Powered By Blogger

ہفتہ, اپریل 04, 2026

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
، جس میں فائر اسٹیشن آفیسر جناب آر۔ کے۔ یادو اپنے اسٹاف ممبران جناب قیصر زیدی اور جناب انکور کے ساتھ تشریف لائے۔
پروگرام کے دوران افسران نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ آگ کن وجوہات سے لگ سکتی ہے، جیسے گھریلو گیس سلنڈر میں لاپرواہی، شارٹ سرکٹ، کھلی بجلی کی تاریں، زیادہ لوڈ والے برقی آلات اور آتش گیر اشیاء کا غلط استعمال۔ انہوں نے ان سے بچاؤ کے طریقے بھی سمجھائے، جیسے گیس سلنڈر کی وقتاً فوقتاً جانچ، برقی آلات کا محتاط استعمال، خراب وائرنگ کی فوری مرمت اور گھر و اسکول میں آگ سے تحفظ کے اصولوں پر عمل کرنا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی شخص آگ میں پھنس جائے تو گھبرانے کے بجائے سمجھداری سے کام لینا چاہیے اور اسے محفوظ طریقے سے باہر نکالنا چاہیے۔ طلبہ کو یہ سکھایا گیا کہ زخمی شخص کو کس طرح احتیاط کے ساتھ محفوظ مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی گھریلو اشیاء کی مدد سے دیسی اسٹریچر بنانے کا طریقہ بھی بتایا گیا تاکہ ہنگامی حالت میں زخمی کو آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔
پروگرام میں فائر ایکسٹنگوئشر (ABC سلنڈر) کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ طلبہ کو خود اس کا استعمال کرا کے آگ بجھانے کی تربیت دی گئی، جس سے ان میں اعتماد اور بیداری پیدا ہوئی۔
پروگرام میں آئے مہمانوں کا استقبال اسکول کے منیجر سید اعجاز احمد اور قائم مقام پرنسپل جناب جاوید مظہر نے کیا۔ آخر میں شکریہ کی ادائیگی محترمہ خوش نصیب نے کی، جبکہ پروگرام کی نظامت محترمہ ریشما تبسم نے انجام دی۔
اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں جناب پرویز احمد، مولانا شوکت، محترمہ صبیحہ خان اور تمام اسکول اسٹاف کا خصوصی تعاون رہا۔
اسکول انتظامیہ نے اس مفید اور معلوماتی پروگرام کے لیے فائر ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

جمعرات, مارچ 19, 2026

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام 
مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار،
موبائل نمبر :7909098319

اللہ رب العزت نے انسانوں کی تخلیقات ایک عظیم مقاصد کے تحت فرمائ ہے، انسان جب اپنی تخلیقی پس منظر پر غور وخوض کرتا ہے تو وہ ان نتائج پر پہنچتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمارے واسطے دنیا کو اور دنیا کی تمام چیزیں پیدا کی ہیں، تاکہ ہم ان سے لطف اندوز ہوکر اس رب کی اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی گزاریں، اور زندگی کو سہولت وصعوبت سے گھیر دیا ہے، کبھی ہماری زندگی بہت سہل ہوجاتی ہے، اور کبھی زندگی دشوار ہوجاتی ہے اور اسی دکھ سکھ کے سنگم کا نام زندگی ہے ، لیکن اللہ رب العزت نے مکمل نظام حیات بتادئے، ان نظام زندگی اور اصول بندگی کو بتانے سمجھانے کے لئے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جو ہمیں راہ ہدایت، صراط مستقیم کی طرف گامزن رہنے کی ترغیب دلائی ، اسلام دین فطرت کے ساتھ ساتھ ایک پر امن، آفاقی، اور سچا مذہب ہے،جس کی ابتدا اور تاریخ انسانوں کے وجود سے بھی قبل کی ہے، اس مذہب نے ہر قدم پر انسانیت کی مکمل راہنمائی کی ہے، مہد سے لے کر لحد تک زندگی گزارنے کے سلیقے اور طریقے واضح انداز میں پیش کیا، انسانیت کو کہیں بھی لاچار، بے یار و مددگار نہیں چھوڑا، اللہ رب العزت نے سیدنا آدم وحوا علیہما السلام کے ذریعہ اس دنیا کو وجود میں لاکر صاف طور پر دنیا کی تخلیقی پس منظر کی وضاحت فرما دی "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ" الذاريات (56) ترجمہ : میں نے انسان اور جنات کی تخلیق عبادت کے واسطے کیا ۔ عبادت نام ہے اللہ کے احکامات کو تسلیم کرکے اس کے مطابق زندگی گزارنے کا، اللہ رب العزت انسانوں سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی رب چاہی زندگی کے مطابق کرے، یہی زندگی رب العزت کو پسند ہے، رب کائنات نے انسانوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام کے سلسلے کو جاری وساری فرمایا، تاکہ انسان أعمال صالحہ کے ساتھ زندگی گزارے، سیدنا آدم علیہ السلام سے لے آخری نبی وپیغمر سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی مشن کے ساتھ بھیجا گیا، تاکہ انسان گمراہی کے راستے کو ترک کرکے راہ راست کی طرف گامزن رہے ۔
اسی طرح نبیوں کا سلسلہ چلتا رہا، پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائیں ان کے بعد اور سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل دنیا کی حالت بد سے بد ہو چکی تھی، لوگوں کے اندر ہر طرح کی برائیاں عام تھیں، تاریخ اس دور کو ایام جاہلیت سے تشبیہ دیتی ہے، انہیں برائیوں میں سے دو برائیاں بہت عام تھیں اور وہ یہ کہ رنج وغم کے موقع پر وہ حد سے اتر جاتے اور اسے ماتم سے بدل دیتے ، ےاپنے اظہارِ غم کے لئے عجیب وغریب انداز اختیار کیا کرتے تھے، اسی طرح جب انہیں کوئی خوشیاں لاحق ہوتی تو وہ خوشیوں کے اظہار کے واسطے حد سے گزر کر جشن سے بدل دیتے تھے، اور اس جشن کا انداز بھی عجیب وغریب ہوا کرتا تھا، لیکن جیسے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے انہوں نے ان دونوں تصور کی تردید کرتے ہوئے غم میں ماتم کی جگہ صبر، اور خوشی میں جشن کی جگہ شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی، اور ان دونوں طریقے کو مومنین کی علامت سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا,, اَلَّـذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُـمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّـٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (سورہ بقرہ آیت 156)
وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
اسی طرح شکر ادا کرنے والوں کے لئے یہ وعدہ فرمایا,, وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَـرْتُـمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُـمْ اِنَّ عَذَابِىْ لَشَدِيْدٌ (سورہ ابراہیم آیت 7)
اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔
یعنی کہ زندگی صبر اور شکر کے ساتھ گزارنے کی تلقین کی ۔
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کی تاریخ کیا ہے، انسانوں کی تخلیق کیوں کی گئی، انسانوں کی کامیابی اور ناکامی کہاں مخفی ہے ، کون سا عمل کرنا ہے اور کس عمل سے دور رہنا ہے ان باتوں کی مکمل، مدلل ومفصل راہنمائی کردی ہے ۔اللہ رب العزت نے انسانوں کو ایمان وکفر کے راستے بتائیں اور اسے اپنی قدرت اور اپنے اختیارات میں سے چند اختیارات دیتے ہوئے ارشاد فرما دیا,, وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاۙ-اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَاؕ-وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ-بِئْسَ الشَّرَابُؕ-وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا() سورہ کہف آیت (۲۹)،،
اے بنی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کہ دیں کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بیشک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگروہ پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو اُن کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
اللہ رب العزت نے انسانوں کو اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ ایمان پر چلے یا کفر پر، لیکن ساتھ ساتھ کفر کی مذمت بھی بیان فرمادی، اسی طرح ایمان کی حلاوت وچاشنی اور انعامات بھی بیان فرمائے,, اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(سورہ کہف آیت ۱۰۷)بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغات ہیں ۔
وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اَبَدًا ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّـٰهِ قِيْلًا (سورہ نساء آیت 122)
اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے انہیں ہم باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہے۔
اس طرح سے اور بھی کئ آیات کریمہ ہیں، 
اللہ رب العزت کا وعدہ برحق ہے۔

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الـدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّـٰهِ الْغَرُوْرُ (سورہ فاطر آیت 5)
اے لوگو بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے، اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ باز دھوکا نہ دے،، 

یقیناً رب العزت نے انسانوں کی تمام ضروریات کا خیال کرتے ہوئے اسے نعمتوں سے سرفراز کیا، زندگی گزارنے کے سلیقے دیئے۔
"عید الفطر" بھی رب العزت کی عطاء کردہ ایک عظیم نعمت ہے یہ وہ تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔
اس لحاظ سے یہ ایک عظیم تاریخ سے جڑا ہوا ہے، عید کے دن اللہ رب العزت نے روزہ رکھنے سے منع کیا ہے، عید در اصل تحفہ ہے ان مومنین و مومنات کے لئے جنہوں نے صرف رب کی رضامندی کی خاطر کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے خود کو الگ رکھا ہے ۔ مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال المکرم کو عید مناتے ہیں۔اور بطورِ شکرانہ عید الفطر کے دن نماز عید (دو رکعت 6 زائد تکبیروں)کے ساتھ پڑھ کر رب کے سامنے اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں ، جسے جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کرتے ہیں ۔عید کے دن کئ اہم امور انجام دینے کا حکم ہے اور ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہم اپنی جانب اور اہل خانہ کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کریں ۔صدقہ فطر حکم خداوندی کی بنا پر واجب ہے اس کی ایک حکمت ادائے شکر بھی ہے ۔جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔
جس طرح مال دار ہونے کی صورت میں مردوں پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اسی طرح اگر عورت مال دار صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں قرضہ اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال وغیرہ ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، مثلاً اس کے پاس زیور ہے جو والدین کی طرف سے ملا ہے یا شوہر نے نصاب کے برابر زیور عورت کو بطور ملکیت دیا ہے، یا مہر میں اتنا زیور ملا جو نصاب کے برابر ہے تو عورت کو بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، ہاں اگرشوہر اس کی طرف سے اسے بتاکر ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
 مال دار عورت پر اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا تو واجب ہے، لیکن اس پر کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں، نہ بچوں کی طرف سے نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے۔
البتہ مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ اولاد اگر مال دار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مال دار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ادا کردے گا تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔
عید الفطر کی رات یعنی چاند رات کو "ليلة الجائزة " اور عید الفطر کے دن کو " یوم الْجَوَائِزِ" یعنی انعامات و بدلے کا دن حدیث میں کہا گیا ہے ۔
حضرت ابن عباس سے موقوفاً مَروی ہے :”يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ“
عید کا دن ”یوم الجَوَائِز“یعنی انعام ملنے والا دن ہے۔(کنز العمال :24540)
نبی کریمﷺ اس دن کو مذہبی تہوار قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا“ (بیشک ہر قوم کیلئے عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔(بخاری:952)
اللہ تعالی عید الفطر کے دن فرشتوں کو گواہ بناکر روزہ داروں کی مغفرت فرمادیتے اور ان کے گناہوں کو سیئات سے بدل دیتے ہیں، چنانچہ روزہ دار عید گاہ سے بخشے بخشائے واپس ہوتے ہیں ۔
اگر ہم غور وخوض کریں تو عید الفطر کی خوشیاں در حقیقت قرآن کے ملنے پر منائی جاتی ہیں، رمضان المبارک جو کہ قرآن کا مہینہ ہے،اور قرآن مجید کی تعریف خود قرآن مجید نے سب سے بڑی نعمت سے کرائی ہے ، اور اس قرآن کی نعمت پر خود رب العزت نے انسانوں کو خوشیاں منانے کا اعلان فرمایا ہے : یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ
(سورہ یونس آیت 57 58)
’’لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبی ؐ ، کہو کہ’’ یہ اللہ کا فضل اور اْس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اْس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اْن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔‘‘

"عید الفطر کے اہم تقاضے" عید الفطر سے ہمیں کئ اہم پیغامات ملتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی ادائیگی کریں، اللہ کی بندگی کے ساتھ ساتھ ان کے تمام احکامات کو بجا لانے کی سعی کریں، نعمتوں پر شکر ادا کریں اور مصائب میں صبر وتحمل کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے زندگی گزاریں،کیوں کہ شکر نام ہی ہے نعمتوں کے حقوق کی ادائیگی کا، اللہ نے جو بھی نعمتیں ہمیں میسر کی ہیں ان میں اوروں کے بھی حقوق ہیں، خصوصاً غرباء وفقراء ، مساکین، ضرورتمند، خویش واقربہ وغیرہ ۔
اسی لیے اپنی خوشیوں میں اپنے دوست واحباب، خویش واقربہ ،غرباء وفقراء اور ضرورتمندوں کو لازمی شامل رکھیں،انفرادی نہیں اجتماعی زندگی گزاریں، مسلمانوں کے کے ایک ایک لمحات عبادات ہیں، خواہ سماجی ومعاشرتی زندگی ہو ، اقتصادی زندگی ہو ، اجتماعی وانفرادی زندگی ہو،محفل وتنہائی ہو، خلوت وجلوت ہو، صبح وشام یا رات ودن ہو، بشرطیکہ ہر معاملے میں احکامات الہی کو سامنے رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید الفطر کی نماز کے لئے ایک راستے سے جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا حکم ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے احوال سے واقف ہوکر ان کی مدد کرسکیں، خلاصہ عید اللہ کی نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا ایک اہم ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ہر مسلمان کو چاہیے کہ اللہ کے ان احکامات کو بھر پور بجا لانے کی کوشش کرے یہی پیغام ہے عید الفطر کا، اور یہی تقاضے ہیں بندگی کے، یہی حقیقت ہے عیدالفطر کی،اور یہی پیغام ہے ۔

بدھ, مارچ 18, 2026

اور انعامی تقریب منعقد

اور انعامی تقریب منعقد
مظفر نگر، 18 مارچ —
تسمیہ جونیئر ہائی اسکول، مظفر نگر میں سالانہ نتیجہ اور انعامی تقریب نہایت جوش و خروش اور وقار کے ساتھ منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب گجیندرا سنگھ چاہر، سب انسپکٹر، تھانہ کھا لا پار، مظفر نگر تھے، جبکہ مہمانِ اعزازی محترمہ جھلمل بنسل، لیڈی سب انسپکٹر، تھانہ کھا لا پار، مظفر نگر تھیں۔
اس موقع پر مشن شکتی ٹیم کے ارکان مون پال (کانسٹیبل، اتر پردیش پولیس) اور محترمہ جیوتی جانوی (لیڈی کانسٹیبل، اتر پردیش پولیس) بھی موجود تھیں۔
پروگرام کا آغاز اسکول کی سینئر ٹیچر مس ریشما تبسم کی خوبصورت نظامت سے ہوا۔ تمام مہمانوں کا استقبال اسکول کے منیجر جناب سید اعجاز احمد نے پھولوں کے ہار پہنا کر اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے کیا۔
اس کے بعد اسکول کے کارگزار پرنسپل جناب جاوید مظہر نے استقبالیہ خطاب پیش کیا اور تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
محترمہ جھلمل بنسل، لیڈی سب انسپکٹر، تھانہ کھا لا پار نے اپنے خطاب میں مشن شکتی مہم کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خواتین اور بچیوں کی حفاظت، عزت اور بااختیاری کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورت میں پولیس ہیلپ لائن 112، ویمن ہیلپ لائن 1090، ویمن ہیلپ لائن 1091 اور چائلڈ ہیلپ لائن 1098 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
مہمانِ خصوصی جناب گجیندرا سنگھ چاہر نے اپنے خطاب میں طلبہ کو شاندار نتائج پر مبارکباد دی اور انہیں محنت، نظم و ضبط اور دیانت داری اختیار کرنے کی تلقین کی۔
درجہ يو کے جی-عمر،اذان احمد،فائزہ  قریشی
درجہ اوّل بي - حمزہ،حماد ،محمّد داؤد
درجہ اوّل جی - عمرہ،ائرا ،ادیبہ
درجہ دوم - عبداللہ صدیقی،ذکرا خان،افرا قریشی
درجہ سوم - ذکرا خان،فاطمہ، زائرہ 
درجہ چہارم - نورل مدیحہ،زینب منصوری،ام حمنہ 
درجہ پنجم - حمیرا،سمائرا ،فاطمہ
درجہ شہشم بی - اسد،زین قریشی،ارحم انصاری
درجہ ششم جی - زویا،ام حبیبہ،سدرہ ناز
درجہ ہفتم بی - عبدل سمد شہزاد ،شعبان،عبدل سمد عرفان
درجہ ہفتم جی - آمنہ ،شیرین ،عائشہ
درجہ آٹھ بی -  ارحان مرسلین ،ارحان شاہ نواز،مننا 
درجہ آٹھ جی - اقراء، نبیہ ،علماء
بعد ازاں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔
آخر میں اسکول کی سینئر ٹیچر محترمہ خوش نصیب نے تمام مہمانوں، اساتذہ، طلبہ اور والدین کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔

جمعہ, مارچ 13, 2026

*سنگارپور کا روحانی رمضان

*سنگارپور کا روحانی رمضان*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     میرے گاؤں کا نام سنگارپور ہے۔ دیہات کی سادہ مگر پُروقار فضا میں بسنے والا یہ گاؤں اپنی مذہبی روحانیت کے باعث دور دور تک پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ایک عظیم الشان مدرسہ، دار القضاء، تقریباً پچیس مکاتب، پانچ مساجد، ایک عیدگاہ (آٹھگاواں)، اور ایک بڑا قبرستان ہیں، اور کثیر آبادی کے باوجود دلوں میں عجیب سی اپنائیت بسی ہوئی ہے۔ مگر سنگارپور کی اصل شان اُس وقت نکھر کر سامنے آتی ہے جب رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے۔

     سال کے گیارہ مہینے پردیس کی مشغولیات میں گزر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ہے دل بے اختیار اپنے گاؤں کی گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ سحری کے وقت جب چاروں سمتوں سے مؤذنوں کی پُرسوز صدائیں بلند ہوتی ہیں “اٹھـــو روزے دارو! سحری کا وقت ہو گیا” تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا گاؤں ایک روح بن کر جاگ اٹھا ہو۔ نیم تاریکی میں جلتے بلبوں کی مدھم روشنی، گھروں کے صحنوں میں برتنوں کی ہلکی سی آواز، اور ٹھنڈی ہوا کا نرم لمس… سب مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے لفظوں میں قید کرنا آسان نہیں۔

     سحری کے بعد فجر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ مسجدوں سے نکلتے لوگ کوئی اپنے روزمرہ کے کاموں کی طرف روانہ ہو جاتا ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتا ہے، تو کوئی کھیت کھلیان کی راہ لیتا ہے۔ صبح کے وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ اور کھیتوں سے اٹھتی مٹی کی خوشبو دل کو عجب سکون بخشتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا کا ذرّہ ذرّہ بھی اس بابرکت مہینے کی عظمت میں سجدہ ریز ہو۔

     گاؤں کے مکاتب میں قرآن مجید کی تلاوت اور علومِ نبویہ کی صدائیں فضا میں گونجتی ہیں۔ ننھے بچوں اور بچیوں کی مخملی آوازیں سن کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ سفید ٹوپیوں اور معصوم چہروں کے ساتھ رنگ برنگی دوپٹوں میں سجی معصوم بچیوں کی قطاریں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نور کی ایک لڑی زمین پر اتر آئی ہو۔ جو بچے اور بچیاں اسکول جاتے ہیں وہ بھی وقت پر خوشی خوشی بستے اٹھائے اپنے راستے پر روانہ ہوتے ہیں۔

     دوپہر ڈھلتے ہی گاؤں کی گلیاں ایک نئی رونق اوڑھ لیتی ہیں۔ ظہر کے بعد بازار میں جیسے زندگی دوڑنے لگتی ہے۔ کھجوروں، پھلوں کے ٹھیلے، پکوڑوں اور سموسوں کی تیاری… ہر طرف افطار کی تیاریوں کا سماں ہوتا ہے۔ عصر کے بعد تو گویا پورا گاؤں حرکت میں آ جاتا ہے۔ لوگ افطار کا سامان لیے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ مائیں اور بہنیں دسترخوان سجانے میں مصروف اور بچے ہاتھوں میں چھوٹے تھیلے لیے چند گھروں کا چکر لگا آتے ہیں افطار مانگنے کی معصوم خوشی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی ہے۔

     مغرب کی اذان کے ساتھ ہی سب دسترخوان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ دعاء کے لیے اٹھے ہاتھ، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر شکر کے کلمات یہ منظر روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ افطار کے بعد مساجد کی طرف بڑھتے قدموں میں ایک عجب سی چستی ہوتی ہے۔ عشاء اور تراویح کے لیے لوگ یوں دوڑتے ہیں جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ حفاظ کرام دن بھر کی محنت کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میں محو ہو جاتے ہیں۔ مسجدوں میں تلاوت کی مترنم آوازیں رات کی خاموشی کو نور سے بھر دیتی ہیں۔

     تراویح کے بعد گلیوں میں پھر ہلکی سی چہل پہل ہوتی ہے۔ کہیں چائے، پان کی محفل جمی ہے، کہیں عید کی تیاریوں کا ذکر، کہیں نئے کپڑوں اور سامان کی خریداری کا تذکرہ۔ بچے آنگنوں میں کھیلتے کھیلتے تھک کر ماں کی گود میں سو جاتے ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ پورا گاؤں سکون کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ دن بھر کی عبادت اور محنت کے بعد لوگ اپنے بستروں سے لپٹ کر اگلے روز کی سحری کے انتظار میں نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

     سنگارپور کا رمضان صرف ایک مہینہ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک ایسی روحانی بہار جو دلوں کو تازگی بخشتی ہے۔ یہاں کی فضائیں ایمان کی خوشبو سے معطر، یہاں کی راتیں تلاوت کی روشنی سے منور، اور یہاں کے دن اخوت و محبت کے رنگوں سے مزین ہوتے ہیں۔ واقعی میرے گاؤں سنگارپور کے رمضان کا لطف وہی جان سکتا ہے جس نے اس کی سحری کی صدا اور افطار کی دعا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دل سے محسوس کیا ہو۔

بدھ, مارچ 11, 2026

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*

*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت*
✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804

     موجودہ عہد اطلاعات کے بے مثال پھیلاؤ کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن مباحثوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خبر رسانی کے دائرے کو غیر معمولی طور پر وسیع کر دیا ہے۔ ایک واقعہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس تیز رفتاری کے ساتھ ایک خطرناک رجحان بھی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ بیانات اور تقاریر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا۔ جب کسی گفتگو کے چند جملے اس کے اصل پس منظر سے الگ کر دیے جاتے ہیں تو حقیقت کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے اور معاشرے میں غلط فہمیاں، اشتعال اور تنازعات جنم لینے لگتے ہیں۔

     حالیہ دنوں میں مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی کے بیان کے حوالے سے جو شور و غوغا برپا ہوا ہے وہ اسی طرزِ عمل کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مختصر ویڈیو کو بنیاد بنا کر یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مولانا نے گائے کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے یا اسے کسی خاص شخصیت کی حقیقی والدہ سے جوڑ کر تمسخر کا نشانہ بنایا۔ تاہم جب اس تقریر کا مکمل پس منظر سامنے آتا ہے تو معاملہ اس سے خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔

     حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو 4 مئی 2024ء کی ایک تقریر کا حصہ ہے۔ بعض ٹی‌وی چینلوں نے اسے رمضان کے دوران دی گئی تقریر قرار دے کر مزید سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا کی گفتگو دراصل اس سماجی تصور کے تناظر میں تھی جس میں بعض طبقات گائے کو “گاؤ ماتا” کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں ایک مثال پیش کی تھی۔ مگر افسوس کہ تقریر کے چند جملوں کو باقی گفتگو سے الگ کر کے اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا وہ کسی فرد یا عقیدے کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہوں۔

     اس معاملے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے حلقوں نے اس بیان کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جوڑ کر معاملے کو مزید اشتعال انگیز بنانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اصل گفتگو ایک عمومی سماجی تصور کے حوالے سے تھی، نہ کہ کسی مخصوص شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے۔ لیکن جب کسی بیان کو ادھورا دکھایا جائے تو اس کے معنی بدلنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے غلط فہمیوں کی زنجیر شروع ہوتی ہے۔

     اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی وہ بھی کم تشویشناک نہیں۔ مختلف ہندو تنظیموں کی جانب سے مولانا کے خلاف 84 تھانوں میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، کئی مقامات پر چوک چوراہوں پر ان کے پتلے نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف نعرہ بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ایک اہم حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی خود اس معاملے پر وضاحت پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھا اور اگر ان کے کسی جملے سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔

     کسی بھی سنجیدہ اور مہذب معاشرے میں وضاحت اور معذرت کو مثبت انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دراصل احساسِ ذمہ داری اور سماجی شعور کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے موجودہ سماجی ماحول میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وضاحت یا معافی کے باوجود تنازع کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید ہوا دی جاتی ہے۔ نتیجتاً مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے اور معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

     یہاں ایک بنیادی سوال بھی ابھر کر سامنے آتا ہے: آخر ملک کا آئین اور قانون کس کے ہاتھ میں ہے؟ اگر کوئی بیان واقعی قابلِ اعتراض ہے تو اس کے ازالے کے لیے عدالتیں اور قانونی ادارے موجود ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے خلاف عوامی اشتعال کو اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ سڑکوں پر فیصلے ہونے لگیں تو یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔

     اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کا فطری حصہ ہوتا ہے۔ مختلف نظریات، عقائد اور نقطہ ہائے نظر کا وجود ہی ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔ مگر جب اختلاف کو نفرت اور اشتعال میں بدل دیا جائے تو وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر سب سے زیادہ ذمہ داری میڈیا اور سوشل میڈیا کے صارفین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر کو مکمل تناظر اور دیانت داری کے ساتھ پیش کریں۔

     اس موقع پر میں مولانا صاحب سے مؤدبانہ درخواست کروں گا کہ جن چینلز نے آپ کی گفتگو کو کاٹ چھانٹ کر کلپ کی صورت میں نشر کیا ہے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کریں تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی جسارت نہ کر سکے نیز ہمیں بھی یہ روش ترک کرنی چاہیے کہ ہم مخالف سے ثبوت طلب کرنے کے بجائے فوراً صفائیاں پیش کرنے لگتے ہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ بے بنیاد الزامات عائد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی کریں اور مزید مولانا بوقت بیان یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہ کریں جو دو معنی کا احتمال رکھتا ہو بلکہ مخاطب کے اعتبار گفتگو کریں تاکہ کلام مقتضی حال کے مطابق ہو کیوں کہ ملک بھارت میں سمجھنے والے کم اور بال میں کھال میں نکالنے والے کی تعداد زیادہ ہیں۔

     صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ سچ کو اس کی پوری حقیقت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اگر کسی بیان کے چند جملوں کو کاٹ کر سنسنی خیزی پیدا کی جائے تو یہ نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ عوامی شعور کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ اسی طرح عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی خبر کو فوراً حتمی سچ نہ مان لیں بلکہ اس کے پس منظر اور مکمل معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

     آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اعتدال، تحقیق اور ذمہ داری کی ہے۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں افواہ اور حقیقت کے درمیان فرق کرنا بظاہر مشکل ضرور ہو گیا ہے مگر ناممکن نہیں۔ اگر ہم سنجیدگی، تحمل اور تحقیق کے ساتھ معاملات کو دیکھیں تو بہت سی ایسی بحثیں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں جو محض غلط فہمیوں کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

     ایک حق گو صحافی کی حیثیت سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی بھی واقعے یا بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے مکمل سیاق و سباق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ یہی طرزِ عمل سچائی تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرتا ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے میں باہمی احترام، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ صحافت کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ وہ سچ کو ادھورا نہیں بلکہ پورے پس منظر کے ساتھ سامنے لائے تاکہ معاشرہ اشتعال کے بجائے فہم و تدبر کی راہ اختیار کر سکے۔


نوٹ: *یہ مضمون نگار کا ذاتی خیال ہے ہر ایک کو اس سے اتفاق رکھنا ناممکن ہے لہذا قاری کو اختلاف کا بالکلیہ اختیار ہوگا۔*

🗓️ 11 مارچ 2026 بروز بدھ

انس مسرورانصاری قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا)



***نعت پاک ***

زبانِ  خلقِ  خد ا  پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ
جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ

وہ ذات  با عثِ  تخلیقِ  ا ر ضِ  لا محد و د 
ہے کا ئنات کا محو ر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

چمن میں فیض رساں ہےوہ دستِ لمس نمو
کہ شا خ شا خ ثمر ور بس ایک نامِ نبی ﷺ

زمانے بھر کے ہیں  مشکل کشا  رسولِ کر یم
زمانے بھر کےلبوں پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

سوال جتنے ہیں سب کا ہےمیرےپاس جواب
بروزِ عرصئہ محشر  بس ا یک نا مِ  نبی ﷺ

و ہ ا یک ا سم کہ تحر یر  بر گ بر گ  پہ ہے
جما لِ  حسنِ  گلِ تر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

خر د  ہے   عقد ہ    کشا   عا لمِ   تحیّر  میں 
جنونِ د ل کو ہےا زبر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ

جبل جبل کی بلند ی پہ ذ کر پاک رسول ﷺ
ہے دشت و بحر کا رہبر بس ایک نامِ نبی ﷺ

بس ا یک نام کی لذت سے جان و د ل مسرور
زباں زبا ں  پہ مکر ر  بس ا یک نا مِ  نبی ﷺ
                          ******
         * انس مسرورانصاری
      قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن (انڈیا) 
        وہاٹس ایپ/9453347784/ء

پیر, مارچ 09, 2026

مفتی ہمایوں اقبال ندوی نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

فلاح پانے والے لوگ!                    

  

روزہ کیوں فرض کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ قران میں لکھی ہوئی ہے۔ارشاد ربانی ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئےجیسا کہ ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں تاکہ تم متقی ہو جاؤ (بقرہ ۱۸۳) اس آیت شریفہ سے روزہ کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کی مکمل وضاحت ہوتی ہے کہ رمضان کی آمد اور روزے کی فرضیت کا مقصد درحقیقت ایک صاحب ایمان کو متقی بنانا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار بندہ متقی ہے۔ متقین کی قرآن میں نشانیاں بتلائی گئی ہیں، ارشاد خداوندی ہے: جو لوگ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا، اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اسمیں سے خرچ کرتے ہیں( بقرہ ۳)
 اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں:ایمان بالغیب، اقامت صلواه،اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔آسان زبان میں ہم ان تینوں کو متقین کی پہچان کہ سکتے ہیں۔نیز قران کریم میں متقی بندے کے مزید اوصاف بھی مذکور ہوئے ہیں کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، غصہ پی لیتے ہیں، صبر سے کام لیتے ہیں، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیتے ہیں، ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو فورا توبہ کرتےہیں ، اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں وغیرہ۰۰۰ کم و بیش تیس سے زائد اوصاف علماء کرام نے قران کریم کی روشنی میں متقین بندے کے بتلائے ہیں۔ مگر ان تمام کا خلاصہ یہ تین ہی ہیں۔ علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی فرماتے ہیں کہ :"سب طاعتوں کی اصل تین ہی ہیں۔ اول جو باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں، دوسری بدن سے، تیسری مال سے، سو اس آیت میں ہر سہ اصول کو ترتیب وار لے لیا"۔ 
حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ علیہ معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ:"جتنے اعمال انسان پر فرض یا واجب ہیں ان کا تعلق یا انسان کی ذات اور بدن سے ہے یا اس کے مال سے۔بدنی اور ذاتی عبادات میں سب سے اہم نماز ہے۔اس کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا گیا،اور مالی عبادات سب کی سب لفظ انفاق میں داخل ہیں، اس لئے درحقیقت یہ تنہا دو اعمال کا ذکر نہیں بلکہ تمام اعمال وعبادات ان کے ضمن میں آگئے، اور پوری آیت کے یہ معنی ہوگئے کہ متقین وہ لوگ ہیں جن کا ایمان بھی کامل ہے اور عمل بھی اور ایمان وعمل کے مجموعہ کا نام ہی اسلام ہے"(معارف القران جلد اول صفحہ ۱۱۱)
ماہ رمضان کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ تین چیزیں ہیں جنکی مشق پورے مہینے کرائی جاتی ہے تاکہ یہ تینوں اوصاف جب ایک صاحب ایمان میں پیدا ہوجائیں گی تو وہ متقی بندوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا، ماہ صیام کی آمد کا مقصد ہی یہی ہے۔
پہلی صفت ایمان بالغیب کا رمضان میں یہ عالم ہوتا ہے کہ بندہ تنہائی میں بھی شدید بھوک و پیاس کی گھڑی بھی نہ ایک دانہ منھ میں رکھتا ہے اور نہ ایک قطرہ پانی کا حلق سے نیچے اتارتا ہے،اس کی شرعی طور پر گنجائش بھی نہیں ہے وہ اس لئے کہ وہ روزے سے ہے اور ایسا کرنے سے اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔یہ استحضار ماہ صیام میں اپنے شباب پر ہوتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے، جبکہ اس نے خدا کو کبھی دیکھا نہیں ہے۔یہ خیال واحساس ایمان بالغیب کا اعلی درجہ ہے،اورایک صاحب تقوی کے اند اس استحضار کا پایا جانا ہمہ وقت ضروری ہے۔
دوسری صفت اقامت صلواہ ہے، پانچ وقت کی نمازیں پڑھنی ہیں، مزیدتراویح کی اضافی نمازکی ہابندی بھی کرنی ہے۔بحمداللہ یہ چیزیں رمضان کے مبارک مہینے میں دیکھنے کو بھی ملتی ہے کہ واقعی اقامت نماز کا حق ایک نمازی ادا کرنے کی سعی کرتا ہے، فرائض، واجبات، مستحبات اور پھر ان پر دوام والتزام بھی کرتا ہے۔ایک بندہ رمضان کی اہمیت اور اجر وثواب کی امید لئے ان چیزوں کا اہتمام کرتا ہے مگر شارع کا مقصد ایک صاحب ایمان کو نماز کا پابند بنانا ہے اور یہ حصول تقوی کے لئے لازمی ہے۔
تیسری صفت متقی ہونے کے لئے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ہے چنانچہ رمضان کے مہینے میں اس کی بھی خوب تربیت دی جاتی ہے۔زکوٰۃ ،خیرات، صدقات کے علاوہ صدقہ فطر کی شکل میں ایک مصرف کو رمضان اور روزے کے ساتھ خاص کیا گیا ہے، مقصد مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مزاج بنانا ہے اور متقی ہونے کے لئے یہ تیسری لازمی صفت ہے۔جب یہ چیزیں پیدا ہوگئیں تویہ بندہ تقوی کی صفت سے متصف ہوگیا۔اس پر قرآن اس کی کامیابی کا اعلان کردیتا ہے،ارشاد خداوندی ہے:یہی لوگ ہیں اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (بقرہ ایت نمبر ۵)
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
وجنرل سکریٹری، تنظیم أبناء ندوہ پورنیہ کمشنری 
۱۹/رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ

ہفتہ, مارچ 07, 2026

مضمون نگار قاری عابد راہی صاحب

قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون‘‘ اس نصیحت نامہ اور کتاب ہدایت یعنی قرآن کو ہم نے ہاں ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ و نگہبان ہیں۔ اور بارگاہ ربانی کی اس عطا کی کوئی حد ہے کہ جو صفت اللہ نے اپنے لئے مخصوص رکھی تھی، اسے بندہ کو بھی نواز دیا، یعنی اللہ حافظ الذکر یعنی قرآن کے محافظ و نگہبان ہیں تو بندہ کو توفیق بخش دی کہ وہ تیس پاروں کو حفظ کرکے حافظ قرآن کا مبارک و مسعود لقب حاصل کرلے، سچ ہے کہ:
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و رتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی بلند ہے ۔ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مصروف رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اچھے اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔ خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (بخاری فضائل القرآن )

حافظ قرآن کا اللہ تعالی کے نزدیک بڑا مقام ہے اور یہ مقام اور تقرب حفظ قرآن مجید کی برکت کی وجہ سے بے ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک مجلس میں ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالی کے کچھ خاص بندے ہوتے ہیں ……..آپ کے اس ارشاد پر صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم متوجہ ہوئے اور اشتیاق و تجسس کے ساتھ سوال کیا ، یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حافظ قرآن، ان کا بڑا مقام ہے اور یہ لوگ اہل اللہ اور خاصان خدا ہیں ۔( ابن ماجہ )

نسبت بڑی اونچی چیز ہے اور نسبت ہی سے کسی چیز کی قیمت متعین ہوتی ہے ۔ چوں کہ قرآن مجید کلام ربانی ہے ۔ خدا کا کلام ہے، جو تمام کلاموں میں اعلی اور ارفع ہے ۔ اسے جب اپنے سینے میں محفوظ کرلیا جائے، تو اس نسبت سے حافظ قرآن کا مقام و رتبہ تو بلند ہو ہی جائے گا ۔ اس حقیقت کو ہم اس مثال بھی سمجھ سکتے ہیں، کہ جب کسی شخص کا کسی بادشاہ حاکم یا بڑے عہدے دار سے کسی طرح کا تعلق اور رابطہ ہو جاتا ہے تو اس کا شمار خاص لوگوں میں ہونے لگتا ہے اور وہ شخص اس تعلق کو اپنے لئے فخر و عزت کی چیز سمجھنے لگتا ہے گویا اسے بہت بڑی دولت ملی گئی، جب اس عارضی فانی اور ناپائیدار دنیا کے تعلق کا یہ عالم ہے تو اس شخص کی خوشی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جو اپنے رب حقیقی کا مقرب اور خاص ہوجائے ۔ واقعتا وہ انسان قابل رشک اور لائق صد فخر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کرام کو خاصان خدا کہا گیا ہے ۔

امت کا یہ طبقہ یعنی حفاظ کرام کےطبقہ کو بڑی عزت اور وقار حاصل ہے ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اللہ تعالٰی کی تعظیم میں بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور اس حافظ قرآن کا اکرام کرنا جو افراط و تفریط سے خالی ہو اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا ہے ۔ (ابو داؤد ) طبرانی کی ایک روایت ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال و حرام کو سمجھا ۔ اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھرانے میں سے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں سفارش قبول کرے گا جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہو۔ (مشکوة)

لیکن یہ یہ بات بھی ذھن میں رہے کہ حفاظ کرام کو ملی یہ بشارتیں صرف ان حفاظ کرام کے لئے ہیں، جو قرآن کریم کے تقاضوں پر عمل بھی کرتے ہوں، جن کے اندر تقوی و خوف خدا ہو ۔ صالحیت ہو کتاب و سنت پر جس کا عمل ہو ۔ حفظ قرآن کی جو یہ عظیم دولت ملی ہے ، اس کی حفاظت کی فکر بھی کرتے ہوں ۔ اور ساتھ ہی اپنی نشست و برخاست عادات و اطوار اخلاق و کردار وضع قطع وہ ثابت کریں کہ وہ واقعتا حافظ قرآن اور خدا کے نمائندے ہیں ۔ نیز ان کا سینہ طمع لالچ اور تمام اخلاقی و روحانی بیماری پاک ہو ۔

حافظ قرآن امت کا انتا ہی کریم اور معزز طبقہ ہے ۔کنزل العمال میں یہ حدیث موجود ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ۔ ایک دوسری روایت میں ہے اشرف امتی حملةالقرآن و اصحاب اللیل ( معجم طبرانی)

حافظ قرآن امت کا انتا ہی کریم اور معزز طبقہ ہے ۔کنزل العمال میں یہ حدیث موجود ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ۔ ایک دوسری روایت میں ہے اشرف امتی حملةالقرآن و اصحاب اللیل ( معجم طبرانی)

میری امت کے اشراف، حاملین قرآن اور رات کو عبادت کرنے والے ہیں ۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ حافظ قرآن کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ مسند فردوس میں ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن مجمع عام میں حافظ قرآن کی عظمت اور ان کے شرف کا اظہار و اعلان فرمائیں گے ۔ کنز العمال میں یہ روایت ہے کہ حافظ قرآن اور قرآن کو بار بار پڑھنے والے کی عقل آخر عمر تک ٹھیک اور درست رہتی ہے ۔ اور موت کے بعد قبر میں حافظ قرآن کی جسم کی حفاظت ہوتی ہے ۔ طبرانی کی اس روایت سے بھی حافظ قرآن کی عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ ایک حدیث میں حافظ قرآن کے درجات کی بلندی اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتے جاو اور بلند ہوتے جاو اور ٹہر ٹہر کر اطمنان سے پڑھو جس طرح دنیا میں تم ٹھر ٹھر کر پڑھتے تھے ،کیونکہ تمہارا درجہ وہی ہوگا جس جگہ تم قرآن کی آخری آیت پڑھو گے ۔( ترمذی)

اولاد کو جو والدین قرآن مجید پڑھاتے اور حفظ کراتے ہیں ان کے لئے خوش خبری ہے کہ قیامت کے دن ان کو نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی روشنی کی طرح ہوگی ۔ اور اس کو دو جوڑے ایسے پہنائیں جائیں گے کہ پوری دنیا بھی ان کی قیمت نہیں بن سکتی وہ پوچھیں گے کہ یہ ہمیں کس چیز کے بدلے پہنائے جا رہے ہیں؟ (ہمارا تو کوئ عمل ایسا اونچا نہ تھا) تو انہیں بتایا جائے گا کہ یہ تمہارے بچے کے قرآن مجید پڑھنے اور حفظ کرنے کا انعام ہے ۔ (ترغیب و ترہیب)

ایک باعمل حافظ قرآن کو زندگی کے مختلف شعبوں میں دوسروں کے مقابلے میں جو ترجیح و فضیلت اور بلندی و برتری حاصل ہے اس کے لئے ان احادیث پر بھی نظر رہنی چاہیے………… حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد میں سے دو دو کو ایک قبر میں دفن فرما رہے تھے اور دریافت فرماتے تھے کہ ان دونوں میں سے کس کو زیادہ قرآن کا حصہ یاد ہے ۔ پس جس کی جانب اشارہ کیا جاتا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں آگے رکھتے تھے ۔ (بخاری )

جس نے فضیلت قرآن کی وجہ سے حافظ قرآن کی کھانے پینے سے تواضع کی ۔ اللہ عز و جل اسے حافظ قرآن کے دل میں موجود ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں عطا فرماتے ہیں اور دس گناہ معاف فرماتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالی فرمائیں گے کہ تو نے میری وجہ سے اس کی عزت کی ہے تجھے اکرام اور بدلہ دینے کے لئے میں کافی ہوں ۔( مسند فردوس )

اس بات کو بھی ذھن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کریم سے اس کی تلاوت سے اس کو یاد کرنے کی فکر سے کبھی بے توجھی نہ برتی جائے کیونکہ قرآن مجید خدائے بے نیاز کا کلام ہے اس کے یاد رکھنے میں بے نیازی برتی گئی تو اس کی غیرت برداشت نہیں کرتی کہ ایسے سینہ میں محفوظ رہے ۔

علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کریم کی مثال اونٹ کی سی ہے کہ اونٹ جانوروں میں سب سے زیادہ حساس جانور ہے اگر اونٹ یہ محسوس کر لیتا ہے کہ اس کا مالک اس کے ساتھ بے رخی اور بے اعتنائی برت رہا ہے اور اس کے چارے کے انتظام میں غفلت سے کام لے رہا ہے تو اس اونٹ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کرتی اور پھر وہ جب مالک کے گھر سے نکل جاتا ہے تو دوبارہ اس جانب رخ نہیں کرتا ۔ اسی طرح قرآن مجید بھی بہت حساس اور غیرت والا کلام ہے اگر حافظ قرآن اس کو یاد کرنے میں تساہلی اور سستی سے کام لیتا ہے ۔ تو قرآن بھی حافظ قرآن کے دل سے نکل جاتا ہے اور اونٹ ہی کی طرح دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا ۔

اس لئے قرآن مجید اور قرآن کے حافظ کو الراحل المرتحل کہا گیا ہے کہ حافظ قرآن ایسا مسافر ہے جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی روشنی میں اپنے دور خلافت میں اس چیز کو حافظ کے لئے لازم کیا کہ رمضان میں ختم قرآن کے دن انیسویں رکعت میں قرآن مکمل کرلے اور بیسویں رکعت میں الحمد للہ اور سورہ بقرہ میں اولئک ھم المفلحون تک پڑھ کر بیسویں رکعت مکمل کرے ۔ تاکہ اس حدیث کے مقتضی پر عمل ہوسکے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حافظ قرآن کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور بہت سے امور میں ان کو فوقیت اور ترجیح دیتے تھے اور جن کو قرآن زیادہ یاد ہوتا سفر میں اور گاؤں اور قبیلہ کی مسجد میں ان کو امامت کے لئے متعین کرتے تھے ۔ بلکہ بہت سے موقع پر فوج کی قیادت کے لئے بھی زیادہ قرآن مجید یاد رکھنے والے کو آپ نے قائد اور امیر فوج بنایا ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے تو سب نے تفصیلات بتائیں ۔ ایک صحابی نے جب یہ کہا کہ مجھے سورہ بقرہ اور فلاں فلاں فلاں سورہ حفظ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہی اس فوج کا امیر مقرر فرمایا ۔ ایک صحابی نے اپنے والد سے روایت کردہ اس واقعہ کو بیان کیا کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوئے اور اسلامی احکام و مسائل سیکھنے کے لئے قبیلے کا ایک وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ روانہ ہوا جس میں میں بھی شامل تھا کچھ دنوں کے بعد جب وفد کی واپسی ہوئی تو اس موقع پر میں نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! ہم میں سے امامت کا فریضہ کون انجام دے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو قرآن زیادہ حفظ ہوگا چنانچہ اس وفد میں سب سے زیادہ سورتیں مجھ ہی کو یاد تھیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہی امامت کے لئے مکلف بنایا اور مجھے ہی اس کا اہل قرار دیا ۔

ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان قریش کی امامت کیا کرتے تھے اور ان کے پیچھے عبد الرحمن بن ابی بکر بھی ہوتے تھے یہ محض اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن مجید جانتے تھے ۔ (ابن سعد) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس وقت اہل دیوان کا حصہ مقرر کیا تو جس طرح نیکیوں میں اور اسلام لانے میں سبقت کرنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرنے والوں کو حصہ دئے جانے میں ترجیح دی جاتی تھی اس طرح انہوں نے قرآت قرآن کے اعتبار سے بھی فضیلت دی تھی یعنی جن لوگوں کو قرآن زیادہ یاد تھا ان کے حصے اوروں سے زیادہ مقرر کئے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حفاظ کرام کے لئے باضابطہ وظائف بھی جاری فرمائے تھے ۔( ابن سعد) بحوالہ سہ ماہی زبان خلق ) نوٹ اس مضمون میں بعض ضعیف احادیث کا ذکر ہوا ہے جو فضائل کے باب میں چل سکتے ہیں۔
اس پروگرام 
حضرت مولانا عبد اللہ سالم قمر چترویدی صاحب قاسمی 
حضرت مولانا عبد السلام عادل صاحب ندوی 
اور بہت سے اکابرین موجود تھے 
(مضمون نگار قاری عابد راہی صاحب 

جمعرات, جون 05, 2025

ایک تکبیر جو مکمل تقریر ہے!

ایک تکبیر جو مکمل تقریر ہے!                  
Urduduniyanews72
آج ماہ ذی الحج کی نویں تاریخ ہے، فجر کی نماز کے بعد ایک عمل کا اضافہ ہوگیاہےجوآئندہ ۲۳/نمازوں تک جاری و ساری رہے گا۔ ۹/ذی الحج کی فجر سے ۱۳/ذی الحج کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد با اواز بلند امام مقتدی سبھی تکبیر تشریق پڑھیں گے، :اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد"یہ تکبیر کہنا ہر فرض نماز کے بعد واجب ہے۔ تشریق کے معنی عربی زبان میں گوشت کے پارچے بنا کر ان کو دھوپ میں سکھانا ہے، ابن منظور نے معروف عربی لغت :لسان العرب" میں کہا ہے "التشریق:کا معنی گوشت سکھانا ہے، اسی واسطے ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔
 ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ تکبیر کا تشریق سے کیا ربط و تعلق ہے اور کیوں دونوں کو ملا کر ایک ساتھ بطور نام کےبولا جاتا ہے؟ اس گرہ کو کھولنے کے لیے پہلے تکبیر تشریق کا مطالعہ ضروری ہے، بظاہر یہ ایک تکبیر ہےجبکہ درحقیقت یہ ایک مکمل تقریر ہے۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے،  قربانی کرنے والے ہی کو نہیں بلکہ ہر ایمان والے کے لیے اس میں بڑی نصیحت وصیت کا سامان ہے۔ فقہ حنفی کی مستند کتاب "البحر الرائق" میں تفصیل سے اس عنوان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ہوا ہے تو حکم خداوندی پرآپ اپنا سرتسلیم خم کر دیتے ہیں، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خدا کی راہ میں قربان کر دینے کے لیے زمین پر لٹا دیتے ہیں، چھری تیز کر لیتے ہیں، اور ذبح کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام جو جنت سے مینڈھا لے کر حکم خداوندی سے یہاں تشریف لارہے تھے، دراصل اسی مینڈھے کو ان کی جگہ پہ ذبح ہونا ہے۔ دور سے دیکھ کر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کہیں اسماعیل علیہ السلام ذبح نہ ہوجائیں، چنانچہ زور سے بآواز بلند حضرت ابراہیم علیہ السلام کو متنبہ کرنے کے لیے" اللہ اکبر اللہ اکبر" کے کلمات کہتے ہیں۔اور یہ باور کراتے ہیں کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت اسماعیل کو خدا کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں، اللہ توان چیزوں سے مستغنی ہے،وہ بہت بڑا ہے، حضرت اسماعیل کی قربانی نہیں بلکہ آپ کا امتحان لینا چاہتا ہے،  اپ کو اس امتحان میں کامیابی نصیب ہو چکی ہے، اب تورک جائیے، یہ دیکھیے میرے ساتھ جنت کا یہ مینڈھا ہے،  اسے ذبح ہونا ہے۔
 حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے جب دیکھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہیں، ان کے ساتھ جنتی مینڈھا بھی ہے،حکم خداوندی یہ ہے کہ اسے اسماعیل کی جگہ قربان کرنا ہے، تو فرمانے لگے کہ "لا الہ الا اللہ واللہ اکبر" خدا کی ذات کے علاوہ کوئی قابل اطاعت و عبادت نہیں ہے، وہ بہت بڑا ہے ،اور بڑی شان والا ہے، جب اس کا حکم ہوا کہ بیٹے کی قربانی کرنی ہے، میں نے سر تسلیم خم کیا، اور اب حکم ہے کہ نہیں کرنی ہے، میں نے اس کی اطاعت قبول کر لی ہے، اس کی بڑائی کا خیال کرتے ہوئے اپنے اپ کو اس عمل سے روک لیا ہے۔
 حضرت اسماعیل علیہ السلام زمین پر لیٹے یہ سب کچھ سن رہے تھے،جب انہیں اس بات کا علم ہو گیا کہ معاملہ کچھ اور ہونے جا رہا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام اگئے ہیں، خدائی حکم اور فدیہ میں جنت کا مینڈھا لائے ہیں، تو شکرانے کے طور پر یہ کلمہ زبان سے جاری ہوگیا :اللہ اکبر وللہ الحمد "اللہ بہت بڑا ہے،وہ بندے کے اخلاص کو قبول کرتا ہے، نیز فوری مدد نازل فرما دیتا ہے، جیسا کہ یہاں پیش ایا ہے، میری قربانی ہونی تھی ، بحمداللہ مجھے محفوظ ومامون رکھا گیا ہے، تمام تعریف اس خدائے وحدہ لا شریک لہ کی ہے۔
 اہل عرب ان دنوں کو قربانی کے گوشت سکھانے کے دن کہتے تھے، مذہب اسلام نے ایام تشریق کو گوشت سکھانے نہیں بلکہ حضرت ابراہیم اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کو تازہ کرنے اور یاد دلانے کا ذریعہ بنادیا ہے، دراصل تکبیر تشریق کایہی مقصد ہے۔ شریعت اسلامیہ نے جہاں بھی مادیت کا شائبہ محسوس کیا ہے وہاں ایمان والوں کی سمت روحانیت کی طرف مبذول کر دی ہے، حج میں بھی تلبیہ و دعا کے ذریعے یہ چاہا گیا ہے اور قربانی کے ایام میں بھی یہی منشاخداوندی ہےکہ بندہ اپنے اندر اس حقیقی قربانی کی یاد تازہ کرے، اور اپنی زندگی میں اسے جاری و ساری رکھے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نکات کو ہم کھول کھول کر عوام الناس کے سامنے رکھ دیں،دین کا صحیح فہم نہیں ہونے کی وجہ کر آج پھر مقصد قربانی نہیں بلکہ گوشت بن گیا ہے،اللہ ہمیں قربانی کی روح کو قربانی کے عمل کے ذریعہ اور تکبیر تشریق کے ذریعہ تازہ کرنے کی سعادت نصیب کرے، آمین 
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
۸/ذی الحج ۱۴۴۶ھ بروز جمعرات

عید الاضحٰی کا پیغام

عید الاضحٰی کا پیغام 
مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم 
معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔
موبائل نمبر :7909098319 
Urduduniyanew72
قربانی تقرب الی اللہ کا اہم ذریعہ اور وسیلہ ہے، قربانی در اصل راہ خدا میں جانور کو قربان کرنے کا نام ہے، اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ  تعالیٰ کاقرب اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے۔ انسان کی تخلیق پر جب ہم غور وخوض کرتے ہیں تو اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قربانی کا وجود اور ثبوت انسانوں کی تخلیقات کے ساتھ ساتھ ہے، قرآن   مجید میں  حضرت آدم  کے  دو بیٹوں کی قربانی  کا  واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی عظیم ترین سنت ہے  یہ عمل اللہ تعالیٰ  کواتنا پسند آیا  کہ اس   عمل کوقیامت تک کے مسلمانوں کے لئے  عظیم سنت قرار  دیا ۔ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔قرآن مجید میں صراحتاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا اور ان کے واقعات کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی ایک سورہ ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے ۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسے ماحول میں اپنی آنکھیں کھولی جو شرک، بت پرستی اور خرافات میں غرق، اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی کفر و شرک، بت پرستی اور خرافات کا مسکن وملجا تھا ۔
ابراہیم علیہ السلام کے احساسات وجذبات میں رب العزت کی محبت پیوست تھی، وہ رب کی تلاش و جستجو میں کوشاں رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک واقعہ کو قرآن مجید نے بڑے خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام چاند ستارے سورج میں رب کو تلاش کر رہے تھے، لیکن ان تمام چیزوں کو نکلتے اور ڈوبتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ رب کی ذات اقدس وہ ہے جو کبھی ڈوب نہیں سکتی، کوئی طاقت اسے عاجز نہیں کرسکتی، وہ رب تنہا، یکتا، اور طاقتور ہے۔ جسے نہ نیند آسکتی ہے، نہ اونگھ، 
سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر جب بت اور پرستی کی حقیقت کا انکشاف ہوا،  اس کا باطل ہونا طے ہوا، اور اللہ کی وحدانیت کا آشکار ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو دعوت اسلام دی،  اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کر کے اسے لاجواب کردیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کو ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی کا سامان بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے، اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کامیاب کیا، اور سرخروئی عطا کی ۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دل اللہ رب العزت کی محبت سے لبریز تھا، اور اللہ رب العزت کی ذات بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہے،  یہی وجہ ہے کہ آپ کے کردار عمل کو اللہ رب العزت نے قرآن عظیم میں نقل کرکے انسانوں کے لئے ایک نمونہ بنا دیا، عید الاضحٰی رب العزت کی محبت و اطاعت اور اس کے محبوب بندے کی محبت کی داستان ہے ۔
عید الاضحٰی سنت ابراہیمی ہے، یہ ہمیں محبت، اخوت، بھائی چارگی، ایثار وقربانی، وجذبہء ایمانی کا درس دیتا ہے، اس کی تاریخ در اصل ایک عظیم تاریخ ہے، اور وہ یہ کہ ایک عظیم اور بوڑھا باپ حکم خداوندی پر اپنے پیارے، لاڈلے، چہیتے،جگر کا پارہ، ہر دل عزیز، فرزند کے حلق پر چھری چلا رہا ہے، قربانی اس قوت ایمانی کا نام ہے جس میں بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی اطاعت وبندگی کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ،، 
 اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞
 میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
(سورہ انعام آیت 162) 
یقیناً  ہماری عبادت وریاضت، ہماری بندگی، ہماری زندگی وموت، یہ سب محض آپ کی رضاو خوشنودی کے لئے ہے، ہم خالص آپ کے بندے ہیں، اور آپ کی ہی بندگی کرتے ہیں، ہمارا غم، ہماری خوشی، ہماری زندگی یہ سب محض آپ کی رضا کے لئے ہے، قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم خالص اللہ کے بندے بن کر رہیں، اور وقت پڑنے پر اپنی جان ومال کی قربانی پیش کرنے میں ذرہ برابر  بھی کوئی ہچکچاہٹ ہمیں محسوس نہ ہونے پائے ،یاد کریں اس وقت کو جبکہ ایک عظیم باپ نے اپنے عظیم بیٹے سے دریافت کی کہ  
يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰى‌ؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ‌ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞
اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کررہا ہوں ‘ اب تم سوچ کر بتائو تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس (بیٹے) نے کہا اے ابان جان ! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ‘ آپ انشاء اللہ ! مجھے عنقریب صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
(سورہ الصافات آیت 102)

  یقیناً رب العالمین تم سے تمہاری قربانی کا تقاضہ کر رہے ہیں ، تمہاری اس سلسلے میں کیا رائے ہے، باپ کے عظیم بیٹے نے بہترین جواب دیا کہ آپ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کریں، ان شاء اللہ آپ ہمیں صابر وشاکر میں پائیں گے، اس جواب نے پوری کائنات کو حیران و ششدر کرکے سکتے میں ڈال دیا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام  ضعیفی میں تھے، اپنی اس اولاد سے بے پناہ محبت تھی، لیکن اس محبت کو اللہ کی اطاعت وبندگی پر ترجیح نہیں دی، 
سیدنا ابراہیم واسمٰعیل علیھما السلام نے اللہ کے اس حکم کے بعد فوراً اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا، کسی طرح کی تاویلات نہیں پیش کی کہ اللہ کا کوئی دوسرا منشا ہے، آپ کے اس کردار عمل نے پوری انسانیت کو جھنجھوڑتے ہوئے شعور بندگی سکھایا، اور یہ درس دیا کہ جب حکم خداوندی آجائے تو پھر کیوں، کس لئے، کب، کس طرح، ان باتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور عشق کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حکم ملے سر تسلیم خم ہوجاؤ، مسلمان بھی اسی کا نام ہے کہ رب کائنات کے سامنے سر تسلیم خم ہوجائے،قربانی صرف جانور کی گردن پر چھری چلانے کا نام نہیں ہے، بلکہ قربانی کے ذریعہ انسان کے اندر زہدوتقوی اور خشئت الہی پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ صرف جانور کے گردن پر چھری نہیں چلتی بلکہ قربانی میں اپنی انا، گھمنڈ، تکبر ،فخر، ریا کاری، سب کو قربان کرکے خالص اللہ کا بندہ بن کر زندگی گزارنے کا بندہ عزم کرتا ہے،سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کا یہ پورا واقعہ جو درحقیقت قربانی کے عمل کی بنیاد ہے روز اول سے امت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمہارے دلوں میں یہ احساس یہ علم یہ  معرفت اور یہ فکر پیدا ہوجائے کہ احکامات خداوندی ہر چیز پر مقدم ہے۔تمہاری تمام تر کامیابیوں کے راز اسی میں پنہاں ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو چاہے تمہاری عقل قبول کرے نہ کرے، تمہارے سماج کے خلاف معلوم ہو رہا ہو، تمہاری طبیعت اس کو پورا کرنے میں بوجھ محسوس کر رہی ہو۔
قربانی کا سارا فلسفہ یہی ہے اس لئے کہ قربانی کے معنی ہیں"اللہ کا تقرب حاصل کرنا ہے" لفظ" قربانی" قربان سے نکلا ہے اور لفظ "قربان" قرب سے بنا ہے یہ قربانی جہاں فی نفسہ ایک عظیم عبادت وبندگی اور شعاراسلام ہے وہیں یہ قربانی امت مسلمہ کو عظیم الشان سبق بھی دیتا ہے کہ یہ امت اپنے آپ کو کامل مسلمان بنائے سراسر اتباع اور اطاعت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی صحیح اور حقیقی روح "جذبہ اتباع" کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھ لے۔قربانی کی حقیقت اور اس کے پیچھے اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ دل میں جس چیز کی محبت اور طلب ہو وہی اللہ کی خاطر قربان کر دی جائے لیکن انسان تو صرف اپنی نفسانی خواہشات کی طلب اور اپنے خوابوں کی تکمیل میں دن رات کمربستہ رہتا ہے۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ انسان سوچتا ہے تو محض یہ کہ وہ اپنے خواب کیسے پورے کرے، اپنی خواہشات کیسے حاصل کرے، مال و دولت کیسے کمائے، معاشرے میں مقام و مرتبہ کیسے بنائے۔ نہیں سوچتا تو بس یہ کہ اللہ کا قرب کیسے حاصل کیا جائے، گناہوں سے کیسے بچا جائے، اپنے نفس کی اصلاح کیسے کی جائے۔ وہ اپنی آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے ہر شے قربان کر دیتا ہے اگر قربانی نہیں دیتا تو محض اپنے نفس کی کیونکہ وہ اپنے نفس کی تسکین کی خاطر تو یہ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔لیکن انسان تب تک خیر نہیں پا سکتا جب تک اپنے نفس کی قربانی نہیں دیتا، قربانی کا اصل تقاضا اور اس کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ جس چیز سے تمہیں سب سے زیادہ محبت وانسیت اور لگاؤ ہے تمہارے دل میں اس چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حوصلہ اور جذبہ ہمہ وقت رہے، کیوں کہ اس وقت تک  بندے کی بندگی مقبول نہیں جب تک وہ اپنی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب اللہ اور اس کی نازل کردہ احکامات کو سمجھے، اور اس پر چلتا رہے، قربانی بھی اسی بندگی کی ایک کڑی ہے، اللہ ہم سب عید قرباں کے صحیح معانی ومفاہم سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

جمعرات, مئی 29, 2025

حج یہ "مہاکمبھ" کا میلہ نہیں ہے !              


آرایس ایس کا ہفتہ واری اخبار پنچ جنیہ ہے، اس کے ٹویٹر ہینڈل سےحجاج کرام کے قیام مزدلفہ کی ایک تصویرشائع کی گئی ہے، اس پر ایک نوٹ بھی تحریرکیا گیا ہے جس میں لکھا ہے: "٥٦/ اسلامی دیش، پیسے کے معاملے میں سبھی طاقتور، اس کے باوجود مکہ میں حج یاتریوں کی حالت اور بےبسی دیکھیے، یہ توچند لوگوں کی بھیڑ ہے، مہا کمبھ میں ۵٦/ کروڑ سے زائد لوگ ائے، پھر بھی ایسی کوبھ ویوستھانہیں رہی"
مذکورہ تحریر کے ذریعے سمجھے بغیر حج جیسی افضل ترین عبادت پرسوال قائم کیا گیا ہے، قیام مزدلفہ کےموقع کی ایک تصویربھی اس کے ساتھ شئر کی گئی ہےجس میں حجاج کھلے میدان میں ارام کر رہے ہیں اور کچھ لوگ عبادت میں مصروف ہیں، ان کی کسم پرسی دکھانے کی کوشش ہے، اور یہ کہنا ہے کہ مال و دولت کی ریل پیل کے باوجود یہ مسلمان ممالک حجاج کے لیے بندوبست نہیں کرتے ہیں ،یہاں کوئی ٹینٹ ہے نہ چھپڑ،سبھی رام بھروسے کھلے میدان میں پڑے ہیں۔
انصاف کی بات تو تھی کہ پہلےسمجھنے کی کوشش کرتےکہ آخر اس کھلے میدان میں یہ حجاج کیا کر رہے ہیں؟ کیوں اس پتھریلی زمین پر لیٹےپڑے ہیں؟ یہ ساری معلومات کے بعد مذہب اسلام کے اس بنیادی رکن پر سوال اٹھاتے، اور سوشل میڈیا کیاسے زینت بناتے، مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں کیا گیا، بس ایک تصویر ہاتھ لگی اور میدان مزدلفہ کی جسے مکہ مکرمہ کہ کر بنا کچھ سوچے سمجھے پوسٹ کر دیا، اس کا مقصد اسلام ومسلمان کو ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟اخبار کے اس عمل سے ہمیں ٹھیس پہونچی ہے اور سب سے پہلے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
حج کے مختلف ارکان ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے حج کے پورے سفر کا مطالعہ ضروری ہے، پہلی بات تو یہ کہ حج کے سفر پہ جانے والا کوئی غریب نہیں ہوتا ہےجس کا رونا رویا جارہا ہے، حج اسلام میں اسی پر فرض ہے جو مال و دولت رکھتا ہے، مذکورہ سوال جو مزدلفہ کی ایک تصویر کے ذریعہ کیا جارہا ہے، اس قدر دور جانے کی ضرورت کیا ہے؟ بلکہ یہ توحج کے سفر کی ابتدا ہی سے قائم ہوسکتا ہے، اس کی تصویربآسانی یہیں دستیاب ہوسکتی ہے وہ یہ ہرحاجی ایک ہی طرح طرح کا کپڑا زیب تن کیا ہوا ہے،گرمی کا زمانہ ہے، سفر سب کے سر کھلے ہیں، ٹوپی ہے نہ پگڑی ہے، سیدھی دھوپ سر پر پڑ رہی ہے، اس کے بچاؤ کے لیے کوئی نظم نہیں ہے، جبکہ عام دنوں میں اور اپنی عبادتوں میں یہ مسلمان ٹوپی اور پگڑی میں نظر اتے ہیں،میری سمجھ سے یہ پہلا اور ابتدائی وبنیادی سوال اگر حل کر لیتےتو باقی تمام سوالات خود بخود حل ہوتے چلے جاتے۔ 
حج مالداروں پر فرض ہے، انسان کی فطرت یہ ہے کہ دولت جب اس کے پاس آتی تو اپنے کو وہ خود کو بڑی چیز سمجھنے لگتا ہے، حج کے سفر میں اس بیماری کابھی علاج بھی اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ایک ہی لباس میں جسے احرام کہتے ہیں ،وہ سفید کپڑے کا اورسلا ہوا نہیں ہوتا ہے ،مردہ کو جس کپڑے میں دفن کیا جاتا ہے وہ بھی سفید ہوتا ہے اور بغیرسلاہوتا ہے، خواہ بادشاہ ہو یا فقیر،اسی کپڑے میں دفن کیا جاتا ہے، یہی کپڑا حج کے سفر میں ہر حاجی کو پہننا پڑتا ہے، اور سبھوں کے منہ سے ایک ہی ترانہ جاری ہوتا ہے جیسے تلبیہ کہتے ہیں، اس میں خدا کی بڑائی کا اعلان ہے، اپنی بڑائی کہیں نہیں ہے ،حاجیوں کے لیے حج کے سفر میں خیمے اور ٹینٹ کا بھی نظم ہے، مگر وہ منی اور عرفات کے میدان میں ہے، ان خیموں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی ہے، بادشاہ کا بھی خیمہ وہی ہوتا ہے جو ایک عام ادمی کا ہے، عرفات کے میدان سے چل کر حجاج مزدلفہ جاتے ہیں، مزدلفہ میں رات گزارنا حاجیوں کے لیے واجب و ضروری ہے، مگر یہاں خیمہ ہے اور نہ کوئی چھت ہے، بلکہ کھلے اسمان کے نیچے کھلے میدان میں رہنا ہے، عبادت کرنی ہے۔
 دراصل اس بات کا یہاں پر احساس کرنا ہے کہ کس طرح وہ لوگ زندگی گزارتے ہیں جنہیں گھر نصیب ہے اور نہ کوئی سائبان، اسی درد کو یہاں آکرمحسوس کرنا ہے ، پتھریلی زمین پر بیٹھنا ہے،اور ان کے درد و غم میں شریک ہونا ہے، ایک بادشاہ بھی اسی طرح کنکریلی زمین پر بیٹھاہوا،لیٹا ہوا، عبادت کرتا ہوا نظر اتا ہے جس طرح ایک عام حاجی کا معمول ہے، یہاں کوئی وی ائی پی کوٹا نہیں ہے، یہ مساوات اور برابری کا بڑا پیغام ہے ،جو مزدلفہ کے میدان سے پوری دنیا کو دیا جاتا ہے۔
 افسوس کے اس پیغام کو نہیں سمجھا گیا اور اج اس اہم پیغام کو اعتراض کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مذہب اسلام میں نماز کے ذریعے ایک ہی صف میں محمود و ایاز کو کھڑا کر کے یہی پیغام دیا گیا ہے، اسلام میں ایمان والے کی قیمت ایک ہے، یہاں سب کے لیے یکساں معاملہ کیا جاتا ہے۔
اسی حج کے سفر کی بات ہے، مکہ کے قریشی لوگ خود کو وی ائی پی سمجھتے تھے، عرفات کے میدان نہیں جاتے تھے، 
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امد سے پہلے مکہ کے قریشی لوگ خود کو وی ائی پی سمجھتے تھے وہاں حاجیوں کے ساتھ عرفات کے میدان نہیں جاتے تھے حضرت علی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جاہلیت میں قریش حاجیوں کے ساتھ عرفات نہیں جاتے تھے اللہ تعالی نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی:ہاں تو تم وہاں جا کر واپس اؤ جہاں سے لوگ واپس اتے ہیں (سورہ بقرہ)
مذہب اسلام میں نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز کسی کو حاصل نہیں ہے،اور نہ کسی کے لیے کوئی اسپیشل قانون ہے۔ افسوس کہ لاعلمی کی بنیاد پر اج اس عمل کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے،یہ سراسر جھوٹ اور مذہب اسلام کے خلاف پروپگنڈا ہے، حج کی عبادت کا نام ہے، یہ کوئی کمبھ کا میلہ نہیں ہے ،ایام جاہلیت میں لوگوں نے اسے میلہ بنا دیا تھا، تفریح، کھیل، تماشے اور لڑائی جھگڑے جومیلوں میں ہوتے ہیں، یہاں بھی ہونے لگےتھے، قران نے یہ اعلان کیا:" حج میں نے کوئی فحش بات ہونے پائے اور نہ کوئی بےحکمی اور نہ کوئی جھگڑا( سورہ بقرہ)
عبادت کا مطلب صرف اور صرف خدا کی بڑائی وبندگی ہے،خدا کا پہلا گھر دھرتی پر کعبہ ہے ،حاجی وہاں جا کر طواف کرتے ہیں، اور حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی قربانیوں کو تازہ کرتے ہیں، صفا مروہ کا چکر لگا کر ایک ماں کی ممتا اوراس کی تڑپ کو تازہ کرتے ہیں، مزدلفہ کے ویرانے میں رات گزار کر اس بات کا احساس اپنے اندر پیدا کرتے ہیں کہ اللہ کے گھر کو اباد کرنے کے لیے اس ویرانہ کا انتخاب ان بزرگوں نے کیا ہے،مقصد کھیتی باڑی نہیں ہے، بلکہ خدا کی عبادت اور اس کے گھر کی حفاظت ہے۔ اسی مزدلفہ میں ایک وادی بھی ہےجسے وادی محسر کہتے ہیں، یہ وہی مقام ہے جہاں ابرہہ کی فوج کو اللہ نے نیست و نابود کیا تھا اور اپنے کعبہ کو بچا لیا تھا۔ اس جگہ حاجیوں کو ٹھہرنے سے منع کیا جاتا ہے، اس لیے کہ وہاں خدا کا عذاب ایا تھا، یہ تاریخی مقامات ہیں، اور ان میں بڑے پیغامات ہیں۔ آج انہیں عام کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ کہیں کا روڑہ کہیں کا پتھر، مارے گھٹنا پھوٹے سر۔
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 
یکم ذی الحج ۱۴۴۶ھ بروز جمعرات

پیر, مئی 26, 2025

وقف ترمیمی قانون کےخلاف امارت کانیامحاذ        


یہ سبھی کے علم میں ہےکہ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف عرضیوں پر گزشتہ ۲۲/ مئی ۲۰۲۵ء کو ہی سماعت مکمل ہو چکی ہےاورسپریم کورٹ نےاپنافیصلہ محفوظ کر لیاہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کب ائےگا؟ اس تعلق سے دو باتیں کہی جارہی ہیں، اول یہ کہ ماہ رواں کے اختتام تک اس کی آمد کاقوی امکان ہے،دوم یہ کہ تاخیر کی صورت میں ۱۳/جولائی ۲۰۲۵ء کو تعطیل کے اختتام پرفیصلے کی گھڑی ان کھڑی ہوسکتی ہے۔ یہ فیصلہ کس کے حق میں ہے؟ 
یہ بات حتمی طور پر کوئی نہیں کہہ سکتا ہے،البتہ قیاس وقرینہ سےاس کے بہتر اور مسلمانوں کے حق میں ہونے کی امید کی جارہی ہے،اور یہ قیاس بے بنیاد بھی نہیں ہے،درحقیقت ترمیمی ایکٹ کے خلاف داخل عرضیوں پر جو اخری تین دنوں میں سماعت ہوئی ہے اس سے یہ امید کی کرن پھوٹی ہے، قوی امکان یہ ہے کہ انصاف پسند لوگوں اور ائین پر یقین رکھنے والوں کے لیے یہ بڑی تاریخی جیت ثابت ہو نے جارہی ہے۔ماہروکلاء نے جس مضبوطی کے ساتھ وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف دلائل پیش کیے ہیں اس کی نظیر دیگر مقدمات میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

آخری سماعت میں ۲۵/سے زائدایسےپوائنٹس عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں جنہیں دلائل قاطعہ کہا جارہا ہے۔سینیئر ایڈوکیٹ جناب کپل سبل نےدرجن بھر سے زائد دلائل پیش کیے ہیں،یہ باتیں کس قدر اہم ہیں اندازہ کرنے کےلئے ملاحظہ فرمائیے;
  وقف قانون تحفظ کے نام پر اوقاف پر قبضہ ہے، اور ملک میں ایک نیا تنازع پیدا کرنے کی کوشش ہے، وقف ایک خالص مذہبی معاملہ ہے، اس کو سیکولر نظریے سے نہیں دیکھا جا سکتا ہےاورنہ دوسرے مذہب کے لوگوں کو اس کا ممبر بھی نہیں بنایا جا سکتا ہے۔وقف بائی یوزر کو اس نئے قانون سے ہٹا دیا گیا ہے، جو پراپرٹی وقف ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہے وہ وقف نہیں ماناجائے گا۔ اس نئے قانون کے رو سے وہ جائیداد جو آرکیا لوجیکل کے تحت رجسٹرڈ ہے وقف نہیں مانا جائے گا۔ وقف کرنے کے لیے پانچ سال سے مسلمان ہونے کی شرط یہ آئین ہند کے خلاف ہے، ملکی قانون میں یہ نہیں ہے کہ ایک ہی مذہب کے لوگ دان کر سکتے ہیں وغیرہ ۰۰۰یہ مضبوط دلائل عدالت عظمی میں   پیش کئے ہیں،مزید ایڈوکیٹ راجیو دھون جی، منو سنگوی وایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے ایسے پوائنٹس پیش کیے ہیں جنکی توڑ فریق مخالف کی طرف سےہنوز نہیں کی جا سکی ہے،اسی لئے اس کیس کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آنے کی امید قوی ہے۔

دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگر تمام ملی تنظیموں کاوقف ترمیمی ایکٹ کے حوالہ سے یہ واضح اعلان موجود ہے کہ اس قانون کو واپسی تک اس کے خلاف تحریک جاری رہے گی، گزشتہ کل امارت شرعیہ کے ۵۴۱/ارباب حل و عقد نے باضابطہ اس کاریزولیشن بھی لیا ہے اوراس تحریک کو مسلسل جاری وساری رکھنے کا عزم مصمم کیا ہے،تجویز ملاحظہ کیجئے;
"اجلاس اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ وقف املاک ملت اسلامیہ کا قیمتی اثاثہ ہیں، اور وقف ایکٹ 2025ء ان اثاثوں کو سرکاری تحویل میں لینے کی سازش ہے، امارت شرعیہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی اداروں کی زیر قیادت احتجاجی جلوس، تحفظ اوقاف کانفرنسیں، اورضلعی حکام کو دیے گئے میمورنڈم قابل تحسین ہیں، یہ مہم اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک یہ قانون واپس نہ لے لیا جائے ،اجلاس تجویز کرتا ہے کہ گاندھی میدان میں تحفظ اوقاف کی ایک عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد کی تیاری فوری طور پر شروع کی جائے"۔
مذکورہ تجویز اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا ودیگر تمام ملی تنظیموں کے متفقہ فیصلے سے واضح ہوتا ہے یہ لڑائی وقف ترمیمی قانون کی واپسی تک جاری و ساری رہے گی، عدالت عظمی کا فیصلہ اس کی منزل نہیں ہے۔بلکہ اس تحریک کا اختتام قانون واپسی پر ہے۔
ابھی کچھ دنوں سے محسوس یہ ہو رہا تھا کہ یہ تحریک سرد مہری کا شکار ہو گئی ہے، ایسے وقت میں امیر شریعت جناب حضرت مولاناسید احمد ولی فیصل رحمانی نےاپنے صدارتی خطاب کے ذریعہ بھی یہ پیغام دیا ہےکہ تحفظ اوقاف تحریک کو تسلسل کے ساتھ جاری وساری رکھنا ہے، مزید اسمیں ندرت پیدا کرتے ہوئے مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں کہ; جمعہ کو کالی پٹی باندھ کر جمعہ کی نماز ادا کریں، اور ہفتہ کے دن فلش لائٹ کے ذریعہ احتجاج درج کرائیں، ان باتوں سے ایک بار پھرعوام الناس میں ایک نئی امنگ پیدا ہوئی ہے،مزید اس کو عظیم الشان اور تاریخ ساز بنانے کے لئےبہار کی راجدھانی کے گاندھی میدان میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ ۲۹/جون ۲۰۲۵ء کو امارت شرعیہ کرنے جارہی ہے، اس شاندار فیصلہ پرحضرت امیر شریعت و جملہ ارکان ارباب و حل و عقد کے ہم سبھی ممنون ومشکور ہیں۔واقعی اس کے ذریعہ وقف ترمیمی قانون کےخلاف تحریک کو ریاست بہار میں امارت نے ایک نئی زندگی بخش دی ہے اور اس کےلئےنیا میدان بھی تیار کرلیا ہے۔
مذکورہ ایکٹ کے خلاف امارت شرعیہ کی سابقہ کارگزاری بھی بڑی لائق تحسین رہی ہے،امارت کی نگرانی میں بہار کے ہر ضلع میں احتجاجی جلسے منعقد کیے گئےہیں،ہر ضلع کے کلکٹر کو میمورنڈم بھی دیا گیا ہے۔بہت ہی منظم انداز میں یہ سب کچھ انجام دیا گیا ہے ،کہیں سے کوئی بدنظمی کی شکایت نہیں آئی ہے، یہ امارت کے حسن انتظام کی برکت ہے،اور اب بحمداللہ چار ریاستوں کے تعاون سے گاندھی میدان میں عظیم الشان اجلاس کا تاریخی فیصلہ امارت نےلیا ہےگویا یہ زبردست پروگرام ہونے جارہا ہے، ہمیں امید ہے کہ ملک کے کونے کونے میں پھر سے امارت ودیگر ملی تنظیموں کی محنت سے وقف ترمیمی قانون کے خلاف تحریک مضبوط انداز میں دوبارہ شروع ہورہی ہے۔ اس آواز کوبہار میں مضبوطی کے ساتھ بلند کرنے میں امارت کی بڑی قربانی ہے،نیز صرف اسی لئے ناگفتہ بہ حالات کا بھی اسے سامنا کرنا پڑا ہے، مگر ذاتی نقصان کو برداشت کرتے ہوئے امارت  ملی مسائل کے لئے ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار  ثابت ہوئی ہے،آج بھی یہ اپنے مشن پر گامزن ہے۔
پھونک کر میں نے آشیانے کو               
روشنی بخش دی زمانے کو                
               
مفتی ہمایوں اقبال ندوی 
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ 

26/5/2025

پیر, مئی 12, 2025

1857 کی ’جنگِ آزادی‘: جب دلی نے موت کو رقصاں دیکھامصنف : ریحان فضل

1857 کی ’جنگِ آزادی‘: جب دلی نے موت کو رقصاں دیکھا
Urduduniyanews72
مصنف : ریحان فضل
بی بی سی ہندی، دہلی

یہ مضمون ابتدائی طور پر مئی 2020 میں شائع ہوا اور قارئین کی دلچسپی کے پیشِ نظر دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے، میں وہ ایک مشت غبار ہوں

آج کے دور میں ایک عام آدمی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ان اشعار کے خالق آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے سنہ 1857 میں انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی آزادی کی پہلی جنگ میں ہندوستانیوں کی قیادت کی ہو گی۔
11 مئی سنہ 1857 کو پیر تھا اور رمضان کی 16 تاریخ۔
صبح سات بجے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ندی کنارے لال قلعے کے تصویر خانے میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔
اسی وقت انھیں جمنا پار ٹول ہاؤس سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
انھوں نے اس کی وجہ جاننے کے لیے فوراً اپنا ہرکارہ وہاں بھیجا اور وزیراعظم حکیم احسان اللہ خان اور قلعے کی حفاظت کے ذمہ دار کیپٹن ڈگلس کو بھی طلب کر لیا۔

ہرکارے نے آ کر بتایا کہ انگریزی فوج کی وردی میں ملبوس کچھ ہندوستانی سواروں نے برہنہ تلواروں کے ساتھ دریائے جمنا کا پل عبور کیا تھا اور انھوں نے دریا کے مشرقی کنارے پر واقع ٹول ہاؤس کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی تھی۔
یہ سن کر بادشاہ نے شہر اور قلعے کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔

شام چار بجے ان باغیوں کے رہنما نے بادشاہ کو پیغام بھجوایا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ باغی دیوان خاص کے احاطے میں جمع ہو گئے اور اپنی بندوقوں اور پستولوں سے ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔

’باغی بادشاہ کی آشیرباد کے خواہشمند تھے‘

دلی میں اس زمانے کے بڑے رئیس عبدالطیف نے 11 مئی کے اپنے روزنامچے میں لکھا: ’بادشاہ کی مثال وہی تھی جو شطرنج کی بساط پر شہ دیے جانے کے بعد بادشاہ کی ہوتی ہے۔‘
بہت دیر چپ رہنے کے بعد بہادر شاہ ظفر نے کہا کہ ’میرے جیسے بزرگ آدمی کی اتنی بےعزتی کیوں کی جا رہی ہے، اس شور کی وجہ کیا ہے؟ ہماری زندگی کا سورج پہلے ہی اپنی شام تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہماری زندگی کے آخری دن ہیں۔ اس وقت ہم صرف تنہائی چاہتے ہیں۔‘
بعد میں چارلس میٹکاف نے اپنی کتاب ’ٹو نیشنز نیریٹو‘ میں لکھا: ’حکیم احسان اللہ خان نے سپاہیوں سے کہا آپ انگریزوں کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور مقررہ تنخواہ کے عادی ہیں۔ بادشاہ کے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے۔ وہ کہاں سے آپ کو تنخواہ دیں گے؟‘
’سپاہیوں نے جواب دیا کہ ہم سارے ملک کا پیسہ آپ کے خزانے میں لے آئیں گے۔ بہادر شاہ ظفر نے کہا کہ میرے پاس نہ تو فوجی ہے، نہ ہتھیار اور نہ ہی پیسہ، تو انھوں نے کہا ہمیں صرف آپ کی حمایت چاہیے۔ ہم آپ کے لیے سب کچھ لے آئیں گے۔‘
چارلس لکھتے ہیں ’بہادر شاہ ظفر تھوڑی دیر تک خاموش رہے۔ فوری فیصلہ نہ کر پانا ان کی شخصیت کا سب سے بڑا نقص تھا لیکن اس دن بہادر شاہ ظفر نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی اور ہاں کر دی۔

’وہ ایک کرسی پر بیٹھے اور سبھی سپاہیوں نے باری باری ان کے سامنے آ کر سر جھکایا اور انھوں نے ان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا۔ سپاہیوں نے قلعے کے کمروں پر قبضہ کر لیا اور کچھ نے تو دیوان عام میں اپنے بستر لگا دیے۔‘

چاندی کا تخت اور نئے سکے

بادشاہ نہ تو اتنے بڑے لشکر کو قابو میں رکھ سکتے تھے اور نہ ہی ان کا انتظام کر سکتے تھے لہٰذا وہ خود لشکر کے قابو میں آ گئے۔
اگلے دن بادشاہ نے اپنا شاہی لباس زیبِ تان کیا۔ چاندی کے تخت پر رونق افروز ہوئے۔
بادشاہ کے نام پر سکے جاری کیے گئے پھر پھر ایک بڑی توپ داغے جانے کی آواز سنائی دی۔

انگریزوں کے خلاف بغاوت کیسے اور کیوں شروع ہوئی

اس سب کی شروعات 10 مئی 1857 کو میرٹھ میں اس وقت ہوئی تھی جب بنگال لانسر کے سپاہیوں نے بغاوت کر کے دلی کی جانب کوچ کیا تھا۔

سنہ 1857 کے واقعات پر انتہائی اہم تحقیق کرنے والی معروف تاریخ دان رعنا صفوی بتاتی ہیں: ’ایسی بندوقیں آئی تھیں جس کے کارتوسوں کو منہ سے کاٹ کر بندوق میں بھرنا پڑتا تھا۔ اس زمانے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اس کے اندر گائے کی اور خنزیر کی چربی ہے لہٰذا جو مسلمان تھے وہ بھی ان کو چھونے سے کترا رہے تھے اور ہندو بھی ان کو چھونے سے کترا رہے تھے۔‘
رعنا صفوی کے مطابق ’اس کے علاوہ بھی اسباب تھے کہ انھیں سمندر پار لڑائی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ تو برہمنوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پانی یعنی سمندر پار کر لیا تو ان کی ذات ختم ہو جاتی ہے۔ ان کی ترقی بھی صرف ایک حد تک ہوتی تھی۔ ہندوستانی سپاہی صوبے دار سے آگے نہیں جا سکتے تھے۔ اس طرح کی ان کی بہت ساری شکایتیں تھیں۔‘
کچھ لوگوں نے اسے غدر کہا تو کچھ نے جنگ آزادی کا نام دیا۔

دلی والوں نے باغیوں کا خیرمقدم نہیں کیا

ابتدا میں دلی والوں نے ہاتھ پھیلا کر ان باغیوں کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ کچھ حلقوں یہاں تک کہ بہادر شاہ کے قریبی لوگوں نے بھی ان کی مخالفت کی تھی۔
کہا گیا کہ ان باغیوں نے بھی شہنشاہ کا احترام نہیں کیا اور اس معاملے میں دربار کے قوانین کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا۔ درباریوں کو اعتراض تھا کہ وہ دربار میں داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے نہیں اتارتے اور شہنشاہ کے سامنے ہتھیار لے کر جاتے تھے۔
مشہور تاریخ دان اور کتاب ’بسیج 1857: وائسز آف دہلی‘ کے مصنف محبوب فاروقی بتاتے ہیں کہ ’دلی والے ناراض تھے لیکن اس سے ہم ایسا کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ دلی والے انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑنا نہیں چاہتے تھے۔
’بات یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی ہر آدمی اپنے حساب سے لڑنا چاہے گا۔ کوئی یہ نہیں چاہے گا کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں آپ کے گھر کے اوپر 40 سپاہی آ کر بیٹھ جائیں۔‘
’جب ہم آزادی کی لڑائی مہاتما گاندھی یا کانگریس پارٹی کے ساتھ لڑ رہے تھے، بھگت سنگھ کے ساتھ لڑ رہے تھے تو بھی ہندوستان میں ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے گھر پر کوئی آنچ آئے یا پولیس ان کے گھر پر آ جائے۔ یہی بات سنہ 1857 پر بھی صادق آتی ہے۔‘

انتشار کے باوجود انتظام برقرار تھا

کہا جاتا ہے کہ ان واقعات نے دلی والوں کی زندگی میں بہت ہی اتھل پتھل مچا دی لیکن محبوب فاروقی کا خیال ہے کہ تمام تر انتشار کے باوجود نظام پہلے ہی کی طرح قائم تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’1857 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت افرا تفری تھی، بہت بدنظمی تھی، کوئی تنظیم نہیں تھی، کوئی کنٹرول نہیں تھا، کوئی ڈھانچہ نہیں تھا لیکن میں اپنی کتاب میں یہ بات کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔
’ظاہر سی بات ہے کہ ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے درمیان اگر 70 یا 80 ہزار فوجی آ جائيں گے تو کچھ نہ کچھ افرا تفری تو پھیلے گی۔ اگر آج دلی کی جتنی آبادی ہے اس میں 30 لاکھ فوجی آ کر بیٹھ جائیں تو شہر کا کیا حال ہو گا۔‘
ان کے مطابق ’اس کے باوجود جو بہت ہی حیرت انگیز اور عجیب و غریب چیز ہے کہ اگر کمانڈر ان چیف کوتوال سے کہہ رہا ہے کہ چار سپاہی جو ڈیوٹی پر نہیں گئے تھے ان کو پکڑ لاؤ اور چار سپاہی پکڑ لیے جاتے ہیں اور وہ آ جاتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ اچھا نظم و ضبط ہے۔ ‘
’آپ کو محاذ پر چار سو چارپائیاں چاہییں اور وہ آپ کو مل رہی ہیں تو یہ فراہمی کا ایک طریقہ ہے۔ یہ آسمان سے تو نہیں اتر رہیں، کسی نے کہا، کوئی گیا، کوئی لے کر آیا اور فورا ہی اس کا پیسہ دیا گیا۔ یہ تو ایک مثال ہے کہ لڑائی صرف سپاہی نہیں لڑتے ہیں۔ لڑائی جب آپ لڑتے ہیں تو آج کے زمانے میں بھی اگر آپ کو ٹاٹ کی بوریاں چاہییں، آپ کو پانی چاہیے، قلی چاہیے، مزدور چاہیے تو وہ سب ایک سپاہی کے ساتھ چار مزدور ہوتے ہیں تو وہ سب کہاں سے آ رہے تھے؟'

56 برطانوی مارے گئے

12 مئی کی صبح دلی انگریزوں سے پوری طرح خالی ہو چکی تھی لیکن چند انگریز خواتین نے قلعے کے باورچی خانے کے پاس کچھ کمروں میں پناہ لے رکھی تھی۔ باغیوں نے بادشاہ کی مخالفت کے باوجود ان سب کو قتل کر دیا۔
رعنا صفوی کہتی ہیں ’11 اور 12 کو جب انھوں نے حملہ کیا اور انگریزوں پر وار کیا تو اس وقت کافی انگریز تو شہر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور کافیوں کو انھوں نے مارا بھی۔ کچھ عورتوں نے قلعے میں آ کر پناہ لی۔ وہیں پر انھوں نے دشمنی میں 56 لوگوں کو مار ڈالا۔ ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے جبکہ ان میں ایک دو مرد بھی تھے۔‘
ان کے مطابق ’بہادر شاہ ظفر کے خلاف جب مقدمہ چلا تو ان کے خلاف سب سے بڑا الزام یہی تھا کہ انھیں آپ نے مروایا۔ حالانکہ ظہیر دہلوی کی کتاب اگر پڑھیے تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت 1857 کے غدر کے وقت قلعے میں موجود عینی شاہدین تھے وہ بتاتے ہیں کہ بادشاہ نے بہت کہا تھا کہ یہ کسی بھی مذہب میں نہیں لکھا ہے کہ تم معصوموں کو مارو۔‘

انگریزوں کی واپسی اور سزائیں

کچھ دنوں کے بعد ہی بغاوت کرنے والوں کے قدم اکھڑنے لگے اور دلی سے بھاگ نکلنے والے انگریزوں نے واپسی کی۔ انبالہ سے آنے والے فوجیوں نے بازی پلٹ دی اور انگریز ایک بار پھر دلی میں داخل ہو گئے۔

اور پھر شروع ہوا سزاؤں کا سلسلہ۔ اس وقت کے ایک برطانوی سپاہی، 19 سالہ ایڈورڈ وائبرڈ نے اپنے چچا گورڈن کو ایک خط میں لکھا تھا ’میں نے اس سے پہلے بھیانک مناظر دیکھے ہیں ، لیکن کل میں نے جو کچھ دیکھا ہے، میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ میں پھر کبھی ایسا منظر نہیں دیکھوں۔‘
’خواتین کو چھوڑ دیا گیا، لیکن اپنے شوہروں اور بیٹوں کی موت کے بعد ، ان کی چیخیں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ مجھے ان پر ترس نہیں آیا لیکن جب میری آنکھوں کے سامنے معمر افراد کو جمع کر کے مار دیا گیا تو یہ میں مجھ پر اثرانداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔‘
محبوب فاروقی کہتے ہیں ’سنہ 1857 میں بہر حال افراتفری تھی اور کیوں نہ ہو کہ آپ اس بڑے پیمانے پر ایک ورلڈ پاور اور سپر پاور کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں تو ہم یہ امید نہیں کر سکتے کہ شہر میں جو کچھ جیسا تھا چلتا رہے گا۔ ظاہر سی بات ہے شہر میں شدید دہشت کا ماحول تھا، شک کا ماحول تھا، لڑائی چل رہی تھی تو اس قسم کا ماحول تو ہو گا۔‘
تاہم ان کے مطابق ’1857 کی بغاوت کے بعد جس طرح سے شہر اور شہریوں کو جبر کا نشانہ بنایا گیا اور جو انگریزوں نے کیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔
’دلی کے تمام شہریوں کو چھ مہینے تک شہر کے باہر رکھا گیا اور دلی والوں نے چھ مہینے تک سردی اور برسات میں کھلے آسمان تلے گزارے جبکہ محلوں کے محلے لوٹ لیے گئے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مرزا غالب بھی اسی دلی میں تھے۔ دیکھیں کہ وہ اس سب سے کتنے دہشت زدہ ہوئے کہ انھوں نے 1857 کے بعد سے اپنی زندگی کے باقی 12 برسوں میں کل 11 غزلیں کہی ہیں۔ یعنی ایک سال کی ایک غزل بھی نہیں بنتی ہے۔ تو شاعر مرزا غالب اور فنکار مرزا غالب یا جو وہ پوری کھیپ تھی 1857 کے بعد ختم ہو گئی۔‘

سنہ 1857 کے بعد سے ہندوستانی کبھی اس اعتماد کے ساتھ نہ انگریزوں سے مل پائے نہ بات کر پائے جو اس سے قبل ان میں موجود تھی۔ 1857 کی لڑائی ہندوستانی کی آخری لڑائی تھی جو وہ اپنی شرائط پر لڑ رہے تھے۔ اس کا مطلب اپنے ہتھیاروں پر نہیں بلکہ اپنی ذہنی شرائط پر، اپنی نفسیاتی شرائط پر۔‘

بادشاہ نے ہتھیار ڈال دیے

انگریز دلی میں داخل ہوئے تو بہادر شاہ ظفر لال قلعے کے عقب سے اپنی پالکی میں بیٹھ کر پہلے حضرت نظام الدین کے مزار پر گئے اور پھر وہاں سے ہمایوں کے مقبرے پر جہاں پر 18 ستمبر 1857 کو کیپٹن ولیم ہاجسن نے انھیں گرفتار کیا۔
بعد میں سی پی ساؤنڈرس کو تحریر کردہ خط میں انھوں نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’بادشاہ، مرزا الٰہی بخش اور مولوی کے ساتھ ایک پالکی پر باہر آئے۔ ان کے پیچھے بیگم اپنے بیٹے مرزا جوان بخت اور والد مرزا قلی خان کے ساتھ باہر نکلیں۔ پھر پالکیاں رک گئیں اور بادشاہ نے پیغام بھجوایا کہ وہ میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں کہ ان کی جان بخش دی جائے گی۔‘
’میں اپنے گھوڑے سے اترا اور میں نے بادشاہ اور ان کی بیگم کو یقین دلایا کہ ہم آپ کی زندگی کی ضمانت دیتے ہیں بشرطیکہ کہ آپ کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی جائے۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ان کی بےعزتی نہیں کی جائے گی اور ان کے وقار کو برقرار رکھا جائے گا۔‘
بہادر شاہ ظفر کی جان تو بخش دی گئی لیکن ان کے تین بیٹوں خضر سلطان، مرزا مغل اور ابوبکر کو ہتھیار ڈالنے کے باوجود گولی مار دی گئی۔
ولیم ہڈسن نے اپنی بہن کو ایک خط میں لکھا ’میں فطرتاً بےرحم نہیں ہوں لیکن مجھے ان تین بدبختوں سے چھٹکارا پا کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔‘

جب بادشاہ قیدی بنا

بادشاہ کو لال قلعے کی ایک کوٹھڑی میں ایک معمولی قیدی کی طرح رکھا گیا۔
سر جارج کیمبل اپنی کتاب ’میموائرز آف مائی انڈین کریئر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’بادشاہ کو ایسے رکھا گیا جیسے کسی جانور کو پنجرے میں رکھتے ہیں۔‘
بہادر شاہ ظفر کی نگرانی کے لیے تعینات لیفٹننٹ چارلس گریفتھ نے اپنی کتاب ’سیج آف دہلی‘ میں لکھا: ’ایک عام سی چار پائی پر مغل بادشاہ کا آخری نمائندہ بیٹھا ہوا تھا۔ ان کی لمبی سفید داڑھی تھی جو ان کے پیٹ تک آ رہی تھی۔ انھوں نے سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اسی رنگ کا صافہ باندھ رکھا تھا۔ ان کے پیچھے دو اردلی کھڑے ہوئے تھے جو مور کے پنکھ سے بنے پنکھے سے ان پر پنکھا جھل رہے تھے۔ ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا، ان کی آنکھیں زمین پر ہی گڑی ہوئی تھیں۔‘
ان کے مطابق ’بادشاہ سے تین فٹ دور ایک دوسری چارپائی پر ایک برطانوی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے دونوں طرف سنگینیں لیے انگریز سنتری کھڑے تھے جنھیں حکم تھا کہ اگر بادشاہ کو بچانے کی کوشش کی جائے تو وہ فوراً اسے مار ڈالیں۔‘

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اس حد تک بےعزتی کی گئی کہ انگریزوں کے گروہ کے گروہ انھیں دیکھنے آتے تھے کہ مغل بادشاہ دیکھنے میں کیسے لگتے ہیں۔
محمود فاروقی کہتے ہیں: ’بہادر شاہ ظفر کو قید کرنے کے بعد سے لال قلعے کی ایک کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا جہاں انگریز سیاح آ کر جس طرح آپ لال قلعے کو آج دیکھنے جاتے ہیں اسی طرح وہ ان کی کوٹھری میں جا کر انھیں دیکھتے تھے کہ یہ ہیں بہادر شاہ ظفر۔
’جس آدمی کا، جس بادشاہ ہندوستان کا دلی میں ہی یہ حال تھا تو ظاہر سی بات ہے کہ انھوں نے اپنی موت کی حسرت میں ہی باقی سال گزارے۔ یہاں سے انھیں رنگون بھیجا گیا اور اسی کے آس پاس رنگون کے بادشاہ کو مہاراشٹر لایا گیا۔‘
’یہ انگریزوں کی دنیا بھر میں حکومت تھی کہ بادشاہوں کی تجارت ادھر سے ادھر ہو رہی تھی۔ بہادر شاہ کے آخری ایام افسوس ناک اور دردناک ہیں۔ یہی وہ صورتحال تھی جس میں انھوں نے کہا:
’کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں‘
’ان پر جو کچھ گزرنا تھی میرا خیال ہے کہ سنہ 57 کے دوران اور اس کے بعد ان پر گزر چکی تھی۔ اس سے برا کیا ہو گا کہ تیموریہ جانشین اور بادشاہ ہندوستان کو آپ نے ایک کوٹھڑی میں رکھا ہوا ہے اور انگریز عورتیں اور بچے آ رہے ہیں ان کو دیکھنے کے لیے کہ اچھا یہ تھا بہادر شاہ!‘

بادشاہ کی موت

سات نومبر 1862 کو رنگون کے ایک جیل نما گھر میں کچھ برطانوی فوجی ایک 87 سالہ شخص کی لاش کو احاطے میں کھودی گئی قبر میں دفنانے کے لیے لے کر چلے۔ جنازے میں مرنے والے کے دو بیٹے اور ایک مولوی شامل تھے۔ کسی خاتون کو جنازے میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔
بازار میں کچھ لوگوں کو اس کی بھنک پڑی تو انھوں نے جنازے میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن مسلح سپاہیوں نے انھیں قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا۔
دفنانے سے قبل فوجیوں نے قبر میں چونا ڈال دیا تاکہ لاش جلد از جلد گل کر مٹی میں مل جائے۔
ایک ہفتے بعد برطانوی کمشنر ایچ این ڈیویز نے لندن بھیجی گئی رپورٹ میں لکھا ’اس کے بعد میں بقیہ شاہی قیدیوں کی خبر لینے ان کی رہائش گاہ پر گیا۔ سب ٹھیک ٹھاک ہیں اور کسی پر اس بوڑھے کی موت کا اثر دکھائی نہیں دیا۔ ان کی موت گلے میں فالج کی وجہ سے ہوئی۔
’تدفین کی صبح پانچ بجے ان کا انتقال ہوا۔ ان کی قبر کے چاروں طرف بانس کی باڑ لگائی جا چکی ہے۔ جب تک یہ باڑ ختم ہو گی تب تک وہاں گھاس اس زمین کو ڈھانپ چکی ہو گی اور کسی کو علم نہیں ہو گا کہ مغلوں کا آخری بادشاہ یہاں دفن ہے‘۔

اتوار, اپریل 27, 2025

خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر

خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر               
Urduduniyanews72 
کشمیر کے ضلع پہلگام میں واقع بیسرن گھاٹی کا واقعہ نہایت ہی دردناک والمناک ہے۔ گزشتہ منگل کے دن ۲۲/اپریل ۲۰۲۵ءکو نہتے اور مظلوم۲۸/ سیاحوں کودہشت گردوں نےموت کی نیند سلادیا ہے۔اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ سبھی بیسرن گھاٹی میں جسے "منی سویزرلینڈ" کہا جاتا ہے سیر و سیاحت کے لیے آئے تھے۔کشمیر میں باہر سے آنے والوں کی حیثیت مہمان کی سی ہے۔یہاں کی اکثریت آبادی مسلمانوں کی ہے۔ مذہب اسلام میں مہمانوں کابڑا مقام ہے، ارشاد نبوی ہے: "جو شخص خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے "(بخاری)
 اس حدیث کا تقاضا یہ ہےکہ مہمانوں کی عزت کی جائے، ان کی تکریم کی جائے، ان کی ضیافت کے ساتھ ان کی حفاظت کا بھی انتظام کیا جائے، یہ چیزیں ایک مسلمان پر صاحب ایمان ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ۲۸/سیاحوں کی جان چلی گئی، دہشت گردوں نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا،یہ سیاح ہی نہیں بلکہ کشمیری مسلمانوں کے لئے مہمان کا درجہ رکھتے تھے، انہیں بچایا نہیں جاسکا، ان کی جانی حفاظت نہیں ہوسکی، اور یہ سب کچھ چونکہ کشمیر میں رونما ہوا، لہذا اس بات کا سب سے زیادہ صدمہ کشمیری مسلمانوں کو پہونچاہےاور واقعی یہ لائق افسوس امر ہے۔
 آج اسی پیغام کو دینے کے لیے کشمیری عوام سڑک پر ہیں، بازار بند ہیں، مساجد کے منبر و محراب سے اس بزدلانہ حملے کی مذمت ہو رہی ہے، "ٹورسٹ ہماری جان ہیں"، ٹورسٹ ہماری شان ہیں"کے نعرے بلند کیے جا رہے ہیں۔کشمیری لوگ یہ بھی کہ رہے ہیں کہ ہم ان سیاحوں سے پیسے کماتے ہیں، ان سے ہماری روزی روٹی چلتی ہے، وہ شہید نہیں ہوئے ہیں دراصل ہم شہید ہو گئے ہیں،ہم ان کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ دے سکتے ہیں"
کشمیریوں کی معاش کابڑا دارومدار سیاحت پر ہی ہے،اس تکلیف دہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سیر وسیاحت پر برا اثر واقع ہونا فطری بات ہے، عموما یہ کہا جاتا ہے کہ مہمانوں کی آمد سے گھر میں برکت ہوتی ہے، اسی عنوان پر جناب 
 ماجد دیوبندی نے بڑا اچھا مصرع نظم کیا ہے کہ 
 اللہ رے میرے گھر کی برکت نہ چلی جائے
 دو روز سے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہے
کشمیریوں کے لیے یہ مہمان برکت ہی نہیں بلکہ رزق کا سامان ہیں، ان کی آمد موقوف ہونے کا سیدھا مطلب ان کا حقہ پانی بند ہونا ہے، یہ ان کے لئے بہت زیادہ فکر وتشویش کی بات ہے۔
قرآن کریم میں مہمان فرشتوں کا ایک قصہ بھی مذکور ہےکہ حضرت لوط علیہ السلام کے پاس کچھ مہمان تشریف لائے، گاؤں والوں کو خبر ہوئی تو ان پر حملہ کرنا چاہا،حضرت لوط علیہ السلام نے مدافعت و بچاؤ کی بھرپور کوشش کی اور حملہ آوروں سے یہ کہاکہ : یہ میرے مہمان ہیں،ان کے بارے میں مجھ کوفضیحت نہ کرو، اور خدا سے ڈرو مجھے رسوا نہ کرو"( سورہ حجر)
 علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ علیہ نےاس قرآنی واقعہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ مہمانوں کی حفاظت و مدافعت بھی ایک میزبان کے ضروری امر ہے، مہمان کے منجملہ حقوق میں سے یہ بھی ایک حق ہے۔ بحمداللہ اس آیت کی عملی تفسیر بھی ہمیں پہلگام میں دیکھنے کو ملی ہے۔کشمیری مسلمانوں نے جو وہاں موجود تھے ان کی حفاظت و مدافعت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اس نازک ترین وقت میں بھی اپنے مہمانوں کو تنہا نہیں چھوڑا ہے جبکہ اپنے بھی ساتھ چھوڑ کر بھاگے جارہے تھے، قیامت کا منظرتھا،نفسی نفسی کا عالم تھا، تابڑ توڑ گولیاں چل رہی تھیں، سبھی اپنی جان بچا کر بھاگ رہے تھے ،وہیں یہ کشمیری بھائی اپنے مہمان کی حفاظت و مدافعت میں لگے ہوئے رہے۔
ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی جسمیں ایک جوان ایک زخمی بچے کو اپنی پشت پر لاد کر دوڑتا چلا جارہا ہے، اس کا نام ساجد ہے اور پہلگام ہی کا رہنے والا ہے، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے یہ واضح کیا کہ تنہا میں نے سیاحوں کی مدد نہیں کی ہے بلکہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے کندھے پر زخمیوں کو اٹھا اٹھا کر محفوظ مقامات کو منتقل کر رہے تھے،وہ گھوڑے والے جو سیاحوں کو بیسرن وادی پہنچانے کا ذریعہ تھے انہوں اپنے مہمانوں کی حفاظت کا سب سے زیادہ حق ادا کیا ہے۔ گولیوں کے خوف سےوہ اپنی جان بچا کر بھاگے نہیں بلکہ بیسرن میں ڈٹے رہے، اور مظلوموں کی مدد کرتے رہے۔
بھائی ساجد کا یہ پیغام بھی بہت اہم ہے جو انہوں نے ملک کے تمام لوگوں کو آن کیمرہ دیاہے کہ:" افواہ میں نہ پڑیں، یہ قتل اپ کے بھائی کا نہیں، بلکہ ہم کشمیریوں کا ہوا ہے۔ پورے کشمیر میں اس وقت ماتم ہے، ایک ساجد ویڈیو میں نظر ارہا ہے مگر بیسرن میں ہزاروں ساجد موجود تھے،اوروہ اپنے مہمانوں کی حفاظت و مدافعت کر رہے تھے،جنکی ویڈیوزنہیں آسکی ہیں"۔
 دوسرا نوجوان جس کا نام سید عادل حسین شاہ ہے ان کی کہانی تو مذکورہ قرآنی آیات کی مکمل عملی تفسیر ہے۔عین اس وقت جب سبھی لوگ بھاگ رہے تھے، افرا تفری کا ماحول تھا، گولیاں چل رہی تھیں، سید عادل حسین شاہ اپنے گھوڑے پر لادکر ٹورسٹ کو لے جا رہے تھے، ایک دہشت گرد نے اس سیاح کو اپنی بندوق کا نشانہ بنانا چاہا تو بے ساختہ وہی جملہ ان کی زبان سے نکل گیا جو قرانی ہے اورخدا کے نبی حضرت لوط علیہ السلام کی زبانی ہےکہ:"یہ میرے مہمان ہیں، ان کے ساتھ ایسا مت کرو!، اسی پرسید عادل حسین شاہ نے اکتفا نہیں کیا بلکہ ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوگئے اور اپنے مہمان کی حفاظت میں حسینی کردار ادا کیا ہے، دہشت گردوں سے مقابلہ کیا ہے، اس رائفل کی نوک کا خود عادل نے سامنا کیا ہے جوٹورسٹ پر چلنےجارہی تھی،گولی چلتی رہی مگر وہ ہار نہیں مانے،آخری سانس تک لڑتے رہےاور اپنے خون کا اخری قطرہ مہمانوں کے نذرکردیا ہے۔ کشمیریوں نے جو کچھ اپنی زبانی دعوے میں کہا ہےاس کی یہ عملی دلیل بھی ہے،اللہ تعالٰی اس قربانی کو قبول فرمائےاورخیر کثیر کا ذریعہ بنائے، آمین 
 آج ملک میں پہلگام حادثے سے جہاں نفرت اور دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہیں سید عادل حسین شہید کی یہ حسینی شہادت خوب خوب رنگ لارہی ہے،نفرت پھیلانے والوں کو منھ کی کھانی پڑ رہی ہے، پریاگ راج کے بھاجپاایم ایل اے ہرش وردھن واجپئی جی بھی خود کو یہ کہنے پر مجبور پاتے ہیں کہ ;"میں ہندو ہوں، لیکن اس مسلمان خچر والے کا بھی خیال رکھیے گاجس نے نہتے روپ سے ایم فور رائفل اتنکیوں سے چھیننے کی کوشش کی اور اسی میں اس کی جان چلی گئی ۔کشمیریوں کے بارے میں سوچیے گا ،جو مسلمان ہیں، اور اج سری نگر میں شٹ ڈاؤن چل رہا ہے، بھارتی مسلمانوں کو پاکستانوں سے کمپیئر مت کیجئے گا۔
واقعی سید عادل شاہ نے اپنی اس قربانی سےپورے ملک کے انصاف پسند لوگوں کی انکھیں کھول دی ہے اور اسلام کا یہ پیغام عملی طور پر دیا ہے کہ ایک مہمان کی قیمت صاحب ایمان کی نظر میں کیا ہے؟ ہم ان کی قربانی کو سلام کرتے ہیں۔

ہمایوں اقبال ندوی
 نائب صدر جمعیت علماء ارریہ 
 و جنرل سیکریٹری،تنظیم ابنائے ندوہ پورنیہ کمشنری
26/4/2025

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...