ممبئی:10اگست (اردو اخبار دنیا) ممبئی ہائی کورٹ نے 21 اگست 2021 کو ہونے والے کلاس گیارہویں کے داخلے کے لیے سی ای ٹی امتحان منسوخ کر دیا ہے اور مہاراشٹر حکومت پرتنقید کی ہے۔ ریاستی حکومت نے بغیر کسی تحریری امتحان کے نئے نتائج کے مطابق دسویں جماعت کے طلباء کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔ کلاس گیارہویں کے داخلے کے لیے سی ای ٹی امتحان منعقد کرنے کے لیے 28 مئی کو آرڈیننس جاری کیا گیا۔ حکومت کا آرڈیننس ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیا ہے۔
عدالت نے ہدایت دی ہے کہ طالب علموں کو دسویں جماعت کے امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر ہی گیارہویں جماعت کے لیے داخلہ دیا جائے۔ اب ریاست کی اسکول ایجوکیشن ورشا گائیکواڑ نے بھی عدالت کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔
نیا سرکلر میں شہادت کی رات تحریر کر کے دوبارہ تمام محکمہ جات میں سرکلر ارسال,
ممبئی:١٠ اگست (اردو اخبار دنیا) ریاست سرکار نے محرم الحرام پر گائڈ لائن پر تنازع کے بعد اس میں متنازع اور قابل اعتراض لفظ یوم عاشورہ یعنی قتل کی رات حذف کر دیا گیاہے اور اس کی جگہ شہادت کی رات تحریر کیا گیا ہے اس لئے سرکار نے ایک نیا سرکلر بھی جاری کیا ہے جس میں غلطی کو درست کیا گیا ہے۔ شیعہ علماء اور عمائدین شہر و مسلمانوں کی ناراضگی کے بعد اس سرکلر میں تبدیلی کی گئی ہے۔
9ویں کی رات کو شہادت کی رات کے بجائے قتل کی رات ضبط تحریر لانے کی وجہ سے مہاراشٹر سرکار کے محکمہ وزارت کی مذمت کی گئی تھی اس کے ساتھ ہی اس میں درستگی اور نیا سرکلر اری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اس کے بعد ہی وزارت داخلہ نے اس سرکلر سے قتل کی رات کو نکال کر شہادت کی رات کیا ہے اس کیلئے ایک ترمیمی سرکلر وزارت داخلہ کے نائب سکریٹری سنجے کھوڈیکر نے بتایا کہ جو متنازع لفظ اس سرکلر میں جاری کیا گیا تھا اسے واپس لیا گیا ہے اب قتل کی رات کے بجائے قارئین اسے شہادت کی رات پڑھیں۔ اس کے ساتھ ہی ترمیمی سرکلر تمام شعبہ جات اور محکمہ کو دوبارہ ارسال کیا گیا ہے اس سے قبل جو سرکلر جاری کیا گیا تھا وہ 9 اگست 2021 ء کو جاری کیا گیا تھا لیکن اس کا متنازع لفظ درست کر کے اسے دوبارہ جاری کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ریاست بھر میں شیعہ عالم دین اور مسلمانوں نے اس سرکلر کو قابل اعتراض قرار دیا تھا اس میں جو متنازع لفظ تحریر تھا اسے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا.ممبئی میں محرم الحرام کے سرکلر میں یہ واضح کیا ہے کہ عاشورہ, ماتمی علمداری جلوس پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی سوسائٹیوں میں جمع ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی تعزیہ داری بٹھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہاں بھیڑبھاڑ جمع کر نے اور دیگر جلوس پر پابندی عائد کی گئی ہے اس کے علاوہ وعظ اور مجالس پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے
نئی دہلی(اردو اخبار دنیا): دہلی کے جنتر منتر پر بھارت چھوڑو تحریک کی سالگرہ پر منعقدہ مظاہرہ کے دوران مسلم مخالف نعرے بازی کرنے کے معاملہ میں بی جے پی کے سابق ترجمان اور سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چار مزید افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
تحویل میں لئے گئے افراد پر الزام ہے کہ اتوار کے روز جنتر منتر پر لگائے جانے والے مسلم مخالف نعرے انہی کی سرپرستی میں لگائے گئے تھے۔ دہلی پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ اپادھیائے کے علاوہ جن چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ دیپک سنگھ ہندو، وینیت کرانتی، پریت سنگھ اور ونود شرما (سُدرشن واہنی کا رکن) ہیں
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس عہدیدار نے کہا، ’’دیر رات گئے کی گئی کارروائی کے دوران ان سبھی کو حراست میں لیا گیا ہے اور اب ان کی گرفتاری سے قبل قانونی دستاویزات تیار کئے جا رہے ہیں۔ اپادھیائے رات کے آخری پہر 3 بجے کناٹ پلیس تھانہ پہنچے، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔‘‘
خیال رہے کہ عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے بھی پیر کے روز اشونی اپادھیائے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ اشونی اپادھیائے نے رات کو 3 بجے پولیس اسٹیشن پہنچ کر کہا کہ میں نعرے بازی کرنے والوں کو نہیں جانتا۔ ویڈیو کی جانچ کی جائے اور اس کے درست پائے جانے پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
امانت اللہ خان نے اس معاملہ پر ٹوئٹ بھی کیا تھا، جس میں انہوں نے لکھا، ’’ملک کی راجدھانی دہلی میں پارلیمنٹ سے کچھ ہی دور ایک مخصوص طبقہ کو کھلے عام کاٹنے کی دھمکی دینے والے گرگوں کے خلاف کا پولیس کمشنر کو تحریری شکایت پیش کر کے این ایس اے اور یو اے پی اے کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پی ایم او، ثبوت سامنے ہونے کے باوجود کارروائی میں آخر تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟‘‘
یاد رہے کہ اتوار کے روز دہلی کے جنتر منتر کے پاس کچھ تنظیموں کی جانب سے بھارت چھوڑو تحریک کی سالگرہ پر مظٓہرہ کیا گیا تھا۔ اس دوران انگریزی سمانہ کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی کی گئی۔ دہلی پولیس کے عہدیداران نے بتایا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ ویڈیوز موصول ہوئی ہیں، جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جو لوگ نعرے بازی کر رہے ہیں ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔
نئی دہلی (اردو اخبار دنیا): پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران ایک مرتبہ پھر این آر سی کا معاملہ اٹھا ۔ پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہوئے وزارت داخلہ کی طرف سے واضح کیا گیا کہ قومی سطح پر این آر سی کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ تاہم وزارت داخلہ کی جانب سے یہ ضرور بتایا گیا کہ روہنگیاوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور انہیں واپس بھیجنے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ بتادیں کہ حکومت نے ملک میں رہنے والے غیر قانونی روہنگیا تارکین وطن کو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ بتایا ہے ۔
وزارت داخلہ کی طرف سے کہا گیا کہ ملک میں این آر سی کا معاملہ کافی عرصے سے برقرار ہے ۔ ہم پارلیمنٹ کے ذریعہ بتانا چاہتے ہیں کہ ملک میں قومی سطح پر ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوسرے دن مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتانند رائے نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ روہنگیا سمیت تمام غیر قانونی تارکین وطن ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور آئے دن ان کے غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی رپورٹس آتی رہتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی گئی ہے ، جس میں ہندوستان سے روہنگیاوں کی حوالگی نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے اور اس سلسلہ میں عدالت سے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔
اب تک دو لوگوں نے جموں و کشمیر میں خریدی زمین
منگل کو پارلیمنٹ میں یہ سوال پوچھا گیا کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد اب تک کتنے باہری لوگوں نے جموں و کشمیر میں زمین خریدی ہے؟ اس پر حکومت نے جواب دیا کہ 2019 کے بعد سے صرف دو باہری لوگوں نے جموں و کشمیر میں زمین خریدی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتانند رائے نے کہا کہ اب جموں و کشمیر میں لوگوں کو زمین خریدنے میں کسی بھی قسم کے مشکل عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے
ڈھاکہ: بنگلہ دیش پولیس نے مسجد کے اندر ایک خاتون کے ہمراہ ڈانس کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا ہے، کیوں کہ پولیس کے مطابق اس نے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اسٹار کو ڈھاکہ کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم ان کی خاتون ڈانس پارٹنر اب بھی فرار ہیں۔
نوجوان کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
بنگلہ دیش میں پولیس نے 9 اگست2021 پیر کے روز بتایا کہ دارالحکومت ڈھاکہ کے مشرقی علاقے کومیلہ کی ایک مسجد کی سیڑھیوں پر اپنی ساتھی خاتون کے ساتھ رقص کرنے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
نوجوان کو مسجد میں رقص کرنے، اس کا ویڈیو بنانے، ادا کاری کرنے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش میں سوشل میڈیا کی معروف شخصیت یاسین کو دیوی دوار کے پاس ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا جن پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام ہے۔
ان کے خلاف ابھی باضابطہ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے حراست میں رکھا گیا ہے اور اگر عدالت نے انہیں اس کا قصوروار پا یا تو انہیں پانچ برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ رقص کرنے سے، ''مسجد کی بے حرمتی ہوئی ہے۔''
خاتون رقاصہ اب بھی فرار ہیں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کی سیڑھیوں پر رقص کرنے میں مذکورہ نوجوان کے ساتھ ہی ایک خاتون بھی شامل تھیں اور دونوں نے مل کر وہ ویڈیو بنایا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی گرفتاری کے لیے ابھی انہیں تلاش کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں جو پچاس نئی مساجد تعمیر کی ہیں انہیں میں سے ایک مسجد میں تقریباً ایک ماہ قبل یہ فوٹیج شوٹ کیا گیا تھا اور پھر اسے ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ لیکی پر شیئر کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق اس سے پہلے کہ اس ویڈیو کو ویب سائٹ سے ہٹایا جا سکتا تقریبا ًایک ملین افراد نے اسے دیکھا۔ گرچہ بنگلہ دیش ایک سیکولر ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے تاہم حالیہ برسوں میں دیکھا یہ گیا ہے کہ حکام مذہب اسلام کے دفاع کے لیے سختی برتنے لگے ہیں۔
گزشتہ برس ملک کے دو ہندو افراد کو ایک ایسی سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی جو حکام کی نظر میں پیغمبر اسلام کی شان میں توہین کے مترادف تھی۔
(اردو اخبار دنیا)کیا آپ ملک کے مختلف حصوں کا سفر کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں اور اسی کے لیے ٹرین کے ٹکٹ بک کروانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے لیے ایک اہم اپ ڈیٹ ہے۔ انڈین ریلوے Indian Railway نے انڈین ریلوے نیٹ ورک میں کام کرنے والے تمام کوچز کے لیے نئے بکنگ کوڈز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت ریلوے نے پہلے ہی انڈین ریلوے نیٹ ورک میں نئی قسم کے کوچ متعارف کرائے ہیں جیسے ویسٹڈوم ، جس نے مسافروں میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ اب آئی آر سی ٹی سی نے بکنگ کوڈز میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو کہ ٹکٹ کی بکنگ کے دوران مسافروں کی طرف سے استعمال ہونے والے بڑے مخففات ہیں۔
اس کے ساتھ ریلوے ایک نیا AC-3 ٹائر اکانومی کوچ بھی لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو 83 برتھ پر مشتمل ہوگا۔ انڈین ریلوے نیٹ ورک میں دستیاب مختلف کوچز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مختلف ریلوے زونز کے تمام پرنسپل چیف کمرشل منیجرز کو نئے کوچ کوڈز کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ تمام نئے کوڈ مختلف ریلوے زونز کے ڈیٹا بیس میں داخل ہو چکے ہیں اور اب کام کر رہے ہیں۔
انڈین ریلوے ٹرین کے نئے کوچ کوڈز:
Vistadome Non-AC - V.S. (Coach Code: D.V.) Vistadome AC - E.V. (Coach Code: E.V.) Sleeper - S.L. (Coach Code: S) A.C. Chair Car - C.C. (Coach Code: C) Third A.C. - 3A (Coach Code: B) AC Three-Tier Economy - 3E (Coach Code: M) Second A.C. - 2A (Coach Code: A) GareebRath AC Three-Tier - 3A (Coach Code: G) GareebRath Chair Car -CC (Coach Code: J) First AC - 1A (Coach Code: H) Executive Class - E.C. (Coach Code: E) Anubhuti Class - E.A (Coach Code: K) First Class - F.C. (Coach Code: F)
بکنگ کوڈز کو تبدیل کرنے کا فیصلہ وسٹاڈوم کوچ کے بہت زیادہ پذیرائی حاصل کرنے کے بعد آیا ہے۔
وسٹاڈوم کوچ Vistadome coaches شیشے کی چھتوں پر سیر کے لیے بنائے گئے ہیں۔ کھڑکیوں کے وسیع شیشوں سے لیس ، نئی کوچوں میں سیٹیں ہوتی ہیں جو 360 ڈگری تک گھومتی ہیں تاکہ مسافروں کو بہتر سیاحت کا فائدہ ہو
نئی دہلی : فوجداری مقدمہ میں سپریم کورٹ نے سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ خان کی ضمانت کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے منگل کو ایک عبوری حکم میں سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ خان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ ان دونوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔ یہ حکم چار ہفتوں کے بعد نافذ العمل ہوگا۔ اس دوران شکایت کنندہ کا بیان اتر پردیش کی نچلی عدالت میں ریکارڈ کیا جائے گا۔
واضح ہو کہ عبداللہ کے خلاف اور بھی کئی مقدمات ہیں ، اس لیے ان کی جیل سے رہائی مشکل ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش حکومت نے اعظم خان کی ضمانت کے معاملے میں مخالفت کرتے ہوئے ہوئے اعتراضات درج کرائے ہیں۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس مقدمہ میں مزید حراست کی ضرورت ہے ؟ اس پر اترپردیش حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ ایس وی راجو نے بتایا کہ اعظم خان کے خلاف کئی سنگین مقدمات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تاہم اعظم خان کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ 280/2019 ایف آئی آر کیس میں چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ سبل نے مزید کہا کہ حکومت نے پاسپورٹ اور پین کارڈ کیس میں الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں ، جبکہ اعظم خان کو اس کیس میں اہم ایف آئی آر میں ضمانت مل گئی ہے۔ سبل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں دوسرا پین کارڈ اور دوسرا پیدائشی سرٹیفکیٹ بنایا گیا ہے۔ اس پر اتر پردیش حکومت نے کہا کہ پہلا پین کارڈ موجود ہونے کے بعد بھی دوسرا پین کارڈ جاری کیا گیا اور پہلے پین کارڈ کی معلومات چھپائی گئی۔اتر پردیش حکومت نے کہا کہ اعظم خان ابھی تک اسپتال میں ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ پاکستان جانے والے شخص کی لاکھوں روپے مالیت کی جائیداد غلط طریقے سے اس کے نام پر لی گئی