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور اشرف المخلوقات کے شرف سے نوازتے ہوئے اس پر وہی احکامات مسلط فرمائے جسے وہ با آسانی بجا لا سکے ”لايُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا“ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا۔ (البقرۃ: ٢٨٦)
 یقیناً اللہ کی ذات وصفات اونچی اور بلند ہے، وہ ارحم الراحمين والی صفت رکھتے ہیں، وہ کبھی بندوں کے ساتھ دشواریاں نہیں چاہتے ہیں بلکہ سہولت اور آسانی چاہتے ہیں، یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ (البقرۃ: ١٨٥)
 اللہ بندوں کے لئے سہولت چاہتے ہیں دشواری نہیں، اور رمضان المبارک کے روزے بندوں کے حق میں ہر محاذ پر بہتر اور اعلیٰ ہے، روزے سے ہمارے اندر تقویٰ کے ساتھ ساتھ تحمل و برداشت اور صبر کے آداب پیدا ہوتے ہیں،صبر وضبط یہ اسلامی تعلیمات کا اہم جزو ہے، اللہ رب العزت نے صبر کرنے والوں کو اپنا خاص دوست قرار دیتے ہوئے فرمایا: ”ان اللہ مع الصابرين“ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں،(البقرۃ: ١٥٣) صبر و تحمل اور ضبط کے اوصاف یہ بڑی نعمت ہے، اور اس کے ذریعہ ہماری زندگی مکمل کامیاب وفلاح پا سکتی ہے، اللہ رب العزت نے ایسے لوگوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے اور مومنین کے اوصاف میں یہ ایک اہم صفت ہے؛ والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس۔ (آل عمران: ١٣۴) ترجمہ: اور وہ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔

روزے کی فضیلت و اہمیت پر اگر توجہ دی جائے تو یہ مسلمانوں کے لئے بڑا ذریعہ و وسیلہ اور موقع ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا خوشنودی حاصل کرے، کیوں کہ اللہ کا وعدہ روزہ دار کے سلسلے میں بےپناہ انعامات و اکرامات کا ہے۔

رمضان المبارک کے روزوں کی اہمیت و فضیلت اور تقاضوں کے سلسلے میں چند احادیث:

عن ابی هریرة قال، قال رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم: من صام رمضان ایماناً و احتسابا غفرله ماتقدم من ذنبه. (صحیح البخاری‘ 1: 10‘ کتاب الایمان‘ رقم حدیث: 38)
ترجمہ: حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

الصیام جُنة من النار کجُنة أحدکم من القتال مالم یخرقھا بکذب وغیبة.
ترجمہ: جس طرح میدانِ جنگ میں دفاع کے لئے ڈھال ہوتی ہے۔ روزے تمہارے لئے اسی طرح آگ (جہنم) کے لئے ڈھال ہیں۔ جب تک کہ انسان اس ڈھال (روزہ) کو جھوٹ اور غیبت سے توڑ نہ ڈالے۔

علیکم بالصوم فإنه لا مثل له
ترجمہ: تم پر روزہ رکھنا فرض ہے کہ روزے جیسی عبادت کی کوئی مثال نہیں۔

قال اللہ عزوجل کل عمل ابن اٰدم له إلا الصیام فإنه لي وأنا أجزي به والذي نفس محمد بیدہ لخلوف فم الصائم أطیب عند اللہ من ریح المسك.
ترجمہ: ابن آدم ہر عمل اپنے لئے کرتا ہے مگر روزہ صرف میری خاطر رکھتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ خدا کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بُو خدا تعالیٰ کے نزدیک مشک و عنبر سے بھی زیادہ فرحت افزا ہے۔

ان تمام پہلوؤں پر اگر ہم توجہ دیں گے تو یقیناً ہمیں اس بات کا علم واندازہ ہوگا کہ روزہ ایک اہم عبادت ہے اور اس سے انسان کے اندر تقویٰ وخوف الہی پیدا ہوتا ہے اور ان چیزوں سے ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، اور رمضان المبارک کے روزے ہمیں صبر و تحمل کا پیغام دیتا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مفتی ہمایوں اقبال ندوی نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

فلاح پانے والے لوگ!                        روزہ کیوں فرض کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ قران میں لکھی ہوئی ہے۔ارشاد ربانی ہے: اے ایمان والو! تم پر رو...