Powered By Blogger

جمعہ, ستمبر 17, 2021

والدین کو پریشان کرنے والے بیٹے اور اس کی بیوی پر بامبے ہائی کورٹ برہم، فلیٹ خالی کرنے کا حکم

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے ایک شخص اور اس کی بیوی کو اپنے بزرگ والدین کا گھر ایک مہینے کے اندر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ شخص والدین کو پریشان کرتا تھا اور ان کا گھر خالی کرنے سے انکار کر رہا تھا۔ جسٹس جی ایس کلکرنی کی سنگل بنچ نے اسی ہفتہ یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے آشیش دلال نامی شخص اور ان کے کنبہ کو اپنے بزرگ والدین کا فلیٹ خالی کرنے کا حکم سنایا ہے۔عدالت نے پایا کہ 90 سالہ والد اور 89 سالہ والدہ کا اکلوتہ بیٹا اور اس کی والدہ انہیں پریشان کر رہے ہیں، یہ فلیٹ بزرگ جوڑے کی ملکیت ہے۔ دلال کو فلیٹ خالی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ والدین کو اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اپنی ہی بیٹوں کی جانب سے استحصال سے خود کو بچانے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں بزرگ والدین اپنے اکلوتے بیٹے ہاتھوں پریشان ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کہاوت میں کچھ سچائی ہے کہ بیٹیا سدا کے لئے ہیں اور بیٹے تبھی تک کے لئے جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔بنچ نے کہا کہ سینئر شہری قانون میں یہ التزام کیا گیا ہے کہ سینئر شہریوں کی اولادیں یا رشتہ دار یہ یقینی کریں کہ بزرگ استحصال اور پریشانی سے آزاد ہو کر حسب معمول زندگی گزاریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ موجودہ معاملہ انتہائی افسوسناک ہے، جہاں شخص دانستہ طور پر والدین کو بزرگی میں آرام دہ زندگی گزارنے سے روک رہا ہے۔

عدالت دلال کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کر رہی تھیں جس میں اس نے سینئر شہری ٹریبیونل کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔ اس ٹریبیونل نے دلال اور اس کی بیوی کو فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ معاملہ کی سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ دلال کے پاس نوی ممبجی اور دھیسر علاقہ میں تین رہائیش مکانات ہیں، پھر بھی وہ والدین کے ساتھ رہنے پر وزر دے رہا ہے۔ بنچ نے دلال کی عرضی خارج کرتے ہوئے 30 دن کے اندار فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا۔

پنچایت الیکشن کو آپسی نفرت کے ماحول سے بچانا ھم سبہوں کی ذمہ داری : ابوالکلام قاسمی شمسی

پنچایت الیکشن کو آپسی نفرت کے ماحول سے بچانا ھم سبہوں کی ذمہ داری : ابوالکلام قاسمی شمسی

الیکشن لڑنا اور اس میں جیت حاصل کرنا جمہوری اور دستوری حق ھے ، الیکشن اسمبلی کا بھی ھوتا ھے اور پنچایت کا بھی ، نگر دونوں الیکشن میں فرق ھے ، اسمبلی الیکشن کا تعلق ایک بڑے علاقہ سے ھوتا ھے،جس میں بہت سے گاؤں شامل ھوتے ہیں ۔ اور پنچایت الیکشن کا تعلق گاؤں سے ھوتا ھے ،جس میں دو تین گاؤں شامل ھوتے ہیں ،اس لئے اسمبلی الیکشن کے مقابلہ میں پنچایت الیکشن میں لوگ زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اور الیکشن کا وقت آتے ھی ہر گاؤں میں ہو ہنگامہ شروع ھو جاتا ھے ،ایک پنچا یت میں مکھیا اور سرپنچ کے کئی کئی امیدوار کھڑے ھو جاتے ھیں ،پھر مقابلہ کا دور شروع ھو جاتا ھے اور کھینچا تانی کا معاملہ زور پکڑلیتا ھے،ہر ایک کے حمایتی آپس میں اس قدر بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگتے ہیں کہ ایک دوسرے کی عزت کے ساتھ کھلواڑ تک نوبت پہنچ جاتی ھے ،جبکہ ایسا کرنا نہ تو شریعت کے اعتبار سے صحیح ھے اور نہ قانونی اعتبار سے ، الیکشن میں الیکشن کے اصول ضابطہ کی رعایت کی جائے ، دل میں عوام و خواص کی خدمت اور ایک دوسرے کی عزت و قدر کا جذبہ ھونا چاہئے، اطمینان اور سکون کا ماحول پیدا کرنا چاہئے ،ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ،اچھے اور مناسب امیدوار کو جتانے کی کوشش ھونی چاہئے ، مگر معاملہ الٹا ھو جاتا ھے ، سنجیدگی کو چھوڑ کر ہر گروپ کے لوگ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش میں رھتے ھیں ،یہ غیر مناسب طریقہ ھے ، الیکشن میں جیت اور ہار کی کنجی ووٹ دینے والے لوگوں کے ہاتھوں میں ھے ، وہ جس کو ووٹ دے کر منتخب کر دیں ،وہی مکھیا ھے ،وہی سرپنچ ھے ،وہی سب کا نمائندہ ھے ، اس لئے امیدوار اور اس کے مددگاروں کو چاہئے کہ عوام میں سے جو ووٹ دینے والے ھیں ان سے مل کر ان کو سمجھائیں ،اپس میں نہ الجھیں اور نہ ایک دوسرے کے خلاف کچھ بولیں ،سب امیدوار گاؤں ھی کے ھوتے ھیں ،اس لئے سب ایک دوسرے کو جانتے ھیں اور پہچانتے ہیں ، اس لئے کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے کسی کی دل آزاری ھو ، گاوں کے سنجیدہ لوگوں کو بھی چاہئے کہ پنچایت الیکشن کو سنجیدہ بنانے پر زور دیں ، تاکہ اچھے امیدوار کے انتخاب میں آسانی ھو ،اللہ تعالیٰ سے دعاء ھے کہ وہ ھم لوگوں کی صحیح رہنمائی فرمائے تاکہ ھم لوگ اطمینان و سکون کے ساتھ پنچایت الیکشن کو گذارنے میں اہم کردار ادا کریں

زرعی قوانین کے خلاف اکالی دل کا ’یومِ سیاہ‘، ہریانہ سے دہلی آنے والے تمام راستے بند، سڑکوں پر جام

نئی دہلی: زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک لگاتار جاری ہے اور اب سیاسی جماعتیں کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو رہی ہیں۔ شرومنی اکالی دل کی جانب سے آج ’یوم سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے اور بڑی تعداد میں پارٹی کے لوگ اور کسان پنجاب سے دہلی پہنچے ہیں۔

خیال رہے کہ آج کے دن لوک سبھا سے زرعی قوانین کو منظور کیا گیا تھا لہذا اس دن کو اکالی دن نے یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکالی دن کے لیڈران اور کارکنان دہلی میں رکاب گنج سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے والے ہیں لیکن پولیس اس کی اجازت نہیں دے رہی۔

اکالی دل کے احتجاج کے پیش نظر ہی دہلی پولیس نے جھڑودہ کلاں بارڈر پر ٹریفک کو بند کیا ہے۔ دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر کئی راستوں پر ٹریفک متاثر ہے۔ دہلی کے مختلف علاقوں میں کسان تحریک کے پیش نظر حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ اور کئی مقامات پر بیریکیڈنگ لگاکر ٹریفک ڈائیورٹ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، دہلی ٹریفک پولیس نے اطلاع دی ہے کہ کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر جھڑودہ کلاں بارڈر پر دونوں طرف کا راستہ بیریکیڈ لگاکر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نظام پور بارڈر، سدی پور گاؤں سمیت دیگر تمام سرحدوں کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ اکالی دل نے پنجاب سے ہی اپنا احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا تھا اور ہریانہ سے ہوتے ہوئے دہلی آنے کی کوشش کی تھی۔ کئی مقامات پر اکالی دل کے کارکنان نے بیریکیڈنگ بھی ہٹانے کی کوشش کی۔

اکالی دل کے لیڈر سکھبیر سنگھ بادل اور دیگر تمام لیڈران اس وقت دہلی میں موجود ہیں۔ یہاں گرودوارا رکاب گنج میں پارٹی کی میٹنگ کی جا رہی ہے اور احتجاج کے حوالہ سے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ گرودوارے کے باہر بھی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔


کنّور یونیورسٹی میں ساورکر اور گولولکر کو نصاب سے ہٹانے کا فیصلہ، بی جے پی چراغ پا

کنّور یونیورسٹی نے وی ڈی ساورکر اور ایم ایس گولولکر کے نظریات اور ان کے کاموں کو اپنے نصاب سے ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔ کافی تنازعہ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے اور اب جلد ہی پوسٹ گریجویٹ کے گورننس اینڈ پالیٹکس نصاب میں شامل ساورکر اور گولولکر سے متعلق مواد کو ہٹا دیا جائے گا۔ جب سے ان دو ناموں کو نصاب میں شامل کیا گیا تھا، کیرالہ میں اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیا تھا اور ریاستی حکومت پر تعلیم کی بھگواری کا الزام عائد کیا تھا۔

کانگریس نے برسراقتدار سی پی آئی (ایم) پر ریاست میں تعلیم کی بھگواکاری کے لیے سہولت مہیا کرنے اور غلط نظریات کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاست کی سی پی آئی (ایم) حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فوری طور پر ساورکر، گولوالکر، دین دیال اپادھیائے وغیرہ کے کاموں کو یونیورسٹی کے نصاب سے ہٹایا جائے۔ حالانکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گوپی ناتھ رویندرن نے ساورکر اور گوالکر جیسے لوگوں کو نصاب میں شامل کیے جانے کا دفاع کیا تھا۔ بعد ازاں خود وزیر اعلیٰ پینارائی وجین نے اس عمل کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے مخالفت میں بیان دیا تھا۔

اس تنازعہ کے درمیان 16 ستمبر کو کنّور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گوپی ناتھ رویندر نے کہا کہ ’جدید ہندوستانی سیاسی نظریات پر بحث‘، جس میں ساورکر اور گولولکر کے ذریعہ کیے گئے کام اور ان کے نظریات شامل ہیں، نصاب کے تیسرے سیمسٹر سے ہٹا دیے جائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ضروری تبدیلی کے بعد اس پیپر کو چوتھے سیمسٹر میں شامل کیا جائے گا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق آئندہ 29 ستمبر کو اسکول کے اکیڈمک کونسل کی میٹنگ ہونے والی ہے جس میں اس تعلق سے آخری فیصلہ لیا جائے گا۔

بہر حال، کنّور یونیورسٹی کے ذریعہ نصاب سے ساورکر اور گولولکر کے کاموں کو نکالے جانے کے فیصلہ کو بی جے پی نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی نے اپنا احتجاج درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کا فیصلہ کیرالہ میں سی پی آئی (ایم) اور کانگریس کے آپسی گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔ کیرالہ بی جے پی صدر کے. سریندرن کا کہنا ہے کہ ’’یہ حیرت انگیز ہے، کانگریس کے مطالبہ کے بعد سی پی آئی (ایم) ملک کے قومی لیڈرس کے کاموں کی جانکاری اپنے نصاب سے ہٹا دیتی ہے۔

عامرخان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران

عامرخان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران

عامر خان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران
عامر خان کے باڈی گارڈ کی تنخواہ سن کر رہ جائیں گےحیران

نئی دہلی:بالی ووڈ میں مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور عامر خان ایک فلم میں کام کے عوض کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں ہر کوئی ان کی نئی فلم کے آنے سے متعلق جاننا چاہتا ہے، تاہم عامر خان کے باڈی گارڈ ان دنوں خبروں میں ہیں۔ کیونکہ آپ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ وہ بھی سالانہ تنخواہ کروڑوں روپے لیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بالی وڈ میں کی فلموں میں ہم اکثر ہیرو کے ہاتھوں ولن اور ساتھیوں کی پٹائی کے مناظر دیکھتے ہیں تاہم سکرین سے ہٹ کر ان طاقتور ہیروز کو بھی سکیورٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس مقصد کے لیے باڈی گارڈز کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور بھاری معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ لوگ اکثر جاننے کی خواہش رکھتے ہیں بالی وڈ کی سلیبریٹیز کے باڈی گارڈز کی تنخواہیں کتنی ہوتی ہیں۔

آپ سن کر حیران ہونگے کہ بالی وڈ کی سلیبریٹیز باڈی گارڈز کو سالانہ کروڑوں تنخواہ کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان اپنے باڈی گارڈ کو جنہوں نے سکول میں ہی پڑھائی کو خیرباد کہہ دیا تھا کو کتنا معاوضہ دیتے ہیں۔

اس سے قبل شاہ رخ خان، سلمان خان اور امیتابھ بچن کے باڈی گارڈز کی تنخواہیں انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہیں۔

میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کے مشہور اداکار عامر خان کے باڈی گارڈ یوراج گھورپڑے نے سکول چھوڑنے کے بعد چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے کے بعد 16 برس کی عمر میں سکیورٹی ایجنسی میں ملازمت اختیار کرلی۔

ان کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا جس کی وجہ سے یہ ملازمت حاصل کرنے کے بعد انہیں اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع میسر آیا۔ عامر خان کے باڈی گارڈ یوراج گھورپڑے کی سالانہ تنخواہ سن کر آپ حیران رہ جائینگے ، وہ سالانہ 2 کروڑ روپے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ (ایجنسی ان پٹ )


میٹرو شہر پاک ٹیرر ماڈیول کا نشانہ تھے ، کراچی ٹرینرز کی جانب سے 'اوور ہیرڈ پلان' کے ملزم

میٹرو شہر پاک ٹیرر ماڈیول کا نشانہ تھے ، کراچی ٹرینرز کی جانب سے 'اوور ہیرڈ پلان' کے ملزم۔میٹرو شہر پاک ٹیرر ماڈیول کا نشانہ تھے ، کراچی ٹرینرز کی جانب سے 'اوور ہیرڈ پلان' کے ملزم۔پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد ماڈیول جو دو روز قبل کثیر ریاستی آپریشن میں پکڑا گیا تھا ملک بھر میں سیریل دھماکوں کی منصوبہ بندی کرچکا تھا (28۔ذرائع نے بتایا کہ یہ گروہ تمام میٹرو شہروں میں دہشت گردانہ حملے کرنا چاہتا تھا۔ ذیشان نے اپنی تفتیش کے دوران تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے یہ منصوبہ کراچی میں اپنے ٹرینرز سے سنا ہے۔

 اعلیٰ انٹیلی جنس ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ گرفتاریاں سیکورٹی فورسز کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ ابتدائی مرحلے میں چھ افراد کو پکڑ کر ملک بھر میں کم از کم پانچ سیریل دھماکوں کو ٹالنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

 تفتیشی ادارے اب اس کیس کے سلسلے میں مزید 6-7 مشتبہ افراد کی تلاش میں ہیں اور آنے والے دنوں میں ان کی گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ماڈیول کے پاکستان میں مقیم ٹرینرز نے ذیشان اور دیگر ملزمان کو ان 6-7 لوگوں سے ملنے کے لیے کہا تھا جب وہ واپس بھارت جائیں گے۔

 ذرائع نے مزید بتایا کہ ان ٹرینرز کو کراچی فارم ہاؤس میں بھیجا گیا تھا ، جہاں چھ ملزمان نے 15 دن سے زیادہ IEDs ، اسلحہ اور آتش زدگی سے متعلق سرگرمیوں کی تربیت حاصل کی ، کیونکہ ان کا مقصد جیش یا لشکر جیسے بڑے گروہوں کو تربیت دینا ہے۔ ای طیبہ ٹرینرز نے انہیں واضح طور پر بتایا کہ وہ چھوٹے گروپوں کو تربیت نہیں دیتے۔

 دہلی پولیس کے اسپیشل سیل اور اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے منگل کے روز دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کیا اور چھ افراد کو گرفتار کیا جن میں دو پاک-آئی ایس آئی تربیت یافتہ دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ ماڈیول نے گنیش چتروتی ، نوراتری اور رام لیلا کے تہواروں کے دوران دہلی ، اتر پردیش اور مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں کئی دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

 ملزمان کی شناخت مہاراشٹر سے جان محمد شیخ (47) ، اسامہ (22) دہلی ، مول چند (47) اتر پردیش کے رائے بریلی ، ذیشان قمر (28) الہ آباد ، محمد ابوبکر (23) بہرائچ اور محمد عامر کے طور پر ہوئی ہے۔ جاوید (31) لکھنؤ سے۔ اس آپریشن کی لاگت تقریبا approximately 3 لاکھ روپے تھی ، جسے اسامہ کے والد اوسادور نے دبئی سے منتقل کیا تھا۔ اسدور کو جلد ہی بھارت کے حوالے کرنے کا امکان ہے اور بھارتی حکومت دبئی حکام پر اس کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

 جان محمد شیخ کو 'ڈی کمپنی' یا انڈر ورلڈ نے دھماکہ خیز مواد حاصل کرنے اور انہیں ملک کے دیگر حصوں میں پہنچانے کا کام سونپا تھا۔ ماڈیول نے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے میں پاک-آئی ایس آئی اور انڈر ورلڈ کے درمیان گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا

وزیراعظم مودی کی 71ویں سالگرہ کا ملک گیر جشن

وزیراعظم مودی کی 71ویں سالگرہ کا ملک گیر جشن

وارانسی میں چراغاں
وارانسی میں چراغاں

اردو دنیا نیوز۷۲ : نئی دہلی

آج وزیر اعظم نریندر مودی کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں بلکہ کونے کونے میں بڑا جشن منایا جا رہا ہے۔راجدھانی دہلی کے ساتھ مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں تہوار کا ماحول ہے۔ رات کو بارہ بجے 71 کلو کے لڈو کا کیک بنایا گیا اور کاٹا گیا۔ اس کے ساتھ گنگا آرتی اور آسی گھاٹ پر چراغ جلاتے ہوئے پی ایم مودی کی صحت اور لمبی عمر کی دعائیں مانگی گئیں۔

مودی کی سالگرہ بی جے پی ملک بھر میں منفرد انداز میں منائے گی۔ اس سلسلے میں بہار ، مدھیہ پردیش سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ویکسینیشن مہم تیز کی جائے گی۔ مدھیہ پردیش میں 71 لاکھ اور بہار میں 30 لاکھ افراد کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ان کی سالگرہ کسی جشن سے کم نہیں ہوگی۔ بھارت ماتا مندر میں شام 6 بجے 71 ہزار چراغ جلائے جائیں گے۔ بڑے 71 مندروں میں آرتی اور چراغ جلائے جائیں گے۔ مسلم خواتین فاؤنڈیشن کی جانب سےبھی جشن منائیں گی۔

کیک کاٹنے کے دوران ، آل انڈیا سنت سمیتی کے جنرل سکریٹری سوامی جیتندرانند سرسوتی ، راجیہ سبھا کی رکن پارلیمنٹ روپا گنگولی ، بی ایچ یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر جی سی ترپاٹھی اور بی جے پی یوپی کے ریاستی انچارج سنیل اوجھا سمیت شہر کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سب نے کہا کہ وزیر اعظم نے ملک کو مضبوط قیادت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہندوستان کی قدر بلند کی ہے۔ ہم سب کو اس پر فخر ہے اور بابا وشوناتھ سے ان کی خوشگوار زندگی کے لیے دعا کرتے ہیں۔

awaz

شہر میں تہوار کا ماحول ، لوگوں نے چراغ جلائے۔ وزیر اعظم کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر کاشی کے لوگوں نے کئی مقامات پر چراغ جلا کر خوشی کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ گنگا کے کنارے پر بھی لوگوں نے وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ 71 سال کے ہونے کی خوشی میں چراغوں سے مختلف شکلیں بنائیں۔ وزیراعظم کی لمبی عمر اور اچھی صحت کی خواہش کے ساتھ آسی گھاٹ پر دیپ دان کیے گیے۔

۔ 141 ویں بار خون کا عطیہ دیا 

پردیپ اسرانی ، کاشی رتدان کمبھ سمیتی کے سرپرست اور بی ایچ یو بلڈ بینک کے برانڈ ایمبیسیڈر ، وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر 141 ویں مرتبہ خون کا عطیہ دیا۔ روٹری انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ بلڈ ڈونیشن کے چیئرمین راجیش کمار گپتا نے بتایا کہ پردیپ اسرانی نے اب تک 118 بار اور ایس ڈی پی نے 23 مرتبہ خون کا عطیہ دیا ہے۔ وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر کینسر اسپتال میں خون عطیہ کا کیمپ لگایا جائے گا۔

امبیڈکر کے مجسمہ والے مقام پر صفائی مہم چلائی جائے گی۔ پی ایم مودی کی سالگرہ کے موقع پر بی جے پی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ جمعہ کو بنارس آرہے ہیں۔ ان کی قیادت میں عدالت میں امبیڈکر مجسمہ کے مقام پر صفائی مہم چلائی جائے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ پی ایم کی سالگرہ کے موقع پر صبح 9 بجے دشاشودھ گھاٹ پر گنگا کو 71 میٹر لمبی چناری پیش کی جائے گی۔ وشاکرما شرم سمن تقریب آشا کالج بابات پور میں منعقد ہوگی۔ وشواکرما جینتی کی تقریبات بڑی لالپور میں واقع دینیال ہستکلا سنکول (ٹی ایف سی) میں منعقد ہوں گی۔

بی جے پی 'خدمت اور لگن' مہم چلائے گی

پی ایم مودی کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر بی جے پی جمعہ سے 7 اکتوبر تک 20 دن کی 'خدمت اور لگن' مہم چلائے گی۔ اس موقع کو منانے کے لیے ، بی جے پی نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ کوویڈ 19 کے خلاف ویکسینیشن مہم میں بھرپور تعاون کریں۔ بی جے پی وزیر اعظم کے عوامی دفتر میں دو دہائیوں کی تکمیل کا جشن بھی منائے گی۔

وزیر صحت نے یہ اپیل کی

 جمعہ کے روز مرکزی وزیر صحت منسوخ مانڈاویہ نے وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر ویکسینیشن مہم کو مضبوط بنانے کی درخواست کی۔ مرکزی وزیر صحت نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو سب کو مفت ویکسین کا تحفہ دیا ہے۔ جمعہ ہمارے پیارے وزیر اعظم کی سالگرہ ہے۔ آئیے وزیر اعظم نریندر مودی جی کو سالگرہ کا تحفہ دیں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو 'ویکسین سروس' کے تحت ویکسین دی جائے۔

 وارانسی میں لمبی زندگی کی دعا

اس کے علاوہ اترپردیش کے دیگر اضلاع میں بھی کئی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ وارانسی کے لوگ اپنے گھروں میں چراغ جلا کر 'آپکو ہماری عمر لگ جئے' کے عزم کے ساتھ پی ایم کی لمبی عمر کے لیے خدا سے دعا کریں گے۔ اس کے لیے بی جے پی نے وسیع تیاری کی ہے۔ بی جے پی مدھیہ پردیش میں مختلف پروگرام منعقد کرے گی۔ وزیر اعظم کو سب سے بڑا تحفہ لوگوں کو 71 لاکھ اینٹی کورونا ویکسین حاصل کرنا ہے۔

خدمت اور لگن مہم 7 اکتوبر تک۔ یہ ہدف بی جے پی اور یوپی حکومت نے 'سیوا سی سمپران ابھیان' کے تحت مقرر کیا ہے۔ 17 ستمبر وزیر اعظم کی تاریخ پیدائش ہے اور 25 ستمبر پنڈت دینال اپادھیائے کی سالگرہ ہے۔ 17 ستمبر سے 7 اکتوبر تک پارٹی خدمت اور لگن مہم چلائے گی۔ بہار میں بھی محکمہ صحت ایک خصوصی مہم چلا کر 30 لاکھ لوگوں کو ویکسین کرے گا۔

۔ 71 ہزار مچھلیاں گنگا میں چھوڑی جائیں گی

وکاس انس پارٹی (وی آئی پی) وزیراعظم کی سالگرہ پر 71 ہزار مچھلیاں گنگا میں چھوڑی جائیں گی۔ پارٹی کے قومی صدر اور بہار کے جانوروں اور ماہی گیری کے وسائل کے وزیر مکیش ساہنی نے کہا کہ یہ کام ماہی گیر سماج کے روزگار کو بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

۔ 72 ہزار مندروں میں دیپوتسو۔

 بہار میں حکومت کے ساتھ بی جے پی اور این ڈی اے کے حلیف جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی 71 ویں سالگرہ بڑے پیمانے پر منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے 72 ہزار بوتھ صدور جمعہ کی شام مندروں میں دیپوتسو کا اہتمام کریں گے۔

کورونا ویکسینیشن مراکز پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ہورڈنگز اور بی جے پی کے تمام 45 ضلعی دفاتر میں نمائش ہوگی۔ پی ایم کی سالگرہ پر بی جے پی اقلیتی مورچہ کے کارکن جمعہ کو ہائی کورٹ کے قریب مزار شریف پر 71 چادریں پیش کریں گے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...