Powered By Blogger

جمعہ, اگست 06, 2021

بچے کو اپنی ماں کے نام کے استعمال کاہے حق : دہلی ہائی کورٹ

بچے کو اپنی ماں کے نام کے استعمال کاہے حق : دہلی ہائی کورٹ

delhi-high-court-1

نئی دہلی، 6 اگست :(اردواخباردنیا)دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کیلئے شرائط نہیں تھوپ سکتا اور ہر بچے کو اپنی ماں کا ذیلی نام استعمال کرنے کا حق ہے۔عدالت نے ایک نابالغ لڑکی کے والد کی درخواست پر سماعت کے دوران دیایہ بیان دیا۔ درخواست میں اس شخص نے حکام سے یہ ہدایت دینے کی اپیل کی ہے کہ #دستاویزات میں ان کا نام ان کی بیٹی کے عرفی نام میں ظاہر کیاجائے نہ کہ ان کی ماں کے نام کے طور پر۔تاہم جسٹس ریکھا پلی نے ایسی ہدایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ باپ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ بیٹی کو صرف اس کا نام استعمال کرنے کا حکم دے،اگر نابالغ بیٹی اس’کنیت‘ سے خوش ہے تو پھر آپ کو کیا مسئلہ ہے؟۔

سماعت کے دوران اس شخص کے وکیل نے دلیل دی کہ اس کی #بیٹی #نابالغ ہے اور وہ خود اس طرح کے معاملات کا فیصلہ نہیں کر سکتی اور #لڑکی کے نام کو الگ ر ہ رہی بیوی نے تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ نام میں تبدیلی سے انشورنس #کمپنی سے #انشورنس کلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ یہ پالیسی بچی کے نام پر اس کے والد کے نام سے لی گئی تھی۔

ہریانہ بورڈ نے سابق وزیراعلی چوٹالہ کا 12 ویں کا نتیجہ روکا پہلے10 ویں کا انگریزی موضوع کا امتحان کرناہوگا پاس

ہریانہ بورڈ نے سابق وزیراعلی چوٹالہ کا 12 ویں کا نتیجہ روکا  پہلے10 ویں کا انگریزی موضوع کا امتحان کرناہوگا پاس 

Former Chief Minister Om Prakash Chautala
ھیوانی، 6 اگست :(اردواخباردنیا)ہریانہ بورڈ آف اسکول #ایجوکیشن نے جمعرات کو 12 ویں کلاس کے اوپن امتحان کے نتائج کا اعلان کیا۔ امتحان کا نتیجہ سو فیصد تھا، کیونکہ کووڈ وبا کی وجہ سے امتحانات نہیں لئے جا سکے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے فارمولے کی بنیاد پر نتیجہ کا اعلان کیا گیا۔ اس امتحان میں، 12 ویں اوپن کے علاوہ 38 ہزار 926 امیدواروں نے دوبارہ امتحان دیا اور سب نے 100فیصدپاس کیا۔ نتیجہ ہریانہ بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی ویب سائٹ  bseh.org.in پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ان نتائج کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امتحان کے لیے سابق وزیراعلیٰ اوم #پرکاش #چوٹالہ کو بھی ہریانہ اسکول ایجوکیشن بورڈ سے 12 ویں اوپن امتحانات میں حصہ لینا پڑا، وہ بھی بغیر کسی امتحان کے 12 ویں اوپن امتحان پاس کرنا تھا، لیکن ہریانہ بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے اس کا نتیجہ روک دیا ہے۔اس سلسلے میں ہریانہ بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر جگبیر سنگھ نے کہا کہ یہ ان کے بورڈ کے لیے فخر کی بات ہے کہ سابق وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ ان کے بورڈ کے طالب علم رہے ہیں، لیکن ان کا نتیجہ روکنے کی وجہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ نے #نیشنل #اوپن #اسکول سے دسویں کا امتحان دیا تھا، جس میں انہوں نے #انگریزی کا #مضمون پاس نہیں کیا تھا۔
جب تک دسویں انگریزی کا مضمون پاس نہیں ہوتے، وہ تکنیکی وجوہات کی وجہ سے 12 ویں جماعت کے امتحان کے نتائج کا اعلان نہیں کر سکتے۔ ایسی صورتحال میں سابق وزیراعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ کا نتیجہ اب تک اسٹینڈ پر رکھا گیا ہے، جو کہ 10 ویں انگریزی مضمون میں پاس ہوتے ہی اعلان کیا جائے گا۔

مٹن یا بیف، کونسا گوشت کتنا فائدہ مند؟

مٹن یا بیف، کونسا گوشت کتنا فائدہ مند؟

beef-meat-or-mutton

(اردو اخبار دنیا)گوشت انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے جس کے استعمال سے بنیادی جز پروٹین سمیت متعدد منرلز بھی حاصل ہوتے ہیں، ماہرین کی جانب سے صحت برقرار رکھنے کے لیے غذا میں زیادہ سبزیاں، پھل اوردالوں کو اہمیت دینا تجویز کیا جاتا ہے مگر گوشت کی اپنی ہی افادیت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔غذائی و طبی ماہرین کے مطابق انسانی صحت کا براہ راست تعلق غذا سے ہوتا ہے، ہر غذا صحت کے لیے کچھ نہ کچھ افادیت کی حامل ہے بشرطیکہ اُسے اعتدال میں رہ کر کھایا جائے، غذائی ماہرین کے مطابق مچھلی اور مرغی کے گوشت (وائٹ میٹ) سے انسانی جسم کو پروٹین، منرلز اور وٹامنز حاصل ہوتے ہیں اور وائٹ میٹ میں کیلوریز اور چکنائی کی مقدارکم پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب ’ریڈ میٹ ‘ یعنی چھوٹا گوشت (مٹن، بکرا) اور بڑا گوشت (گائے، بیف ) کو عام روٹین میں ضرورت کے مطابق کھانا تجویز کیا جاتا ہے۔گوشت کھانے میں غیر معمولی زیادتی سنگین قسم کے صحت کے مسائل کا سبب بن جاتی ہے، مٹن میں چکنائی کی مقدار، چکن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے جبکہ بیف (بڑے گوشت) میں چکنائی کی زیادہ مقدار مرغی، مچھلی اور بکرے کے گوشت سے زیادہ پائی جاتی ہے اور دوسرے غذائی اجزا مثلاً پروٹین، زنک، فاسفورس، آئرن اور وٹامن بی کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق گائے کے گوشت کی 100 گرام مقدار میں 250 کیلوریز ، 15 گرام فیٹ ، 30 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصد سوڈیم ، 14 فیصد آئرن ، 20 فیصد وٹامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، 1 فیصد کیلشیم اور وٹامن ڈی اور 43 فیصد کوبالا من پایا جاتا ہے جبک بکرے کے گوشت کے 11 گرام مقدار میں 294 کیلوریز، 32 فیصد فیٹ ، 45 فیصد سیچوریٹڈ فیٹ، 32 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصدسوڈیم ، 8 فیصد پوٹاشیم ، 50 فیصد پروٹین ، 10 فیصد آئرن ، 5 فیصد وتامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، اور 43 فیصد کوبالامین پایا جاتا ہے ۔

غذائی ماہرین کے مطابق سفید اور لال گوشت کے اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، اس لیے انہیں اعتدال میں رہ کر استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ لال گوشت خصوصاً گائے کے گوشت سے احتیاط ہی تجویز کی جاتی ہے۔طبی تحقیق کے مطابق گوشت کا زیادہ استعمال مختلف سنگین بیماریوں کا سبب بنتا ہے جیسے کہ کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس، معدہ، جگر کی بیماریاں وغیرہ، ماہرین کے مطابق جو پہلے سے ہی ان بیماریوں میں مبتلا ہیں انہیں گوشت کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔

غذائی ماہرین کے مطابق بکرے کا گوشت گرم ‏ تاثیر رکھتا ہے جبکہ یہ طاقت بخش ہے، گائے کا گوشت ٹھنڈی تاثیر رکھتا ہے جسے کسی بھی موسم میں کھایا جا سکتا ہے، بکرے کے گوشت کے استعمال سے جسم میں خون بنتا ہے، کمزوری دور کرتا ہے، ‏لذت ‏اور ذائقہ کے اعتبار سے بھی بکرے کا گوشت زیادہ بہتر ہے، س ‏کا اعتدال میں استعمال کرنا جسمانی قوت کے لیے نہایت مفید ہے۔

ماہرین کے مطابق دُنبے کا گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور ذائقہ دار ہوتا ہے جبکہ بیل، گائے کا گوشت افادیت میں سب سے پیچھے اور اس میں غذائیت بھی کم پائی جاتی ہے۔غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے سفید گوشت میں مچھلی اور لال گوشت میں بکرے کے گوشت کو اہمیت دینی چاہیے، اس کی وجہ ‏یہ ہے کہ غذائیت کے معاملے میں مٹن بیف سے بہتر اور صحت ‏بخش ثابت ہوتا ہے جبکہ بکرے کے گوشت کو دل کے عارضے میں مبتلا افراد بھی اعتدال میں رہتے ہوئے استعمال کریں تو اس سے اُن کی دل اور مجموعی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ جب بھی گوشت کھائیں جس قسم کا بھی ساتھ میں سلاد اور رائتہ کا استعمال ضرور کریں، فائبر سے بھرپور سلاد اور مثبت بیکٹیریاز، پری بائیوٹک سے بھرپور دہی سے بنا رائتہ گوشت کو جَلد ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور افادیت بڑھا دیتا ہے۔

سابق ہندوستانی کپتان ایم ایس دھونی کے ٹویٹر سے ’بلیو ٹک ‘ہٹا ، سات ماہ تک ٹویٹ نہیں کیا

سابق ہندوستانی کپتان ایم ایس دھونی کے ٹویٹر سے ’بلیو ٹک ‘ہٹا ، سات ماہ تک ٹویٹ نہیں کیا

ms-dhoni-twitter

نئی دہلی ،06؍اگست:(اردو اخبار دنیا) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کا ٹویٹر سے ’بلیو ٹک‘ ہٹا دیا گیا ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ دھونی ٹوئٹر پر کم سرگرم ہیں، اس لیے ٹوئٹر نے ان کے اکاؤنٹ سے بیلوٹک ہٹا دیا ہے۔ واضح رہے کہ دھونی کے ٹوئٹر پر تقریبا 8 8.2 ملین فالورز ہیں۔واضح رہے ایم ایس دھونی نے آخری ٹویٹ اس سال 8 جنوری کوکیا تھا۔

اس کے بعد انہوں نے کوئی ٹویٹ نہیں کیا۔ تاہم وہ انسٹاگرام پر سرگرم ہے۔ 8 جنوری سے پہلے انہوں نے ستمبر 2020 میں ٹویٹ کیا تھا۔ ایسی صورت میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ سرگرم نہ ہونے کی وجہ سے ٹویٹر نے ایم ایس دھونی کا بیلو ٹک ہٹا دیا ہے۔ لیکن اس سے یقینی طور پر ان کے مداحوں کو ایک دھچکا پہنچایا ہے۔ایم ایس دھونی کا شمار دنیا کے کامیاب ترین #کپتانوں میں ہوتا ہے۔ #دھونی #دنیا کے واحد #کپتان ہیں جنہوں نے آئی سی سی کی تینوں #ٹرافیاں جیتیں۔

انہوں نے 2007 میں ٹی 20 #ورلڈ کپ، 2011 میں ون ڈے ورلڈ کپ اور 2013 میں چیمپئنز ٹرافی جیتی۔ دھونی کا یہ ریکارڈ توڑنا بہت مشکل ہے۔دسمبر 2004 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے والے دھونی نے 90 ٹیسٹ میں 38.09 کی اوسط سے 4876 رنز بنائے ہیں۔ #ٹیسٹ #کرکٹ میں ان کی ایک ڈبل سنچری، چھ سنچریاں اور 33 نصف #سنچریاں ہیں۔ اس کے علاوہ 350 ون ڈے میں 50.58 کی اوسط سے 10773 #رنز بنائے ہیں۔ دھونی کے نام ون ڈے میں 10 سنچریاں اور 73 نصف سنچریاں ہیں۔ 98 ٹی 20 بین الاقوامی #میچوں میں بھی ماہی نے 40.25 کی اوسط سے 4669 رنز بنائے ہیں۔

نابالغہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری

نابالغہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری

crime

 دو نابالغ لڑکوں کے خلاف کیس

اترپردیش:(اردواخباردنیا)اترپردیش میں پرتاپ گڑھ ضلع ہیڈکواٹر سے ستّر کلو میٹر مسافت پر تھانہ نواب گنج علاقے کے ایک گاوں میں جمعرات کی شام ہوئی نابالغہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں پولیس نے تاخیر شب دو نابالغ ملزمان کے خلاف اجتماعی #عصمت دری کا کیس درج کر حراست میں لیا ۔پولیس سپرنٹنڈنٹ مغربی روہت مشرہ نے آج بتایا کہ تھانہ نواب گنج علاقے کے ایک گاوں کی چھہ سالہ #بچی اپنے گھر کے سامنے جمعرات کو کھیل رہی تھی کہ گاوں کے دو #نابالغ لڑکے 13 و 14 سال کے پہونچے اور بہلا کر گھر سے کچھ مسافت پر تنہائ میں لے گئے و اجتماعی #آبروریزی کی ۔

گھر پہنچ کر متاثرہ نے اہل خانہ کو وقوعہ سے واقف کرایا ،اہل خانہ کی تحریر پر پولیس نے بچی کو مقامی اسپتال بھیج کر طبی معائنہ  کرایا اور دونوں لڑکوں کے خلاف عصمت دری و #پاکسو ایکٹ کے تحت کیس درج کر حراست میں لیا 

سعودی عرب:جازان میں آبشاروں اور پہاڑی غاروں پر مشتمل پارک کے چرچے

سعودی عرب:جازان میں آبشاروں اور پہاڑی غاروں پر مشتمل پارک کے چرچے

saudi-arabia-mountain-caves-and-waterfalls-in-the-middle-of-a-park

ریاض ،06؍اگست:(اردو اخبار دنیا)سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان کی الریث گورنری میں واقع ضال پارک جبل القہر کے قلب میں ایک ایسا عالی شان قدرتی مقام ہے جس کی طرف سیاح دور دور سے کھچے چلے آتے ہیں۔قدرتی اور فطری حسن کواپنی آغوش میں لینے والے اس پارک کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ #پہاڑی #غاروں اور #آبشاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ضال پارک ایک ایسی ریزورٹس ہے جس کی قدرتی دلکشی اور حسن اپنی مثال آپ ہیں۔

اس پارک کا شمار جازان کے خوبصورت ترین قدرتی مقامامات میں ہوتا ہے۔ یہ مقام وادیوں، پہاڑوں، سطح مرتفع اور میدانی علاقوں کے حسین #امتزاج کے ساتھ ساتھ اہم تاریخی ورثے کا بھی امین ہے۔جنوب مغربی #سعودی عرب میں ضال پارک کے حیرت انگیز مناظر نے فوٹوگرافر علی الریثی کو اپنی طرف متوجہ کیا، جو گھنے جنگلات، عرعر کے درختوں اور جنگلی #زیتون کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنے کے خواہاں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ضال پارک ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سال بھر موسم ٹھنڈا رہتا اور کثرت کیساتھ بارشیں ہوتی ہیں۔سرسبز اور لہلاتے کھیت اس پہاڑی علاقے کے باشندوں کی عظمت اور مہارت کی نشاندہی کرتے ہیں جنہوں نے اونچے پہاڑوں کو زرعی کھیتوں میں بدل دیا۔ کسان ہر قسم کے اناج، سبزیاں، پھل اور خوشبودار پودے کاشت کرتے ہیں۔

سال بھریہاں پر موسلا دھار بارشیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ #سیاح اور مسافر اکثر اس علاقے کا رخ کرتے اور اس کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ضال پارک میں بہت سی خوبصورت اور مختلف سائز کی غاریں ہیں۔ جن میں سے کچھ تقریبا 15 میٹر اونچی ہیں۔ وہ قدرتی مناظر سے گھیرے ہوئے ہیں۔ پارک کو باہر سےجنگلوں نے گھیر رکھا ہے۔

یہ سیاحوں کے سب سے اہم مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ جبل القہر میں موجود دیگر اہم #سیاحتی مقامات میں الوقبہ، امدحرہ، امنایف اور غافلہ اپنی آبشاروں اور پانی کے بہتے چشموں کی بہ دولت مشہور ہیں

بوتل نما جیلی فش بڑی تعداد میں ممبئی کےساحل پر نمودار اگست 6, 2021

  • (اردو اخبار دنیا)

بوتل نما نیلی جیلی فش بڑی تعداد میں ممبئی کے جوہو ساحل پر نمودار ہوگئی ہے،جسے دیکھ کر لوگ خوف میں مبتلا ہو گئے ۔

میرین لائف آف ممبئی نے ساحل پر آنے والے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس سمندری مخلوق سے احتیاط برتیں اور ان کو چھونے کی کوشش نہ کریں۔عوام کی آگاہی کے لئے جوہو ساحل پر بڑے بڑے بورڈز بھی آویزاں کئے جاچکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ سمندری مخلوق کے کاٹنے سے شدید جلن، متاثرہ جگہ کا سرخ ہوجانا شامل ہے، ساحل میں نہانے کے دوران اس کا کاٹنا زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...