Powered By Blogger

جمعہ, اگست 13, 2021

ارتداد کے طوفان کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کو آگے آنا ہوگا !

بنگلور (اردو اخبار دنیا): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد آن لائن سہ روزہ اصلاح معاشرہ کانفرنس بعنوان 'مسلم لڑکیاں ارتداد کے دہانوں پر: اسباب اور حل' کی دوسری نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری اور مرکز کے تحفظ اسلام ہند کے سرپرست حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے فرمایا کہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی دین و اسلام ہے اور کائنات کے سارے انسانوں کی کامیابی صرف اور صرف اسلام میں ہے۔ دین و اسلام ایک عظیم نعمت ہے اور جو یہ نعمت چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اپنائے گا اسے دونوں جہاں میں سزا بھگتنی پڑے گی۔ کیونکہ یہی وہ نعمت ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ مولانا رحمانی نے فرمایا کہ افسوس کا مقام ہیکہ آج ہمیں اس نعمت کی قدر اور عظمت کا احساس نہیں ہے اور کتنے ہماری بہنیں اور بھائی ہیں جو ارتداد کا شکار ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فکری، عملی اور ذہنی ارتداد کی لہروں نے امت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے لیکن ہمیں مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ اس وقت مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی کے معاملات اپنے عروج پر ہیں۔ اور یہ ارتداد کے واقعات کوئی اتفاقی واقعات نہیں ہے بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی اور پوری تیاری و سازش کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کو ارتداد کا شکار بنایا جارہا ہے۔ جسکے پیچھے کئی فرقہ پرست تنظیمیں کام کررہی ہیں، غیر مسلم لڑکوں کو مسلمان لڑکیوں کو رجھانے، قریب کرنے اور پھر ان کا جنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائیل، لیپ ٹاپ، گاڑیاں وغیرہ دی جارہی ہے۔ اور باضابطہ ان کی فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ لو جہاد نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے، البتہ یہ شوشہ صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں انتقامی جذبہ ابھارا جائے اور خود مسلمانوں کو لوجہادمیں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کی دوسری وجہ یہ ہیکہ لڑکے لڑکیوں کا اختلاط ہورہا ہے، مخلوط تعلیم کی وجہ بے حیائی اور بے پردگی عام ہورہی، بے جا رسومات کی وجہ سے شادی بیاہ مہنگے ہورہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کے اس طوفان کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کے ہر ایک فرد بالخصوص علماء و دانشوران اور مذہبی و ملی تنظیموں کو میدان میں آنا ہوگا اور مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ مولانا نے فرمایا کہ ارتداد کو روکنے کیلئے ہمیں اپنے اندر دینی غیرت و حمیت پیدا کرنی چاہیے، مسجد کے منبر و محراب سے اس موضوع پر صاف صاف گفتگو کرنی چاہیے، مستورات کے اجتماعات منعقد کرنی چاہیے، اسکول اور کالجز میں پڑھنے والے بچوں سے بات کرنی چاہیے انہیں بتانا چاہئے کہ دونوں جہاں کی کامیابی صرف دین و اسلام میں ہے، اسی کے ساتھ مکاتب کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہئے، اپنے نونہالوں کے دلوں پر عقیدہ توحید و رسالت کو نقش کرنا چاہیے، ساتھ ہی ہمیں سماجی بیداری پیدا کرنی چاہیے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بیداری پیدا کرنی چاہیے- مولانا نے فرمایا کہ والدین کو خاص طور پر اپنے بچوں پر نگرانی کرنی چاہیے اور انکی ہر طرح سے ترتیب کرنی چاہیے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا محمود احمد خان دریابادی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد کا مسئلہ بڑا سنگین مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ فقط ملکی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے، جس سے دیگر مذاہب والے بھی شکار ہیں۔ اور یہ صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ لڑکوں کا بھی مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک میں اس مسئلے میں اب ایک سازش اور سیاست داخل ہوچکی ہے۔ اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو ارتداد کا شکار بنایا جارہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک تعداد اعلانیہ طور پر ارتداد کا شکار ہورہی ہے لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے عصری اسکولوں وکالجز میں زیر تعلیم نوجوان طبقہ حتیٰ کہ دیندار گھرانوں کے لڑکے لڑکیوں کی اکثریت فکری ارتداد میں مبتلا ہیں وہ بظاہر تو مسلمان ہیں مگر غیر شعوری طور پر انکے دلوں سے ایمان نکل رہا ہے۔ اور اپنے دین و مذہب کے سلسلے میں وہ مشکوک ہورہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں سب سے پہلے اس فکری ارتداد کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا دریابادی نے فرمایا کہ مسلم لڑکیوں میں بڑھتا ارتداد کی وجہ بے دینی، مخلوط تعلیم، بے پردگی اور شادی بیاہ میں بے جا رسوم و رواج ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دینی چاہیے اور شادی بیاہ کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن حضرت مولانا یحییٰ نعمانی صاحب نے فرمایا کہ ارتداد کی لہر اپنے عروج پر ہے لیکن جس قدر ہم لوگ کو اس مسئلے کے سلسلے میں غفلت کا شکار ہیں وہ قابل افسوس ہے۔ ماضی میں جب کبھی ارتداد کا کوئی ایک واقعہ بھی پیش آجاتا تو پوری امت بے چین ہوجاتی تھی لیکن آج ہزاروں مسلم لڑکے اور لڑکیاں مرتد ہورہے ہیں اور ہمارے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مولانا نے فرمایا کہ جس دین و مذہب کو ہمیں دوسروں تک پہنچانے تھا آج اسی دین و مذہب کے ماننے والے دوسرے مذاہب کو اپنا رہے ہیں۔ مولانا نعمانی نے فرمایا کہ ارتداد کی بنیادی وجہ بے دینی، جہالت، مخلوط تعلیم نظام اور مختلف شعبوں اور اداروں میں اجنبی مرد و عورت کا اختلاط ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایسی جگہوں پر شرم و حیا اور پردہ کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔ اور ایسے لوگوں میں دین کا شعور نہیں ہوتا۔مولانا نعمانی نے فرمایا کہ امت مسلمہ کے ہر ایک فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی مصروفیت کے علاوہ کچھ وقت اور سرمایہ ایسے لوگوں میں دین کا شعور پیدا کرنے کیلئے خرچ کریں اور امت کے نوجوانوں میں دینی اور ملی حمیت اور فکر پیدا کریں اور انہیں شرک اور کفر کی سنگینی سے واقف کروائیں جو وقت کی بہت اہم ترین ضروری ہے۔ مولانا یحییٰ نعمانی نے فرمایا کہ ضرورت ہے کہ ہم بیدار ہوں اور اس امت کے بھٹکتے لوگوں کی کچھ رہنمائی کرسکیں اور انھیں کفرو شرک سے بچاکر ایمان ودین کی محبت سے سرشار کردیں۔

قابل ذکر ہیکہ یہ اصلاح معاشرہ کانفرنس مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی بستوی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور قاری پرویز مشرف قاسمی کی نعتیہ کلام سے ہوا، جبکہ مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی بطور خاص شریک تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والے تمام اکابر علماء کرام نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا اور اس کانفرنس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام مقررین و سامعین اور مہمانان خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

تنہائی، امراضِ قلب کا سبب بننے کی بڑی وجہ اگست 13, 2021

  • (اردو اخبار دنیا)

تنہائی لوگوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، ماہرین صحت کے مطابق تنہائی کا شکار افراد کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔تنہائی کی وجہ سے جسم بعض ایسے ہارمون خارج کرتا ہے جو ڈپریشن اور تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں، ان میں کارٹیسول بہت نمایاں ہے، اس سے دل کے امراض، بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا جنم بھی ہوسکتا ہے۔

 

تحقیق بتاتی ہے کہ اگر آپ کی تنہائی بہت طویل ہو تو اس سے بہت گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہےکہ اگر انسان تنہا اور الگ تھلگ رہتا ہے تو اس سے امراضِ قلب کے خطرات 29 فیصد اور فالج کے خطرات 32 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق تنہائی بلڈ پریشر میں اضافے اور جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو شدید متاثر کرنے کی وجہ بنتی ہے

ناندیڑضلع میں بینرلگانے کی معمولی بات پرنوجوان کاقتل

عمری:12اگست (اردو اخبار دنیا)عمری تعلقہ کے موضع لمٹیک میںبینر لگانے کی معمولی بات پر چھ افراد نے گاوں کے نوجوان کومارپیٹ کی جس کی دوران علا ج موت ہوگئی۔عمری پولس اسٹیشن میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیاہے۔

لمٹیک کے مہیش سریش راو پاٹل 29سال 9اگست کو کھیت سے گاں کی سمت جارہے تھے اس وقت خشال موہن راو پاٹل ‘آدتیہ پاٹل‘سنیتا خشال پاٹل‘ترمبک مادھوراو پاٹل]شیلش ترمبک پاٹل‘ ماروتی عرف منوج اشوک پاٹل نے مہیش پاٹل کوگھر طلب کیااور جان سے مارنے کے مقصد سے اسکی زبردست پٹائی کردی ۔اس دوران ایک ملزم نے مہیش کے سر میں بیاٹ سے زبردست وار کیا جس کی وجہہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔نوجوان کو شدیدزخمی حالت میں عمری کے دیہی اسپتال میں داخل کیاگیا ۔

ڈاکٹرنے کہاکہ مریض کوما میں چلاگیااسلئے ناندیڑ منتقل کیاجائے ۔رشتہ داروں کے کہنے پر تیلنگانہ کے نظام آباد کے خانگی اسپتال میں نوجوان کو داخل کیاگیا۔مگر علاج کے دوران 12اگست کو نوجوان نے آخری سانس لی ۔اس معاملے میں مقتول کی والدہ کلاوتی پاٹل کی شکایت پر مذکورہ ملزمین کے خلاف مقدمہ دجر کیاگیا ہے۔ڈی وا ے ایس پی وکرانت گائیکواڑنے عمری کادورہ کیا۔مزید تفتیش پی آئی موہن بھوسلے کی رہنمائی میں اسسٹنٹ پی آئی رگھوناتھ شیوالے کررہے ہیں۔

مہاراشٹرمیں مکمل ٹیکہ کاری کے بعد ہی کالجوں کو کھولاجاسکتا ہے:اودئے سامنت

ناندیڑ:12اگست (اردو اخبار دنیا) طلباءاور والدین کی طرف سے کالج شروع کرنے کا مطالبہ ہے۔ مگر جب تک مکمل کورونا ویکسینیشن نہ ہو ، کالج کھولنے کا فیصلہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے وزیر اودے سامنت نے کہا کہ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے پوری ریاست میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

آج وہ سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی (ایس آر ٹی یونیورسٹی) کے سینیٹ ہال میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔وزیر ادے سامنت جو دو روزہ دورے پر ہیں نے آج نیشنل سروس اسکیم کے ان طلباءکو مبارکباد دی جو کوویڈ جنگجو ہیں۔ اس موقع پر ایم ایل اے موہن راو¿ ہمبرڈے ، ایم ایل اے بالاجی راو¿ کلیانکر ، وائس چانسلر ڈاکٹر ادھو بھوسلے ، کارگزار وائس چانسلر ڈاکٹر بیسن موجود تھے۔

تقریب کے بعد وزیر ادے سامنت نے صحافیوں سے گفتگو کی۔ پچھلے سات یا آٹھ سالوں سے ایس آر ٹی میں میں انا بھاو¿ ساٹھے اسٹڈی سنٹر کے قیام کا مطالبہ مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ ساتھ طلبہ تنظیموں نے بھی اٹھایا ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر انتظامی منظوری ملنے کے بعد یہ معاملہ ریاستی حکومت کے پاس زیر التوا تھا۔ تاہم وزیر ادے سمت نے کہا کہ یہ مسئلہ اگلے ماہ حل ہو جائے گا۔ایس آرٹی نیورسٹی کے دائرہ کار کے کالجوں کے آغاز کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ وائس چانسلر ڈاکٹر ادھو بھوسلے اور متعلقہ کلکٹر منصوبہ بندی کریں۔ اس کے بعد ریاستی حکومت اس معاملے پر غور کرے گی۔

سعودی عرب: حکام نے الریاض کی ایک کالونی میں آنے والا شیر پکڑ لیا

  • (اردو اخبار دنیا)

سعودی عرب کی اسپیشل فورسز فار انوائرمنٹل سیکورٹی کے سرکاری ترجمان میجر رائد المالکی نے بتایا کہ فورسز نے نیشنل سینٹر فار سیکورٹی آپریشنز (911) کی جانب سے ایک شکاری جانور (شیر) کی دارالحکومت الریاض کی ایک کالونی میں موجودگی کیا اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے شیر کر پکڑ لیا ہے۔ شیر کو پکڑنے کے آپریشن میں نیشنل وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ حکام اور پٹرولنگ پولیس نے تعاون کیا۔ شیر کو قابو کرنے کے بعد اسے ایک پناہ گاہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

 

میجر المالکی نے وضاحت کی کہ حکام نے اس واقعے کے پیچھے موجود محرکات اور ذمہ داروں کا پتا چلانے کے لیے انکوائری شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معدومیت کے خطرےسے دوچار جانوروں کی اسمگلنگ جیسے جرائم کے لیے مملکت میں کڑی سزا مقرر ہے اور اس میں ملوث عناصر کو 10 سال قید یا 30 ملین ریال جرمانہ یا ایک ساتھ دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

انہوں نےشہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی خریدو فروخت کے لیے ممنوعہ جانداروں کی درآمد ، برآمد ، منتقلی ، فروخت ، نمائش یا حصول کی کوشش کرنے والوں کے بارے میں مکہ مکرمہ اور ریاض کے علاقوں میں نمبر 911 اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہیلپ لائن 999 پر مجاز حکام کو فوری اطلاع دیں

ناندیڑ:شہر میں بی جے پی کے سابق عہدیدار پرفائرئنگ


ناندیڑ:12اگست (اردو اخبار دنیا)شہر میں کل رات مجرمین نے دھوم مچادی ۔ایک مقام پر اسلحہ کی دھاک پرتاجر کو لوٹاگیاجبکہ فائرئنگ کابھی ایک واقعہ رونما ہوا ۔اس فائرئنگ کے واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ بی جے پی یووا مورچہ کے سابق شہر صدر کو بدھ کی رات تقریبا 9 بجے گولی مار ی گئی۔ لیکن وہ اپنے گھر کے اندر بھاگ گئے جس کی وجہہ سے انکی جان بچ گئی۔

بی جے پی کے سابقہ عہدیدار سونو کلیانکر پر ہوئے حملہ کی واردات سی سی ٹی وی میںقید ہوئی ہے ۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولس کے اعلیٰ عہدیداران بھی جائے حادثہ پرپہنچ گئے تھے۔سونو کلیانکر شہر کے سرینگر علاقے میں اپنے گھر کے گیٹ پر بیٹھے تھے۔ رات 9 بجے کے قریب ٹو وہیلر پرسوار تین افراد انکےکے گھر کے سامنے آئے۔

ان میں سے دو نیچے اترے اور بندوق نکال کی سونو کے گھر کی سمت دوڑے اوراُن پرفائرئنگ کردی جیسے ہی حملہ آوروں کو سونو نے دیکھا وہ گھر کے اندردوڑگئے۔ا س طرح انکی جان بچ گئی۔نامعلوم حملہ آوروں نے 3راونڈفائر کیا۔اس واقعہ کے بعد سارے علاقہ میںدہشت کا ماحول تھا ۔اس معاملے میں بھاگیہ نگر پولس اسٹیشن میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے ۔

مسلم رکشہ والے سے جبراً لگوایا گیا ’جے شری رام‘ کا نعرہ، معصوم بیٹی مانگتی رہی رحم کی بھیک


(اردو اخبار دنیا)کانپور:اتر پردیش میں ایک بار پھر شرپسند افراد کے ذریعہ مسلم شخص پر ظلم و زیادتی کرنے اور اس سے جبراً ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعہ اتر پردیش کے کانپور کا ہے جہاں ہندوتوا ذہنیت کے لوگوں نے برسرعام ایک مسلم رکشہ والے کو زد و کوب کیا اور جبراً اس سے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگوائے۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں رکشہ والے کی معصوم بیٹی بھی نظر آ رہی ہے جو ہندوتوا بریگیڈ کے سامنے رحم کی بھیک مانگ رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اس کے والد کو چھوڑ دیں۔ لیکن شرپسند افراد نے اس معصوم بچی کی فریادوں پر کوئی توجہ نہیں دیا اور زور زور سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے۔

اس تعلق سے ’این ڈی ٹی وی‘ پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم رکشہ والے کا نام افسر ہے اور اسے بجرنگ دل کے کارکنوں نے بلاوجہ اپنے تشدد کا شکار بتایا۔ شائع رپورٹ کے مطابق کانپور کی ایک بستی میں دو پڑوسیوں قریشہ اور رانی کی فیملی میں موٹر سائیکل سے متعلق کسی ایشو پر جھگڑا ہوا تھا۔ اس جھگڑا کے بعد قریشہ نے رانی پر مار پیٹ کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بعد ازاں رانی نے قریشہ کے لڑکوں پر چھیڑخانی کا معاملہ درج کرا دیا۔ پھر بجرنگ دل کی اس پورے معاملے میں انٹری ہوئی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کسی کے کہنے پر رانی نے بجرنگ دل کارکنوں سے رابطہ کیا تھا جس کے پیش نظر بجرنگ دل کے لوگوں نے علاقہ میں پہنچ کر ایک میٹنگ کی، اور پھر قریشہ کے لڑکوں کو ڈھونڈتے ہوئے اس کے گھر پہنچے۔ شرپسندوں کو قریشہ کے بیٹے تو گھر پر نہیں ملے، لیکن قریشہ کے دیور سے باہر سڑک پر ملاقات ہو گئی۔ بجرنگ دل والوں نے وہیں پر اسے پیٹنا شروع کر دیا اور ’جے شری رام‘ کے نعرے بھی لگوائے۔ والد کی پٹائی ہوتی دیکھ ان کو بچانے کے لیے چھوٹی بیٹی سامنے آ گئی اور والد سے لپٹ کر رونے لگی۔ وہ بار بار حملہ آوروں سے انھیں چھوڑنے کی گزارش کرتی رہی لیکن انھیں رحم نہیں آیا۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ جس مسلم رکشہ والے یعنی افسر کی پٹائی حملہ آوروں نے کی، اس پر نہ ہی کوئی الزام ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس واقعہ کے تعلق سے کانپور بجرنگ دل کے ضلع کنوینر دلیپ سنگھ بجرنگی نے کہا کہ ’’ہم ہندو سماج کو تکلیف نہیں پہنچنے دیں گے۔ ہم اپنے سناتن مذہب کو بچانے کے لیے خود اہل ہیں۔ اگر ہماری ہندو فیملی کسی بھی طرح سے پریشان رہے گی تو ہم اس کے لیے ڈھال بن کر کھڑے ہیں۔‘‘

 

اس پورے معاملے میں قریشہ بیگم کا کہنا ہے کہ رانی کے دروازے پر موٹر سائیکل کی ٹکر سے شروع ہوئے جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے جو مناسب نہیں۔ اس درمیان پولیس نے موقع پر پہنچ کر افسر کی جان بچائی اور ان کی طرف سے کچھ لوگوں پر مار پیٹ کی ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔ اے سی پی کانپور ساؤتھ، روینہ تیاگی نے اس تعلق سے ایک بیان میں کہا کہ ’’متاثرہ کی تحریر کی بنیاد پر کچھ نامزد اور کچھ نامعلوم اشخاص کے خلاف مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے۔ معاملے میں کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...