Powered By Blogger

اتوار, ستمبر 05, 2021

يوم اساتذہ کے موقع پر مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ

يوم اساتذہ کے موقع پر مدھیہ پردیش میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہبھوپال : یوم اساتذہ کے موقع پر بھوپال میں بھی تعلیم کے میدان میں کام کرنے والی تنظیموں کے ذریعہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما اور مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ پروگرام میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کی خدمات کی ستائش کی ۔ اس موقع پر اردو تدریس میں نمایاں خدمات انجام دینے کے لئے پروفیسر نعمان خان، اقبال مسعود، پروفیسر آفاق ندیم، ڈاکٹر مہرالاسلام کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ اردو صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات کے لئے سینئر اردو صحافی مشاہد سعید اورسلمان خان کو اعزاز سے سرفراز کیا گیا جبکہ مدارس کی تعلیم میں نمایاں خدمات کے لئے مولانا حنیف محمد اور اسمعیل بیگ کو اعزاز سے نوازہ گیا۔

مدھیہ پردیش جمعیت علما ہند کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ یوم اساتذہ کے موقع پر پروگرام کا انعقاد کرکے سب سے پہلے ہم نے ڈاکٹر ایس رادھا کرششن کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کے بعد ملک کے ان تمام اساتذہ کو یاد کیا ، جنہوں نے ملک میں ذہن سازی کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے ۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو ہماری نسلوں کی تربیت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر ہم حکومت سے تمام اساتذہ چاہئے کہ وہ سرکاری ملازمت میں ہوں یا پرائیویٹ اداروں میں سبھی کو رہائیش گاہ مہیا کرانے کی اپیل کرتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست میں برسوں سے اردو اساتذہ کی تقرری نہیں کی گئی ہے ، اسے ترجیحات کی بنیاد پر کیا جائے ۔

ممتاز ادیب پروفیسر محمد نعمان کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اساتذہ بنیاد کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہمیں اساتذہ کی اہمیت اور ان کی خدمات کو سمجھنا ہوگا ۔ اساتذہ کی خدمات کو فراموش کرکے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کو بہ طریقہ احسن ادا کریں۔ پروفیسر آفاق ندیم کہتے ہیں کہ ہم یہاں جو کھڑے ہیں اس کے پیچھے ہمارے اساتذہ کی محنت ہے ۔ اسلام ہی نہیں دنیا کے تمام مذاہب میں استاد اہمیت نمایاں ہے ۔


ممتاز اردو ادیب و ناقد اقبال مسعود کہتے ہیں کہ آج کا دن اساتذہ کے لئے یوم احتساب کا بھی ہے ۔ جب تک ہم بنیادی تعلیم پر فوکس نہیں کریں گے تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ۔ کسی بھی بلند عمارت کو کھڑا کرنے کیلئے اس کی بنیاد کے استحکام پر غور کرنا ضروری ہے ۔ جب تک پرائمری سطح پر طلبہ کو ہم زبان ،بیان اخلاقیات نہیں سکھائیں گے تب تک ہم معاشرے میں انقلاب کی نئی عبارت کو نہیں لکھ سکتے ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ ہمیں اردو زبان کو لے کر جہاں جد وجہد کرنے کی ضرورت ہے وہیں حکومت سے بار بار مطالبہ بھی کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ اردو زبان کے اساتذہ کے لئے اسامیاں جاری کی جائیں اور اردو کے اساتذہ کا تقرر کیا

انڈیا میں مسلمانوں پر سر عام تشدد ایک معمول بن گیا ہے اور ’اس کو اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا‘ ستمبر 5, 2021

  • گیتا پانڈے بی بی سی نیوز، دلی

مسلمانوں پر ہندو بلوائیوں کی طرف سے بلا اشتعال حملے انڈیا میں ’معمول‘ بن گئے ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کی کوئی مذمت نہیں کی جاتی۔گزشتہ ماہ ایک اندوہناک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک خوفزدہ مسلمان بچی اپنے باپ سے چمٹی ہوئی تھی جن کو ہندو انتہا پسند گھیر کر ان پر تشدد کر رہے تھے۔اس انتہائی تکلیف دہ منظر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک 45 سالہ رکشہ ڈرائیور کو انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں گلیوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان کی چھوٹی سی بچی انتہا پسند ہندوؤں سے اپنے باپ کو بچانے کے لیے داد فریاد کر رہی تھی۔

 

ہندو انتہا پسند رکشہ ڈرائیور کو ہندوستان زندہ باد، جے شری رام اور جے رام کے نعرے لگانے پر مجبور کر رہے تھے۔ جے رام جو ہندوؤں میں خیر سگالی کے الفاظ سمجھے جاتے تھے انھیں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔رکشہ ڈرائیور کے یہ نعرے لگانے کے باوجود انتہا پسند ہندوؤں کا ہجوم انھیں تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔ اس رکشہ ڈرائیور اور اس کی معصوم بچی کو آخر کار پولیس نے بچایا۔ تین افراد کو اس واقع میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھر اگلے ہی روز ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

 

اس کے چند روز بعد ہی مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک چوڑیاں فروخت کرنے والے مسلمان کی ویڈیو سامنے آ گئی جس کو ہندوؤں کا ایک ہجوم مکے، گھونسے اور لاتیں مار رہا تھا۔حملہ آور تسلیم علی نامی اس شخص کو دہمکیاں دے رہے تھے کہ وہ ہندوؤں کی آبادیوں سے دور رہے۔پولیس میں درج کرائی گئی اپنی درخواست میں تسلیم علی نے کہا کہ ہندوؤں کے علاقے میں چوڑیاں فروخت کرنے پر ان کو پانچ چھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، مذہبی منافرت سے بھر پور گالیاں دیں، ان کا فون، پیسے اور ذاتی شناختی دستاویز چھین لیں۔لیکن حیران کن طور پر تسلیم علی کو اگلے دن گرفتار کر لیا گیا جب ان پر حملہ آوروں میں شامل ایک شخص کی تیرہ سالہ بچی نے تسلیم علی پر ان سے زیادتی کرنے کا الزام لگایا۔

 

تسلیم علی کے خاندان والوں اور ہمسایوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ بچوں کا باپ اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ایک عینی شاہد نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ تسلیم علی کو مسلمان ہونے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر ایک بچی سے زیادتی کرنے کا الزام بعد میں اپنی جان بچانے کے لیے لگایا گیا۔مسلمانوں کو سر بازار تشدد کا نشانہ بنانے کے ان دو واقعات کے علاوہ بھی اگست میں بہت سے دوسرے ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس حوالے سے اگست کا مہینہ انڈیا میں مسلمان اقلیت کے لیے جن کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہے، بہت بھاری رہا ہے۔

اسی نوعیت کے حملے گزشتہ مہینوں میں بھی پیش آتے رہے ہیں جن میں بہت سے خبروں میں آئے۔مارچ کے مہینے میں ایک چودہ سالہ مسلمان لڑکا جو پانی پینے کے لیے ایک ہندؤ مندر میں گیا تھا اس کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔جون میں دارالحکومت دہلی میں ایک مسلمان پھل فروش کو ہندوؤں کے علاقے میں پھل بیچنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تین سال سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کے دستاویزی ثبوت جمع کرنے والے آزاد صحافی علی شان جعفری کا کہنا ہے ’تشدد کی انتہا کر دی گئی ہے، یہ ہر جگہ کیا جاتا ہے اور بہت عام ہو گیا اور سب سے بڑھ کر اس کو اب برا بھی نہیں سمجھا جاتا۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں ہر روز تین سے چار ایسی ویڈیو موصول ہوتی ہیں لیکن وہ صرف ایک یا دو ہی کی تصدیق کر پاتے ہیں اور پھر وہ اس کو سوشل میڈیا پر جاری کر دیتے ہیں۔انڈین معاشرے میں مذہبی تقسیم کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن جب سے انتہا پسند ہندو جماعت سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی حکومت میں آئے ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد مزید بہت بڑھ گیا ہے۔دہلی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر تنویر اعجاز کا کہنا ہے ’مذہبی تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ اقتدار میں آنے والوں کی حکمت عملی اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ساتھ بڑھتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ مذہبی تقسیم بڑھی ہے اور یہ ابھی مذہبی اور نسل پرستانہ قومیت کے جذبے سے اور زیادہ شدید ہو گئی ہے۔

نریندر مودی کے پہلے دورے اقتدار میں مسلمانوں پر گاؤ رکشکوں (گائے کی حفاظت کرنے والے) کی طرف سے گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر یا گائے سمگل کرنے کے الزامات پر بہت سے حملے ہوئے تھے۔

نریندر مودی نے ان حملوں پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔بی جے پی کے رہنما پرکاش جوادیکر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اس طرح لوگوں کو قتل کرنے کو برا سمجھتی ہے لیکن قانون کا نفاذ ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی نطر میں لنچنگ بری چیز ہے، چاہے جہاں بھی ہو۔ لیکن امن و امان ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور انھیں ہی اس سے نمٹنا ہے۔‘

اس کے بعد انھوں نے میڈیا پر جانبداری کا الزام لگایا کہ وہ صرف مسلمانوں پر ہونے والے حملوں پر دھیان دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق لنچ ہونے والے دو سو افراد میں سے 160 ہندو تھے۔ ’تمام مذاہب کے لوگ نشانہ بنتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے یہ نھیں بتایا کہ یہ ڈیٹا کہاں سے لیا گیا ہے۔ انڈیا میں ایسے اعداد و شمار نہیں جمع کیے جاتے۔

سنہ 2019 میں فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائیٹ نے انڈیا میں نفرت پر مبنی جرائم کے بارے میں بتایا تھا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایسے جرائم کا نشانہ بننے والے 90 فیصد افراد مسلمان تھے۔ اور ایک وزیر کی طرف سے ایک مسلمان کو مارنے کے مجرم ٹھہرائے جانے والے آٹھ ہندوؤں کو ہار پہنائے جانے جیسے واقعات کے بعد الزامات لگتے ہیں کہ حملہ آور بی جے پی کی سپورٹ کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں۔

کانگریس پارٹی کی ایک رکن حسیبہ امین نے کہا کہ ’ایسے واقعات آج ہمارے ملک میں صرف اور صرف ان غنڈوں کو ملنے والے تحفظ کی وجہ سے اتنے عام ہو گئے ہیں۔‘ناقدین کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 میں نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمان مخالف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔کئی بار تشدد صرف جسمانی نھیں ہوتا بلکہ یہ اقلیتی برادری کو انتہائی برا پیش کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مثلاً گزشتہ برس جب انڈیا میں کووڈ پھیل رہا تھا تو مودی حکومت کے وزرا اور پارٹی کے ارکان سمیت ہندو رہنماؤں نے دلی میں ایک مذہبی اجتماع میں شریک ہونے والے مسلمانوں پر ’کورونا جہاد‘ کا الزام لگایا تھا۔

اس کے بعد ’روٹی جہاد‘ کے بارے میں سننے کو ملا جس میں اس طرح کے الزام لگائے گئے کہ مسلمان باورچی روٹیوں پر تھوک رہے ہیں تاکہ ہندوؤں میں کورونا پھیل جائے۔حالیہ مہینوں میں کئی ریاستوں کمیں ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے ۔ بہت سے ہندو گروہ مسلمان مردوں پر ہندوؤں کی عورتوں کو ورغلا کر شادی کرنے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ انھیں مسلمان کر لیا جائے۔ان قوانیں کو ہندو عورتوں سے شادیاں کرنے والے مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور انھیں قید کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مسلمان خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا اور گزشتہ جولائی میں درجنوں سرکردہ مسلمان خواتین کو ایک ویب سائٹ پر ’قابل فروخت‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد مئی میں بہت سی خواتین کو جن میں حسیبہ امین بھی شامل تھیں، آن لائن پر فرضی طور پر نیلام کر دیا گیا۔گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بے جے پی کی طرف سے منعقد کردہ ایک جلوس میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے نعرے لگائے گئے۔پروفیسر اعجاز کا کہنا ہے کہ پیشہ ور مسلمانوں مثلاً پھل فروش، درزی، الیکٹریشنز، اور پلمبروں پر حملے کرنے کا مقصد مذہبی قوم پرستی کے ذریعے ان کا معاشی استحصال کرنا ہے۔

مظفرنگر مہاپنچایت ‏LIVE: راکیش ٹکیت نے ایک ساتھ لگائے ’اللہ اکبر‘ اور ’ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے

مظفرنگر میں منعقدہ کسان مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ گزشتہ 9 مہینے سے تحریک چل رہے ہے لیکن حکومت نے بات چیت کرنا بند کر دیا۔ سینکڑوں کسانوں نے جان گنوا دی لیکن ان کے لئے ایک منٹ بھی خاموشی اختیار نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد محض یوپی کو بچانا نہیں بلکہ پورے ملک کو بچانا ہوگا۔ ہر عوامی چیز کو جس طرح بیچا جا رہا ہے اس کی اجازت کس نے دی۔

 

دریں اثنا، راکیش ٹکیت نے مہاپنچایت سے قومی یکجہتی کا پیغام دیا اور بیک وقت اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا یہ لوگ باٹنے کا کام کر رہے ہیں، ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔ پہلے اس ملک میں اللہ اکبر اور ہرہر مہادیو کے نعرے ایک ساتھ لگائے جاتے تھے، آگے بھی لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کی سرزمین دنگہ کرانے والوں کے سپرد نہیں کریں گے۔

راکیش ٹکیت نے دس مہینے بعد اپنے آبائی ضلع میں قدم رکھا
بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان اور ملک بھر کے کسانوں کے آواز بن چکے راکیش ٹکیت نے کسان تحریک شروع ہونے کے بعد سے آج تقریباً 10 مہینے بعد اپنے آبائی ضلع یعنی کہ مظفرنگر میں قدم رکھا۔ وہ جی آئی سی میدان میں پہنچ چکے ہیں جہاں سنیوکت کسان مورچہ کی طرف سے طلب کی گئی کسان مہاپنچایت چل رہی ہے۔ راکیش ٹکیت کے ساتھ سوراج پارٹی کے لیڈر یوگیندر یادو اور دیگر لیڈران بھی نظر آ رہے ہیں۔

اُردو یونیورسٹی میں پی جی اور یوجی کی سطح پر داخل

اُردو یونیورسٹی میں پی جی اور یوجی کی سطح پر داخل

لسانیات، سماجی علوم، سائنسس اور پیرامیڈیکل کورسز دستیاب

حیدرآباد، 5؍ ستمبر:(اردو دنیا نیوز۷۲)مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی MAULANA AZAD NATIONAL URDU UNIVERSITY میں لسانیات کے مختلف شعبوں، سماجی علوم، سائنسس اور کامرس میں پوسٹ گریجویشن اور انڈرگریجویشن سطح پر اردو میڈیم سے میرٹ کی اساس پر داخلے جاری ہیں۔ پیشہ ورانہ پروگرامس میں جرنلزم، پیرامیڈیکل کورسز میڈیکل امیجنگٹکنالوجی اور میڈیکل لیباریٹری ٹکنالوجی کے علاوہ سوشل ورک پروگرام دستیاب ہیں۔ آن لائن فارم داخل کرنے کی توسیع شدہ آخری تاریخ 30؍ ستمبر 2021 ء ہے۔ داخلہ کے لیے یونیورسٹی ویب سائٹ manuu.edu.in پر لاگ ان کریں۔

پروفیسر ایم ونجا ، ڈائرکٹر نظامت داخلہ کے بموجب پوسٹ گریجویٹ پروگرامس میں ایم اے (لسانیات، سماجی علوم و صحافت)، ایم ایس ڈبلیو، ایم کام اور ایم ایس سی (ریاضی) ؛ انڈر گریجویٹ بی اے، بی اے(آنرس)۔جے ایم سی، بی کام، بی ایس سی ؛ بیچلر آف ووکیشنل کورسس کے تحت میڈیکل امیجنگ ٹکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور میڈیکل لیبارٹری ٹکنالوجی (ایم ایل ٹی)؛ برج (رابطہ) کورسز لیٹرل انٹری کے تحت بی ٹیک اور پالی ٹیکنیک داخلے دیئے جارہے ہیں۔لکھنؤ کیمپس میں اردو، فارسی، انگریزی اور عربی میں بی اے،ایم اے اور سری نگر کیمپس میں معاشیات، اسلامک اسٹڈیز، اردو اور انگریزی میں ایم اے کورسز دستیاب ہیں۔

درخواست گزاروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ کم از کم دسویں /بارہویں / گریجویشن میں اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرچکے ہوں یابحیثیت زبان/مضمون اردو کامیاب ہوں یا یونیورسٹی کے منظورکردہ مماثل مدرسہ کورسز کامیاب ہوں۔ درخواستیں یونیورسٹی ویب سائٹ manuu.edu.in پر صرف آن لائن ہی قبول کی جائیں گی۔ تفصیلات یا کسی وضاحت کے لیے نظامت داخلہ کو admissionsregular@manuu.edu.in پر ای میل کریں۔ موبائل نمبرات 9523558551, 9866802414, 6302738370 اور 9849847434 سے بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔  

اُردو یونیورسٹی میں 6؍ ستمبر کو یومِ اساتذہ تقریب

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، اسکول برائے تعلیم و تربیت کے زیر اہتمام 6؍ ستمبر 11 بجے دن یومِ اساتذہ کے سلسلہ میں آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر شیخ عظیم الدین، سابق ڈین (ایجوکیشن)، انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ ، مہمانِ خصوصی ’’معاشرے میں تعلیم اور استاد کا کردار‘‘ کے زیر عنوان یومِ اساتذہ لیکچر دیں گے۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر صدارت کریں گے۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج و ڈین تعلیم و تربیت بھی خطاب کریں گے۔ پروفیسر محمد مشاہد، صدر شعبۂ تعلیم و تربیت کی تعارفی تقریر ہوگی۔

ڈاکٹر جرار احمد، اسسٹنٹ پروفیسر یونیورسٹی کے سابق اساتذہ کو تہنیت و خراج پیش کریں گے۔ محترمہ مومن سمیہ مہمان کا تعارف پیش کریں گی۔ محترمہ ترانہ یزدانی یومِ اساتذہ پر نظم پیش کریں گے۔ ڈاکٹر اشونی شکریہ ادا کریں گے۔ جناب اشرف نواز نظامت کے فرائض انجام دیں گے۔ پروگرام کا یونیورسٹی کے آئی ایم سی یوٹیوب چیانل www.youtube.com/imcmanuu پر راست ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا۔

اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ
اناج،دال،تیل،چینی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

نئی دہلی: غیرملکی منڈیوں میں گراوٹ کے باوجود گزشتہ ہفتے مقامی سطح پر مانگ بڑھنے سے دہلی ہول سیل کموڈٹی مارکیٹ میں خوردنی تیل میں 366 روپے فی کوئنٹل تک اچھال رہا اور دال ، گڑ ، چینی اور اناج مہنگے ہو گئے۔

تیل تلہن عالمی سطح پر ملائیشیا کے برسا ملائیشیا ڈیریویٹیوزایکسچینج میں پام آئل زیرجائزہ ہفتے کے دوران 25 رنگٹ کم ہو کر 4432 رنگٹ فی ٹن رہ گیا۔ وہیں دسمبر کا امریکی سویا آئل ایک سینٹ کم ہو کر اختتام پزیر ہفتے میں 59.01 سینٹ فی پاؤنڈ رہ گیا۔

عالمی سطح کی گراوٹ کے باوجود گھریلو مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ رہا ۔ سورج مکھی کا تیل 366 روپے ، سبزیوں کا تیل 146 روپے ، سرسوں کا تیل 74 روپے اور سویا ریفائنڈ 73 روپے فی کوئنٹل مہنگا ہوگیا جبکہ مونگ پھلی کا تیل 366 روپے فی کوئنٹل سستا ہوگیا ۔

تاہم زیر جائزہ ہفتے میں پام آئل کی قیمت میں استحکام دیکھا گیا۔ اختتام پزیرہفتے میں سرسوں کا تیل 18388 روپے ، مونگ پھلی کا تیل 17582 روپے ، سورج مکھی کا تیل 17948 روپے ، سویا ریفائنڈ 15970 روپے ، پام آئل 12967 روپے اور سبزیوں کا تیل 13919 روپے فی کوئنٹل رہا۔ (ایجنسی ان پٹ )


پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں پھر 15-15 پیسے کی کمی

پٹرول اور ڈیزل کے داموں میں پھر 15-15 پیسے کی کمینئی دہلی: بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کے پیش نظر اتوار کو تین دن کے بعد دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر 15- 15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی۔ اس سے قبل بدھ کے روز ان ان دونوں کی قیمتوں میں سات دن کے بعد 15- 15 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

آج دہلی میں انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.19 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.62 روپے فی لیٹر رہا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.19 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.62 روپے فی لیٹر رہا۔

امریکہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معیشت کی توقع کے مطابق ٹریک پر واپس نہ آنے کی وجہ سے جمعہ کو بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ ہفتے کے آخر میں ، بین الاقوامی مارکیٹ میں ، بریٹ کروڈ 0.40 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 73.61 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 0.70 ڈالر فی بیرل گر کر 69.29 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

شہر کا نام -- پٹرول (روپے/لیٹر) -- (ڈیزل روپے/لیٹر)

دہلی ----- 101.34 ------ 88.77

ممبئی ----- 107.26 ------ 96.19

چنئی ----- 98- 98.96 ----- 93.26

کولکاتا ----- 101.62 ----- 91.71

کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘

کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘‘؟

کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘‘؟
کون تھااسلام کے نام پردہشت پھیلانے والاگروہ’’خارجی‘‘؟

غوث سیوانی،نئی دہلی(اردو دنیا نیوز۷۲)

آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کو موجودہ دور کا خطرناک گروہ قراردیا جاتاہے۔آئی ایس کی سفاکی سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا نے دیکھی جب اس ظالم گروہ نے لائن میں بٹھاکر درجنوں افرادکی گردنیں کاٹ دیں اور ویڈیوبناکردنیا کو دکھایا۔ان کے ذریعے لوگوں کو غلام بنانے اورخواتین کو بے آبروکرنے کی خبریں بھی میڈیا میں آتی رہی ہیں۔ مزیدستم یہ کہ یہ سب اسلام کے نام پرہواجودین رحمت ہے اور انسان توکیا جانوروں کوایذا دینے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام،دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آیا تھا مگراسلام کے ابتدائی دور میں ہی ایک طبقے نے اسلام کا نام لے کردہشت گردی شروع کردی تھی اور آج جتنے بھی آتنک وادی گروہ ہیں ،وہ اسی نظریے پر کاربند ہیں۔

خارجی کون؟

اسلام کے نام پر آتنک پھیلانے والے سب سے پہلے گروہ کو ’’خارجی‘‘ کہاجاتاتھا۔ لفظ ’’خارجی‘‘ کا مطلب ہوتاہے’’باہرنکل جانے والا‘‘۔چونکہ یہ لوگ اپنی شدت پسندی اور انتہاپسندی کے سبب اسلام سے باہرنکل گئے تھے لہٰذاانھیں خارجی کہاجانے لگا۔ انھوں نے اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کیا تھا،اس وجہ سے بھی انھیں خارجی کہاجاتاہے۔

خارجی اور اسلام

خارجیوں کا نظریہ ،اسلام سے متصادم تھاکیونکہ اسلام اعتدال کا مذہب ہے جب کہ خارجیوں کا نظریہ شدت پسندی اور انتہاپسندی والاتھا۔ وہ بات بات پر تلواریں کھینچ لیتے تھے اور قتل وغارت گری کیا کرتے تھے اور اسے اسلام کا حصّہ مانتے تھے۔یہ اس قدر ظالم تھے کہ حاملہ عورتوں کاپیٹ چیرکربچے نکال لیتے اور قتل کردیتے تھے۔

دوسری طرف یہ اسلامی عبادات کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ یہ عابد و زاہد قسم کے لوگ تھے اور نماز، روزہ کے اس قدر پابند تھے کہ سجدوں کی کثرت سے ان کی پیشانیوں پر سیاہ دھبے بن جاتے تھے۔ یہ لوگ زیادہ عبادتیں کیا کرتے تھے اور احساس برتری کا شکار ہونے کے سبب عام مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

خارجیوں کا زمانہ

خارجی تو عہدنبوی میں ہی پیدا ہوگئے تھے مگرحضرت علی کا دورآتے آتے،یہ خاصے طاقتورہوگئے تھے۔حضرت علی کا دور خلافت656–661عیسوی کے درمیان رہا۔ اس دوران خارجیوں نے بڑے پیمانے پر فتنے پرپاکئے۔یہ پہلے امیرمعاویہ کے خلاف ہوئے اور حضرت علی کو برحق خلیفہ تسلیم کیا اور پھرحضرت علی کی بھی مخالفت شروع کردی۔

خارجیوں کا علاقہ

اسے اتفاق کہا جائے گاکہ تب بھی ان کا مرکزعراق اور شام کے علاقے تھے اور آج بھی ان کے پیروکاروں کا گڑھ یہی علاقہ بنا ہواہے۔ عراق اور شام میں ہی آئی ایس آئی ایس جیسی جماعتیں ہیں جو انتہا درجے کی شدت پسند ہیں۔ خارجیوں کے گروہ میں اکثریت عراق کے دیہاتوں سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پریہ گروہ نمودار ہوا اور حضرات علی ومعاویہ کے درمیان صلح کی مخالفت کی۔ یہ لوگ ہرحال میں جنگ چاہتے تھے۔ اس عہد میں شعث بن راسبی نامی شخص ان کا سردارتھا۔ اس گروہ کے دوسرے لیڈروں کے نام عبد اﷲ بن الکواء، عتاب بن الاعور، عبد اﷲ بن وہب راسبی، عروہ بن جریر، یزید بن عاصم محاربی، حرقوص بن زہیر بجلی المعروف بہ ذو الثدیہ تھے۔

 حضرت علی کی مخالفت

حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں بلکہ داماد بھی ہیں۔ ان کی پرورش اور تربیت بھی رسول اللہ کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ ان کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔باوجوداس کے خارجی گروہ انھیں، مسلمان نہیں مانتاتھا۔ یہ گروہ امیرمعاویہ کو بھی اسلام سے خارج سمجھتاتھااور دونوں سے جنگ کرنا ضروری سمجھتا تھا۔

ایک موقع پر یہ لوگ حضرت علی سے جنگ کے لئے نکلے اور جنگ نہروان میں شکست کھائی۔ اس جنگ میں خارجیوں کی تعداددس ہزار تھی۔ جنگ میں شکست کے باوجود حضرت علی نے ان کے ساتھ اچھابرتائوکیااور ان کے چار سوسے زیادہ  زخمیوں کی مرہم پٹی کرائی اور انھیں واپس ان کے گائوں بھیجا۔

خارجیوں کی شورشیں

جنگ نہروان میں شکست کے باوجود خارجیوں کا خاتمہ نہیں ہوا۔یہ لوگ باقی رہے اور وقت وقت پر شورشیں بھی برپاکرتے رہے۔ان کی قوت بنوعباس کے عہد تک بنی رہی اور بنوامیہ کے ساتھ ساتھ بنوعباس کے دور میں بھی انھوں نے گڑبڑیاں کیں۔کوفہ اور بصرہ تو دو مراکز تھے ہی،ان کا دائرہ کار شمالی افریقہ تک پھیل گیا تھا۔ کسی بھی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ انھوں نے حضرات علی وامیرمعاویہ کے قتل کی سازشیں کیں اور حضرت علی کوابن ملجم نامی ایک خارجی نے شہید بھی کیا۔ اسلامی تاریخ کی کتابیں خارجیوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔

آج بھی ہیں خارجی گروہ؟

خارجیوں کی باقیات آج بھی موجودہیں۔ ایک اباضی فرقہ ہے جوعمان،لیبیااور کچھ دوسرے ملکوں میں پایاجاتاہے،یہ خارجیوں کا بچاکھچاگروہ ہے مگر اس فرقہ کے اصل پیروکارتو وہ گروہ ہیں جو اسلام کے نام پرخون خرابہ کرتے ہیں۔وہ قتل وخونریزی میں دریغ نہیں کرتے۔ ان کی ظاہری شکل وصورت دیندارمسلمانوں جیسی ہوتی ہے مگر اسلام کو انھیں سے سب سے زیادہ نقصان پہنچتاہے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...