Powered By Blogger

ہفتہ, ستمبر 25, 2021

عشق میں 66 سالہ دلہن کی 79 سالہ بزرگ شخص سے شادی ، دولہے کے بیٹے اور پوتے بھی ہیں

عشق میں 66 سالہ دلہن کی 79 سالہ بزرگ شخص سے شادی ، دولہے کے بیٹے اور پوتے بھی ہیںمہاراشٹر: ویسے آپ نے اپنی زندگی میں کئی شادیاں دیکھی ہوں گی ، کبھی اپنے رشتہ داروں کی تو کبھی اپنے دوستوں کی۔ لیکن آج ہم آپ کو ایسی شادی کے بارے میں بتائیں گے ، جسے سن کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ جی ہاں ، عمر کی دہلیز عبور کرتے ہوئے دو عمر رسیدہ جوڑوں نے اپنی مستقبل کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے لئے شادی کر لی۔ یہ شادی مہاراشٹر کے ضلع سانگلی میں ہوئی۔ جہاں دلہن کی عمر 66 سال ہے اور دلہن کی عمر 79 سال ہے۔ یہ شادی ضلع سانگلی کے میرج میں واقع آستھا بے گھر خواتین سینٹر میں ہوئی۔ جہاں 66 سالہ دلہن شالینی اور 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔   شالینی ، دلہن جو بے گھر سینٹر میں رہتی ہے ، دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ معلومات کے مطابق میرج کے بے گھر سینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔   دریں اثنا 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔ دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں۔ جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی۔ بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔   ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔

آسام میں پولس کی وحشیانہ کارروائی پر جمعیۃ علماء ہندکی سخت مذمت

آسام میں پولس کی وحشیانہ کارروائی پر جمعیۃ علماء ہندکی سخت مذمت

آسا م میں پولس کی وحشیانہ کارروائی پر جمعیۃ علماء ہندکی سخت مذمت
آسا م میں پولس کی وحشیانہ کارروائی پر جمعیۃ علماء ہندکی سخت مذمت

  •  
  •   
  •  


نئی دہلی: ریاست آسام کے درانگ ضلع کے تحت دھال پور بستی میں واقع رہائش گاہوں کو مقامی پولیس انتظامیہ کے ذریعے اجاڑے جانے اور ان کے گھروں کو مسمار کئے جانے کے خلاف اپنے جمہوری حق کے مطابق پر امن احتجاج کررہے غریب عوام پر پولیس کے ذریعے قہر ڈھانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

بالخصو ص اس واردات کی ایک ویڈیو کلپ شوسل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، جس میں دیکھا جارہا ہے کہ ایک شہری پرکلوز رینج سے گولی چلانے کے بعد درجنوں سپاہی اس پر لاٹھی مار رہے ہیں اور ایک شخص جو کیمرہ لیے ہوئے ہے اور پولس کا ہمنوا ہے، وہ اس مظلوم کے سینہ پر کودکرتشدد کررہا ہے۔

ایسے دردنا ک سانحہ پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدرمولانا محمود مدنی نے انتہائی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور پولیس فائرنگ اور پرتشدد کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اس سلسلے میں مولانا مدنی نے وزیر اعلیٰ آسام ہیمنت کمار بسواسرما اور بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ، قومی اقلیتی کمیشن اور ہیومن رائٹس کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اپنے ہی ملک کے مظاہرین کے ساتھ غیر قانونی اور پرتشدد رویہ اختیار کرنے کو کوئی بھی مہذب سماج قبول نہیں کرسکتا، یہ انتہائی پاگل پن اور جنونی رویہ کا مظاہرہ ہے، جسے دیکھ کر انسانیت شرمند ہ ہو جاتی ہے۔

مولانا مدنی نے اس موقع پر چار مطالبات کیے ہیں (1) اس سانحہ کی اعلی سطحی جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے (2) بظاہر ویڈیو میں نظر آرہے ملوث پولس افسران اور نام نہاد کیمرہ مین کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے (3) پولس تشدد میں مارے گئے شہریوں کے اہل خانہ کو معقول معاوضہ دیا جائے (4) اجاڑے گئے خاندانوں کی بازآبادکاری کا بندو بست کیا جائے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین میں انسانی حقوق کو اولیت حاصل ہے، کوئی بھی زمین کا ٹکڑا کسی انسان کی جان سے اہم نہیں ہے، اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ آسام کے وزیر اعلی انسانی اقدار کا تحفظ کریں گے اورمظلوموں کو انصاف دلانے میں مستعدی سے کام لیں گے۔

یوپی ایس سی :761 کامیاب امیدواروں میں 31 مسلمان ،تناسب رہا(4.07٪)

یوپی ایس سی :761 کامیاب امیدواروں میں 31 مسلمان ،تناسب رہا(4.07٪)

کامیاب مسلم امیدواروں میں کمی
کامیاب مسلم امیدواروں میں کمی

  •  
  •   
  •  
  •   

 

نئی دہلی: 31 مسلم طلباء نے سول سروسز (مین) امتحان ، 2020 میں کامیابی حاصل کی۔ صدف چودھری جو 23 ویں نمبر پر ہیں ، 23نے مسلم امیدواروں میں اعلیٰ درجہ حاصل کیا ہے۔

 وہ کل 761 کامیاب امیدواروں میں سے 4.07 فیصد ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کامیاب مسلم امیدواروں کی تعداد میں کمی آئی ہے کیونکہ 2019 کے بیچ میں کل 42 نے سول سروسز کا امتحان پاس کیا تھا۔

 آئی آئی ٹی بمبئی کے گریجویٹ شوبھم کمار نے امتحان میں ٹاپ کیا ہے۔ اس نے اپنی تیسری کوشش میں یہ مقام حاصل کیا۔ جگریتی اوستھی اور انکیتا جین نے فہرست میں دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔

منتخب مسلم امیدواروں کی فہرست UPSC 2020

 23 صدف چودھری

58 فیضان احمد۔

63 دینہ دستگیر

125 ایم ڈی منظر حسین

129 شاہد احمد۔

142  شہنشاہ کے ایس

203 محمد عاقب۔

 217 ​​شہناز او

225 وسیم احمد بھٹ

  234 بشارہ بانو

270 ایم ڈی حارث سمیر

 282 التمش غازی

283احمد ایچ چوہدری

389 محب اللہ انصاری۔

403انیس۔

423 زیبا خان

447فیصل رضا۔

450ایس محمد یعقوب۔ 

 470 سبیل پوواکندیل۔ 

 478 ریحان کھتری۔ 

 493 محمد جاوید اے۔

545 الطاف مہد۔ شیخ۔

558 خان عاصم کفایت۔

569 سید زاہد علی۔

583 شکیراحمد ٹونڈیخان

 589 محمد رسون۔

597 محمد سہد۔

611 اقبال رسول ڈار۔

 625 عامر بشیر۔

738 ماجد اقبال خان۔


سیمی سے تعلق کے الزام میں بھوپال جیل میں قید چار ملزمان کو سات سال بعد ملی ضمانت جمعية علماء ایم پی کی کوشش کامیاب

سیمی سے تعلق کے الزام میں بھوپال جیل میں قید چار ملزمان کو سات سال بعد ملی ضمانت جمعية علماء ایم پی کی کوشش کامیاب

بھوپال: 25؍ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲) بھوپال سینٹرل جیل میں بند سیمی سے تعلق رکھنے کے چار ملزمین کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد بھوپال ضلع عدالت نے سات سال بعد ضمانت دیدی ہے ۔ اسماعیل، عمیر، عرفان اور صدیق کی ضمانت کے لئے بھوپال عدالت نے شولہ پور کے ساتھ بھوپال کے ضمانت دار پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جمعیت علما کے ذریعہ عدالت میں شولہ پور کے ساتھ بھوپال کے چار ضمانت دار پیش کیے جانے اور فی کس ایک ایک لاکھ روپے کی ضمانت پیش کئے جانے کے بعد عدالت نے چاروں ملزمین کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے ۔ دیر رات تک چاروں ملزمین بھوپال سینٹرل جیل سے رہا ہوکر اپنے وطن شولہ پور کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ اکتوبر دوہزار تیرہ میں کھنڈوا جیل کے دو سنتریوں کو چاقو مارکر سیمی سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار سات قیدی جیل بریک کر بھاگ گئے تھے۔ ان قیدیوں کو پناہ دینے اور ان کی معاونت کرنے کے الزام میں اے ٹی ایس کے ذریعہ عمیر، صدیق ، عرفان اوراسمعیل کو شعلہ پور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بھوپال سینٹرل جیل میں قید سیمی سے تعلق کے الزام میں اٹھائیس دیگر قیدیوں کے ساتھ شعلہ پور کے یہ چارملزمین بھی قید تھے۔ ایم پی اے ٹی ایس کے ذریعہ وقت پر چارج شیٹ عدالت میں پیش نہیں کئے جانے کے سبب ان چاروں قیدیوں کو ضمانت کا فائدہ ملا۔

ان چاروں قیدیوں کی رہائی کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعہ ایک ہفتہ قبل ہی ضلع عدالت کو ضمانت دینے کی ہدایت جاری کی گئی تھی ۔ لیکن ضلع عدلت کے ذریعہ ان چاروں ملزمین کی رہائی کے لئے شعلہ پور کے ساتھ بھوپال سے ضمانت دار پیش کئے جانے اور شعلہ پور کے ساتھ بھوپال کے ضمانت دار کے ذریعہ فی کس ایک ایک لاکھ کی ضمانت پیش کئے جانے کی شرط پر ان ملزمین کی رہائی میں تاخیر ہوئی۔ چاروں ملزمین کی رہائی کیلئے ان کے گھر کی خواتین ایک ہفتے سے بھوپال میں مقیم تھیں ۔ ان کی رہائی میں جمعیت علما کے صدر مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر ایم پی جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون اور مولانا اسمعیل بیگ نے ایڈوکیٹ سید ساجدعلی نے کلیدی کردار ادا کیا۔

مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ برسوں کی کوشش کے بعد ہم سب کی مشترکہ کوشش رنگ لائی ہے۔ ایک عرصہ قبل شعلہ پور کے چار ملزمان کو اے ٹی ایس نے مختلف دفعات کے ساتھ یو اے پی اے لگا کر بھوپال سینٹرل جیل میں ڈال دیا تھا اور جیل انکاؤنٹر میں جو اکتس اکتوبر دوہزار سولہ کو ہوا تھا ، اس میں کچھ لوگوں کا انکاؤنٹر کردیا گیا تھا۔ اس میں بھی شعلہ پور کے لوگ شامل تھے۔ شعلہ پور کے چار لوگ جو بھوپال سینٹرل جیل میں بند تھے، ان کی رہائی کیلئے جمعیت علما کے قومی صدر مولانا محمود مدنی، جمعیت علما مہاراشٹر اور جمعیت علما ایم پی کی بڑی کوششیں رہیں اور اس کوشش کے نتیجہ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ شعلہ پور کے چار لوگوں کی ضمانت منظور ہوئی۔

چونکہ اس مقدمہ کا تعلق بھوپال ضلع عدالت سے تھا، اس لئے ان چاروں لوگوں کے اہل خانہ، رشتہ دار، خواتین اور بچے دس بارہ روز سے بھوپال میں مقیم تھے اور بھوپال ضلع عدالت میں بھی ان کی رہائی کی شرطیں بڑی سخت تھیں اور عدالت نے شعلہ پور کے ساتھ بھوپال کی بھی ضمانت پیش کئے جانے کا حکم دیا تھا۔ جمعیت علما مدھیہ پردیش اور جمعیت علما ضلع بھوپال کے مولانا محمد اسمعیل صاحب کی طرف سے کوششیں کی گئیں اور چاروں لوگوں کی ضمانتیں منظور ہوگئی ہیں اور امید ہے کہ رات میں یہ چاروں لوگ بھوپال سینٹرل جیل سے رہا ہوجائیں گے اور اپنے وطن شعلہ پور کو واپس چلے جائیں گے۔ عمیر، صادق، عرفان اور اسمعیل اپنے گھر خیریت سے پہنچیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ آگے بھی عدالت سے یہ لوگ باعزت بری ہوں گے۔

چنئی نے ویراٹ کی بنگلور کو 6 وکٹ سے ہرایا ، پوائنٹس ٹیبل میں سب سے اوپر

چنئی نے ویراٹ کی بنگلور کو 6 وکٹ سے ہرایا ، پوائنٹس ٹیبل میں سب سے اوپر

چنئی سپر کنگس نے ویراٹ کی رائل چیلنجرس بنگلور کو آئی پی ایل کے مقابلہ میں چھہ وکٹ سے شکست دے دی ۔ اس جیت کے ساتھ چنئی پوانٹس ٹیبل میں سب سے اوپر آ گئی ہے اور یہ اس کی لگاتار دوسری جیت ہے۔ جہاں چنئی کی یہ لگاتار دوسری جیت ہے وہیں بنگلور کی یہ لگاتار دوسری شکست ہے۔

بنگلور نے پہلے کھیلتے ہوئے 20 اوور میں چھہ وکٹ کے نقصان پر 156 رن بنائے تھےاور چنئی نے 11 گیند پہلے ہی یہ ہدف حاصل کر لیا ۔ اس جیت کے ساتھ چنئی کے اب 14 پوانٹس ہو گئے ہیں ۔ چنئی کی جانب سے سلامی بلے باز رتو راج گائکواڈ نے 26 گیندوں میں 38 رن بنائے اور فاف ڈو پلیسس نے 26 گیندوں میں 31 رن بنائے ۔

بنگلور کی ٹیم کی شروعات شاندار رہی تھی لیکن چنئی کی کفائتی گیند بازی کی وجہ سے بنگلور زیادہ بڑا اسکور نہیں بنا پائی۔ چنئی کے گیندبازوں نے 10 سے 15 اوور کے درمیان صرف 28 رن دئے اور آخری پانچ اوور میں بنگلور کی ٹیم صرف 38 رن ہی بنا پائی جبکہ بنگلور نے دس اوور میں 90 رن بنائے تھے۔

جمعہ, ستمبر 24, 2021

مہاراشٹرمیں آئندہ ماہ سے اسکول کھولنے کو وزیراعلیٰ کی منظوری

ممبئی:24 ستمبر (اردو دنیا نیوز۷۲)گنش اتسو کے بعد ریاست میں کورونا مریضوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس پس منظر میں وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ریاست میں اسکول شروع کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ ریاست میں 4 اکتوبر سے کورونا قوانین پرعمل کرتے ہوئے سکول دوبارہ کھولے جائیںگے

پانچویں سے بارہویں کلاسیں دیہی علاقوں میں شروع کی جائیں گی اور آٹھویں سے بارہویں کلاسیں شہری علاقوں میں شروع کی جائیں گی۔اسکولوں میں کورونا کے تمام قوانین پر عمل کیا جائے گا۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تمام فیصلے متعلقہ ضلع کلکٹر کے پاس ہوں گے۔ تاہم ، یہ طلبائ ، والدین اور اساتذہ کے لیے خوشی کی بات ہے کیونکہ پچھلے ڈیڑھ سال سے بند اسکول شروع ہو رہے ہیں

دہلی ہائی کورٹ میں نائب صدر ہاؤس میں واقع مسجد کے مستقبل پر29 کو سماعت

دہلی ہائی کورٹ میں نائب صدر ہاؤس میں واقع مسجد کے مستقبل پر29 کو سماعت

دہلی ہائی کورٹ میں نائب صدر ہاؤس میں واقع مسجد کے مستقبل پر29 کو سماعت
دہلی ہائی کورٹ میں نائب صدر ہاؤس میں واقع مسجد کے مستقبل پر29 کو سماعت

  •  
  •   
  •  


 اردو دنیا نیوز۷۲، نئی دہلی

دہلی ہائی کورٹ سنٹرل وسٹا پروجیکٹ علاقہ میں نائب صدرہاؤس میں واقع مسجد سمیت 100 سے زائد پرانی عبادت گاہوں کے مستقبل کے بارے میں وضاحت کرنے کے مطالبے کے سلسلے میں ایک عرضی پر سماعت 29 ستمبر2021 کو کرےگا۔

جسٹس سنجیو سچدیو نے دہلی وقف بورڈ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ پرروک لگانے کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے پہلے ہی پوزیشن واضح کردی تھی۔

عدالت نے کہا تھا کہ سنٹرل وسٹا پراجیکٹ کو روکا نہیں جا سکتا۔ منصوبے کا کام پورا کرنے کا وقت پہلے سے طے ہے۔

جسٹس سچدیو نے کہا کہ یہ بات سب کومعلوم ہےعرضی میں جن مساجد اور مقبروں کے بارے میں پوزیشن واضح کرنےکی مانگ کی گئی ہے وہ بہت پرانی ہیں اور منصوبے میں یقینی طور پر اس کے بارے میں کچھ مناسب انتظامات کئے ہوں گے ۔

دہلی وقف بورڈ نے مسجد نائب صدر ہاوس کے علاوہ مسجد ضابطہ گنج ، مسجد سنہری باغ ، جامع مسجد کراس روڈ ، مسجد کرشی بھون اور مزار سنہری باغ کے حوالے سے عدالت میں عرضی دائر کی ہے۔

عرضی میں لوٹینز علاقہ کی ان مساجد اور مقبروں کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ واضح کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ اس منصوبے میں مساجد اور مقبروں کے لیے کیا منصوبے ہے 

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...