Powered By Blogger

جمعرات, اکتوبر 07, 2021

مہاراشٹر : آج سے عبادت گاہوں میں اجتماعی عبادات پر پابندی ختم ، عوام میں جوش و خروش

مہاراشٹر : آج سے عبادت گاہوں میں اجتماعی عبادات پر پابندی ختم ، عوام میں جوش و خروش

ممبئی: کورونا وائرس سے پیدا شدہ تشویش ناک وبائی صورتحال کے باعث، کووڈ-19 مرض سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا اور مختلف احتیاطی تدابیر کے ذریعے سے اس مرض کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوشیشیں کیں، جو بڑی حد تک کامیاب ہوئیں، اور اسی سبب سے حکومت کی جانب سے اس ضمن میں عوام پر لگائی گئی مختلف پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر مہاراشٹرا کی ریاستی حکومت نے عبادت گاہوں میں جمع ہونے اور اجتماعی عبادات پر لگائی گئی پابندی کو آج 7 ستمبر سے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد اب مہاراشٹرا میں تقریباً چھ ماہ کے بعد آج تمام مذاہب کی عبادت گاہیں کھول دی گئیں ہیں۔

کووڈ-19 کی تیسری لہر کے ممکنہ خطرات کے جائزے کے بعد، اس کے اثرات کم ہوتے دکھائی دینے پر حکومت کی جانب سے لیے گئے اس فیصلے پر جہاں ایک طرف عوام نے سکون کی سانس لی اور خوشی کا اظہار کیا ہے، وہیں دوسری جانب مختلف مذاہب کی سرکردہ شخصیات اور مذہبی رہنماؤں نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔

عبادت گاہوں کو کھولے جانے کے بعد، آج ریاست بھر میں حکومتی ہدایات اور کووڈ پروٹوکول پر مکمل عمل کرتے ہوئے مختلف مذہبی سرگرمیوں کو انجام دیا گیا۔ مندروں میں گھنٹیاں بجائی گئیں، مساجد میں اذانیں دی گئیں، گرجا گھروں میں گیت گائے گئے، گرودواروں میں گروانی ہوئی، نیز ممبئی اور ریاست کے دیگر حصوں میں مذہبی سرگرمیاں خوب دیکھی گئیں۔تمام مذہبی عبادت گاہوں نے طویل پابندی کے بعد پہلی بار کھولے جانے اور پوجا، نماز اور دیگر مذہبی رسومات کی آدائیگی کے لیے آنے والے ہزاروں افراد کے لیے عبادت گاہوں کی خصوصی صفائی کی۔ عبادت گاہوں اور درگاہوں میں چندن کی خوشبو، بخور اور اگربتیوں کی خوشبو پھیلائی گئی۔ ممبئی کی مشہور حاجی علی درگاہ، بابا بہاءالدین کی درگاہ، نل بازار میں واقع پھولوں کی مارکیٹ کے گل فروش ببلو سید نے بتلایا کہ آج جمعرات درگاہ میں ہزاروں عقیدت مندوں نے حاضری دی۔

بریکنگ نیوزپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری

بریکنگ نیوزپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری

نئی دہلی ، 7 اکتوبر - بین الاقوامی بازار میں گزشتہ روز خام تیل میں معمولی نرمی کے باوجود ، پٹرول جمعرات کو مسلسل تیسرے دن مقامی سطح پر 30 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 35 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔ دہلی میں پٹرول 103 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 92 روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ممبئی میں پٹرول 109 روپے سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ ڈیزل بھی سو روپے کے قریب ہے۔مسلسل چار دن کے اضافے کے بعد ، پیر کو ان دونوں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ، لیکن منگل سے ان دونوں کی قیمتوں میں اضافہ جا رہی ہے۔ دارالحکومت دہلی میں ان کی قیمتیں اب تک کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کے بعد ، دارالحکومت دہلی میں پٹرول 103.24 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 91.77 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ پچھلے آٹھ دنوں میں پٹرول 2.05 روپے مہنگا ہو گیا ہے۔ ڈیزل کے بھی 11 دن میں 3.15 روپے فی لیٹر دام بڑھے۔اوپیک ممالک کے اجلاس میں تیل کی پیداوار میں چار لاکھ بیرل یومیہ اضافے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ کورونا کے بعد عالمی سطح پر اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سے بین الاقوامی بازار میں خام تیل میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور یہ سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی بازار میں کاروبار بند ہونے پر برینٹ کروڈ 0.48 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 81.08 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 1.30 ڈالر کی کمی سے 77.43 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 103.24 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 91.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اس اضافے کے بعد دہلی این سی آر کے نوئیڈا میں پٹرول 100.53 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 92.39 روپے فی لیٹر پر ہے۔ اس وقت بھوپال میں پٹرول 111.76 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 100.80 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔


بریکنگ نیوزپاکستان کے شہر ہرنائی میں شدید زلزلہ ، 20 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

پاکستان کے شہر ہرنائی میں شدید زلزلہ ، 20 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

اسلام آباد:پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں آج صبح تقریباً 03.30 بجے آنے والے شدید زلزلے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان کے جیو نیوز کے مطابق جمعرات کی صبح ہرنائی کے علاقے میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ زلزلے کی شدت کافتی تیز تھی اور آس پاس کے کئی اضلاع میں بھی نقصان ہوا ہے۔


روڑکی میں چرچ پر حملہ کی منصوبہ بند سازش کے بعد متاثرین کا بیان ' کیا ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں ؟ '

روڑکی میں چرچ پر حملہ کی منصوبہ بند سازش کے بعد متاثرین کا بیان ' کیا ہم سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں ؟ '

اتراکھنڈ کے شہر روڑکی میں سول لائن کوتوالی علاقے میں واقع سلونی پورم میں چرچ پر حملے کا معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ متاثرین اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت انجام دیا گیا تھا اور اس کے لیے کئی دنوں سے مسیحی سماج کے لوگوں پر طنز کئے جا رہے تھے۔ چرچ سے وابستہ لوگوں نے اس بارے میں پولیس کو شکایت بھی دی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار کی مداخلت کے بعد اس واقعے کے کئی دنوں کے بعد روڑکی پولیس میں ہلچل نظر آئی اور پولیس اہلکار زخمیوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے اسپتال پہنچے۔ ذرائع کے مطابق حملہ کے پیچھے چرچ کی کروڑوں روپے کی مالیت کی زمین بھی ہے، جس پر کچھ ہندووادی رہنما قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انہوں نے مذہب کے نام پر مقامی لوگوں کو اکسا کر چرچ پر حملہ کروایا۔

عینی شاہدین کے مطابق چرچ پر پیر کی صبح 10 بجے خوفناک حملہ انجام دیا گیا۔ پرنس نامی ایک متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ اس خوفناک حملہ کو یاد کر کے وہ ابھی تک لرز رہے ہیں۔ ہندو تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں افراد نے لاٹھی ڈنڈے لے کر مسیحی سماج کے لوگوں پر حملہ کیا۔ وہ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جئے اور جئے شری رام کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی اور ہم پر حملہ کیا۔ ہم پر تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔ ہمارا سامان توڑ دیا اور ہمارے موبائل چھین لیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کیا یہاں صرف ہندو سماج کے لوگ ہی رہیں گے؟

سلونی پورم کی رہائشی پریو سانا پورٹر نے اس واقعہ کے خلاف پولیس رپورٹ درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو جانتی تھی کیونکہ وہ مقامی تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں سے ان کے خاندانی تعلقات ہیں اور ان میں سے ایک نے مجھے پڑھایا بھی ہے، لیکن نفرت نے اسے اندھا کر دیا ہے۔ ان کی قیادت بی جے پی کی یوتھ ونگ اور او بی سی شعبہ کے لیڈران کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ خاتون لیڈران بھی موجود تھیں اور حملہ آوروں کی تعداد 200 سے زائد تھی۔ وہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ اس دوران رجت، سمت پرنس اور ولسن کو بری طرح پیٹا گیا۔ رجت شدید زخمی ہے اور موت سے لڑ رہا ہے۔ وہ ہمیں مارتے رہے، ہم پولیس کو لگاتار کال کر رہے تھے لیکن پولیس ہمیں بچانے نہیں آئی۔

اتراکھنڈ کانگریس سیوا دل کے ریاستی صدر راجیش رستوگی نے بتایا کہ دراصل ہندو تنظیموں کا یہ حملہ منصوبہ بند تھا۔ اس سے قبل لکسر میں بھی تبدیل مذہب کا الزام لگا کر لوگوں سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ ادھم سنگھ نگر میں بھی ہنگامہ ہوا۔ اتراکھنڈ میں انتخابات نزدیک دیکھ کر اس طرح کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اقلیتوں پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے اور ہم متاثرہ سماج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کانگریس چرچ متاثرین کی حمایت میں امن مارچ نکانے کی تیاری کر رہی ہے۔ راجیش رستوگی نے بتایا کہ اس کا جواب ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو دینا چاہیے۔ چرچ پر جس دن حملہ ہوا اس دن وزیر اعلیٰ قریبی کنج پور علاقے میں موجود تھے۔ پولیس ان کی مہمان نوازی میں مصروف تھی لیکن وہ اقلیتی مسیحی برادری کی حفاظت نہیں کر سکے۔ اس طرح کے حملوں سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس معاملے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اب تک چرچ پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ متاثرین کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب اس معاملے میں ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اسے کویتا نامی خاتون نے درج کرایا ہے۔ یہ ایف آئی آر چرچ مینجمنٹ سے وابستہ لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے۔ کویتا کے مطابق، اتوار کے روز چرچ سے وابستہ لوگوں نے اسے 2 لاکھ روپے اور نوکری کی پیشکش کرتے ہوئے مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی، جسے اس نے قبول نہیں کیا۔

چرچ سے وابستہ پرنس نے کہا کہ انہیں لگا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا ہے۔ وہ تین چار دن سے ہلچل محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ چرچ کے آس پاس گھوم رہے تھے اور ان کے چہرے کے تاثرات درست نہیں تھے۔ وہ فقرے بھی کس رہے تھے۔ ہم نے پولیس کو اس کے بارے میں بتایا تھا لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس نے اب بھی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ہمارے درجنوں ساتھی زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ چرچ انتظامیہ کے خلاف درج کیا گیا یہ مقدمہ ہماری آواز کو خاموش کرنے کے لیے ہے۔ چرچ پر حملے کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھیں۔

ایک مقامی دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاست اپنی جگہ ہے لیکن کچھ مقامی لیڈران چرچ کی زمین پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چرچ کے آس پاس کا علاقہ تجارتی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ چرچ 35 سال پرانا ہے، تبدیلی مذہب کی کہانی بنائی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد اتراکھنڈ کا انٹلی جنس ڈیپارٹمنٹ الرٹ ہو گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تمام گرجا گھروں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ اتراکھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار نے اس معاملے میں سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے جبکہ مقامی پولیس نے ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔


بریکنگ نیوز با رہ بنکی میں خوفناک سڑک حادثہ ، 14 افراد ہلاک متعدد زخمی نیوز

بارہ بنکی میں خوفناک سڑک حادثہ ، 14 افراد ہلاک متعدد زخمی

بارہ بنکی: اتر پردیش کے ضلع بارابانکی کے دیوا علاقے میں آج صبح سویرے ایک بس اور ٹرک کے درمیان زبردست ٹکر میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور تقریباً 30 افراد زخمی ہو گئے۔ خبروں کے مطابق دہلی سے بہرائچ جانے والی ڈبل ڈیکر بس دیوا کے علاقے بابوریہ گاؤں کے قریب کسان شاہراہ پر مخالف سمت سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی۔

علی الصبح ہونے والا یہ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ ڈبل ڈیکر بس کے پرخچہ اڑ گئے جبکہ جس ٹرک کے ساتھ بس کا تصادم ہوا اس کی بھی حالت خراب ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حادثہ کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ ٹرک دہلی سے بہرائچ کی جانب گامزن تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق باہری رنگ روڈ کے کسان شاہراہ پر مویشی کو بچانے کے چکر میں ڈبل ڈیکر بس سامنے سے آ رہے بالو سے بھرے ٹکر سے ٹکرا گئی۔

زخمیوں کو بارہ بنکی اور لکھنؤ کے ٹراما سینٹرز میں بھیجا گیا ہے۔ زخمیوں میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر راحت اور بچاؤ مہم شروع کی۔ جی سے بی مشین منگوا کر ملبہ ہٹا کر سڑک پر ٹریفک بحال کیا جا رہا ہے۔


بریکنگ نیوزآسام واقعہ اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف کھمم میں زبردست احتجاجی ریلی

آسام واقعہ اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف کھمم میں زبردست احتجاجی ریلی

آسام میں مسلمانوں پر ظلم کے واقعات اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف تلنگانہ کے کھمم میں کل جماعتی قائدین اور سماجی وملی تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی گٸی ۔ کھمم شہر کے دھرنا چوک پر منعقدہ احتجاجی دھرنے سے شہر کھمم کے تمام علماء و مشائخین اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے آسام میں ہوے واقعہ اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کے خلاف سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں ملک کی پرامن فضاء کو مکدر کرنے کی ناپاک کوشش میں لگے ہوئے ہیں آسام میں ہوے واقعہ کے خلاف خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور مولانا کلیم صدیقی کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا تمام قائدین نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے مولانا کی فوری رہائی کامطالبہ کیا


بدھ, اکتوبر 06, 2021

تبدیلیٔ مذہب کی کوششوں کو روکنے کے لیے وی ایچ پی کا بڑا مطالبہ

نئی دہلی ، 6 اکتوبر (یو این آئی) وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے حکومت ہند سے مطالبا کیا ہے کہ وہ چرچ کے پادریوں اور مشنریوں کی تبدیلیٔ نذیب کی کوششوں کو روکنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دے۔وی ایچ پی کے ترجمان ونود بنسل کی طرف سے بدھ کو یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق ، وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سریندر جین نے الزام لگایا کہ فرانس کی طرح ہندوستانی چرچ کے ذریعے لالچ، طاقت سے کیے جانے والے غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب سےہندوستا ن کو آزاد کروانے کے لیے سخت قانون قانون ضروری ہے۔

انہوں نے الزام لگایا ، ’ہندوستان میں چرچ دھوکہ ، لالچ اور طاقت کے استعمال کے ذریعے تبدیلیٔ مذہب کر رہے ہیں۔ اسی طرح نن کے جنسی استحصال کے بے شمار واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ کئی نن نے خودکشی بھی کی ہے۔ چرچ کے زیر انتظام یتیم خانوں سے سینکڑوں یتیموں کو بیرون ملک فروخت کرنے کے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ شمال مشرق میں ماؤنوازوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کا الزام بھی وہاں کی ریاستی حکومتوں نے لگایا ہے‘۔

ڈاکٹر جین نے مطالبہ کیا ، ’ہندوستان میں گرجا گھروں کی تحقیقات کے لیے ’نیوگی کمیشن‘ کی طرح ایک قومی سطحی انکوائری کمیشن بنایا جانا چاہیے اور مجرموں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو فوری طور پر ایک سخت قانون بنانا چاہیے تاکہ تبدیلیٔ مذہب کو روکا جا سکے۔وی ایچ پی نے کہا ہے کہ اگر اس کے مطالبات نہیں سنے گئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرے گا اور غیر قانونی تبدیلیٔ مذہب پر روک لگائے گی۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...