Powered By Blogger

جمعہ, اگست 20, 2021

مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت

مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت

مکہ،مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت
مکہ،مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت

ریاض(اردو اخبار دنیا)

قانونی مشیر جعفر جمل اللیل نے آگاہ کیا ہے کہ کوئی بھی غیرملکی کسی بھی سعودی کے نام سے مکہ اور مدینہ منورہ میں غیر منقولہ جائدادوں کا مالک نہیں بن سکتا- تجارتی پردہ پوشی کے ذریعے مالک بننے کی کوشش کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا-

اس قسم کی جائداد نیلام کی جاسکتی ہے- سبق ویب سائٹ کے مطابق قانونی مشیر نے بتایا کہ غیرملکی مکہ اور مدینہ منورہ کے مقدس علاقوں میں زمینوں کے مالک صرف ورثے کی صورت میں بن سکتے ہیں۔ جائیدادوں سے استفادے کا حق بھی صرف وراثتی طور پر ہی ممکن ہوگا-

قانونی مشیر سے دریافت کیا گیا کہ ’کیا غیرملکی سعودی عرب میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں‘؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس علاقوں کے علاوہ غیرملکی سعودی عرب میں کسی بھی مقام پر جائیدادوں کے مالک بن سکتے ہیں-

اس کے لیے انہیں وزارت داخلہ سے منظوری لینا ہوتی ہے- غیرملکی رہائشی مکان خرید سکتے ہیں تاہم ایک سے زیادہ مکان خریدنے کے مجاز نہیں- غیرملکیوں کے لیے مقرر قانون ملکیت کی دفعہ 2 میں اس 

(اردو اخبار دنیا)مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت

مکہ،مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت


مکہ،مدینہ میں غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی مشروط اجازت


ریاض


قانونی مشیر جعفر جمل اللیل نے آگاہ کیا ہے کہ کوئی بھی غیرملکی کسی بھی سعودی کے نام سے مکہ اور مدینہ منورہ میں غیر منقولہ جائدادوں کا مالک نہیں بن سکتا- تجارتی پردہ پوشی کے ذریعے مالک بننے کی کوشش کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا-


اس قسم کی جائداد نیلام کی جاسکتی ہے- سبق ویب سائٹ کے مطابق قانونی مشیر نے بتایا کہ غیرملکی مکہ اور مدینہ منورہ کے مقدس علاقوں میں زمینوں کے مالک صرف ورثے کی صورت میں بن سکتے ہیں۔ جائیدادوں سے استفادے کا حق بھی صرف وراثتی طور پر ہی ممکن ہوگا-


قانونی مشیر سے دریافت کیا گیا کہ ’کیا غیرملکی سعودی عرب میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں‘؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس علاقوں کے علاوہ غیرملکی سعودی عرب میں کسی بھی مقام پر جائیدادوں کے مالک بن سکتے ہیں-


اس کے لیے انہیں وزارت داخلہ سے منظوری لینا ہوتی ہے- غیرملکی رہائشی مکان خرید سکتے ہیں تاہم ایک سے زیادہ مکان خریدنے کے مجاز نہیں- غیرملکیوں کے لیے مقرر قانون ملکیت کی دفعہ 2 میں اس 

مرکزی حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں 4 فیصد ریزرویشن کوٹہ ختم کر دیا ، جانیے کونسا طبقہ نقصان اٹھائے گا

نئی دہلی: 20.اگست۔مرکزی حکومت نے نوکریوں میں معذور افراد کے لیے چار فیصد ریزرویشن کا کوٹہ ختم کر دیا ہے۔ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے بعض اداروں کو رائٹس آف پرسنز ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2016 کے دائرہ کار سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جس میں معذور افراد کے لیے ملازمت میں ریزرویشن کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

اس ایکٹ کے تحت ، معذور افراد پولیس فورس ، ریلوے پروٹیکشن فورس جیسے یونٹس میں تقرریوں میں چار فیصد ریزرویشن حاصل کرتے تھے ، جسے اب ختم کر دیا گیا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کےپہلے میں ، حکومت نے انڈین پولیس سروس ، دہلی ، انڈمان و نکوبار جزائر ، لکشدیپ ، دمن اور دیو اور دادرا اور نگر حویلی کے تمام عہدوں کو پولیس سروس کے تحت اور انڈین ریلوے پروٹیکشن فورس سروس کے تحت تمام زمروں میں ریزرویشن لاگو نہ کرنے کی چھوٹ دی ہے۔

سانحۂ کربلا کی عصری معنویت ۔ ڈاکٹرقمر صدیقی

سانحۂ کربلا کی عصری معنویت ۔ ڈاکٹرقمر صدیقی(اردو اخبار دنیا)۱۰ محرم ۶۱ ھجری میں کربلا کی سرزمین پر پیغمرِ اسلام حضرت محمد ؐ کے نواسے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت نے بنی نوع انسان کو انسانیت کی سربلندی کے لیے برائی کی خلاف جد جہد کا درس دیا۔ان کی اس قربانی کو تاقیامت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔امام حسینؓ نے اُس وقت جبراً تبدیل کی جارہی سیاسی، معاشی اور تہذیبی صورتِ حال کے خلاف عَلم بلند کیا تھا جب اسلامی طرزِ حکومت یعنی ''خلافت'' کو مٹانے کے اقدامات ہورہے تھے، جب خلافت 'ملوکیت' میں تبدیل ہورہی تھی، جب اسلامی تمدن کو غیر اسلامی اور خاندانی عصبیت کے رُخ پر موڑنے کے مذموم سازشیں کی جارہی تھیں، جب مذہبی مجالیس میں سب شتم نے اپنی جگہ بنا لی تھی، جب عہد اور بد عہدی میں تفریق کرنے والوںکو گوشہ نشینی پر مجبور کیا جانے لگا تھا ۔ ایک ایسے وقت میں جب برائی نے مختلف جہتوں سے اپنے پاؤں پسارنے شروع کردیئے تھے، امام حسینؓ نے ان برائیوں کے سد باب کے لیے عملی قدم اٹھایا۔ کربلا کی تاریخ سے کیا اہل علم و دانش اور کیا ہم جیسے معمولی علم رکھنے والے سبھی واقف ہیں۔لہٰذا آج کے اس پر فتن دور میں اس کی اشد ضرورت ہے کہ ہم غور کریں کہ کربلا کی تاریخ سے ہم نے کیا سیکھا ہے۔ دونوں عالمی جنگوں کی ہولناک تباہی اور ایٹمی دھماکوں کے سبب موت کی ہیبت کا آنکھوں میں بس جانا، خانہ جنگی، دہشت گردی اور ان سب وجوہات کی باعث موجودہ صدی میں انسانی زندگی کی بے وقعتی کی وجہ سے دانشوروں کی فکر، جذ بے اور اعصاب پر خاتمے کا احساس کچھ اس درجہ حاوی ہوگیا ہے کہ ہمارے دور کو ''عہدِ مرگ'' کے نام سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارا ذہن فنا کےتصور سے بالکل عاری ہے بلکہ ہمارے حافظے میں آتشِ نمرود سے ریگزارِ کربلا تک کی داستانِ شجاعت اب بھی محفوظ ہے ۔ طوفانِ نوح کا علم سب کو ہے اور قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا اس سے بھی ہم آگاہ ہیں۔ لیکن آج جس طرح سماج دشمن اور انسان دشمن لوگوں نے ٹکنالوجی کے مخصوص استعمال کے ذریعے انسانوں کی موت کو اتنا سستا اور آسان بنا دیا ہے کے اس باعث خاتمے کے احساس نے انسان کو اندرسے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صرف اکیسویں صدی کے اِن 18برسوں می تشدد کے سبب اتنی اموات ہوئی ہیں ،کہ اتنی اموات پچھلے دو سو سال میں نہیں ہوئیں۔ شاید ولیم فاکنر نے صحیح کہا تھا: ''آج ہر آدمی کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ میں کب کہاں بھَک سے اُڑ جائوں ''۔ ایک ایسے دور میں جب احساسِ مرگ نہ صرف انسان کے ذہن بلکہ اعصاب پر بھی سوار ہوچکا ہے، 'کربلا' سے حاصل کیے گئے سبق کا اعادہ کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ کربلا تاریخ کا ایک واقعہ ہی نہیں بلکہ مسلسل جد و جہد کا استعارہ بھی ہے۔ سال بیلو نے تحریر کیا تھا کہ '' انسان ہونے کے کیا معنی ہیں؟ایک شہر میں، ایک صدی میں، ایک ہجوم میں ، ایک تغیر میں جسے سائنس نے ایک منٹ میں بدل دیا ہے۔ ایک منظم قوت جس نے کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جو میکانکی عمل سے وجود میں آئی ہے۔ ایک ایسا سماج ہے جس میں برادری نہیں ہے اور فرد کی حیثیت ختم ہورہی ہے۔'' یہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ بشمول سماج و فرد تاریخ ، ادب ، آرٹ اور انسان کی ایک منفی تعبیر و تشریح سامنے آرہی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس طرح کے نظریات کو فروغ دینے کی وجوہات کیا ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ آخر کیوں رائج قدروں کی نفی کرتے ہوئے انسان کو محض طبقاتی کشمکش، جنسی جبلت اور لاشعوری جبریت کا پُتلا گردانا جا رہا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ ساری صورتِ حال سائنسی دریافتوں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ پیدا ہوئیں۔ ٹیکنالوجی شروع سے ہی صاحبِ زر کے ہاتھوں گروی رہی ہے۔ یورپ کے نشاۃالثانیہ کے بعد جب وہاں کےعوام چرچ اور سرمایہ داروں کی جکڑ بندی سے آزاد ہوئے تو ٹکنالوجی کے اسپانسرس بہت گھبرائے۔ انھوں نے اس صورتِ حال سے بچاؤ کی یہ تدبیر کی کہ ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ نظریات بھی اسپانسر کرنے لگے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب یورپ کے دیہات اُجڑ رہے تھے اور شہر کانکریٹ کے جنگل بن رہے تھے اس وقت ایک طرف مساوات ، بھائی چارے اور انسانی حقوق کی باتیں ہورہی تھیں اور دوسری طرف مزدوروں کے حقوق پامال ہورہے تھے۔ جب یہی مزدور بھوک سے بلبلا کر احتجاج کرتے تو نظریات کی افیون انھیں سلادینے کے لیے کارگر ثابت ہوتی۔ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانے میں بودریلا جیسے دانشور نے عراق امریکہ جنگ سے متعلق یہ تحریر کیا: Gulf war did not happen, and was only as televized simulation of a war (خلیجی جنگ واقع نہیں ہوئی ، یہ صرف ٹیلی ویژن کے ذریعے پیش کی گئی جنگ کی شبییہ محض تھی۔) ہم دیکھ رہے ہیں ہمارے زمانے میں اظہار و دانش کے تقریباً تمام ذرائع فروخت ہوچکے ہیں۔ دانشور، تخلیق کار، صحافی ایک لمبی فہرست ہے بازار میں اپنے دام لگانے والوں کی۔ دراصل کارپوریٹ ایک ایسا سماج تیار کررہا ہے جو مارکیٹ یا بازاری سماج ہو۔ جہاں ٹوتھ پیسٹ سے لے کر انسانی رشتے سبھی بازار کے بکائو مال بن جائیں۔اس کام کی ابتدا دنیا کو ایک عالمی گائوں بنانے کی کوشش سے شروع ہوچکی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس نئے سماج کی تشکیل کچھ مخصوص لوگوں کے ہاتھوں تک محدود ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس خزانے تک پہنچنے کا پاس ورڈ موجود ہے۔ وہ اپنی اتھاہ دولت کے بوتے پر پیپسی کلچر رائج کررہے ہیں، ناچنے گانے والوں کو عوامی ہیرو بنا رہے ہیں، ٹی وی چینلس، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے من چاہے رواج کو عوام میں رائج کررہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تازہ ہوا ہر ذی نفس کی بنیادی ضرورت ہے مگر تازہ ہوا کے نام پر طرح طرح کی کثافت کو برداشت کرنا کہاں کی دانش مندی ہے۔ ہمیں اس ثقافتی ، سیاسی اور معاشی یلغار کا مقابلہ کبھی نہ کبھی کرنا ہی ہوگا۔ ایک ایسی یلغار جو صرف لامحدود ہی نہیں متنوع جہات کی حامل بھی ہے اور جس کے پاس وقتی فوائد اور سرور و نشاط کی الف لیلیٰ بھی ہے۔ اس برائی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ہمیں ایندھن تاریخ سے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ امام حسینؓ سے ہم آج بھی برائی کے خلاف عَلم بلند کرنے کا سبق سیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ کربلا کی سرزمین کو اپنے لہو کی خوشبو سے معطر کرتے وقت امامَ حسینؓ اور ان کے قافلے کا مقصد نہ حصولِ خلافت تھا نہ حصولِ زر بلکہ ان کے نزدیک تو ایک عظیم مقصد تھا، تبدیلی کے اس عمل کے خلاف سینہ سپر ہوجانا جس کا غالب پہلو برائی تھی۔ آج ہمارے سامنے بھی تبدیلی کا ویسا ہی عمل جاری ہے جس میں غالب پہلو برائی کا ہی ہے۔ مگر ہمارے درمیان امامِ حسینؓ نہیں ہیں ، ہوبھی نہیں سکتے: قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں گر چہ ہے تابدار ابھی گیسوے دجلہ و فُرات لیکن اس پر فتن دور میں ہم اتنا تو کرہی سکتے ہیں کہ برا کو برا کہیں۔ ہر چند کہ آہ بھی بھرنے میں بدنام ہونے کا خطرہ ہے تاہم یہ بھی تو سچ ہے : مشکیزے سے پیاس کا رشتہ بہت پرانا ہے


ڈیزل کے داموں میں لگاتار تیسرے دن کمی ، پٹرول 33 ویں دن بھی بلند ترین سطح پر برقرار

ڈیزل کے داموں میں لگاتار تیسرے دن کمی ، پٹرول 33 ویں دن بھی بلند ترین سطح پر برقرارنئی دہلی(اردو اخبار دنیا): بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں جاری گراوٹ کی وجہ سے جمعہ کے روز مسلسل تیسرے دن ملک میں ڈیزل 20 پیسے فی لیٹر سستا ہو گیا، جبکہ پٹرول کی قیمتیں 33 ویں دن بلند ترین سطح پر برقرار رہیں۔

بدھ کے روز چار ماہ بعد ڈیزل کی قیمت میں 20 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی ۔ دہلی میں آج انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.84 روپے فی لیٹر رہا، وہیں ڈیزل 20 پیسے سستا ہوکر 89.27 روپے فی لیٹر پر آگیا ۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق بدھ کو دہلی میں پٹرول 101.84 روپے فی لیٹر پر مستحکم رہا جبکہ ڈیزل 20 پیسے سستا ہوکر 89.27 روپے فی لیٹر ہو گیا۔

بین الاقوامی سطح پر خام تیل کےسب سے بڑا صارف امریکہ میں خام تیل کی مانگ اس طرح سے نہیں بڑھ رہی ہےجس کی امید تھی ۔ فیڈرل ریزرو نے کووڈ -19 کو دیے جا رہے پیکج کوختم کرنے کے اشارے دیے ہیں ۔ اس سے خام تیل میں جمعرات کو بھی گراوٹ آئی ۔ کل کاروبارختم ہوتے وقت برینٹ کروڈ 1.78 ڈالر فی بیرل کی کمی سے 66.45 ڈالر فی بیرل اور امریکی کروڈ بھی 1.67 ڈالر فی بیرل کم ہو کر 63.79 ڈالرپر بند ہوا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتیں لاگو کی جاتی ہیں ۔ ملک کے چار بڑے شہروں میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں:

شہر ------ پٹرول ------ ڈیزل

دہلی ----- 101.84 ----- 89.27

ممبئی ----- 107.83 ----- 96.84

چنئی ----- 102.49 ----- 93.84

کولکاتا ----- 102.08 ----- 92.32

مولانا آزاد نے محرم کے بارے میں کیا کہا؟

مولانا آزاد نے محرم کے بارے میں کیا کہا؟

تحریک آزادی
تحریک آزادی
  • (اردو اخبار دنیا)

 ثاقب سلیم،نئی دہلی

دس محرم الحرام 61 ہجری مطابق 680 عیسوی کو حسین ابن علی کو شہید کر دیا گیا۔ وہ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے۔

امام حسین بن علی اپنے اہل خانہ کے ساتھ کربلا (عراق )میں یزید کی ایک بہت بڑی مسلم فوج شہید کردیا۔ صدیوں سے اس دن کو مسلمان عوامی غم کے طور پر منا رہے ہیں۔

حسین کی شہادت ظلم کے خلاف لڑنے کی علامت بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں کربلا کے واقع کو حق و باطل کی جنگ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے دوران کچھ مسلم رہنماؤں نے کربلا کو علامت کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔

جہاں برطانوی حکومت کی نمائندگی کو یزید سے تشبیہ دی گئی ہے تو وہیں ہندوستانیوں کو حسین کے پیروکار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا کہ ہندوستان سچائی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

سنہ 1921 میں مولانا ابوالکلام آزاد نے ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شہدائے کربلا کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بڑے اجتماع سے کہا تھا کہ 680 عیسوی میں سانحہ کربلا کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ماتمی واقعہ قرار دیا تھا۔

ان کا خیال تھا کہ دس محرم کا سانحہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے، جتنا یاد کیا جاتا ہے۔

مولاناآزاد کی یہ تقریر بعد میں ایک کتابچہ کی شکل میں شائع ہوا۔

مولانا کے مطابق قدیم زمانے سے انسانوں نے ان واقعات کو یاد رکھا ہے، جن سے وہ سیکھ سکتے ہیں۔

خیال رہےکہ سبھی مذاہب کے تہواروں کا مقصد کسی نہ کسی طرح تعلیمات یاد رکھنا ہوتا ہے۔

دراصل محرم حسین اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے واقعہ کو یاد کرنے کے لیے نہیں منایا جاتا ہے۔ مولانا کا خیال ہے کہ محرم ایک طاقتور ظالم کی یاد میں نہیں منایا جاسکتا جس نے بظاہر کم طاقتور صالح آدمی کو شہید کیا تھا۔

اگر ایسا ہوتا تو تہذیبوں کی تاریخ میں سیکڑوں واقعات ہوئے ہیں، جہاں ظالموں نے ان کے خلاف کھڑے لوگوں کو پھانسی دی ہے، اگر ایسا ہوتا دیگر واقعات کو بھی جوش و خروش کے ساتھ منائی جا سکتی ہے۔

تاہم حسین کی شہادت کو کبھی ماتم کے طور پریاد نہیں کیا گیا۔ اس کو ایک الگ طرح سے دیکھنا ہوگا؟

درحقیقت مولانا کا خیال ہے، یہ یادگار حسین کی تعلیمات کو یاد رکھنا ہے جو کہ اصل میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تعلیمات ہیں جو کہ دراصل قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہی تعلیمات ہیں۔

کربلا کی صورت میں ہم سچائی کو یاد کرتے ہیں، جس کے ساتھ حسین کھڑے تھے۔

صرف تحریر شدہ الفاظ ہی لوگوں کی رہنمائی نہیں کر سکتے۔ ہمیں سچ ، صبر اور تقویٰ کا سبق سکھانے کے لیے زندہ رول ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے۔

حسین ایک ایسی مثال ہے۔

مولانا کا خیال ہے کہ اللہ نے اپنی کتابیں انبیاء کے ساتھ بھیجی ہیں کیونکہ مثال کے بغیر لوگ ان کی باتوں کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکتے۔استاد کے بغیر ہم کوئی کتاب یا مذہب نہیں سیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا اس دعوے پر حیران نہیں ہوتے کہ پیغمبر کے داماد حضرت علی ابن ابی طالب قرآنِ نطق تھے۔

حضرت علی کی زندگی نبی کی عکاسی کرتی ہےاور اس طرح ان کے اعمال قرآن کی تعلیمات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ایسے رول ماڈل ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں، کیونکہ ان کے بغیر ہم اللہ کا کلام نہیں سمجھ سکتے۔

مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں، اس شہادت کو ہمیشہ سکھائی جانی چاہئیں اور اس مقدس شہادت کی روح کو ہر سال کم از کم ایک بار یاد رکھنا چاہیے۔

یہ سانحہ کربلا اپنے اندر تقویٰ ، صبر ، سچائی ، جمہوریت اور انصاف کے اسلامی اسباق پر مشتمل ہے۔ اسلامی روایات نبوت پر یقین رکھتی ہے۔ شروع سے ہی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سیدھے راستے پر چلانے کے لیے مختلف انبیاء اور رسول نازل کئے۔

بعض اوقات ان نبیوں نے ظالموں سے جنگ کی۔ لیکن ، کسی بھی نبی کے خاندان نے کبھی حق کی راہ میں خود کو قربان نہیں کیا۔ ابراہیم علیہ السلام کے فرزند قربان ہونے کے قریب آئے، لیکن اُسے بچا لیا گیا۔

نبیوں کی صف میں آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ سچائی کا پیغام مکمل کیا۔ چنانچہ اس کے ساتھ حق کے لیے لڑنے کی حتمی حقیقت بھی سامنے آئی۔ کربلا میں؛ نبی کے خاندان بوڑھے اور جوان نے حق کو قائم کرنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

یہ ایک ایسا مذہب ہے جو انصاف، ہمدردی ، محبت ، رحم و ایثار کا درس دیتا ہے۔

ان کی شہادت کے ساتھ پیغمبر کے خاندان والوں نے آنے والے زمانے کے لیے ایک مثال قائم کی ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں زندگی کا کوئی معنی نہیں ہے۔

اس شہادت میں اسلام کی قربانی شامل ہے، جہاں ایک اکیلا آدمی ایک طاقتور فوجی کا دفاع کرتا ہے۔ سچائی چاہے کتنا ہی اکیلا کیوں نہ ہو ، کبھی بھی وہ ایک طاقتور جھوٹ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔

مولانا آزاد نے ظفر علی خان کا ان کے کچھ اشعار نقل کئے ہیں:

کرتی رہے گی پیش شہادت حسین ؓکی

زندگانی حیات کا یہ سرمدی اصول

چڑھ جاۓ کٹ کے سر تیرا نیزے کی نوک پر

پھر بھی یزیدوں کی اطاعت نہ کر قبول

نوٹ: ثاقب سلیم مصنف و تاریخ نگار ہیں

دہلی میں تھوکنا مہنگا پڑے گا

دہلی میں تھوکنا مہنگا پڑے گا

راجدھانی دہلی میں کورونا وبا کے دوران عوامی مقامات پر تھوکنے، ماسک نہیں لگانے اور سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل نہ کرنے کے الزام میں 2,57,293لوگوں سے جرمانہ کے طورپر ساڑھے 41کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم وصول کی گئی ہے۔

دہلی پولیس کے ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ 19اپریل سے 18اگست 2021تک 41,65,26,279روپے جرمانہ کے طورپر وصولے گئے۔ عوامی مقامات پر 1387لوگ تھوکتے ہوئے پکڑے گئے۔ جنوب مغربی دہلی میں سب سے زیادہ 399، جبکہ روہنی ضلع میں 229 اور اس کے بعد شمالی دہلی میں 217لوگوں کو ان کی تھوکنے کی عادتوں کی وجہ سے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ راجدھانی کے جنوبی، مغربی، وسطی ضلع اور دہلی میٹرو اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے سرحدی علاقوں میں گزشتہ چار مہینہ میں ایک بھی شخص عوامی مقامات پر تھوکتا ہوا نہیں ملا۔ دوارکا میں 57، شمال مغربی دہلی 84، مشرقی دہلی 25، شمالی دہلی میں تین، شمال مشرقی دہلی میں 92، باہری دہلی 105، جنوب مشرقی دہلی 12، شاہدر ضلع اور دہلی کے ہندستانی ریلوے کے سرحدوں علاقوں میں محض دو دو اور باہری شمالی دہلی میں 160لوگوں کو تھوکنے کے لئے جرمانہ دینا پڑا۔

حالانکہ ماسک نہیں پہننے کے لئے سب سے زیادہ 2,27,833اور سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل نہیں کرنے پر 28,073لوگوں کے چالان کئے گئے۔

خیال رہے کہ کورونا وبا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے جاری کووڈ گائڈلائنس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 2000روپے تک کے جرمانہ کا التزام ہے۔ بسوں اور دہلی میٹرو میں بغیر ماسک سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ میٹرو کے علاوہ بسوں میں بھی سیٹوں کی گنجائش سے زیادہ لوگوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بس اڈہ، ریلوے اسٹیشنوں سمیت تمام عوامی مقامات پر کووڈ سے متعلق گائڈلائنس پر عملدآمد کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...