Powered By Blogger

منگل, فروری 15, 2022

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی _____ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی _____
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)
ماہنامہ الفرقان اور ندائے ملت کے سابق مدیر ، انڈین مسلم فیڈریشن یو کے کے سرگرم رکن، اسلامک ڈیفینس لیگ یوکے کے بانی، حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی بن حضرت مولانا منظور احمد نعمانی بن صوفی احمد حسین (م رمضان ۱۳۶۸ھ) کا پنچانوے سال کی عمر میں دہلی میں مقیم ان کے صاحب زادہ مولانا عبید الرحمن سنبھلی کے گھر انتقال ہو گیا، انہوں نے ۲۳؍ جنوری ۲۰۲۲ء کو عشاء کی نماز سے قبل آٹھ بج کر دس منٹ پر آخری سانس لی، وہ کافی عرصہ سے بیمار چل رہے تھے، جنازہ ان کے آبائی شہرسنبھل لے جایا گیا، جہاں بعد نماز ظہر اگلے دن مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ حدیث مدرسہ شاہی مراد آباد نے جنازہ کی نماز مدرسہ انجمن سنبھل میں پڑھائی، اور ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں دو لڑکے اور دو لڑکیوں کو چھوڑا اہلیہ پہلے انتقال کر چکی تھیں۔
حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے ۱۵؍ مارچ ۱۹۲۶ء کو اتر پردیش کے قصبہ سنبھل میں آنکھیں کھولیں وہ مولانا منظور نعمانی علیہ الرحمہ کے سب سے بڑے فرزند تھے، ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے دار العلوم دیو بند کا رخ کیا، وہاں وہ حضرت مولانا محمد سالم قاسمی اور حضرت مولانا محمد اسعد مدنی ؒ کے ہم درس رہے۔ ۱۹۵۰ء میں دار العلوم سے فراغت کے بعد اپنے والد کے مشہور رسالہ الفرقان سے وابستہ ہوئے ، ۱۹۵۳ء میں وہ الفرقان کے مدیر بنا دیے گیے، انہوں نے مضبوط انداز میں ملت اسلامیہ کا موقف الفرقان میں پیش کیا، یہ موقف بے باکانہ ہو اکرتا تھا، جس کی وجہ سے الفرقان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، ان کے الفرقان کے اداریوں کا مجموعہ’’ راستے کی تلاش‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے جو اہل علم میں مقبول ہے۔ ۱۹۶۲ء میں پندرہ روزہ ندائے ملت کا آغاز ہوا تو مولانا اپنے بھائی حفیظ نعمانی کے ساتھ اس کے دست وبازو بن گیے،ندائے ملت  کے بے باکانہ اداریہ نے حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ حفیظ نعمانی نے نو ماہ کے لیے قید وبند کی صعوبت برداشت کی خود مولانا ڈیفنس آف انڈیا رول کے تحت چھ مقدمات میں ماخوذ ہوئے۔
 مولانا مرحوم مسلم مجلس مشاورت کے بانیوں میں سے ایک تھے، مسلسل تحریکی زندگی کی وجہ سے ان کی صحت خراب رہنے لگی ، ۱۹۶۷ء میں مولانا بغرض علاج لندن گیے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گیے، سال میں ایک بار ہندوستان آنا ہوتا تھا، لیکن وہ مہمان بن کر ہی آتے تھے، لندن منتقلی کے بعد ان کا میدان عمل برطانیہ ہو گیا، او روہاں انہوں نے مختلف تحریکات میں بھر پور حصہ لیا، انہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامک ڈیفنس لیگ کی بنیاد ڈالی، انڈین مسلم فیڈریشن لندن کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوبیرون ہند میں مؤثر بنانے کے لیے جم کر کام کیا، ان کے مضامین فیڈریشن کے خبرنامہ ’’دی انڈین مسلم‘‘ میں اردو سے انگریزی ترجمہ کرکے چھپا کرتے تھے۔
مولانا عظیم صحافی تھے، ان کی انگلی زمانہ کے نبض پر ہوا کرتی تھی ، وہ سیاسی اتار چڑھاؤ اور رست وخیز پر گہری نظر رکھتے تھے، اس لیے ان کے اداریے اقدامات کی  نشان دہی بھی کرتے تھے، ان کے اداریہ نویسی کی خصوصیات کو ان کے اداریہ کے مجموعے ’’راستے کی تلاش ‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے ، ان کے علاوہ جو کتابیں ان کی مقبول ہوئیں اور اہل علم کی نظر میں مباحثہ کا موضوع بنیں ان میں انقلاب ایران اور اس کی اسلامیت ، واقعۂ کربلا اور اس کا تاریخی پس منظر، طلاق ثلاثہ اور حافظ ابن القیم، مجھے ہے حکم اذاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں، ان کی آخری تصنیف محفل قرآن ہے، جو چھ جلدوں میں ہے اور تفسیر قران ہے، یہ تفسیر عصر حاضر کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے ، اس لیے مشکل مقامات کے حل کے ساتھ قرآن کریم پر کیے جانے والے اعتراضات کا منطقی اور مسکت جواب بھی دیا گیاہے، یہ تفسیر اہل علم کے لیے بہترین تحفہ اور نئی نسل کے لیے ان کے شکوک وشبہات دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، مولانا کا جو اسلوب او ر تحقیق میں جو جزم واحتیاط تھا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی عتیق احمد بستوی استاذ دار العلوم نے بجا لکھا ہے کہ 
’’ حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی زود نویس نہیں تھے، اللہ نے ان کو جو طویل عمر عطا فرمائی اس کے اعتبار سے ان کی کتابیں اور ان کی تحریریں کم ہیں، لیکن وہ جو کچھ تحریر فرماتے تھے، طویل غور وفکر ، گہرے مطالعہ اور وسیع تجربات کا خلاصہ ہوتا تھا، ہر لفظ بہت ناپ تول کر لکھتے تھے، ان کا ہر جملہ اور فقرہ بہت محکم ہوتا تھا، ان کی تحریریں لفاظی عبارت آرائی سے پاک ہوتی تھی، ان کا اسلوب نگارش سشتہ ، سادہ اور بڑا عقلی ومنطقی ہوا کرتا تھا۔ آگے لکھتے ہیں: مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا مخصوص طرز نگارش ہے ، اس میں سادگی اورپرکاری کے ساتھ معقولیت کا حسین امتزاج ہے، مولانا سنبھلی کی کوئی بھی تحریر سرسری اور سطحی نہیں ہوتی، بہت غور وفکر کے بعد موضوع میں ڈوب کر لکھتے ہیں۔(مولانا عتیق الرحمن سنبھلی- نقوش وتاثرات)
یہ عجیب اتفاق ہے کہ مولانا سے میری کوئی ملاقات ہندوستان میں نہیں ہوئی ، اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جب میرا ٓنا جانا لندن ہونے لگا تو کئی ملاقاتیں مختلف محفلوں میں وہیں ہوئیں، ایک دو دفعہ گھر بھی جانا یاد آتا ہے، میںنے ان ملاقاتوں میں مولانا کو متواضع ، خاموش طبع اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنے والا پایا، ممکن ہے دوستوں کی مجلس میں گھل مل جاتے رہے ہوں، لیکن میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں تھا، میں خود بھی بڑوں کی مجلس میں خاموش ہی رہا کرتا ہوں، مولانا بھی خاموش طبع تھے، ایسے میں گفتگو سے زیادہ اس ملاقات کا مطلب ایک دوسرے کو دیکھنا ہی ہوا کرتا تھا، کچھ عمر کا تفاوت بھی تھا جو بے تکلف ہونے سے ہر ملاقات میں مانع ہی رہا ۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، پس ماندگان کو صبر جمیل دے اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

، SOPS کرناٹک میں جلدہی یونیفارم پر : Hijab Row پری یونیورسٹی و ڈگری کالجز کا کل سے آغاز

، SOPS کرناٹک میں جلدہی یونیفارم پر : Hijab Row پری یونیورسٹی و ڈگری کالجز کا کل سے آغازکرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی (Basavaraj Bommai) نے پیر کے روز کہا کہ حجاب (Hijab) پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان حکومت اسکولوں اور کالجوں میں یونیفارم کے حوالے سے ایس او پیز (SOPs) جاری کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایس او پیز جاری کرنے سے پہلے ریاستی وزیر تعلیم سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ سی ایم بسواراج بومائی نے کہا آج دسویں جماعت تک کی کلاسیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ آج شام میں اپنے وزیر تعلیم کے ساتھ ایک میٹنگ میں شرکت کروں گا۔ ہم بات کریں گے کہ کیا ہوا ہے اور ایس او پیز جاری کریں گے۔ ہر ایک کو ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ ایک ایسے دن آیا جب دسویں جماعت تک کے اسکول چھ دن کے وقفے کے بعد دوبارہ کھل گئے۔ 8 فروری کو بومئی نے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ جنوبی ریاست میں حجاب کے تنازع (hijab controversy) پر ہلچل مچ گئی تھی۔ پری یونیورسٹی اور ڈگری کالج بدھ کو دوبارہ کھلیں گے۔ کرناٹک حکومت نے پیر کے روز پی یو (پری یونیورسٹی) اور ڈگری کالجز کو بدھ سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا اور محکمہ پولیس کو جہاں بھی ضرورت ہو سیکورٹی بڑھانے کی ہدایت دی۔ حکومت نے پہلے ڈگری اور ڈپلومہ کالجوں کی بندش میں 16 فروری تک توسیع کی تھی۔ یہ فیصلہ سی ایم بومائی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں لیا گیا، جس میں وزیر داخلہ آراگا جنیندر، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے وزیر بی سی ناگیش، اعلیٰ تعلیم کے وزیر سی این اشوتھ، نارائن اور حکومت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں حجاب سے متعلق تمام درخواستوں پر غور کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے ریاستی حکومت سے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کی درخواست دی تھی اور تمام طلبا کو زعفرانی شال، اسکارف، حجاب اور کسی بھی مذہبی جھنڈے کو پہننے سے روک دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد حکومت نے 14 فروری سے ہائی اسکول کے طلبا کے لیے کلاس 10 تک اور اس کے بعد پری یونیورسٹی اور ڈگری کالجوں کے لیے دوبارہ کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی کے مطابق ریاست بھر کے ہائی اسکول آج دوبارہ کھل گئے۔

طلبا نے ہائی کورٹ سے کہا کہ انہیں یونیفارم کی طرح ایک ہی رنگ کا حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔ اس سے پہلے دن میں کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے پیر کو دوبارہ سماعت شروع کرنے کے بعد حجاب کیس کی سماعت منگل کی دوپہر تک ملتوی کر دی۔

پیر, فروری 14, 2022

معاشی استحکام کے لئے پیشہ وارانہ تعلیم ضروری_مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی اڈیشہ کے پانچ روزہ دورہ کے آخری دن نائب ناظم صاحب نے کئی اداروں کاجائزہ لیا

معاشی استحکام کے لئے پیشہ وارانہ تعلیم ضروری_مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
اڈیشہ کے پانچ روزہ دورہ کے آخری دن نائب ناظم صاحب نے کئی اداروں کاجائزہ لیا
 اڈیسہ 14 فروری( پریس ریلیز)  امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈکے نائب ناظم،وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم اور اردوکاروں کے نائب صدر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے اڈیشہ دورے کے پانچویں دن امارت عمرٹکنیکل انسٹی چیوٹ بسراکاجائزہ لیا،اس موقع سے امارت شرعیہ راورکیلا کے ذمہ دار جناب محمدعرفان ،ٹیکنیکل انسٹی چیوٹ کے ذمہ دار جناب رشیداسلم ،امارت شرعیہ کے قاضی جناب مفتی عبدالودودقاسمی،معلمین مولاناکرامت حسین اورمولاناعتیق الرحمان کے علاوہ ٹینیکل انسٹی چیوٹ کے اساتذہ و طلبہ موجودتھے، اس موقع سے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی  نے فرمایاکہ معاشی استحکام کے لئے پیشہ وارانہ تعلیم کاحصول ضروری ہے،یہ پیغمبر اسلام حضرت داوود علیہ السلام کی سنت بھی ہے، اللّٰہ رب العزت نے ان کے ہاتھوں میں لوہاکونرم کردیاتھا،اس لئے ہمارے نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تعلیم میں مہارت پیداکرنی چاہئے،اوریادرکھناچاہئے کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں تھیوری سے زیادہ عملی طورپرکام کاجانناضروری ہوتاہے،اگرآپ نے عملی طورپرمہارت نہیں پیداکی توآپ کی سندکاکوئی فائدہ نہیں ہوگا،اسی وجہ سے امارت شرعیہ کے اداروں میں امتحان میں شرکت کے لئے بھی حاضری کاتناسب دوسرے کالجز سے زیادہ ہے،ہمیں امیدہے کہ ادارہ ان خطوط پرکام کرتارہے گا جو بڑوں نے ہمیں بتایاہے،اس سے قبل بسراپہونچنے پرانسٹی چیوٹ کی انتظامیہ،معلمین اور طلبہ کی طرف سے مفتی صاحب کاوالہانہ استقبال کیاگیا،امارت شرعیہ راورکیلا کے رکن اور جامعہ امینہ ہارون للبنات اور تحفیظ القرآن کے ناظم جناب شکیل احمدصاحب کی دعوت پرمفتی صاحب جامعہ تحفیظ القرآن تشریف لے گئے اوریہاں طلبہ کے ختم قرآن کی تقریب میں شرکت فرمائی،مجمع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی صاحب نے عظمت قرآن،تلاوت قرآن،حفظ قرآن کی اہمیت بیان کی اور صحت کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے پرزوردیا،انہوں نے قرآن کریم کی خدمت کے حوالے سے جامعہ تحفیظ القران اورحاجی شکیل احمدصاحب کی خدمت کوسراہا ،مفتی صاحب نے امارت شرعیہ کے ذریعہ چلائے جارہے مکاتب کاتعلیمی جائزہ بھی لیااورفرمایاکہ اس قسم کے مکاتب کارول دینی تعلیم کے فروغ میں انتہائی اہم ہے،اورکہناچاہئے کہ یہیں وہ اینٹ رکھی جاتی ہے جہاں سے مسلمانوں کوپوری زندگی دین پرقائم رکھنے اورضروریات دین کوبرتنے کاسلیقہ ملتاہے،نائب ناظم امارت شرعیہ نے سیکٹر۵۱ کی جامع مسجد میں مسلمانوں کے ایک بڑے مجمع سے خطاب کیااورکہاکہ جھگڑے مت کیجئے اگرہوہی جائیں تودارالقضاء لے جائیے اورقاضی شریعت جوفیصلہ دیں اس کوبلاکسی تامل کے مان لیجئیے کیونکہ یہ فیصلہ خدااوررسول کے احکام وہدایت کے مطابق ہے،اس سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضائ ملے گی اور اللّٰہ کی رضائ ہی مومن کامطلوب ومقصودہے،انہوں نے فرمایاکہ جوتکلیف دہ باتیں دوسرے مذاہب کے لوگوں کی طرف سے آپ تک پہونچتی ہیں اس کامقابلہ جوش وجذباتیت سے نہیں ،عقل وہوش،صبروتحمل کے ساتھ کیجئیے،یہی قرآنی ہدایت ہے اوریہی اولوالعزم لوگوں کاطریقہ رہاہے،سامعین کااحساس تھاکہ اس وقت کے حالات کے اعتبارسے یہ بیان بڑی اہمیت کاحامل ہے،اڈیشہ کے پانچ روزے دورے کی تکمیل کے بعدمفتی صاحب جھارکھنڈ کے چارروزہ دورے پرروانہ ہوگئے،ان کی پہلی منزل جمشیدپور ہے،جہاں سے وہ رانچی کے لئے روانہ ہوجائیں گے،یہ اطلا ع ذیلی دفتر امارت شرعیہ راورکیلاکے قاضی شریعت جناب مولانامفتی عبدالودود قاسمی صاحب نے دی ۔

عدم رواداری کا احساس مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

عدم رواداری کا احساس 
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
 پورا ہندوستان اس وقت محسوس کر رہا ہے کہ ہندوستان میں عدم رواداری کا ماحول تیزی سے بڑھا ہے، اس کا آغاز تو حامد انصاری کے نائب صدر ہونے سے بہت پہلے ہو چکا تھا، لیکن حامد انصاری صاحب جب اقتدار میں تھے تو ان کی زبان اس قسم کے موضوعات ومسائل پر گُنگ رہا کرتی تھی، پہلی بار انہوں نے اپنی الوداعیہ تقریر میں اس موضوع پر زبان کھولا، سبکدوشی کے بعد ان کا یہ زبان کھولنا مؤثر تو نہیں ہوا، البتہ انہیں فرقہ پرستوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا اور ان کی پوری زندگی کی خدمت کا تجزیہ اسی حیثیت سے کیا جانے لگا۔
 انہوں نے اپنی آپ بیتی میں بھی مسلمانوں میں عد م تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا تو یہ مسئلہ پھر سے جاگ گیا اور فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے ان کی پوری خبر لے ڈالی، اب ان کا تازہ بیان انڈین امریکن مسلم کاؤنسل کے ورچوئل پروگرام میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مسلمانوں کے سلسلے میں عدم رواداری کے احساس کا اعادہ کیا ہے۔
 سابق نائب صدر حامد انصاری نے ورچوئل مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے فرمایا کہ ’’ملک اپنے آئینی اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے، حالیہ برسوں میں ہم نے ایسے رجحانات اور طرز عمل کو اُبھرتے ہوئے دیکھا ہے جو ملک کو ثقافتی قوم پرستی کے خیالی نظام کو نافذ کرنے کی طرف لے جا رہا ہے، انہوں نے ایسے معاملات میں سیاسی اور قانونی چیلنج کا بھی مشورہ دیا‘‘۔
 حامد انصاری صاحب نے جو کچھ کہا وہ صد فی صد صحیح ہے، اس سے زیادہ اس ملک میں مسلمانوں کو عدم تحفظ اور عدم رواداری کا احساس ہے، اس ملک کو بچانا ہے تو ان حالات سے نبرد آزما ہونا ہی پڑے گا، یہ نبرد آزمائی تشدد کا جواب تشدد سے دے کر نہیں ، سیاسی اور قانونی لڑائی لڑ کر دی جا سکتی ہے، اس کی روپ ریکھا اور خد وخال کیا ہوں گے اس پر امت مسلمہ کو متحد ہو کر غور کرنے کی ضرورت ہے، اللہ کی نصرت ومدد اپنی جگہ یقینی ہے، لیکن ابابیلوں کے لشکر شاید اب نہیں آئیں گے، اب اللہ کی نصرت کے حصول کا ذریعہ انابت الی اللہ ، دعاء سحر گاہی، آہ نیم شبی کے ساتھ انسانی تدبیر بھی ہے، دنیا مسبب الاسباب ہے، اس لیے ہمیں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، اس کے بغیر ہندوستان سے عدم تحفظ کے احساس کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیمدفن کی چادر چھوٹی پڑگئیاز : مفتی ہمایوں اقبال ندویگیاری ، ارریہ

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

دفن کی چادر چھوٹی پڑگئی

از : مفتی ہمایوں اقبال ندوی
گیاری ، ارریہ


ایک واقعہ جومولانا عابد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تدفین کے وقت رونما ہوا وہ معمولی نہیں ہے،فکر کی نظر سے دیکھنے پر صحابی رسول حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی سنت کی پیروی معلوم ہوتی ہے۔آپ کی زندگی بھی اسی کے نقش پا کو حاصل کرنے کی کوشش سے عبارت رہی ہے اور موت سے بھی آپ کی زاہدانہ زندگی کی ہمیں دلیل ملتی ہے۔ 
مولانا عابد صاحب رحمۃ اللہ دارالعلوم رحمانی منور نگر زیرو مائل کے بانی اساتذہ میں ہیں۔
وفات مورخہ ۱۰/فروری بروز جمعرات ۲۰۲۲ءزیرسایہ مسجد حسینیہ دارالعلوم رحمانی منور نگر زیرو مائل میں  ہوئی ہے اور تدفین مذکورہ تاریخ ہی کو اپنے آبائی گاؤں پورنداہا میں ہوئی ہے۔
عین تدفین کے وقت واقعہ یہ پیش آیا کہ قبر میں مولانا مرحوم کو اتارنے کے بعد اوپر ڈالنے والی چٹائی کہیں رہ گئی، ایک چادر دستیاب تھی، اسے ڈالاگیا تو وہ پوری قبر کو احاطہ نہ کرسکی،موجود لوگوں نے اپنا عربی رومال پیش کیا، اسے جوڑدیا گیا ،اس کے اوپر مٹی ڈالی گئی۔
یہ اتفاقی واقعہ میں بھی مولانا مرحوم کی پوری زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔
اپنی زندگی میں مولانا مرحوم دعوتی خطاب میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے واقعہ بکثرت بیان کرتے اور ان کی سیرت پر سیر حاصل گفتگو کیا کرتے،صحابی جلیل کی سابقہ پرتعیش زندگی اور اسلام کے بعد کی ان کے زہدوتقوی اور عسرت بھری زندگی پرروشنی ڈالتے، اپنے گھر والوں سے چھپ کران کےاسلام لانے کا واقعہ ، پھر گھر والوں کی طرف سے دی جانے والی قید وبند کی صعوبتوں کا تذکرہ اور دردناک تکالیف کی روداد پیش کرتے، دین کی خاطر حبشہ کی ہجرت کو موضوع سخن بنایا کرتے۔بالخصوص پہلی جماعت مدینہ کی جو مسلمان ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کو ان کےساتھ مدینہ روانہ فرمایا۔مدینہ کے پہلے داعی اور مبلغ ہونے کاشرف انہیں حاصل ہوا،لوگ انہیں مقرئی اور مدرس کہا کرتے ،اس عنوان پر مولانا عابد صاحب خوب خوب گفتگو کرتے۔ایسا محسوس ہوتا کہ اپنا آئیڈیل انہیں محسوس کرتے ہوں۔
مولانا عابد رحمۃ کی زندگی کا سرسری مطالعہ کرنے سے بھی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آپ نے بھی مذکورہ صحابی رسول کی اپنی زندگی میں بھی پیروی کی کوشش کی ہے۔
آپ کے گھر والوں نے آپ کوایک عصری ادارہ میں داخل کیا، اس کا مقصد دنیاوی ترقی تھا،لیکن آپ نے اپنے گھر والوں کے منشا کے خلاف کیا،سرکاری نوکری کو بھی لات ماردی،اور دینی ترقی کے لیے جامعہ مظاہر علوم کا سفر کیا، شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہوگئے، وطن واپس ہوئے، گیاری گاؤں کے الحاج ابوثاقب صاحب کےدروازے پر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔اللہ نے آپ کے حق میں بھی دارالعلوم رحمانی کے پہلے مدرس ہونے کا شرف رکھا تھا، حضرت مولانا منور حسین صاحب رحمۃ کا کثرت سے گیاری آنا جانا تھا، لوگ زیرومائل ارریہ میں ایک عالیشان مسجد بنانا چاہتے تھے ،حضرت نے کہا کہ مسجد آباد کرنے کے لیے ایک ادارہ کی بھی ضرورت ہے، چنانچہ ادارہ بنا  مولانا عابد صاحب کو اس مدرسہ کا معلم بنا کر بھیجا گیا، تا حیات معلم ومدرس رہےاور اس مسجد کی آبادی کا ذریعہ بن گئے،دعوت وتبلیغ کا فرض پوری عمر بھی نبھاتے رہے۔سینکڑوں ہزاروں لوگوں کی اصلاح وتربیت کا کارنامہ آپ نے انجام دیا۔ایک موقع سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی، مسجد ہی میں معتکف ہوگئے، چند برتن اور لوٹے پاس ہوتے، یہ سرمایہ آپ کے پاس تھا،ویل چیئر پر بیٹھ کر بازاروں میں گشت کرتے اور دعوت کا فریضہ انجام دیتے، 
گویا جس امید کے ساتھ حضرت مولانا منور حسین صاحب نے آپ کو دارالعلوم رحمانی بھیجا، اس پر آپ کھرے اترے اور تاحیات گامزن رہے، یہی نہیں بلکہ آپ نے پہلے معلم اور مبلغ کا حق بھی ادا کیا، اس معاملہ میں بھی آپ نے صحابی رسول حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی پیروی کی کوشش کی ہے۔شاید یہی بات ہے کہ اللہ نے مرنے کے بعد تدفین کے وقت بھی مولانا مرحوم کو حضرت مصعب کے نقش پا کے غبار کو چھولینے کی سعادت مرحمت کی ہے۔
"وما ذالك علی بعزیز"

اتوار, فروری 13, 2022

اجتماعی کاموں میں زبان ودل کی نرمی اورسمع وطاعت ضروری:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمیامارت شرعیہ راورکیلاکی میٹنگ اہم فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر

اجتماعی کاموں میں زبان ودل کی نرمی اورسمع وطاعت ضروری:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
امارت شرعیہ راورکیلاکی میٹنگ اہم فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر
اجتماعی کاموں کوانجام دینے کے لئے سب بڑی چیز یہ کہ ہمارے دلوں میں نرمی ہو،قرآن کریم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہاگیا کہ آپ نرم دل ہیں جس کافائدہ یہ ہے کی لوگ آپ سے جڑتے ہیں،اگرآپ سخت دل ہوں گے تولوگ آپ سے چھٹ جائیں گے،اجتماعی کام جوڑکاکام ہے،اس لئے کام کوآگے بڑھانے کے لئے دل بھی نرم ہوناچاہئے اورزبان میں بھی نرمی ہونی چاہئے اس کے علاوہ بڑوں کی بات ماننے کاجذبہ ہوناچاہئے جسے سمع وطاعت کہتے ہیں،ان خیالات کااظہار امارت شرعیہ بہاراڈیشہ وجھارکھنڈ کے نائب ناظم،وفاق المدارس اسلامیہ کے ناظم اور ذیلی دفاتر کے ذمہ دار مولانا ومفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے اہداف کوزمین پراتارنے کے لئے حضرت مولاناعبدالصمد نعمانی مدظلہ کی صدارت میں بلائی گئی ایک میٹنگ میں اراکین کمیٹی اور مخلصین امارت شرعیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ آپس میں ایک دوسرے کی غلطیوں کومعاف کرنے کامزاج بھی اجتماعی کاموں کے لئے ضروری ہے،ان دوچیزوں کوبرتنے سے ہمارے اجتماعی کاموں میں پختگی آئے گی اورکام آگے بڑھے گا،مفتی صاحب حضرت امیرشریعت مولانااحمدولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے حکم اور قائم مقام ناظم مولانامحمدشبلی قاسمی کی ہدایت پر اڈیشہ دورے کے تیسرے روز راورکیلاپہونچے،،افتتاحی گفتگومیں قاضی شریعت راورکیلا مفتی عبدالودودقاسمی نے کہاکہ راورکیلامیں دفترامارت شرعیہ کاقیام آج سے تقریباپچاس سال قبل ہواتھا،یہاں کے مخلصین اورامارت شرعیہ سے محبت وتعلق رکھنے والوں خصوصا حاجی محمد اسلم صاحب اور جناب عبدالوحیدخان صاحب مرحومین کی انتھک محنت اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں دفترامارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیاتھا،،میٹنگ میں موجودارکین کمیٹی کے ساتھ نائب ناظم امارت شرعیہ نے مختلف امورپرتبادلۂ خیال کیااور باتفاق رائے جواہم فیصلے لئے گئے ان میں   دفترامارت شرعیہ راورکیلاکی بالائی منزل میں نویں ودسویں کلاس کے طلبہ کے لئے کوچنگ سنٹرقائم کیاجاناشامل ہے،نیزیہ بھی طے پایاکہ اصلاح معاشرہ کے کام کومضبوطی کے ساتھ کرنے کے لئے نوجوانوں اورائمہ مساجد کوجوڑ کرایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اصلاح معاشرہ کے کام میں تیزی اور پختگی لائی جائے،میٹنگ کاآغازمولاناعتیق الرحمان صاحب معلم امارت شرعیہ راورکیلا کی تلاوت کلام پاک سے ہوااور صدر مجلس حضرت مولاناعبدالصمد نعمانی صاحب کی دعاء پرمیٹنگ کااختتام ہوا،نظامت کے فرائض قاضی شریعت مفتی عبدالودود قاسمی نے انجام دئے اس اہم میٹنگ میں مذکورہ بالاحضرات کے علاوہ جناب عرفان الحق،جناب حاجی وصی اخترخان، حاجی انعام الحق،حاجی نسیم صدیقی،جناب فیاض احمدخان،حاجی شکیل احمد بسرا،جناب مولاناعاصم قاسمی،جناب محمود،ظفرعالم صدیقی،حاجی کمال الدین،مولاناکرامت حسین صاحبان نے شرکت کی۔
اس کے قبل مفتی صاحب کی آمدپران کاپرجوش استقبال کیاگیااس موقع سے حضرت مفتی صاحب نے جامع مسجد راورکیلااورنورمسجدراورکیلامیں خطاب فرمایا،آپ نے فرمایاکہ نمازباجماعت کااخروی فائدہ تویہ ہے کہ نمازباجماعت کاثواب انفرادی نمازکے مقابلہ میں ستائیس گنا بڑھاہواہے لیکن اس کے بہت سارے دنیاوی فائدے بھی ہیں جوہماری نظروں سے اوجھل ہیں جن میں سب سے بڑافائدہ اوراہم سبق یہ کہ جس طرح ہم مسجدمیں امام کی اقتداء میں جماعت کے ساتھ نمازاداکرتے ہیں اسی طرح مسجد کے باہرکی ہماری زندگی بھی جماعتی اور اجتماعی زندگی ہو،انفرادی زندگی نہ ہو،مسجد میں مقتدی کاامام سے رشتہ قائم ہوتاہے توجماعت بنتی ہے،باہرکی زندگی میں امیر سے سمع وطاعت کا رشتہ قائم ہوگا توجماعت بنے گی، انہوں نے کہاکہ نمازبا جماعت کاایک سبق یہ بھی کہ جس طرح ہم مسجد کے صفوں میں قدم سے قدم ملاکر،کاندھے سے کاندھے ملاکر کھڑے ہوجاتے ہیں اسی طرح مسجدکے باہربھی ایمان کی بحالی کے لئے،اسلام کی برتری کیلئے،ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ہم سب قدم سے قدم ملاکرمتحدہوکرمشن کے طورپرکام کریں،نیزانہوں فرمایاکہ نمازباجماعت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتاہے کہ مسلک ومشرب،ذات برادری،زبان اور خاندان کی بنیادپرہم آپس میں تفریق نہ کریں،اور جس طرح امام کے سہو پر ہم ٹوکتے ہیں،لقمہ دیتے ہیں اسی طرح مسجد کے باہرکوئی برائی اور گناہ کا کام ہوتاہوادیکھیں توہماری ذمہ داری ہے کہ اسے روکیں اورپوری طاقت کے ساتھ روکیں،حضرت والانے حجاب کے تعلق سے بات کرتے ہوئے کہاکہ آج حجاب کامسئلہ اس لئے کھڑاہواہے کہ صرف بیس فیصدلڑکیاں ہماری حجاب استعمال کرتی ہیں باقی اسی فیصد لڑکیاں اسکول وکالج میں اسی کلچرکے ساتھ ہیں جوغیرمذہب کے ہیں،میں اس سونچ کوبدلناہوگا۔بعدنماز عشاء نورمسجدمیں خطاب کرتے ہوئے حضرت نے فرمایاکہ آج معاشرے کے تمام جھگڑے اوراختلافات کی بنیادی وجہ کبراورانانیت ہے،ہرشخص اپنی بڑائی کابت دل میں لئے بیٹھاہواہے،کوئی مال ودولت کی بڑائی،کوئی ذات برادری اورخاندان کی بڑائی،یہ بڑائی اللہ کوبہت ناپسند ہے اور اس بڑائی اور انانیت کوختم کرنے لئے اللہ تعالیٰ نے آذان،اقامت اورنماز میں بارباراپنی بڑائی اورکبرائی کوبیان کیاہے تاکہ ہمارے دلوں میں اللہ کی بڑائی بیٹھ جائے اور اپنی بڑائی دل سے نکل جائے،مزیدکہاکہ جواللہ کے لئے جھکتاہے اللہ اسے بلند کرتاہے،یہ رسول اللہ صلعم کافرمان ہے جوسوفیصدصحیح ہے،نائب ناظم صاحب کااڈیشہ کادورہ ابھی جاری ہے۔

امارت شرعیہ کی عصری تعلیمی پالیسی مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

امارت شرعیہ کی عصری تعلیمی پالیسی 
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)
امارت شرعیہ نے بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے فروغ پر بھی زور دیا ، اس نے ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جنہوں نے عصری تعلیم کو بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ اسلامی ماحول میں دینے کا کام کیا، جو ادارے مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جا رہے ہیں اس میں امارت شرعیہ نے بنیادی دینی تعلیم اور اسلامی ماحول کو ادارہ کی ترجیحات کے طور پر پیش کیا، تاکہ ڈاکٹر، انجینئربننے والے طلبہ وطالبات اسلام پر باقی رہیں، اور دیگر اداروں کا غیر اسلامی ماحول ان پر اثر انداز نہ ہو سکے، جو اسکول سرکاری ہیں ان کے نصاب ونظام کے سلسلے میں امارت شرعیہ کی پالیسی رہی کہ وہاں کے نصاب میں دیومالائی قصے اور اسکول کے ماحول میں کسی خاص تہذیب وثقافت کے فروغ کے لیے راہ ہموارنہ کی جائے، جب حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہے تو تعلیمی اداروں میں بھی اس کی جھلکِ دکھنی چاہیے، اسی لیے جب ۱۹۳۸ء میں اس وقت کے وزیرتعلیم بہار ڈاکٹر سید محمود نے دیہات کی اصلاح کے لیے ایک اسکیم بنائی اور اس کے تربیتی کیمپ میں گاندھی جی کی سوانح عمری اور تعلیمات کو بھی موضوع تدریس بنایا تو بانی امارت شرعیہ مولانا ابو المحاسن محمد سجاد ؒ نے وزیر تعلیم کے نام لکھے ایک خط میں واضح کر دیا کہ
’’ یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے ، اہنسا دھرم، گاندھی جی کی تعلیمات اور ان کی سوانح عمری جو زیادہ تر ان کے مخصوص مذہبی معتقدات وتخیلات اور تلاش حق کی سرگردانیوں کا آئینہ دار ہیں، ہندوؤں کے لیے دلآویز اور بصیرت افروز ہوسکتے ہیں، لیکن یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے مذہبی ، اخلاقی اور تمدنی بنیادوں کو کھوکھلی کرنے والی ہیں، اس لیے مسلمان اس قسم کی تعلیم وتربیت ایک لمحہ کے لیے بھی بر داشت نہیں کر سکتے ‘‘۔ (مکاتیب سجاد: ۸۴)
مولانا نے آگے لکھا : ’’ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ للہ مسلمانوں کی دماغی تربیت کے لیے سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک اور خلفاء راشدین کی سوانح عمریاں رہنے دیجیے اور ’’اہنسا دھرم‘‘ اور گاندھی جی کی ’’تلاش حق‘‘ کی سرگردانی مسلمان طلبہ پر مسلط کرکے غیر اسلامی تعلیم وتربیت نہ پھیلائیے(ایضا)
بانی امارت شرعیہ کے یہ خیالات ہی عصری وسرکاری اداروں کے سلسلے میں امارت شرعیہ کا لائحہ عمل اور نصب العین ہیں ، امارت شرعیہ نے اس سے کبھی سر مو انحراف نہیں کیا، اور نصاب ونظام تعلیم میں جب بھی اس قسم کی بات آئی اس سے اختلاف کیا اور ضرورت پڑی تو سرکار کو میمورنڈم دے کر اسے بدلوانے کا کام کیا، ابھی جب نئی تعلیمی پالیسی آئی تو امارت شرعیہ نے ماہرین تعلیم کے ساتھ کئی میٹنگیں کرکے ترمیمات پیش کیں اور آج بھی امارت شرعیہ کی کوشش ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں جو ایک خاص مذہب کو فوقیت دینے اور ان کی کتابوں کو نصاب کا جز بنایا جا رہا ہے ، اسے حکومت واپس لے؛ تاکہ ملک میں سیکولر اقدار کے ساتھ تعلیمی ادارے جاری رکھے جا سکیں۔ جو ادارے مسلمانوں کے ہیں ان کے بارے میں قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کا نظریہ یہ تھا کہ ’’ابتدائی تعلیم کی عصری درسگاہیں اپنے نصاب اور نظام تعلیم کے اعتبار سے ایسی ہوں کہ بچہ وہاں سے پڑھ کر جو بھی نکلے وہ راسخ العقیدہ مسلمان ضرور ہو ‘‘  (تعلیم ترقی کی شاہ کلید : ۳۷) 
 اسی نظریہ کے تحت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا سید نظام الدین رحمہما اللہ کی تحریک پر حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی ؒ کے حکم سے قاضی نور الحسن میموریل اسکول کا قیام پھلواری شریف میں عمل میں آیا اور ابتدا میں جب اس کا رخ اورمنہج متعین کرنا تھا ، خود قاضی صاحب اس کے سکریٹری رہے ۔ حضرت امیر شریعت رابعؒ کے ہی عہد میں ایم ایم یو ہائی اسکول کا قیام عمل میں آیا، جو آسنسول کے معیاری تعلیمی اداروں میں شمار کیا جا تا ہے ۔
امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی رحمانی ؒ کے عہد میں عصری تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی گئی ، گریڈیہہ اور رانچی میں امارت پبلک اسکول کے نام سے ادارہ قائم ہوا، اور جلد ہی اس نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، اربا میں امارت انٹرنیشنل اسکول کی بنیاد حضرت نے ڈالی، جس کی عمارت کی تعمیر اور اس پر کام ہونا ابھی باقی ہے ، موجودہ امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم اس سلسلہ کو اور آگے لے جانا چاہتے ہیں اس کی روشنی میں امارت شوریٰ کی مجلس شوریٰ نے رواں سال میں کم از کم دس اسکول کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور کٹیہار ، پورنیہ ، کٹک وغیرہ میں اس حوالہ سے کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ابھی ابتدائی تیاری چل رہی ہے اور انفراسٹیکچر کی فراہمی پر پوری توجہ مرکوز ہے۔
حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی جو تعلیمی پالیسی تھی اس میں وہ صرف سیدھے طور پر ایم اے، بی اے وغیرہ کرنے کو بہت اہمیت نہیں دیتے تھے، وہ میڈیکل کالج کے قیام سے زیادہ ٹکنیکل انسٹی چیوٹ کے قیام کو اہمیت دیتے تھے، چنانچہ حضرت امیر شریعت رابعؒ کے دور میں ٹیکنیکل انسٹی چیوٹ کا خاکہ بنا ، نقشے وغیرہ پاس ہوئے، کہنا چاہیے کہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نے حضرت امیر شریعت رابعؒ کے حکم پر اس کام کے لیے طویل اور کامیاب منصوبہ بندی کی جس کی وجہ سے آج ہزاروں طلبہ ان اداروں سے کسب فیض کرکے رزق حلال حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت کے وصال کے بعد پانچویں امیر شریعت حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب ؒ کے عہد میں حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب نائب امیر شریعت اور ناظم امارت شرعیہ کے مشورہ اور تعاون سے امارت شرعیہ میں پیشہ وارانہ تعلیم کا آغاز ہوا، اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ خود ہی زمانہ تک اس کے جنرل سکریٹری رہے ، امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ٹیکنیکل انسٹی چیوٹ کا قیام عمل میں آیا اور آج الحمد للہ اس میدان میں امارت شرعیہ کی خدمات انتہائی عظیم اور وقیع ہیں، ان دنوں پانچ ٹیکنیکل انسٹی چیوٹ، ایک پارا میڈیکل اور ایک لڑکیوں کے لیے بی سی اے اور بی بی اے کالج چلا یا جا رہا ہے ، جس سے بڑے پیمانے پر طلبہ وطالبات مستفیض ہو رہے ہیں۔
حضرت امیر شریعت سابعؒ کے دور میں ارریہ میں میڈیکل کالج کے قیام کی تجویز بھی آئی تھی ، لیکن اس کے لیے زمین کی فراہمی نہیں ہونے کی وجہ سے کام آگے نہیں بڑھ سکا، حضرت کے عہد میں عصری تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے بہار وجھارکھنڈ کے دورے بھی کیے گیے۔
 موجودہ امیر شریعت نے مسلمان بچے اور بچیوں کے نو یں دسویں کلاس کے لیے کوچنگ کا بھی آغاز کیا ہے، اور الحمد للہ بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں ، دوسری جگہوں پر بھی اس سلسلہ کو دراز کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔
 امارت شرعیہ ، تنفیذ شریعت کا ادارہ ہے ، اس لیے یہاں لڑکے لڑکیوں کے لیے مخلوط تعلیم کے بجائے پڑھنے پڑھانے کاالگ الگ انتظام ہے، یہ امارت شرعیہ کی تعلیمی پالیسی کا اہم حصہ ہے ، اس لیے جہاں کہیں بھی امارت شرعیہ کے تعلیمی ادارے قائم ہیں ان میں تیسرے کلاس کے بعد سے لڑکے لڑکیوں کی تعلیم کا الگ انتظام موجود ہے ، کہیں شفٹ الگ ہے اور کہیں الگ راستے کے ساتھ الگ کلاس روم کا انتظام ہے، موجودہ بے راہ روی کے دور میں اس انتظام کی اہمیت وافادیت کافی بڑھ گئی ہے، اور لوگوں میں بھی اس طریقۂ کار کی کافی پذیرائی ہو رہی ہے ۔امارت شرعیہ کی تعلیمی پالیسی کا بڑا اہم جز معیاری تعلیم ہے، اس معاملہ میں امارت نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے امارت کے اداروں میں امتحان میں کامیابی کا تناسب بڑھانے کے ساتھ تعلیم کے معیار کی برقراری ہے، اسی لیے یہاں پڑھنے والے طلبہ وطالبات درجات میں حاضری کے پابند ہوتے ہیں، اور مطلوبہ حاضری ہونے پر ہی امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین اس مقابلہ جاتی دور میں مختلف محکموں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کوالٹی ایچ ہے، کمپٹیشن کے اس دور میں ڈگری سے زیادہ اس کے پیچھے صلاحیت کا ہونا ضروری ہے، اس لیے امارت شرعیہ کے تمام تعلیمی ادارے کو الٹی کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔
امارت شرعیہ کی تعلیمی پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس نے تعلیم کو تجارت نہیں بننے دیا ، آج بڑے بڑے تعلیمی ادارے تجارتی نقطۂ نظر سے کام کر رہے ہیں، طلبہ وطالبات سے وصولی جانے والی بڑی بڑی فیس نے غریبوں کے لیے ان اداروں تک رسائی کونا کام بنا دیا ہے ، امارت شرعیہ نے اپنی تعلیمی پالیسی میں اس بات کو ملحوظ رکھا کہ فیس اس قدر رکھی جائے کہ ادارہ کو نہ زیادہ نفع ہو اور نہ زیادہ نقصان، انگریزی میں اسے No profits no lossکہتے ہیں، الحمد للہ امارت شرعیہ کی اس پالیسی کی وجہ سے غریب طلبہ وطالبات بھی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں، امارت شرعیہ کی سوچ یہ ہے کہ ہمیں تعلیم کو سستا اور عام انسانوں کی پہونچ کے لائق بنانا چاہیے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...