Powered By Blogger

جمعہ, اگست 13, 2021

مہاراشٹرمیں مکمل ٹیکہ کاری کے بعد ہی کالجوں کو کھولاجاسکتا ہے:اودئے سامنت

ناندیڑ:12اگست (اردو اخبار دنیا) طلباءاور والدین کی طرف سے کالج شروع کرنے کا مطالبہ ہے۔ مگر جب تک مکمل کورونا ویکسینیشن نہ ہو ، کالج کھولنے کا فیصلہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے وزیر اودے سامنت نے کہا کہ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے پوری ریاست میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

آج وہ سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی (ایس آر ٹی یونیورسٹی) کے سینیٹ ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔وزیر ادے سامنت جو دو روزہ دورے پر ہیں نے آج نیشنل سروس اسکیم کے ان طلباءکو مبارکباد دی جو کوویڈ جنگجو ہیں۔ اس موقع پر ایم ایل اے موہن راو¿ ہمبرڈے ، ایم ایل اے بالاجی راو¿ کلیانکر ، وائس چانسلر ڈاکٹر ادھو بھوسلے ، کارگزار وائس چانسلر ڈاکٹر بیسن موجود تھے۔

تقریب کے بعد وزیر ادے سامنت نے صحافیوں سے گفتگو کی۔ پچھلے سات یا آٹھ سالوں سے ایس آر ٹی میں میں انا بھاو¿ ساٹھے اسٹڈی سنٹر کے قیام کا مطالبہ مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ ساتھ طلبہ تنظیموں نے بھی اٹھایا ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر انتظامی منظوری ملنے کے بعد یہ معاملہ ریاستی حکومت کے پاس زیر التوا تھا۔ تاہم وزیر ادے سمت نے کہا کہ یہ مسئلہ اگلے ماہ حل ہو جائے گا۔ایس آرٹی نیورسٹی کے دائرہ کار کے کالجوں کے آغاز کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ وائس چانسلر ڈاکٹر ادھو بھوسلے اور متعلقہ کلکٹر منصوبہ بندی کریں۔ اس کے بعد ریاستی حکومت اس معاملے پر غور کرے گی۔

سعودی عرب: حکام نے الریاض کی ایک کالونی میں آنے والا شیر پکڑ لیا

  • (اردو اخبار دنیا)

سعودی عرب کی اسپیشل فورسز فار انوائرمنٹل سیکورٹی کے سرکاری ترجمان میجر رائد المالکی نے بتایا کہ فورسز نے نیشنل سینٹر فار سیکورٹی آپریشنز (911) کی جانب سے ایک شکاری جانور (شیر) کی دارالحکومت الریاض کی ایک کالونی میں موجودگی کیا اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے شیر کر پکڑ لیا ہے۔ شیر کو پکڑنے کے آپریشن میں نیشنل وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ حکام اور پٹرولنگ پولیس نے تعاون کیا۔ شیر کو قابو کرنے کے بعد اسے ایک پناہ گاہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

 

میجر المالکی نے وضاحت کی کہ حکام نے اس واقعے کے پیچھے موجود محرکات اور ذمہ داروں کا پتا چلانے کے لیے انکوائری شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معدومیت کے خطرےسے دوچار جانوروں کی اسمگلنگ جیسے جرائم کے لیے مملکت میں کڑی سزا مقرر ہے اور اس میں ملوث عناصر کو 10 سال قید یا 30 ملین ریال جرمانہ یا ایک ساتھ دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

انہوں نےشہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی خریدو فروخت کے لیے ممنوعہ جانداروں کی درآمد ، برآمد ، منتقلی ، فروخت ، نمائش یا حصول کی کوشش کرنے والوں کے بارے میں مکہ مکرمہ اور ریاض کے علاقوں میں نمبر 911 اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہیلپ لائن 999 پر مجاز حکام کو فوری اطلاع دیں

ناندیڑ:شہر میں بی جے پی کے سابق عہدیدار پرفائرئنگ


ناندیڑ:12اگست (اردو اخبار دنیا)شہر میں کل رات مجرمین نے دھوم مچادی ۔ایک مقام پر اسلحہ کی دھاک پرتاجر کو لوٹاگیاجبکہ فائرئنگ کابھی ایک واقعہ رونما ہوا ۔اس فائرئنگ کے واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ بی جے پی یووا مورچہ کے سابق شہر صدر کو بدھ کی رات تقریبا 9 بجے گولی مار ی گئی۔ لیکن وہ اپنے گھر کے اندر بھاگ گئے جس کی وجہہ سے انکی جان بچ گئی۔

بی جے پی کے سابقہ عہدیدار سونو کلیانکر پر ہوئے حملہ کی واردات سی سی ٹی وی میںقید ہوئی ہے ۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولس کے اعلیٰ عہدیداران بھی جائے حادثہ پرپہنچ گئے تھے۔سونو کلیانکر شہر کے سرینگر علاقے میں اپنے گھر کے گیٹ پر بیٹھے تھے۔ رات 9 بجے کے قریب ٹو وہیلر پرسوار تین افراد انکےکے گھر کے سامنے آئے۔

ان میں سے دو نیچے اترے اور بندوق نکال کی سونو کے گھر کی سمت دوڑے اوراُن پرفائرئنگ کردی جیسے ہی حملہ آوروں کو سونو نے دیکھا وہ گھر کے اندردوڑگئے۔ا س طرح انکی جان بچ گئی۔نامعلوم حملہ آوروں نے 3راونڈفائر کیا۔اس واقعہ کے بعد سارے علاقہ میںدہشت کا ماحول تھا ۔اس معاملے میں بھاگیہ نگر پولس اسٹیشن میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے ۔

مسلم رکشہ والے سے جبراً لگوایا گیا ’جے شری رام‘ کا نعرہ، معصوم بیٹی مانگتی رہی رحم کی بھیک


(اردو اخبار دنیا)کانپور:اتر پردیش میں ایک بار پھر شرپسند افراد کے ذریعہ مسلم شخص پر ظلم و زیادتی کرنے اور اس سے جبراً ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعہ اتر پردیش کے کانپور کا ہے جہاں ہندوتوا ذہنیت کے لوگوں نے برسرعام ایک مسلم رکشہ والے کو زد و کوب کیا اور جبراً اس سے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگوائے۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں رکشہ والے کی معصوم بیٹی بھی نظر آ رہی ہے جو ہندوتوا بریگیڈ کے سامنے رحم کی بھیک مانگ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اس کے والد کو چھوڑ دیں۔ لیکن شرپسند افراد نے اس معصوم بچی کی فریادوں پر کوئی توجہ نہیں دیا اور زور زور سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے۔

اس تعلق سے ’این ڈی ٹی وی‘ پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم رکشہ والے کا نام افسر ہے اور اسے بجرنگ دل کے کارکنوں نے بلاوجہ اپنے تشدد کا شکار بتایا۔ شائع رپورٹ کے مطابق کانپور کی ایک بستی میں دو پڑوسیوں قریشہ اور رانی کی فیملی میں موٹر سائیکل سے متعلق کسی ایشو پر جھگڑا ہوا تھا۔ اس جھگڑا کے بعد قریشہ نے رانی پر مار پیٹ کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بعد ازاں رانی نے قریشہ کے لڑکوں پر چھیڑخانی کا معاملہ درج کرا دیا۔ پھر بجرنگ دل کی اس پورے معاملے میں انٹری ہوئی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کسی کے کہنے پر رانی نے بجرنگ دل کارکنوں سے رابطہ کیا تھا جس کے پیش نظر بجرنگ دل کے لوگوں نے علاقہ میں پہنچ کر ایک میٹنگ کی، اور پھر قریشہ کے لڑکوں کو ڈھونڈتے ہوئے اس کے گھر پہنچے۔ شرپسندوں کو قریشہ کے بیٹے تو گھر پر نہیں ملے، لیکن قریشہ کے دیور سے باہر سڑک پر ملاقات ہو گئی۔ بجرنگ دل والوں نے وہیں پر اسے پیٹنا شروع کر دیا اور ’جے شری رام‘ کے نعرے بھی لگوائے۔ والد کی پٹائی ہوتی دیکھ ان کو بچانے کے لیے چھوٹی بیٹی سامنے آ گئی اور والد سے لپٹ کر رونے لگی۔ وہ بار بار حملہ آوروں سے انھیں چھوڑنے کی گزارش کرتی رہی لیکن انھیں رحم نہیں آیا۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ جس مسلم رکشہ والے یعنی افسر کی پٹائی حملہ آوروں نے کی، اس پر نہ ہی کوئی الزام ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس واقعہ کے تعلق سے کانپور بجرنگ دل کے ضلع کنوینر دلیپ سنگھ بجرنگی نے کہا کہ ’’ہم ہندو سماج کو تکلیف نہیں پہنچنے دیں گے۔ ہم اپنے سناتن مذہب کو بچانے کے لیے خود اہل ہیں۔ اگر ہماری ہندو فیملی کسی بھی طرح سے پریشان رہے گی تو ہم اس کے لیے ڈھال بن کر کھڑے ہیں۔‘‘

 

اس پورے معاملے میں قریشہ بیگم کا کہنا ہے کہ رانی کے دروازے پر موٹر سائیکل کی ٹکر سے شروع ہوئے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے جو مناسب نہیں۔ اس درمیان پولیس نے موقع پر پہنچ کر افسر کی جان بچائی اور ان کی طرف سے کچھ لوگوں پر مار پیٹ کی ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔ اے سی پی کانپور ساؤتھ، روینہ تیاگی نے اس تعلق سے ایک بیان میں کہا کہ ’’متاثرہ کی تحریر کی بنیاد پر کچھ نامزد اور کچھ نامعلوم اشخاص کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے۔ معاملے میں کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘

جمعرات, اگست 12, 2021

اجمیر شریف میں محرم کے موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے میڈیکل کیمپ کا افتتاح


اجمیر شریف میں محرم کے موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے میڈیکل کیمپ کا افتتاح

اجمیر /نئی دہلی۔12/اگست(اردو اخبار دنیا)
خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کے سلسلہ سے نسبت رکھنے والی ملک گیر جماعت ’جمعیۃ علماء ہند‘ کے زیر اہتمام اجمیر شریف میں ایک بار پھر زائرین کے لیے میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر اس بار اس کی ذمہ داری جمعیۃعلماء میوات کے جنرل سکریٹر مفتی محمد سلیم ساکرس ادا کررہے ہیں، اس سے قبل جمعیۃ علماء راجستھان کے سابق نائب صدر مولانا شبیر احمد قاسمی مرحوم ادا کررہے تھے، جو کووڈ کی وباء کی زد میں آنے کی وجہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

آج میڈیکل کا افتتاح جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔اس کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے متعدد ڈاکٹرس مع ادویہ و ایمبولینس اورضا کاروں کی ایک ٹیم شب و روز موجود رہے گی، خاص طور سے اس بار میوات سے اسکاؤ ٹ تربیت یافتہ ۱۲/نوجوانوں کی خدمت بھی حاصل کی گئی ہے۔ میڈیکل کیمپ میں ماہ محرم الحرام کے موقع پر آنے والے زائرین کو طبی خدمت فراہم کی جائے گی۔گزشتہ پانچ سالوں میں جمعیۃ علماء ہند نے زائرین کی بے مثال خدمت انجام دی ہے، اس درمیان سات بار میڈیکل کیمپ لگائے گئے جن میں اکیاون ہزار چھ سو ستانوے (51697)بیمار زائرین کا مفت طبی خدمت فراہم کی گئی ہے، اسی طرح زیادہ بیمارے ہونے والے کو جمعیۃ ایمبولینس کے ذریعہ ہاسپٹل اور وفات پانے والوں کو ان کے گھر تک پہنچایا گیا۔

آج کے افتتاح کے موقع پر عتیق الرحمن قریشی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء بناس کاٹھا،مولانا محمد دلشاد صاحب قاسمی ناظم جمعیۃ علمائے حلقہ سوہنا، مولانا ابوالحسن آرگنائزر جمعیۃ علمائے ہند،،مولانا حسن محمد ہرواڑی، مولانا اجمل، ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر محمد شریف، ڈاکٹر محمد کیف، ڈاکٹر طارق انور وغیرہ موجود رہے۔

مہاراشٹر : کورونا کی تیسری لہر کا خطره ، 17 اگست سے اسکول کھولنے کا حکم منسوخ

(اردو اخبار دنیا)مہاراشٹر حکومت نے بدھ کی دیر شب ہوئی کووڈ-19 ٹاسک فورس کی میٹنگ کے بعد اسکولوں کو پھر سے کھولنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔ پہلے ریاست میں اسکول 17 اگست سے کھولے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ چیف سکریٹری سیتارام کنٹے کی صدارت میں اسکولوں کو پھر سے کھولنے پر فیصلہ لینے کے لیے ٹاسک فورس کے اراکین، تعلیم اور صحت محکمہ کے افسران کے ساتھ ساتھ کچھ ضلع کلکٹرس کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ کورونا کی تیسری لہر کی آمد کے اندیشہ اور اسکولی بچوں کو کورونا انفیکشن سے بچانے کی خاطر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

اسکولی بچوں پر کورونا کا قہر شروع، بنگلورو میں 300 بچے پازیٹو، پنجاب-ہریانہ میں بھی حالات فکر انگیز

میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ دیہی علاقوں کے کچھ اسکول، جہاں کورونا وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہے، کام کرنا جاری رکھیں گے۔ وہیں ریاست کے دیگر سبھی اسکول جو مارچ 2020 سے بند ہیں، ان اسکولوں کو فی الحال 17 اگست سے پھر سے شروع نہیں کیا جائے گا۔ اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے بتایا کہ پنجاب جیسی کچھ دیگر ریاستوں میں، جہاں اسکولوں کو پھر سے کھولنے کی اجازت دی گئی تھی، وہاں بچوں میں کورونا انفیکشن میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ چونکہ انفیکشن کی زد میں آنے والے بچوں کے لیے کوئی ٹیکہ دستیاب نہیں ہے، اس لیے اسکولوں کو پھر سے کھولنے کا فیصلہ فوراً نہیں لیا جانا چاہیے۔

راجیہ سبھا میں مارشلوں کے برتاؤ کے حوالے سے اپوزیشن نے نائب صدر سے ملاقات کی

نواب ملک نے بتایا کہ اب ٹاسک فورس، محکمہ تعلیم کے افسران ملاقات کریں گے اور اس معاملے پر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے، جو اس ایشو پر آخری فیصلہ لیں گے۔ واضح رہے کہ ریاست میں اس وقت درجہ 7 سے 8 کے طلبا کو کووڈ پابندیوں کے ساتھ آف لائن کلاسز کی اجازت ہے، لیکن ذیلی درجات کے طلبا آئندہ حکم تک اسکولوں میں نہیں لوٹ پائیں گے۔


اسکولی بچوں پر کورونا کا قہر شروع، بنگلورو میں 300 بچے پازیٹو، پنجاب-ہریانہ میں بھی حالات فکر انگیز

بنگورو:(اردو اخبار دنیا)ایک طرف ہندوستان کی کئی ریاستوں میں کورونا انفیکشن کی کمی کو دیکھتے ہوئے کاروباری سرگرمیاں اور تعلیمی ادارے دھیرے دھیرے کھولنے کا اعلان کیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف ان ریاستوں سے اچھی خبر نہیں آ رہی ہے جہاں اسکول کھل چکے ہیں۔ کرناٹک، پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں اب اسکولی بچوں پر کورونا کا قہر شروع ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کرناٹک کے بنگلورو شہر میں ہی ایک ہفتے میں 300 سے زائد بچے کورونا پازیٹو پائے گئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق بنگلورو سے متعلق جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس میں بتایا گیا ہے کہ 6 دنوں میں 300 سے زائد بچے کورونا کی زد میں آ چکے ہیں۔ بنگلورو جیسے بڑے شہر میں اسکولی بچوں کا اس تیزی سے کورونا انفیکشن کا شکار ہونا فکر انگیز ہے۔ بنگلورو انتظامیہ نے جانکاری دی ہے کہ 0 سے 9 سال کے تقریباً 127 اور 10 سے 19 سال کے تقریباً 174 بچے کووڈ پازیٹو پائے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 5 اگست سے 10 اگست تک کے ہیں۔

کرناٹک کے علاوہ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں بھی اسکولی بچے کورونا انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہماچل پردیش میں اسکول کھلنے کے بعد سے اب تک تقریباً 32 طلبا کووڈ کی زد میں آ چکے ہیں، اور پنجاب میں بھی 27 اسکولی بچے کورونا پازیٹو ہوئے ہیں۔ ہریانہ کے اسکولوں میں بھی کورونا کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔

اسکولی بچوں کے لگاتار کورونا انفیکشن کی زد میں آنے سے حکومتوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ اب ہماچل پردیش نے 22 اگست تک اسکول بند کرنے کی بات کہی ہے۔ پنجاب کی جانب سے بھی اسکولوں میں سختی بڑھانے کی تیاری ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ ہریانہ میں نویں سے بارہویں تک کے اسکول جولائی میں کھولے گئے تھے، جب کہ پنجاب نے اگست کے شروع میں اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ہریانہ نے بھی 2 اگست سے نویں سے بارہویں تک کے طلبا کو اسکول بلانا شروع کیا تھا

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...