Powered By Blogger

جمعرات, نومبر 04, 2021

تری پورہ میں تشدد اور مسلم رد عمل _ جذباتیت نہیں ، اجتماعی فیصلے وقت کا تقاضا -

تری پورہ میں تشدد اور مسلم رد عمل _ جذباتیت نہیں ، اجتماعی فیصلے وقت کا تقاضا -

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ہندوستان کے شمال مشرق میں واقع سرحدی ریاست تِری پورہ میں مسلمانوں کے خلاف فساد کا آغاز ہوئے ایک عشرہ ہوگیا ہے ، لیکن اب تک قصور واروں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور انھیں کوئی سزا نہیں دی گئی ہے ۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ فساد پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں 13 سے 16 اکتوبر کے درمیان دُرگا پوجا کے موقع پر برپا ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کا ردِّ عمل ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک شخص نے فیس بک پر ایک تصویر پوسٹ کی ، جس میں ہندوؤں کے ہنومان کی گود میں قرآن رکھا ہوا دکھایا گیا تھا ۔ یہ تصویر اگرچہ کئی برس پرانی اور جعلی تھی ، لیکن اسے دیکھ کر مسلمان پوجا کے پنڈال کے باہر جمع ہوئے اور انھوں نے پنڈال میں رکھے ہوئے دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو توڑ دیا ۔ بہرِ حال بنگلہ دیشی حکومت نے فوراً کارروائی کرکے اور بڑے پیمانے پر قصور واروں کو گرفتار کرکے فساد پر قابو پالیا ۔ لیکن اس کا ردِّ عمل ریاست تری پورہ میں ، جس کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں ، دیکھنے کو ملا ۔ یہاں وشو ہندو پریشد کی طرف سے ایک بڑا جلوس نکالا گیا ، جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر آپؐ کی شان میں گستاخی کی گئی ، مسلمانوں کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی ، ایک درجن سے زائد مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی ، ان میں بھگوا جھنڈے لگائے گئے اور انھیں نذرِ آتش کر دیا گیا ۔ اسی طرح مسلمانوں کے رہائشی مکانات ، دکانوں اور کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں آتش زنی کی گئی ۔

تری پورہ ملک کی تیسری سب سے چھوٹی ریاست ہے ، جہاں کی کل آبادی بیالیس (42) لاکھ ہے ۔ اس میں ہندو 83.4 فی صد ہیں ، جب کہ مسلمانوں کا تناسب 8.6 فی صد ہے ، عیسائی 4.3 فی صد اور بودھ 3.4 فی صد ہیں ۔ زیادہ تر لوگ بنگالی بولنے والے ہیں ۔ ہندو ووٹوں کا پولرائزیشن کرنے کے مقصد سے ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش رچی جا رہی ہے ۔ تری پورہ کے فساد کو اسی نقطۂ نظر سے دیکھنا چاہیے ۔ ایک عشرہ گزر جانے کے باوجود اب تک ریاست کی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں نہیں آئی ہے اور کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ، بلکہ اس کے برعکس ڈی جی پی نے اپنے بیان میں مساجد میں آگ زنی کے واقعات کو فرضی بتایا ہے ۔ ملک کی ایک ریاست میں اتنا بڑا واقعہ ہوجانے کے باوجود وزیر اعظم اور وزیر داخلہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور سیاسی پارٹیوں کا ردِّ عمل بہت مایوس کن ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کی حمایت میں کوئی بیان دینے سے انھیں ہندو ووٹ سے محروم ہونے کا خدشہ لگا ہوا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی فضا کو کتنی تیزی سے مسموم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسے فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے ۔

تری پورہ کے اس فساد ، مسلمانوں پر یک طرفہ مظالم اور دہشت گردی کے خلاف مسلمانوں کی دینی و ملّی تنظیموں نے اپنے ردِّ عمل کا اظہار کیا ہے ۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے جلوس میں پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین کی ہے ، مسجدوں کو نذرِ آتش کیا ہے اور مسلمانوں کے مکانوں ، دکانوں اور کارخانوں میں توڑ پھوڑ کی ہے اور آگ لگائی ہے ، انھیں قانون کی گرفت میں لایا جائے اور قرارِ واقعی سزا دی جائے ۔ پریس میں بیانات دینے کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور میمورنڈم دیے گئے ہیں ۔ چند روز قبل ملک کے دار الحکومت دہلی میں تری پورہ بھون کے سامنے مختلف تنظیموں نے زبردست مظاہرہ کیا تھا ۔ جماعت اسلامی ہند ،جمعیۃ علمائے ہند ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، اور جمعیت اہلِ حدیث کے وفود نے تری پورہ کا دورہ کیا ہے ۔ مولانا محمود مدنی نے اعلان کیا ہے کہ جن مسجدوں ، دکانوں اور مکانوں کو نقصان پہنچا یا گیا ہے ، جمعیت کی طرف سے ان کی تعمیر نو کی جائے گی ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی طرف سے بھی مذمتی بیان آچکا ہے ۔
اس موقع پر بعض پُر جوش نوجوانوں کی طرف سے مسلم قیادت کے بارے میں ناشائستہ انداز میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ قیادت بوڑھی اور ناکارہ ہوچکی ہے ، وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے ، اس لیے اسے ہٹا کر نوجوان قیادت کو سامنے لانا چاہیے ۔ میری نظر میں یہ محض جذباتی باتیں ہیں ۔ ہندوستان میں مسلم امّت کے مسائل بہت گمبھیر ہیں ۔ ان کی شدّت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوتوا کی عَلَم بردار قوّتیں روز بہ روز طاقت وَر ہوتی جا رہی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ اس صورتِ حال میں مسلمانوں کی رہی سہی قیادت کو کم زور کرنے کے بجائے اسے حمایت دینی چاہیے ۔ موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ایک دوسرے پرتنقید کرنے اور الزامات لگانے کے بجائے اجتماعی فیصلے کیے جائیں اور مل جل کر انہیں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے ۔

[ شائع شدہ : ہفت روزہ دعوت نئی دہلی ، شمارہ 7 نومبر تا 13 نومبر 2021 ]


آج سےپٹرول 5 روپے ، ڈیزل 10 روپے تک ہوسکتاہے سستا ، حکومت نے ایکسائزڈیوٹی کم کرنے کاکیا اعلان

آج سےپٹرول 5 روپے ، ڈیزل 10 روپے تک ہوسکتاہے سستا ، حکومت نے ایکسائزڈیوٹی کم کرنے کاکیا اعلاننئی دہلی(ایجنسی)
دیوالی سے قبل کی شام مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس فیصلے کے بعد پٹرول پر 5 روپے اور ڈیزل پر 10 روپے کی کمی ہوگی۔
پٹرول اور ڈیزل کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کے ساتھ لوگوں کے بڑھتے غصے اور حال کے ضمنی انتخابات میں ملی شکست کے بعد بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے تیل پر ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ کل یعنی جمعرات سے پٹرول پر 5 روپے اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر کی شرح سے ایکسائز ڈیوٹی میں تخفیف کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں پٹرول کے مقابلے دوگنی کمی کی گئی ہے اور اس کا فائدہ آنے والی ربیع فصل کے سیزن میں کسانوں کو ہوگا۔ حکومت نے اس کے ساتھ ہی ریاستوں سے پٹرول و ڈیزل پر ویٹ کم کرنے کی بھی اپیل کی ہے تاکہ صارفین کو فائدہ مل سکے

بدھ, نومبر 03, 2021

لڑکیوں کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کرنا ضروری اوٹکور میں مدرسہ جامعہ عائشہ سلفیہ کے خدمات کی ستائش : صدر مجلس عبدالمنیر کا خطاب

لڑکیوں کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کرنا ضروری اوٹکور میں مدرسہ جامعہ عائشہ سلفیہ کے خدمات کی ستائش : صدر مجلس عبدالمنیر کا خطاب

اوٹکور : لڑکیوں اور خواتین کو بالخصوص دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کرنا لازمی ہے۔ان خیالات کا اظہار اوٹکور کے مدرسہ جامعہ عاٸشہ سلفیہ میں صدرمجلس اتحادالمسلمین اوٹکور منڈل جناب عبدالمنیر نے کیا۔مہمان خصوصی عبدالمنیر نے اپنے خطاب میں جامعہ کے ذمہ داران کی بھرپور ستاٸش کرتے ہوٸے کہا کہ آج کے دور میں اس مدرسہ میں ایک سو سے زاٸد طالبات کو بغیر کسی فیس کے تعلیم دینا کوٸی چھوٹا کام نہیں ہے۔موصوف نے ذمہ داران کے خدمات کو سراہتے ہوٸے کہا کہ واقعی اس ادارہ کے اندر طالبات و خواتین کو دینی و عصری علوم آراستہ کرنا یہ ایک بہت بڑی محنت ہےکیونکہ اللہ کے رسول محمد ﷺ سب سے پہلے وحی علم کے بارے میں نازل ہوٸی۔جناب عبدالمنیر نے اپنی ذاتی صرفہ سے تمام طالبات میں اسکول یونیفارمس تقسیم کٸے گٸے۔اور ذمہ داران مدرسہ محمد ضمیر علی امرچنتہ،ڈاکٹر ایم اے رحیم پاشاہ نے صدر مجلس کو شال پوشی کرتے ہوٸے بھرپور تہنیت پیش کی۔

اس اجلاس کا آغاز طالبہ کی قرآت کلام پاک سے ہوا۔اس موقع پر محمد رفیع پورلہ سابق ناٸب سرپنچ و مجلس قاٸد اوٹکور،ضمیر علی امرچنتہ سابق سنگل ونڈو ڈاٸریکٹراور ڈاکٹر ایم اے رحیم پاشاہ نے بھی خطاب کیا۔اور کمسن طالبات نے اس موقع پر بہترین تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔اور مولانا شریف فیضی امام و خطیب مسجد اہل حدیث ایکمینار محلہ بنڈہ نے نظامت کے فراٸض بحسن خوبی انجام دٸیے۔اس اجلاس میں محمد خواجہ حسین یلیم،محمد رفیع چاندی،خالد ظفر،محمد صادق علی،فیاض احمد کرنول کے علاوہ دیگر حضرات اور طالبات کی کثیر تعداد شریک تھی اجلاس کا شکریہ پر اختتام پذیر ہوا۔


بریکنگ نیوزفیس بک کے نام میں تبدیلی کےبعد واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے نام کاکیاہوگا ؟ میٹاورژن کابوسکتا ہے آغاز

بریکنگ نیوزفیس بک کے نام میں تبدیلی کےبعد واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے نام کاکیاہوگا ؟ میٹاورژن کابوسکتا ہے آغازwhatsaفیس بک Facebook نے حال ہی میں اپنانامبدل کر میٹا Meta رکھ دیا ہے۔ نام میں تبدیلی کے ساتھ ہی دیگر میٹا سروسز جیسے واٹس ایپ WhatsApp اور انسٹاگرام Instagram کے صارفین حیران ہیں کہ ان کے لیے اس تبدیلی کا کیا مطلب ہے۔ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے استعمال کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، لیکن ایک کاسمیٹک تبدیلی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ واٹس ایپ ٹریکر WABetaInfo کی ایک حالیہ رپورٹ میں واٹس ایپ کا بیٹا ورژن ایپ کھلنے سے پہلے اسپلش اسکرین پر "WhatsApp by Facebook" کے بجائے "WhatsApp by Meta" دکھائی دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی تبدیلی ایپلی کیشن کے بیٹا ورژن میں پائی گئی ہے۔ توقع ہے کہ اسے جلد ہی ایپ کے مستحکم ورژن میں متعارف کرایا جائے گا۔ WABetaInfo رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپ کے اسیٹنگ پیج کے فوٹر پر ظاہر ہونے والے ایپ میں موجود دوسرا "WhatsApp by Facebook" کا لیبل بھی بیٹا ورژن سے غائب ہے۔ فی الحال صرف واٹس ایپ کو ہی نئی ویلکم اسکرین مل رہی ہے۔

فیس بک Facebook نے حال ہی میں اپنا نام بدل کر میٹا Meta رکھ دیا ہے۔

۔WABetaInfo رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ iOS بیٹا کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں اسپلش اسکرین نظر نہیں آتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ اگلی بیٹا بلڈ میں طے کیا جا سکتا ہے۔ یہ تبدیلی آنے والے ہفتوں میں اینڈرائیڈ کے لیے واٹس ایپ بیٹا میں بھی آنے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ فیس بک Facebook نے اعلان کیا تھا کہ وہ میٹاورس تیار کرنے کے لیے یورپ میں 10,000 افراد کی خدمات حاصل کرنے جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جس پر کچھ لوگ انٹرنیٹ کے مستقبل کے طور پر بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ کیا ہے؟

میٹاورس کیا ہے؟ باہر والے کے نزدیک یہ ورچوئل رئیلٹی (VR) کے سوپ اپ ورژن کی طرح لگ سکتا ہے، لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میٹاورس انٹرنیٹ کا مستقبل ہو سکتا ہے۔ درحقیقت وی آر ایسا ہی ہے، جیسے سنہ 1980 میں پہلے عام موبائل کے دور میں جدید اسمارٹ فون کی ایجاد تھی۔ کمپیوٹر پر ہونے کے بجائے میٹاورس میں آپ ہر طرح کے ڈیجیٹل ماحول کو جوڑنے والی ورچوئل دنیا میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس کا احساس حقیقی دنیا کی طرح ہی ہوگا۔ اس میں سرحدوں سے پرے اور لامحدود سماجی زندگی کا احساس ہوگا۔

کرو یا مرو میچ میں ویراٹ کوہلی کو آج ہوشیار رہنا ہوگا IND VS AFG

کرو یا مرو میچ میں ویراٹ کوہلی کو آج ہوشیار رہنا ہوگا IND VS AFG

یو اے ای اور عمان میں کھیلے جا رہے ٹی 20 ورلڈ کپ میں وراٹ کوہلی کی قیادت میں ٹیم انڈیا بدھ کو افغانستان کے جنگجوؤں سے ٹکرائے گی، جس کا ٹورنامنٹ میں اب تک کا سفر شاندار رہا ہے۔ اسکاٹ لینڈ اور نمیبیا کو شکست دینے کے بعد ٹیم پاکستان کو بھی شکست کے دہانے پر لے آئی تھی لیکن آخر میں ٹیم ہار گئی۔ حالات ایسے ہیں کہ اگر افغانستان آج کا میچ جیت جاتا ہے تو وہ بھی سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے قریب ہو جائے گا، ساتھ ہی ٹیم انڈیا بھی ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گی۔ ٹی 20 ورلڈ کپ کے پریکٹس میچوں میں آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست دینے والی پاکستان اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ٹیم انڈیا کی شکست نے تناؤ بڑھا دیا ہے اور اس لیے آج کا میچ ٹیم کے لیے بہت اہم ہو گیا ہے۔

افغانستان کی ٹیم اس وقت گروپ-2 میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس نے تین میں سے 2 میچ جیتے ہیں اور صرف ایک میچ ہارا ہے۔ اس میچ میں افغانستان کو ہلکے سے لینا ہندوستانی ٹیم کے لیے بھاری پڑ سکتا ہے۔ اس نے پریکٹس میچ میں اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ افغانستان کتنا خطرناک ہے، جہاں محمد نبی کی قیادت میں ٹیم نے دو بار کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپئن ویسٹ انڈیز کو یک طرفہ انداز میں 56 رنز سے شکست دی۔ اس کے بعد افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور بورڈ پر 189 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں اسٹار بلے بازوں سے سجی ویسٹ انڈیز کی ٹیم 20 اوورز میں صرف 133 رنز بنا سکی

بریکنگ نیوزآدھار کارڈ سے جڑی بڑی خبر ! غلط استعمال پڑے گا ای DAI اب لگا سکتا ہے 1 کروڑ روپے تک کا جرمانہ

بریکنگ نیوزآدھار کارڈ سے جڑی بڑی خبر ! غلط استعمال پڑے گا ای DAI اب لگا سکتا ہے 1 کروڑ روپے تک کا جرمانہنئی دہلی. حکومت ہند نے اب ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) کو آدھار ایکٹ (AADHAR Act) کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف ایک کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دیا ہے۔ قانون کے پاس ہونے کے تقریباً دو سال بعد حکومت نے ان قوانین کو نوٹیفائی کیا ہے۔ اس کے تحت UIDAI آدھار Aadhar Card قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے افسران کی تقرری کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجرموں پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ 2 نومبر کو حکومت نے یو آئی ڈی اے آئی (جرمانے کا فیصلہ) قانون 2021 کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ اس کے تحت UIDAI ایکٹ یا UIDAI کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں شکایت کی جا سکتی ہے۔ UIDAI کے ذریعہ مقرر کردہ افسران ایسے معاملات کا فیصلہ کریں گے اور ایسے اداروں پر 1 کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کر سکتے ہیں۔ ٹیلی کام ڈسپیوٹ سیٹلمنٹ اینڈ اپیلیٹ ٹریبونل (Telecom Disputes Settlement and Appellate Tribunal) ان فیصلوں کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ کیوں کی گئی قانون میں ترمیم ؟ حکومت نے آدھار اور دیگر قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2019 لایا تھا تاکہ UIDAI کو کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہوں۔ موجودہ آدھار ایکٹ کے تحت، UIDAI کے پاس آدھار کارڈ کا غلط استعمال کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ سال 2019 میں منظور ہونے والے قانون میں دلیل دی گئی تھی، "پرائیویسی کے تحفظ اور UIDAI کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے اس میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔" اس کے بعد دیوانی جرمانے کی فراہمی کے لیے آدھار ایکٹ میں ایک نیا چیپٹر شامل کیا گیا۔

2 نومبر کو مطلع کردہ نئے قواعد میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ لینے والے افسر حکومت ہند کے جوائنٹ سکریٹری کے عہدے سے نیچے کا نہیں ہوگا۔ اس کے پاس 10 سال یا اس سے زیادہ کام کا تجربہ ہونا ہوگا۔ اسے قانون کے کسی بھی مضمون میں انتظامی یا تکنیکی جانکاری ہوگی۔ اس کے علاوہ اسے مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی یا کامرس میں کم از کم تین سال کا تجربہ ہونا چاہیے۔

بہار میں اسمگلنگ ضبط ، دو گرفتار ، سے قبل 30 لاکھ مالیت کا گانجہ

 بہار میں اسمگلنگ ضبط ، دو گرفتار ، سے قبل 30 لاکھ مالیت کا گانجہ

سلی گوڑی ، 03 نومبر ۔ این جے پی تھانے کی پولیس نے بہار میں اسمگلنگ سے پہلے 30 لاکھ کا گانجہ ضبط کیا ہے۔ وہیںدو ملزمان کو بھی اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے نام کنک برمن اور دلیپ برمن ہیں۔ دونوں کوچ بہار کے رہنے والے ہیں۔ این جے پی تھانے سے ملی اطلاع کے مطابق خفیہ اطلاع کی بنیاد پر منگل کی رات پھولباری میں آپریشن کیا گیا۔ اس دوران کوچ بہار سے آنے والی ایک پک اپ وین کو روک کر تلاشی لی گئی۔ جس کے بعد پک اپ وین سے 210 کلو گرام گانجہ برآمد ہوا۔ جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو پک اپ سمیت اپنے قبضے میں لے لیا۔ اسمگلروں نے پولیس کو بتایا کہ وہ گانجے کو بہار لے جا رہے تھے۔ فی الحال پولیس نے دونوںا سمگلروں کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی شروع کردی ہے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...