Powered By Blogger

جمعرات, ستمبر 30, 2021

فاطمہ صہبا: 19 سالہ انڈین لڑکی نے ایک سال دو ماہ کے عرصے میں قرآن کی خطاطی مکمل کی ہے

 خدیجہ عارف• بی بی سی اردو
• ’میرا دلی خواہش تھی کہ میں اپنی سب سے پسندیدہ کتاب یعنی قرآن کی خطاطی کروں اور جتنی جلد ہو سکے اس کام کو انجام دوں‘۔• ’گزشتہ برس میں نے قرآن کے ایک پارے کی خطاطی کی اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کو دکھایا اور ساتھ یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ میں پورے قرآن کی خطاطی کرنا چاہتی ہوں۔ میرے والدین کو یہ سن کر خوشی تو بہت ہوئی لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا سوچ لو، محنت بہت کرنی ہوگی‘۔

• یہ کہنا ہے بے حد کم گو، شرمیلی، اور بیڈمنٹن کی فین، فاطمہ صہبا کا جنھوں نے کیلیگرافی یعنی خطاطی کے اپنے شوق کو جنون میں تبدیل کیا اور ایک سال دو ماہ کے اندر قرآن کی خطاطی کر کے نہ صرف اپنے خاندان والوں بلکہ متعدد انجان لوگوں کا بھی دل جیت لیا ہے۔• جنوبی انڈیا کی ریاست کیریلا کے شہر کنور سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ فاطمہ کو بچپن سے خطاطی کا شوق تھا اور وہ کبھی کبھی قرآن کی آیات کی خطاطی کر کے اپنے والدین کو دکھاتی تھیں اور وہ بہت خوش ہو جاتے تھے۔
• فاطمہ نویں جماعت میں تھیں جب انھوں نے دیگر آرٹ کے ساتھ اپنی خطاطی کی صلاحیت کو بہتر کرنا شروع کیا۔ اس وقت فاطمہ اپنے خاندان کے ساتھ اومان میں رہائش پزير تھیں اور سکول سے آنے کے بعد اکثر خطاطی کرتی تھیں۔

• فاطمہ کا کہنا ہے کہ انہیں قرآن بہت خوبصورت لگتا ہے اور ان کی خواہش تھی کی وہ ایک دن پورے قرآن کی خطاطی کریں۔
• وہ بتاتی ہیں ’ابتدا میں، میں نے ایک دو سورتوں کی خطاطی کرنا شروع کی۔ میرے امی ابو نے ہمیشہ کی طرح میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ میں کبھی کبھی بعض آیات کی خطاطی کرتی تھی اور ان کو فریم کرواتی تھی، تو مجھے میرے رشتہ داروں اور دوستوں نے آرڈر دینا شروع کر دیے۔ اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے ہاتھ میں صفائی ہے اور میں اس کو جاری رکھوں‘۔
• دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد فاطمہ اپنے والدین اور دونوں چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ واپس انڈیا آگئی تھیں اور ان کے والد نے اپنے کنور ضلع کے کوڈاپارمبا شہر میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

• سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فاطمہ آرٹ کے شعبے میں کچھ کرنا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے انٹیریر ڈیزائنگ کا کورس کرنے کا فیصلہ کیا۔• فاطمہ اب اپنے ضلاع کنور کے مقامی کالج میں زیر تعلیم ہیں اور وہاں سے انٹیریر ڈیزائننگ کا کورس کر رہی ہیں۔• فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ اومان کی زندگی اور وہاں اپنے دوستوں کو بے حد مِس کرتی ہیں لیکن انہیں کنور میں نئے دوست بنانے میں کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے ’میں سکول سے آکر تھوڑی دیر آرام کرتی ہوں، اور مغرب کے بعد کچھ وقت خطاطی کرنے میں گزارتی ہوں‘۔• وہ بتاتی ہیں ’اومان میں زندگی بہت الگ تھی۔ وہاں کا کلچر الگ ہے۔ وہاں ہم بہت مزے کرتے تھے۔ لیکن انڈیا میں ہمارے سارے خاندان والے ہیں، اس لیے یہاں بھی زندگی اچھی ہے‘۔
• اسلامی تعلیم کے استاد سے رجوع اور قرآن کی خطاطی کا آغاز
• فاطمہ کا کہنا ہے کہ ہر ایک شخص کو، اگر موقع ملے تو، اپنی پسند کے پروفیشن کا انتخاب کرنا چاہیے اور اس کے لیے محنت کرنی چاہیے۔• پورے قرآن کی خطاطی شروع کرنے سے پہلے فاطمہ کے والدین نے ایک اسلامی تعلیم دینے والے استاد سے رجوع کیا اور معلوم کیا کہ فاطمہ قرآن کی خطاطی کرسکتی ہے یا نہیں۔• فاطمہ بتاتی ہیں کہ ’ان کی اجازت کے بعد میں نے اس کام کا آغاز کیا‘۔• وہ بتاتی ہیں ’میں نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے بلیک بال پین اور آرٹ بکس چاہیے۔ وہ قریب کی دکان سے سارا سامان لے آئے۔ میں روازنہ سکول سے آکر کچھ دیر آرام کرنے اور مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد خطاطی کرنے بیٹھتی تھی۔ میں نے گزشتہ برس جولائی میں یہ کام شروع کیا تھا اور اس برس ستمبر میں مکمل کیا ہے‘۔
• ان کا کہنا ہے ’میری ایک چھوٹی بہن ہے اور نو سال کا بھائی۔ میرے والدین تو سمجھتے ہیں کہ میں ایک سنجیدہ کام کر رہی ہوں، لیکن میرے چھوٹے بہن بھائیوں نے بھی میرا پورا ساتھ دیا‘۔

• ’مجھے یہ فکر تھی کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو جائے تو میری امی میرے ساتھ بیٹھتی تھیں اور میرے کام پر نظر رکھتی تھیں۔ میں پہلے پینسل سے خطاطی کرتی تھی اور اس کے بعد جب ایک بار پورا صفحہ بغیر کسی غلطی کے لکھ لیتی تھی تو پھر اس کو پین سے لکھتی تھی۔• ’کبھی کبھی غلطیاں بھی ہوتی تھیں لیکن میں ان میں اصلاح کر لیتی تھی۔ بعض اوقات میں خطاطی کر رہی ہوتی اور غلطی ہوجاتی تھی، مجھے پتہ نہیں چلتا تھا تو میری امی مجھے اسے صحیح کرنے کا کہہ دیتی تھیں‘۔
• فاطمہ کا مزید کہنا تھا ’مجھے شروع میں ایسا لگتا تھا کہ ’جس کام کی شروعات کی ہے کیا میں اسے مکمل کر سکوں گی یا نہیں۔ لیکن میں نے ہر دن مزے سے اس کام کو انجام دیا۔ میرا اپنا کمرہ ہے میں وہاں بیٹھ کر گھنٹوں خطاطی کرتی تھی‘۔
• فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کل 604 صفحات پر خطاطی کی ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ شروع کے صفحات بہت صاف اور اچھے ہیں لیکن جیسے جیسے میں خطاطی کرتی رہی، ہر صفحہ مزید بہتر ہوتا چلا گیا‘۔
• فاطمہ نے ‘سب کا دل خوش کر دیا ہے’
• فاطمہ کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نہ صرف ان کا بلکہ ‘سب کا دل خوش کر دیا ہے’۔
• ان کی والدہ نادیہ رؤف کا کہنا ہے ’صرف اللہ کی مدد سے فاطمہ نے یہ کام مکمل کیا ہے۔ مجھے اپنی بیٹی پر بہت فخر ہے۔ فاطمہ بہت محنتی ہے۔ وہ جو بھی کام کرتی ہے اسے پوری محنت اور لگن سے انجام دیتی ہے’۔
• فاطمہ کے والد عبدالرؤف کا کہنا ہے ’مجھے فاطمہ پر بہت فخر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اللہ نے مجھے اتنی نیک، اور دین و ایمان سے محبت کرنے والی بیٹی دی ہے’۔
• فاطمہ کا کہنا ہے کہ ’ابو اور امی نے ہمیشہ میری حوصلہ افضائی کی ہے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب میں یہ کام پورا کروں گی تو انہیں مبارکباد کے اتنے فون آئیں گے۔ ابو بہت خوش ہوتے ہیں جب لوگ ان سے کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی نے بہت زبردست کام کیا ہے‘۔• فاطمہ مزید بتاتی ہیں ’میرے والد بہت کم بولتے ہیں لیکن جب لوگ ان کو فون کر کے میری تعریف کرتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں‘۔• فاطمہ نے بتایا کہ شروع میں انہوں نے اپنے والدین اور صرف بہت قریبی دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ پورے قرآن کی خطاطی کر رہی ہیں ’اس کی وجہ یہ تھی کہ میں چاہتی تھی کہ ایک بار میں یہ کام مکمل کرلوں تب ہی سب کو بتاؤں گی اور کوئی وجہ نہیں تھی‘۔


دوسروں کو خطاطی سکھانے کی خواہش
فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے گھر اور اپنے ارد گرد چيزوں کو سجانے کا بہت شوق ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں لوگوں کو خطاطی سکھائیں۔
ان کا خیال ہے کہ انسان کو اگر کسی چيز کو سیکھنے کا شوق ہے اور اپنے فن سے محبت ہے تو وہ کسی بھی طرح اس کو پورا کرلیتا ہے۔
فاطمہ جب چھوٹی تھیں تب اپنے بہنوں اور سہلیوں کے ہاتھوں پر مہندی لگاتی تھیں اور ’لوگ کہتے تھے کہ میرے ہاتھ میں بے حد صفائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے بچپن سے ڈیزائن بنانے کا بہت شوق ہے۔ اسی وجہ سے میرا دھیان کیلیگرافی کی طرف گیا۔ عربی زبان میں اتنے ڈیزائن ہیں کہ کسی بھی فن کار کے لیے خطاطی کرنا ایک بے حد مزے کا تجربہ ہوسکتا ہے‘۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ خطاطی کرتی رہیں گی کیونکہ یہ ایک کام ہے جسے کرتے ہوئے وہ اپنے آس پاس جو ہو رہا ہوتا ہے اسے بھول جاتی ہیں۔

بدھ, ستمبر 29, 2021

امریندر سنگھ نے امت شاہ سے ملاقات کی ، بی جے پی میں جانے کی قیاس آرائیاں

امریندر سنگھ نے امت شاہ سے ملاقات کی ، بی جے پی میں جانے کی قیاس آرائیاںنئی دہلی:وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سب کیپٹن کے منتظر ہیں کہ امریندر سنگھ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ اس دوران کیپٹن امریندر نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ امریندر سنگھ نے آج بدھ کی شام وزیر داخلہ امت شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔اب وہ کانگریس کے ناراض لیڈروں کے گروپ 23سے بھی ملاقات کریں گے۔ کیپٹن کے بی جے پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں تب سے عروج پر ہیں جب سے انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ امریندر سنگھ نے بی جے پی میں شامل ہونے سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اس مہینے کے شروع میں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے ، انہوں نے یقینی طور پر متبادل تلاش کرنے کی بات کی تھی۔اس کے ساتھ ہی امریندر سنگھ کی ٹیم نے امیت شاہ کے ساتھ ملاقات کورسمی ملاقات قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جب کپتان سے مستقبل کے منصوبے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کی ٹیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کل ان کے میڈیا ایڈوائزر روین ٹھکرال نے کہا ہے کہ کیپٹن امریندر کے دورہ دہلی کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ ایک نجی دورے پر ہیں ، اس دوران وہ کچھ دوستوں سے ملیں گے اور کپورتھلا ہاؤس (قومی دارالحکومت میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ) خالی کریں گے۔ غیر ضروری قیاس آرائیوں کی ضرورت نہیں ہے۔اس مہینے کے شروع میں ، کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سدھو سمیت مخالفین کے ساتھ طویل لڑائی کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ریاست میں کانگریس کے سب سے قدآور لیڈر کے طور پر دیکھے گئے ، امریندر سنگھ نے کہاہے کہ کانگریس قیادت نے انہیں سدھو کے ساتھ لڑائی میں تین بار ذلیل کیا۔

على اشرف فاطمی جدیو کے قومی جنرل سکریٹری بنائے گئے ، حبیب اللہ ہاشمی نے مبارکباد پیش کی

على اشرف فاطمی جدیو کے قومی جنرل سکریٹری بنائے گئے ، حبیب اللہ ہاشمی نے مبارکباد پیش کی

دربھنگہ (اردو دنیا نیوز۷۲):سابق ضلع پریشد و جنتا دل (یو) اقلیتی سیل کے ریاستی جنرل سکریٹری حبیب اللہ ہاشمی نے سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی کو جد یو میں بڑی ذمہ داری ملنے پر مبارکباد پیش کی ہےـ حبیب اللہ ہاشمی نے کہا کہ اس سے پارٹی کو پورے بہار میں مضبوطی ملے گی ـ انھوں نے کہا کہ فاطمی صاحب اقلیتوں ، دلتوں ، پچھڑوں میں یکساں مقبول ہیں،اسی لیے پارٹی کو بہت فائدہ ہوگاـ حبیب اللہ ہاشمی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک ایماندار اور پارٹی کے لیے وفادار اور ہمہ وقت متحرک رہنے کے والے علی اشرف فاطمی کو پارٹی میں اعلیٰ ذمہ داری سونپی ہےـ ہاشمی نے کہا کہ علی اشرف فاطمی کی قیادت میں پارٹی نہ صرف متھلانچل بلکہ سیمانچل اور بہار کے دیگر خطوں میں پارٹی فعال اور متحرک ہوگی ـ ہاشمی نے کہا کہ انھیں جنرل سکریٹری بنائے جانے سے متھلانچل کے گاوں گاوں میں خوشی کا ماحول ہے اور عوام نتیش کمار جی کا شکریہ ادا کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک محنتی اور ایمان دار آدمی کوپاڑٹی میں بڑی ذمے داری دی ہےـ


کرناٹک : مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کے الزام میں 4 افراد گرفتار ، تھانہ پر ہنگامہ

کرناٹک : مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کے الزام میں 4 افراد گرفتار ، تھانہ پر ہنگامہ

یادگیر: کرناٹک کی یادگیر پولیس نے کچھ دلتوں کو عیسائی مذہب میں داخل کرانے کی کوششوں پر چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یادگیر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ویدا مورتی نے بتایا کہ پولیس نے انہیں پیر کی شام گرفتار کیا اور پھر چاروں کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ ملزمان کی شناخت جیمز، شانتراج، نیلما اور ملما کے طور پر ہوئی ہے۔

نیلاہلی گاؤں میں پیش آنے والے اس واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں جیمز کچھ نوجوانوں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو دلتوں کو عیسائیت میں تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ملزم کو ویڈیو میں یہ بحث کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر مذہب تبدیلی کا سرکاری حکم ہے۔

جیمز سے ناراض ان نوجوانوں نے سوال کیا کہ جب گاؤں میں چرچ نہیں ہے تو وہ دلتوں کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں جیمز نے کہا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خدا کا فضل ان پر قائم رہے۔ جب نوجوان نے جیمز سے سرکاری حکم دکھانے کا مطالبہ کیا جس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی بات کی گئی ہے لیکن وہ سرکاری حکم نہیں دکھا سکا بلکہ دھمکی دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس کے بعد نوجوان اتوار کو سید پور تھانے میں جاکر چاروں ملزمان کے خلاف شکایت درج کرائی، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ گرفتار ملزمان جوابی شکایت درج کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں تو انہوں نے پیر کو تھانے کے سامنے احتجاج کیا۔ عیسائی برادری کے لوگ بھی تھانے کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا اور چاروں گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مسیحی برادری کے لوگوں کے پولیس کے ساتھ تصادم میں مظاہرین نے کہا کہ ان لوگوں نے گاؤں میں کسی کا مذہب تبدیل نہیں کرایا ہے۔

ممبئی میں جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اجازت کے بعد تیاریاں شروع

ممبئی میں جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اجازت کے بعد تیاریاں شروع

ممبئی 29ستمبر (یو این آئی ) جلوس عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم نکالنے کی اجازت دینے کا مطالبہ اور داعی اسلام مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی میٹنگ کی اجازت ممبئی کے جوائنٹ پولس کمشنر وشواس ناگرے پاٹل اور ایڈیشنل کمشنر ایس بی ون راجیو جین سے مسلم عمائدین شہر اور مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اور سربراہان نے ملاقات کے دوران کیا اور کہا کہ مولانا کلیم صدیقی کی بے جا گرفتاری پر مسلمانوں میں غصہ ہے اس لئے ممبئی میں ان کے لئے احتجاجی میٹنگ منعقدکرنے کی جازت دی جائے ساتھ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کسی شرط اور پابندی کے نکالنے کی اجازت دی جائے چونکہ اب تمام پابندیاں ختم ہو چکی ہیں اور اکتوبر سے عبادتگاہیں بھی کورونا اصول کے ساتھ شروع کر نےکی اجازت دی گئی ہے-

اسی طرز پر جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خلافت ہاؤس تا حج کمیٹی تک نکالنے کی اجازت د ی جائے خلافت ہاؤس میں جلوس سے قبل سیرت محمد کے جلسہ کا انعقاد ہو گا اس کے بعد جلوس محمدی شایان شان مسلم اکثریتی علاقوں سے گشت کرتا ہوا حج ہاؤس پر اختتا م پذپز ہو گا چاند کے مطابق عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم 19-20 اکتوبر کو منعقد ہو گا اس لئے جلوس کی اجازت بروقت دی جائے جلوس کمیٹی نے اس کی تیاریاں شروع کر دی ہیں خلافت کمیٹی کے کارگزار صدر سرفراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس سے نکلنے والے تاریخی جلوس میں عاشقان رسول کی کثرت کے لئے کوشش کی جار ہی ہےکیونکہ کورونا کے بعداب تمام بازار اور عبادگاہیں تک کھل گئی ہیں ایسے میں جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کثرت سے اجازت دی جانی چاہئے-

پنچایتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ آج ، 34 اضلاع کے 48 بلاکس میں ووٹنگ

پنچایتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ آج ، 34 اضلاع کے 48 بلاکس میں ووٹنگپٹنہ،29ستمبر - بہار میں پنچایتی انتخابات کے پیش نظر آج دوسرے مرحلے کی ووٹنگ جاری ہے۔ ریاست کے 34 اضلاع کے کل 48 بلاکس میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ کٹیہار کے چار بلاکس کی 24 پنچایتوں میں بھی پولنگ ہو رہی ہے۔ یہاں کل 297 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں ، جہاں تقریبا 2302 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔انتظامیہ نے پولنگ کے لیے سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ صبح سے ہی رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے بڑی تعداد میں پولنگ بوتھ پر جاتے دیکھے گئے۔ دریں اثناء کٹیہار کی دالان مغربی پنچایت میں واقع وارڈ نمبر 6 کے پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں میں کافی جوش و خروش پایا گیا۔ ضلع مدھی پورہ کے صدر بلاک میں 17 پنچایتوں میں بھی ووٹنگ جاری ہے۔ یہاں 450 پنچایت کے نمائندوں کو منتخب کیا جانا ہے۔ بھوج پور ضلع میں پولیس نے ایک پریزائیڈنگ افسر کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک بزرگ خاتون ووٹر کو ووٹنگ روم میں کسی خاص شخص کو ووٹ دینے کے لیے اکسایا۔واضح رہے کہ اس مرحلے میں ووٹنگ کا شور شام پانچ بجے ہی رک گیا تھا۔ آج ریاست میں کل 23161 عہدوں کے لیے 9886 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں 3402 امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ بہار اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے اس بار پنچایتی انتخابات میں بائیومیٹرک تصدیق کے لیے ووٹروں کا ڈیٹا بھی اپ لوڈ کیا ہے۔

‎مولانا کلیم صدیقی کی غیر قانونی گرفتاری اور آسام میں سرکاری آتنک کے خلاف جلگاؤں میں زوردار احتجاج ، تمام دینی ، ملی ، سیاسی اور سماجی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر

 مولانا کلیم صدیقی کی غیر قانونی گرفتاری اور آسام میں سرکاری آتنک کے خلاف جلگاؤں میں زوردار احتجاج ، تمام دینی ، ملی ، سیاسی اور سماجی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پرجلگاؤں(پریس ریلیز): جلگاوں شہر میں کلکٹر آفس پر بڑے پیمانے پر تمام دینی ملی ،سیاسی تحریکوں اور سماجی تنظیموں نے متحد ہوکر مولانا مفتی محمد ہارون ندوی صاحب کی قیادت میں "مولک ادھیکار منچ" کے پرچم تلے جمعیۃ علماء ہند ، جماعت اسلامی، وحدت اسلامی، ایس آئی او ،آئی وائی ایف ، کل جماعتی مشن، تبلیغی جماعت، سنی دعوت اسلامی ،اہل سنت اور سیاسی پارٹیوں میں کانگریس ، راشٹر وادی، سماجوادی ، ایم آئی ایم ، پاپولر فرنٹ آف انڈیا جیسی مختلف جماعتوں اور فعال و مستعد اہلیان جلگاوں نے اتحاد کے ساتھ داعی اسلام مولانا کلیم صدیقی کی غیر قانونی گرفتاری، یوگی تانا شاہی اور گھٹیا نیچ سیاسی ہتھکنڈوں کی جم کر مخالفت کی ۔اور مولانا کی رہائی کا بنا شرط مطالبہ رکھا گیا ،ساتھ ہی آسام میں 800 مکانات منہدم کردینے اور پولیس کی جانب سے حالیہ بربریت جس میں گولیوں سے دو سے تین لوگوں کی جان گئی سنگھی فوٹوگرافر کا لاش پر کودنا اس سرکاری آتنک واد کی بھی جم کر مذمت کی۔ ساتھ ہی ان پولیس والوں پر 302 مرڈر کا کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ تمام تنظیموں ،تحریکوں اور پارٹیوں کے ذمہ داران نے تفصیلی بیان بھی کیا - اور ملک میں پھیلائی جارہی نفرت ، گودی میڈیا کا آتنک ، سرکاری دہشتگردی ، مندر اور مسجد کے نام پر گھٹیا سیاست اور ۔یوپی الیکشن کے گھٹیا منصوبوں کے تذکرے کے ساتھ ملت اور مسلمان نوجوانوں کو ہوش کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی نصیحت کی ۔اور حکومت کو بھی خبردار کیا کہ نفرتوں کی سیاست بند کرو ، منافرت ، فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے جیسا گھٹیا کام حکومت بند کرے۔حکومت اپنی کمیوں اور کوتاہیوں سےعوام کی نظریں ہٹانے کی خاطر انہیں غیر ضروری معاملات میں الجھا رہی ہے ۔یہ حکومت کا انتہائی گھٹیا عمل ہے ۔ایک حکومت اپنی اقلیت اور اس کے علماء کو اپنے نشانے پر رکھ کر انہیں یر قسم کی ایذاء و تکالیف پہنچارہی ہے ۔غم وغصہ کے باوجود عوام نے انتہائی سنجیدہ اور پر امن مظاہرہ کا پیغام دیا۔اور حکومت کے سامنے اپنی بات دو ٹوک انداز میں رکھی۔ احتجاج بارش اور طوفان کے باوجود صبح 11 سے لیکر دوپہر 3 بجے تک کامیابی کے پرجوش نعروں کے ساتھ چلتا رہا۔ تین بجے ایک وفد جس کے صدر مولانا مفتی محمد ہارون ندوی ، اور کوآرڈی نیٹر مفتی عتیق الرحمان ، مفتی خالد ، مزمل ندوی، محترم فاروق شیخ اور اقبال منیار نے ضلع ادھیکاری ، کلکٹر ابھیجیت راوت کو ہزاروں دستخط کے ساتھ مطالبات کا میمورنڈم دیا ۔کلکٹر صاحب نے یقین دلایا کہ آپ کے جذبات اور مطالبات کو سرکار تک پہنچایا جائے گا۔ اس احتجاجی شاندار ، کامیاب آندولن میں علمائے کرام نے اکیلے ایک تنہا پر ہونے والے ظلم کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی نصیحت اور اہلیان جلگاوں نے بھی اعلان کیا کہ ہم اپنے علماء کے شانہ بشانہ ، قدم بقدم ساتھ رہیں گے، محترم فاروق شیخ صاحب، محترم عبدالکریم سالار صاحب ، محترم اعجاز ملک صاحب، ایاز علی، ڈاکٹر جاوید ، محترم سہیل سر ڈاکٹر راغیب ، فیروز ملتانی ، فہیم پٹیل ، زکی پٹیل ، سبیان ، اشفاق ، تابش ، ڈاکٹر شاکر، زیان جاگیردار، قاری عقیل، مولانا عبدالرحمان ملی، قاری مشتاق ، مولانا اختر ندوی ، مولانا اعجاز ندوی، ظفر بھائی پینچ، حافظ قاسم ، وسیم محبوب، حافظ اسامہ، حافظ صفی ، عمرفاروق، غرض کہ شہر کے تمام درد مند دل ، متحرک اور غیور نوجوان بڑی کثیر تعداد میں اس پروگرام میں موجود رہے۔ محترم مفتی عتیق الرحمان صاحب خطاب آخر صدر مولانا مفتی محمد ہارون ندوی صاحب کے پر مغز، بیباک خطاب کے ساتھ مفتی خالد صاحب کی دعا پر احتجاج دوپہر تین بجے ختم ہوا

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...