Powered By Blogger

جمعرات, اگست 05, 2021

آرٹیکل 341 میں مذہبی امتیاز کیوں؟ مستقیم صدیقی

آرٹیکل 341 میں مذہبی امتیاز کیوں؟ مستقیم صدیقی

(اردو اخبار دنیا)
نواده محمد سلطان اختر


 آئین آرٹیکل نمبر 341 میں صدر کو اختیار دیتا ہے کہ مختلف ذاتوں اور قبائل کے نام ایک فہرست میں شامل کرے۔ 1950 میں صدر نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک شیڈول جاری کیا صرف اس شیڈول میں درج ذاتوں اور قبائل کو شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کہا گیا ہے۔
 صدر کے آرڈیننس کے پیرا (3) میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو ہندو مذہب سے تعلق نہیں رکھتا وہ درج فہرست ذات اور فہرست قبائل کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ 1956 میں اس آرڈیننس میں ترمیم کرکے سکھوں کو شامل کیا گیا اور 1990 میں بودھ مذہب والوں کو پیرا (3) میں شامل کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص ہندو سکھ یا بدھ مذہب سے تعلق نہیں رکھتا اسے درج فہرست ذات کے زمرے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح عیسائی ، مسلمان ، جین اور پارسی اس زمرے سے باہر ہیں۔ اس سے یہ بات صاف طور پر واضح ہے کہ اس حکم کے تحت درج فہرست ذاتوں کے لئے ریزرویشن صرف ہندو ، سکھ یا بودھ، دلتوں کے لئے ہی دستیاب ہے ، عیسائی یا مسلم دلت یا کسی دوسرے مذہب کے پسماندہ کے لئے نہیں ہے،
 آرٹیکل 341 آئین کے آرٹیکل نمبر 15 پر ایک بد نما داغ ہے کہ ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آئین مذہب کے نام پر تعصب رکھتا ، آئیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کیسے ہوا ہے؟ 

 نہرو حکومت کی طرف سے 10 اگست 1950 کو ایک آرڈیننس لا کر آئین میں کی گئی تبدیلیوں کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی برادری جو اپنے آپ کو پاسمانده کہتی ہے مکمل طور پر ریزرویشن سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ پاسمانده ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ سماجی ، معاشی اور سیاسی طور پر پسماندہ نہیں ہیں۔ حکومتیں آتی ہیں ، حکومتیں چلی جاتی ہیں ، سیاست پسماندہ کے نام پر کی جاتی ہے ، اقتدار والے پسماندہ کے نام پر یا اپوزیشن کے ڈر سے ایک یا دو سیٹیں دےدیتی ہیں، مالائی دار و لچھے دار باتوں کے ساتھ زندہ آباد کا نعرہ ہوتا رہتا ہے لیکن پسمانده کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکالا جاتا، یہ سچ ہے کہ بہت سے مسائل ہیں اور صرف سیاسی جماعتیں ہی ہر مسئلے کو حل نہیں کر سکتیں ، لیکن میری نگاہ میں سب سے بڑا مسئلہ پسمانده کی شراکت کا ہے۔حصّہ داری کا ہے، جب ہم انصاف کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات بھی کرنی ہوگی کہ سیاست میں تعلیم کے میدان میں ، روزگار کے شعبے میں پسمانده سیکشن کی کتنی شراکت ہے؟ ہم پسمانده کے تمام مسائل کو دور نہیں کر سکتے لیکن ہم ایسے مسئلے کو دور کرنے کے لیے پہل کر سکتے ہیں جو سیاسی ہے ، جو غیر دستوری ہے ، جو آئین پر بد نُما داغ ہے ، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے ، کیونکہ ہمیں اُس اِس،مندر مسجدِ کے نام پر گمراہ کر دیاجاتاہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کوئی کھل کر بحث نہیں کرتا ، حالانکہ اس پر صرف بحث کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس مدے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ضرورت ہے ، آرٹیکل 341 میں پابندی کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔ آئین میں مذہب کے نام پر امتیازی سلوک کیوں ہے؟
 10 اگست 1950 کو اس وقت کی نہرو حکومت نے ایک غیر آئینی آرڈیننس کے ذریعے مذہبی پابندیاں عائد کیں اور ہندوؤں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پسماندہ طبقات کو درج فہرست ذاتوں سے خارج کردیا تھا۔ لیکن سکھوں 1956 میں اور بودھ مذہب والوں 1990 اس زمرے میں دوبارہ شامل کر لیا گیا، دلت، مسلمان اور عیسائی آج بھی درج فہرست ذات کے ریزرویشن سے باہر ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب 1956 میں سکھوں کو دوبارہ اس زمرے میں شامل کیا گیا اور 1990 میں بودھ مذہب والوں کو دوبارہ اس زمرے میں شامل کیا گیا ، دونوں وقتوں میں مرکز میں حکومت برسر اقتدار تھیں وہ حکومت مسلم اکثریتی ووٹوں سے اقتدار میں آئی تھی،اُن پر پوری طرح سے انصاف پسند لوگوں نے دوبارہ دباؤ کیوں نہیں بنایا؟ اگر پسمانده سماج سے اُبھرے ہوئے کچھ لیڈروں نے اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی تو پھر عام انصاف عوام اس پر خاموش کیوں رہے؟ بہت سے سوالات اٹھیں گے لیکن ہمیں اس مسئلے کو سوال سے زیادہ بحث کرنے کی ضرورت ہے ، ہمیں اسے ایک عوامی بحث کا مسئلہ بنانا ہوگا ، ہمیں اس بحث میں معاشرے کے ہر طبقے کا تعاون لینا ہوگا ، اس مسئلے کو ذات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر کرناہوگا اِس پر حقوق و اختیار کا مدا بنانا پڑے گا۔ اس پر کھیت، کھلیان ، گلی سے لے کر علاقے تک ہر جگہ بحث کرنا ہوگا، اگر ہم اس بحث کو نظر انداز کر دیں تو یہ بہت بڑی نا انصافی ہوگی ، جو بحث کو سنجیدگی سے نہیں لیتا ، اسے آئین میں امتیازی سلوک کا علم نہیں ہے۔
 درج فہرست ذاتوں کے لئے ریزرویشن 1936 میں اس وقت کی برطانوی حکومت میں دیا تھا۔ کسی کا مذہبی پابندی نہیں تھی۔ اس طرح تمام مذاہب کے دلتوں کو درج فہرست ذاتوں کا ریزرویشن مل رہا تھا ، لیکن نہرو حکومت نے 10 اگست 1950 کو مذہبی پابندیاں عائد کیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اس پر مسلط کر دیا۔ ابھی تک عیسائی، مسلمان ، جین اور پارسی اس زمرے سے باہر ہیں۔
 10 اگست 2021 سے اس پر مسلسل پروگرام منعقد کیئے جائیں گے ، بہار ، جھارکھنڈ اور بنگال میں اس پر بحث جاری کی جائے۔ ریزرویشن صرف نوکریوں میں نہیں ہوتا ، ریزرویشن عوامی نمائندوں کے انتخاب میں بھی ہے۔ یہ ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر بحث شروع کرے اور اسے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اور اسمیں ہر کسی کا جیسا بھی ہو تعاون کرے

ٹک ٹاک (Tik-Tok) کانیا فیچر متعارف

ٹک ٹاک (Tik-Tok) کانیا فیچر متعارف

نیویارک ،5؍اگست:(اردواخباردنیا)ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے #اسنیپ چیٹ اسٹوریز کی طرز پر 24 گھنٹے میں اسٹوری غائب ہونے والے فیچر محدود پیمانے پر متعارف کرا دیا ہے۔اس فیچر سے ٹک ٹاک TikTok کی اسٹوری میں لگایا گیا مواد (content) 24 گھنٹے بعد خود غائب ہوجائے گا۔ٹک ٹاک نے ابھی تک اس فیچر کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تاہم کچھ صارفین کو آزمائشی طور پر یہ فیچر مہیا کیا گیا ہے۔

#ٹک ٹاک کا یہ فیچر #سوشل #میڈیا کنسلٹنٹ میٹ نوارا نے بنایا ہے، انہوں نے سماجی رابطے کی سوشل ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹک ٹاک کے آنے والے نئے فیچر کا پوسٹ شیئر کیا۔اسٹوری کا یہ فیچر سب سے پہلے اسنیپ چیٹ نے متعارف کروایا تھا، اس کے بعد واٹس ایپ اور #فیس بک نے بھی متعارف کروایا جہاں اسٹوریز 24 گھنٹے بعد خود غائب ہو جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ٹک ٹاک نے اپنے مد مقابل #ایپلیکیشنز سے سبقت لینے کے لیے ویڈیو کا دورانیہ بڑھا دیا ہے۔ ٹک ٹاک نے ویڈیو کا دورانیہ تین منٹ کردیا ہے جو پہلے سے تین گنا زیادہ ہے۔ٹک ٹاک #چین کی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے اور یہ دنیا میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک ہے۔

#دنیا کے 150 ممالک میں ٹک ٹاک کے ایک ارب سے زیادہ صارفین موجود ہیں۔ امریکہ میں اب تک 200 ملین سے زائد باراس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔

ایم آئی ایم کے بعد اب انڈین یونین مسلم لیگ نے اٹھایا بڑا قدم

() اردو اخبار دنیا

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، نئی نئی سیاسی سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک طرف جہاں اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ نیا محاذ تیار کر یو پی الیکشن میں اپنی چھاپ چھوڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے، وہیں تازہ ترین خبروں کے مطابق انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) نے بھی یو پی الیکشن میں اپنے امیدواروں کو اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آئی یو ایم ایل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 103 اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے گی۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق مراد آباد میں آئی یو ایم ایل کی ریاستی ایگزیکٹیو کی ایک انتہائی اہم میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ لیا گیا کہ پارٹی یو پی اسمبلی الیکشن میں 103 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور انتہائی منظم انداز میں انتخابی تشہیر کا عمل انجام دیا جائے گا۔ انڈین یونین مسلم لیگ نے ایسی اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے اور کامیابی کی امیدیں روشن ہیں۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین یونین مسلم لیگ کے کچھ لیڈروں نے اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ پارٹی کے قومی جوائنٹ سکریٹری مولانا قیصر حیات خان اور کارگزار ریاستی صدر ڈاکٹر نجم الحسن نے بتایا کہ انڈین یونین مسلم لیگ کی کئی سیاسی پارٹیوں سے اتحاد کی بات چل رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہماری پارٹی پہلے بھی اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ مل کر یو پی میں الیکشن لڑ چکی ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ آئندہ سال ہونے والے یو پی اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے 100، پیس پارٹی نے 250 اور مسلم لیگ نے 103 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں مسلم ووٹروں کو کون سی پارٹی اپنی طرف راغب کر پائے گی، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ یہ تینوں پارٹیاں سماجوادی پارٹی کے لیے بھی مشکلیں پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ سماجوادی پارٹی بھی لگاتار مسلم ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کانگریس جنرل سکریٹری اور یو پی انچارج پرینکا گاندھی جس طرح سے دلتوں اور پسماندہ طبقات کی آواز اٹھا رہی ہیں، ساتھ ہی اقلیتی طبقہ کی فلاح کی بھی بات کر رہی ہیں، دیگر پارٹیوں کے لیے مسلم ووٹ حاصل کرنا بہت آسان نہیں ہوگا۔

ترکی میں تین ماہ بعد کورونا وائرس کے 25 ہزار سے زائد نئے معاملے، 122 افراد فوت

  • (اردو اخبار دنیا)

انقرہ: ترکی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 26822 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو 4 مئی کے بعد وائرس کے کیسز کا ایک دن کا سب سے زیادہ اعداد و شمار ہیں۔

ملک کی وزارت صحت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جولائی کے آغاز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 16 اپریل کو ترکی میں ریکارڈ 63082 کیسز رپورٹ ہوئے اور اس کے بعد متاثرہ افراد کی یومیہ تعداد بتدریج کم ہوتی گئی۔

جون اور جولائی کے پہلے نصف میں یومیہ کیسز 5000-7000 پر مستحکم رہا تھا، لیکن جولائی کے وسط سے دوبارہ معاملے بڑھنے شروع ہوے۔ بیان میں کہا گیا کہ آج 262048 ٹسٹ کئے گئے اور کووڈ- 19 کے 26822 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور 122 افراد کی موت ہو گئی۔

تیر کر مکہ جانے کی کوشش کرنے والا ملائیشین نوجوان زیر حراست

تیر کر مکہ جانے کی کوشش کرنے والا ملائیشین نوجوان زیر حراست

wanted to go to Makkah

ریاض ،5؍اگست:(اردواخباردنیا)ایجنسیاں)جہازوں اور کشتیوں میں سفر کے زمانے سے قبل تو سنا تھا کہ لوگ پیدل #حج و #عمرہ کرنے جاتے ہیں لیکن ملائیشین حکام نے ایک ایسے نوجوان کو حراست میں لیا ہے جو کہ بذات خود تیر کر مکہ جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ملائیشیا کے مختلف ابلاغی ذرائع کے مطابق 28 سالہ نوجوان نے تانجونگ شہر کے ساحل سے #سمندر میں چھلانگ لگا دی تھی اوراسے کچھ دیر بعد #پولیس نے سمندر میں تیرنے کے دوران حراست میں لے لیا تھا۔

ملائیشین #اخبار ‘نیو سٹریٹس ٹائمز’ کے مطابق اس سے قبل بھی اس شخص نے لاک ڈائون کے دوران سمندر کو پار کر کے دوسرے جزیرے پر رہنے والے اپنے دوست کو ملنے کی کوشش کی تھی۔مقامی پولیس کے سربراہ کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم دونوں واقعات میں ملوث ہے۔ اس بار ملزم کا کہنا ہے کہ وہ مکہ جانے کی کوشش کر رہا تھا۔حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو پنانگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہیاور اس کا ذہنی توازن چیک کیا جارہا ہے۔

تحقیقات کے مطابق #تیراکی کے دوران اس شخص کے جسم سے #منشیات کا سراغ نہیں ملا اور پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخر اس شخص نے تیر کر مکہ جانے کا فیصلہ کیوں کیا۔ملائیشیا اور #سعودی عرب کے ساحلوں کے درمیان فاصلہ 4455 ناٹیکل میل 8250 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

واٹس ایپ نے ایک اور زبردست فیچر متعارف کرایا

واٹس ایپ نے ایک اور زبردست فیچر متعارف کرایا

WhatsApp-Privacy-policy

واشنگٹن ،5؍اگست:(اردوداخبارنیا)ایجنسیاں)پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک اور زبردست فیچر متعارف کرادیا۔واٹس ایپ کی جانب سے دنیا بھر کے دو ارب سے زائد صارفین کے لیے آئے روز نت نئے اور دلچسپ #فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں، جس کا مقصد #صارفین کو بہتر اور اچھی سہولت فراہم کرنا ہے۔

#واٹس ایپ نے رواں سال کے تیسرے ماہ میں پیغامات از خود غائب ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کوئی بھی پیغام صارف کے پاس 7 روز بعد از خود غائب ہوجائے گا۔اب واٹس #ایپ نے اپنے بلاگ میں اسی سے متعلق ایک نئے فیچر کے متعارف کرانے کا اعلان کیا، جو اسنیپ چیٹ کی طرز پر بنایا گیا ہے۔اس فیچر کے بعد واٹس ایپ کے صارف کی جانب سے دوست کو بھیجی جانے والی #ویڈیو یا تصویر ایک بار دیکھنے کے بعد خود بہ خود غائب ہوجائے گی اور یہ ماضی کی طرح گیلری میں محفوظ نہیں ہوگی۔

#فیس بک کی زیرملکیت کمپنی واٹس ایپ نے بتایا کہ اس فیچر کا مقصد #صارفین کی جانب سے بھیجی جانے والی حساس معلومات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر رواں ہفتے کے اختتام تک دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔

یہ خاتون کورونا لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے درمیان دو بار حاملہ ہوئی اور ایک سال کے اندر چار بچوں کو جنم دیا۔

(اردو اخبار دنیا)

یہ خاتون کورونا لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے درمیان دو بار حاملہ ہوئی اور ایک سال کے اندر چار بچوں کو جنم دیا۔

پرائمری اسکول ٹیچر جیسیکا پرچرڈ Jessica Pritchard نے مئی 2020 میں اپنی بیٹی میا کو جنم دیا اور 11 ماہ بعد انہوں نے مزید 3 بچوں کو ایک ساتھ جنم دیا۔

ان کے چاروں بچے صحت مند ہیں۔ اب ان کی فیملی میں کل 5 بچے ہیں ،جس کی وجہ سے جیسکا خود اور ان کے پارٹنر ہیری ولیمز (Harry Williams) بھی بہت خوش ہیں۔

خود کو خوش قسمت مانتی ہیں جیسیکا اور 34 سالہ ان کے پارٹنر ہیری ولیمز (Harry Williams) اس بات کو لیکر بہت خوش ہیں کہ ان کا کنبہ پانچ بچوں کا بھرا پورا کنبہ ہے۔

جیسیکا بتاتی ہیں کہ ان کی سب سے بڑی مولی 8 سال کی ہے اور جب انہیں معلوم چلا کہ جیسیکا ایک ساتھ تین بچوں کو جنم دینے جا رہی ہیں تو سب کافی خوش تھے۔ وہ خود کو خوش قسمت مانتی ہیں کہ آٹھ سال کے اندر ان کے پانچ بچے ہیں۔

جسییکا کہتی ہیں کہ بارہ ماہ کے اندر چار بچے ہونا بالکل آسان ہیں تھا لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بچوں کو ایک ساتھ بھوک لگتی ہے اور انہیں ایک ساتھ فیڈ کرانا بیحد مزیدار ہوتا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...