Powered By Blogger

ہفتہ, اکتوبر 02, 2021

راہل گاندھی نے اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں کی درگاہ کے لیے چادر روانہ کی

نئی دہلی: حسب روایت امسال بھی 103ویں عرس رضوی کے یادگار موقع پر درگاہ امام اہل سنت اعلی حضرت احمد رضا خان کے لئے راہل گاندھی نے اپنی رہائش گاہ سے بطور خاص اپنی اور کانگریس پارٹی کی جانب سے عقیدت کے ساتھ چادر روانہ کی گئی، جس کو آل انڈیا کانگریس شعبۂ اقلیت کے نمائندۂ وقف کے ذریعہ درگاہ عالیہ میں پیش کیا جائے گا۔

آل انڈیا کانگریس شعبہ اقلیت کے قومی چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی کو چادر سونپتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے خاندان اور پوری کانگریس پارٹی کا درگاہ اعلی حضرت اور آپ کے کنبے سے جو رشتہ ہے وہ تاریخی اور بے حد مستحکم ہے اور میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہماری آئندہ نسلوں تک قائم و دائم رہے گا۔

راہل گاندھی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اس وقت ہمارا ملک و دنیا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کورونا وباء کی زد پر ہے اور اس وبا نے ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا، ساتھ ہی آج فاشسٹ طاقتیں سماج میں نفرت کا زہر گھول کر ہزاروں سال پورانی گنگا جمنی تہذیب اور امن و شانتی کو زبردست نقصان پہونچانے پر آمادہ ہیں۔ ان تکلیف دہ حالات میں صوفی سنتوں میں ہماری عقیدت پہلے سے زیادہ مضبوط اور پختہ ہونی چاہئے۔

راہل گاندھی نے عوام الناس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی دعاء کریں اور میں بھی دعا گو ہوں کہ اس وباء اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہو اور ملک میں معاشی طور پر خوشحالی ہو۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ میں اس اہم موقع پر آپ کی اچھی صحت اور کورونا کے لازمی احتیاط کے ساتھ عرس مبارک کے اختتام کا خواہش مند ہوں۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر عمران قدوائی، مرزا جاوید، آل انڈیا کوآرڈینیٹر شاہنواز سیٹھ، شمیم علوی، مہندر وورا اور کونسلر چودھری زبیر بھی موجود تھے

وشاکاپٹنم :عورت کے ہاں ٹھیک اسی دن جڑواں بچیوں کی پیدائش ہوئی جس دن دو سال پہلے ان کی دو بیٹیاں ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں

وشاکاپٹنم میں بھاگیا لکشمی کا گھر رشتہ داروں، محلے والوں اور صحافیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ لوگ ان کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش پر مبارکباد دینے آئے ہیں۔ بھاگیا لکشمی جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد سے مشہور ہو گئی ہیں۔جذبات سے مغلوب بھاگیا لکشمی کہتی ہیں: ’مجھے یقین ہے کہ میرے بچے پھر سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جس روز میری بیٹیاں فوت ہوئی تھیں، اسی روز میری جڑواں بیٹیاں کیسے پیدا ہو سکتی تھیں۔

’بھاگیا لکشمی کے ہاں جڑواں بچیوں کی پیدائش پندرہ ستمبر کو ہوئی تھی۔ دو سال پہلے ان کی دونوں بیٹیاں 15 ستمبر کو کشتی کے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ ان میں سے ایک کی عمر تین سال جبکہ ایک ڈیڑہ برس کی تھی۔بھاگیا لکشمی نے بی بی سی کو بتایا: ’حیران کن بات یہ ہے کہ میری جڑواں بچیوں کی پیدائش شام آٹھ بجے ہوئی، یہ ہی وقت تھا جب 15 ستمبر 2019 کو مجھے میری بیٹیوں کی موت کی خبر ملی تھی۔‘

میری دعا قبول ہوئی

بھاگیا لکشمی کا خاندان سمجھتا ہے کہ جڑواں بیٹیوں کی پیدائش سے اس نقصان کی تلافی ہو گی جو دو سال قبل خاندان کو ہوا تھا۔ کشتی کے ڈوبنےسے بھاگیا لکشمی کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔بھاگیا لکشمی کہتی ہیں: ’مجھے لگا کہ خدا نے میری دعائیں قبول کی ہیں اور میرے بچے مجھے لوٹا دیئے ہیں۔‘

بھاگیا لکشمی کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور ان کی شادی چھوٹی عمر میں ہی کر دی گئی تھی۔ انڈیا میں لڑکی کی شادی کی قانونی عمر اٹھارہ برس ہے۔ان کے شوہر شیشے کے برتن بنانے والی فیکٹری میں کام کرتے ہیں لیکن آج کل وہ اپنا سارا وقت اپنے بچیوں کے ساتھ گذارتے ہیں۔

حادثہ
بھاگیا لکشمی کی بیٹیاں کشتی ڈوبنے کے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ وہ اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ بہادراچلم کے مندر کی یاترا کے لیے جا رہی تھیں۔ کشتی ڈوبنے سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں بھاگیا لکشمی کے خاندان کے نو افراد بھی شامل تھے۔

ان کی بیٹیاں اپنے دادا دادی کے ہمراہ مندر کی یاترا کو جا رہی تھی۔ بھاگیا لکشمی اور ان کے شوہر گھر پر ہی تھے۔ جب بھاگیا لکشمی کو کشتی ڈوبنے کی خبر ملی تو انھوں نے دعائیں مانگنا شروع کیں۔

بھاگیا لکشمی اس وقت کو یاد کر کے کہتی ہیں: ’اس وقت تو خدا نے میری دعائیں قبول نہیں کیں۔ میری دنیا تاریک ہو گئی، میں حد درجے غمزدہ تھی۔‘

بھاگیا لکشمی کو ہر وقت اپنے بچوں کی یاد ستاتی تھی اور انھوں نے خاموش رہنا شروع کر دیا تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’ایک حادثے میں ہم نے خاندان کے نو افراد کھو دیے۔ آپ ایسے دکھ بھرے واقعے سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔‘

خاندان میں سب ہی دکھی تھے اس لیے بھاگیا لکشمی کا دکھ بانٹنے والا بھی کوئی نہ تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’میں کچھ کھا، پی نہیں سکتی تھی، سو نہیں سکتی تھی۔ مجھے ہمیشہ وہ ہی یاد آتے تھے۔ جب بھی میں آنکھیں بند کرتی، میرے بچے، میرے ساس سسر میرے خیالوں میں آتے تھے۔‘

بھاگیا لکشمی کا خاندان زندگی تو گذار رہا تھا لیکن ان کی زندگی کی ساری رونقیں ختم ہو گئی تھیں۔ ’جب میں اپنے بچوں کی عمر کے بچوں کو دیکھتی تھی تو میں رونے لگتی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ اگر میری بیٹیاں زندہ ہوتیں تو وہ بھی ایسی نظر آتیں۔‘

امداد
دوسری بیٹی کی پیدائش کے بعد بھاگیا لکشمی کی ایک آپریشن کے ذریعے بیض نالی کو نکال دیا گیا تھا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ وہ اب بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔

بھاگیا لکشمی کے بہنوئی نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹر پدما شری سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹر پدماشری یاد کرتی ہیں: ’بھاگیا لکشمی ہمیشہ زندگی سے بیزار نظر آتی تھیں۔‘

ڈاکٹر پدما شری نے بھاگیا لکشمی کو بتایا کہ آئی وی ایف طریقے سے وہ دوبارہ ماں بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹر پدماشری کہتی ہیں: ’بھاگیا لکشمی جوان تھیں، اور مجھے یقین تھا کہ وہ حاملہ ہو سکتی ہیں۔‘

اس سے جوڑے کو حوصلہ ہوا۔ بھاگیا لکشمی کے شوہر کی روزانہ کی آمدن صرف سات ڈالر ہے لیکن پھر بھی انھوں نے آئی وی ایف طریقہ علاج کے لیے رقم جمع کر لی۔

ڈاکٹر پدما شری بتاتی ہیں کہ فروری میں علاج کے شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر بھاگیا لکشمی حاملہ ہو گئی تھیں

ناندیڑ:مالجاہ ٹیکڑی تا فروٹ مارکیٹ روڈ پر گڑھے سے حادثات

ناندیڑ:یکم اکتوبر(اردو دنیا نیوز۷۲)فی الحال ناندیڑ شہر کے علاوہ آس پاس کی سبھی اہم سڑکوںکی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے۔اوراگر کوئی سڑک اچھی تعمیر کردہ بھی ہے تو اسکے درمیان میں بڑا گڑھا ہوگیاہے جو حادثات کاباعث بن رہا ہے ۔ حالیہ دنوں ناندیڑ شہر کے دیگلورناکہ مین روڈ پر ایک چھوٹے سے گڑھے سے رونماہوےے حادثہ میں دو نوجوان زخمی ہوگئے تھے جس میںسے ایک کی بعد میں دوران علاج موت واقع ہوگئی ۔

شہر ناندیڑ کے قریب ہی مالجاہ ٹیکڑی تا فروٹ مارکیٹ روڈ پرفرینڈس دھابہ کے قریب بھی اسی طرح کاایک بڑا گڑھا سڑک کے درمیان ہوگیا ہے۔ جو حادثات کا باعث بن رہا ہے اب تک یہاں پر کئی چھوٹے حادثات پیش آچکے ہیں۔روزانہ کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے ۔ حالانکہ پوری سڑک ہاٹ میکس بنی ہوئی ہے مگر صرف ایک گڑھے کی وجہہ سے پوری سڑک خراب ہورہی ہے اور حادثات بھی پیش آرہے ہیں ۔ علاقہ کے تاجروںودوکانداروں کامطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمہ اس گڑھے کوفی الفور بندکرے تاکہ کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہو

ناندیڑ:سیلابی علاقوں سے پانی اُترگیا‘ناوگھاٹ پُل سے آمدورفت شروع

ناندیڑ:یکم اکتوبر(اردو دنیا نیوز۷۲)بارش نہ ہونے کی وجہہ سے ناندیڑکی گوداوری ندی کی سطح میں آہستہ آہستہ کمی آرہی ہے اورآج یکماکتوبر کوکئی فٹ تک پانی اترگیا ہے لیکن تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ محکمہ موسمیات نے بارش کی پیش قیاسی بھی کی ہے اورآج شام میں وقفہ وقفہ سے بارش ہوتی رہی ہے ۔ اور امکان ہے کہ کل اور پرسوں بھی بارش ہوگی ۔شاہین طوفان کے باعث مراٹھواڑہ میں بھی تیز موسلادھار بارش کاا شارہ دیاگیا۔

ناندیڑ میں گوداوری ندی کاپانی کم ہورہا ہے اسلئے اب نشیبی علاقوں سے بھی پانی اتر رہا ہے ۔ اور کئی علاقوں کی سڑکیں دوبارہ آمد ورفت کےلئے کھل گئی ہیں۔اس کے علاوہ جائیکواڑی ڈیم ‘یلدری ‘ سدیشور‘ دگرس ڈیم ‘دودھنا پروجیکٹ سے بھی پانی کی آمد کاسلسلہ کم ہوا جس کی وجہہ سے گوداوری میں پانی کم رفتار سے بڑھ رہا ہے ۔جبکہ دوسری جانب گوداوری کاپانی آگے تیلنگانہ کی سمت بھی بڑھ رہا ہے ۔ ناندیڑ کے نا وگھاٹ پُل سے بھی پانی اترگیاہے اسلئے پُل سے آمد ورفت کاسلسلہ شروع ہوگیاہے۔ وشنو پوری ڈیم کے فی الحال پندرہ میں سے صرف چار گیٹ ہی کھلے رکھے گئے ہیں۔

ریپ کی کوشش کرنے والے کو گاؤں کی عورتوں کے کپڑے دھونے اور استری کرنے کی سزا

جنسی زیادتی کے مجرم کو دنیا بھر کی عدالتوں کی جانب سے مختلف سزا ئیں دیا جانا تو آپ نے بھی دیکھا ہوگا لیکن بھارت میں اس حوالے سے اپنی نوعیت کا مختلف واقعہ پیش آیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، بہار کے ضلع مدھو بنی سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ لالن کمار پر خاتون سے زیادتی کی کوشش کا الزام ہے۔

بھارتی تفتیشی افسر کے مطابق ،کمار، جس کا روزگار لوگوں کے کپڑے دھونا ہے انھیں رواں برس دیگر افراد کے ہمراہ خاتون سے زیادتی کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم اب عدالت کی جانب سےلالن کی ضمانت اس شرط پر منظور کی گئی کہ وہ 6 ماہ تک گاؤں کی تمام خواتین کے کپڑے دھوئیں گے اور استری بھی کریں گے۔

عدالتی حکم نامے کےمطابق،20 سالہ شخص کو 6 ماہ تک گاؤں کی 2 ہزار خواتین کے کپڑے نہ صرف دھونے اور استری کرنے ہوں گے بلکہ لانڈری کے لیے استعمال ہونے والا ڈٹرجنٹ اور دیگر اشیاء بھی خود خریدنے ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ، عدالت کے فیصلے پر گاؤں کی تمام خواتین خوش ہیں

پنجاب نے کولکتہ کو شکست دی ، دہلی نے کوالیفائی کیا

پنجاب نے کولکتہ کو شکست دی ، دہلی نے کوالیفائی کیا

کپتان لوکیش راہل کی 67رن کی بہترین اننگز اور شاہ رخ خان کے آخری اوور میں لگائے گئے چھکے سے پنجاب کنگس نے دلچسپ مقابلے میں جمعہ کو کولکتہ نائٹ رائیڈرس کو پانچ وکٹ سے شکست دیکر آئی پی ایل کے پلے آف میں پہنچنے کی اپنی امیدوں کو قائم رکھا۔

کولکتہ نے سلامی بلے باز ونکٹیش ایئر (67) کی شاندار نصف سنچری،راہل ترپاٹھی (34) اور نتیش رانا (31) کی جارحانہ اننگز کی بدولت 20اوور میں سات وکٹ پر 165رن کا چیلنجنگ اسکور بنایا جبکہ پنجاب نے 19.3اوور میں پانچ وکٹ پر 168رن بناکر دلچسپ جیت اپنے نام کی۔

پنجاب کی 12میچوں میں یہ پانچویں جیت ہے اور اس کے دس پوائنٹ ہوگئے ہیں پنجاب کی ٹیم اب پانچویں نمبر پر پہنچ گئی ہے اور اس کے پاس پلے آف میں جانے کی امید ہے۔ کولکتہ کی ٹیم اس شکست کے بعد دس پوائنٹس کے ساتھ اب بھی چوتھے نمبر پر ہے۔ پنجاب کی اس جیت کے ساتھ دہلی کیپیٹلس کی ٹیم نے پلے آف کے لئے کوالیفائی کرلیا ہے۔

سلامی بلے باز ونکٹیش ایئر (67) کی شاندار نصف سنچری، راہل ترپاٹھی (34) اورنتیش رانا (31) کی جارحانہ اننگز کی بدولت کولکتہ نائٹ رائیڈرس نے پنجاب کنگس کے خلاف جمعہ کو آئی پی ایل مقابلے میں 20اوور میں سات وکٹ پر 165رن کا چیلنجنگ اسکور بنا لیا۔

پنجاب کنگس نے ٹاس جیت پر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب کو پہلی کامیابی جلد ہی مل گئی جب اوپنر شوبھم گل سات رن بناکر ارش دیپ سنگھ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ کولکتہ کا پہلا وکٹ 18کے اسیکور پر گرا۔ لیکن اس کے بعد ایئر اور ترپاٹھی نے دوسرے وکٹ کے لئے 72رن کی شراکت کی۔ ترپاٹھی نے 26گیندوں پر 34رن میں تین چوکے اور چھکا لگایا۔

ایئر نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ ایئر نے کچھ بہترین شاٹ لگائے۔ وہ 49گیندوں میں نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 67رن بناکر ٹیم کے اسکور 120پر آوٹ ہوئے۔ ایئر کو لیگ اسپنر روی بشنوئی نے دیپک ہڈا کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

پنجاب نے اس کے بعد کولکتہ کے کپتان ایون مورگن کو آوٹ کیا جبکہ ٹم سیفرٹ دو رن بناکر رن آوٹ ہوگے۔ دنیش کارتک نے 11گیندوں میں گیارہ رن بناکر کولکتہ کو 165تک پہنچایا۔پنجاب کی طرف سے ارشدیپ سنگھ نے 32رن پر تین وکٹ اور لیگ اسپنر روی بشنوئی نے 22رن پر دو وکٹ لئے۔

جمعہ, اکتوبر 01, 2021

بہار گزٹ کے نوٹیفکیشن سے کھل رہی نتیس حکومت کےاششاسن ' کی قلعی

بہار گزٹ کے نوٹیفکیشن سے کھل رہی نتیس حکومت کےاششاسن ' کی قلعی

سیلاب اور خشک سالی میں سرکاری ملازمین و افسر کس طرح کماتے ہیں، اس تعلق سے ہم اور آپ کہانیاں پڑھتے اور سنتے رہے ہیں۔ اب ان پر کسی کو حیرانی نہیں ہوتی۔ بدعنوانی میں زیرو ٹولرنس کا دعویٰ کرنے والے نتیش کمار کے دور میں ایک قدم آگے کی بات ہو رہی ہے۔ اب بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اتنے طویل وقت تک فائل گھمائی جا رہی ہے کہ شرائط و ضوابط بنانے والے تک بھول جا رہے ہیں کہ کسی گڑبڑی سے بچنے کے لیے بنایا گیا قانون نافذ بھی ہے یا نہیں۔ اس سے الزامات میں پھنسے افسر ریٹائر کر جا رہے ہیں اور ثبوت مانگنے و جٹانے کے نام پر وقت گزرنے سے کیس کمزور پڑ جا رہا ہے۔

بہار میں آر ٹی آئی کا جواب عام طور پر ملتا ہی نہیں ہے، ایسے میں بہار گزٹ میں جاری نوٹیفکیشن سے کئی طرح کی باتیں سامنے آ جاتی ہیں۔ گزٹ ہی بدعنوانی پر زیرو ٹولرنس کی پالیسی کا سچ سامنے لا رہا ہے۔ 8 ستمبر کے بہار گزٹ میں 5 جنوری 2021 کا ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ سیلاب کنٹرول سب ڈویژن، ہاتھیدہ میں ستمبر 2015 کے سب ڈویژنل افسر کنال کشور کو سنگین الزامات کے عوض میں 'تنبیہ' کی سزا دی گئی۔ الزام تھا کہ ایگزیکٹیو انجینئر نے انھیں متاثرہ مقام یا دفتر کے کمرے میں نہیں پایا۔ موبائل بھی بند تھا۔ اس کی وضاحت طلب کرنے پر انھوں نے ایگزیکٹیو انجینئر کے دفتر میں پہنچ کر نازیبا رویہ اختیار کیا۔ اس کے علاوہ مہانے ندی پر پشتہ کی مرمت کا بل دستیاب نہیں کرانے کے سبب آگے کا کام متاثر ہوا۔ 6 سال بعد ڈسپلن شکنی اور عدم تعاون کے درجہ میں رکھتے ہوئے اس پر 'تنبیہ' کی سزا دی گئی۔ مطلب یہ کہ سیلاب کے وقت ڈیوٹی سے غائب پائے جانے، موبائل بند رکھنے اور بل میں تاخیر سے پشتہ کا کام متاثر ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔

11 جنوری 2021 کا نوٹیفکیشن بھی تقریباً ایسا ہی ہے۔ 2013 میں آبپاشی ڈویژن-1، جموئی کے اسسٹنٹ انجینئر سیلاب سے متعلق جدوجہد کے کام میں مقرر کیے گئے، لیکن وہ نہ صرف غیر حاضر رہے بلکہ بغیر چھٹی کے غائب بھی ہو گئے۔ مطلب یہ کہ سیلاب کی ڈیوٹی پر نہیں پہنچنا جرم نہیں تھا، یا الزام لگانے والے ہی غلط تھے۔

14 جنوری، 2021 کے دو نوٹیفکیشن تو ان سب سے دو قدم آگے ہیں۔ اس میں سپول میں مغربی پشتہ زون، نرملی سے متعلق 2017 کے سیلاب کے پہلے دو معاملے میں اس وقت کے اسسٹنٹ انجینئر راجیش کمار اور اس وقت کے ایگزیکٹیو انجینئر ونود کمار کو الزام سے آزاد کیا گیا۔ فلائنگ اسکواڈ جانچ ٹیم نے جائزہ لینے کے بعد لکھا تھا کہ پشتہ میں کٹاؤ روکنے کے کام کے تحت کریٹر بولڈر پچنگ کام معیار کے مطابق نہیں کرا کر ٹھیکہ دار کو فائدہ پہنچایا گیا۔ بالو بھرے بیگ سے تقریباً ہر جگہ کام معیاری نہیں کیا گیا جس سے تیز بہاؤ سے پورا کام ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ بھی اخذ کیا گیا کہ بھرائی کا کام پورا نہیں ہوا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تقریباً ساڑھے تین سال تک محکمہ جاتی کارروائی کے بعد 'لرننگ' پیش کیا گیا جس میں الزام غیر مصدقہ ہوا۔ مطلب یہ کہ آنکھوں دیکھی ساری بات ساڑھے تین سال بعد غیر مصدقہ ہو گئیں۔ اسی وقت کے ایسے ہی کیس میں سرکاری جانچ کے دوران غلط پائے گئے سہرسہ کے مشرقی کوسی پشتہ زون کے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر اوم پرکاش کو بھی اب الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

آبی راستہ ڈویژن، مظفر پور میں 2010 میں چیف انجینئر رہے گنجا لال رام پر سنٹرل اسٹاک میں 5000 کیو میٹر بولڈر کی فراہمی میں بے ضابطگی کی جانچ محکمہ جاتی فلائنگ اسکواڈ زون، پٹنہ نے کی۔ 25 جولائی 2010 کو وضاحت طلب کی گئی تو افسر نے تقریباً ساڑھے چھ سال بعد 9 جنوری 2017 کو جواب دیا۔ اس کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال بعد 25 مئی 2018 کو سماعت ہوئی تو افسر نے بتایا کہ میں اکتوبر 2017 میں ریٹائر ہو چکا ہوں۔ افسر نے ایک محکمہ جاتی نوٹیفکیشن کی کاپی طلب کی اور 1986 کے ایک حکم کا حوالہ دے دیا۔ حالت یہ رہی کہ محکمہ ک و کابینہ سکریٹریٹ اور کوآرڈنیشن محکمہ یا محکمہ مالیات سے یہی نہیں پتہ چل سکا کہ یہ حکم نافذ بھی ہے یا نہیں۔ بالآخر اب افسر کے خلاف الزام ثابت نہیں مانتے ہوئے انھیں اس سے آزاد کر دیا گیا۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...