Powered By Blogger

جمعرات, اگست 12, 2021

یوپی میں سیلاب : 24 اضلاع کے 605 گاؤں سیلاب زده قرار ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر متعدد

لکھنؤ(, اردو اخبار دنیا): اتر پردیش کی اہم ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں، جس کے سبب 24 اضلاع کے 600 سے زیادہ گاؤں کو سیلاب سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ریاست کے 24 اضلاع میں سیلاب زدہ گاؤں کی تعداد 605 ہو گئی ہے۔

اسکولی بچوں پر کورونا کا قہر شروع، بنگلورو میں 300 بچے پازیٹو، پنجاب-ہریانہ میں بھی حالات فکر انگیز

آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق راحت کمشنر رنویر پرساد نے بتایا کہ بدایوں، الہ آباد (پریاگ راج)، مرزاپور، وارانسی، غازی پور اور بلیا ضلع میں دریائے گنگا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوریا، جالون، حمیرپور، باندہ اور الہ آباد میں جمنا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے، جبکہ حمیرپور میں بیتوا ندی اپھان پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لکھیم پور کھیری میں شاردا ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے اور اسی طرح گونڈا میں کوانوں اور اتر پردیش راجستھان سرحد پر چمبل ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ حمیر پور ضلع میں 75، باندہ میں 71، اٹاوہ اور جالون میں 67-67، وارانسی میں 42، کوشامبی میں 38، چندولی اور غازی پور میں 37-37، اوریا میں 25، کانپور دیہات اور الہ آباد میں 24-24، فرخ آباد میں 23، آگرہ میں 20 اور بلیا ضلع میں 17 گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں۔

گراؤنڈ رپورٹ: مہنگائی اور بے روزگاری سے عاجز آ چکے یوپی کے عوام اب تبدیلی کی خواہشمند

رنویر پرساد نے کہا کہ مرزاپور، گورکھپور، سیتاپور، مئو، لکھیم پور کھیری، شاہجہانپور، بہرائچ، گونڈا اور کانپور ضلع میں بھی سلاب کی تباہی نظر آ رہی ہے۔ راحت کمشنر نے کہا، ''ریاستی حکومت نے 9 اضلاع میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 9 ٹیمیں، 11 اضلاع میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 11 ٹیمیں اور 39 اضلاع میں پروونشیل آرمد کانسٹوبلری (پی اے سی) کی 39 ٹیموں کو راحت اور بچاؤ کی مہم پر مامور کیا گیا ہے۔''

ملک بھر سے ٹول پلازہ جلد ختم ہو جائے گا ، مرکزی حکومت 3 ماہ میں جی پی ایس ٹول سسٹم کے لیے لائے گی نئی پالیسی


نئی دہلی(اردو اخبار دنیا). مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی پورے ملک سے ٹول پلازے ختم کر دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے پورے ملک میں جی پی ایس پر مبنی ٹول سسٹم کا انتظام کیا جائے گا۔ آسان الفاظ میں سمجھ لیں ، جب آپ اپنی گاڑی لے کر ٹول ٹیکس کے ساتھ سڑک پر جائیں گے ، تو یہ پر مبنی ٹول سسٹم خود بخود ٹول ٹیکس جمع کر لے گا۔ اس سے لوگوں کو ٹول پلازوں پر لمبی لائنوں میں اپنی باری کے انتظار کی پریشانی سے نجات مل جائے گی۔ مرکزی روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) پروگرام میں بتایا کہ 3 ماہ کے اندر حکومت جی پی ایس پر مبنی ٹریکنگ ٹول سسٹم کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائے گی۔
مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ اس وقت ملک میں جی پی ایس پر مبنی ٹول ٹیکس وصولی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ حکومت اس طرح کی ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ مارچ 2021 میں ہی انہوں نے کہا تھا کہ حکومت جلد ہی پورے ملک سے ٹول بوتھ ختم کر دے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک سال کے اندر ٹول پلازوں کی جگہ جی پی ایس سے چلنے والا ٹول کلیکشن سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ اس دوران انہوں نے سڑک بنانے والی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ سڑک کی تعمیر کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے سیمنٹ اور سٹیل کا استعمال کم کریں۔ انہوں نے ایک بار پھر گھریلو سٹیل اور سیمنٹ کمپنیوں پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔
گڈکری نے کنسلٹنٹس سے اپیل کی کہ وہ سڑک کی تعمیر میں سیمنٹ اور سٹیل کی مقدار کو کم کرنے کے لیے نئے آئیڈیا لے کر آئیں۔ ساتھ ہی لوک سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایوان کو یقین دلایا تھا کہ ایک سال میں تمام ٹول بوتھ پورے ملک سے ہٹا دیے جائیں گے۔ ٹول کی وصولی کے ذریعے کی جائے گی یعنی ٹول کی رقم گاڑیوں پر نصب امیجنگ کے مطابق وصول کی جائے گی۔ گڈکری نے دسمبر 2020 میں کہا تھا کہ نیا جی پی ایس پر مبنی نظام روسی مہارت کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔ اس نظام میں گاڑی کے ذریعے طے کردہ فاصلے کے مطابق اکاؤنٹ یا ای والٹ سے ٹول ٹیکس کاٹا جائے گا۔ اس کے ساتھ ، حکومت پرانی گاڑیوں کو سے لیس کرنے کی بھی کوشش کرے گی۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اس وقت ملک بھر میں کے ساتھ الیکٹرانک ٹول کلیکشن سسٹم نافذ ہے

پارلیمنٹ میں دھکامکی کا ویڈیوآیاسامنے

پارلیمنٹ میں دھکامکی کا ویڈیوآیاسامنے

پارلیمنٹ میں دھکامکی کا ویڈیوآیاسامنے
پارلیمنٹ میں دھکامکی کا ویڈیوآیاسامنے

(اردو اخبار دنیا)مانسون سیشن کے دوران بدھ کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ زور پکڑ رہا ہے۔ راہل گاندھی سمیت 15 اپوزیشن لیڈروں نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا تھا، پھر مرکزی حکومت اس معاملے پر دفاعی پوزیشن میں آ گئی تھی۔

اب اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ اس کے جواب میں مرکزی وزراء نے جمعرات کی سہ پہر پریس کانفرنس کی۔ اس دوران وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ اپوزیشن نے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا کام کیا اور اس کے لیے اسے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔ اپوزیشن مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ پوری حکمران جماعت چاہتی ہے کہ ایوان چلے۔

لیکن ، اپوزیشن نے ایوان کا وقار گرادیا۔ وزیر کے ہاتھوں سے جواب چھینا گیاجب معافی مانگنے کوکہاگیا تو واضح طور پر کہا گیا کہ میں معافی نہیں مانگوں گا۔ چیمبر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران خاتون مارشل کو زخمی ہوتے دیکھ کر دکھ ہوا۔ ہم نے اس پر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ موٹی رول بک کرسی کی طرف پھینکی گئی۔

اگر کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتا تو وہ زخمی ہو جاتا۔ یہ بہت برا حملہ تھا۔ گوئل نے کہا- جو تصویر کانگریس اور آپ کے ارکان پارلیمنٹ نے ملک کے سامنے رکھی ہے ، ایک بڑا سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ آپ ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ہمارے نوجوان اس سے کیا سیکھیں گے؟ پارلیمانی امور کے وزیر پرلہاد جوشی نے کہا ، 'پارلیمنٹ میں جو ہوا وہ شرمناک تھا۔ ہم نے اپوزیشن سے کئی بار بات کی۔

پہلے ہی دن ، ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ افتتاحی دن وزراء کو متعارف کرانے کا موقع دیں۔ یہ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے چیئرمین اور اسپیکر کے سامنے جو بھی مطالبات رکھے ، وہ مان لیے گئے۔ اس کے بعد وہ پیگاسس کا مسئلہ لے کر آیا اور اپنے طور پر بیانات دینے لگا۔ جب معاملات پہلے ہی طے ہوچکے ہیں تو کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے ایوان کو کیوں نہیں چلنے دیا۔

جمعرات کو منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ احتجاج کر رہے تھے اور اس دوران ان کو سنبھالنے کے لیے مارشل طلب کیے گئے۔ ارکان پارلیمنٹ اور مارشل کے درمیان جھگڑا واضح طور پر نظر آتا ہے۔

تصویر میں کچھ ارکان پارلیمنٹ میز پر چڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ بھی واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ کچھ خواتین ارکان پارلیمنٹ کو بھی دھکا دیا گیا۔ بدھ کو ایوان میں ہنگامہ آرائی کے خلاف اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو احتجاجی مارچ کیا۔

انھوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ایوان میں مارشلوں پر حملہ کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو ایوان میں مارا پیٹا گیا ہے۔ ساتھ ہی ڈی ایم کے نے کہا کہ ہماری خواتین ارکان پارلیمنٹ کو بھی دھکا دیا گیا اور مارا پیٹا گیا۔


بریکینگ نیوز: مہاراشٹر میں 17 اگست سے اسکول نہیں کھولیں گے

ممبئی:12.اگست۔(اردو اخبار دنیا)ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیمات نے ریاست بھر میں 17 اگست سے اسکول شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مگر ریاست میں کورونا کے حالات پر نظرِ رکھنے کیلئے تشکیل ٹاسک فورس نے اسکول کھولنے کی مخالفت کی تھی۔اس ضمن میں کل رات وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ابھی ریاست میں کہیں بھی اسکول شروع نہیں ہوں گے۔

سال نو کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام

(اردو اخبار دنیا)مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور ذی الحجہ پر ختم ہوجاتا ہے ، ، یاد رکھیے کہ ہمارے ہجری سن کی بڑی دینی ، ملی اور تاریخی حیثیت ہے ، مسلمانوں کو اس عظیم ہجرت کی یاد دلاتا ہے جس نے دنیا کی مذہبی تاریخ کا نقشہ تبدیل کر دیا اور اسلام کو پھیلنے اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا راستہ کھول، ہمیں یہ یاد دلاتاہے کہ اسلام اور ایمان کے لئے تمہیں اپنا گھر بار ، مال ودولت کو بھی چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دو؛ لیکن اسلام کو نہ چھوڑو اور ایمان پر بٹہ نہ لگاؤ گویا جس طرح اس کی تاریخی حیثیت ہے اسی طرح اس کی شرعی حیثت بھی ہے ، قرآن مجید میں رب کائنات کا ارشاد ہے ، یسئلونک عن الاھلہ قل ھی مواقیت للناس والحج ہم نے تمہارے لئے چاند کو اور چاند کے تغیرات کو میقات بنا دیا ہے، یعنی ہماری اکثر عبادتوں کا انحصار رویت ہلال سے متعلق ہے ، خصوصا ان عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے رمضان المبارک کے روزے ، حج کے مہینے، محرم اور شب برأت وغیرہ سے متعلق احکام سب رویت ہلا ل سے متعلق ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ قمری حساب کو بھلاتے جا رہے ہیں، صرف معدودے چند ملی وتعلیمی اداروں میں یہ نظام رائج ہے ، ورنہ عام طور پر اس کا رواج کم تر ہوتا جا رہا ہے ، حتی کہ کلنڈروں سے بھی قمری مہینوں کے اعداد وشمار غائب ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے طور پر یاد نہیں رہتے ہیں، حالانکہ ہر قوم نے اپنا حساب وکتاب رکھنے کی ایک تاریخ مقرر کی ہے ، ہندوستان میں عیسوی سن کی مقبولیت ہے ، اور انگریزوں کے اثرات کی وجہ سے انگریزی سن رائج ہوئے جس کا سن جنوری سال سے شروع ہوتا ہے، ہندوں کے یہاں بکرمی حساب رائج ہے ، مگر مسلمانوں کا نیا سال ہجرت سے شروع ہوتا ہے جس کا باضابطہ استعمال عہد نبوت میں تونہیں ہوسکا البتہ حضرت عمر ؓ کے عہد خلافت سے رائج ہے اور تاریخ کے ہر دور میں اس کا چلن رہا ، جواب کمزور پڑ تا جا رہا ہے، اگر ہم صرف دفتری اور کاروباری معاملات میں جن کا تعلق سرکاری دفاتر یا غیر مسلموں سے ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی اپنے دینی اداروں اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری تاریخوں کا استعمال کریں تو اس سے ہمارا ملی شعار بھی محفوظ رہے گا، اور اتباع سنت کی وجہ سے یہ موجب برکت وثواب بھی ہوگا، اس موقع سے مسلمانوں کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ اس کا یہ سال پچھلے سال کے مقابلہ میں کہیں اچھا رہے گا، اعمال کی درستگی اور بہتر انداز میں ہوگی ، شریعت کی پوری طرح پاسداری کی جائے گی، لوگوں کو ایک اور نیک بننے کی تلقین کی جائے گی خود کو اور دوسروں کو راہ راست پر لگا یا جائے گا جس سے دنیا وآخرت دونوں کی کامیابی نصیب ہو، سال کا پہلا مہینہ محرم بڑی عظمت والا مہینہ ہے، اس مہینہ میں نفلی روزہ رکھنا اللہ کو بہت زیادہ پسند ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ میں روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو اس کے روزہ کا حکم دیا اور یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لئے دو دن کے روزے کا حکم فرمایا ، اس لئے آپ بھی عاشورہ کا روزہ رکھئے، ۹؍ اور ۱۰؍ محرم یا ۱۰ ؍ اور ۱۱؍ محرم کو روزہ رکھئے اور اپنے بالغ اہل وعیال کو بھی اس کی ترغیب دیجئے نیز اپنے اہل وعیال کے کھانے پینے کی چیزوں میں فراخی سے کام لیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن کی برکت سے سال بھر رزق میں فراخی عطا فرماتے ہیں، جو لوگ عشرہ محرم میں ڈھول ، تاشے اور مجرے کی محفلیں سجاتے ہیں، وہ گناہ کرتے ہیں،مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔

کیاڈیمنشیا کی شناخت صرف ایک دن میں ممکن ہے؟

کیاڈیمنشیا کی شناخت صرف ایک دن میں ممکن ہے؟

کیا ڈیمنشیا کی شناخت صرف ایک دن میں ممکن ہے؟
کیا ڈیمنشیا کی شناخت صرف ایک دن میں ممکن ہے؟(اردو اخبار دنیا)

لندن:اگرچہ اب طب و صحت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اب اسے ڈیمنشیا(Dementia) جیسے مرض کے لیے بھی آزمایا گیا ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (artificial intelligence) کی بدولت اب ڈیمنشیا جیسے مرض کو صرف ایک اسکین سے شناخت کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس طرح بیماری کی شدت سے پہلے ہی موذی مرض کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج سے وابستہ ڈاکٹر ٹموتھی رِٹمان نے یہ تحقیق کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس سے ڈیمنشیا جیسے تکلیف دہ اور پیچیدہ مرض کی شناخت بہت پہلے ممکن ہوگی جس سے علاج کے نئی راہیں کھلیں گی اور جلد ہی انسانوں پر باقاعدہ اس کی آزمائش کی جائے گی۔

یہ ایک حیرت انگیز پیش رفت ہے جو لوگوں کو برباد کرنے والے مرض سے متعلق ہے۔

ڈاکٹر ٹموتھی نے کہا کہ اب میں کسی مریض کو قدرے اعتماد سے آگاہ کرسکتا ہوں کہ یہ مرض کس درجے پر ہے اور کیسے آگے بڑھے گا۔ اس سے ان کی زندگی کو آسان کرنے اور علاج میں بہت مدد ملے گی۔

پہلے مرحلےمیں کیمبرج میں واقع ایڈن بروکس ہسپتال اور دیگر شفاخانوں کے 500 مریضوں پر اسے آزمایا جائے گا۔

اس کا الگورتھم خاص طور پر بنایا گیا ہے جو دماغی اسکین میں موجود بعض خدوخال کو دیکھکر مرض کی پیشگوئی کرے گا اور بعد ازاں ڈاکٹراس کا حقیقی انداز میں جائزہ لیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی شناخت کے بعد اس مرض کی شدت روکنے میں بہت مدد ملے گی اور مزید نقصان سے بچاجاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر لارا فِپس کہتی ہیں کہ اصل حملے سے 15 تا 20 برس پہلے اس مرض کی پیشگوئی ممکن ہے تاہم اے آئی سے اس میں مزید سہولت ملتی ہے۔ اس وقت ڈیمنشیا کی شناخت کے لیے پہلے دماغ کے اسکین لیے جاتے ہیں، اس کے بعد کئی مرتبہ اکتساب اور دماغی صلاحیت کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔

لیکن اے آئی سے یہ کام بہت تیز ہوجائے گا اس طرح ڈیمنشیا کے ممکنہ مریض اور ان کے خاندانوں کو بہت سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔

تاہم بعض ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے کہا ہے کہ صرف ایک اسکین یا ایک بایومارکر سے ڈیمنشیا کی کامل شناخت نہیں ہوسکتی اور اس کے لیےضروری ہے کہ مریض کے کئی ٹیسٹ لئے جائیں انہوں نے اعتراف کیا کہ اے آئی سے اس مرض کی شناخت میں مدد لی جاسکتی ہے۔

اس پر ڈاکٹر ٹموتھی نے کہا کہ اسی لیے وہ مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر پہلے 500 مریضوں پر آزمائیں گے اور اس کے بعد ان تمام مریضوں کا روایتی طریقوں سے جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد اے آئی کی افادیت سامنے آسکے گی۔

گراؤنڈ رپورٹ : مہنگائی اور بے روزگاری سے عاجز آ چکے عوام کو تبدیلی کی خواہش

(اردو اخبار دنیا)اتر پردیش میں انتخابی بگل بج چکا ہے اور کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں اب اپنے اپنے طریقہ سے انتخابی تشہیر میں مصروف ہو چکی ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ کی ٹیم بھی اپنے قارئین کے لئے زمینی اور غیر جانبدار رپورٹ پیش کرنے کے لئے پابند ہے۔ عوام کے مزاج کا جائزہ لینے والی اس رپورٹ میں اتر پردیش کے ضلع بجنور کے عوام بتا رہے ہیں کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری سے کس طرح تنگ آچکے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ان کے مشکل حالات نوٹ بندی سے شروع ہوئے تھے اور آج تک وہ سنبھل نہیں پائے ہیں۔

اسرو کو بڑا جھٹکا! تکنیکی گڑبڑی کے سبب 'جی سیٹ' مشن ناکام

دہلی-پوڑی قومی شاہراہ پر 135 کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد بجنور کا مشہور نمائش میدان کا چوراہے کا نظارہ صوبے میں انتخابات کی تیز ہوتی رفتار کا اشارہ دیتا ہے۔ اس چوراہے کی چاروں سمت پر سڑک کے کنارے بی جے پی کے لیڈران کے درجنوں ہورڈنگ نصب کئے گئے ہیں۔ ڈی ایم اور ایس پی دفتر کی جانب جانے والی جنوبی سڑک پر یہاں سے 200 میٹر کے فاصلہ پر تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کے دفاتر موجود ہیں۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کا کہنا ہے کہ جو ہورڈنگ یہاں نصب کئے گئے ہیں ان میں سے آدھے ایسے ہیں جن کے لئے اجازت طلب نہیں کی گئی۔

بی ایس پی کے جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا بجنور میں 14 اگست کو روشن خیال لوگوں کے ایک سیمینار کا اہتمام کر رہے ہیں، جبکہ پاس ہی موجود سماج وادی پارٹی کے دفتر میں پارٹی کارکنان نئے ووٹ بنوانے کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہیں کانگریس کے دفتر میں مہنگائی کے خلاف عوام کی آواز بلند کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما خورشید منصوری کا کہنا ہے کہ پوری حزب اختلاف انتخابات کی تیاریوں میں جوش و جذبہ کے ساتھ مصروف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام دشمن اس حکومت سے لوگ تنگ آچکے ہیں۔

بجنور کی اس ہلچل سے دور ضلع کے قصبہ نجیب آباد کا ماحول پرسکون ہے۔ اتر پردیش میں ہفتہ وار اتوار بازار بند رہتے ہیں، تاہم کچھ دکاندار اپنی دکان کا شٹر گرا کر باہر بیٹھے ہیں۔ اچل گوئل کا کہنا ہے کہ جب گاہک آتا ہے تو وہ سامان نکال کر دے دیتے ہیں، حالانکہ انہوں نے فوٹو کھنچوانے سے انکار دیا۔ اچل کا کہنا ہے کہ ان پر جرمانہ عائد ہو جائے گا اور پھر اس رقم کو کمانے میں انہیں تین دن لگیں گے، آج بھی یہاں اس لئے بیٹھے ہیں کہ دکان کا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

نجیب آباد سے ہریدوار جانے والی سڑک پر جلال آباد کے قریب بند پڑے سائیں ڈھابہ پر بیٹھے ندیم کا کہنا ہے کہ کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ کاریگر گھر چلے گئے ہیں۔ ہم ان کی تنخواہ بھی ادا کرنے سے قاصر تھے۔ گاہک بھی نہیں آ رہے ہیں۔ یہ ہریدوار کا مرکزی راستہ ہے، پہلے ہزاروں گاڑیاں یہاں سے گزرتی تھیں لیکن اب ان کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ ندیم کا کہنا ہے کہ کاروبار ٹھہر سا گیا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ یہاں لوگوں میں بھائی چارگی بہت زیادہ ہے اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کام نہیں کرتا۔ ندیم بتاتے ہیں کہ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ یہیں موجود ببلو نے کہا کہ اس حکومت کی رخصتی ضروری ہے کیونکہ مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور حکومت اس مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تقسیم کی سیاست کر رہی ہے اور اس کا ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اسی اسمبلی کے قصبے ساہن پور کے ایک دلت اکثریتی علاقے نئی بستی میں ہمیں دیکھ کر کچھ لوگ جمع ہو گئے اور کئی طرح کی شکایتیں کیں۔ خاص طور پر کچھ خواتین بھی گھر سے باہر نکل آئیں۔ ان تمام لوگوں کی بنیادی شکایت پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بنائے گئے گھروں سے متعلق ہے۔ یہاں پیشہ سے استاد نتن کمار بتاتے ہیں کہ مقامی نگر پنچایت کے نمائندوں اور مکانات کی تعمیر کے ٹھیکیداروں نے مل کر امیروں کے لیے دو منزلہ عمارت بنائی ہے جبکہ غریب کھلی چھت کے نیچے سو رہے ہیں۔ 70 سالہ شانتی دیوی اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتی ہیں، کہ پیسے دیئے بغیر فارم نہیں بھر پائیں۔ بھیم آرمی کے کارکن وسیم شیخ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار اس کے بارے میں شکایت کی ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ نتن کمار کہتے ہیں کہ اس حکومت میں بدعنوانی بہت بڑھ گئی ہے۔ یہاں پردھان منتری آواس یوجنا میں 20 ہزار کی رشوت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ غریب کہاں سے اتنی رقم دیں گے؟

یہاں بیٹھے 65 سالہ شری رام کہتے ہیں کہ بہترین حکومت کانگریس کی تھی۔ اس حکومت میں کوئی پریشانی نہیں تھی۔ مایاوتی اور اکھلیش کی حکومتیں بھی رہی ہیں لیکن اس حکومت میں ہر کوئی پریشان ہو گیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ مزدوری بھی نہیں لگ پا رہی ہے۔ مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ گیس سلنڈر 900 روپے کا ہو گیا ہے۔ سرسوں کا تیل 200 روپے فی کلو ہے۔ اب آپ لکڑی کے چولہے پر واپس بھی نہیں جا سکتے۔ گیس سلنڈر ایک عادت بن چکی ہے خواتین اب لکڑی کے چولہے پر کھانا نہیں بنا سکتیں۔ اب مفت گیس سلنڈر حاصل کرنے کے نقصانات قابل فہم ہیں۔

یہاں پر موجود یوگیش راجپوت بتاتے ہیں کہ حکومت بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن یوگی حکومت نے غنڈہ گردی ختم کر دی ہے، حالانکہ نتن اپنی بات کے بیچ میں کہتے ہیں کہ غنڈہ گردی تو اب بھی جاری ہے، بس غنڈوں کے چہرے بدل گئے ہیں۔

بجنور کے مسلم اکثریتی گاؤں علی پورہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ روزگار ان کا پہلا مسئلہ ہے۔ یوں لگتا ہے گویا ان کی خوشیاں ان سے روٹھ گئی ہیں۔ یہاں محمد ذاکر کہتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ نوٹ بندی کے جھٹکے سے لوگ ابھر نہیں پائے ہیں اور کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔ صرف اس گاؤں میں ہی ایک ہزار لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں جبکہ گاؤں کی آبادی تقریباً 5 ہزار کی ہے۔ ہر گھر میں ایک بے روزگار ضرور مل جائے گا۔ یہاں کے محمد امجد بتاتے ہیں کہ بی جے پی کو فرقہ وارانہ تقسیم کا فائدہ ملتا ہے، اس لیے اسے عوام کے غصے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ امجد نے کہا کہ اسد الدین اویسی بھی ایسا ہی کرنے یہاں آ رہے ہیں۔

احسان احمد مقامی ایم ایل اے تسلیم احمد سے ناراض ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 2012 میں نجیب آباد اسمبلی سیٹ کو محفوظ سیٹ سے جنرل بنایا گیا تھا، تب سے تسلیم احمد ایم ایل اے ہیں۔ انہوں نے اس بار سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا تھا۔ احسان کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار سال تک انہوں نے گاؤں کی کوئی خبر نہیں لی۔ حکومت کو کیا الزام دیں، جب وہی پروا نہیں کرتا جسے بھائی سمجھ کرجتیاتھا

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...