Powered By Blogger

ہفتہ, دسمبر 23, 2023

اللہ اکبر: اللہ سب سے بڑا ہے

اللہ اکبر: اللہ سب سے بڑا ہے
Urduduniyanews72 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی تخلیق مٹی سے کی، وہ مٹی جس کو جس قدر اوپر اچھال دیں، وہ زمین پر آکر ہی گرے گا، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد بنی نوع انسان کے درمیان توالد وتناسل کا جو سلسلہ چلا اور چلتا آرہا ہے اور قیامت تک چلتا رہے گا، وہ ایک حقیر قطرہ ہے، جو ناپاک بھی ہے اور گھٹیا بھی، اس طرح انسان کی فطرت اور سرشت تو یہی ہے کہ وہ اپنے کو کسی حال میں بڑا نہ سمجھے اور ہر آن، ہرلمحہ اللہ کی بڑائی کا اقرار کرتا رہے، یہ بات اس کی عادت اور فطرت بن جائے اور شیطانی مکر ووساوس سے اس کی زندگی پاک رہے، اس کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ بچہ جب بیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کے کلمات کہے جائیں، تاکہ بچے کے دل کے سادے کاغذ پر اللہ کی بڑائی، رسول کی رسالت، نماز وفلاح وکامیابی کی اہمیت اور اللہ کے علاوہ کسی اور کے معبود نہ ہونے کا خیال ثبت ہوجائے، پھر جب بڑا ہو اور اذان کے کلمات سن شعور میں پہونچ کر سنے تو اللہ کی بڑائی اور اس کے معبود مسجود ہونے کے احساس کے ساتھ نماز کے لئے چل پڑے، اللہ سے فلاح وکامرانی طلب کرے اور اعلان کردے کہ اے اللہ! تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو ہی سب سے بڑا ہے، جماعت کے کھڑے ہونے کے لئے اقامت میں کہے جانے والے الفاظ اس احساس کو مضبوط اور ان امور پر شعور کو پختہ کرتے ہیں، اٹھتے بیٹھتے نماز میں اللہ اکبر کی تکرار اللہ کی بڑائی کے تصور کو قلب ودماغ میں راسخ کرتا ہے، عیدین کی نماز سے قبل تکبیر تشریق کا ورد، سماجی طورپر اللہ کے سب سے بڑے ہونے کا اعلان، جنازہ کی نماز میں چار تکبیر، دشمن کے چلے جانے  سے  خوش ہونے کے بجائے ذہن میں اللہ کی بڑائی کو راسخ کرنے کا ذریعہ اوراپنے سے بڑے قد وقامت والے جانور کے ذبح کے وقت بھی اللہ اپنی کابڑائی کا خیال بندوں کے دل ودماغ میں باقی رکھنا چاہتے ہیں، مبادا ایسا نہ ہو کہ اپنی بڑائی کا خیال آجائے اور جانور کا گوشت حرام ہوجائے، اس وقت بھی بسم اللہ اللہ اکبر پڑحنے کا حکم اسی وجہ سے ہے کہ تم طاقتور اور قوی نہیں ہو، طاقت ور اور قوی تو صرف اللہ رب العزت ہے اور وہی سب سے بڑا ہے۔اس یقین اور عقیدہ پر استقامت اس قدر ضروری ہے کہ اللہ رب العزت نے ہر اس چیز کو منع کردیا جس سے بڑے ہونے کا شائبہ بھی پیدا ہوتا ہو، اس بنیاد پر لوگوں سے بے رخی برتنے اور زمین پر اکڑ کر چلنے کو منع کیا گیا اور اعلان فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ تکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا (سورۃ لقمان:۸۱)
اپنے کو بڑا سمجھنا اس قدر قبیح ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہرغرور وتکبر کرنے والے سے پناہ چاہی (سورۃ المومن:۷۲) اللہ رب العزت نے یہ بھی اعلان کیا کہ جو لوگ میری بندگی سے تکبر کرتے ہیں وہ جلد ہی رسوا وذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے، یہاں پر ہمیں حضرت لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت بھی یاد رکھنی چاہئے جسے اللہ رب العزت نے سورۃ لقمان آیت نمبر اٹھارہ میں ذکر کیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں سے تکبر کے ساتھ اپنا چہرہ مت پھیرنا اور زمین پر اکڑ کر مت چلنا، اللہ اکڑ کر چلنے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا، اپنی رفتار معتدل رکھنا، آواز پست رکھنا، کیوں کہ تمام آوازوں میں سب سے بُری آواز گدھے کی ہے، اسی مفہوم کی ایک دوسری آیت سورۃ بنی اسرائیل میں ہے کہ زمین پر اتراتے ہوئے مت چلا کرو، اس لئے کہ تم اپنے اس عمل کی وجہ سے نہ تو پہاڑ کی بلندی تک پہونچ سکتے ہو اور نہ ہی زمین کو پھاڑ سکتے ہو، یہ کام تمہارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
اونچی آواز سے بولنا، زمین پر اکڑ کر چلنا اورٹخنہ سے نیچے پاجامہ اور ازار کا رکھنا تکبر کی علامت کی وجہ سے ممنوعات میں داخل کیا گیا ہے، جہاں کبر نہیں پایا جائے وہاں زور سے بولنے کی اجازت دی گئی،اس فہرست میں صرف مظلوم آتا ہے، ورنہ اللہ کے نزدیک زور سے بولنا بھی ایک نا پسندیدہ عمل ہے
 تکبر کرنے والے کے لیے اللہ رب العزت نے مختلف قسم کے عذاب رکھے ہیں، ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو چھوٹی چیونٹیوں کی طرح شکل میں جمع کیا جائے گا، ذلت ورسوائی ان پر مسلط ہوگی، جہنم کی طرف ان کو لے جایا جائے گا، آگ ان کو گھیرلے گی اور جہنمیوں کا پیپ وغیرہ اسے پینے کو دیا جائے گا۔
 اسی طرح بخاری ومسلم کی ایک روایت میں ایک ایسے شخص کا واقعہ نقل کیا گیا ہے جو تکبر کی وجہ سے کپڑا گھسیٹ کر زمین پر چلتا تھا، اسے اللہ رب العزت نے زمین میں دھنسا دیا اور وہ مسلسل دھنستا چلا جا رہا ہے اور قیامت تک دھنستاہی رہے گا، ایک دوسری روایت میں چند لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخیوں کی فہرست میں متکبرین کو بھی شامل کیا ہے، ایک جگہ ارشاد فرمایا: حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
 تکبر نفس کا دھوکہ ہے جو انسان کو سرکشی اوردوسروں کو حقیر سمجھنے پر ابھارتا ہے اس کا یہ عمل اس قدر دراز ہوتا ہے کہ اس کا نام متکبرین میں لکھا جاتا ہے اور وہ جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے، یہ سخت عذاب اس لیے ہے کہ تکبر اللہ کی چادر ہے، ساری بڑائی اور عظمتیں اسی کے لیے سزا وار ہیں، اب اگر کوئی اللہ کی چادر میں گھسنے کی کوشش کرے گا تو اللہ اس کو ذلیل وخوار اور رسوا دنیا میں کر دیں گے، اور آخرت میں جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے اس کے منتظر ہیں۔
 اللہ ورسول کے ساتھ کبر تو یہ ہے کہ اللہ کی بندگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سمع وطاعت سے جان بوجھ کر گریز اور سمعنا واطعنا کی جگہ بنی اسرائیل کی طرح سمعنا وعصینا کہے، یعنی سن تولیا، لیکن اس کے خلاف کریں گے، مان کر نہیں دیں گے، اس کے علاوہ کبر کی ایک شکل عہدے، منصب، دولت اور اثر ورسوخ پر بھی اترانا ہوا کرتا ہے اور اس اترانے کی بنیادی وجہ وہی عجب اور اپنے کو بڑا سمجھنا ہوتا ہے ایسے لوگوں کے پاس کبر دوڑ کر جاتا ہے اور وہ اپنے کو بڑا سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہوجاتا ہے، اس کے چال، چلن بود وباش، نشست وبرخواست اور گفتگو تک میں کبر کے اثرات وافر مقدار میں پیدا ہو جاتے ہیں، اور وہ بھول جاتا ہے کہ تکبر نے عزازیل کو ذلیل ورسوا کر دیا اور لعنت کا طوق اس کے گلے میں پڑگیا۔اسے اپنے ”میں“ کی فکر ہوتی ہے، مجھ سے کیوں نہیں پوچھا گیا، میرا خیال کیوں نہیں رکھا گیا، میری رائے کیوں نہیں مانی گئی، یہ سب تکبر کے ہی مختلف مظاہر ہیں۔
تکبر سے ملتی جلتی ایک چیز عجب ہوتی ہے، تکبر میں اپنے کو بڑا دوسرے کو حقیر سمجھا جاتا ہے، عجب میں آدمی خود پسندی میں مبتلا ہوجاتاہے، اپنے کاموں کی خود تحسین کرتا ہے، پیٹھ تھپتھپاتا ہے، کہنا چاہیے کہ عجب، کبر سے الگ ہونے کے باوجود کبر کی پہلی منزل ہے، کیوں کہ خود پسندی خود ستائی کے بعد وہ مرحلہ آجاتا ہے، جس میں اپنا سب کچھ بڑھیا اور دوسرے کا کم تر نظر آنے لگتا ہے، یہی کبر ہے، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے کہ تواضع اگر ریا اور دکھاوے کے لیے ہو تو وہ بھی کبر ہے، کیوں کہ وہ تواضع اس لیے اختیار کرتا ہے کہ دنیا اسے متواضع اور منکسر المزاج کہے، حالاں کہ وہ حقیقتا ایسا نہیں ہے، وہ بازی گروں کی طرح لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے، اس کا یہ عمل کبر کے ساتھ دھوکہ دہی سے مل کر اور بھی قابل تعزیر وسزا ہوجاتا ہے، پروفیسر لطف الرحمن کا یہ شعر بے ساختہ قلم پر آگیا۔
عجب طرز انا ہے یہ خاکساری بھی

قریب سے جو دیکھا تو خدا نکلا
 یا پھر یہ شعر
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
اس موقع سے سورۃ والنجم کی اس آیت (۲۳) کو ضرور یاد رکھنا چاہیے، جس میں اللہ رب العزت نے واضح طور پر ارشاد فرما دیا ہے کہ تم اپنے کو مقدس نہ سمجھا کرو، تقویٰ والوں کواللہ خوب جانتا ہے، سورۃ کہف میں ہے کہ وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔
 تکبر کے اس مرض کا واحد علاج حقیقتا تواضع انکساری ہے جو صرف اللہ کے لیے کیا گیا ہو، آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ من تواضع للہ رفعہ اللہ، جو اللہ کے لیے جھکا اللہ اس کے درجات بلند کرتے ہیں، یہاں ”للہ“ کا لفظ خاص طور سے قابل غور ہے کہ یہ تواضع اور انکساری صرف اللہ کے لیے ہوکسی اور کے ڈر اور خوف سے نہ ہو، دنیاوی افسران، حاکموں اور قائدین کے ڈر سے تواضع اختیار کرنا مفید مطلب نہیں اور نہ ہی اس سے کبر ختم ہوگا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ تواضع، جھکنا، رفعت وبلندی کے حصول کا قدرتی اصول ہے، اونچی سڑک پر چڑھنے کے لیے کمر جھکا کر چڑھنا ضروری ہے، یہی حال پہاڑ پر چڑھنے والوں کا ہوتا ہے،سائیکل اوپر چڑھائی ہو تو جھک کر پیڈل مارنا ہوتا ہے اور نیچی سڑک پر آنا ہو، پہاڑ سے اتر نا ہو، سائکل کو ڈھلان میں لے جانا ہو تو غیر متوازن اور ان بیلنس ہونے کے خوف سے اکڑ کر اُترا جاتا ہے، پیڈل ماری جاتی ہے، اگر اترنے والا ایسا نہ کرے تو وہ غیر متوازن ہو کر کھائی میں جا گرے گا۔
ہم سب کو قدرت کے اس نظام کو سمجھنا چاہیے، اللہ کی بڑائی کے علاوہ اپنے نفس کی ساری برائیوں کو ختم کرنا ہوگا، اللہ کی بڑائی کا خیال بندوں کو آپس میں احترامِ آدمیت سکھاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گیے تھے، اللہ رب العزت ہم سب کو اس احساس کے ساتھ زندگی گذارنے کی توفیق دے کہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے اور ہم سب اللہ کے بندے ہیں اور اللہ رب العزت کے نزدیک ہمارا شمار فقیروں اور محتاجوں میں ہے۔

عالم اسلام کے مشہور بزرگ

حضرت مولانا ابرار الحق صاحب حقی  ؒ
Urduduniyanews72 
مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلوار ی شریف، پٹنہ 
===========================================
 عالم اسلام کے مشہور بزرگ، روحانی پیشوا، داعی قرآن وسنت، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے سلسلۃ الذہب کی آخری کڑی بھی محی السنۃ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب نے 9 ربیع الثانی 1426ھ کی شب 16مئی 2006ء کو تقریبا نو بجے ہر دوئی میں داعی اجل کو لبیک کہا، ان کی عمر نوے سال تھی، اس طرح تزکیہ وتربیت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، ایک ایسا عہد جو سلوک و تصوف تعلیم و تربیت کے اعتبار سے زریں عہد تھا۔
حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب قدس سرہ سے میری پہلی ملاقات دور طالب علمی میں ہوئی تھی، ملاقات کیا؟ کہنا چاہئے کہ میں نے دیکھا تھا، مجلس میں بیٹھا تھا، میں ان دنوں دارالعلوم مئو کا طالب علم تھا مدرسہ بیت العلوم سرائے میر ضلع اعظم گڑھ میں جلسہ تھا، بڑے بڑے علماء اور اکابر کے آنے کی خبر تھی، یاد پڑتا ہے کہ مولانا نظیر عالم ندوی بن مولا نا سید محمد شمس الحق صاحب ؒ استاذ مدرسہ احمد یہ ابابکر پوران دنوں وہیں زیر تعلیم تھے، ان کے خطوط میرے پاس آتے رہتے تھے، اس لئے جلسہ کے بہانے مدرسہ بیت العلوم پہنچا، تقریر کیا ہوئی تھی؟ اب تو وہ یاد نہیں حضرت مولانا کے حوالہ سے بس اتنی سی بات یاد ہے کہ جب اذان کا وقت ہوا اور موذن نے اذان دی تو آپ بہت خفا ہوئے، ہم جیسوں کے لیے خفگی کی وجہ نا معلوم تھی، بعد میں لوگوں نے بتایا کہ حضرت کلمات اذان میں بے جا کھینچ تان کو پسند نہیں کرتے، بلکہ کھنچنے کی جو حد حروف مدہ اور غیر مدہ میں متعین ہے اس کی پابندی پر اصرار کرتے ہیں اور راگ سے جو اذان دی جاتی ہے اسے خلاف سنت قرار دیتے ہیں اور یہی خفگی کی وجہ ہے، ہندوستان کی جتنی مسجدوں میں اس وقت تک اذان سننے کا موقع ملا تھا اس میں ہر جگہ کھینچ تان کاہی طریقہ رائج تھا۔ اس لئے یہ بات عجیب وغریب لگی ہم نے حیرت کے کانوں سے سنا، اور دل پر ان کے متبع سنت کا ایک نقش قائم ہوا، حضرت کی بات عقلی اور نقلی طور بھی صحیح معلوم ہوئی۔
 پھر زمانہ گزر گیا، میں دارالعلوم دیوبند چلا گیا، پھر وہاں سے لوٹ کر درس و تدریس میں لگ گیا۔ حضرت کے خدام اور خلفاء سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ان کی شفقت و محبت سے بہرہ ور رہا خصوصا حضرت مولانا عبد المنان صاحب بانی و ناظم مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجو پٹی ضلع سیتا مڑھی سے بار بار ملاقات رہی، اور ان کی توجہات نے دل و دماغ میں ایک مقام بنالیا۔
غالبا 1995ء میں میرا سفر عمرہ کا ہوا، حضرت بھی مکہ المکرمہ میں مقیم تھے، اور بعد نماز عصر مجلس لگا کرتی تھی۔ کئی روز حاضری ہوئی، چپکے سے پیچھے بیٹھ جاتا، گفتگو سنتا، دل و دماغ منور ہوتے اور خاموشی سے اٹھ کر چلا آتا، کبھی اپنے کو متعارف کرنے کا خیال نہیں آیا، بزرگوں کی مجلس میں بولنے کی عادت بھی نہیں رہی، اور نہ کبھی ضرورت محسوس ہوئی، سو ہر مجلس میں چپ چپ ساہی بیٹھا رہا کبھی لب کھولنے کی نوبت نہیں آئی۔
 حضرت سے آخری ملاقات ممبئی میں ہوئی تھی سلیم بھائی مرحوم اور اشفاق بھائی کی دعوت پر مکاتب کے جائزہ پروگرام میں شرکت کے لئے میری حاضری ہوئی تھی، میں ان دنوں مدرسہ احمد یہ ابا بکر پو ر ویشالی میں تھا اور وہیں سے جانا ہوا تھا۔ امارت شرعیہ کی نمائندگی مفتی سہیل احمد قاسمی کر رہے تھے، اس پورے پروگرام کا تاریخی لمحہ وہ تھا، جب حضرت مولانا وہیل چیئر پر خطاب کے لئے تشریف لائے طویل بیماری سے اٹھے تھے، اس لئے جسم پر فطری ضعف و نقاہت کا غلبہ تھا۔ اس کے باوجود آدھے گھنٹے سے زیادہ آپ نے خطاب کیا۔ قرآن کریم صحت کے ساتھ پڑھا اور پڑھایا جائے، اس کے وہ بڑے محرک اور داعی تھے، اسی نسبت سے تفصیلی خطاب ہوا، پوری تقریر تو یاد نہیں رہی، بس اتنا یاد ہے کہ حضرت نے بڑے سوز و کرب کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ آج مدارس والے مالی بحران کا شکوہ کرتے ہیں، میرے پاس بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگ آتے ہیں، جب بھی میرے سامنے یہ تذکرہ آتا ہے تو معا ًیہ خیال آتا ہے کہ وہاں قرآن کریم کی تعلیم صحت کے ساتھ نہیں ہو پارہی ہے، قرآن کریم پر محنت کیا جائے اور اسے صحت کے ساتھ پڑھایا جائے، اور پڑھا جائے تو ادارہ میں مالی بحران نہیں ہوسکتا، آپ نے فرمایا کہ برسوں میں نے اس کا تجربہ کیا ہے اور اس تجربہ کی بنیاد پر آپ کے سامنے بڑے اعتماد سے یہ کہہ رہا ہوں۔
 واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولانا نے اسے اپنی زندگی کا مشن بنالیا تھا، آج نورانی قاعدہ کے ذریعہ تصحیح قرآن کی جو ملک گیر تحریک چل رہی ہے، اور جگہ جگہ مرکزی دفتر امارت شرعیہ کے ذریعہ جو کیمپ لگائے جا رہے ہیں اور جہاں کثیر تعداد میں معلمین تربیت کے لئے حاضر ہوتے ہیں، یہ سب اسی شمع فروزاں کی دین ہے، چراغ سے چراغ جلتے گئے، اور روشنی پھیلتی گئی، پہلے یہ حضرت مولانا کی آواز تھی، اور اب پورے ملک کے خدام قرآن کی آواز بن گئی ہے۔
 مولانا کو محی السنہ کہا جاتا ہے واقعہ یہ ہے کہ حضرت تھانوی کے مے خانہ کے اس درویش پر یہ لفظ سب سے زیادہ صادق آتا ہے، الفاظ کی معنویت صد فی صد دیکھنا ہو تو محی السنہ کی حیثیت سے حضرت کی ذات گرامی کو دیکھنا چاہئے، ہر کام میں سنت کا اس قدر اہتمام میری نگاہ میں کسی اورکے یہاں دیکھنے کو نہیں ملا۔ حضرت مولانا فطرتاً نفاست پسند تھے، یہ نفاست، لباس، وضع قطع، چال ڈھال ہی میں نہیں مسجد و مدرستہ کی تعمیرات تک میں نظر آتی ہے، وہ شعائر اسلام کو خوبصورت دیکھنا پسند کرتے تھے، علماء کی قدردانی ان کی فطرت تھی، ظاہری وضع قطع پر بھی خاصہ دھیان دیتے تھے، اصول کی شدت کیساتھ پابندی حضرت تھانوی کے یہاں سے ورثہ میں ملی تھی، پوری زندگی اسے برتتے رہے، اصول کی پابندی میں جو سہولت ہوتی ہے، اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں، جنہوں نے اس کا مزہ چکھا ہے، کچھ لوگ اس شدت پسندی پراعتراض کیا کرتے ہیں لیکن جس نے اس کا مزہ ہی نہ چکھا ہو اس کی تعریف کیا، تنقید کیا؟ حضرت شاہ صاحب کی ایک بڑی خصوصیت وقت کی پابندی تھی، کس وقت کون سا کام کرنا ہے؟ کس سے ملنا ہے اور کب ملنا ہے، سارے اوقات منضبط تھے، اس پابندی سے وقت کی حفاظت ہوتی تھی، اور اسی وجہ سے ان کے وقت میں بڑی برکت تھی، وہ تواضع اور انکساری کے پتلا تھے، ان کے تقوی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں، اور وہ مدح وذم سے بے نیاز اپنے کام میں مشغول رہتے تھے، انہیں نہ ستائش کی تمنا تھی نہ صلے کی پرواہ، انہوں نے خدا کی رضا کو اپنا مقصد بنالیا تھا اور یہ مقصد سارے امور پر حاوی ہو گیا تھا۔
بہر کیف ہر نفس کو آخر فنا ہے حضرت مولانا بھی چلے گئے، ہمارے لئے اتباع سنت، قرآن کریم صحت کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کی تحریک چھوڑ گئے، ایک اور چیز جس پر حضرت شاہ صاحب زور دیتے تھے وہ نہی عن المنکر ہے، فرماتے تھے امر بالمعروف کی تحریک تو چل پڑی ہے تبلیغی جماعت اس کام کو اچھے سے کر رہی ہے ضرورت ہے کہ نہی عن المنکر کو بھی تحریکی طور پر شروع کیا جائے، اور منکرات سے بچنے کا مزاج بنایا جائے، اللہ کرے ہم ان کاموں کی طرف توجہ دے سکیں، یہی حضرت شاہ صاحب کو بہترین خراج عقیدت ہوگا۔

دفعہ 370 اور 35(A)کا خاتمہ

دفعہ 370 اور 35(A)کا خاتمہ
Urduduniyanews72 
مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلوار ی شریف، پٹنہ 
===========================================
پانچ اگست 2019کو مرکزی حکومت نے کشمیر میں صدر راج کے دوران دفعہ 370اور 35Aہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، لداخ اور جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام کردیا تھا، اس سے وہاں کی عوام میں بے چینی تھی اور اس دفعہ کو رد کرنے کی قانونی حیثیت کو سماج کے مختلف طبقات نے چیلنج کیا تھا، مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف 23درخواستیں عدالت میں د اخل کی گئی تھیں، سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے جس میں چیف جسٹس ڈی وائی چندر جوڑ، جسٹس سنجے کشن کنول، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس سنجئے کھنہ شامل تھے،نے اگست 2023سے عرضیوں پر سماعت شروع کئے، سولہ(16)دن میں سماعت مکمل ہوگیا اورعدالت نے 5؍ستمبر 2023کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا، 11؍ دسمبر کو عدالت عظمی نے اپنا فیصلہ سنایا اور مرکزی حکومت کے ذریعہ اس کے رد کرنے کو قانونی طور پر درست قرار دیا، اور ریاست کو تقسیم کرکے مرکز کے تحت قرار دینے والے فیصلہ کو بھی صحیح تسلیم کیا، عدالت کے جج صاحبان کا رجحان یہ رہا کہ دفعہ 370اس وقت کے اعتبار سے عارضی انتظام تھا، ریاست کشمیر کے ہندوستان سے انضمام کے بعد اس کی داخلی خود مختاری ختم ہو گئی اور جس طرح دوسری ریاستوں پر ہندوستان کا دستور نافذ ہوتا ہے ویسے ہی وہاں بھی ہوگا، اس طرح جموں کشمیر ریاست کو جو خصوصی درجہ حاصل تھا وہ ختم ہو گیا، ظاہر ہے اس فیصلے پر کشمیری قائدین کی طرف سے منفی تبصرے آنے تھے وہ آئے اور آ رہے ہیں، سب سے سخت لہجہ محبوبہ مفتی کا ہے، جنہوں نے کشمیر میں بھاجپا کی شراکت کے ساتھ حکومت کیا اور جب حکومت گر گئی تو ان کا لہجہ بدل گیا، کشمیری قائدین اپنی جد وجہد جاری رکھنے کی بات کہہ رہے ہیں اور وہ حالات سے مایوس بھی نہیں ہیں، یہ ایک اچھی بات ہے؛ لیکن اب اس دفعہ کی بحالی ممکن نہیں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اگر جلد ہی مکمل ریاست کا درجہ بحال ہوجاتا ہے اور اگلے سال 30؍ستمبر تک ریاستی انتخابات ہوجاتے ہیں تو بھی بڑا کام ہوجائے گا۔

بدھ, دسمبر 20, 2023

طنزیہ و مزاحیہ کہانی)

طنزیہ و مزاحیہ کہانی) 
Urduduniyanews72 

                 شہرکی سہولت۔۔۔گاؤں کا مسئلہ

                   ٭ انس مسرورانصاری

کہتے ہیں کہ ہماراملک بھارت گاؤں میں آبادہے۔جسے اصل بھارت کودیکھناہووہ گاؤں میں جاکردیکھے۔یہ الگ بات ہےکہ یہاں کی حکومت گاؤں سے زیادہ شہروں کوسجانےاورسنوارنے میں لگی رہتی ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ شہرخوب صورت لگیں گےتوملک کی ترقی زیادہ روشن نظرآئےگی اور ہم بھارت کو‘‘شائننگ انڈیا’’کانام دے سکیں گے۔گاؤں گرام کی بات کیجیے توابھی ہمارے ملک میں ایسے بہت سارے گاؤں موجود ہیں جہاں بجلی نہیں پہنچ سکی ہے۔کھیتوں میں آب پاشی کی قدیم روایت ہے۔دریا،تالاب اورکوئیں سے پانی کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔ہل بیل سے کھیتوں کی جوتائی بوائی ہوتی ہے۔یہ کہانی ایسے ہی ایک گاؤں کی ہے۔اس کےتین کردارہیں جوشہراورگاؤں کےفرق کو واضح کرتےہیں۔
        بدروکی شادی کوآٹھ ماہ ہوچکے تھے۔بیوی شہر کے قریب ایک گاؤں کی رہنے والی تھی۔چھوٹاقد،گہرا سانولارنگ،ایک آنکھ تھوڑی دبی ہوئی سی۔خاص بات یہ تھی کہ اُسے شہری طورطریقےآتے تھے۔میکپ وغیرہ خوب کرتی اوربدروکواچھی لگتی۔اس کانام ساونتی تھا۔بڑی تلاش کےباوجودجب اُس کے لیےکوئی معقول رشتہ نہ ملاتوماں باپ نے اُس کی شادی اس دوردراز گاؤں میں بدروکےساتھ کردی کہ بیٹی کوکب تک گھر میں بٹھائے رکھتے۔بدروشکل وصورت سے بدرونہ تھا۔بس نام اچھالگاتوماں باپ نے رکھ دیا۔دس بارہ سال کی عمرمیں اس کےماں باپ دونوں ایک وبائی بیماری میں چل بسےتھے۔بس ایک چھوٹابھائی تھاجس کانام چھو ٹوتھا۔بدرواپنے بھائی سے بہت محبت کرتاتھا۔جب اس کے ماں باپ مرےتووہ بہت چھوٹاتھا۔اسی نے اس کی پرورش کی۔اب وہ پانچ چھ سال کاہوگیاتھا۔کھیت کھلیان زیادہ نہ تھے لیکن بدرومحنتی بہت تھااورگھر گرہستی کواچھی طرح چلاناخوب جانتاتھا۔
       ایک دن وہ کھیتوں میں کام کررہاتھاکہ چھوٹو روتابسورتاہوااُس کے پاس پہنچا۔چھوٹےبھائی کو یوں روتادیکھ کربدرونے کدال زمین پررکھ دی اورچھوٹوکے پاس بیٹھ کراُس کےآنسوپونچھتے ہوئے بولا:               ‘
        ۔۔کیاہوارے۔؟کائےکامنھ ٹیڑھامیڑھاکیے ہےصبح صبح۔۔۔’’بھائی کاپیارپاکراُس کی ہچکی بندھ گئی۔
         ‘‘بھوجی نے ہم کومارا۔’’چھوٹونے فریادکی۔
‘‘بھوجی نے تیرے کومارا۔کائے کومارا۔؟جروربدماشی کی ہوگی۔’’
      ‘‘ناہیں بھیّا۔ہم نے میتھامیتھاکھانےکومانگا۔بس بھوجی نے ہم کومارا۔’’
       ‘‘اچھاہمرے ساتھ گھرچل ۔دیکھوں تواس نےکائے کومارا۔’’
      بڑابھائی کھیت کاکام چھوڑکرچھوٹے بھائی کو ساتھ لےکرگھرپہنچا۔چھوٹوکےگال پرتماچےکانشان دیکھ چکاتھااس لیے بیوی پرکافی غصہ آرہاتھا۔گھرمیں داخل ہوتےہی بڑےطیش میں ساونتی کے پاس پہنچا۔۔
      ‘‘کیوں ری حرام جادی ! تونے میرےچھوٹوکومارا۔؟
کائےکومارامیرےچھوٹوکو۔؟’’
        پتی کاغصّہ دیکھ کرپتنی کوبھی غصّہ آگیا۔بولی توکچھ نہیں البتہ سیدھےاپنےکمرےمیں گئی اورٹوتھ پیسٹ کاٹیوب اُٹھالائی۔
    ‘‘ساراجھگڑااسی گیلے منجن کاہے۔’’وہ غصّہ میں پھنکارتی ہوئی بولی۔‘‘چھوٹوکوپانچ بارٹوتھ پیسٹ دے چکی ہوں۔ہتھیلی پررکھتی ہوں توفوراََچاٹ جاتاہےاور پھرمانگتاہے۔بتاؤ کتنے روزچلے گایہ مہنگا ٹیوب۔؟میکے سے لائی ہوں ۔تم توزندگی بھرٹوتھ پیسٹ نہ لاتے۔’’
      ‘‘اری ذرامجھے بھی توچکھا۔دیکھوں بھلایہ ہےکیا  چیز۔؟’’
ساونتی نےکول گیٹ ٹوتھ پیسٹ ٹیوب سے نکال کر ذراساپتی کی ہتھیلی پربھی رکھ دیا۔پتی نے پہلے سونگھاتوخوشبواورٹھنڈک نےاُسے بہت متاثرکیا۔اُس نے ایک لمبی سانس لی اورپھرچکھاتوخوشبواور ٹھنڈک سےاُس کامنھ بھرگیا۔پتنی کےاستعمال میں رہنے والی کریم کوپہلی بارچکھاتھاورنہ وہ تو داتون کرتاتھا۔ پیکنگ، ٹیوب،اندرکی کریم سب کچھ سندراوراچھالگا۔اُس نے پتنی کی طرف بڑی تعریفی نظروں سےدیکھا لیکن پتنی کاچہرہ غصّہ اورخفگی سےلابھبھوکاہورہا
تھا۔وہ پاس میں کھڑےچھوٹوکی طرف مڑا ۔اس کے گال پرایک چانٹارسید کرتے ہوئے بولا۔
      ‘‘حرام جاداکہیں کا۔پانچ پانچ بارخالی خالی چٹ کرگیا۔ابےحرام خور!یہ بدماشی نہیں توکاتیری سراپھت ہے۔؟خالی خالی چاٹ گیا۔ابےروٹی سےکھاناتھانا۔اب آگے سے کبھی سوکھاسوکھابناروٹی کےکھایاتومارمارکرمرگا بنادوں گا۔جیسے زمیندارٹھاکرجی مجوروں کومرگا
 بناتےہیں۔۔پیٹھ پرما ٹی کےبڑے بڑے ڈھیلے رکھ دوں گا۔سمجھے۔ہاں،کان کھول کرسن لے چھوٹو!اب اپنی بھوجی سے مانگیوتوروٹی سےکھائیو۔ سمجھے۔’’بھائی کےکڑے تیوردیکھ کرچھوٹوبھاگ کھڑاہوا۔یہ ٹوتھ پیسٹ ساونتی اپنے میکےسے لائی تھی ۔وہ بدروکی طرح داتون نہیں کرتی تھی۔اُس کارنگ وروپ بہت اچھانہیں تھاتوکیاہوا۔تھی توشہرکے قریبی گاؤں کی رہنے والی۔وہ برس اورٹوتھ پیسٹ ہی استعمال کرتی تھی۔۔۔۔شہرکی سہولت گاؤں کامسئلہ بن گئی تھی۔٭٭
                
                     *انس مسرورانصاری
             قومی اُردوتحریک فاؤنڈیشن(انڈیا)
                     رابطہ//.9453347784//

پارلیامنٹ بھی غیر محفوظ

پارلیامنٹ بھی غیر محفوظ
اردودنیانیوز۷۲ 
مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلوار ی شریف، پٹنہ 
===========================================
 پارلیامنٹ پر حملے کی بائیسویں برسی 13؍دسمبر کو ایک بار پھر چند لوگوں نے پارلیامنٹ میں افرا تفری مچا کر یہ باور کرادیا کہ نئی پارلیامنٹ بھی غیر محفوظ ہے، جب پارلیامنٹ کی کارروائی چل رہی تھی تبھی سامعین گیلری سے دو جوان نیچے کود گیا اور اس نے بے ضرر قسم کے گیس چھوڑ کر ارکان پارلیمان کو حواس باختہ کر دیا، کچھ ممبروں کی مدد سے اسے دھر دبو چا گیا، پٹائی بھی ہوئی، پھر سیکوریٹی والوں کے حوالہ کر دیا گیا، دو لوگ پارلیامنٹ کے قریب ہی بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے، ان میں ایک خاتون تھی، جس کا نام نیلم تھا وہ مختلف نعروں کے ساتھ ایک نعرہ تانا شاہی نہیں چلے گی کا بھی لگا رہی تھی اوراپنی بے روزگاری کا رونا رو رہی تھی، اس واقعہ میں پولیس نے چھ لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے، تحقیق جاری ہے، سبھی اکثریتی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، بھاجپا رکن پرتاپ مہرا کی تصدیق پر انہیں وزیٹر گیلری کا پاس جاری کیا گیا تھا، یہ بھارت ماتاکی جے اور جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے اس لیے میڈیا میں کسی نے بھی انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا، پارلیامنٹ کے تحفظ پر سوالات ضرور اٹھائے گئے؛ لیکن دہشت گردانہ حملہ کا جھوٹا پرپیگنڈہ نہیں کیا گیا، جن لوگوں نے یہ ہنگامہ برپا کیا، ان میں ساگر شرما لکھنؤ، منور نجن ڈی کرناٹک،نیلم حصار ہریانہ اور امول شنڈے مہاراشٹرا کا رہنے والا ہے، دو اور گرفتگان کی شناخت ابھی سامنے نہیں آئی ہے، ایک ملزم للت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
 ان لوگوں نے یہ تماشہ کیوں کیا، اس کا پتہ مکمل جانچ کے بعدہی سامنے آئے گا؛ لیکن یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نہ تو ہماری پالیامنٹ محفوظ ہے اور نہ اس کے ارکان، جب ملک کے سب سے محفوظ علاقہ کا یہ حال ہے تو عوام کے تحفظ کا جو حال ہو سکتا ہے وہ اظہر من الشمس ہے، یہ ٹھیک ہے کہ وہ جو گیس فضا میں تحلیل کر رہے تھے وہ بے ضرر تھی، ذرا سوچیے اگر وہ گیس ضرر رساں ہوتی تو ہم ملک کے کتنے بڑے بڑے سیاسی قائدین کو کھو چکے ہوتے اور ملک کا کتنا بڑا نقصان ہوتا، اللہ کا فضل ہے کہ یہ سب محفوظ رہے، فضل یہ بھی ہے کہ ان میں کوئی مسلم نہیں ہے اور نہ ہی کسی مسلم ارکان کی سفارش پر انہیں پاس دیا گیا تھا، اگر ایسا ہوتا تو پارلیامنٹ کے باہر ایک دوسری جنگ ٹی وی چینلوں پر شروع ہوتی اور نفرت کی دکان سجانے کا ایک اور موقع فرقہ پرستوں کو مل جاتا۔

مہوا موئترا کا جرم

مہوا موئترا کا جرم 
اردودنیانیوز۷۲ 
مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
 نائب ناظم امارت شرعیہ پھلوار ی شریف، پٹنہ 
===========================================
ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا سے پارلیامنٹ کی رکنیت چھین لی گئی ہے، ان پر الزام تھا کہ وہ روپے لے کر پارلیامنٹ میں سوالات اٹھاتی ہیں اور وہ بھی مودی جی کے محبوب اڈانی گروپ پر، جس الزام کے تحت انہیں نکالا گیا وہ الزام سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے لگایا تھا جو مہوا موئترا کا سابق عاشق تھا، اس کا کہنا تھا کہ مہوا نے ہیرا نندان جواڈانی گروپ کا حریف ہے، اس سے روپے لے کر سوالات اٹھائے، اس کو بنیاد بنا کر بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے نے تحریری شکایت اسپیکر کو دی اورمقدمہ چل پڑا، پوچھ تاچھ کے لیے مہوا کو جانچ ایجنسی کے سامنے پیش ہونا پڑا اور اس سے جو سوالات کیے گیے وہ بالکل نجی قسم کے تھے،مثلا آپ رات میں فون پر کس سے بات کرتی ہیں، رات میں کہاں رہتی ہیں، اس قسم کے اول جلول سوال سے خفا ہو کر مہوا موئترا نے اس جانچ کا بائیکاٹ کیا اور اٹھ کر چلی آئیں، اس کے بعد سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اخلاقیات کمیٹی انہیں معاف نہیں کرے گی اور ان کو رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اب مہوا موئترا سپریم کورٹ پہونچ گئی ہیں، دیکھنا ہے کہ انہیں وہاں سے بھی راحت ملتی ہے یا نہیں؟
اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ مرکزی حکومت اس قسم کے اقدام انتقامی جذبہ سے کرتی ہے، دلیل یہ ہے کہ اسی قسم کے جرم میں بھاجپا کے ارکان ماخوذ نہیں ہوتے اور ان کی رکنیت نہیں جاتی ہے، مہوا کے خلاف تحریری شکایت درج کرانے والا ایم پی نشی کانت دوبے پر خود جعلی اسناد پر انتخاب لڑنے کا مقدمہ درج ہے، اس پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، رمیش بدھوری بھی پارلیامنٹ میں گالی بک کر رکنیت سے ہاتھ نہیں دھو سکا، البتہ راہل گاندھی زد میں آئے تو ان سے سب کچھ چھن لیا گیا، جنسی استحصال کے سنگین مجرم ایم پی برج موہن سنگھ پر بھی اب تک کوئی کاروائی نہیں ہوسکی؛ کیوں کہ وہ بھی منظورنظر ہیں۔
 مہوا موئترا کا ایوان میں رہنا اور ان کا بار بار اڈانی گروپ پر سوال اٹھانا اور وہ بھی پچاس کی تعداد میں، بھاجپا کی نظر میں غیر معمولی جرم تھا، اس لیے ان کو باہر کا راستہ دکھایا گیا، اگر مہوا موئترا مجرم تھیں تو اس پر پارلیامنٹ میں گفتگو ہونی چاہیے تھی، اخلاقیات کمیٹی میں اتنی اخلاقی حس تو ہونی ہی چاہیے تھی کہ انہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیا جاتا، اسپیکر چاہتے تو تنبیہ اور ہلکی سرزنش سے بھی کام چلا سکتے تھے؛ لیکن یہ بات ان کے آقا کے چشم وابرو کے خلاف تھی، اس لیے اسپیکروہی کر سکتے تھے جو ان کی پارٹی چاہتی تھی، پہلے اسپیکر غیر جانبدار ہوتا تھا؛ لیکن اب وہ حق کے طرفدار نہیں پارٹی کے جانب دار ہوا کرتے ہیں، واقعات ومشاہدات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
 در اصل یہ طریقہ ہی غلط ہے کہ لاکھوں عوام کی رائے کی بنیاد پر جیت کر آنے والے ارکان کو چند لوگ مل کر پارلیامنٹ سے باہر کر دیں، جو پارلیامنٹ بھیج رہا ہے اسی کو واپس لینے کا بھی اختیار ہونا چاہیے، جن ارکان پر الزامات لگے اسے پھر عوام کی عدالت میں بھیج دینا چاہیے؛تاکہ وہ نوٹا کا استعمال کرکے اسے واپس لے، یہ جمہوری نقطہ نظر کے عین مطابق  ہوگا اور عوام کی آرا کی توہین بھی نہیں ہوگی، سرکار کو اس قسم کا قانون بنانا چاہیے، تاکہ ارکان کے ساتھ ہونے والی ظلم اور زیادتی، نیزبرخاستگی کے انتہائی عمل کو روکا جا سکے۔

پیر, دسمبر 18, 2023

تماشا میرے آگےڈاکٹر محمد توقیر عالم

تماشا میرے آگے
URDUDUNIYANEWS72 
ڈاکٹر محمد توقیر عالم 
 سابق صدر شعبہ اردو، بہار یونیورسیٹی، مظفر پور
 سابق پرووائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسیٹی، پٹنہ

========================================

میرے ہاتھوں میں اس وقت امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے نائب ناظم وہفتہ وار نقیب کے مدیر حضرت مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مدظلہ کے مضامین کا مجموعہ ’’تماشہ میرے آگے‘‘ ہے ،یہ یقینا مفتی صاحب کا نہایت اہم علمی کارنامہ ہے، اس سے ان کے بلند قد وقامت کا بخوبی اندازہ بھی ہوتا ہے، مفتی صاحب اور ان کے اس کا رہائے گراں مایہ کی قدر کی جانی چاہیے کہ حضرت بھی وارث انبیاء میں سے ایک ہیں۔
 موجودہ وقت میں عام طور پر علماء کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا علم محدودہوتا ہے، ان کی سوچ سطحی ہوتی ہے، ان کی رائے نا قابل عمل ہوتی ہے، وہ کج فہم اور کوتاہ نظر ہوتے ہیں، ان کے اندر شعور وآگہی کا فقدان ہوتا ہے، سیاسی سوجھ بوجھ سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ، ان کا کوئی وِژَن بھی نہیں ہوتا، اس طرح کی نہ جانے کتنی ہفوات وبکواس باتیں علماء کے بارے میں کہی جاتی ہیں، جسے میں علماء کی توہین اور ناقدری سمجھتا ہوں ۔ اس طرح کی ہفوات سے ہر ممکن اجتناب کی ضرورت ہے۔
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب سے میرے دیرینہ روابط رہے ہیں، وہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، جید عالم دین کے ساتھ ساتھ عظیم اسکالر ، ادیب، صحافی اور بے باک قلم کار ہیں، ان کا قلم ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے، وہ بہت بے باکی کے ساتھ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں، ان کی تحریریں نہ صرف دینی، بلکہ ادبی ، ثقافتی، لسانی، سماجی اور سیاسی موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، ’’تماشہ میرے آگے‘‘ میں اسی طرح کے 130مضامین شامل ہیں،یہ مضامین امارت کے ترجمان ہفتہ وار ’’نقیب ‘‘ میں الگ الگ دنوں اور تاریخوں میں شائع ہو کر قارئین میں مقبول بھی ہو چکے ہیں، مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے اپنی تحریروں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علماء کے بارے میں جو عام نظریات قائم ہیں، جن کا سرسری طور پر سطور بالا میں ذکر کیا گیا ہے، وہ سراسر بے بنیاد اور باطل ہیں، انہوں نے یہ ثابت بھی کیا ہے کہ علماء تحریری اور تقریری دونوں طرح کی صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں، ان میں وسعت نظری ہوتی ہے، وہ پل پل کے حالات وظروف سے واقف ہوتے ہیں، ان کی دور رس نگاہیں اپنے آس پاس جو کچھ مشاہدہ کرتی ہیں ان سے وہ اور متاثر ہوتے ہیں جو کچھ ان کے دلوں پر گزرتا ہے انہیں وہ الفاظ کا جامہ پہنا کر اخبارات ، رسائل وجرائد یا کتابوں کی شکل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتے ہیں۔ گویا وہ فیض احمد فیض کے اس شعر پر یقین رکھتے ہیں:
ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے  جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کی نگاہ دور رس ہے اوروہ ملکی وقومی حالت سے بخوبی واقف رہتے ہیں، وہ اس بات سے بھی اچھی طرح آشنا ہیں کہ ہم جس عہد میں اپنی حیات مستعار کی سانسیں لے رہے ہیں وہ اگر چہ سیاسی ، سماجی، معاشی ، سائنسی، اور علمی میدان میں حد کمال پر پہنچ چکا ہے، مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس ترقی پذیر عہد میں بھی دنیا امن ومان کے مسئلے سے دو چار ہے، یہاں امن وامان بہت حد تک نا پید ہو چکا ہے اور بد امنی کا بھوت ہر چہار سو دندنارہا ہے۔ انہیں اس بات کا بھی شدت سے احساس ہے کہ آج انسانی خون بہت ارزاں ہو چکا ہے، عوتوں کی عزتیں تار تار کی جا رہی ہیں،لوگوں کے مال وجائداد محفوظ نہیں ، مسلمان کو مذہبی، فکری یہاں تک کہ جانی ومالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں آج بھی رنگ ونسل ، ذات پات اور مذہب کے نام پر بد امنی پھیلائی جا رہی ہے، نیشنلزم، فاشزم، سوشلزم جیسے نظریات کے حاملین پائے جاتے ہیں، لیکن کسی کے بھی پاس عامۃ الناس کے بنیادی مسائل کا حل نہیں ہے۔ لیگ آف نیشنلزم اور اقوام متحدہ کے نام سے ادارے قائم ہیں مگر ان کے پاس بھی امن وامان کا مسئلہ جوں کا توں بر قرار ہے، آج بھی ہر چہار جانب ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کا راج قائم ہے۔ مفتی صاحب کا اس بات پر کامل یقین ہے کہ ہم جس دنیا میں اپنی حیات مستعار گزار رہے ہیں اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔ وہ چونکہ عالم دین ہیں، اس لیے اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس فانی دنیا کو کھیل کود اور تماشے سے تعبیر کیا ہے۔ سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 64میں وارد ہے کہ دنیا کی یہ زندگانی محض کھیل تماشا ہے، البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ دنیا سے بھلا کیا ناطہ! میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤ میں گرمیوں کی کوئی دو پہر گزارنے بیٹھ جائے وہ کوئی پل آرام کرے گا اورپھر اٹھ کر چل دے گا۔ ترمذی میں سہل بن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافر کو اس دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا، صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی۔ تب آپ نے اپنی انگشت شہادت کی جانب اشارہ کیا۔ مفتی صاحب عصری علوم سے بھی بہت حد تک واقف ہیں، وہ معروف شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کی مشہور غزل سے بھی آشنا ہیں، جس میں انہوں نے اس دنیا کو بچوں کے کھیل یا کھلونے سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے سامنے اس دنیا میں شبانہ روز کسی نہ کسی شکل میں تماشا ہوتا رہتا ہے۔انہوں نے اپنی کتاب کا نام غالب کے اس شعر سے مستعار لیا ہے:
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے  ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے 
 مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب کی عالمی مرتبت نگاہ میں بھی مرزا اسد اللہ خان غالب کی طرح اس دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہاں جو کچھ بھی ملکی ، قومی وبین الاقوامی سطح پر انجام پذیر ہورہا ہے انہیں وہ بھی غالب کی طرح محض تماشہ سمجھ رہے ہیں، جس کایہ مجموعہ بہترین مظہر ہے۔ میں اس کی اشاعت پر مفتی صاحب کو صمیم قلب سے مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ رشحات ، تخلیقات ، تالیفات اور تصنیفات کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...