Powered By Blogger

پیر, اگست 09, 2021

وزیر اعظم مودی آج یو این ایس سی میٹنگ کی کریں گے صدارت ، سمندری تحفظ پر ہوگا تبادلہ خیال

وزیر اعظم مودی آج یو این ایس سی میٹنگ کی کریں گے صدارت ، سمندری تحفظ پر ہوگا تبادلہ خیال

نئی دہلی:(اردو اخبار دنیا) وزیر اعظم نریندر مودی آج اقوام متحدہ سلامتی کونسل (UNSC) کی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ اس دوران وہ یو این ایس سی کے سمندری تحفظ پر ایک کھلی بحث میں حصہ لیں گے۔ تبادلہ خیال کا موضوع ہے 'سمندری تحفظ کا فروغ: بین الاقوامی تعاون کی ضرورت'۔ وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) کے مطابق، اس میٹنگ میں یو این ایس سی کے رکن ممالک کے قومی صدور اور حکومت کے سربراہان اور اقوام متحدہ کا نظام اور اہم علاقائی تنظیمیں کے اعلیٰ سطحی ماہرین کے حصہ لینے کی امید ہے۔

75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔ اس میٹنگ میں سمندری جرائم اور عدم تحفظ کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے اور سمندری علاقوں میں تال میل کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سمندری سلامتی کا جامع نظریہ، جائز سمندری سرگرمیوں کی حفاظت اور مدد کرنے کے قابل ہوگا، ساتھ ہی اس کے ذریعہ سمندری علاقے میں روایتی اور غیر روایتی خطروں کا مقابلہ بھی کیا جاسکے گا۔

75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔


پی ایم او نے کہا، 'ہماری تہذیب پر مبنی عوامی پالیسی ، سمندر کو مشترکہ امن اور خوشحالی کے فروغ کے طور پر دیکھتی ہے۔ اسے دھیان میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2015 میں 'ساگر' (ایس اے جی اے آر- علاقے میں سبھی کے تحفظ اور ترقی) کے نظریے کو سامنے رکھا۔ یہ نظریہ، سمندروں کے پائیدار استعمال کے لیے کوآپریٹو اقدامات پر توجہ مرکوز ہے اور محفوظ اور مستحکم سمندری علاقے کے لئے ایک گائڈ لائن فراہم کرتی ہے۔

اس میٹنگ میں شامل ہونے والے لیڈران میں روسی صدر ولادی میر پتن، ڈیموکریٹک ریپبلکن آف کانگو کے صدر فیلکس- انٹونی تسیسیکیدی تشلومبو اور امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن شامل ہیں۔ آج کی تقریب میں حصہ لینے والے دیگر لیڈروں میں نائجیریا کے صدر محمد بظوم، کینیا کے صدر اہورو کینیاٹا اور ویتنام کے وزیر اعظم فام منہ چنچ شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتے، افغانستان کی صورتحال پر ہندوستان کی صدارت میں ایک اور میٹنگ طلب کی گئی تھی، جہاں رکن ممالک نے خراب ہوتی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور سیاسی حل نکالنے کی اپیل کی۔

پاکستان نے خصوصی میٹنگ میں دعوت نہ دیئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ جمعہ کو یو این ایس سی کی میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل رکن سفیر منیر اکرم نے کہا، 'ہم نے شراکت داری کے لئے رسمی گزارش کی تھی، لیکن اسے نامنظور کردیا گیا تھا'۔ ہندوستان اس سال اگست مہینے کے لئے یو این ایس سی کی صدارت کر رہا ہے۔ یکم اگست سے ہندوستان نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ یو این ایس سی میں صرف پانچ مستقل رکن امریکہ، چین، برطانیہ، روس اور فرانس ہیں۔ موجودہ وقت میں ہندوستان دو سال کے لئے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔

چائے کے اسٹال سے کروڑ پتی بننے والے دوستوں کی کہانی

  • (اردو اخبار دنیا)

کہتے ہیں کہ کچھ کرنے کا جذبہ اور لگن ہو تو زندگی میں کیے جانے والے مشکل فیصلے بھی بہترین ثابت ہو جاتے ہیں اور اس جملے کی واضح مثال تین بھارتی دوستوں کی منفرد کہانی ہے۔

میڈیا پر ریاست مدھیہ پردیش کے اندور شہر سے تعلق رکھنے والے 3 دوستوں کی کہانی شیئر کی گئی ہے جنہوں نے آج سے 5 سال قبل سرکاری ملازم بننے کے بجائے چائے کا اسٹال کھولنے کا فیصلہ کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں دوستوں نے ملازمت ڈھونڈنے کے بجائے’ چائے سُٹا بار‘ کے نام سے ایک اسٹال کھولا اور چند ہی برسوں میں کروڑ پتی بن گئے۔

خوش قسمت دوست آج 100کروڑ سے زائد بھارتی روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اور صرف 5 سال کے عرصے میں ان کی دبئی ، عمان اور اسپین سمیت بھارت بھر میں 165 شاخیں قائم ہو گئی ہیں۔اگرچہ ان دوستوں کے اسٹال کا چائے سُٹا بار ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس اسٹال پر آنے والے گاہکوں کو سگریٹ پینے کی اجازت نہیں ہے۔

چائے سُٹا بار عام چائے کے ڈھابوں سے قدرے مختلف ہے کیوں کہ یہاں صرف 10 روپے میں مختلف فلیور کی چائے دستیاب ہے، یہی نہیں اسٹال پر چائے کے علاوہ سینڈوچ، میگی اور پاستا بھی دستیاب ہوتا ہے۔اس اسٹال کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں چائے مٹی کے کپوں اور کلہاڑ میں پیش کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تینوں دوستوں نے 2016 میں اپنا پہلا چائے کا اسٹال 3 لاکھ بھارتی روپے میں کھولا تھا تاہم اب یہ ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہو چکا ہے جس کی دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی شاخیں کھل گئی ہیں۔

دہلی میں آج سے تمام ہفتہ وار بازار کھولنے کا اعلان

دہلی میں آج سے تمام ہفتہ وار بازار کھولنے کا اعلان

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی : چیف منسٹردہلی اروند کیجریوال نے کووڈ 19 پروٹوکول کے ساتھ 9 اگست 2021 سے قومی دارالحکومت میں تمام ہفتہ وار مارکیٹیں کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔ یہ ہفتہ وار مارکیٹیں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے پھیلنے کی وجہ سے 19 اپریل 2021 کو لاک ڈاؤن کے بعد بند کردی گئیں۔بعد میں ہر میونسپل زون میں ایک ہفتہ وار مارکیٹ کو کووڈ کے مناسب پروٹوکول کی پابندی کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی۔ یہ بتاتے ہوئے کہ دہلی میں ان کی حکومت ان بازاروں سے وابستہ غریبوں کی روزی روٹی کے بارے میں فکرمند ہے، کیجریوال نے ٹویٹ کیا کہ''ہفتہ وار بازار پیر سے کھل رہے ہیں۔ یہ غریب لوگ ہیں۔ حکومت ان کی روزی روٹی کے بارے میں کافی فکرمند ہے۔


راہل گاندھی کا ٹویٹر تو ڈرا کر بلاک کر وا دیا لیکن عصمت دری پر بی جے پی خاموش بچی کی

راہل گاندھی کا ٹویٹر تو ڈرا کر بلاک کر وا دیا لیکن عصمت دری پر بی جے پی خاموش بچی کی

(اردو اخبار دنیا)کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا ٹویٹر ہینڈل دہلی میں نابالغ کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کی واردات پر ان کی آواز بلند کرنے سبب ڈرا -دھمکا کر بلاک کروادیا گیا ہے۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شری نیت، راگنی نائک، الکا لامبا اور امرتا دھون نےکل مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر گاندھی مظلوم کی آواز بلند کرتے ہیں اور دہلی کی اس بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے معاملے کو بھی وہ اسی جوش کے ساتھ اٹھا کر متاثرین کو انصاف دلانے کی بات کر رہےتھے لہٰذا ان کے ٹویٹر ہینڈل کو بلا ک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے نانگل رائے میں یہ واردات ایسے وقت میں انجام دی گئی جب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس چل رہا ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ 11 خاتون وزرا سے لیس مودی حکومت کے کسی نمائندے نے اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں نہیں اٹھایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت متاثرین کو انصاف دینے پر بھروسہ نہیں کر تی ہے۔

کانگریس کی خاتون ترجمان نے کہا کہ اس واقعہ کو آٹھ دن ہو گئے ہیں لیکن وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اس مسئلے پر اب تک کچھ نہیں کہا اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور الٹا اس معاملے کو زور-شور سے اٹھانے والے راہل گاندھی کے ٹویٹر کو بلاک کروا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کو انصاف دلانے کے بجائے حکومت پولیس کے سہارے متاثرہ خاندان کا استیصال کر رہی ہے

دہلی میں آج سے دسویں اور بارہویں کے طلباء کے لئے اسکول کھولنے کی اجازت

دہلی میں آج سے دسویں اور بارہویں کے طلباء کے لئے اسکول کھولنے کی اجازت

(اردو اخبار دنیا)دہلی میں آج سے دسویں اور بارہویں کے طلباء کو اسکول جانے کی اجازت ہوگی۔ دہلی حکومت کے ڈاریکٹریٹ تعلیم نے کہا ہے کہ دسویں اور بارہویں کے طلباء اپنے داخلے ، گائڈنس اور دیگر کاموں کے لئے اسکول جا سکتے ہیں ۔ اس سے قبل نائب وزیر اعلی اور دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیا کا یہ بیان آیا تھا کہ دہلی کے نوے فیصد والدین اسکول کھولے جانے کے حق میں ہیں۔

واضح رہے آج سے ہی دہلی کے ہفتہ وار بازار کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ہے ۔ اس سے قبل دہلی میں صرف ایک میونسپل زون میں ایک ہفتہ وار بازار کھولنے کی اجازت تھی لیکن اب کورونا کے قہر کے کم ہونے کی وجہ سے تمام ہفتہ وار بازار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ادھر قومی دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے صرف 66 نئے معاملہ رپورٹ ہوئے ہیں اور اچھی خبر یہ ہے کہ اس عرصے میں کسی مریض کی موت نہیں ہوئی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قومی دارالحکومت میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 1436761 ہوگئی ہے اور اموات کی تعداد 25066 پر برقرار ہے۔ اس دوران، مزید 95 لوگوں کی شفایابی کے ساتھ وائرس سے صحتیاب ہونے والے لوگوں کی تعداد 1411159 ہو گئی ہے۔

اس عرصے کے دوران زیر علاج مریضوں میں29 کی کمی کے ساتھ ان کی تعداد گھٹ کر 536 رہ گئی ہے۔ دہلی میں کورونا سے متاثر ہونے کی شرح 0.10 فیصد ہے جبکہ شرح اموات 1.74 فیصد ہے۔

ہری سبزیوں کے حیرت انگیز طبی فوائد

  • (اردو اخبار دنیا)

ہر انسان صحت مند زندگی جینا چاہتا ہے جبکہ اس کے لیے کوشش بہت کم لوگ کرتے ہہں، ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کا راز ہری سبزیوں میں چھپا ہے جبکہ ان کے استعمال کے نیتجے میں مجموعی صحت سمیت جسمانی اعضاء کی کارکردگی بہتر، ہڈیاں، جوڑ، پٹھے مضبوط اور اسکن صاف ہوتی ہے اور یہ صاف شفاف جِلد کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

 

غذائی ماہرین کے مطابق ہڈیوں کی مضبوطی، قد کی نشوونما اور مجموعی صحت کے لیے بچپن سے ہی غذا میں معدنیات کا استعمال کیا جانا چاہیئے، ہری سبزیوں میں سب ہی مطلوبہ غذائیت موجود ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قد کی نشو و نما، پٹھوں اور ہڈیوں کی مضبوطی اور دیگر امراض سے بچاؤ کے لیے مائیں اپنے بچوں کی غذا میں لازمی دودھ شامل کرتی ہیں اور دودھ پینے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق مضبوط جوڑوں اور ہڈیوں کا انحصار صرف دودھ پر نہیں بلکہ ہمارے بہتر طرزِ ندگی اور متعدد غذائیں بھی اس کا سبب ہیں ماہرین صحت مند زندگی کے لیے کچھ ایسی مختلف غذائیں تجویز کرتے ہیں جو ہڈیوں اور جوڑوں کی مضبوطی سمیت قد کی نشو و نما کے لیے بھی بہترین ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی اور کیلشیئم سے بھرپور غذاؤں کو اپنی روز مرہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہیئے، ہری سبزیوں میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی اور کیلشیئم بھرپور مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ہماری صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔

 

وٹامن ڈی ہم سورج سے بھی حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے علاوہ وٹامن ڈی اور کیلشیئم والی غذاؤں میں دودھ، دہی، انڈے، مچھلی، پنیر اور مشروم شامل ہیں۔غذائی ماہرین کے مطابق کیلشیئم صرف دودھ کی مصنوعات سے ہی حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ سبز پتوں والی سبزیوں سے بھی کیلشیئم حاصل کر سکتے ہیں۔

ہرے پتے والی سبزیوں میں ناصرف قدرتی طور پر کیلشیئم موجود ہوتا ہے بلکہ دیگر ضروری غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں جو ہماری ہڈیوں کو مضبوط اور مجموعی صحت میں کردار ادا کرتے ہیں۔سبز پتوں والی سبزیوں میں پالک، شلجم، گاجر، مٹر، چقندر، گوبھی اور مولی شامل ہیں۔ان سبزیوں میں ’وٹامن کے‘ بھی موجود ہوتا ہے جو آسٹیو پوروسس کے خطرے کو کم کرتا ہے

عمرہ آپریٹرز سروسز دوبارہ شروع کرنے کے لیے پرامید

  • (اردو اخبار دنیا)

بھارتی اور پاکستانی عمرہ آپریٹرز نے کہا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سعودی عرب کی اجازت کے منتظر ہیں۔عرب نیوز کے مطابق پاکستانی عمرہ آپریٹرز کا یہ بیان اتوار کو سعودی عرب کے ایک نئے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ان غیر ملکی زائرین کو عمرے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہوں نے مکمل ویکسین لگوا لی ہے۔

سعودی عرب نے کورونا وائرس اور اس کے نئے ویرئینٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 13 ملکوں پر سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے انہیں ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر دیا تھا۔ ان ممالک میں پاکستان،افغانستان، ارجنٹینا، برازیل، مصر، ایتھوپیا، انڈیا، انڈونیشیا، لبنان، جنوبی افریقہ، ترکی، ویتنام اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی وزارت برائے حج وعمرہ نے کہا تھا کہ وہ نو اگست سے ان غیر ملکی زائرین کی عمرہ درخواستیں وصول کر رہے ہیں جنہوں نے ویکسین لگوا لی ہے اور ان کا تعلق ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے نہیں ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ابتدائی طور پر ایک ماہ میں 60 ہزار زائرین کو اجازت دی جائے گی اور پھر اسے مرحلہ وار 20 لاکھ زائرین تک بڑھایا جائے گا۔حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ایچ او اے پی) سندھ زون کے چیئرمین عفان ذیشان نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سعودی حکام کی جانب سے ’آگے بڑھنے‘ کے اشارے کے منتظر ہیں۔‘

پاکستان چیمبر آف کامرس کی مرکزی کمیٹی برائے حج وعمرہ سروسز کے کنوینئر محمد شفیق رفیق نے کہا ’عمرہ کی بحالی کا فیصلہ پاکستان کی ٹریول اور ٹورازم انڈسٹری کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ اس فیصلے نے شعبے کے احیا کے لیے امید کی شمع روشن کی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو اٹھائے اور ملک کو ریڈ لسٹ باہر نکلوائے تاکہ مقدس مقامات کی زیارت کا شوق رکھنے والے پاکستانی سعودی عرب کے نئے اقدامات سے فائدہ اٹھا سکیں۔‘

خیال رہے کہ کورونا وبا سے پہلے پاکستانی حج وعمرہ آپریٹرز سالانہ 20 لاکھ زائرین کو سفر کی سہولیات فراہم کرتے تھے جن میں سےعمرہ کرنے والے 18 لاکھ زائرین ہوتے تھے۔آئی اے ٹی اے ایجنسی پروگرام جوائنٹ کونسل کے چیئرمین محمد حنیف رِنچ نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’کورونا وبا کی وجہ سے سفری خدمات فراہم کرنے والوں کے کاروبار میں تقریباً 80 فیصد نقصان ہوا ہے۔ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین محمد یحییٰ پولانی نے کہا ہے کہ ’ٹریول انڈسٹری اور ائیرلائنز آپس میں منسلک ہیں اور اپنی مجموعی صلاحیت کا صرف10 فیصد بروئے کار لا رہی ہیں۔ حج اور عمرہ آپریٹرز پریشان کن حالت کی وجہ سے دوسرے کاروباروں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ سفرِعمرہ کی بحال سے اس شعبے کو نئی زندگی مل سکتی ہے

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...