نئی دہلی(اردو اخبار دنیا) : مودی حکومت نے قوم کے کلیدی شعبوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج ایک بڑی اسکیم کا منصوبہ ظاہر کیا جسے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی) کا نام دیا گیا ہے جسے عملاً ''رہن'' اسکیم کہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کو مودی حکومت نے متعدد اہم شعبوں میں خانگی کمپنیوں کی مداخلت کے منصوبے کا اعلان کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے بتایا کہ این ایم پی کے تحت روڈاور ریلوے اثاثوں سے لے کر ایئرپورٹس، پاور ٹرانسمیشن لائنس اور گیس پائپ لائنس جیسے وسیع تر شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ بتایا گیا کہ خانگی شعبے کے ادارے ایک مقررہ مدت کے بعد حکومت کو اثاثے واپس کردیں گے۔ نرملا نے 6 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف وہی اثاثوں کی مالی قدر حاصل کرے گی جو ممکنہ گنجائش سے کمتر استعمال ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اثاثوں کی ملکیت بدستور مرکز کے پاس رہے گی۔ این ایم پی ایسے اثاثوں سے متعلق منصوبہ ہے جہاں سرمایہ پہلے سے ہی لگایا جارہا ہے لیکن یہ اثاثے یا تو لیت و لعل کا شکار ہیں یا ان سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا گیا یا پھر استفادہ میں کمی رہ گئی۔ نرملا نے کہا کہ ایسے اثاثے جنہیں 'براؤن فیلڈ' اثاثے کہا جاتا ہے، ان میں خانگی شراکت داری کی گنجائش نکالتے ہوئے ان سے بہتر رقمی استفادہ کیا جائے گا۔ وزیر فینانس نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو پہلے سے طے شدہ مدت کے بعد متعلقہ اثاثے حکومت کے حوالے کردینا ہوگا۔ اس طرح کے عمل کے ذریعہ حاصل شدہ رقم انفرااسٹراکچر کو فروغ دینے کے لئے استعمال کی جائے گی۔ اس معاملہ میں سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنی میعاد کے بعد اگر برقرار نہ رہے تو نئی حکومت کے ساتھ خانگی شعبہ کا تال میل کیسا رہے گا؟ کیا اس معاملہ میں فرق پیدا ہونے پر منصوبہ کے مطابق فوائد کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ وزیر فینانس نے نشاندہی کی کہ اس سارے عمل سے عظیم تر رقمی قدر پیدا ہوگی اور معیشت کے لئے وسائل ابھر آئیں گے۔ نیتی آیوگ سی ای او امیتابھ کانت نے کہا کہ انفراسٹرکچر کے 6 لاکھ کروڑ روپے مالیتکے اثاثے 4 سال کی مدت میں ریل، روڈ اور پاور سیکٹرس میں ممونیٹائز کئے جائیں گے اور اس ضمن میں اثاثوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ حکومت روڈس سیکٹر سے 1.6 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کرتے ہوئے رقمی وسائل اکٹھا کرے گا۔ اسی طرح ریلوے سیکٹر سے 1.5 لاکھ کروڑ اور پاور سیکٹر سے 79,000 کروڑ روپے حاصل کئے جائیں گے۔ امیتابھ کانت نے بتایا کہ مرکزی حکومت ایئرپورٹس سے 20,800 کروڑ روپے کی رقومات اکٹھا کرے گی، بندرگاہوں سے 13,000 کروڑ، ٹیلی کام یا مواصلات سے 35,000 کروڑ، اسٹیڈیمس سے 11,500 کروڑ اور پاور ٹرانسمیشن سیکٹر سے 45,200 کروڑ روپے جٹائے گی۔ اثاثوں کا زیادہ تر مونیٹائزیشن InvIT طریقے یا پبلک ۔ پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعہ عمل میں لایا جائے گا۔ نیتی آیوگ وائس چیرمین راجیو کمار نے کہا کہ حکومت قومی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لئے خانگی شعبہ اور خانگی سرمایہ مشغول کرانے کی پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر میں زبردست گنجائش ہوتی ہے اور مونیٹائزیشن پائپ لائن اگلا قدم ہے جس کے ذریعہ بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لئے خانگی سرمایہ مشغول کیا جائے گا۔ وزارت فینانس نے وضاحت کی کہ روڈس، ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز، ریلوے، برقی، پائپ لائن و قدرتی گیس، شہری ہوابازی، جہازرانی، بندرگاہیں اور آبی گذر گاہیں، مواصلات، فوڈ اور پبلک ڈسٹریبیوشن، کانکنی، کوئلہ، ہاوزنگ اور شہری امور کی وزارتیں اس نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن کا حصہ ہوں گی۔ نرملا سیتارامن نے این ایم پی کے تعلق سے مرکزی بجٹ 2021 میں بات کی تھی اور ادعا کیا تھا کہ حکومت مالیات اکٹھا کرنے کے اختراعی طریقے کھوج رہی ہے۔ اثاثوں سے رقمی قدر حاصل کرنے کا عمل وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ نئے وسائل اور مالیات اکٹھا کئے جاتے ہیں تاکہ بنیادی ڈھانچے کے فروغ میں مدد مل سکے۔ محکمہ سرمایہ کاری اور پبلک اسیٹ مینجمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق کمتر استعمال شدہ یا لیت و لعل کے شکار کے شکار اثاثوں کو قوم کے لئے بہتر طور پر استعمال کرنے کے اختراعی طریقہ کو اسیٹ مونیٹائزیشن کہتے ہیں۔ مودی حکومت اب تک کی میعاد میں لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) سمیت کئی شعبوں کے حصص فروخت کرچکی ہے۔
کلکتہ23اگست (اردو اخبار دنیا) مغربی بنگال کالج سروس کمیشن نے ریاستی اہلیتی ٹسٹ کے امتحان میں عربی کے مضمون کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ماحولیاتی سائنس اور ایم بی اے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ریاستی اہلیتی ٹسٹ میں عربی کوشامل کرنے کیلئے حالیہ دنوں میں بنگال کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے عربی شعبہ میں پڑھنے والے طلبا نے مہم چلا ئی تھی اور کالج سروس کمیشن کو میمورنڈم بھی دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ مغربی بنگال کالج اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تقرری کے لئے نیٹ، جی آر ایف یا پھر ریاستی اہلتی ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔دوسری جانب سیٹ کے امتحانات کے سوالات بنگالی زبان میں لیا جائے گا۔مغربی بنگال سروس کمیشن گزشتہ 27سالوں ریاستی اہلیتی ٹسٹ کے امتحان کا انعقاد کررہا ہے۔کالج سروس کمیشن نے 1994 سے اب تک 22 امتحانات لیے ہیں۔ اتنے عرصے سے سیٹ کے سوالیہ پرچے انگریزی میں لئے جاتے تھے۔ لیکن طلباایک عرصے سے مطالبہ کررہے تھے بنگالی زبان میں سوالیہ پرچہ بنایا جائے۔
کالج سروس کمیشن نے ریاستی اہلیت ٹسٹ یا سیٹ لینے کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔ کالج سروس کمیشن اگلے سال 9 جنوری کو سیٹ لے گا۔ کالج سروس کمیشن نے درخواستیں جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ کمیشن ذرائع کے مطابق اس سال نیوز سیٹ کے تحت مزید تین مضامیان شامل کیے گئے ہیں۔ اس سال سیٹ کے تحت ماحولیاتی سائنس، ایم بی اے، عربی مضامین نئے شامل کیے گئے ہیں۔ ؎
کمیشن کے انتظامیہ کے مطابق سیٹ کے امتحان میں عربی کو شامل کرنے کیلئے ایک عرصے سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس سال مجموعی طور پر تین مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔کالج سروس کمیشن کے مطابق، تاریخ، فلسفہ، تعلیم جیسے مضامین کے سوالات بنگالی میں ہونگے۔دوسری جانب اسسٹنٹ پروفیسرز کی تقرری کے لیے تقریبا 32 ہزار درخواستیں کالج سروس کمیشن میں جمع ہوئی ہے۔ کمیشن ذرائع کے حالات نارمل ہونے کے بعد ہی انٹرویو کا عمل شروع کیا جائے گا۔کمیشن نے درخواستوں کی جانچ شروع کردی ہے۔
اس و قت لوکل ٹرینیں نہیں چل رہی ہے اسی وجہ سے کالج سروس کمیشن نے انٹرو یو نہیں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ سال ریاستی اہلیت ٹسٹ یا سیٹ کے لیے تقریبا75,000درخواستیں جمع کی گئی تھی۔امید ہے کہ اس سال مزید درخواستیں جمع کی جائیں گی۔نوٹی فیکشن کے مطابق 15ستمبر تک جمع کرائی جائے گی۔



