Powered By Blogger

جمعہ, ستمبر 10, 2021

جمعہ کے دن کی فضیلت و اہمیت

جمعہ کے دن کی فضیلت و اہمیت

جمعہ کے دن کی فضیلت و اہمیت

مولانا حافظ محمد عبدالقدیر نظامی

جمعہ عربی لفظ ہے۔ اجتماع سے مشتق ہے، جمعہ (جمع ہونے کا دن)۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد جمع کی جائے گی یا اس وجہ سے کہ حضرت آدم علیہ السلام حضرت حوّا علیہا السلام زمین پر اسی روز ملے تھے (فتح القدیر) یا اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کو جمعہ کہا گیا۔

حدیث شریف میں جمعہ کے کئی نام ذکر کئے گئے ہیں۔ سیدالایام (دنوں کا سردار)، خیرالایام (بہترین دن) افضل الایام (زیادہ فضیلت والا دن)، شاھدٌ، (حاضرین کا دن) یوم المزید (نعمتوں کی زیادتی کا دن)، عیدالمومنین (مسلمانوں کی عید)، زمانہ جاہلیت میں اس دن کو یوم عروبہ (رحمت کا دن) کہا جاتا تھا۔ جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے۔

حضور ﷺ نے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام اسی دن پیدا کئے گئے اور اسی دن میں جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے اور قیامت اسی دن آئے گی۔ ایک دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے بارے میں فرمایا اس دن تمہارے باپ آدم پیدا ہوئے اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن لوگ قبروں سے اُٹھائے جائیں گے اور اسی دن سخت پکڑ ہوگی۔ (مسند احمد)یہود کے یہاں ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص تھا کیونکہ اسی دن خدا نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات بخشی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے علیحدہ کرنے کے لیے اتوار کا دن از خود مقرر کرلیا۔ اگرچہ کہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا نہ انجیل میں اس کا ذکر ہے۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممتاز کرنے کے لیے ان دونوں دنوں کو چھوڑ کر جمعہ کو اجتماع عبادت کے لیے اختیار کیا اور اسی بناء پر جمعہ کو مسلمانوں کی عید کا دن کہتے ہیں۔

حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا شب جمعہ کا مرتبہ لیلۃ القدر سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے کہ اس رات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کے شکم طاہر میں جلوہ افروز ہوئے اور حضورؐ کا تشریف لانا اس قدر خیر و برکت دنیا و آخرت کا سبب ہوا جس کا شمار و حساب نہیں کیا جاسکتا۔(اشعۃ اللمعات)جمعہ کا دن سارے دنوں سے افضل و ممتاز ہے اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ تمام دنوں سے زیادہ ہے۔

جمعہ کے دن میں پانچ خصوصیات ہیں

(۱) اسی دن اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا

(۲) اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر خلیفہ بناکر اتارا

(۳) اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی

(۴) اسی دن میں ایک ایسی مقبول گھڑی ہے کہ بندہ اس گھڑی میں اللہ سے حلال پاکیزہ چیز مانگتا تو وہ اس کو ضرور عطا کردی جاتی ہے

(۵) اسی دن قیامت آئے گی۔ خدا کے مقرب فرشتے آسمان و زمین، ہوا، پہاڑ، دریا کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ جمعہ کے دن سے لرزتی اور ڈرتی نہ ہو (ابن ماجہ) ہر مسلمان کو اسی دن لازم ہے کہ غسل کرے، سر کے بالوں اور بدن کو خوب صاف کرے اور مسواک کرے۔ کیونکہ مسواک کرنا بھی اس دن بہت فضیلت رکھتا ہے۔

غسل کے بعد عمدہ کپڑے پہنیں اور ممکن ہو توخوشبو لگائیں اور ناخن وغیرہ بھی کتروائے۔ جامع مسجد میں بہت سویرے جائیے جو شخص جتنا سویرے جائے گا اس قدر اس کو ثواب ملے گا۔ (ترمذی)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جو شخص جمعہ کے دن نہایت اہتمام کے ساتھ غسل کیا جس طرح پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کیا جاتا ہے پھر اول وقت مسجد میں جا پہونچا تو اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں پہونچا تو اس نے گویا گائے یا بھینس کی قربانی کی اور اس کے بعد تیسری ساعت میں پہونچا تو اس نے گویا سینگ والا مینڈھا قربان کیا اور اس کے بعد چوتھی ساعت میں پہونچا تو گویا خدا کی راہ میں انڈا صدقہ دیا۔

کیا پھر جب خطیب خطبہ دینے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں، خطبہ سننے اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آبیٹھتے ہیں۔ (بخاری)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں ایک مسلمان جو نماز کا پابند ہو اللہ سے جو کچھ مانگتا ہے اللہ تعالیٰ عطاء فرمادیتے ہیں ۔ (مسلم شریف)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز کی فضیلت کے بارے میں فرمایا مجھے خیال ہوتا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ نماز پڑھائے پھر اس کے بعد اُن لوگوں کے گھروں کو آگ لگادو جو جمعہ چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔ (نسائی)آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ کی چشم مبارک سرخ ہوجاتی تھی اور آواز بلند ہوجاتی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپؐ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں کہ صبح کو اس کا حملہ ہونے والا ہے، شام کو ہونے والا ہے۔ (مسلم)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اپنے اصحاب کو اسلام کے اصول و قواعد اور شرائع کی تعلیم دیتے تھے اور اگر امر و نہی کا معاملہ ہوتا تھا۔ امر و نہی فرماتے تھے۔ (زاد المعاد)

حضرت جابر بن سمرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور کی نماز بھی معتدل ہوتی تھی اور خطبہ بھی معتدل قرآن کی چند آیات تلاوت فرماتے، پھر لوگوں کو نصیحت فرماتے۔ (مسلم) خطبہ جمعہ کو بہت خاموشی اور سکون کے ساتھ سننے کا حکم ہے تاکہ پرسکون اور روحانی فضاء میں اس کا پورا فائدہ حاصل ہوسکے۔ اس لیے کہ یہ عبادت کا محل ہے نہ کہ خطابت کا۔

خطبہ کے دوران گفتگو کو سختی سے منع کیا گیا یہاں تک کہ اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے آدمی کو بات چیت کرنے سے بھی روکنا منع ہے۔ اس لیے کہ اس میں بھی اس کے سکون و وقار میں فرق آجائے گا جو خطبہ میں مطلوب ہے۔

حضرت امام غزالیؒ اپنی معرکتہ الآراء کتاب احیاء العلوم میں لکھتے ہیں، (ترجمہ) مسلمانوں میں جب تک اصلی اسلام تھا تو جمعہ کے دن فجر کے بعد راستے اور شہروں کی گلیاں لوگوں سے بھری ہوئی نظر آتی تھی۔ کیونکہ سب لوگ بہت سویرے جامع مسجد میں جاتے تھے۔ بہت اژدہام ہوتا تھا، جیسے عید کے دنوں میں ہوتا تھا، پھر یہ طریقہ جاتا رہا لوگوں نے کہا کہ یہ پہلی بدعت ہے جو اسلام میں پیدا ہوئی۔ آگے فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں شرم نہیں آتی۔

یہود اور نصاریٰ ہی کو دیکھ کر ان کو عبرت پکڑنی چاہیے کہ وہ لوگ اپنی عبادت کے دن یعنی یہود ہفتہ کو نصاریٰ اتوار کو اپنے عبادت خانوں میں کیسے شوق سے سویرے جاتے ہیں اورطالبان دنیا کتنے سویرے بازاروں میں خرید و فروخت کے لیے پہنچ جاتے ہیں پس طالبانِ دین کیوں پیش قدمی نہیں کرتے۔

اسلام نے ہفتہ میں ایک دن جمعہ کا ایسا مقرر کیا ہے جس میں تمام شہر کے محلوں اور آس پاس کے مسلمان آپس میں جمع ہوکر اس ساتویں دن کی عبادت ادا کریں۔ سال میں دو عیدوں میں اور سال میں ایک مرتبہ حج کے دن سب دنیا کے مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرنے میں جس قدر فوائد و برکات حاصل ہوتے ہیں وہ ظاہر ہے ان تمام اجتماعات کا فائدہ اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہے جس کی ان دنوں بہت کمی ہے۔

آج مسلمانوں کے اجتماعات کی صفیں درہم برہم ہیں ان کے دل ایک دوسرے سے رخ پھیرے ہوئے ہیں اور اُن کے سجدے بے ذوق و شوق بن کر رہ گئے ہیں اور ان میں روح اجتماعی اور قلب کی والہانہ کیفیت نہ رہی۔

حضرت عراک بن مالکؒ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوتے تو مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوجاتے اور یہ فرماتے تھے: اللھم انی أجبت دعوتک و صلیت فریضتک، و انتشرت کما امر تنی، فارزقنی من فضلک و أنت خیر الرازقین۔ (تفسیر صابونی)

اے اللہ! بے شک میں نے تیری دعوت کو قبول کیا اور میں نے تیری فرض نماز پڑھی اور میں نکل گیا جیسا کہ تو نے مجھ کو حکم دیا پس تو مجھ کو اپنے فضل سے رزق عطاء فرما اور توہی بہترین رزق دینے والا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے یہود و نصاریٰ پر جو تم سے پہلے تھے جمعہ کے دن کی عظمت و فضیلت پوشیدہ رکھی اس لیے وہ بھٹک گئے۔ یہود کے لیے ہفتہ کا دن تھا اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن۔ پس وہ قیامت تک ہمارے پیچھے ہیں ہم اہل دنیا سے آخر پر آئے ہیں اور سب لوگوں سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا۔ یعنی دربارِ الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ وجہ اس بات کی یہ ہے کہ دنیا کی ابتداء اتوار سے شروع ہوئی اور اس کی تکمیل جمعہ کے دن بوقت عصر ہوئی۔

پس جمعہ کے دن میں جس کی پیدائش ہو وہ جامع فضائل والا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی فضیلت اس امر کے مقتضی ہے کہ اس کو دربارِ الٰہی میں باریابی سب سے پہلے ہو کیونکہ وہ تمام نیکیوں کا مجمع اور سب کا سردار ہے۔(اسرار شریعت)

حضرت مظہر جانِ جاناںؒ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جو دعاء کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ حضرت اگر وہ گھڑی ہم کو مل جائے تو کیا دعا کرنا چاہیے تو آپ نے فرمایا کہ نیک صحبت ملنے کی دعاء کرنی چاہیے۔
(مواعظ حسنہ)

شدت بخار سے فوت ماں کی آغوش میں رات بھر معصوم بچہ چمٹارہا

شدت بخار سے فوت ماں کی آغوش میں رات بھر معصوم بچہ چمٹارہا

Kothagudem

تلنگانہ :(اردودنیانیوز۷۲) ضلع بھدراوری کتہ گوڑم Kothagudem میں شدید بخار کی وجہ سے ایک خاتون فوت ہوئی اس بات سے ناواقف اس خاتون کا 7 سالہ لڑکا ساری رات ماں کی آغوش سے چمٹا رہا، ضلع بھدرادری کتہ گوڈم میں واقع “اشوا راؤ پیٹ منڈل” کے بازار میں پلاسٹک سامان اور غبارے فروخت کرنے والی نِرملہ نامی خاتون اپنے 7 سالہ کِرشنا نامی لڑکے کے ساتھ رہ رہی تھی، دو دن سے سخت بخار میں مبتلا تھی گزشتہ رات شدتِ بخار کے باعث موت واقع ہوئی، اس کا لڑکا ماں کے آغوش میں ہی سوتا رہا، جب صبح ہوئی بھوک کی وجہ سے ماں کو بیدار کرنے لگا،کافی دیر بعد ماں نہ اٹھی ۔ بعد ازاں آس پاس کے لوگ جمع ہوئے تو یہ کیفیت دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔

خشک خوبانی کے صحت پر حیرت انگیز اثرات

خوبانی لذیذ میٹھے ذائقے اور غذائیت سے بھر پور پھل ہے، خوبانی کو تازہ اور اسے سکھا کر دونوں طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے، خوبانی پوٹاشیم، آئرن، فائبر اور بیٹا کروٹین سے مالامال پھل ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ اور خشک دونوں صورتوں میں خوبانی کا استعمال صحت کے لیے بے حد مفید ہے جبکہ اسے سکھا کر محفوظ کرنے کے نتیجے میں اس کی غذائیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق خوبانی میں وٹامن اے بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے اسی لیے اس کا استعمال کمزور نظر کو تیز کرتا ہے، جَلد بڑھاپے اور اعصابی کمزوری سے تحفظ فراہم کرتا ہے، گھٹنوں، جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے محفوظ رکھتا ہے اور دل و دماغ کو طاقت بخشتا ہے۔

خشک خوبانی میں کیلشیم پائے جانے کے باعث یہ ہڈیوں کی بہترین صحت کے لیے بھی ضروری ہے، کیلشیم کے علاوہ خشک خوبانی میں پوٹاشیم بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

خوبانی سکھا کر خشک میوہ جات کی شکل اختیار کر لیتا ہے جبکہ خشک میوہ ہونے کے باعث بھی اس میں فائبر کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، اس کے علا وہ خشک خو بانی میں کیلوریز بھی بہت کم پائی جا تی ہیں، اس میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کی کارکردگی کو مزید فعال بنا دیتا ہے جو وزن کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

فائبر کی بھاری مقدار کولیسٹرول کی سطح کو بھی کنٹرول کرتی ہے جس کے باعث دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے، آدھا کپ خشک خوبانی کا استعمال دل کی متعدد شکایات دور کرتا ہے اور خون کی گردش رواں دواں بناتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ کمزور معدے کے افراد اسے کھانا کھانے سے قبل استعمال کر لیں تو بد ہضمی اور پیٹ سے متعلق جملہ امراض سے شفا ملتی ہے، خشک خوبانی قبض دور کریتی ہے۔

خشک خوبانی میں موجود آئرن خون کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ’اینیمیا‘ (خون کی کمی کی بیماری) کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق خوبانی میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس کینسر کے خطرات کو بھی کم کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی افزائش اور اس کا استعمال پاکستان کے جنوبی علاقوں میں زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پہاڑوں پر رہنے والے اور شہری زندگی سے زیادہ کام اور مشقت کرنے والے افراد طویل عرصے تک متعدد بیماریوں سے دور، چاق و چوبند، سلم اسمارٹ اور توانا رہتے ہیں۔

خشک خوبانی جِلد سے جھریوں کا خاتمہ کرتی ہے اور اسے صاف شفاف بناتی ہے، ساتھ ہی سورج کی تپش کے سبب ہونے والی جلن، خارش اور ایگز یما سے بھی بچاؤ ممکن بناتی ہے ۔

اس کے علاوہ خشک خوبانی کے استعمال کے نتیجے میں کیل مہاسوں اور جھائیوں کا علاج بھی ممکن ہوتا ہے 

یوپی اسمبلی انتخابات میں اپنی طاقت کا احساس کرائے گی ایم آئی ایم:اویسی

بارہ بنکی:09ستمبر(یواین آئی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم)اسد الدین اویسی نے آج یہاں دعوی کیا کہ اترپردیش میں سال 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی ایک مضبوط سیاسی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔

انہوں نے جمعرات کو یہاں کٹرا علاقے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2014 کے بعد صرف مسلم ہی ‘بھیٹر تنتر’کا شکار ہوتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف مسجد اور مسلم ہی یوپی میں نشانے پر ہیں اور کوئی اپوزیشن پارٹی اس کی مخالفت نہیں کرتی ہے۔

بارہ بنکی میں گذشتہ دنوں منہدم کی گئی مسجد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’کیا وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جواب دے سکتے ہیں کہ بارہ بنکی میں مسجد کو شہید کر کے آئین کی دھجیاں کیوں اڑائی گئیں۔بدایوں کے سابق رکن پارلیما ن دھرمیندر یادو کے پاس بھی لفظ نہیں تھے جب بدایوں میں مسجد منہدم کی گئی۔ حقیقت میں یہی یوپی کا اصلی چہرہ ہے۔

مسٹر اویسی نے کہا کہ’ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا ہے۔ دلت بھی نشانے پر ہیں۔ بی جے پی کے اشارے پر مسلم کا استحصال کیا جارہا ہے جبکہ ایس پی ،بی ایس پی اور کانگریس کا کردار خاموش تماشائی کا ہے جنہوں نے تین طلاق اور سی اے اے کے سلسلے میں کھل کر کچھ نہیں کہا۔

پارٹی کے یوتھ ونگ کے ضلع صدر فیض الرحمان کی رہائش گاہ پر میٹنگ سے پہلے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کارکنوں سے ملاقات کر کے انہیں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مشغول ہونے کو کہا۔ دلچسپ ہے کہ ضلع انتظامیہ نے مسٹر اویسی کو بدھ کی رات فیض الرحمان کی رہائش گاہ پر میٹنگ کرنے کی اجازت دی تھی۔ ضلع انتظامیہ نے میٹنگ میں کووڈ پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے 50سے کم لوگوں کی شرکت کی اجازت دی تھی۔ مسٹر اویسی یوپی کے تین روزہ دورے کے بعد آج شام حیدرآباد کے لئے روانہ ہوگئے

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کا نیا انداز توجہ کا مرکز

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن آج شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی پر ایک ملٹری پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے نظر آئے، جس میں وہ ماضی کے برخلاف کافی کم وزن تھے اور ان کی رنگت میں بھی فرق تھا۔اس موقع پر ان کا ہیئر اسٹائل بھی تبدیل شدہ اور اپنے دادا اور شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ جیسا تھا۔

 

فوجی پریڈ میں شمالی کوریا کی جانب سے کوئی اہم اور نیا اسلحہ نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکا میں صدر جوئے بائیڈن کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریامیں یہ پہلا فوجی پریڈ تھا۔ تاہم اس فوجی پریڈ میں کم جونگ ان کی تبدیل شدہ شخصیت پر زیادہ توجہ دی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ چند ماہ کے دوران ان کے وزن میں کافی کمی واقع ہوئی ہے

کوکن کے سیلاب متاثرین میں امداد کی تقسیم۔ ستمبر 10, 2021

ناندیڑ :کوکن کے سیلاب متاثرین میں امداد کی تقسیم۔رضا اکیڈمی و تحفظ ناموس رسالت بورڈ شاخ ناندیڑ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں ریلیف کی تقسیم عالیجناب سعید نوری صاحب صدر رضا اکیڈمی اورحضرت سید معین الدین اشرف،اشرفی جیلانی،عرف معین میاں ممبئی کی ہدایت پر کی گئ رضا اکیڈمی اور تحفظ ناموس رسالت بورڈ شاخ ناندیڑناندیڑ کی جانب سے کوکن سیلاب متاثرین کے لئے بڑے پیمانے پر ریلیف کا کام کیا گیا۔جیسے ہی کوکن کے سیلابی صورتحال کی خبریں ملی۔تحفظ ناموس رسالٹ بورڈ شاخ ناندیڑ کے ذمہ داران نے پریشان حال لوگوں کی امداد کیلئے ہرممکن مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسی کے تحت بورڈ کے ذمہ داران نے شہر کے مخیر حضرات سے مالی تعاون کی اپیل کی تھی۔اور مختلف مسجدوں میں بھی رلیف فنڈ جمع کیا گیا۔تحفظ ناموس رسالت بورڈ شا خ ناندیڑ کے ذمہ داران کی اپیل پر لوگوں نے دل کھول کر مدد کی۔جمع کئے گئے رلیف فنڈ سے سیلاب متاثرین میں ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں امداد کے طورپر پہنچائی گئی۔اس کے لئے تحفظ ناموس رسالت بورڈ اور رضا اکیڈمی کے مقامی ذمہ داران کے ایک وفد نے شکل میں ممبئی کا دورہ کیا اوررلیف کی تقسیم سے متعلق کی گئی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس کے بعدعالیجناب سعید نوری صاحب صدر رضا اکیڈمی اورحضرت سید معین الدین اشرف،اشرفی جیلانی صاحب ممبئی کے ہاتھوں کوکن میں سیکڑوں ضرورت مند سیلاب متاثرہ لوگوں میں ریلیف کا سامان تقسیم کیا گیا۔اور ان کی خبر گیری کی گئی۔رلیف کے کام کو نتیجہ خیز بنانے میں رضا اکیڈمی اور تحفظ ناموس رسالت بورڈ شاخ ناندیڑ کی جانب سے مولانا سید احمد علی مصباحی مولانا عبدالعظیم رضوی،حافظ مولی علی رضوی،حاجی الیاس صاحب بھوکروالے،حافظ رضوان صاحب،حافظ فیروز،رضا،مرزا شکیل بیگ،حاجی عنایت وندھانی،حنیف پٹھان،محمد رضوان،محمد عمران جمالی،حاجی علیم صاحب،محمد الطاف اور سید انصار صاحب و دیگر بورڈ کے ذمہ داران و تمام علماء و ائمہ مساجد و صدور و متولیان کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔


جج ملک نثار احمد اور اپنے حق کے لیے ڈٹ جانے والی نڈر خاتون کی کہانی جس نے طلاق کے بعد شوہر سے نان نفقے کے لاکھوں روپے نکلوائے

یہ سیالکوٹ کی فیملی کورٹس کے ایک سینیئر سول جج ملک نثار احمد کی عدالت میں آنے والی سینکڑوں خواتین میں سے ایک باہمت خاتون کی کہانی ہے۔ سالہا سال عدالتوں کے چکر لگانے کے بعد جو خواتین ان کی عدالت میں پہنچتی ہیں، ‘وہ اپنے پیسے لے کر گھر جاتی تھیں۔’ان میں سے کئی خواتین کے بچوں کو کینسر تھا، کچھ کے پاس بچوں کو کپڑے اور جوتے دلوانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو کئی خواتین اور ان کے بچوں کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔ طلاق ملنے کے بعد وہ بے یارو مددگار تھیں۔

ان کے شوہر ان کو بچوں کے خرچ کی وہ رقم بھی ادا کرنے سے انکاری تھے جو قانونی طور پر ان کا حق تھا اور یہ خواتین کئی سالوں سے بے سود عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھیں۔ جج نثار ملک چند روز کے اندر انھیں نان نفقہ کی رقم ان کے سابق شوہروں سے نکلوا کر دیتے تھے۔گذشتہ تقریباً دو برس کے دوران وہ پانچ سو سے زیادہ خواتین کو 22 کروڑ سے زیادہ کی رقم دلوا چکے تھے جس میں پانچ کروڑ کا جہیز کا سامان بھی شامل تھا۔ سیالکوٹ کے ایک مضافاتی علاقے کے چھوٹے سے مکان کی رہائشی صائمہ بی بی بھی ان میں سے ایک ہیں۔

 

اول تو ان کی شادی ان کی مرضی سے نہیں ہوئی۔ وہ اس وقت 17 برس کی تھیں۔ جس شخص سے ان کی شادی ہوئی ان کی عمر 45 برس تھی، پہلی بیوی وفات پا چکی تھیں اور ان کے چار بیٹے تھے۔ لیکن وہ سعودی عرب میں ‘اچھے پیسے کماتے تھے’ اس لیے صائمہ بی بی کی والدہ نے اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔پھر وہ طلاق بھی نہیں لینا چاہتی تھیں۔ سعودی عرب میں اپنے خاوند کے ساتھ رہتے انھیں پندرہ برس بیت چکے تھے۔ ان کی اپنی چار بیٹیاں تھیں اور ایک چھوٹا بیٹا۔ صائمہ جب سعودی عرب پہنچیں تو انھیں معلوم ہوا تھا کہ ان کے خاوند 2200 ریال ماہانہ پر ڈرائیور کی نوکری کرتے تھے۔ان کی بچیاں اچھی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور خود محنت مزدوری کر کے صائمہ نے ان کے اخراجات پورے کرنے میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا تھا۔ ‘میں نے اپنے بچوں کی ماہانہ فیس 800 ریال تک بھی ادا کی ہے۔ مجھے بہت شوق تھا کہ میرے بچے پڑھیں۔’

 

طلاق ملنے کی صورت میں ان کے پاس کوئی پناہ نہیں تھی۔ ان کے والدین اور اکلوتے بھائی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اور ان کی اپنی ذاتی ملکیت کوئی نہ تھی۔تاہم جب ان کے سوتیلے بیٹے جوان ہوئے تو والد کے ساتھ مل کر ان کا صائمہ اور ان کے بچوں کے ساتھ جائیداد کو لے کر تنازعہ شروع ہوا اور بات یہاں تک پہنچی کہ پہلے صائمہ اپنے بچوں کو لے کر واپس اپنے آبائی شہر سیالکوٹ منتقل ہوئیں اور پھر ان کے شوہر نے انھیں طلاق بھجوا دی۔طلاق کے کاغذات انھوں نے کئی مرتبہ واپس بھجوائے، وہ ہر مرتبہ دوبارہ آئے۔ کچھ عرصہ میں ان کی طلاق ڈگری ہو گئی۔ ان کے خاوند نے اپنے پانچ بچوں کو نہ تو اپنے پاس رکھا اور نہ ہی کبھی ان کا خرچ ادا کیا۔

 

وہ اب انھیں اور بچوں کو سیالکوٹ میں اپنے اس گھر سے نکالنے کے حیلے کر رہے تھے جس میں سے نکلنے سے صائمہ نے انکار کر دیا تھا۔ سیالکوٹ کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کے صحن میں لگی مشین پر چارا کاٹتے ہوئے صائمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گھر سے کیوں نہیں نکلنا چاہتی تھیں۔

‘میری تو عزت خاک ہو ہی گئی تھی، میں اپنی جوان بیٹیوں کی عزت کا تماشا نہیں بنانا چاہتی تھی انھیں کرائے کے گھروں میں رکھ کر۔’ لیکن صائمہ کو نکالنا مشکل کام ثابت ہوا تھا۔ ‘وہ مجھ سے ڈرتے بھی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں اپنے حق کے لیے ڈٹ کر سامنے آتی ہوں۔’

صائمہ نے گائے رکھی ہوئی تھیں جن کے لیے چارا وہ خود کاٹ کر لاتی تھیں۔ سیالکوٹ کچہری میں ان کی دال چاول کی ریڑھی بھی لگتی تھی۔ کھانا وہ خود تیار کرتی تھیں جو ان کے ایک ملازم ریڑھی پر فروخت کرتے تھے۔

عدالتوں میں آنے والی خواتین کی کہانیاں کیا تھیں؟

صائمہ نے جب اپنے بچوں کا خرچ لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کی طرح سینکڑوں خواتین کئی سالوں سے نان نفقہ کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھیں۔

ان میں سے ایک ایسی خاتون بھی تھیں جنھیں اس لیے طلاق ہو گئی تھی کہ ان کی ایک ہی بیٹی پیدا ہوئی تھی اور اس کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ باپ نے ماں کو طلاق دے کر دونوں سے قطع تعلق کر دیا۔ بچی کے علاج کے لیے ماں کے پاس پیسے نہیں تھے۔

محمد بلال نامی بچے کی عمر محض تین برس تھی جب ان کے والد نے ان کی والدہ کو طلاق دی۔ وہ گذشتہ نو برس سے ماں کے ساتھ عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے۔

افشاں نامی خاتون کے والدین فوت ہو چکے تھے۔ ان کے شوہر نے پہلا بچہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی انھیں طلاق دی اور گھر سے نکال دیا تھا۔ بچے کی پرورش میں افشاں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

‘ان جج صاحب کی عدالت سے عورتیں پیسے لے گھر جاتی ہیں’
ایسی درجنوں کہانیاں صائمہ بی بی روزانہ سنتی تھیں۔ انھیں خود بھی یقین ہو چلا تھا کہ انھیں بھی کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ پھر بھی وہ دعالتی کارروائی کی پیروی کرتی رہیں۔

‘آپ خوش قسمت ہیں، آپ کی کوئی دعا کام آ گئی’
ایک روز ان کے وکیل نے صائمہ ‘خوشخبری’ سنائی۔ ان کا کیس سینیئر سول جج ملک نثار کے پاس چلا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے بتایا کہ ‘آپ خوش قسمت ہیں، آپ کی کوئی دعا کام آ گئی۔ ان جج صاحب کی عدالت سے عورتیں پیسے لے کر گھر جاتی ہیں۔’ صائمہ کو اب بھی یقین نہیں تھا۔ جج صاحب نے ان کا کیس سننے کے چار روز بعد آنے کو کہا تھا۔تاہم صائمہ کو اس وقت حیرت ہوئی جب سول جج ملک نثار نے ان کے سابقہ شوہر کو گرفتار کروا لیا۔ پہلی مرتبہ صائمہ بی بی کو تین لاکھ روپے دلوائے پھر ڈیڑھ لاکھ ملا اور آہستہ آہستہ گزشتہ چند ماہ کے دوران صائمہ کو نو لاکھ سے زائد بچوں کے نان نفقہ کی مد میں ملا تھا۔

‘پہلی مرتبہ کسی عدالت سے عورتوں کو نان نفقہ کے پیسے مل رہے تھے۔ اس سے پہلے میں نے تو جس سے بھی پوچھا اس نے یہی بتایا تھا کہ جوتیاں گھس گئیں لیکن عدالتوں سے آج تک کچھ نہیں ملا۔’جج ملک نثار پیسے اتنے جلدی کس طریقے سے نکلواتے تھے؟صائمہ بی بی کے مطابق ان جج صاحب کا کام کرنے کا اپنا طریقہ کار تھا۔ ان کا کیس دو عدالتوں سے ہو کر جج نثار ملک کی عدالت میں آیا تھا اور اس وقت تک کوئی بھی عدالت ان کے سابق خاوند کو عدالت نہیں بلا پائی تھی۔

جج نثار ملک نے انھیں گرفتار کروا لیا تھا۔ پہلی مرتبہ وہ کسی عدالت کے روبروہ پیش ہوئے تھے اور صائمہ بی بی کو پیسے ادا کرنے کے بعد انھیں جانے دیا گیا تھا۔افشاں نامی خاتون کے خاوند کو انھوں نے اس وقت گرفتار کروا لیا تھا جب وہ دوسری شادی کرنے کے لیے کراچی سے بارات لے کر سیالکوٹ پہنچے تھے۔ فوری طور پر دو لاکھ روپے اور بعد ازاں باقی نان نفقہ کی رقم ادا کرنے کے یقین دہانی پر ان کی جان چھوٹی تھی۔جو شخص شہر سے بھاگ جاتا تھا یا ملک ہی چھوڑ چکا تھا اور عدالت کے بلانے پر نہیں آ رہا تھا، تو اپنے قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سول جج نثار ملک نادرا کے ذریعے ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کروا دیتے تھے۔

مجبوراً انھیں پیسوں کی ادائیگی کرنا پڑتی تھی تب جا کر ان کے کارڈ کھولے جاتے تھے۔ جو شخص نان نفقہ کے پیسے دینے سے صاف انکار کر دے اسے جیل بھجوا دیا جاتا تھا۔ جو قید کاٹنے کے بعد بھی پیسے دینے سے انکاری ہو اس کی جائیداد نیلام کر دی جاتی تھی۔

نان نفقہ کی رقم سے صائمہ بی بی کو کیا فائدہ ہوا؟
بچوں کا نان نفقہ سے ملنے والی رقم سے صائمہ بی بی نے اپنے چھوٹے سے گھریلو کاروبار کو مزید وسیع کیا۔ انھوں نے ایک اور گائے خرید لی تھی۔ ان کے پاس اب تین گائے تھیں جن کا دودھ بیچ کر روزانہ انھیں ایک ہزار روپے کی بچت ہوتی تھی۔ساتھ ہی انھوں نے سیالکوٹ کچہری کے باہر دال چاول کی ریڑھی لگا رکھی تھی۔ یہ خیال انھیں ان دنوں میں آیا تھا جب وہ نان نفقہ کی خاطر عدالتوں کے چکر کاٹا کرتی تھیں۔ ‘میں نے دیکھا ادھر بہت رش ہوتا ہے اگر ادھر ریڑھی لگائی جائے تو بہت بچت ہو سکتی تھی۔’

وہ روزانہ فجر سے قبل اٹھ کر چاول اور دال تیار کرتی تھیں۔ اس کے بعد جانوروں کے لیے چارا کاٹ کر لاتی تھیں۔ اس کے بعد بچوں کو سکول کے لیے تیار کر کے اور ناشتہ کروا کر وہ دودھ دوہتی تھیں اور واپس آ کر خود اپنے گھر میں لگی مشین میں چارا کاٹتی تھیں۔

اس دوران وہ یہ چاول ریڑھی لگانے والے اپنے ملازم کے حوالے کرتی تھیں۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گھریلو سطح کے کاروبار کر کے صائمہ بی بی نہ صرف اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا رہی تھیں بلکہ انھوں نے اپنا ایک پلاٹ لے کر اس پر گھر بھی تعمیر کروانا شروع کر رکھا تھا۔

‘میں نے کبھی اپنے بچوں کو مزدوری نہیں کرنے دی’
ان کی سب سے بڑی بیٹی انگلش لٹریچر میں ایم اے کر چکی ہیں اور ان دنوں گھر پر محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے میٹرک میں 1014 نمبر حاصل کیے تھے اور بیت بازی کے کئی مقابلے جیت چکی تھیں۔ ان کی آمدن سے بھی صائمہ کو گھر چلانے میں مدد ملتی ہے۔

ان کی دوسری بیٹی نے میٹرک میں ایک ہزار سے زائد نمبر حاصل کیے تھے اور حال ہی میں انٹر کے امتحانات دینے کے بعد میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔ صائمہ کی دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی تعلیم کے میدان میں آگے تھیں۔

‘میں نے کبھی اپنے بچوں کو محنت مزدوری نہیں کرنے دی۔ اس سے ان کی توجہ تعلیم سے ہٹ سکتی تھی۔’ ان کے چھوٹے بیٹے کی عمر دس برس کے لگ بھگ ہے۔ صائمہ کو امید ہے کہ انھیں بچوں کے خرچ کی بقایا رقم بھی ملتی رہے گی۔وہ سمجھتی ہیں کہ نان نفقہ ملنے سے ان کے لیے بہت آسانیاں پیدا ہوئیں اور اب وہ خود اتنے پیسے کما لیتی ہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم بھی نہ رکے گی اور ان کا گھر کا خرچ بھی چلتا رہے گا۔’تم مجھے کیا مہلت دو گے۔۔۔ میں تمھیں آٹھ گھنٹے کا وقت دیتی ہوں’

انھیں گھر سے نکالنے کے تمام حربے آزمانے کے بعد صائمہ کے سابق شوہر نے گھر چند بدمعاش عناصر کو فروخت کر دیا تھا۔ ان عناصر نے پہلے صائمہ کو ڈرایا دھمکایا اور پھر گھر خالی کرنے کی مہلت دے دی۔’میں نے اس سے کہا تم مجھے کیا آٹھ دن کی مہلت دو گے میں تمھیں آٹھ گھنٹے کا وقت دیتی ہوں۔ اگر مرد کے بچے ہو، تو مجھے نکال کے دکھا دو۔’ تاہم صائمہ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ان کے گھر پر حملہ آور ضرور ہوں گے۔

صائمہ نے اپنے دفاع کا بندوبست کر لیا تھا۔ انھوں نے پانچ کلو سرخ مرچیں لا کر رکھیں۔ تھیلوں کے منہ کھول کر انھوں نے گھر کے دونوں دروازوں کے سامنے رکھ دیے تا کہ وقت آنے پر گرہ کھولنے میں دقت نہ ہو۔ ساتھ ہی انھوں نے ڈنڈے رکھ دیے۔

‘میں مرچیں نہ پھینکتی، انھوں نے ہمارا قیمہ کر دینا تھا’
ان کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ 40 سے 50 افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ صائمہ نے مرچوں کی مٹھیاں بھر کر ان کی آنکھوں میں ڈالیں اور ساتھ ڈنڈوں سے پٹائی کی۔ جب وہ گھر کے اندر داخل نہ ہو پائے تو وہ دوبارہ آئے اور اس بار انھوں نے صائمہ کے گھر پر فائرنگ کی۔

ان کی سب سے بڑی بیٹی کمرے میں ٹہل کر بیت بازی کے مقابلے کی تیاری کر رہی تھیں۔ ایک گولی ان کے بازو کو چھو کر گزر گئی۔ اس لمحے کا سوچ کر صائمہ کی آواز بھرا آئی۔ انھیں یاد ہے کہ زخمی حالت میں بھی ان کی بیٹی صبح بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لینے گئی تھیں۔

‘میری بیٹی نے کہا تھا کہ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ آج بھی آپ جا کر پوچھ سکتے ہیں کہ اگر اس دن میں مرچیں نہ پھینکتی، انھوں نے ہمارا قیمہ کر دینا تھا۔’ ایک لمحے کے توقف کے بعد صائمہ نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔

‘میرے کبھی آنسو نہیں نکلے، آنسو انسان کو کمزور کرتے ہیں لیکن جب میری بیٹی کو گولی لگی ہے نا، تب میں تھکی ہوں۔ ورنہ میں کبھی نہیں تھکی۔’ اپنے بچوں کی حفاظت کی خاطر انھوں نے خود گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

‘میں نے سوچا اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچوں کا کیا ہو گا۔ اس کے بعد میرا صرف یہی مشن تھا کہ چاہے ایک کچا کمرہ ہو، میں اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤں۔ میں نے دونوں گھروں کی چابیاں برادری والوں کے حوالے کیں اور اپنا سامان لے کر ہم ماں بچے وہاں سے نکل گئے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...