Powered By Blogger

جمعہ, اکتوبر 29, 2021

بریکنگ نیوز--------------------رحمۃ للعالمین____✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ (

بریکنگ نیوز--------------------رحمۃ للعالمین____
✍️مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ (9431003131)
عبدالرحمان دربھنگہ وی بہار

ربیع الاول کا مہینہ اس عظیم رسول ونبی کی ولادت با سعادت کے حوالہ سے جانا اور پہچانا جاتا ہے جس سے بہتر انسان اس روئے زمین پر نہیں آیا ،ہمارا ایمان تمام انبیاء ورسل پر ہے اور ہم سب کی عظمت وفضیلت کے قائل ہیں ،یہ ہمارے ایمان مفصل اور ایمان مجمل کا حصہ ہے ،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رسولوں میں بعض کو بعض پر فضیلت دی اور ہمارے آقا ومولیٰ فخر موجودات،سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء کا سرداراورسیدالمرسلین والاولین والآخرین بنایا ،آپ کے اوپر سلسلۂ نبوت کا خاتمہ فرمایا،معراج کی رات مسجد اقصیٰ میں انبیاء کی امامت کرائی؛ تاکہ سب انبیاء پر آپ کی فضیلت پورے طور پر کھل کر سامنے آجائے ،ایسی فضیلت کہ انبیاء بھی اس امت میں آنے کی تمنا کرنے لگیں ،آپ کو یہ فضیلت بھی عطا ہو ئی کہ سارے جہاں کا رسول بنا کر آپ کو بھیجا گیا ،قرآن کریم جیسی رحمت وہدایت والی کتاب آپ کو دی گئی،آپ ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء ورسل آئے سب مخصوص علاقے مخصوص زمانے اور بعض مخصوص قبائل کے لئے تھے ، اللّٰہ رب العزت نے اپنے محبوب کو اعلان کرنے کے لئے فرمایا: کہہ دیجئے اے لوگو! میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ،آپ کی شان میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ آپ سارے جہاں کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ،سارے جہاں میں انسان وجن ہی نہیں شجرو حجر، نباتات وجمادات،حیوانات اور تمام بری وبحری مخلوقات بھی شامل ہیں ،اس کامطلب یہ ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم سب کیلئے رحمت ہیں ،اور آپ کی رحمت سب کو محیط ہے۔
رحمت کی اس عمومیت کااندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہر طرف ظلم وجور کا بازار گرم تھا، انسان انسان کے خون کا پیاسا تھا ،قبیلے آپس میں دست وگریباں تھے،عربی عجمی اور کالے گورے کے نام پرخود ساختہ برتری کے پیمانے وضع کر لئے گئے تھے ،اس کی وجہ سے انسانوں میں طبقاتی جنگ نے عروج پکڑ لیا تھا،حق وہ سمجھا جاتا تھا جواس قبیلے کے کسی فرد کے ذریعہ صادرہوا ہو،خواہ وہ ظلم وستم کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو،برائیاں عام تھیں اور اخلاق حسنہ کا وجود کم ترہوگیا تھا،عورتوں کے اوپر ہر طرح کا ظلم کیا جاتا تھا ،بلکہ بہت سارے قبائل میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا،ہنستی کھیلتی زندگی کو زندہ مٹی میں دفن کر دینا انسانی شقاوت وبدبختی کی انتہاء تھی،لڑائیاں ہوتیں توانسانوں کے ساتھ پورے علاقہ کو تاراج کردیا جاتا ،شریف انسان غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دئے جاتے،اور بالکل وہ منظر ہوتا جس کا نقشہ قرآن کریم میں  اللّٰہ رب العزت نے کھینچاہے کہ جب شاہان وقت کسی آبادی پر غلبہ حاصل کرتے ہیں تو آبادی میں فسادو بگاڑ پیدا کرتے ہیں اوروہاں کے شرفاء کو ذلیل ورسواکر کے چھوڑتے ہیں ان لڑائیوں میں جانور،درخت ،کھیت کھلیان اور فصلوں کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ان حالات میں  اللّٰہ  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے،چالیس سال تک اپنی پاکبازی، سیرت ،کردار کی بلندی، امانت ودیانت کی رفعت کانمونہ اس طرح پیش کیا کہ مخالفین بھی آپ کو صادق اور امین کہا کرتے آپ کی بے داغ جوانی اور اعلی اخلاقی کردارکی شہادت دیتے،وہ ایمان اور کلمہ کے مسئلہ پر مذبذب رہے،کیونکہ اس کلمہ کے اقرار سے ان کی ریاست اور چودھراہٹ کو خطرہ محسوس ہوتا تھا؛ لیکن کبھی کسی نے ان کے کردار پر انگلیاں نہیں اٹھائیں،چالیس سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا ،مخالفین کے سب وشتم اور نازیبا حرکات کو سنااور سہا یہ رحمت ہی کی ایک قسم ہے کہ آپ نے قدرت کے باوجود اور بارگاہ الٰہی سے مقبولیت کے یقین کی امید ہوتے ہوئے بھی آپ نے ان کے لئے کبھی بد دعانہیں کی ،حد یہ کہ طائف کی گلیوں میں جب پائے مبارک لہو لہان ہوئے ،موزے خون سے بھر گئے ،اوباشوں نے آپ کو پتھر مارا ،اس وقت بھی آپ نے ان کے لئے دعائیں کیں ،اے اللّٰہ اس قوم کو ہدایت دے وہ مجھے نہیں جانتی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ شاید اس قوم سے کوئی دین رحمت میں داخل  ہو جائے ،جنگ کے بعد قیدی مسجد کے ستون سے بندھے ہوئے ہیں،بندش کی سختی کی وجہ سے قیدی کراہ رہا ہے، آپ کی آنکھوں سے نیند غائب ہے،جب تک بندش ڈھیلی نہیں کی گئی آپ کو سکون نہیں ملا،فتح مکہ کے موقع سے سارے دشمن سامنے تھے ،عرب روایات کے مطابق انہیں قتل بھی کیا جاسکتا تھا اور غلام بھی بنایا جا سکتا تھا ،لیکن رحمت للعالمین نے اپنی شان رحمت کا مظاہرہ کیا اوراعلان کردیا کہ آج تم لوگوں سے کوئی داروگیر اور مؤاخذہ نہیں، تم سب لوگ آزادہو، اتناہی نہیں حضرت ابو سفیانؓ جو اسوقت تک ایمان نہیں لائے تھے ان کے گھر میں داخل ہونے والے کو بھی امان دے دیا، ہندہ جس نے حضرت حمزہ کا مثلہ کروایاتھا ان کے کان ناک کٹوائے تھے، کلیجی گردہ کو کچا چبا کر اپنی قسم پوری کی تھی، آپ کی شان رحمت نے اس کو اپنے جلو میں لے لیا، کیا شان رحمت تھی آپ کی،کوئی دوسرا ہوتا تو چن چن کر بدلہ لیتا کہ یہی زمانے کی روش رہی ہے ،آپ نے سب کو معاف کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام دین رحمت ہے ،یہاں امن ہے شانتی ہے،سکھ ہے، چین ہے اور دشمنوں کو بھی معاف کرنے کا وہ جذبہ ہے جو کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا ۔
انسانوں میں غلاموں اور باندیوں کی زندگی اجیرن تھی، وہ جسم وجثہ کے اعتبار سے انسان تھے ،لیکن ان کی زندگی جانوروں سے بد تر تھی، ان کی اپنی کو ئی زندگی نہیں تھی وہ آقاہی کے لئے جیتے اور مرتے تھے ،پوری وفا داری اور خدمت کے باوجود انہیں ظلم وستم کاسامنا تھا ،آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے بھی رحمت ثابت ہوئے،آپ نے مختلف طریقوں سے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے نکالنے کا کام کیا ،کبھی فدیہ کے طور پر لکھانے پڑھانے کاکام لے کر، کبھی قسم ،ظہار وغیرہ کے کفارہ میں آزاد کرنے کا حکم دے کر ،عمومی حکم یہ دیا کہ غلاموں کا خیال رکھو ،جو خود کھائو اسے کھلائو،اوراسے ایسا ہی پہنائو جیسا تم پہنتے ہو،اس سے طاقت سے زیادہ کام نہ لو ،آپ نے حضرت زیدؓ کے ساتھ حسن سلوک کرکے دکھلایا ،جس کے نتیجہ میں حضرت زید ؓ نے اپنے والدین کے ساتھ جانے کی بنسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں رہنا پسند کیا۔
عورتوں پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سایہ فگن ہوئی تو حکم دیا کہ عورتوں سے بہتر سلوک کرووہ تمہارے ماتحت اور تمہارے حکم کی پابند ہیں ،تم دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق ہیں، کسی کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے،اور حسن سلوک کے ساتھ ان سے پیش آئو،اگر تم امساک بالمعروف نہ کر سکو تو انہیں اچھے سے چھوڑ دوتاکہ وہ اپنی زندگی اپنے انداز میں جی سکیں یا دوسری شادی کر کے نئے سفر کا آغاز کر سکیں ،زمانۂ جاہلیت میں بیوہ عورت منحوس سمجھی جاتی تھی ،آپ نے حضرت عائشہ ؓ کے علاوہ بیوہ اور مطلقہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لے کر امت کو پیغام دیا کہ بیوہ اور مطلقہ عورتیں منحوس نہیں ہیں ،شوہر کے مر جانے اور بعض دفعہ نباہ نہ ہونے سے طلاق پڑ جائے تو ان کی دلجوئی ،خبر گیری کی جتنی شکلیں ممکن ہیں اختیار کی جائیں اور انہیں بے سہارا نہ چھوڑا جائے۔
آپ نے بچوں پر رحم کرنے کا بھی حکم دیا ،ان کی اچھی تعلیم وتربیت پرجنت کی بشارت دی ،ان کا نفقہ باپ کے سر رکھا، تاکہ انہیں بال مزدوری سے بچایا جائے،اور ان کے بچپن کی حفاظت کی جاسکے ،ان کے اچھے نام رکھنے کی تلقین کی اور بچوں کو بے سہارا چھوڑنے کو پسند نہیں فرمایا ۔انہیں جینے کا حق دیا اور ان کو روزی میں تنگی کے خوف سے ہلاک کرنے سے منع فرمایا۔
یتیموں کی کفالت کو کار ثواب قرار دیا اور فرمایا کہ میں اور یتیموں کی کفالت کرنے والا ہاتھ کی دو متصل انگلیوں کی طرح قیامت میں ساتھ ہوں گے،خود آپ نے یتامیٰ کی سر پرستی اور عید کے دن ایک روتے بچے کو گلے لگا کر ہمیں سبق دیا کہ ان کی کفالت کی فکر کرو ،ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھو ،یہ ہاتھ رکھنا قیامت میں تمہیں کام آئے گا ۔
آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت جب جانوروں کی طرف متوجہ ہوئی تو بلا وجہ انہیں ہلاک کرنے سے منع کیا اگرگوشت کھانے کے لئے انہیں ذبح کرنا ہے توایسا طریقہ اپنائو کہ اسے کم از کم تکلیف ہو،اگر جانور نقل وحمل کے لئے رکھے ہو تو اس پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادو،ایک اونٹ کی بلبلاہٹ سن کر آپ سمجھ گئے کہ اس کامالک اس پر زیادتی کرتا ہے ،اونٹ کے مالک انصاری صحابی کو بلا کر فرمایا کہ اللّٰہ رب العزت نے ان جانوروں کو تمہارا محکوم بنایا ہے اس لئے ان جانوروں پر رحم کرو،نہ توا نہیں بھوکا رکھو ،اور نہ ہی ان کی طاقت سے زیادہ کام لو ،ایک بار حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے چڑیا کے دو بچوں کو پکڑ لیا ،چڑیا چِلّانے لگی ،آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان بچوں کو ان کی جگہ پر رکھ آؤ،یہ رحم دلی کا اثر تھا کہ ایک فاحشہ نے اپنے موزہ میں بھر کر کتے کو پانی پلایا تواس کی بخشش ہو گئی،اور ایک عورت نے بلی کو باندھ کر رکھا ، کھاناپینا نہیں دیا ،بالآخر وہ مر گئی تواس عورت کو اسکی وجہ سے اسے جہنم کا مستحق قرار دیا گیا ،یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جانوروں پرآپ کی شفقت و رحمت کس قدر تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا تم زمین والوں پر رحم کروآسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔
درختوں کو بلا ضرورت کاٹنے اور جنگ کے موقع سے انہیں برباد کرنے سے بھی منع کیا گیا ،کیونکہ یہ ہمارے لئے ماحول کے تحفظ کا بڑاذریعہ ہیں ،فرمایا گیا کہ اگر قیامت قائم ہو جائے اور تمہارے پاس اتنی مہلت ہو کہ تم ایک پودا لگا سکتے ہو تو لگا دو ،پھلدار درخت لگانے والوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد ہو اکہ اس درخت کے پھل سے انسانوں نے اور پتوں سے جانوروں نے فائدہ اٹھایا تو یہ صدقہ ہے ،اور ایسی تمام کوشش جس سے ماحول خراب ہو فضائی آلودگی پیدا ہو’’ فساد فی الارض ‘‘کے قبیل سے ہے۔
ماحولیات کے تحفظ اور ہر قسم کے جاندار کے لئے پانی کی اہمیت ظاہر ہے،حکم دیا گیا کہ اسے ناپاک نہ کرو ،پینے اور دوسری ضرورتوں کے لئے اسے پاک وصاف رکھو ،پانی میں پیشاب نہ کرو، سو کر اٹھو تو بغیر ہاتھ دھوئے پانی کے برتن میں ہاتھ مت ڈالو ،پانی پیتے وقت برتن میں سانس مت لو ،مشکیزے ،گھڑے اور پانی کے برتن کو ڈھانک کر رکھو،یہ ہدایات ہر اعتبار سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ورحمت کا مظہر ہیں،رحمۃ للعالمین ہونے کا سب سے بڑا مظاہرہ قیامت کے دن ہوگا، جب سارے انبیاء کرام بخشش کے لیے سفارش اور شفاعت سے انکار کردیں گے ، سارے انسان پریشان ہوں گے، ہر آدمی اپنے گناہوں کے بقدر پیسنے میں ڈوبا ہوگا، نفسی نفسی کا عالم ہوگا، نہ بیٹا باپ کا ہوگا، نہ بیوی شوہر کی ہوگی، ہر آدمی سراسیمہ اور حواس باختہ ہوگا، ایسے میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم امت کی شفاعت کے لیے بار گاہ الٰہی میں سر بسجود ہوں گے اور وہ سب کچھ مانگیں گے جو اللّٰہ رب العزت ذہن ودل میں ڈالیں گے اور پھر خوش خبری سنائی جائے گی کہ گناہگاروں کو بخش دیا گیا اور جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ اس شفاعت سے سوئے جنت روانہ ہو سکے گا، اس طرح آپ کی رحمت سے اللّٰہ کی مخلوق دنیا میں بھی مستفیض ہو رہی ہے اور آخرت میں بھی شفاعت کام آئے گی۔شاعر نے کہا ہے:
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا 
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
اتر کر حراء سے سوئے قوم آیا
اور ایک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا______

حکومت تری پورہ میں مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی ، شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی بنائے جائے : مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

حکومت تری پورہ میں مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی ، شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی بنائے جائے : مولانا احمد ولی فیصل رحمانیامیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ نے تری پورہ میں بھگوا شدت پسندوں کے ذریعہ مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم کی مذمت کی
پٹنہ:شمال مشرقی ہندوستان کی سرحدی ریاست تری پورہ میں پچھلے ایک ہفتے سے بھگوا شدت پسند وں کی جانب سے اناکوٹی، مغربی تریپورہ، سیپاہی جالا اور گومتی تریپورہ اضلاع میں کئی روز سے مسلسل مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد کا خوفنا ک سلسلہ جاری ہے، جس میں مساجد کی توڑ پھوڑ، مسلمانوں کے گھروں پر پتھراؤ اور مسلم دکانداروں کو اپنے مقام سے نکلنے پر مجبور کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ امیر شریعت بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے اس تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو شرمناک قرار دیا ہے اور مرکزی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد تریپورہ کے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی جائے، تری پورہ سمیت پورے ملک میں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبر و کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔
واضح ہو کہ تریپورہ میںچند دنوں پہلے ریاست کے دارالحکومت اگرتلہ اور دیگر قصبوں میں ہندو تشدد پسند جماعت ''وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی) اور ہندو جاگرن منچ کے ذریعہ بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے موقع پر پنڈال میں ہونے والے فرقہ وارانہ معاملہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو کہ دیکھتے دیکھتے مقامی مسلمانوں کے خلاف مظاہروں میں بدل گئے ۔ ان مظاہرین نے مساجد اور مسلمانوں کے گھروں کو جم کر نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی جان و مال کا نقصان کیا ۔ کئی بے قصور مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر کے ان کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندوتوا ہجوم کی جانب سے مسلم علاقوں میں مساجد، گھروں اور افراد پر حملہ کرنے کے کم از کم 27 واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں 16 واقعات ایسے ہیں جہاں مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان پر زبردستی وی ایچ پی کے جھنڈے لہرائے گئے ۔ کم از کم تین مساجد، اناکوٹی ضلع کی پالبازار مسجد، گومتی ضلع کی ڈوگرہ مسجد اور وِشال گڑھ میں نرولا ٹیلا کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی ہے اور ان شر پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔تری پورہ کے وزیراعلی اور ریاستی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت بھی مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے حکومت چاہتی ہی نہیں ہے کہ تشدد ختم ہو اور امن قائم ہو۔
امیر شریعت نے پولیس کے اس رویہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، پولیس اکثر معاملوں میں شر پسندوں کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے بجائے فسادات پر قابو پانے کی کوشش کرنے کے الٹا ظلم کا شکار ہوئے مظلوم مسلمانوں کو ہی جھوٹے مقدموں میں پھنسا کرانہیں قیدو بند کی صعوبتوں میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ یا پھر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔اس کی کارروائی تب شروع ہوتی ہے جب مسلمانوں کا اچھا خاصا نقصان ہو چکا ہوتا ہے ۔ حضرت امیر شریعت نے مزید کہا کہ ملک میں ووٹ بینک کی سیاست اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہندو ووٹ بینک کھسکنے کے ڈر سے حزب اختلاف کی جماعتیں بھی مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و تشدد کے خلاف بولنے کو تیار نہیں ہیں۔ حضرت امیر شریعت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پورے تریپورہ کا مسلمان ڈرا ہوا ہے ۔ بھگوا شدت پسند جماعتوںنے سبھی ہندو نوجوانوں کو ''ریڈیکلائز'' کر دیا ہے ۔ ہندو قدامت پسند جماعتیں مسلسل پوری ریاست میں ریلیاں نکال رہی ہیں اور مسلم مخالف نعرے لگا رہی ہیں۔ مقامی لوگ تشدد کے خلاف انتطامیہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے بیان کے مطابق تشدد کئی دنوں سے جاری تھا لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے تشدد کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تو پولیس نے فوراً دفعہ 144 کا اعلان کر دیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب یہ لوگ مساجد جلا کر چلے جاتے ہیں، تب پولیس 144 لگاتی ہے۔
امیر شریعت نے ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تری پورہ میں امن قائم کرنے اور مسلمانوں کو خوف و دہشت کے ماحول سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کرے ساتھ ہی ساتھ جن مساجد کا نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کی جائے، مسلمانوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے اور جو دہشت پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے تاکہ ریاست میں امن قائم ہو سکے ۔مقتولوں کے ورثا اورزخمیوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور ان کے بہتر علاج و معالجہ کا انتظام کیا جائے ۔انہوں نے ملک کی تمام اپوزیشن کی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی سیاست سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر مظلوموں کے حق میں کھڑے ہوں اور حکومت پر ظالموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بنائیں

بریکنگ نیوز فیس بک کا نام ہوگیا تبدیل

بریکنگ نیوز فیس بک کا نام ہوگیا تبدیل

نئی دہلی:فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے جمعرات کو ایک بڑا اعلان کیا۔ اس اعلان میں فیس بک کا نام بدل کر میٹا کر دیا گیا ہے۔ اس کا اعلان کمپنی کے کنیکٹ ایونٹ میں کیا گیا۔ اس دوران فیس بک کی جانب سے ٹوئٹر پر لکھا گیا ''فیس بک کا نیا نام میٹا ہوگا۔ میٹا میٹاورس بنانے میں مدد کرے گا۔ ایک ایسی جگہ جہاں ہم کھیلیں گے اور 3D ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑیں گے۔ سماجی مصروفیت کے اگلے باب میں خوش آمدید۔" فیس بک کی جانب سے 15 سیکنڈ کی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ فیس بک کا نام اب میٹا کر دیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں میٹا کا لوگو بھی جاری کیا گیا ہے۔ META لوگو کو


جمعرات, اکتوبر 28, 2021

پٹنہ کے ٹھیکیدار راکیش سنگھ کے یہاں انکم ٹیکس کا چھاپہ ، 130 کروڑ کی ہیرا پھیری کا انکشاف

پٹنہ کے ٹھیکیدار راکیش سنگھ کے یہاں انکم ٹیکس کا چھاپہ ، 130 کروڑ کی ہیرا پھیری کا انکشاف

پٹنہ ، 28 اکتوبر ۔انکم ٹیکس کے تفتیشی محکمہ نے بدھ کی صبح پٹنہ ضلع کے بہٹہ میں واقع بڑے ٹھیکیدار راکیش سنگھ کے کئی ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپہ ماری کی۔ دیر رات تک چلی انکم ٹیکس کی کارروائی میں 130 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا پتہ چلا ہے۔ راکیش سنگھ کے بہٹہ واقع آبائی گاؤں سمیت پٹنہ میں چار مقامات پر کھنگالے گئے دستاویزات میں کروڑوں کے بے نامی لین دین کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ پٹنہ کے راجندر نگر میں واقع مکان کی تلاشی کے دوران راکیش سنگھ کے گھر سے 4 کروڑ روپے نقد بھی برآمد ہوئے ہیں۔ پٹنہ واقع انکم ٹیکس انویسٹی گیشی دفتر نے چھاپہ ماری کی ہے۔ چار ریاستوں کے 22 مقامات پر چھاپہ ماری کرکے انکم ٹیکس حکام نے بڑی مقدار میں غیر قانونی لین دین کے مشتبہ دستاویزات بھی ضبط کیے ہیں۔ چھا پہ ماری میں شامل اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی جانچ پڑتال سے ٹیکس چوری سے لے کر خرد برد تک کی رقم کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس کی تحقیقاتی ٹیم نے بدھ کی صبح راکیش سنگھ کے بہٹہ کے امہارا واقع ا?بائی مکان پر چھاپہ ماری کی۔ صبح سات بجے وہاں موجود لوگوں سے ٹھیکہ دار راکیش کمار سنگھ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات لی۔ راکیش سنگھ کی غیر موجودگی میں ان کی ماں اور گھر کے عملے سے پوچھ تاچھ کی گئی۔


میٹرو ، مال اور بازار کھل سکتے ہیں تو کالج کیوں نہیں ، طلبا کا سوال

میٹرو ، مال اور بازار کھل سکتے ہیں تو کالج کیوں نہیں ، طلبا کا سوال

نئی دہلی: جب ملک میں مال کھل سکتے ہیں، پوری صلاحت کے ساتھ میٹرو چلائی جا سکتی ہے، بازار کھل سکتے ہیں، سنیماگھر کھل سکتی ہیں تو کالج کیوں نہیں؟ یہ سوال دہلی یونیورسٹی کے طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے اٹھایا ہے۔طلبا کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے معاملات میں کمی آنے کے ساتھ عوام الناس کی زندگی کی کم و بیش تمام سرگرمیاں پھر سے شروع ہو گئی ہیں لیکن دہلی یونیورسٹی انتظامیہ، کالجوں، شعبہ جات اور فیکلٹیز کو کھولنے میں ڈھیلے اور لاپروائی والے رویہ کو اختیار کیا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔ انتظامہ کی اس غیر حساسیت کے سبب طلبا و طالبات کی تعلیمی زندگی میں عدم توازن اور غیریقینیت کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

اسی کے مد نظر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے 29 اکتوبر 2021 (جمعہ) کو یونیورسٹی سطح پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مظاہرہ میں دہلی یونیورسٹی کے ہر ایک کالج کے طلبا و طالبات اپنے کالج کے باہر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک دھرنا دیں گے اور پرنسپلوں اور ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان سے کالج کھولنے کی گزارش کرتے ہوئے خط سونپیں گے۔

غور طلب ہے کہ رواں سال اگست کے مہینے میں اے بی وی پی نے یونیورسٹی کھولنے کے لئے تحریک چلائی تھی جس کے نتیجہ میں طلبا و طلبات کے لئے تجربہ گاہوں کو کھولا گیا اور براہ راست پریکٹیکل شروع ہو گئے تھے۔ اس وقت یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کو بتدریج کھلونے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو اب تک پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دہلی یونیورسٹی میں نہ صرف دہلی بلکہ ملک بھر سے اور بیرون ملک سے بھی طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ انہیں کیسے بلایا جائے گا۔ دہلی یونیورسٹی میں اس موضوع پر ایک اجلاس طلب کیا جا چکا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی اداروں کو کھلونا چاہتے ہیں لیکن ہم اس پر کوئی بھی فیصلہ جلدبازی میں نہیں لینا چاہتے۔ جس سے طلبا پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تیسرے سال کے سائنس کے طلبا کو یونیورسٹی میں آنے اور تحقیق کے کاموں کی اجازت دی جا چکی ہے۔

کیا ادھار کارڈ کاغلظ استعمال کیا جا رہا ہے ؟ کیسے معلوم کریں ؟ جانیے تفصیلات

کیا ادھار کارڈ کاغلظ استعمال کیا جا رہا ہے ؟ کیسے معلوم کریں ؟ جانیے تفصیلاتآدھار کارڈ ہر ہندوستانی کے لیے ضروری دستاویز ہے۔ یہ عام طور پر کسی شخص کی شناخت کی تصدیق کے لیے عوامی اور نجی خدمات کی ایک حد میں استعمال ہوتا ہے۔ سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے آدھار کارڈ کی ضرورت ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھولنے اور نوکری کے لیے رجسٹر کرنے سمیت ہر چیز کے لیے آدھار نمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اگر آپ کے آدھار کارڈ کی معلومات لیک ہو جاتی ہے تو اسے آپ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں آپ کو ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔ ہم اس مضمون میں اس بات کا تعین کرنے کے لیے ایک طریقہ بتائیں گے کہ آیا آپ کے آدھار کارڈ کا غلط استعمال ہو رہا ہے یا نہیں۔ اس طریقہ کا استعمال اس بات کا تعین کرنے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا آدھار کارڈ کہاں استعمال ہو رہا ہے؟ یہ سروس یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے، جو آدھار کارڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ آپ کو یہ جاننے کی اجازت دیتا ہے کہ آپ کا آدھار کارڈ کہاں استعمال ہو رہا ہے۔

آپ اپنی مدد کے لیے اتھارٹی سے میل help@uidai.gov.in پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

ایسا کرنے کے لیے پہلے UIDAI کی آفیشل ویب سائٹ پر جائیں۔ اس کے بعد آدھار سروسز پر جائیں اور آدھار کی توثیق کی تاریخ کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد آپ سے اپنا آدھار نمبر اور سیکیورٹی کوڈ داخل کرنے کو کہا جائے گا۔ اب آپ کو ڈراپ ڈاؤن مینو سے جنریٹ OTP کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ سے OTP داخل کرنے کو کہا جائے گا جو آپ کے فون پر پہنچایا گیا تھا۔ OTP داخل کرنے کے بعد آپ اپنے آدھار کارڈ کی توثیق کی تاریخ دیکھ سکیں گے۔

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ آپ یہ طریقہ صرف اس صورت میں استعمال کر سکتے ہیں جب آپ کا فون نمبر آپ کے آدھار کارڈ سے منسلک ہو۔ اگر آپ کو شک ہے کہ آپ کے آدھار کارڈ کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور آپ کا فون نمبر آپ کے آدھار سے منسلک نہیں ہے، تو آپ UIDAI کی ہنگامی ہاٹ لائن 1947 پر کال کر کے شکایت کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی مدد کے لیے اتھارٹی سے میل help@uidai.gov.in پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

دارالحکومت دہلی میں یکم نومبر سے تمام اسکول کھل جائیں گے

دارالحکومت دہلی میں یکم نومبر سے تمام اسکول کھل جائیں گے

طویل عرصے کے بعد دارالحکومت دہلی میں تمام کلاسوں کے لیے اسکول کھولے جانے کی منظوری دی گئی ہے۔ دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے اعلان کیا کہ یکم نومبر سے تمام سرکاری اور نجی اسکول اپنے یہاں زیر تعلیم بچوں کو اسکول میں مدعو کر سکیں گے۔ تاہم بچوں کوا سکول آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔

دہلی کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بچوں کو بہت نقصان ہواہے۔ اس نقصان کو پورا کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ اب جب کہ دہلی میں کورونا وبا کی صورتحال قابو میں ہے، اسکولوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ تاریخ کے بعد والدین کی اجازت سے بچوں کو اسکول بلایا جاسکتا ہے۔

ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا

50 فیصد سے زیادہ طلبا کو نہیں بلایا جائے گا

کلاسز آن لائن بھی ہوں گی

اگر والدین نہ چاہیں تو بچوں کوا سکول آنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا

اسکول کے تمام عملے کو ٹیکے لگے ہوں، جن کو ٹیکے نہیں لگے، انہیں ٹیکے لگوانے کے احکامات

کورونا سے متعلق دیگر شرائط جیسے سینیٹائزیشن، ماسک اور سماجی فاصلے پر عمل کرنا ضروری ہے

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل دہلی حکومت نے صرف نویں جماعت سے اوپر کے بچوں کے لیے اسکول کھولنے کی اجازت دی تھی۔ اس معاملے پر فیصلہ لینے کے لیے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اسی کمیٹی نے پہلی نومبر سے اسکول کھولنے کی تجویز دی ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...