Powered By Blogger

منگل, اگست 10, 2021

جنترمنتر پر اشتعال انگیزی : مدنی نے کیا کارروائی کا مطالبہ

جنترمنتر پر اشتعال انگیزی : مدنی نے کیا کارروائی کا مطالبہ

وفد نے پولیس حکام سے کی ملاقات
وفد نے پولیس حکام سے کی ملاقات

 

(اردو اخبار دنیا)

 جنتر منتر پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اس کا مطالبہ جمعیت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کیا ہے ۔اس سلسلے میں وزیر داخلہ ، حکومت ہند اور دہلی پولیس کمشنر کو ایک خط بھیجا ہے۔

جمعیت علمائے ہند (جمعیت علماء ہند کے جنرل سیکرٹری مولانا حکیم الدین قاسمی موبیشر بھائی) کے ایک وفد نے جوائنٹ کمشنر پولیس نئی دہلی رینج اور ڈی سی پی نئی دہلی سے ملاقات کی۔

awazurdu

مالدیپ: ثنا خان ایرپورٹ پر نماز ادا کرتی نظر آئیں

مالدیپ: ثنا خان ایرپورٹ پر نماز ادا کرتی نظر آئیں

ایر پورٹ پر پڑھی نماز
ایر پورٹ پر پڑھی نماز

 (اردو اخبار دنیا)

ثنا خان حال ہی میں اپنے شوہر انس سعید کے ساتھ مالدیپ پہنچی ہیں۔ اس دوران ثناء کو ائیرپورٹ پر ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ ثنا کا یہ انداز سوشل میڈیا پر کافی چرچے میں رہا ہے۔

معروف اداکارہ ثنا خان شادی کے بعد سے ہی خبروں میں ہیں۔ ثنا شیخ نے بالی وڈ کی چکاچوند چھوڑ کر روحانیت کا راستہ منتخب کیا ہے۔اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹس شیئر کرتی ہیں۔ حال ہی میں اس نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔

 اس ویڈیو میں ثناء نے دکھایا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سیر کے لیے جا رہی ہیں۔ اس دوران وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔

awazurdu

مالدیپ میں ثنا خان اپنے شوہر کے ساتھ

ثنا خان کافی عرصہ پہلے بالی وڈ کو الوداع کہہ چکی ہیں۔ اس نے اپنا اداکاری کا کیریئر چھوڑ کر روحانیت کی طرف جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بالی وڈ انڈسٹری چھوڑنے والی ثنا خان آج بھی سرخیوں میں ہیں۔


فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں

  • (اردو اخبار دنیا)

ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالمانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے زیر حراست اردنی اور فلسطینی شہریوں کے خلاف مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں ظالمانہ قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان پر فلسطینی مزاحمت کی حمایت کا الزام عاید کیا جاتا ہے

۔ریاض کی ایک فوج داری عدالت نے گذشتہ روز 69 فلسطینیوں اور اردنی شہریوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں تین سال سے 22سال تک قید کی سزائیں سنائیں۔

سزائیں پانے والوں میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے 80 سالہ بزرگ رہنما ڈاکٹر محمد الخضری بھی شامل ہیں جنہیں فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی پاداش میں 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

اردو گھرناندیڑ کی لائبریری کیلئے عطئیہ کُتب کی اپیل

  • (اردو اخبار دنیا)

ناندیڑاردو گھر ریاست مہاراشٹرکا پہلااردوگھر ہے ۔ اس میں دو بڑے اورکشادہ کمروں کولائبریری کےلئے مختص کیاگیا ہے ۔یہ لائبریری جدیدفرنیچر اوردیگرسامان سے آراستہ ہے ۔عوام الناس بالخصوص اردو داں طبقہ سے پُرخلوص اپیل ہے کہ وہ اپنی اردو‘مراٹھی ‘ہندی اورانگریزی کی کتب اردو گھر کی لائبریری کوعطیہ کے طور پردیں ۔تاکہ ان کُتب سے طلباءاو عام شہریان استفادہ کرسکیں۔جو حضرات کتب کاعطیہ دیناچاہتے ہیں وہ جناب سلیم خان مینجر اردوگھر سے ان کے موبا ئل نمبر9970278285 پرربط قائم کریں۔
ثقافتی کمیٹی وذیلی ثقافتی کمیٹی
اردوگھر‘نزدمدینتہ العلوم ہائی اسکول ‘مدینہ نگرناندیڑ

پیر, اگست 09, 2021

سابق بی جے پی ترجمان کی قیادت میں جنتر منتر دہلی پر مسلمانوں کی نسل کشی کے نعرہ بلند : ویڈیو کی بنیاد پر "نامعلوم افراد” کے خلاف ایف آئی آر درج اگست 9, 2021


  • (اردو اخبار دنیا)

 دہلی: نئی دہلی میں جنتر منتر پر منعقدہ ایک اجتماع میں نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلم مخالف نعرے لگائے گئے۔ تقریب میں ہندوتوا کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔

ایک ویڈیو کلپ میں جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے ، کچھ جنونی نعرے لگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، ”جب مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے تو وہ’ رام رام ‘کے نعرے لگائیں گے۔

بی جے پی کے سابق ترجمان اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے نے ویڈیو میں نظر آنے والے لوگوں سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ اس نے ویڈیو میں نظر آنے والے مردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ، #ArestAshwiniUpadhyay ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ نیٹیزین کا کہنا ہے کہ اپادھیا کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ اس تقریب کے مرکزی منتظم تھے۔

دہلی پولیس نے مذکورہ ویڈیو کے سلسلے میں "نامعلوم افراد” کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
اس طرح کے نعروں کے علاوہ کئی ہندوتوا رہنماؤں نے جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے درمیان تقریریں کیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انگریز کے بنائے گئے 222 کالے قوانین کو تعزیرات ہند سے ختم کیا جائے اور نئے دیسی قوانین متعارف کروائے جائیں۔ یکساں سول کوڈ ، پاپولیشن کنٹرول قانون اور انسداد دراندازی قانون کا نفاذ ان کے کچھ مطالبات تھے۔

اپادھیائے نے اپنی تقریر میں کہا: "یہ قوانین ویر ساورکر (آزادی سے پہلے کے ہندوستانی لیڈر کو ہندو قوم پرست سیاست کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے) کے لیے بنایا گیا تھا۔ بھگت سنگھ ، سکھ دیو اور راج گرو کو پھانسی دینا۔

انہوں نے مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کے حالیہ تشدد اور عسکریت پسندی کے پھیلنے پر کشمیر سے ہندوؤں کی نقل مکانی کی مثال دی تاکہ وضاحت کی جا سکے کہ 1800 کی دہائی کا پولیس ایکٹ کس طرح پولیس کو لوگوں پر "فائرنگ” کرنے سے روکتا ہے۔

شرکاء میں سے کچھ نے اسلام کے خلاف ہندی میں نسل کشی نفرت انگیز مواد والے فلائر تقسیم کیے

#مودی_کے_نئے_بھارت_کا_نعرہ : ” جب مسلمان کاٹے جائیں گے، رام رام چلّائیں گے ” ویڈیو لنک نیچے۔۔۔

  • (اردو اخبار دنیا)

خونریزی کی طرف ابھارنے والے یہ نعرے ہندوﺅں کی ایک ایسی بھیڑ نے لگائے جس کی قیادت بھاجپا کے سابق ترجمان اور ہندوتوا لیڈر اشوینی اپادھیائے نے کی، مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے منعقدہ یہ جلسہ راجدھانی دہلی میں ہوا، وزیراعظم نریندرمودی کے گھر سے چند میل کے فاصلے پر، انڈین پارلیمنٹ، بھارتی سپریم کورٹ اور قصرِ صدارت کےپاس، یقینًا خونریزی کے اس ہندوتوا عزم کی گونج وزیرداخلہ امیت شاہ کے کانوں میں بھی پڑی ہوگی، لیکن یہ گونج ان کے لیے تسکین کا باعث ہوتی ہے،


ابھی چند ہی روز پہلے ہریانہ میں ہندؤوں کی مہا۔پنچایت ہوئی تھی جس میں ہندو دہشتگردوں نے اعلان کیا تھا کہ مت بھولو. مسلمانو ! ہم وہی ہیں جنہوں نے تمہارے حافظ جنید کو عیدالفطر سے محض ایک روز قبل، ماب لنچنگ میں قتل کیا تھا
انہی سب کے درمیان مسلمانوں کے چند جبہ پوش لیڈران بھی راجدھانی دہلی میں جمع تھے اور بند کمرے میں اتحاد ملت کی کانفرنس کررہے تھے، کانفرنس کرنے والا ہر قائد خود کو ملت اسلامیہ کا مسیحا شمار اور قائدِ ملت بلا شرکتِ غیر ۔ قرار دیتا ہے لیکن جب نریندرمودی اور امیت شاہ سے لڑنے اور ہندو۔دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ سبھی قائدین منظرنامے سے غائب ہوجاتےہیں اور جب مسلم قوم کے نوجوانوں کا غصہ بڑھتا ہے تو انہیں شانت کرنے کے لیے اردو میں دو۔چار لیٹرپیڈ جاری کردیتے ہیں بہت ہی محتاط الفاظ میں، کہ کہیں ہندو طبقہ ناراض نہ ہوجائے ۔

جبکہ ان قائدین پر فرض تھا کہ بھاجپا کے اقتدار میں مسلمانوں کےخلاف بڑھتی ہوئی ریاستی سطح کی زیادتی اور ہندوتوا دہشتگردی میں اتنے سارے مسلمانوں کی شہادت کےبعد ، یہ لوگ راجدھانی دہلی کی سڑکوں پر پارلیمنٹ مارچ کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے یہ۔نمائندگی کرتے کہ ملت پر ظلم و زیادتی برداشت نہیں ہوگی،

نریندرمودی جب اقتدار میں آیا تھا تبھی کہنے والوں نے کہا تھا کہ، گجرات میں خون کی ہولی کھیلنے والے سے امن و امان کی توقع مت کرنا بلکہ کوشش کرو کہ یہ دوباره جیت نہ پائے مگر اُس وقت ہماری قیادت کا ریزولوشن آپکو یاد ہے؟ ہماری قیادتوں نے یہ ریزولوشن پاس کیا تھا کہ، ” اب چونکہ نریندرمودی ہمارے ملک کے وزیراعظم بن چکےہیں اسلیے ان سے اختلاف کرتے وقت ہمیں ان کے منصب کا احترام ملحوظ رکھنا چاہیے اور ان کے خلاف بہت سخت تنقید نہیں کرنا ہے "
جب دوسری مرتبہ نریندرمودی بھارتی اقتدار پر قابض ہوا تو وزارت داخلہ امیت۔شاہ کے سپرد کی گئی اس وقت بھی کہا گیا کہ سرتاپا مجرمانہ ذہن و دماغ رکھنے والے سے لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کی دہائی بےمعنی ہے، میں نے بھی لکھا تھا کہ، ملکی ہوم۔منسٹری کا امیت شاہ کے کنٹرول میں جانا ملک بھر کے پولیس سسٹم میں مسلم دشمنی کے اضافے اور پولیس کی فرقہ واریت کو انگیز کرنے کا موجب ہوگا، لیکن ہمارے لوگوں نے شاہ صاحب کےساتھ تعلقات بڑھانے پر اپنا زور صرف کیا۔

اب یہ دیکھیے کہ گجرات میں ننگا ناچ کھیلنے والی جوڑی نے دہلی میں گزشتہ سالوں ایک خونچکاں مسلم۔کش فساد کروایا اور اب مزید کی تیاری میں ہے، پارلیمنٹ آف انڈیا کےپاس مسلمانوں کے قتلِ عام کے مرکزی سلوگن کےساتھ جلسہ کرنا بھلا اور کس امر کی پیشنگوئی ہوسکتی ہے؟ جس کے آرگنائزر اور بھاجپائی نسبت رکھنے والے لیڈران ناصرف آزاد ہیں بلکہ بدنام زمانہ دہلی کی دنگائی پولیس انہیں بچانے میں مصروف ہے ۔
دنیا میں کہیں بھی کوئی دہشتگردانہ واردات ہوتی تو سب سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کی جمعیتوں اور جماعتوں کی جانب سے ان کےخلاف احتجاجی عملی کوششیں ہوتیں، جن میں ہمیشہ خود کے دفاع کا پہلو غالب رہتاتھا،
مگر یہی جمعیتیں اور جماعتیں بھارت میں ہندوتوا۔دہشتگردی پر شترمرغ بنی ہوئی ہیں، بلکہ ہندوتوا دہشتگردی کی حقیقت کو صراحت سے بیان تک کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جبکہ ہر دوسرے دن یہ دہشتگردی انہی کی قوم پر جسمانی یا ذہنی حملہ کررہی ہے

دوسری طرف، ہندو۔قوم کی شرمناک حقیقت ہے، جوکہ دراصل اس کی تاریخی حیثیت کا تسلسل ہے، مسلمان تو خیر بیرونی دہشتگردی کےخلاف احتجاج میں پہل کرتے تھے مگر بھارت میں جاری ہندوﺅں کی انتہاپسندی پر اب تک کسی بھی بڑے مندر کا کوئی برہمن، پجاری، پنڈت پروہت یا ہندو مذہبی جماعت اپنی قوم کے انتہاپسندانہ تخریبی رویے کےخلاف سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ یہ لوگ خود کو گاندھی کے اہنسا وادی / عدم تشدد والی پالیسی کے علمبردار اور شاکاہاری امن پسند کہلاتے ہیں ۔
یہ جو اتنی تیزی سے ہندوتوا۔دہشتگرد کھلے سانڈوں کی طرح بپھرتے جارہےہیں یہ بلاسبب تو ہرگزنہیں ہے دنیائے انسانیت سب سے بڑی جمہوریت کے ایک اور منظرنامے کو رقم کرنے والی ہے، آر۔ایس۔ایس نے اپنی بقاء کے لیے مسلمانوں کی قربانی طے کر لی ہے، کاش کہ، ہمارے بھولے، بھالے انٹلکچوئل لوگ سمجھیں کہ، غیرمسلموں سے اتحاد کا مطلب صرف بھاجپا اور سَنگھ سے پینگیں بڑھانا نہیں ہے، یہ تو غنڈوں اور بدمعاشوں کی ٹولی ہے جن سے کمزوروں کو نجات دلانے کے لیے مظلوموں کا اتحاد ضروری ہے، لیکن جب آپ سیاسی مفادات کے لیے ظالم کے ساتھ بھی کھڑے ہوجاتےہیں تو مظلوموں کا اتحاد کمزور پڑجاتا ہے اور ظالم کے حوصلے سڑک پر آجاتے ہیں _

ویسے اپنی ہی پولیس اور ہتھیاروں کے درمیان ہم سے رام رام کہلوانے کا خواب دیکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے، کیونکہ تم رام رام کہلوانے کا تو۔صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہو ۔۔

✍: سمیع اللّٰہ خان

گوتم تبدیلی مذہب معاملہ:مہاراشٹر کے پوسد شہر سے ڈاکٹر فراز شاہ کی گرفتاری

(اردو اخبار دنیا)یو پی اے ٹی ایس مسلمانوں کو بے جا گرفتار کررہی ہے، جمعیۃ علماء قانونی امدادفراہم کریگی، گلزار اعظمی
ممبئی 9/ اگست.تبدیل مذہب معاملے میں گذشتہ اتوار کی شب اتر پردیش اے ٹی ایس نے مہاراشٹر کے ضلع ایوت محل کے مقام پوسد سے ڈاکٹر فراز شاہ کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ حسب معمول اپنے دواخانے میں مریضوں کا علاج کررہے تھے، دو گاڑیوں میں اے ٹی ایس کے افسران پوسد پہنچے اور ڈاکٹر فراز شاہ کو گرفتار کرکے لکھنو لیکر چلے گئے، ڈاکٹر فراز کو گرفتار کرنے سے قبل اے ٹی ایس کے افسران نے ڈاکٹر فراز کے گھر والوں کو مطلع نہیں کیا، ڈاکٹر فراز کے اہل خانہ نے جب مقامی پولس اسٹیشن میں اس کی شکایت درج کرائی تو انہیں تحریری جواب ملاکہ لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے ملزم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے اس لیئے لکھنؤ اے ٹی ایس ٹیم اسے اپنے ساتھ لیکر گئی ہے اور لکھنؤ پہنچتے ہی ڈاکٹر فراز کو عدالت میں حاضر کردیا جائے گا نیز ڈاکٹر فراز کو عمر گوتم تبدیل مذہب معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ دوان تفتیش ڈاکٹر فراز کے بھی اس معاملے میں ملوث ہونے کا سراغ ملا ہے۔

ڈاکٹر فراز شاہ کی گرفتاری کے بعد اس کی والدہ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے نام قانونی امداد کی درخواست ارسال کی ہے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔
اس ضمن میں گلزا ر اعظمی نے کہا کہ یو پی اے ٹی ایس مسلمانوں کو بے جا گرفتار کررہی ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فراز پوسد میں رہتے ہیں جبکہ تبدیل مذہب کا معاملہ نوئیڈا میں ہوا اس کے باوجود یو پی اے ٹی ایس نے انہیں گرفتار کرلیا۔

امید ہیکہ آج ڈاکٹر فراز شاہ کو لکئنؤ کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا جس کے دوران ملزم کے دفاع میں جمعیۃ کی جانب سے ایڈوکیٹ فرقان خان حاضر رہیں گے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے سے گرفتار عرفان خواجہ خان کو جمعیۃ علماء قانونی امداد فراہم کررہی ہے اورجمعیۃ علماء ڈاکٹر فراز کو بھی قانونی امداد فراہم کریگی کیونکہ ملزمین کو جبراً اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے لکھنؤ میں وکلاء کی ہڑتال ہونے کی وجہ سے عدالتی کام کاج ٹھپ ہے جس کی وجہ سے ملزم عرفان خان کی ضمانت عرضداشت بھی داخل نہیں کی جاسکی ہے، جیسے ہی عدالتی کام کاج شروع ہوگا، ملزم عرفان کی ضمانت عرضداشت داخل کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اتر پردیش انسداد دہشت گرد دستہ ATSنے عمر گوتم اور مفتی قاضی جہانگیر قاسمی کو جبراً تبدیل مذہب کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا ہیکہ دونوں ملزمین پیسوں کا لالچ دے کر ہندوؤں کا مذہب تبدیل کراکے انہیں مسلمان بنا تے ہیں اور پھر ان کی شادیاں بھی کراتے ہیں۔ پولس نے ممنو ع تنظیم داعش سے تعلق اور غیر ملکی فنڈنگ کا بھی شک ظاہر کیا ہے۔پولس نے ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 420,120(B),153(A),153(B),295,511اور اتر پردیش پروہبیشن آف ین لاء فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ کی دفعات 3,5 کے تحت مقدمہ قائم کرکے ان پر سنگین الزامات عائد کیئے ہیں، یو پی اے ٹی ایس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...